Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 51 · Chapter 3

Book of Sacrifice

Hadith 5793–5826

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5793

Sahih Ibn Hibban #5793

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَعْمَلُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5793]

5794

Sahih Ibn Hibban #5794

ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ ، فَقَالَ: أَلا لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ " ؟ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور اس کے پاؤں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] ”جب ان میں سے بدبخت ترین شخص اٹھا“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس اونٹنی کے لیے وہ شخص اٹھا جو اپنے قبیلے میں ابوزمعہ کی طرح نمایاں، طاقتور اور بہتر حیثیت رکھتا تھا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! کوئی شخص اپنی بیوی کی پٹائی اس طرح کیوں کرتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے؟ حالانکہ اسی دن کے آخری حصے میں اس نے اس عورت کے ساتھ ہی لیٹنا ہوتا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کے حوالے سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! کوئی شخص ایسی بات پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود بھی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5794]

5795

Sahih Ibn Hibban #5795

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا ، فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی آئے، ان دونوں نے خطبہ دیا، ان دونوں کا بیان لوگوں کو بہت پسند آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بیان جادو ہوتے ہیں“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5795]

5796

Sahih Ibn Hibban #5796

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الْبَيَانُ مِنَ اللَّهِ ، وَالْعِيُّ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَيْسَ الْبَيَانُ كَثْرَةَ الْكَلامِ ، وَلَكِنَّ الْبَيَانَ الْفَصْلُ فِي الْحَقِّ ، وَلَيْسَ الْعِيُّ قِلَّةَ الْكَلامِ ، وَلَكِنْ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” «الْبَيَانُ» ”بیان“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور «الْعِيُّ» ”عیی“ شیطان کی طرف سے ہے، بیان سے مراد بکثرت کلام کرنا نہیں ہے بلکہ بیان سے مراد حق کے درمیان فصل پیدا کرنا ہے اور عیی سے مراد کم گفتگو کرنا نہیں ہے بلکہ حق کے معاملے میں بے وقوفی کا مظاہرہ کرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5796]

5797

Sahih Ibn Hibban #5797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ الْمِئَةِ ، وَلا يَكَادُ أَنْ يُوجَدَ فِيهَا رَاحِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی طرح ہے جن میں سے سواری کے لیے کوئی ایک بھی نہیں ملتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5797]

5798

Sahih Ibn Hibban #5798

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، فَرَجَعَ ، وَقَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف پھیل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا عارضی استعمال کے لیے لیا جس کا نام مندوب تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے (اور مدینہ منورہ کا چکر لگا کر) واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمیں خطرے کی کوئی چیز نظر نہیں آئی، ہم نے (اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں) سمندر کی طرح پایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5798]

5799

Sahih Ibn Hibban #5799

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ الَّذِي أَرْضَعَنِي ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ ! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَمُّكِ ، ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ "، قَالَ عُرْوَةُ : فَلِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوقعیس کے بھائی افلح نے حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں انہیں اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوقعیس کے بھائی افلح نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں آپ سے اجازت نہیں لیتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے چچا کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دی؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہارا چچا ہے، تم نے اسے اجازت دے دینی تھی، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرماتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے تم لوگ ان چیزوں کو بھی حرام سمجھو جنہیں نسب کی وجہ سے حرام قرار دیتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5799]

5800

Sahih Ibn Hibban #5800

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَائِقٌ يَسُوقُ ، فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا أَنْجَشَةُ ،رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہمراہ تھیں، ایک شخص ان کے اونٹ لے کر جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور ارشاد فرمایا: ”اے انجشہ! آرام سے چلنا، تم شیشے لے کر جا رہے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5800]

5801

Sahih Ibn Hibban #5801

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، لا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ "، قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خواں تھا جس کا نام انجشہ تھا اور اس کی آواز خوبصورت تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! آرام سے چلنا، تم شیشوں کو توڑ نہ دینا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے مراد کمزور خواتین تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5801]

5802

Sahih Ibn Hibban #5802

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، وَكَانَ سَائِقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں، ایک شخص ان کے اونٹوں کو ہانک کر لے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام سے چلو، تم شیشے لے کر جا رہے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5802]

5803

Sahih Ibn Hibban #5803

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَمَعَهُ غُلامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، وَهُوَ يَحْدُو ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنْجَشَةُ ،رُوَيْدًا سَوْقَكَ الْقَوَارِيرَ " ، يَعْنِي : النِّسَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سیاہ فام غلام تھا جس کا نام انجشہ تھا، وہ حدی پڑھتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ» ”اے انجشہ! آرام سے، تم شیشوں کو لے کر جا رہے ہو“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ خواتین کو لے کر جا رہے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5803]

5804

Sahih Ibn Hibban #5804

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ "، وَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جائے گی، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو (اس دوران نماز ادا کرنا) چاہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ مغرب سے پہلے بھی دو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5804]

5805

Sahih Ibn Hibban #5805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلا الأَسْوَدَيْنِ : التَّمْرُ ، وَالْمَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5805]

5806

Sahih Ibn Hibban #5806

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا رَدَّكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ : لِتَجِئْنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلا ، قَالَ حَمَّادٌ : تَوَعَّدَهُ قَالَ : فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَأَتَى مَجْلِسَ الأَنْصَارِ فَقَصَّ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ : مَا قَالَ لِعُمَرَ ، وَمَا قَالَ لَهُ عُمَرُ ، فَقَالُوا : لا يَقُومُ مَعَكَ أَلا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ مَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَشَهِدَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّا لا نَتَّهِمُكَ ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ لِلْمُسْتَأْذِنِ إِذَا كَانَ الشَّرْطُ مَوْجُودًا ، وَهُوَ عَدَمُ الإِذْنِ وَاجِبٌ ، وَمَتَى وُجِدَ الشَّرْطُ وَهُوَ الإِذْنُ بَطُلَ الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی، جب انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے، اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے دریافت کیا: آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو آپ اس پر کوئی گواہ لے آئیں ورنہ پھر (یہاں حماد نامی راوی نے یہ کہا: کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سزا دینے کا کہا:) راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس آئے اور مسجد میں آگئے، وہ انصار کی محفل کے پاس تشریف لائے اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے بیان کیا اور جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے ساتھ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں کم سن ہو، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے آپ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول حدیث کا معاملہ اہم ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اجازت لینے والے کے لیے واپس جانے کا حکم ہونا اس صورت میں ہے جب شرط موجود ہو اور وہ یہ کہ اجازت کا نہ ہونا واجب ہو لیکن جب شرط پائی جائے گی اور وہ اجازت دینا ہے تو پھر واپس جانے کا حکم کالعدم تصور ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5806]

5807

Sahih Ibn Hibban #5807

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولا ، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى ، فَفَرَغَ عُمَرُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ؟ ائْذَنُوا لَهُ ، قِيلَ : إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ ، فَدَعَا بِهِ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : لَتَأْتِيَنِّي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : لا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ إِلا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ ، فَشَهِدَ لَهُ ، فَقَالَ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ ، وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی، انہیں اجازت نہیں ملی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شاید اس وقت مصروف تھے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی؟ تم لوگ اسے اندر آنے کے لیے کہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا، وہ تو واپس چلے گئے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا (اور دریافت کیا) تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس پر کوئی ثبوت لے کر آئیں، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ انصار کی محفل میں تشریف لے گئے، ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے حق میں اس بارے میں گواہی وہ شخص دے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہے اور وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہے، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کی گواہی دی (کہ ایسا ہی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے مخفی رہا، بازار میں خرید و فروخت نے مجھے اس سے غافل کر دیا، تاہم تم جو چاہو تسلیم کرو (یا تم جیسے چاہو سلام کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5807]

5808

Sahih Ibn Hibban #5808

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ ، فَقَالَ : مَنْ ذَا ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَنَا ! أَنَا ! مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کی: میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”میں ہوں، میں ہوں“ گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5808]

5809

Sahih Ibn Hibban #5809

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں جھانک کر دیکھا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کھجا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ تم اس طرح جھانک رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ (گھر والوں پر) نگاہ نہ پڑے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5809]

5810

Sahih Ibn Hibban #5810

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسِ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ بِعَصًا حَتَّى وَقَفَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الاسْتِئْذَانُ ثَلاثٌ ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ ، وَإِلا فَارْجِعْ ؟ ". قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، ثُمَّ جِئْتُهُ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُهُ أَمْسِ ، فَسَلَّمْتُ ثَلاثًا ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَقَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ ، فَلَوِ اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ أُبَيٌّ : وَاللَّهِ لا يَقُومُ مَعَكَ إِلا أَحْدَثُنَا سِنًّا ، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی محفل میں موجود تھے، اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عصا ہاتھ میں لے کر تشریف لے آئے اور ٹھہر گئے، انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین مرتبہ اجازت مانگی جائے، اگر تمہیں اجازت مل جاتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ واپس چلے جاؤ۔“؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے گزشتہ شام تین مرتبہ اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس آ گیا، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں بتایا: گزشتہ شام میں آپ کے پاس آیا تھا، میں نے تین مرتبہ سلام کیا، پھر میں واپس چلا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نے آپ کی آواز سن لی تھی، لیکن ہم اس وقت کچھ مصروف تھے، اگر آپ اجازت لیتے رہتے یہاں تک کہ آپ کو اجازت مل جاتی (تو یہ مناسب ہوتا)؛ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دوسری طرح اجازت لی جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو آپ اس بارے میں اپنے ساتھ کوئی گواہ لے کر آئیں، ورنہ ہم آپ کی پشت پر سزا عائد کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے ہمراہ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہو، اے ابوسعید! تم اٹھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوا اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے بتایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5810]

5811

Sahih Ibn Hibban #5811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص کا دوسرے شخص کی طرف پیغام رساں کو بھیجنا اس کی طرف سے اجازت (شمار ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5811]

5812

Sahih Ibn Hibban #5812

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5812]

5813

Sahih Ibn Hibban #5813

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا بِالْبَقِيعِ ، فَنَادَى رَجُلٌ آخَرُ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلانًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص نے بلند آواز میں دوسرے کو مخاطب کیا: ”اے ابوالقاسم!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلایا، میں نے فلاں شخص کو بلایا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5813]

5814

Sahih Ibn Hibban #5814

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5814]

5815

Sahih Ibn Hibban #5815

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُنَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ اسْمَهُ وَكُنْيَتَهُ ، فَيُسَمَّى مُحَمَّدًا أَبَا الْقَاسِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت کو جمع کرے اور اس کا نام ابوالقاسم محمد رکھا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5815]

5816

Sahih Ibn Hibban #5816

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَنَّيْتُمْ فَلا تَسَمَّوْا بِي ، وَإِذَا سَمَّيْتُمْ بِي ، فَلا تَكَنَّوْا بِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کنیت اختیار کرو، تو میرے نام کے مطابق نام نہ رکھو اور جب تم میرے نام کے مطابق نام رکھو، تو میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5816]

5817

Sahih Ibn Hibban #5817

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي ، أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ، اللَّهُ يُعْطِي ، وَأَنَا أَقْسِمُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ وَأَبِيهِ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو، میں ابوالقاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ابن عجلان نے مقبری کے حوالے سے اور ان کے والد دونوں سے سنی ہے، یہ دونوں راوی ثقہ ہیں اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5817]

5818

Sahih Ibn Hibban #5818

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ ، فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن تم لوگوں کو تمہارے ناموں اور تمہارے باپ دادا کے ناموں سے بلایا جائے گا، تو تم لوگ اپنے نام اچھے رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5818]

5819

Sahih Ibn Hibban #5819

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ : أَنْتِ جَمِيلَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کا نام عاصیہ سے تبدیل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جمیلہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5819]

5820

Sahih Ibn Hibban #5820

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ لِعَاصِيَةَ : أَنْتِ جَمِيلَةُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْتِعْمَالُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْفِعْلَ لَمْ يَكُنْ تَطَيُّرًا بِعَاصِيَةَ ، وَلَكِنْ تَفَاؤُلا بِجَمِيلَةَ ، وَكَذَلِكَ مَا يُشْبِهُ هَذَا الْجِنْسَ مِنَ الأَسْمَاءِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الطِّيَرَةِ فِي غَيْرِ خَبَرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عَاصِيَة» (نامی خاتون) سے فرمایا: ”تم جمیلہ ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فعل پر عمل کرنا اس لیے نہیں تھا کہ آپ لفظ «عَاصِيَة» کے ذریعے بدشگونی مراد لے رہے تھے بلکہ آپ لفظ «جَمِيلَة» کے ذریعے فال حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس نوعیت کے دیگر ناموں کا بھی یہی حکم ہو گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی سے منع کیا ہے جیسا کہ دوسری روایت میں مذکور ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5820]

5821

Sahih Ibn Hibban #5821

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ بِأَرْضٍ تُسَمَّى غَدِرَةَ ، فَسَمَّاهَا خَضِرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک سرزمین کے پاس سے ہوا جس کا نام «غَدِرَة» ”غدرہ“ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام «خَضِرَة» ”خضرہ“ (یعنی سرسبز و شاداب) رکھ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5821]

5822

Sahih Ibn Hibban #5822

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ : مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : " حَزْنٌ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ "، قَالَ : لا ، أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ سَعِيدٌ : فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیّب رحمہ اللہ اپنے والد (مسیّب بن حزن رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے دریافت فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: «حَزْنٌ» ”(یعنی پریشانی)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تم «سَهْلٌ» ”(یعنی آسانی) ہو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میں وہ نام تبدیل نہیں کرنا چاہتا جو میرے والد نے میرا نام رکھا ہے۔“ سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کے بعد وہ ہمیشہ غمگین ہی رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5822]

5823

Sahih Ibn Hibban #5823

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ : يَا شِهَابُ ، قَالَ : أَنْتَ هِشَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے شہاب! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہشام ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5823]

5824

Sahih Ibn Hibban #5824

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّاهُ ، حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّيْرُ يَجْرِي بِقَدَرٍ ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے امی جان! آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بدشگونی تقدیر کے مطابق ہوتی ہے،“ تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی فال پسند تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5824]

5825

Sahih Ibn Hibban #5825

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَيُعْجِبُهُ الاسْمُ الْحَسَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اچھا شگون لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام رکھنا پسند تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5825]

5826

Sahih Ibn Hibban #5826

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا عَدْوَى وَلا طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیماری کے متعدی ہونے اور بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تاہم میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5826]