Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 51 · Chapter 2

Book of Sacrifice

Hadith 5753–5792

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5753

Sahih Ibn Hibban #5753

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ، سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ هِلالٍ الصَّدَفِيَّ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولانِ : سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّجَالِ ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ ، عَلَى رُءُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ ، الْعَنُوهُنَّ ، فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ ، لَوْ كَانَ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ خَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ ، كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الأُمَمِ قَبْلَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو مردوں کی طرح زین پر سوار ہوں گے، وہ مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں گے، وہ مسجدوں کے دروازوں پر پڑاؤ کریں گے، ان کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی، ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی طرح کی کوہان (نما بالوں کے جوڑے) ہوں گے، تم لوگ ان پر لعنت کرو کیونکہ وہ لعنت یافتہ ہوں گی، اگر تمہارے بعد کوئی اور امت ہوتی، تو ان کی خواتین ان کی خدمت کرتیں، جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کی خواتین تمہاری خدمت کرتی رہی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5753]

5754

Sahih Ibn Hibban #5754

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّشَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاءِ بِوَجْهٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے برا شخص وہ ہے جو دوغلا ہو، جو اس کے پاس یہ رخ لے کر آئے اور اس کے پاس وہ رخ لے کر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5754]

5755

Sahih Ibn Hibban #5755

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاءِ بِوَجْهٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”برے ترین افراد میں سے ایک شخص «ذَا الْوَجْهَيْنِ» ”دوغلا“ ہے جو ان کے پاس یہ چہرہ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس وہ چہرہ لے کر جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5755]

5756

Sahih Ibn Hibban #5756

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص دنیا میں دوغلا ہوگا قیامت کے دن اس کی آگ سے بنی ہوئی دو زبانیں ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5756]

5757

Sahih Ibn Hibban #5757

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقُهُوا ، وَتَجِدُونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاءِ بِوَجْهٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگوں کو معدنیات کی شکل میں پاؤ گے، ان میں سے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے شمار ہوں گے جب کہ وہ (دینی احکام کی) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں، اور اس معاملے کے بارے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو اسے سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو اس سے پہلے کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے، اور تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا دوغلے شخص کو پاؤ گے جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور ان (دوسروں) کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5757]

5758

Sahih Ibn Hibban #5758

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَنْ تَذْكُرَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا ذَكَرْتُ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدْ بَهَتَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم لوگ جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس میں موجود خامی کے ہمراہ کرو۔“ (لوگوں نے) عرض کی: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر وہ چیز واقعی میرے بھائی میں موجود ہو، جس کا میں نے ذکر کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ چیز واقعی اس میں موجود ہو جس کا تم نے ذکر کیا ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور تم نے جس کا ذکر کیا ہے اگر وہ اس میں موجود نہ ہو، تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5758]

5759

Sahih Ibn Hibban #5759

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ " ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " فَإِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ جانتے ہو غیبت سے مراد کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کا اس چیز کے ساتھ ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ سائل نے عرض کیا: آپ کی کیا رائے ہے، اگر میرے بھائی میں وہ چیز واقعی موجود ہو جو میں نے بیان کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہو جو تم نے بیان کی ہے تو یوں تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہ ہو، تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5759]

5760

Sahih Ibn Hibban #5760

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ ، أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمُ "قَالَ : يَقُولُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم لوگوں کے پوشیدہ معاملات کی جاسوسی کرتے رہو گے تو تم انہیں خراب کر دو گے یا تم انہیں خرابی کے قریب پہنچا دو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو یہ بات سنی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے انہیں فائدہ پہنچایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5760]

5761

Sahih Ibn Hibban #5761

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُبْصِرُ أَحَدُكُمُ الْقَذَاةَ فِي عَيْنِ أَخِيهِ ، وَيَنْسَى الْجِذْعَ فِي عَيْنِهِ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کو اپنے بھائی کی آنکھ میں موجود تنکا نظر آ جاتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھ میں موجود شہتیر بھول جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5761]

5762

Sahih Ibn Hibban #5762

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ : هَلَكَ النَّاسُ ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے ہیں، تو وہ شخص خود ان سے زیادہ ہلاکت کا شکار ہونے والا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5762]

5763

Sahih Ibn Hibban #5763

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْمِنْبَرَ ، فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الإِيمَانُ قَلْبَهُ ، لا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلا تُعَيِّرُوهُمْ ، وَلا تَطْلُبُوا عَثَرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْ عَوْرَةَ الْمُسْلِمِ يَطْلُبِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ يَطْلُبِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ ، وَلَوْ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ "، وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ : مَا أَعْظَمَكَ ، وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكَ ، وَلَلْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں اعلان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے وہ لوگو جو زبان کے ذریعے مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا! تم لوگ مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ، تم انہیں عار نہ دلاؤ، تم ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص مسلمان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی تحقیق کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے پوشیدہ معاملات کی تحقیق کرے گا اسے رسوائی کا شکار کر دے گا خواہ وہ شخص اپنے گھر کے اندر موجود رہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن بیت اللہ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: تمہاری عظمت کتنی زیادہ ہے، تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مومن حرمت کے اعتبار سے تم سے زیادہ عظیم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5763]""

5764

Sahih Ibn Hibban #5764

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ كَثْرَةِ صَلاتِهَا ، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي بِلِسَانِهَا ، قَالَ : فِي النَّارِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلانَةً ذَكَرَ مِنْ قِلَّةِ صَلاتِهَا وَصِيَامِهَا ، وَأَنَّهَا تَصَدَّقَتْ بِأَثْوَارِ أَقِطٍ ، غَيْرَ أَنَّهَا لا تُؤْذِي جِيرَانَهَا ، قَالَ : " هِيَ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں عورت ایسی ہے، اس نے اس عورت کی بکثرت نفل نمازوں کا ذکر کیا اور یہ کہا کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے (دوسروں) کو اذیت پہنچاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ جہنم میں جائے گی۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں عورت ایسی ہے، پھر اس نے اس عورت کی نمازوں اور روزوں کی قلت کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ جنت میں جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5764]

5765

Sahih Ibn Hibban #5765

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى السُّلْطَانِ ، فَكُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ ، فَمَرَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، قِيلَ : هُوَ هَذَا ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: ایک شخص حاکمِ وقت کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچایا کرتا تھا، ایک مرتبہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران وہ شخص وہاں سے گزرا تو یہ بتایا گیا کہ یہ تو ایسا شخص ہے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چغلی کرنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5765]

5766

Sahih Ibn Hibban #5766

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلانًا ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ كَذَا وَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی نے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اسے یہ کہنا چاہیے کہ فلاں شخص کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں، ویسے اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہے (اور یہ الفاظ بھی اس وقت استعمال کرنے چاہئیں) جب آدمی کو یہ بات پتا ہو کہ وہ شخص ایسا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5766]

5767

Sahih Ibn Hibban #5767

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ ! قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلانًا ، وَلا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «وَيْلَكَ! قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ» ”تمہارا ستیاناس ہو! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ہے“۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ہی ہو تو اسے یہ کہنا چاہیے کہ «أَحْسِبُ كَذَا» ”فلاں شخص کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں“، «وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا» ”ویسے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کو پاک قرار نہیں دیتا“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5767]

5768

Sahih Ibn Hibban #5768

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَعْمَلُ مِنَ الْخَيْرِ يَحْمَدُهُ النَّاسُ ؟ قَالَ : تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آدمی کوئی نیک کام کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ مومن کو جلدی ملنے والی خوشخبری ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5768]

5769

Sahih Ibn Hibban #5769

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : احْثُوا فِي أَفْوَاهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(کسی کی) تعریف کرنے والوں کے منہ پر مٹی ڈال دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5769]

5770

Sahih Ibn Hibban #5770

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلا مَدَحَ رَجُلا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَرْفَعُ التُّرَابَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وجُوهِهُمُ التُّرَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف مٹی پھینکنی شروع کی اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو، تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5770]

5771

Sahih Ibn Hibban #5771

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : وَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَارَةَ ، وَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لا كَذِبْ ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابو عمارہ! کیا آپ غزوہ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، البتہ لوگوں میں سے کچھ جلد باز لوگ جب ہوازن قبیلے کے تیروں کے نشانے پر آئے تو (وہ پیچھے ہٹ گئے)، اس وقت سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» ”میں نبی ہوں، یہ بات جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5771]

5772

Sahih Ibn Hibban #5772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ ، عَلِقَتِ الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ ، وَخُطِفَ رِدَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعْطُونِي رِدَائِي ، لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لا تَجِدُونِي كَذَّابًا ، وَلا جَبَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، یہ حنین سے واپسی کی بات ہے، اسی دوران دیہاتیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چیزیں مانگ رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا، حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بھی کھینچ لی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر مجھے دو، اگر میرے پاس ان ٹہنیوں کی تعداد میں نعمتیں ہوں تو میں انہیں تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا، تم مجھے غلط بیانی کرنے والا یا بزدل نہیں پاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5772]

5773

Sahih Ibn Hibban #5773

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ عَنْهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلا تَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اس سے درگزر کیے بغیر تلوار کے ذریعے قتل کر دوں گا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کے مزاج کی تیزی پر حیرانگی نہیں ہوئی؟ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے غیرت کی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور عذر پیش کرنا کسی کے نزدیک بھی اتنا محبوب نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے، اسی وجہ سے اس نے رسولوں کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے نزدیک اپنی تعریف اللہ تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی تعریف بیان کرنے والے کے لیے) جنت کا وعدہ کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5773]

5774

Sahih Ibn Hibban #5774

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الخَيْلِ وَالْوَبَرِ ، يَأْتِي الْمَسِيحُ ، حَتَّى إِذَا جَاوَزَ أُحُدًا صَرَفَتِ الْمَلائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یمانی ہے اور کفر مشرق کی سمت سے ہوگا، بکریاں پالنے والوں میں سکینت ہوتی ہے، جبکہ گھوڑے پالنے والے دیہاتیوں میں فخر (یعنی تکبر) اور ریاکاری پائی جاتی ہے، دجال اس طرف سے آئے گا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ عبور کر لے گا، تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے، وہاں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5774]

5775

Sahih Ibn Hibban #5775

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَّا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زمانہ جاہلیت کے اپنے آبا و اجداد پر فخر کا اظہار نہ کرو، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، آدمی کے نتھنوں میں مٹی بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم اپنے ان آبا و اجداد پر فخر کا اظہار کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5775]

5776

Sahih Ibn Hibban #5776

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ معزز شخص جو ایک معزز شخص کے صاحبزادے تھے، جو ایک معزز شخص کے صاحبزادے تھے، جو ایک معزز شخص کے صاحبزادے تھے، وہ سیدنا یوسف علیہ السلام ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے تھے، جو سیدنا اسحاق علیہ السلام کے صاحبزادے تھے، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صاحبزادے تھے، اللہ تعالیٰ ان پر درود نازل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5776]

5777

Sahih Ibn Hibban #5777

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5777]

5778

Sahih Ibn Hibban #5778

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّمِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کچھ شعر حکمت ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5778]

5779

Sahih Ibn Hibban #5779

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی شخص کے پیٹ کا پیپ سے مکمل طور پر بھر جانا اس کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5779]

5780

Sahih Ibn Hibban #5780

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ أَبُو الطَّيِّبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلامٍ بَيِّنٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے خوب صورت کلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5780]

5781

Sahih Ibn Hibban #5781

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : جَالَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ ، فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ ، وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک سو سے زائد مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک دوسرے کو اشعار سنایا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات کا تذکرہ کیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہتے تھے اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ مسکرا دیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5781]

5782

Sahih Ibn Hibban #5782

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " هِيهِ " ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : " هِيهِ " ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ : " هِيهِ " وَأُنْشِدُهُ حَتَّى أَتْمَمْتُ مِائَةَ بَيْتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شريد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہیں امیہ بن ابوصلت کا کوئی شعر یاد ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیش کرو۔“ میں نے آپ کو ایک شعر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سنایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے یہی فرماتے رہے: ”اور سناؤ۔“ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سو اشعار سنائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5782]

5783

Sahih Ibn Hibban #5783

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلا اللَّهَ بَاطِلٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی عرب نے جو سب سے بہترین شعر کہا ہے وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے: «أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ» ”خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5783]

5784

Sahih Ibn Hibban #5784

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلا اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہترین شعر جو کسی عرب نے کہا ہے، وہ لبید کا یہ کلمہ ہے: ”خبردار اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا) امیہ بن ابوصلت مسلمان ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5784]

5785

Sahih Ibn Hibban #5785

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِرْيَةً اثْنَانِ : شَاعِرٌ يَهْجُو الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا ، وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ شاعر جو کسی قبیلے کی ہجو کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اپنے باپ سے (اپنے نسب کی) نفی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5785]

5786

Sahih Ibn Hibban #5786

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أُنْزِلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ أُنْزِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ نَضْحَ النَّبْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! شعر کے بارے میں جو حکم نازل ہونا تھا وہ تو ہو گیا ہے (اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن شخص اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ (ان کی ہجو کر کے) گویا انہیں نیزے مارتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5786]

5787

Sahih Ibn Hibban #5787

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَكَيْفَ بِنِسْبَتِي ؟ " ، فَقَالَ حَسَّانُ : لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَسَلِّ الشَّعَرَةِ مِنَ الْعَجِينِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نسب کا کیا بنے گا؟“ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ کو ان میں سے یوں نکالوں گا، جس طرح آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5787]

5788

Sahih Ibn Hibban #5788

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، أَخُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ قَامَ أَهْلُ مَكَّةَ سِمَاطَيْنِ ، قَالَ : وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي ، وَيَقُولُ : خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، أَتَقُولُ الشِّعْرَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ يَا عُمَرُ ، لَهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو اہل مکہ دونوں اطراف میں کھڑے ہو گئے، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آگے چلتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے: اے کافروں کی اولاد! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاؤ، آج ہم قرآن کے حکم کے مطابق تمہیں ماریں گے، ایسی ضرب لگائیں گے جو سر کو تن سے جدا کر دے گی اور دوست کو دوست سے جدا کر دے گی، اے میرے پروردگار! بے شک میں تیرے فرمان پر ایمان رکھتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابن رواحہ! کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شعر کہہ رہے ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اسے کرنے دو، یہ اشعار ان (کفار) کے لیے نیزے لگنے سے زیادہ سخت (تکلیف دہ) ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5788]

5789

Sahih Ibn Hibban #5789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا عَيْشَ إِلا عَيْشُ الآخِرَةْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر انصار نے یہ اشعار پڑھے: ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے کہ جب تک ہم زندہ رہے جہاد کرتے رہیں گے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیتے ہوئے یہ شعر پڑھا: «اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ» ”زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے (اے اللہ) تو انصار و مہاجرین کی عزت افزائی کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5789]

5790

Sahih Ibn Hibban #5790

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يُقَالُ لَهُ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ ، كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ زَاهِرًا بَادِينَا ، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ " ، قَالَ : فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَالرَّجُلُ لا يُبْصِرُهُ ، فَقَالَ : أَرْسِلْنِي ! مَنْ هَذَا ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا عَرَفَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يُلْزِقُ ظَهْرَهُ بِصَدْرِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ " ؟ ! فَقَالَ زَاهِرٌ : تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَاسِدًا ، قَالَ : " لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ " ، أَوْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنْتَ عِنْدَ اللَّهِ غَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جسے زاہر بن حرام کہا جاتا تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ پیش کیا کرتا تھا، پھر جب وہ واپس جانے لگتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے ساز و سامان دیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت (بازار میں کھڑا) اپنا سامان فروخت کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے اسے اپنے بازوؤں کے حلقے میں لے لیا، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکا اس نے کہا: مجھے چھوڑ دیں، یہ کون ہے؟ جب اس نے مڑ کر دیکھا اور اسے پتا چلا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس نے اپنی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے ساتھ لگا دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس غلام کو کون خریدے گا؟“ زاہر نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بہت کم قیمت پائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم قیمتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5790]

5791

Sahih Ibn Hibban #5791

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَةً يَتِيمَةً عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ شِبْتِ ، لا أَشَبَّ اللَّهُ قَرْنَكِ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : لَقَدْ دَعَوْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى يَتِيمَتِي أَنْ لا يُشِبَّ اللَّهُ قَرْنَهَا ، فَوَاللَّهِ لا تَشِبُّ أَبَدًا ! فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَ رَبِّي عَهْدًا : أَيُّمَا أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ عَلَيْهِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا ، أَوْ قُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک یتیم لڑکی دیکھی (سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہارے سفید بال آ گئے ہیں، «لَا كَبِرَ سِنُّكِ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری چٹیا کو سفید نہ کرے۔““ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یتیم بچی کے لیے یہ دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی چٹیا کو سفید نہ کرے۔ اللہ کی قسم! یہ تو کبھی سفید نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عہد لیا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ، أَنْ تَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”میں اپنی امت کے جس بھی فرد کے لیے دعائے ضرر کروں اور وہ اس کا مستحق نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو اس کے حق میں طہارت کے حصول کا ذریعہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب کے حصول کا ذریعہ بنا دے گا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5791]

5792

Sahih Ibn Hibban #5792

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5792]