Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 51 · Chapter 1

Book of Sacrifice

Hadith 5711–5752

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5711

Sahih Ibn Hibban #5711

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ رَجُلٌ : وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلانٍ ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے فلاں کی مغفرت کر دی اور تمہارے عمل کو ضائع کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5711]

5712

Sahih Ibn Hibban #5712

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ مُصَفِّرٍ رَأْسَهُ ، بَرَّاقِ الثَّنَايَا ، مَعَهُ رَجُلٌ أَدْعَجُ ، جَمِيلُ الْوَجْهِ ، شَابٌّ ، فَقَالَ الشَّيْخُ : يَا يَمَامِيُّ تَعَالَ ، لا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ أَبَدًا لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ ، وَاللَّهِ لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا ، قُلْتُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ! قَالَ : أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِبَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ لِخَادِمِهِ إِذَا غَضِبَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَلا تَقُلْهَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كَانَ رَجُلانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ ، وَالآخَرُ مُذْنِبٌ ، فَأَبْصَرَ الْمُجْتَهِدُ الْمُذْنِبَ عَلَى ذَنْبٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَقْصِرْ ، فَقَالَ لَهُ : خَلِّنِي وَرَبِّي ، قَالَ : وَكَانَ يُعِيدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَيَقُولُ : خَلِّنِي وَرَبِّي ، حَتَّى وَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ ، فَاسْتَعْظَمَهُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ أَقْصِرْ ! قَالَ : خَلِّنِي وَرَبِّي ، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا ؟ ! فَقَالَ : وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَدًا ، أَوْ قَالَ : لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا ، فَبُعِثَ إِلَيْهِمَا مَلَكٌ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا ، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهُ جَلَّ وَعَلا ، فَقَالَ رَبُّنَا لِلْمُجْتَهِدِ :" أَكُنْتَ عَالِمًا ؟ أَمْ كُنْتَ قَادِرًا عَلَى مَا فِي يَدِي ؟ أَمْ تَحْظُرُ رَحْمَتِي عَلَى عَبْدِي ؟ اذْهَبْ إِلَى الْجَنَّةِ " يُرِيدُ الْمُذْنِبَ وَقَالَ لِلآخَرِ : " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ضمضم بن جوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کے بالوں کا رنگ زرد تھا اور اس کے سامنے کے دانت انتہائی چمکدار تھے، اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا جو بہت خوبصورت اور جوان تھا، اس بوڑھے شخص نے کہا: اے یمامی! تم آگے آؤ، تم کسی بھی شخص کو یہ کبھی نہ کہنا کہ ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت نہ کرے“ یا ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا“۔ میں نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے! انہوں نے جواب دیا: میں ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) ہوں۔ میں نے کہا: اس طرح کا کلمہ تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا خادم کے لیے استعمال کرتا ہے جب وہ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے جو ایک دوسرے کے بھائی بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک شخص عبادت میں اہتمام کرتا تھا اور دوسرا گنہگار تھا، عبادت گزار شخص نے گناہ کرنے والے شخص کو دیکھا تو اس سے کہا: تم اس میں کمی کر دو، تو دوسرے شخص نے کہا: تم یہ معاملہ میرے اور میرے پروردگار کے درمیان رہنے دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی بات اس کے سامنے دہرائی تو اس شخص نے آگے سے یہی جواب دیا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو، یہاں تک کہ عبادت گزار نے ایک دن اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے اس کا گناہ بڑا لگا، اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو! تم گناہ کرنے سے باز آ جاؤ۔ دوسرے شخص نے کہا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو، کیا تمہیں مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو عبادت گزار نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کبھی نہیں کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا گیا، اس نے ان دونوں کی ارواح کو قبض کر لیا، وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکٹھے ہوئے تو پروردگار نے عبادت گزار سے دریافت کیا: کیا تم عالم ہو یا تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ جو کچھ میرے اختیار میں ہے؟ یا تم میری رحمت کو میرے بندے پر ہونے سے روکتے ہو؟ تم جنت کی طرف جاؤ۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہگار شخص سے یہ فرمایا) اور دوسرے سے فرمایا: اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس نے ایک ایسی بات کہی ہے جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5712]

5713

Sahih Ibn Hibban #5713

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : وَاخَيْبَةَ الدَّهْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص یہ نہ کہے: زمانے کا ستیاناس ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے (کو چلانے والا) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5713]

5716

Sahih Ibn Hibban #5716

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدَ مِنَ الثُّرَيَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ساتھیوں کو ہنسا دیتا ہے لیکن وہ اس کی وجہ سے (جہنم میں) اس سے زیادہ گہرائی میں جائے گا جتنا ثریا (ستارا اونچا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5716]

5717

Sahih Ibn Hibban #5717

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْمَنُ امْرِئٍ ، وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ "، قَالَ وَهْبٌ : يَعْنِي لِسَانَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی کی خوش بختی اور اس کی بدبختی اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے۔“ وہب نامی راوی کہتے ہیں: یعنی اس کی زبان میں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5717]

5718

Sahih Ibn Hibban #5718

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَامَ رَجُلانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَيْنِ ، فَتَكَلَّمَا ، ثُمَّ قَعَدَا ، فَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ ، فَعَجِبُوا مِنْ كَلامِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،قُولُوا بِقَوْلِكُمْ ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلامِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مشرق کی طرف سے آنے والے دو آدمی خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، ان دونوں نے بات چیت کی، پھر وہ دونوں بیٹھ گئے، پھر سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب تھے، وہ کھڑے ہوئے، انہوں نے بات چیت کی، لوگوں کو ان کا کلام پسند آیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! عام محاورے کے مطابق بات چیت کیا کرو، کیونکہ کلام کو زیادہ بنانا سنوارنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5718]

5719

Sahih Ibn Hibban #5719

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ "، قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ : إِضَاعَةُ الْمَالِ : إِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری نے مجھے یہ بات بتائی: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھوایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے: فضول بحث کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت سوال کرنا (یا مانگنا)۔“ ابن علیہ کہتے ہیں: مال کو ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے ناحق طور پر خرچ کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5719]

5720

Sahih Ibn Hibban #5720

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے فضول بحث کرنے، بکثرت سوال کرنے (یا مانگنے) اور مال کو ضائع کرنے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5720]

5721

Sahih Ibn Hibban #5721

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَكُلٌّ عَلَى خَيْرٍ ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلا تَعْجِزْ ، فَإِنْ غَلَبَكَ شَيْءٌ ، فَقُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقتور مومن، کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اور ویسے دونوں بھلائی پر ہوتے ہیں، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ دے گی اور تم عاجز نہ آ جاؤ، اگر کوئی چیز تم پر غالب آ جائے تو تم یہ کہو: «قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» ”یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر تھی اور جو اس کو منظور تھا (وہی ہوا)“ اور تم ”اگر“ کہنے سے بچو! (یعنی یہ کہنا کہ اگر یہ ہو جاتا، تو وہ ہو جاتا) کیونکہ ”اگر“ شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5721]

5722

Sahih Ibn Hibban #5722

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْفَارِسِيُّ بِدَارَا مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَفِي كُلٍّ الْخَيْرُ ، فَاحْرِصْ عَلَى مَا تَنْتَفِعُ بِهِ ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلا تَعْجِزْ ، فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلا تَقُلْ : لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ! وَلَكِنْ : قُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَجْلانَ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الأَعْرَجِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ الأَعْرَجِ مُفْرَدًا ، وَتَارَةً يَرْوِيهِ عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ مُفْرَدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طاقت ور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے، ویسے دونوں ہی بھلائی پر ہوتے ہیں، تم اس چیز کا لالچ کرو جس کے ذریعے تم نفع حاصل کرو اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو اور تم عاجز نہ آ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان لاحق ہو تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے اس اس طرح کر دیا ہوتا (تو یوں ہو جاتا) بلکہ یہ کہو: «قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» ”یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر (کے مطابق تھا) جو اس نے چاہا ویسا ہی کیا“ کیونکہ لفظ ”اگر“ شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ ابن عجلان نے یہ روایت اعرج سے سنی ہو اور انہوں نے یہ روایت محمد بن یحییٰ کے حوالے سے اعرج سے سنی ہو، تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت ان کے حوالے سے نقل کر دی اور ایک مرتبہ یہ روایت ایک شخص کے حوالے سے نقل کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5722]

5723

Sahih Ibn Hibban #5723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : زَرَعْتُ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : حَرَثْتُ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے: «زَرَعْتُ» ”میں نے زراعت کی“، بلکہ وہ یہ کہے: «حَرَثْتُ» ”میں نے کھیتی باڑی کی“۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] ”تمہاری کیا رائے ہے کیا تم نے اس میں کھیتی باڑی کی ہے کیا تم زراعت کرتے ہو یا ہم زراعت کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5723]

5724

Sahih Ibn Hibban #5724

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : لَقِسَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ «خَبُثَتْ نَفْسِي» ”میرا نفس خبیث ہو گیا ہے“ بلکہ وہ یہ کہے کہ «لَقِسَتْ نَفْسِي» ”یہ تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5724]

5725

Sahih Ibn Hibban #5725

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبَرِّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ قَوْمًا مِنَ الْيَهُودِ ، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَقَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : وَأَنْتُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : وَلَقِيَ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى ، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : وَأَنْتُمْ قَوْمٌ ، لَوْلا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَصَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْكُمْ فَتُؤْذُونَنِي ، فَلا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے خواب دیکھا کہ ان کی ملاقات کچھ یہودیوں سے ہوئی، انہیں ان کی ہیئت پسند آئی تو انہوں نے کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک قوم ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ سیدنا عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، ان یہودیوں نے کہا: تم لوگ بھی ٹھیک قوم ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا، پھر ان کی ملاقات کچھ عیسائیوں سے ہوئی، انہیں ان کی ہیئت پسند آئی تو انہوں نے کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ سیدنا مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، تو ان عیسائیوں نے بھی کہا: تم لوگ بھی بالکل ٹھیک ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ اگلے دن صبح انہوں نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں پہلے بھی یہ الفاظ تمہاری زبانی سنتا تھا اور تم اس کے ذریعے مجھے اذیت پہنچاتے تھے، اب تم یہ نہ کہنا: جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5725]

5726

Sahih Ibn Hibban #5726

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي ، أَفَأَنْتَقِمُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری قوم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے، وہ مجھ سے کم مرتبے کا مالک ہے، کیا میں اس سے انتقام لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک دوسرے کو گالی دینے والے دونوں افراد دو شیطان ہوتے ہیں، وہ دونوں جھگڑا کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5726]

5727

Sahih Ibn Hibban #5727

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَشْتُمُنِي مِنْ قَوْمِي وَهُوَ دُونِي ، أَعَلَيَّ مِنْ بَأْسٍ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ ؟ قَالَ : الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْمُسْتَبِّ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ ، إِذِ الشَّيْطَانُ دَلَّهُ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ ، حَتَّى تَهَاتَرَ وَتَكَاذَبَ ، لا أَنَّ الْمُسْتَبَّيْنِ يَكُونَانِ شَيْطَانَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری قوم کا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے وہ مجھ سے کم تر حیثیت کا مالک ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس سے کوئی انتقام لوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد دونوں شیطان ہوتے ہیں جو دونوں بات کو بڑھاتے ہیں اور غلط بیانی کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہنے والے شخص کے لیے لفظ شیطان مجاورت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ شیطان اس شخص کی رہنمائی اس فعل کی طرف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بات بڑھاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ برا کہنے والے دونوں افراد واقعی شیطان بن جاتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5727]

5728

Sahih Ibn Hibban #5728

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالا ، فَعَلَى الْبَادِئِ مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک دوسرے کو برا کہنے والے دونوں افراد جو بھی کہتے ہیں، اس کا وبال ان دونوں میں سے آغاز کرنے والے پر ہوتا ہے جب تک مظلوم زیادتی کا مرتکب نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5728]

5729

Sahih Ibn Hibban #5729

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْمُسْتَبَّيْنَ مَا قَالا ، فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد جو بھی ایک دوسرے کو برا کہتے ہیں، اس کا وبال شروع کرنے والے پر ہوتا ہے جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5729]

5730

Sahih Ibn Hibban #5730

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ ، فَقَالَ : اضْرِبُوهُ " ، فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَخْزَاكَ اللَّهُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لا تَقُولُوا هَكَذَا ، لا تُعِينُوا الشَّيْطَانَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شرابی کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی پٹائی کرو۔“ تو ہم میں سے کسی شخص نے اسے ہاتھ کے ذریعے مارا، کسی نے اسے جوتے کے ذریعے مارا، حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح نہ کہو، تم اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5730]

5731

Sahih Ibn Hibban #5731

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَسُبُّوا الدِّيكَ ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مرغ کو برا نہ کہو کیونکہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5731]

5732

Sahih Ibn Hibban #5732

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ الرِّيحَ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ ، فَلا تَسُبُّوهَا ، وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے جو رحمت کو لے کر آتی ہے اور عذاب کو بھی لے کر آتی ہے، تو تم اسے برا نہ کہو، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5732]

5733

Sahih Ibn Hibban #5733

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومَ بِنْتِ عُقْبَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيُنْمِي خَيْرًا ، أَوْ يَقُولُ خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو (غلط بیانی کر کے) لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے، وہ بھلائی پھیلانا چاہتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ بھلائی کی بات کہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5733]

5734

Sahih Ibn Hibban #5734

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ ، وَهُمَا فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پر سچائی کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5734]

5735

Sahih Ibn Hibban #5735

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَلا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ ، وَالنَّمِيمَةَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خبردار! بے شک جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور چغلی کرنا قبر کے عذاب کا باعث ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5735]

5736

Sahih Ibn Hibban #5736

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَهُ الْكَذْبَةَ فَمَا تَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کوئی بھی برائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی، بعض اوقات کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی غلط بیانی کرتا تو یہ بات مسلسل آپ کے ذہن میں رہتی، جب تک آپ کو اس بات کا پتہ نہیں چل جاتا کہ اس نے بعد میں نئے سرے سے توبہ کر لی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5736]

5737

Sahih Ibn Hibban #5737

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلا ثَلاثًا : اثْنَتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ : قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ ، وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، قَالَ : وَمَرَّ عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَارَةُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ رَجُلا هَاهُنَا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : هَذِهِ أُخْتِي ، قَالَ : فَأَتَاهَا ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ ، وَإِنِّي أَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي ، وَإِنَّكَ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَلا تُكَذِّبِينِي ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهَا ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُخِذَ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ لِي ، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ ، فَدَعَتْ لَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا ، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى ، فَقَالَ : ادَّعَى اللَّهَ لِي ، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ ، فَدَعَتْ لَهُ ، فَذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا ، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَيَيْنِ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ لِي ، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ ، فَدَعَتْ لَهُ ، فَأُرْسِلَ ، فَقَالَ لأَدْنَى حَجَبَتِهِ عِنْدَهُ : إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ : مَهْيَمْ ، قَالَتْ : كَفَى اللَّهُ كَيَدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ "، قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ : تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ : وَمَدَّ النَّضْرُ صَوْتَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : كُلُّ مَنْ كَانَ مِنْ وَلَدِ هَاجَرَ يُقَالُ لَهُ : وَلَدُ مَاءِ السَّمَاءِ ، لأَنَّ إِسْمَاعِيلَ مِنْ هَاجَرَ ، وَقَدْ رُبِّيَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، وَهُوَ مَاءُ السَّمَاءِ الَّذِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ ، حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ هَاجَرُ ، فَأَوْلادُهَا أَوْلادُ مَاءِ السَّمَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی غلط بیانی نہیں کی، صرف تین مرتبہ انہوں نے (ذومعنی کی)، دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب انہوں نے یہ کہا: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] ”میں بیمار ہوں“ اور یہ کہا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے“۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ ان کا گزر ایک ظالم حکمران کے پاس سے ہوا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے جس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کے پاس گئے، اس نے ان سے سوالات کیے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتایا: یہ میری (دینی) بہن ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ اس حکمران نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تھا تو میں نے اسے بتایا: تم میری بہن ہو، تو تم اللہ کی کتاب میں میری بہن ہو، اس لیے تم مجھے جھوٹا قرار نہ دینا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب اس حکمران نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو وہ ان کے پاس آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے دعائے ضرر کی تو وہ گرفت میں آ گیا، اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجیے، میرے اوپر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا، پھر سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی، وہ دوبارہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے قریب آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر بددعا کی تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی، اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجیے، مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر اس کے لیے دعا کی، وہ پھر آگے آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعائے ضرر کی تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی، تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجیے، مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی، اس نے اپنے پاس موجود اپنے وزیر سے یہ کہا: تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے، تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو، پھر اس نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دیں، جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس خاتون کو دیکھا تو فرمایا: یہ کہاں سے آئی ہے؟ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے: ”اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگو! وہ تمہاری والدہ ہیں۔“ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشوونما آب زمزم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عزت افزائی کی تھی، اس وقت جب ان کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنم دیا تھا تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے جس نے آسمانی پانی کے ذریعے (نشوونما پائی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5737]

5738

Sahih Ibn Hibban #5738

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي ، مَا لَمْ يُعْطِنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میری ایک سوکن ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا اگر میں خود کو اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی بات کے حوالے سے سیر ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5738]

5739

Sahih Ibn Hibban #5739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنِ اسْتَكْثَرْتُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک سوکن ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5739]

5740

Sahih Ibn Hibban #5740

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَامْرَأَةٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهَا ، فَضَجرَتْ فَلَعَنَتْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مَتَاعَكُمْ عَنْهَا ، وَأَرْسِلُوهَا ، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " ، قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَمُّ أَبِي قِلابَةَ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو الْمُهَلَّبِ ، وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَتِهِ ، فَقَالَ : أَبُو الْمُهَاجِرِ ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، ایک خاتون اپنی اونٹنی پر سوار تھی، اس خاتون نے اس اونٹنی کو جھڑکتے ہوئے اس پر لعنت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنا سامان اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ایسا ہی کیا، اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نامی راوی کے چچا عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہیں جن کی کنیت ابومہلب ہے، امام اوزاعی کو ان کی کنیت کے بارے میں وہم ہوا تو انہوں نے یہ کہا: کہ ان کی کنیت ابومہاجر ہے، اس کی وجہ یہ ہے سوار کو بھی کبھی کبھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5740]

5741

Sahih Ibn Hibban #5741

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ لَعْنَةً ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا " ؟ فَقِيلَ : هَذِهِ فُلانَةٌ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" ضَعُوا عَنْهَا ، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ "، قَالَ : فَوُضِعَ عَنْهَا ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لعنت کرنے کی آواز سنی تو دریافت کیا: ”یہ کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: یہ فلاں خاتون ہے، جس نے اپنی سواری پر لعنت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سواری کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس سواری پر سے سامان اتار لیا گیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5741]

5742

Sahih Ibn Hibban #5742

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْتَقِبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ ، وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ ، فَدَنَا عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ ، ثُمَّ بَعَثَهُ ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ ، فَقَالَ : شَأْ ! لَعَنَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا اللاعِنُ بَعِيرَهُ ؟ " قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْزِلْ عَنْهُ ، فَلا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ ، لا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَوْلادِكُمْ ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ ، لا تُوَافِقُوا مِنَ السَّاعَةِ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے، ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ یا چھ یا سات افراد ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جن کا نام عقبہ تھا وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے، انہوں نے اسے بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوں، پھر انہوں نے اسے کھڑا کیا تو اس اونٹ نے کچھ شوخی دکھائی تو ان صاحب نے کہا: ”اٹھو، اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے؟“ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے نیچے اتر جاؤ، تم ہمارے ساتھ کسی لعنت یافتہ کو نہ رکھو، تم لوگ اپنے خلاف بددعا نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنے اموال کے خلاف بددعا کیا کرو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کسی ایسی گھڑی میں ہو جائے جس میں وہ تمہارے لیے مستجاب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5742]

5743

Sahih Ibn Hibban #5743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً ، بَيْنَا هِيَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ رَاحِلَةٍ عَلَيْهَا مَتَاعُ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ ، وأَتَى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ : حَلْ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمْرُ الْمُصْطَفَى بِتَسْيِيبِ الرَّاحِلَةِ الَّتِي لُعِنَتْ أَمْرٌ أُضْمِرَ فِيهِ سَبَبُهُ ، وَهُوَ حَقِيقَةُ اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لِلاعِنِ ، فَمَتَى عُلِمَ اسْتِجَابَةُ الدُّعَاءِ مِنْ لاعِنٍ مَا رَاحِلَةً لَهُ ، أَمَرْنَاهُ بِتَسْيِيبِهَا ، وَلا سَبِيلَ إِلَى عِلْمِ هَذَا لانْقِطَاعِ الْوَحْيِ ، فَلا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ هَذَا الْفِعْلِ لأَحَدٍ أَبَدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا، وہ دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہی تھی اور پہاڑ کا راستہ تنگ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ پر تشریف لائے، جب اس لڑکی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ کہنے لگی: اٹھو، اے اللہ! اس پر لعنت کر، اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی، اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے، تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے، لیکن وحی کے منقطع ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا، اس لیے اب کسی کے لیے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5743]

5744

Sahih Ibn Hibban #5744

ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟ " قِيلَ : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " نَعَمْ ، ائْذَنُوا لَهَا " ، فَأُذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقَتْ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ ، زَوْجُكِ ، وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! صدقہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ میں نے دیکھا ہے جہنم میں اکثریت تم خواتین کی ہے۔“ ان خواتین نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ لعنت کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ اے خواتین کے گروہ! میں نے ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کے باوجود سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی کی عقل کو رخصت کر دیتی ہے۔“ ان خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے دین اور عقل میں کیا کمی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی؟“ ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کی عقل کی کمی کی وجہ سے ہے۔ کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کر دیتی؟“ ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے دین کی کمی ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنا چاہ رہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اس خاتون کو اندر آنے دو۔“ اس خاتون کو اندر آنے کی اجازت دی گئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، میرے پاس کچھ زیورات ہیں، میں نے انہیں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، میں یہ زیورات ان پر صدقہ کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے ٹھیک کہا ہے، تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تم ان پر صدقہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5744]

5745

Sahih Ibn Hibban #5745

أَخْبَرَنَا الْحُسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَلْعَنِ الرِّيحَ ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يَلْعَنُ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ إِلا رَجَعَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا پر لعنت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ وہ حکم کی پابند ہے، جب بھی کوئی شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو وہ لعنت اس کرنے والے کی طرف واپس آ جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5745]

5746

Sahih Ibn Hibban #5746

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَرُبَّمَا بَاتَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ خَادِمًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، فَقَالَتْ لا تَلْعَنْهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّعَّانَيْنَ لا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ ، وَلا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ خاتون بعض اوقات ان کے ہاں قیام بھی کر لیتی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک نے اپنے خادم کو بلوایا، اسے آنے میں دیر ہو گئی تو عبدالملک نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر دے۔ اس خاتون نے کہا: تم اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک لعنت کرنے والے لوگ قیامت کے دن نہ تو شہید ہوں گے اور نہ شفیع ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5746]

5747

Sahih Ibn Hibban #5747

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلانًا ، وَفُلانًا " ، وَدَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے“، یہ دوسری رکعت کی بات ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا» ”اے اللہ! فلاں پر لعنت کر اور فلاں پر لعنت کر“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے بے شک وہ ظالم ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5747]

5748

Sahih Ibn Hibban #5748

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِطَابِهِ هَذَا بَيْضَةَ الْحَدِيدِ أَوْ بَيْضَةَ النَّعَامَةِ الَّتِي قِيمَتُهَا تَبْلُغُ رُبْعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ، وَكَذَلِكَ الْحَبْلُ ، أَرَادَ بِهِ الْحِبَالَ الْكِبَارَ الَّتِي تَكُونُ لِلآبَارِ الْعَمِيقَةِ الْقَعْرِ ، أَوْ لِلْمَرَاكِبِ الْعَمَّالَةِ فِي الْبَحْرِ ، وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْحِجَازِ الْغَالِبُ عَلَيْهِمُ الآبَارُ الْعَمِيقَةُ الْقَعْرِ ، وَعَلَيْهَا بَكَرَاتٌ لَهُمْ بِحِبَالِ الدِّلاءِ تَدُورُ ، فَتُتْرَكَ بِاللَّيْلِ عَلَى حَالِهَا ، وَهَكَذَا حِبَالُ الْمَرَاكِبِ ، لأَنَّ الْمَرْكِبَ إِذْ رَسَى رُبَّمَا طُرِحَتِ الْمَرَاسِي بِحَالِهَا بَرًّا ، فَتَمُرُّ بِهِ السَّابِلَةُ ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَطَّابِ مَسَّ شَيْءٍ مِنْهَا عَلَى سَبِيلِ الاسْتِحْلالِ دُونَ الانْتِفَاعِ بِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے جو ایک انڈہ (یا ڈھال) چوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ ایک رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان میں لفظ ”انڈہ“ کے ذریعے لوہے کا ٹکڑا مراد لیا ہو یا شتر مرغ کا انڈا مراد لیا ہو جس کی قیمت ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے برابر ہوتی ہے، اسی طرح رسی کے ذریعے وہ رسی لی ہو جو بڑی ہوتی ہے اور جو گہرے کنوؤں میں استعمال ہوتی ہے یا سمندر میں کشتیوں وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حجاز کے ہاں زیادہ تر کنویں گہرے ہوتے ہیں، وہاں ڈولوں کے ساتھ جو رسیاں ہوتی ہیں وہ لٹکتی رہتی ہیں اور انہیں رات کے وقت اسی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے، اسی طرح سواریوں (یا کشتیوں) کی رسیوں کا عالم ہے، کیونکہ جب سواری کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو بعض اوقات اس کی رسیاں خشکی پر اس عالم میں رہ جاتی ہیں جس پر نمی والی ہوا گزرتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے ذریعے ایسی کسی بھی چیز کو چھونے سے منع کیا ہے جب کہ آدمی اسے ذاتی ملکیت میں لے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس سے نفع حاصل کرنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5748]

5749

Sahih Ibn Hibban #5749

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَن ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ ، وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ : الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَالْمُسَلَّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُذِلَّ بِذَلِكَ مَنْ عَزَّ اللَّهُ ، وَلِيُعِزَّ بِهِ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ ، وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”چھ لوگوں پر میں نے لعنت کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ نے بھی لعنت کی ہے اور ہر اس نبی نے لعنت کی ہے جس کی دعا مستجاب ہوتی ہے: ایک اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا شخص، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا شخص، ظلم کے طور پر مسلط کیے جانے والا حکمران تاکہ وہ حکومت کے ذریعے اس شخص کو ذلیل کرے جسے اللہ تعالیٰ نے عزت عطا کی ہے اور اس شخص کو عزت دے جسے اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کو حلال قرار دینے والا شخص، اور میری عترت کے بارے میں اس چیز کو حلال قرار دینے والا شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اور میری سنت کو چھوڑنے والا شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5749]

5750

Sahih Ibn Hibban #5750

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ الْمُذَكَّرَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَالْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مردوں کے ساتھ مشابہت رکھنے والی خواتین اور خواتین کے ساتھ مشابہت رکھنے والے مردوں پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5750]

5751

Sahih Ibn Hibban #5751

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس شخص پر لعنت کی ہے جو عورتوں کا سا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی ہے جو مردوں کا سا لباس پہنتی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5751]

5752

Sahih Ibn Hibban #5752

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، وَسَأَلَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کا لباس پہنتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5752]