Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 50 · Chapter 3

Book of Slaughtering

Hadith 5677–5710

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5677

Sahih Ibn Hibban #5677

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ : مَا كَانَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : كَانَيَخِيطُ ثَوْبَهُ ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: ”آپ اپنے کپڑے سی لیتے تھے، اپنے جوتے کو گانٹھ لیتے تھے اور وہ سارے کام کر لیتے تھے جو مرد گھروں میں کر لیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5677]

5678

Sahih Ibn Hibban #5678

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً يَرْفَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً ، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ ، وَمَنْ يَتَكَبَّرْ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً ، يَضَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً ، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ بَابٌ وَلا كُوَّةٌ ، لَخَرَجَ مَا غَيَّبَهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً " : يُرِيدُ بِهِ مَنْ تَوَاضَعَ لِلْمَخْلُوقِينَ فِي اللَّهِ ، فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ ، وَقَوْلُهُ : " وَمَنْ تَكَبَّرَ " : أَرَادَ بِهِ عَلَى خَلْقِ اللَّهِ ، فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ ، إِذِ الْمُتَكَبِّرُ عَلَى اللَّهِ كَافِرٌ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجے کی تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اعلیٰ علیین میں شامل کر دیتا ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک درجے کا تکبر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے یہاں تک کہ اسے اسفل سافلین میں شامل کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی سالم چٹان کے اندر کوئی عمل کرے جس کا کوئی دروازہ اور کوئی کھڑکی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو بھی ظاہر کر دے گا، جسے آدمی نے لوگوں سے چھپایا ہوا تھا خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے مخلوق کے ساتھ تواضع اختیار کرتا ہے، تو اس میں لفظ مخلوق محذوف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص تکبر کرتا ہے“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرتا ہے، یہاں پر بھی لفظ مخلوق محذوف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تکبر کرنے والا شخص، تو کافر ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5678]

5679

Sahih Ibn Hibban #5679

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ مُسْتَكْبِرٍ جَوَّاظٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کیا میں اہل جنت کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ ہر کمزور اور غریب شخص (جنتی ہے)، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کر دے اور ہر متکبر اور سخت مزاج شخص جہنمی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5679]

5680

Sahih Ibn Hibban #5680

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ اثْنَانِ : أَحَدُهُمَا وَهُوَ الَّذِي نَوَّعْنَا لَهُ النَّوْعَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " : أَرَادَ بِهِ جَنَّةً عَالِيَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُتَكَبِّرِينَ ، وَقَوْلُهُ : " وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " : أَرَادَ بِهِ نَارًا سَافِلَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَصْلاً مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، أَرَادَ بِالْكِبْرِ : الشِّرْكَ ، إِذِ الْمُشْرِكُ لا يَدْخُلُ جَنَّةً مِنَ الْجِنَّانِ أَصْلاً ، وَقَوْلُهُ : " لا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلِ مِنْ إِيمَانٍ " : أَرَادَ بِهِ عَلَى سَبِيلِ الْخُلُودِ ، حَتَّى يَصِحَّ الْمَعْنَيَانِ مَعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا، ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہوگا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، اس میں سے ایک وہ ہے جسے ہم نے ایک نوع میں بیان کیا ہے، پھر ”جنت میں ایسا شخص داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے وزن کے جتنا تکبر ہو“ اس کے ذریعے جنت کا بلند درجہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو تکبر نہیں کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان موجود ہو“ اس کے ذریعے جہنم کا وہ نیچے والا حصہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو مسلمان نہیں ہوں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے: جنت میں سرے سے کوئی ایسا شخص داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا اور یہاں تکبر سے مراد شرک ہے کیونکہ مشرک شخص سرے سے جنت میں کبھی بھی داخل نہیں ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ہمیشہ کے لیے ایسا نہیں ہوگا، اس طرح سے دونوں مفہوم درست ہوجائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5680]

5681

Sahih Ibn Hibban #5681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاءِ ، لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جو شخص تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو لٹکاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5681]

5682

Sahih Ibn Hibban #5682

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَكْرَهُ جَرَّ الإِزَارِ ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ أَهْلِهَا ، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ ، وَضَرْبَ الْكِعَابِ ، وَالصُّفْرَةَ ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ ، وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَالرُّقَى ، إِلا بِالْمُعَوِّذَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”تہبند لٹکانے کو اور (خواتین کے) اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لیے زینت ظاہر کرنے کو اور عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے، پانسہ کھیلنے، پیتل (کی انگوٹھی پہننے یا زرد رنگ استعمال کرنے) اور بالوں کی رنگت تبدیل کرنے کو اور تعویذ لٹکانے کو اور دم کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ «مُعَوِّذَات» (یعنی معوذتین یا پناہ والی دعاؤں) کا حکم مختلف ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5682]

5683

Sahih Ibn Hibban #5683

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَشُعْبَةُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ عَشْرًا : تَغْيِيرَ الشَّيْبِ ، وَخَاتَمَ الذَّهَبِ ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ ، وَالرُّقَى إِلا بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَالتَّمَائِمَ ، وَجَرَّ الإِزَارِ ، وَالصُّفْرَةَ ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا ، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے: ”سفید رنگ (کے بالوں کی رنگت) تبدیل کرنے، سونے کی انگوٹھی پہننے، پانسہ کھیلنے، دم کرنے، تعویذ لٹکانے، تہبند لٹکانے، زرد (رنگ)، ناجائز طور پر زینت ظاہر کرنے اور پانی (یعنی مادہ تولید) کو اس کے مخصوص مقام سے الگ کرنے (ان سب کاموں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5683]

5684

Sahih Ibn Hibban #5684

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنَّكَ تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ فِي حُلَّتِي هَذِهِ ؟ فَقَالَ : لَوْلا مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيَّ فِي الْكِتَابِ ، مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ ، سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّرَجُلاً مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ ، إِذْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الأَرْضَ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں؛ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اس حلہ کے بارے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اگر وہ حکم نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان کیا ہے تو میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہ کرتا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تکبر کے ساتھ چل رہا تھا، اس کے بالوں اور چادروں نے اسے خود پسندی کا شکار کیا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں دھنستا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5684]

5685

Sahih Ibn Hibban #5685

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا الرُّوحَ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ حُلْمًا كَاذِبًا ، كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَيُعَذَّبُ عَلَى ذَلِكَ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص تصویر بنائے گا اسے یہ عذاب دیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے، اسے یہ عذاب دیا جائے گا اور جو شخص چھپ کر کسی کی باتیں سنے گا جب کہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5685]

5686

Sahih Ibn Hibban #5686

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ مِنْهُ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ اسے اس تصویر میں روح پھونکنی پڑے گی اور وہ نہیں پھونک سکے گا، جو شخص لوگوں کی بات سنے گا حالانکہ وہ لوگ اسے بات نہ سنانا چاہتے ہوں، اس کے کانوں میں قیامت کے دن سیسہ ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5686]

5687

Sahih Ibn Hibban #5687

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلا تَجَسَّسُوا ، وَلا تَحَسَّسُوا ، وَلا تَحَاسَدُوا ، وَلا تَنَافَسُوا ، وَلا تَبَاغَضُوا ، وَلا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادًا لِلَّهِ إِخْوَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے، ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو، ایک دوسرے کے پوشیدہ معاملات جاننے کی کوشش نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے دوری اختیار نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5687]

5688

Sahih Ibn Hibban #5688

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ ، فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ ، وَإِلا فَلْيَضْطَجِعْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، اگر اس کا غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے لیٹ جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5688]

5689

Sahih Ibn Hibban #5689

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابن عَمٍّ لَهُ وَهُوَ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلاً يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ، وَأَقْلِلْ لَعَلِّي لا أُغْفِلُهُ ، قَالَ : لا تَغْضَبْ " فَعَادَ لَهُ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَغْضَبْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس رحمہ اللہ اپنے چچا سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بیان کیجیے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دے اور مختصر بات بتائیے گا تاکہ میں اس سے غفلت کا شکار نہ ہو جاؤں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا تَغْضَبْ» ”تم غصہ نہ کرنا۔“ انہوں نے کئی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ انہیں یہی جواب دیتے رہے: ”تم غصہ نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5689]

5690

Sahih Ibn Hibban #5690

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِي قَوْلاً وَأَقْلِلْ ، قال : لا تَغْضَبْ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، قَالَ : " لا تَغْضَبْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَغْضَبْ " ، أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الْغَضَبِ مِمَّا نَهَيْتُكَ عَنْهُ ، لا أَنَّهُ نَهَاهُ عَنِ الْغَضَبِ ، إِذِ الْغَضَبُ شَيْءٌ جِبِلَّةٌ فِي الإِنْسَانِ ، وَمُحَالٌ أَنْ يُنْهَى الْمَرْءُ عَنْ جِبِلَّتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا ، بَلْ وَقَعَ النَّهْيُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَمَّا يَتَوَلَّدُ مِنَ الْغَضَبِ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیں اور مختصر بات عنایت کیجیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم غصہ نہ کرنا۔“ ان صاحب نے دوبارہ آپ سے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی فرمایا: ”تم غصہ نہ کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم غصہ نہ کرنا“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ غصے میں آنے کے بعد تم کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ غصہ انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ آدمی کو اس کی فطرت میں شامل موجود کسی چیز سے منع کیا جائے، بلکہ یہ ممانعت اس چیز کے بارے میں ہے جو غصے کے نتیجے میں سامنے آتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5690]

5691

Sahih Ibn Hibban #5691

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَقُولُونَ فِي الصُّرَعَةِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : الَّذِي لا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : الصُّرَعَةُ الَّذِي يُمْسِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم پچھاڑ دینا کسے کہتے ہو؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یہ کہ آدمی دوسروں کو پچھاڑ دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھڑنا (یا طاقت) یہ ہے کہ آدمی غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5691]

5692

Sahih Ibn Hibban #5692

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ ، وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيلأَعْلَمُ كَلِمَةً ، لَوْ قَالَهَا ، لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ : أَلا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کی بحث ہو گئی، ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک شخص نے غصے کے عالم میں اپنے ساتھی کو برا کہنا شروع کیا، اس شخص کا چہرہ سرخ ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے ایک ایسے کلمے کے بارے میں پتہ ہے اگر یہ اسے پڑھ لے تو اسے جو غصہ آ رہا ہے وہ ختم ہو جائے گا، وہ کلمہ «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“ ہے۔“ لوگوں نے اس شخص سے کہا: کیا تم نے سنا نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا ہے؟ تو اس نے کہا: میں پاگل نہیں ہوں۔ (یعنی میں نے سن لیا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5692]

5693

Sahih Ibn Hibban #5693

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَثْقَلَ مَا وُضِعَ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، خُلُقٌ حَسَنٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں لکھی جانے والی سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے اور اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5693]

5694

Sahih Ibn Hibban #5694

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُصَلِّي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَقَالَ : تُصَلِّي إِلَى قَبْرِهِ ؟ ! فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلاً قَبِيحًا ، ثُمَّ أَدْبَرَ ، فَانْصَرَفَ أُسَامَةُ ، فَقَالَ : يَا مَرْوَانُ ، إِنَّكَ آذَيْتَنِي ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ "، وَإِنَّكَ فَاحِشٌ مُتَفَحِّشٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، مروان بن حکم آیا، تو اس نے دریافت کیا کہ آپ قبر کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے ہیں؟ تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ مروان نے انہیں بری بات کہی، پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نماز ختم کی اور بولے: تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ فحش گفتگو کرنے والے اور بدزبانی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے“ اور تم فحش گفتگو کرنے والے اور بدزبانی کرنے والے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5694]

5695

Sahih Ibn Hibban #5695

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَثْقَلَ مَا وُضِعَ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں رکھی جانے والی سب سے وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے اور بے شک اللہ تعالیٰ فحش گفتگو کرنے والے اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5695]

5696

Sahih Ibn Hibban #5696

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نيار ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلاً اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : بِئْسَ الرَّجُلُ ، أَوْ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، كَلَّمَتْهُ عَائِشَةُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ : بِئْسَ الرَّجُلُ ، أَوْ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ،شَرُّ النَّاسِ مَنْ يَتَّقِي النَّاسُ فُحْشَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ برا شخص ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے“ جب وہ شخص اندر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ خوش اخلاقی کی، جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کہا تھا: ”یہ برا شخص ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے“ لیکن جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہوتا ہے جس کی بدزبانی سے لوگ بچنے کی کوشش کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5696]

5697

Sahih Ibn Hibban #5697

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ ، الأَلَدُّ الْخَصِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5697]

5698

Sahih Ibn Hibban #5698

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ ، أَنَّ جَدَّهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " هَذَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ کہو میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر (اس پر) استقامت اختیار کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5698]

5699

Sahih Ibn Hibban #5699

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قَلتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَعْنَى فِي أَخْذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَانَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ : " هَذَا " وَقَدْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَقُولَ : اللِّسَانُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْخُذَ لِسَانَهُ ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَالِمًا بِالْعِلْمِ الَّذِي كَانَ يُعِلِّمُ النَّاسَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْبِقَ نَفْسَهُ إِلَى الْعَمَلِ بِالْعِلْمِ الَّذِي اسْتُعْلِمَ ، فَعَلِمَ بِأَنَّهُ أَخْبَرَ السَّائِلَ بِأَنَّ أَخْوَفَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ أَنْ يُورِدَ صَاحِبَهُ الْمَوَارِدَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْبِضَ عَلَيْهِ ، وَلا يُطْلِقَهُ ، فَعَمِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ يَعْلَمُهُ أَوَّلا حَتَّى يُفَصِّلَ مَوَاضِعَ الْعِلْمِ وَالتَّعْلِيمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ کہو میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر استقامت اختیار کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا اندیشہ ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور پھر ارشاد فرمایا: ”اس کا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی زبان پکڑنا اور یہ فرمانا: ”یہ۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ ”زبان“ ارشاد فرمانا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کے بارے میں علم تھا جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تعلیم دینی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کے بارے میں عمل کرنے کے حوالے سے پہلے اپنی ذات سے آغاز کیا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو یہ بات بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ زبان والا شخص مشکل میں پھنس سکتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھے اسے کھلا نہ چھوڑے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کی تعلیم دینی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس پر خود عمل کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم اور تعلیم کے مقامات کو تفصیل سے بیان کر دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5699]

5700

Sahih Ibn Hibban #5700

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَشَدُّ تَخَافُ عَلَيَّ ؟ " فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو «رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ» ”میرا پروردگار اللہ تعالیٰ اور پھر استقامت اختیار کرو۔“”راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ کس بات کا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ” «هَذَا» ”اس کا۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5700]

5701

Sahih Ibn Hibban #5701

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَتَوَكَّلْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ أَتَوَكَّلْ لَهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مجھے دو جبڑوں کے درمیان (موجود زبان) کے بارے میں ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5701]

5702

Sahih Ibn Hibban #5702

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَاعِزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيِّ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ ؟ " فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا "، مَاعِزُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، وَهُوَ مُتْقِنٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر استقامت اختیار کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ کس بات کا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور پھر فرمایا: ”اس کا۔“ ماعز نامی راوی کا نام ماعز بن عبدالرحمن ہے، یہ بات زبیدی نے بیان کی ہے اور یہ راوی متقن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5702]""

5703

Sahih Ibn Hibban #5703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ وُقِيَ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَرِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو دو جبڑوں کے درمیان (موجود زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان (موجود شرم گاہ) کے شر سے بچا لیا گیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5703]

5704

Sahih Ibn Hibban #5704

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذُرَيْحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ، وَالْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ، وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بدزبانی جفا کا حصہ ہے اور جفا جہنم میں لے جاتی ہے، حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5704]

5705

Sahih Ibn Hibban #5705

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ بِاللاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص «اللَّاتِ» اور «الْعُزَّىٰ» کی قسم اٹھاتا ہے اسے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھنا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہتا ہے: آؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں اسے کوئی چیز صدقہ کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5705]

5706

Sahih Ibn Hibban #5706

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی کوئی بات کرتا ہے، جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، لیکن وہ اس بات کی وجہ سے ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5706]

5707

Sahih Ibn Hibban #5707

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی (بعض اوقات) کوئی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں اس سے زیادہ گہرائی میں گرے گا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5707]

5708

Sahih Ibn Hibban #5708

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَثَبَّتُ فِيهَا ، يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بعض اوقات بندہ کوئی بات کہتا ہے، جسے وہ بڑی بات نہیں سمجھتا، لیکن وہ اس کی وجہ سے جہنم میں اتنی گہرائی میں گرے گا جو اس سے زیادہ ہوگی جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5708]

5709

Sahih Ibn Hibban #5709

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ ، قَالَ : كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ،فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا بِلَقَبِهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ ، قَالَ : وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، حَتَّى أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ ، فَأَمْسَكُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ضحاک بن ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کے القاب ہوتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص اسے ناپسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ﴾ [سورة الحجرات: 11] ”ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (کسی کے) ایمان لانے کے بعد اسے فاسق کہنا برا نام ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ معمول تھا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا وہ صدقہ کیا کرتے تھے اور عطیات دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ انہیں قحط سالی لاحق ہوئی تو انہوں نے ایسا کرنا ختم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ لے جاؤ اور اچھائی کرو بیشک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5709]

5710

Sahih Ibn Hibban #5710

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكُ ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُرِيدُ بِهِ عَلَى صُورَةِ الَّذِي قِيلَ لَهُ : قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ مِنْ وَلَدِهِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخَطَّابَ لِبَنِي آدَمَ دُونَ غَيْرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ " ، لأَنَّ وَجْهَ آدَمَ فِي الصُّورَةِ تُشْبِهُ صُورَةَ وَلَدِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص یہ بات ہرگز نہ کہے: اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے اور اس چہرے کو قبیح کرے جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد اس آدمی کی صورت ہے جس سے یہ کہا گیا ہے: اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے، جو سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے، اور اس بات کی دلیل کہ یہاں خطاب اولادِ آدم کو ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”اور اس چہرے کو جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے،“ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کا چہرہ ان کی اولاد کی شکل و صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5710]