Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 50 · Chapter 2

Book of Slaughtering

Hadith 5637–5676

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5637

Sahih Ibn Hibban #5637

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ السَّرِيرِ فِي بَيْتِهِ ، فَإِذَا حَيَّةٌ ، فَقُمْتُ لأَقْتُلَهَا ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ ، وَقَالَ : تَرَى هَذَا الْبَيْتَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ ، وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ لَهُ : خُذْ سِلاحَكَ ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ ، فَأَخَذَ سِلاحَهُ ثُمَّ ذَهَبَ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ بَيْنَ الْبَابَيْنِ ، فَهَيَّأَ لَهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا بِهِ ، وَأَصَابَتْهُ الْغَيْرَةُ ، فَقَالَتِ : اكْفُفْ عَنْكَ رُمْحَكَ حَتَّى تَرَى مَا فِي بَيْتِكَ ، فَدَخَلَ ، فَإِذَا حَيَّةٌ عَظِيمَةٌ مُنْطَوِيَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا ، فَانْتَظَمَهَا فِيهِ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِ ، فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ ، وَخَرَّ الْفَتَى صَرِيعًا ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا ، الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ ، قَالَ : فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، وَقُلْنَا : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَهُ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّبِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَآذِنُوهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَاقْتُلُوهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ میں ان کی نماز ختم ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے ان کے گھر میں پلنگ کے نیچے کسی چیز کی حرکت کرنے کی آواز سنی تو وہ ایک سانپ تھا۔ میں اسے مارنے کے لیے اٹھنے لگا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں موجود کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: تم اس کمرے کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: اس میں ہم میں سے ایک نوجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ نوجوان دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلا جاتا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنا ہتھیار ساتھ لے کر جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے اندیشہ ہے“۔ اس نے اپنا ہتھیار لیا اور چلا گیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی دروازے سے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے وہ نیزہ اسے مارنے کا ارادہ کیا، اسے غصہ آ گیا تھا۔ اس خاتون نے کہا: اپنے نیزے کو روک لو پہلے یہ دیکھ لو گھر کے اندر کیا ہے۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو وہاں ایک بڑا سا سانپ موجود تھا جو فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ شخص اس سانپ کی طرف بڑھا، اس نے اس نیزے میں اس کو پرو دیا پھر وہ اسے لے کر باہر آیا اور اس نے صحن میں اسے گاڑ دیا۔ نیزے کے سرے پر موجود سانپ میں حرکت ہوئی۔ (اس نے نوجوان کو ڈس لیا تو نوجوان تیزی سے نیچے گرا یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ دونوں میں سے کون پہلے مرا ہے وہ نوجوان یا وہ سانپ)، راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ ہم نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ اس نوجوان کو زندہ کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کے لیے دعائے مغفرت کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ منورہ میں کچھ جنات رہتے ہیں جو مسلمان ہو چکے ہیں، جب تم ان میں سے کسی کو (سانپ کی شکل میں) دیکھو تو اسے تین دن تک آگاہ کرو، اگر اس کے بعد وہ تمہارے سامنے آئے تو اسے مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5637]

5638

Sahih Ibn Hibban #5638

قَالَ ابْنُ وَهْبٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، وَقَالَ : فَمَنْ وَجَدَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَلَمْ يَقْتُلْهُمَا ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو مار دو (بطور خاص) دو دھاری دم کٹے ہوئے (کو ضرور مارو) کیونکہ یہ بینائی کو ختم کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ ابن وہب کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص دو دھاری یا دم کٹے ہوئے سانپ کو پائے اور اسے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5638]

5639

Sahih Ibn Hibban #5639

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھروں میں موجود سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5639]

5640

Sahih Ibn Hibban #5640

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْحَيَّاتُ مِنْ مَسْخِ الْجَانِّ ، كَمَا مُسِخَتِ الْخَنَازِيرُ وَالْقِرَدَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکل ہے جس طرح خنزیر بندر مسخ شدہ (مخلوق) ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5640]

5641

Sahih Ibn Hibban #5641

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ هَوَامٌّ مِنَ الْجِنِّ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ، فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ رَآهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلْيَقْتُلْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ شَيْطَانٌ "، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى : هُوَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى صَاحِبِ الشَّافِعِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنات سے تعلق رکھنے والے یہ جانور (یعنی سانپ) جب ان میں سے کوئی شخص اسے اپنے گھر میں دیکھے تو وہ تین مرتبہ اسے تنبیہ کرے، وہ اس کے بعد بھی اسے دیکھے تو اسے مار دے کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔“ محمد بن ابویحییٰ نامی راوی ابراہیم بن محمد بن ابویحییٰ کے والد ہیں، جو امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5641]

5642

Sahih Ibn Hibban #5642

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو مار دو، بطورِ خاص دو دھاری والے اور دم کٹے ہوئے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5642]

5643

Sahih Ibn Hibban #5643

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا كُنْتُ أَدَعُ حَيَّةً إِلا قَتَلْتُهَا ، حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً مِنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ ، فَنَهَيَانِي عَنْ قَتْلِهَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ ، فَقَالا : إِنَّهُ " نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”سانپوں کو مار دو، (بطورِ خاص) دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے جو بھی سانپ نظر آتا تھا، میں اسے مار دیتا تھا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمندر اور سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا، میں اس وقت گھر میں نکل آنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا، انہوں نے مجھے اسے مارنے سے منع کر دیا۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکل آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5643]

5644

Sahih Ibn Hibban #5644

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ ، يَعْنِي الْحَيَّاتَ ، وَمَنْ تَرَكَ قَتْلَ شَيْءٍ مِنْهُنَّ خِيفَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سے ہم نے ان سے لڑائی شروع کی ہے ہم نے انہیں سالم نہیں رہنے دیا۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی سانپوں کے بارے میں آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی) اور جو شخص خوف کی وجہ سے ان میں سے کسی ایک کو مارنے کو ترک کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5644]

5645

Sahih Ibn Hibban #5645

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا ، حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ يُطَارِدُ حَيَّةً ، فَقَالَ : إِنَّهُ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو اور دو دھاری سانپ اور دم کٹے ہوئے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر طرح کے سانپ مار دیتے تھے، یہاں تک کہ ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سانپ کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھروں میں رہنے والے سانپوں (کو مارنے سے) منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5645]

5646

Sahih Ibn Hibban #5646

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَعُقَيْلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْقَتْلِ أَرْبَعَةٍ : الْهُدْهُدِ ، وَالصُّرَدِ ، وَالنَّمْلَةِ ، وَالنَّحْلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چار جانوروں کو مارنے سے منع کیا ہے: ہدہد، صرد، چیونٹی اور شہد کی مکھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5646]

5647

Sahih Ibn Hibban #5647

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ تَحْتَهَا ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ ، فَتُحْرَقَ عَلَى مَنْ فِيهَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : هَلا نَمْلَةً وَاحِدَةً "، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : وَقَالَ الأَشْعَثُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَزَادَ : " فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا۔ اس درخت کے نیچے ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا تو ان کے حکم کے تحت چیونٹیوں کے بلوں کو آگ لگا دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”کیا (تمہیں کاٹنے والی) صرف ایک چیونٹی نہیں تھی؟“ ایک اور سند کے ساتھ یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”یہ چیونٹیاں تسبیح کیا کرتی تھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5647]

5648

Sahih Ibn Hibban #5648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالا : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَبِقَتْلِ الْكِلابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ: ”آپ نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5648]

5649

Sahih Ibn Hibban #5649

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا ، قَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ ، فَلَمْ يَلْقَنِي ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي ، قَالَتْ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً ، فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ كُنْتَوَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلا صُورَةٌ "، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلابِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھے تو پریشان تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ گزشتہ رات مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے، اللہ کی قسم وہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دن اسی عالم میں (یعنی پریشانی کے عالم میں) گزار دیا، پھر آپ کے ذہن میں کتے کے اس بچے کا خیال آیا جو ہمارے بستر کے نیچے تھا، آپ کے حکم کے تحت اسے باہر نکال دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اس جگہ پر پانی چھڑکا، شام کے وقت سیدنا جبرائیل آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا گزشتہ رات تم مجھ سے ملنے کے لیے آؤ گے۔“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ (کے محافظ) کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا، البتہ بڑے باغ (کے محافظ) کتے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5649]

5650

Sahih Ibn Hibban #5650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلا مَاشِيَةٍ ، وَلا حَرْثٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی ایسا کتا پالتا ہے جو شکار کرنے کے لیے یا دوسرے جانور کی حفاظت کے لیے ہو تو اس کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5650]

5651

Sahih Ibn Hibban #5651

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلابِ ، حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدُمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِالْكَلْبِ ، فَتَقْتُلُهُ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا ، وَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مار دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ اگر کوئی عورت دیہات سے کتا ساتھ لے آتی تو اسے بھی مار دیا جاتا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مارنے سے منع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو ضرور مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5651]

5652

Sahih Ibn Hibban #5652

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، إِلا كَلْبَ حَرْثٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کتا پالتا ہے اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے، البتہ کھیت یا جانوروں (کی حفاظت کے لیے پالے جانے والے کتے کی اجازت ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5652]

5653

Sahih Ibn Hibban #5653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلا كَلْبَ ضَارِيَةٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کتا پالتا ہے جو کھیت یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، وہ اس کے اجر میں سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5653]

5654

Sahih Ibn Hibban #5654

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا إِلا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی ایسا کتا پالتا ہے جو کھیت یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5654]

5655

Sahih Ibn Hibban #5655

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ بھی ایسا کتا پالتے ہیں جو شکار کرنے کے لیے، یا کھیت کی حفاظت کے لیے، یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5655]

5656

Sahih Ibn Hibban #5656

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ ، وَمَعَنَا شُعْبَةُ ، فَلَمَّا دُفِنَ ، قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى قَبْرِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا " ؟فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ ، وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ حَدَّثَنِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، وَأَوْمَأَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَامِعِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ أَبِي سُفْيَانَ : سَعْدٌ ، وَلَقَبُهُ سُلْسٌ ، وَلَيْسَ لأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ فِي الدُّنْيَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرَ هَذَا ، وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلاءِ اسْمُهُ زَبَّانُ ، وَهُمْ أَرْبَعَةٌ : أَبُو مُعَاذٍ ، وَعُمَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سید بن عبید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ابوسفیان بن علاء کے جنازے میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ شعبہ بھی تھے، جب ابوسفیان کو دفن کر دیا گیا تو شعبہ نے ابوسفیان کی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا: ان صاحب نے مجھے حدیث بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں: میں نے حسن سے کہا: آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا۔“ تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے، اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، انہوں نے اس مسجد میں مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، حسن نے جامع مسجد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسفیان نامی راوی کا نام سعد ہے اور ان کا لقب ”سلس“ ہے، ابوسفیان بن علاء کے حوالے سے دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث موجود نہیں ہے، یہ ابوعمرو بن علاء کے بھائی تھے اور عمرو بن علاء کا نام زبان تھا، یہ چار بھائی تھے، (ان کے علاوہ دو بھائیوں کے نام) ابومعاذ اور عمر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5656]

5657

Sahih Ibn Hibban #5657

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ ، قَالَ : وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ، قَالَ : وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا، البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دیا کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ کوئی ایسا کتا پالتے ہیں جو کھیت کی حفاظت یا شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر سکتے ہیں، البتہ ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کریں کیونکہ ”وہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5657]

5658

Sahih Ibn Hibban #5658

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، وَلَكِنِ اقْتُلُوا الْكَلْبَ الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا، البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5658]

5659

Sahih Ibn Hibban #5659

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الْحَرْثِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھیت (کی حفاظت کے لیے) کتا پالنے کی اجازت دی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5659]

5660

Sahih Ibn Hibban #5660

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَبَاغَضُوا ، وَلا تَحَاسَدُوا ، وَلا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادًا لِلَّهِ إِخْوَانًا ، وَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، آپس میں حسد نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلق رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5660]

5661

Sahih Ibn Hibban #5661

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِكُلِّ عَبْدٍ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلا رَجُلا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کی مغفرت کر دیتا ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، صرف اس آدمی کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو۔ یہ حکم دیا جاتا ہے: ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو جب تک یہ صلح نہیں کرتے (ان کی مغفرت نہیں ہو گی)، ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو جب تک یہ صلح نہیں کرتے (ان کی مغفرت نہیں ہو گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5661]

5662

Sahih Ibn Hibban #5662

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ : وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ ، أَوْ لأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ : إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرًا أَنْ لا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا ، فَاسْتَشْفَعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا لَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ لا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا ، وَلا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، فَقَالَ لَهُمَا : نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ إِلا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ فِي قَطِيعَتِي ، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَقَدِ اشْتَمَلا عَلَيْهِ بِبُرْدَيْهِمَا ، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالا : السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِيهٍ نَدْخُلُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : ادْخُلا ، فَقَالا : كُلُّنَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ ، وَلا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا ، اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ ، وَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَاعْتَنَقَهَا ، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي ، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ ، وَيَقُولانِ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا عَلِمْتِيهِ ، وَإِنَّهُلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ، فَلَمَّا أَكْثَرَا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ ، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي ، وَتَقُولُ : إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ ، فَلَمْ يَزَالا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ عَنْ نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَائِشَةُ هِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لأَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُخْتُ عَائِشَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عوف بن حارث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی عزیز ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ فروخت کرنے پر یا عطیے کے طور پر کوئی چیز دینے پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم! یا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایسا کرنے سے باز آ جائیں گی یا میں انہیں تصرف کرنے سے روک دوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے، اب میں عبداللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں سے کہا کہ میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے جائیں کیونکہ ان کے لیے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں۔ تو مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پر ڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان دونوں نے کہا کہ «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام نازل ہو“ اے ام المؤمنین! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی کہ کیا ہم سب آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا پتا نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا اور وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینے لگے۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا کہ آپ نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ ”کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے۔“ جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ وعظ و نصیحت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یاد دلانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کیے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھیں یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5662]""

5663

Sahih Ibn Hibban #5663

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِمَنْ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا الْمُتَهَاجِرَيْنِ ، يَقُولُ : رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے ان دو افراد کے جو ایک دوسرے سے لاتعلق ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کے معاملے کو یوں ہی رہنے دو جب تک یہ آپس میں صلح نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5663]

5664

Sahih Ibn Hibban #5664

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاثٍ ، وَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا كَانَا عَلَى صِرَامِهِمَا ، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ سَلامَهُ ، رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ ، وَرَدَّ عَلَى الآخَرِ الشَّيْطَانُ ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلا الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ " : يُرِيدُ بِهِ : إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلِ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِمَا بِالْعَفْوِ عَنْ إِثْمِ صِرَامِهِمَا ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہے وہ جب تک اپنی ناراضگی پر ثابت رہتے ہیں۔ اس وقت تک حق سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو شخص ان میں سے (ناراضگی ختم کرنے میں) پہل کرتا ہے تو اس کا پہل کرنا اس کا کفارہ بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے شخص کو سلام کرے اور دوسرا شخص اس کے سلام کو قبول نہ کرے تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو شیطان سلام کا جواب دیتا ہے اگر وہ دونوں اپنی ناراضگی پر مسلسل رہیں تو وہ دونوں جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اگر اللہ تعالیٰ ان کی اس ناراضگی پر اپنے فضل کے تحت معافی نہ فرمائے۔ (تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے) [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5664]

5665

Sahih Ibn Hibban #5665

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، وَابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَطْلُعُ اللَّهُ إِلَى خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور شرک کرنے والے اور قطع تعلقی کرنے والے کے علاوہ ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5665]

5666

Sahih Ibn Hibban #5666

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمِ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلا رَجُلاً كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہر اس مسلمان بندے کی مغفرت فرما دیتا ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو، تو یہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کا معاملہ مؤخر کر دو جب تک یہ صلح نہیں کرتے، ان دونوں کا معاملہ مؤخر کر دو جب تک یہ دونوں صلح نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5666]

5667

Sahih Ibn Hibban #5667

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ، إِلا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا فِي الْمُوَطَّأِ مَوْقُوفٌ مَا رَفَعَهُ عَنْ مَالِكٍ إِلا ابْنُ وَهْبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر ہفتے میں دو مرتبہ لوگوں کے اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر مومن شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ ماسوائے اس بندے کے جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو تو یہ حکم دیا جاتا ہے: ان دونوں کے معاملے کو یوں ہی رہنے دو جب تک یہ دونوں رجوع نہیں کر لیتے۔ (یعنی صلح نہیں کر لیتے۔)“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ”موطا“ میں موقوف روایت کے طور پر منقول ہے، امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف ابن وہب نے نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5667]

5668

Sahih Ibn Hibban #5668

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلا رَجُلاً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر ایسے مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو، تو یہ حکم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے معاملے کو مؤخر کر دو جب تک یہ دونوں صلح نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5668]

5669

Sahih Ibn Hibban #5669

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلق رہے، جب یہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں سے زیادہ بہتر وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5669]

5670

Sahih Ibn Hibban #5670

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلق رہے، یوں کہ جب وہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے، ان دونوں میں سے زیادہ بہتر وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5670]

5671

Sahih Ibn Hibban #5671

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلا : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا ، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5671]

5672

Sahih Ibn Hibban #5672

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِالأَبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ ، أَدْخَلْتُهُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں داخل کر دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5672]

5673

Sahih Ibn Hibban #5673

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَحْفِزُ عَلَى رُكْبَتِهِ ، وَلا يَتَّكِئُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھتے تھے، آپ ٹیک نہیں لگایا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5673]

5674

Sahih Ibn Hibban #5674

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جَالِسٌ قَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي ، وَاتَّكَأْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ؟ "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى الأَرْضِ وَرَاءَ ظَهْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھ کر اس کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس طرح بیٹھے ہوئے ہو جس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جن پر غضب نازل کیا گیا؟“ ابن جریج نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: انہوں نے اپنی ہتھیلیاں اپنی پشت کے پیچھے زمین پر رکھی ہوئی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5674]

5675

Sahih Ibn Hibban #5675

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ : مَا كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : مَا كَانَ إِلا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ ، كَانَ يَفْلِي ثَوْبَهُ ، وَيَحْلِبُ شَاتَهُ ، وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کیا کرتے تھے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عام انسان کی طرح اپنے کپڑے دھو لیتے تھے، اپنی بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور اپنے کام خود کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5675]

5676

Sahih Ibn Hibban #5676

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأَبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيُّ شَيْءٍ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ ؟ قَالَتْ : مَا يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ، يَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ ، وَيَرْقَعُ دَلْوَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: اے ام المؤمنین! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاں موجود ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: وہی کچھ جو تم میں سے کوئی بھی شخص کام کاج کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے، اپنے کپڑے سی لیتے تھے اور اپنے ڈول کی مرمت کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5676]