Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 50 · Chapter 1

Book of Slaughtering

Hadith 5597–5636

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5597

Sahih Ibn Hibban #5597

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ ، فَلا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ "، قَالَ : فَنَمَيْتُ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنْ سَلَ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ ، فَإِنَّهُ رِضًا ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ ، فَمَنَعَ النِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند پہن کر حمام میں داخل ہو، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے، اور تمہاری خواتین میں سے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں داخل نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی تو انہوں نے ابو بکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے۔ ابو بکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، پھر انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط میں لکھا، تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5597]

5598

Sahih Ibn Hibban #5598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ، وَإِنَّهَا لا تَكُونُ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ أَقْرَبَ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ نکلتی ہے، تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سب سے زیادہ مقرب اس وقت ہوتی ہے، جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5598]

5599

Sahih Ibn Hibban #5599

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ، وَأَقْرَبُ مَا تَكُونُ مِنْ رَبِّهَا ، إِذَا هِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت پردے کی چیز ہے، جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے، عورت اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5599]

5600

Sahih Ibn Hibban #5600

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى ، وَاشْتَكَى أَصْحَابُهُ ، وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَبِلالٌ ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ لأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَسَأَلَتْ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ ، وَسَأَلَتْ بِلالاً ، فَقَالَ : أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ :" اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا ، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ "، وَهِيَ الْجُحْفَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ بیمار ہو گئے اور آپ کے اصحاب بھی بیمار ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی عیادت کے لیے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی، ان کو اجازت مل گئی تو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہر شخص اپنے گھر میں موجود ہوتا ہے حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: میں نے موت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہی اس کو محسوس کر لیا ہے اور بزدل شخص طبعی موت مرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے مزاج دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: ہائے افسوس! کیا میں کسی ایسے راستے میں رات بسر کروں گا جب میرے اردگرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس) ہو گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان حضرات کے جوابات کے بارے میں آپ کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور یہ دعا فرمائی: ”اے اللہ! تو مدینہ منورہ ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طرح تو نے ہمیں مکہ محبوب کیا تھا بلکہ اس سے زیادہ شدید محبوب کر دے۔ اے اللہ! یہاں کے صاع اور مد میں ہمارے لیے برکت رکھ دے اور یہاں کی وبا کو مہیعہ کی طرف منتقل کر دے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد جحفہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5600]

5601

Sahih Ibn Hibban #5601

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ "، قَالَ الشَّيْخُ : قَوْلُهُ " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ " : لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ شَيْءٍ مُضْمَرٍ فِيهِ ، وَهُوَ مُمَاسَّةُ النِّسَاءِ الرِّجَالَ فِي الْمَشْيِ ، إِذْ وَسَطُ الطَّرِيقِ الْغَالِبُ عَلَى الرِّجَالِ سُلُوكُهُ ، وَالْوَاجِبُ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ يَتَخَلَّلْنَ الْجَوَانِبَ حَذَرَ مَا يُتَوَقَّعُ مِنْ مُمَاسَّتِهِمْ إِيَّاهُنَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کو راستے کے درمیان میں چلنے کا حق نہیں ہے۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”خواتین کو راستے میں چلنے کا حق نہیں ہے۔“ اس سے مراد لفظی طور پر اطلاع دینا ہے لیکن اصل مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جو اس میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ خواتین چلتے ہوئے مردوں کے ساتھ چلیں کیونکہ عام طور پر راستے کے درمیان میں مرد ہی چلتے ہیں تو خواتین کے لیے یہ بات لازم ہے کہ وہ راستے کے اطراف میں علیحدہ ہو کر چلیں تاکہ وہ مردوں کے ساتھ لگنے سے بچ سکیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5601]

5602

Sahih Ibn Hibban #5602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا ، وَقَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ ، أَوْ غُلامًا لَمْ يَحْتَلِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو یہ ہدایت کی کہ ”وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پچھنے لگا دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی کہ یہ صاحب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا یہ کوئی ایسے لڑکے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5602]

5603

Sahih Ibn Hibban #5603

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِيبُوا الدَّاعِيَ ، وَلا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ ، وَلا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، بَنُو عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ ، كُوفِيُّونَ ثِقَاتٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دعوت قبول کرو، تحفے کو واپس نہ کرو اور مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر، یعلیٰ اور محمد نامی راوی یہ سب عبید طنافسی کے بیٹے ہیں، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5603]

5604

Sahih Ibn Hibban #5604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی کی پٹائی کرے تو (دوسرے شخص) کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5604]

5605

Sahih Ibn Hibban #5605

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُرِيدُ بِهِ صُورَةَ الْمَضْرُوبِ ، لأَنَّ الضَّارِبَ إِذَا ضَرَبَ وَجْهَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، ضَرَبَ وَجْهًا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص (کسی دوسرے کی) پٹائی کرے تو اس کے چہرے (پر مارنے سے) اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے مراد یہ ہے: جس شخص کی پٹائی ہو رہی ہے اس کی شکل (سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہے) کیونکہ جب مارنے والا شخص اپنے مسلمان بھائی کے چہرے پر مارتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اس کی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5605]

5606

Sahih Ibn Hibban #5606

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا ، أُتِيَ بِقَوْمٍ قَدِ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، أَوْ قَالَ : زَنَادِقَةٍ ، مَعَهُمْ كُتُبٌ ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ، فَأَلْقَاهُمْ فِيهَا بِكُتُبِهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا لَوْ كُنْتُ لَمْ أُحَرِّقْهُمْ ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ ، فَاقْتُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) زندیق ہو گئے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی تحریریں بھی تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت آگ جلائی گئی اور انہیں ان کی تحریروں سمیت آگ میں ڈال دیا گیا۔ اس بات کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ہوتا، تو میں انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، لیکن میں انہیں قتل کروا دیتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ (جلانے سے منع کرنے کی روایت یہ ہے): ”تم لوگ اللہ کے عذاب کے مطابق عذاب نہ دو۔“ (اور ان کو قتل کروانے کی دلیل یہ حدیث ہے): ”جو شخص اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5606]

5607

Sahih Ibn Hibban #5607

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْعَائِدِيُّ بِسَمَرْقَنْدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَمَانَا بِالنَّبْلِ ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمیں تیر مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5607]

5608

Sahih Ibn Hibban #5608

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ ، غَرَضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی ذی روح چیز کو (نشانے بازی کے لئے) نشانہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5608]

5609

Sahih Ibn Hibban #5609

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشْجِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ، سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْصَبْرِ الدَّابَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جانور کو باندھ کر (اس پر نشانہ بازی کرنے) سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5609]

5610

Sahih Ibn Hibban #5610

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ، أَنَّهُ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاجٍ مَعَ الْعَدُوِّ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ "، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ ، فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، وہاں دشمن کے ہمراہ چار اونٹ لائے گئے تو عبدالرحمٰن بن خالد کے حکم کے تحت انہیں باندھ کر نیزوں کے ذریعے قتل کر دیا گیا، اس بات کی اطلاع سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”باندھ کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے“ سنا ہے، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اگر وہ کوئی مرغی بھی ہوتی تو میں اسے بھی باندھ کر (نشانہ بازی نہ کرتا)۔ جب اس بات کی اطلاع عبدالرحمٰن بن خالد کو ملی تو انہوں نے چار غلام آزاد کیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5610]

5611

Sahih Ibn Hibban #5611

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الدَّوْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا لَقِيتُمْ هَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ ، وَنَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : لا يُعَذِّبُ بِهَا إِلا اللَّهُ ، وَلَكِنْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تمہارا ہبار بن اسود اور نافع بن عبدقیس سے سامنا ہو تو ان دونوں کو آگ میں جلا دینا۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آگ کے ذریعے عذاب صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے۔ جب تمہارا ان دونوں سے سامنا ہو تو تم ان دونوں کو قتل کر دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5611]

5612

Sahih Ibn Hibban #5612

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْكَلاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، وَجَدَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهُوَ عَلَى حِمْصَ ، شَمَّسَ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ : مَا هَذَا يَا عِيَاضُ ؟ فَإِنِّي سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن حکیم نے عیاض بن غنم رضی اللہ عنہما کو پایا، وہ حمص کے گورنر تھے۔ انہوں نے جزیہ کی وصولی کے لیے کچھ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا، تو ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عیاض! یہ کیا ہے؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (قیامت کے دن) عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5612]

5613

Sahih Ibn Hibban #5613

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، مَرَّ بِعُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ وَهُوَ يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الْجِزْيَةِ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : يَا عُمَيْرُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا "، قَالَ : اذْهَبْ ، فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عُرْوَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، وَهُوَ يُعَاتِبُ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ ، وَسَمِعَهُ أَيْضًا مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَيْثُ عَاتَبَ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ سَوَاءٌ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو جزیہ کی وجہ سے لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کرنے کی سزا دے رہے تھے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمیر! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں دوسرے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور انہیں چھوڑ دو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عروہ نے یہ روایت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما سے سنی ہے جو عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے پر ڈانٹ رہے تھے اور انہوں نے یہ روایت سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے جنہوں نے عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے پر ڈانٹا تھا، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5613]

5614

Sahih Ibn Hibban #5614

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّنَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ ، فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک چیونٹی نے کسی نبی کو کاٹ لیا تو ان کے حکم کے تحت چیونٹیوں کی بستی کو آگ لگا دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی: چیونٹی نے تمہیں کاٹا تھا، تو تم نے ایک پوری امت کو ہلاک کر دیا جو تسبیح بیان کرتی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5614]

5615

Sahih Ibn Hibban #5615

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا ، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى ، فَتَقْطَعُ آذَانَهَا ، فَتَقُولُ : هَذِهِ بُحُرٌ ، أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا ، وَتَقُولَ : هَذِهِ صُرُمٌ ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ ، سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ " : مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ مَعْرِفَةُ الْخَطَّابِ فِي الْقَصْدِ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ إِلا بِهِ ، وَقَوْلُهُ : " فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ " : لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ سَبَبِ ذَلِكَ الشَّيْءِ ، وَهُوَ اسْتِعْمَالُ الْقَوْمِ فِي الإِبِلِ قَطْعَ الآذَانِ ، وَشَقَّ الْجُلُودِ ، وَتَحْرِيمَهَا عَلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو الاحوص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ایسا ہے کہ تمہاری قوم کے اونٹ صحیح و سالم کانوں والے بچے کو جنم دیتے ہیں، پھر کوئی شخص استرا لے کر اس کا کان کاٹ دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ بحر (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص) ہے، یا وہ اس کی کھال کو چیر دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ صرم (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص ہے)، اور پھر وہ شخص اس اونٹ کو اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے حرام قرار دے دیتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں جو بھی چیز عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالیٰ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے“، یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاورے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے“، یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرنا ہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرز عمل اختیار کرنا ہے کہ وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں، پھر اسے اپنے لیے حرام قرار دے دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5615]

5616

Sahih Ibn Hibban #5616

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : إِنَّ عَبْدًا لِي أَبَقَ ، وَإِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَصَبْتُهُ ، لأَقْطَعَنَّ يَدَهُ ، قَالَ : لا تَقْطَعْ يَدَهُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا ، فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا ایک غلام مفرور ہو گیا ہے، میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر وہ مجھے مل گیا تو اس کے ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹنا، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5616]

5617

Sahih Ibn Hibban #5617

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو جانور کا مثلہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5617]

5618

Sahih Ibn Hibban #5618

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقَدْقُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامَهُ ، وَهَذَا خَلْفَهُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں) ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو ایک خچر پر سوار کروا کے لے جا رہا تھا، یہاں تک کہ میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے اندر آیا۔ (سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما میں سے) ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بیٹھے ہوئے تھے، دوسرے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5618]

5619

Sahih Ibn Hibban #5619

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً ، وَلا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فَمَعْنَاهُ أَنَّهُ لا يَسِيرُ بِهَا ، وَلا يَنْزِلُ عَنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ان جانوروں پر سلامتی کے ساتھ سواری کرو، انہیں کرسی نہ بناؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب یہ ہے انہیں اس طرح سے لے کر نہ چلو کہ تم ان سے نیچے اترو ہی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5619]

5620

Sahih Ibn Hibban #5620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ كُوِيَ عَلَى وَجْهِهِ أَوْ وُسِمَ ، فَلَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا تَضْرِبُوهَا عَلَى وُجُوهِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جس نے ایسا کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ! تم لوگ ان کے چہروں پر نہ مارو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5620]

5621

Sahih Ibn Hibban #5621

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَخَلْتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا ، وَلا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، حَتَّى مَاتَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا، وہ اسے کھانے کے لیے نہیں دیتی تھی اور اسے کھولتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5621]

5622

Sahih Ibn Hibban #5622

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ وَقُمْنَا ، فَصَلَّى ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا يُحَدِّثُنَا ، فَقَالَ : " لَقَدْعُرِضَتَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ ، حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَلَوْلا أَنِّي دَفَعْتُهَا عَنْكُمْ ، لَغَشِيَتْكُمْ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلاثَةً يُعَذَّبُونَ : امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً ، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا ، أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا حَتَّى مَاتَتْ ، فَهِيَ إِذَا أَقْبَلَتْ تَنْهَشُهَا ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ تَنْهَشُهَا ، وَرَأَيْتُ أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ صَاحِبَ السَّائِبِتَيْنِ يُدْفَعُ بِعَمُودَيْنِ فِي النَّارِ ، وَالسَّائِبَتَانِ : بَدَنَتَانِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَهُمَا ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ ، وَكَانَ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ ، فَإِذَا خَفِيَ لَهُ ذَهَبَ بِهِ ، وَإِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ ، قَالَ : إِنِّي لَمْ أَسْرِقْ ، إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد بات چیت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر میں چاہتا، تو اس کے خوشے کو حاصل کر لیتا۔ میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا اگر میں اسے پرے نہ کرتا تو وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا۔ ایک یمن کی رہنے والی سیاہ فام لمبی عورت تھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا۔ اسے چھوڑا نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی۔ اس نے اس بلی کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیا یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی تو وہ بلی اس کی طرف آتی تھی، پھر وہ اس کے پیچھے کی طرف سے آتی تھی اور اسے نوچتی تھی۔ (میں نے جہنم میں) بنو دعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جس کا دو اونٹنیوں کا معاملہ تھا جسے جہنم میں دو ستونوں کے درمیان باندھا ہوا تھا (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو اونٹنیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں میں سے تھیں، جنہیں اس شخص نے چوری کر لیا تھا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں نے لاٹھی والے شخص کو دیکھا جو لاٹھی کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا ساز و سامان چوری کیا کرتا تھا، جب اس کی چوری پوشیدہ رہتی تھی تو وہ سامان لے جایا کرتا تھا جب پکڑی جاتی تھی تو یہ کہتا تھا: ”میں نے چوری نہیں کی۔ یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5622]

5623

Sahih Ibn Hibban #5623

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ ،وَسَمَ بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً فِي وَجْهِهِ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : لا أَسِمُهُ إِلا فِي آخِرِهِ ، فَوَسَمَهُ فِي جَاعِرَتَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ یا کسی جانور کے چہرے پر داغ لگایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ غصے میں آ گئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اب میں ہمیشہ اس کے جسم کے پچھلے حصے پر داغ لگایا کروں گا، تو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے «الْجَاعِرَةِ» (ران کا وہ حصہ جہاں تک جانور کی دم ہلانے تک پہنچتی ہے) پر داغ لگایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5623]

5624

Sahih Ibn Hibban #5624

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ لا أَسِمُهُ إِلا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سختی سے مذمت کی۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم! اب میں اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو، تو ان صاحب کے حکم کے تحت ان کے گدھے کی رانوں کے اس حصے پر داغ لگایا گیا (جہاں تک دم ہل کر پہنچتی ہے) تو وہ پہلا جانور تھا جس کی رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5624]

5625

Sahih Ibn Hibban #5625

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لا أَسِمُهُ إِلا أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا، یہ وہ پہلا جانور تھا جس کے رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5625]

5626

Sahih Ibn Hibban #5626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : مَرَّ حِمَارٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كُوِيَ فِي وَجْهِهِ ، تَفُورُ مَنْخِرَاهُ مِنْ دَمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا ، ثُمَّنَهَى عَنِ الْكَيِّ فِي الْوَجْهِ ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے ایسا کیا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5626]

5627

Sahih Ibn Hibban #5627

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَأَى حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَذَا ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے ایسا کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5627]

5628

Sahih Ibn Hibban #5628

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حِمَارٍ قَدْ وُسِمَ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَسَمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے پاس سے ہوا جسے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے یہ داغ لگایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5628]

5629

Sahih Ibn Hibban #5629

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُرِيدُ أَنْ يُحَنِّكَهُ ، فَوَجَدَهُ فِي الْمِرْبَدِ ، وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا "، قَالَ شُعْبَةُ : أَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : فِي آذَانِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے چھوٹے بھائی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ اسے گھٹی دیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باغ میں پایا، آپ بکریوں کو داغ لگا رہے تھے۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان یہ ہے کہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5629]

5630

Sahih Ibn Hibban #5630

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ حَيَّةً ، فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغَةً ، فَلَهُ حَسَنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص سانپ کو مار دیتا ہے اسے سات نیکیاں ملیں گی اور جو شخص چھپکلی کو مار دیتا ہے اسے ایک نیکی ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5630]

5631

Sahih Ibn Hibban #5631

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعَةً ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا ؟ قَالَتْ : نَقْتُلُ بِهِ الأَوْزَاغَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّإِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، لَمْ يَكُنْ فِي الأَرْضِ دَابَّةٌ إِلا أَطْفَأَتِ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائبہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، انہوں نے دریافت کیا: اے ام المؤمنین! آپ اس کے ذریعے کیا کرتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہم اس کے ذریعے چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے: ”جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، تو روئے زمین پر موجود ہر جانور نے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی صرف چھپکلی نے ایسا نہیں کیا، یہ اس پر پھونک مار رہی تھی (تاکہ وہ آگ زیادہ بھڑکے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5631]

5632

Sahih Ibn Hibban #5632

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِيرَوَيْهِ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحِدَأَةُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پانچ فاسق جانوروں کو حل اور حرم (ہر جگہ) مار دینے کا حکم دیا ہے: چیل، کوا، چوہا، بچھو اور پاگل کتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5632]

5633

Sahih Ibn Hibban #5633

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْعَقْرَبُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمُخْتَصَرُ مِنَ الأَخْبَارِ : هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِوَايَةِ الْعُدُولِ عَنْهُ بِلَفْظِهِ يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا فِي كُلِّ الأَوْقَاتِ ، وَالْمُتَقَصِّي : هُوَ رِوَايَةُ ذَلِكَ الْخَبَرِ بِعَيْنِهِ ، عَنْ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ نَفْسِهِ ، مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِزِيَادَةِ بَيَانٍ ، يَجِبُ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ الزِّيَادَةِ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا ثِقَةٌ ، عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَا فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ (قسم کے جانور) فاسق ہیں، انہیں حل اور حرم (ہر جگہ) قتل کیا جا سکتا ہے: بچھو، چیل، کوا، چوہا اور پاگل کتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں سے مختصر وہ روایت ہوتی ہے جو صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کر دیتا ہے جو کسی عادل شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان الفاظ میں نقل کی ہوتی ہے تو اس پر عمل ہر وقت میں کیا جائے گا اور مُتقصی وہ روایت ہوتی ہے جو اس نے بعینہ صحابی کے حوالے سے اس کی ذات کے حوالے سے نقل کی ہو، جو دوسرے حوالے سے الفاظ کے اضافے کے ہمراہ منقول ہو، اس اضافے پر عمل کرنا اس وقت لازم ہوتا ہے جب اسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی منفرد ہو۔ یہ اس طریقے کے مطابق ہو گا جس کا ذکر ہم نے کتاب کے آخر میں کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5633]

5634

Sahih Ibn Hibban #5634

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَاهِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيقَتْلِ الْوَزَغِ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا جو بنو عامر سے تعلق رکھتی ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسے مارنے کا حکم دیا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5634]

5635

Sahih Ibn Hibban #5635

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِقَتْلِ الْوَزَغِ ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «الفُوَيْسِقَةُ» ”چھوٹا فاسق“ (جانور) کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5635]

5636

Sahih Ibn Hibban #5636

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ "، وَهَذَا غَرِيبٌ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چھپکلی چھوٹا فاسق (جانور) ہے۔“ (یہ روایت غریب ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5636]