Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 49 · Chapter 3

Book of Hunting

Hadith 5563–5596

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5563

Sahih Ibn Hibban #5563

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْأَكْبَرُ الْكَبَائِرِ : الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا يَحْلِفُ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ ، إِلا كَانَتْ كَيَّةً فِي قَلْبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کبیرہ گناہوں میں یہ شامل ہیں: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! آدمی مچھر کے پر جتنی کسی چیز کے بارے میں جو بھی قسم اٹھائے گا تو قیامت کے دن وہ قسم اس کے دل میں بوجھ (یا داغ) کی صورت میں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5563]

5564

Sahih Ibn Hibban #5564

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنِّيأَرَاكَ ضَعِيفًا ، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي ، لا تَتَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ، وَلا تَتَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں کمزور پاتا ہوں اور میں تمہارے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تم ہرگز دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور نہ ہی کسی یتیم کے مال کے نگران بننا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5564]

5565

Sahih Ibn Hibban #5565

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : أُحَرِّجُ مَالَ الضَّعِيفَيْنِ : الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر یہ ارشاد فرماتے تھے: ”میں دو کمزور لوگوں یعنی یتیم اور عورت کے مال کے بارے میں (تمہیں بچتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5565]

5566

Sahih Ibn Hibban #5566

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَوْمٌ مِنْ قُبُورِهِمْ تَأَجَّجُ أَفْوَاهُهُمْ نَارًا ، فَقِيلَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَ اللَّهَ يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کیا جائے گا، ان کے منہ سے آگ نکل رہی ہو گی۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غور نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا﴾ [سورة النساء: 10] ”بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے طور پر کھا لیتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5566]

5567

Sahih Ibn Hibban #5567

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِنَّهُلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَدَمٌ نَبَتَا عَلَى سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ : فَغَادٍ فِي فَكَاكِ نَفْسِهِ ، فَمُعْتِقُهَا ، وَغَادٍ مُوبِقُهَا ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، الصَّلاةُ قُرْبَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! ایسا گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہوں گے جن کی نشوونما حرام پر ہوئی ہو، آگ ان کے زیادہ لائق ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں: ایک شخص اپنے آپ کو رہا کروا کے خود کو آزاد کروا لیتا ہے اور ایک خود کو غلام بنوا لیتا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے، صدقہ برہان ہے، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے جس طرح کوئی قوت والا شخص صفا پر جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5567]

5568

Sahih Ibn Hibban #5568

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَةُ ،إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الأَعْمَالِ ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! بظاہر چھوٹے نظر آنے والے (گناہوں سے) بچنے کی کوشش کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے حوالے سے بھی باز پرس ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5568]

5569

Sahih Ibn Hibban #5569

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلالِ ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ ، وَمَنْ أَرْتَعَ فِيهِ كَانَ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَنْبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الأَرْضِ ، مَحَارِمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اپنے اور حرام کے درمیان حلال کے ذریعے رکاوٹ بنا لو، جو شخص ایسا کر لے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ کر لے گا اور جو شخص اس میں چرنے کی کوشش کرے گا تو وہ چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ہو گا اور اس بات کا احتمال موجود ہے کہ وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائے، ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5569]

5570

Sahih Ibn Hibban #5570

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : يَا عَلِيُّ ، إِنَّلَكَ كَنْزًا ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا ، فَلا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے علی! تمہارا ایک خزانہ ہے اور تم دو قرنوں والے ہو۔ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہیں پہلی کا حق حاصل ہے لیکن دوسری کا حق حاصل نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5570]

5571

Sahih Ibn Hibban #5571

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْنَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِصَرْفِ الْبَصَرِ أَمَرُ حَتْمٍ عَمَّا لا يَحِلُّ ، وَهُوَ مُقِرُّونٌ بِالزَّجْرِ عَنْ ضِدِّهِ ، وَهُوَ النَّظَرُ إِلَى مَا حَرُمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ ”میں اپنی نگاہ کو پھیر لوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نظر کو پھیرنے کا حکم لازمی طور پر ہے جو اس چیز کے بارے میں ہے جو جائز نہیں ہے اور یہ اس کے متضاد سے ممانعت کے ہمراہ ملا ہوا ہے اور وہ چیز یہ ہے، جسے حرام قرار دیا گیا ہو اس کی طرف (دیکھنا منع ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5571]

5572

Sahih Ibn Hibban #5572

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً ، فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ وَخَرَجَ ، وَقَالَ : إِنَّالْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ ، أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَعْجَبَتْهُ ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ ، فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا (وہ آپ کو اچھی لگی) آپ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے آپ نے اپنی خواہش کو پورا کیا پھر آپ (گھر سے باہر) تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”عورت جب آتی ہے تو شیطان کی شکل میں آتی ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے اپنی بیوی کے پاس جانا چاہیے کیونکہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو اس عورت کے پاس ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5572]

5573

Sahih Ibn Hibban #5573

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْجُبْلانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ الَّتِي تُعْجِبُهُ ، فَلْيَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَقَعَ بِهِمْ ، فَإِنَّ ذَلِكَ مَعَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی ایسی عورت کو دیکھے جو اسے اچھی لگے، تو اس شخص کو اپنی بیوی کے پاس جانا چاہیے اور اس کے ساتھ صحبت کرنی چاہیے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی (لطف اور قربت ہو گی۔)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5573]

5574

Sahih Ibn Hibban #5574

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عُرْيَةِ الرَّجُلِ ، وَلا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عُرْيَةِ الْمَرْأَةِ ، وَلا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ ، وَلا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ (برہنہ ہو کر) ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے، اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ (برہنہ ہو کر) ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5574]

5575

Sahih Ibn Hibban #5575

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا وَمَيْمُونَةُ L7825 ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَسْتَأْذِنُ ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ الْحِجَابُ ، فَقَالَ : قُومَا ، فَقُلْنَا : إِنَّهُ مَكْفُوفٌ وَلا يُبْصِرُنَا ، قَالَ : أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا لا تُبْصِرَانِهِ ؟ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا ؟ " لَفْظَةُ اسْتِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ نَظَرِهِمَا إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي كُفَّ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النِّسَاءَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِنَّ النَّظَرُ إِلَى الرِّجَالِ ، إِلا أَنْ يَكُونُوا لَهُنَّ بِمَحْرَمٍ ، سَوَاءٌ كَانُوا مَكْفُوفَيْنِ أَوْ بُصَرَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ اور میمونہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ میں اور میمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اٹھ جاؤ۔“ ہم نے عرض کی: یہ تو نابینا ہے، یہ ہمیں نہیں دیکھ سکتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھو گی؟“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ”کیا تم نابینا ہو۔“ یہاں پر لفظی طور پر خبر معلوم کی جا رہی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد اس بات کی ممانعت کرنا ہے کہ وہ دونوں خواتین اس مرد کی طرف دیکھیں جو نابینا ہے، اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ خواتین کے لیے بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے، البتہ محرم مردوں کا حکم مختلف ہے اور یہ حرمت برابر ہے خواہ وہ لوگ نابینا ہوں یا بینا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5575]""

5576

Sahih Ibn Hibban #5576

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَبْهَانَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ L7825 ، قَالَتُ : فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ بِالْحِجَابِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجِبَا مِنْهُ ، فَقَالَتَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى ، فَمَا يُبْصِرُنَا وَلا يَعْرِفُنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، اس دوران ابنِ ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اس سے پردہ کرو۔“ ان دونوں رضی اللہ عنہما نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ یہ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکیں گے اور ہمیں پہچان بھی نہیں سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھ رہی ہو؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5576]

5577

Sahih Ibn Hibban #5577

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى عَنِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ عَنْهَا عَطَاءً ، فَقَالَ : سَأَلْتُ عَنْهَا عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ اغْتَسِلُ أَنَا وَحِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِنَاءِ الْوَاحِدِ ، تَخْتَلِفُ فِيهِ أَكُفُّنَا ، وَأَشَارَتْ إِلَى إِنَاءٍ فِي الْبَيْتِ قَدْرَ سِتَّةِ أَقْسَاطٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتبہ بن ابوحکیم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سلیمان بن موسیٰ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کی شرم گاہ کی طرف دیکھتا ہے، تو سلیمان نے بتایا کہ میں نے اس بارے میں عطا سے دریافت کیا تھا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”میں اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے جس میں ہماری ہتھیلیاں آگے پیچھے داخل ہوتی تھیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر میں موجود ایک برتن کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بتائی جس کی مقدار آٹھ قسط (جتنی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5577]

5578

Sahih Ibn Hibban #5578

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ،دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ ، قَالَ : فَلَمْ يَقُومُوا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ ، وَقَعَدَ ثَلاثَةٌ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ، فَرَجَعَ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا ، فَانْطَلَقُوا ، فَجِئْتُ ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلِقُوا ، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی دعوت کی، لوگوں نے کھانا کھا لیا تو وہ بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ظاہر کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے ہیں، لیکن لوگ اس کے باوجود نہیں اٹھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ حاضرین میں سے بھی کچھ لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (باہر سے ہو کر) واپس تشریف لائے تو وہ لوگ پھر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر واپس تشریف لے گئے تو وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے۔ میں آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ میں اندر داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس موقع پر) یہ آیت نازل کی تھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”بے شک یہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5578]

5579

Sahih Ibn Hibban #5579

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ : لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ ، قَالَ : بَنَي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ ، فَصَنَعَ طَعَامًا ، فَأَرْسَلَنِي ، فَدَعَوْتُ رِجَالاً ، فَأَكَلُوا ، ثُمَّ قَامَ ، فَخَرَجَ ، فَأَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ ، ثُمَّ تَبِعْتُهُ فَدَخَلَ ، فَوَجَدَ فِي بَيْتِهَا رَجُلَيْنِ ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ ، وَلَمْ يُكَلِّمْهُمَا ، فَقَامَا وَخَرَجَا ، وَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿تم لوگ نبی کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک تمہیں کھانے کی اجازت نہ دی جائے۔﴾ [سورة الأحزاب: 53] سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ شادی کے بعد (ولیمے کی دعوت میں) کھانا تیار کروایا، آپ نے مجھے بھیجا، میں کچھ افراد کو بلا کر لے آیا، ان لوگوں نے کھانا کھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور باہر تشریف لے گئے، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس تشریف لائے، میں بھی آپ کے پیچھے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر داخل ہوئے تو آپ کو گھر میں دو مرد ملے، جب آپ نے ان دونوں کو دیکھا تو آپ واپس تشریف لے گئے، آپ نے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی، وہ دونوں اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے، اس موقع پر حجاب کے حکم سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں کھانے کے لیے اجازت نہ دی جائے اور تم برتن کی طرف دیکھ نہ رہے ہو۔﴾ [سورة الأحزاب: 53] [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5579]

5580

Sahih Ibn Hibban #5580

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَافِحِ امْرَأَةً قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خاتون کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5580]

5581

Sahih Ibn Hibban #5581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، وَمَا مَسَّتْ كَفُّهُ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ ، وَمَا كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ إِلا : قَدْ " بَايَعْتُكُنَّ " كَلامًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے صرف اسی چیز کی (بیعت) لیتے تھے، پھر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نے کسی خاتون کی ہتھیلی کو نہیں چھوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان خواتین سے بیعت لے لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ فرماتے تھے کہ: ”میں نے کلام کے ذریعے تم سے بیعت لے لی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5581]

5582

Sahih Ibn Hibban #5582

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، وَلا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی کے ساتھ مباشرت نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5582]

5583

Sahih Ibn Hibban #5583

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِلا الْوَالِدُ الْوَلَدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ، کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ جسم نہ ملائے البتہ والد اپنی اولاد کا جسم ساتھ لگا سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5583]

5584

Sahih Ibn Hibban #5584

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، يَقُولُ : جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى مَنْزِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَلْتَمِسُهُ ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَوَجَدَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ كَلَّمَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا أَرَى حَاجَتَكَ إِلا إِلَى الْمَرْأَةِ ، قَالَ : أَجَلْ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْنَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ "، أَبُو صَالِحٍ هَذَا : اسْمُهُ مِيزَانٌ ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، ثِقَةٌ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مَا رَوَى غَيْرُ هَذَيْنِ ، وَلَيْسَ هَذَا بِصَاحِبِ الْكَلْبِيِّ ، فَإِنَّهُ وَاهٍ ضَعِيفٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر آئے، وہ انہیں نہیں مل سکے، پھر وہ واپس چلے گئے، پھر جب ان کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور وہ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر) آئے تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بات چیت کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرا یہ خیال ہے آپ کو اس خاتون کے ساتھ کوئی کام تھا۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”اس بات سے منع کیا ہے ہم کسی ایسی خاتون کے پاس جائیں، جس کا شوہر موجود نہ ہو“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوصالح نامی راوی کا نام میزان ہے، یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ثقہ ہیں۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے، جب کہ ان کے حوالے سے سلیمان تیمی اور محمد بن جحادہ نے روایات نقل کی ہیں۔ ان کے حوالے سے ان دو راویوں کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی۔ یہ صاحب کلبی کے شاگرد نہیں ہیں کیونکہ کلبی کا جو شاگرد ہے وہ ضعیف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5584]

5585

Sahih Ibn Hibban #5585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، وَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلا خَيْرًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ :" لا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلا وَمَعَهُ رَجُلٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور ساتھ یہ بات بیان کی کہ میری رائے اچھی ہے لیکن (مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس عورت کو اس سے بری کر دے گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج کے دن کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو، البتہ اس کے شوہر کے ساتھ جا سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5585]

5586

Sahih Ibn Hibban #5586

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي مِثْلِ مَقَامِي هَذَا ، فَقَالَ : أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ ، حَتَّى يَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ عَلَيْهَا ، وَيَشْهَدَ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ عَلَيْهَا ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، أَلا لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، أَلا وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُوؤُهُ سَيِّئَتُهُ ، وَتَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جابیہ“ کے مقام پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے بتایا: جس طرح میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑا ہوا ہوں، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ آدمی قسم اٹھا لے گا اس سے پہلے کہ اس سے قسم مانگی جائے، اور گواہی پیش کر دے گا اس سے پہلے کہ اس سے گواہی طلب کی جائے، تم میں سے جو شخص جنت کے وسط میں داخل ہونا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑ لے کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے دور ہوتا ہے، خبردار! کوئی شخص کسی (اجنبی عورت) کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہو گا، خبردار! تم میں سے جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور اپنی برائی بری لگے تو وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5586]

5587

Sahih Ibn Hibban #5587

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا لا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْتٍ ، إِلا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی شخص کسی (نا محرم) عورت کے ساتھ گھر میں نہ ہو ماسوائے اس کے کہ اس کا شوہر یا کوئی محرم بھی موجود ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5587]

5588

Sahih Ibn Hibban #5588

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْوُ الْمَوْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کے پاس نہ جاؤ۔“ ایک انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیور موت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5588]

5589

Sahih Ibn Hibban #5589

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الْفَاضِلُ الصَّالِحُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ : لا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلا بِذِي مَحْرَمٍ ، وَلا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلا بِذِي مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر ہرگز سفر نہ کرے اور کوئی مرد (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ جائے، البتہ اس عورت کا محرم ساتھ ہو تو (حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5589]

5590

Sahih Ibn Hibban #5590

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْتٍ ، إِلا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا ، أَوْ ذَا مَحْرَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مرد کسی عورت کے ہاں اس کے گھر میں رات ہرگز بسر نہ کرے، ماسوائے اس صورت کے کہ اس عورت کا شوہر یا محرم عزیز (بھی گھر میں موجود ہو)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5590]

5591

Sahih Ibn Hibban #5591

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : إِنَّالدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَاتَّقُوهَا ، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلاثَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ : امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ، وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لا تُعْرَفُ ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا ، فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ ، فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَسْجِدِ ، أَوْ بِالْمَلأِ ، قَالَتْ بِهِ ، فَفَتَحَتْهُ ، فَفَاحَ رِيحُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، تم لوگ اس سے بچنے کی کوشش کرو اور بطور خاص خواتین کے معاملے میں احتیاط کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کا ذکر کیا: ”جن میں سے دو طویل القامت تھیں اور ایک چھوٹے قد کی تھی جو نمایاں نہیں ہوتی تھی، اس نے لکڑی سے بنی ہوئی دو جوتیاں بنوائیں اور ایک انگوٹھی بنوائی جس میں عمدہ ترین خوشبو بھری، جب وہ مسجد کے پاس سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) لوگوں کے گروہ کے پاس سے گزری تو اس نے اس انگوٹھی کو کھول دیا جس کے نتیجے میں اس کی خوشبو پھیل گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5591]

5592

Sahih Ibn Hibban #5592

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّامْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ قَصِيرَةً ، فَاتَّخَذَتْ لَهَا نَعْلَيْنِ مِنْ خَشَبِ ، فَكَانَتْ تَمْشِي بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تَطَاوَلُ بِهِمَا ، وَاتَّخَذَتْ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَشَتْ تَحْتَ فَصِّهِ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ ، فَكَانَتْ إِذَا مَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ ، حَرَّكَتْهُ ، فَيَفُوحُ رِيحُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک عورت چھوٹے قد کی تھی، اس نے لکڑی سے بنے ہوئے جوتے بنوائے، وہ جب دو طویل عورتوں کے درمیان چلتی تھی تو اس وجہ سے لمبی محسوس ہوتی تھی، اس نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے مشک کی بہترین خوشبو بھر لی، جب وہ کسی محفل کے پاس سے گزرتی تھی تو اس انگوٹھی کو حرکت دیتی تھی جس کے نتیجے میں اس کی خوشبو پھیل جاتی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5592]

5593

Sahih Ibn Hibban #5593

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ :أَرِنِي الْمَكَانَ الَّذِي رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ مِنْكَ ، قَالَ : فَكَشَفَ عَنْ سُرَّتِهِ ، فَقَبَّلَهَا ، فَقَالَ : شَرِيكٌ : لَوْ كَانَتِ السُّرَّةُ مِنَ الْعَوْرَةِ ، مَا كَشَفَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: ”آپ مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے“ تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی ناف سے کپڑے کو ہٹایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا بوسہ دیا۔ شریک نامی راوی بیان کرتے ہیں: اگر ناف پردے کا حصہ ہوتی تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اسے ظاہر نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5593]

5594

Sahih Ibn Hibban #5594

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ ، جَالِسٌ ، فَقَالَ الأَقْرَعُ : إِنَّ لِيَ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ ، مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا قَطُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لا يَرْحَمُ ، لا يُرْحَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا، اس وقت اقرع بن حابس تمیمی بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اقرع نے کہا: میرے تو دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5594]

5595

Sahih Ibn Hibban #5595

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِنْ قَلْبِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا: کیا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کو الگ کر لیا ہے تو پھر میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5595]

5596

Sahih Ibn Hibban #5596

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْلِعُ لِسَانَهُ لِلْحُسَيْنِ ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَةَ لِسَانِهِ ، فَيَهَشُّ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ : أَلا أَرَى تَصْنَعُ هَذَا بِهَذَا ، وَاللَّهِ لَيَكُونُ لِيَ الابْنُ قَدْ خَرَجَ وَجْهُهُ وَمَا قَبَّلْتُهُ قَطُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لا يَرْحَمُ ، لا يُرْحَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کو اپنی زبان باہر نکال کر دکھاتے تھے، وہ بچہ جب آپ کی زبان کی سرخی دیکھتا تو خوش ہوتا، عیینہ بن حصن نے آپ کی خدمت میں عرض کی: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آپ اس کے ساتھ یہ طرز عمل کر رہے ہوں گے، اللہ کی قسم! میرا بھی بیٹا ہے لیکن میں نے اسے کبھی بوسہ نہیں دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5596]