Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 49 · Chapter 2

Book of Hunting

Hadith 5523–5562

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5523

Sahih Ibn Hibban #5523

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ أَبِي ، وَحَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا اضْطَجَعَ لِيَنَامَ ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الأَيْمَنِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ ، يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے لیے لیٹتے تھے تو اپنا دایاں دستِ مبارک اپنے دائیں رخسارِ مبارک کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! تو اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو زندہ کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5523]

5524

Sahih Ibn Hibban #5524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُوا إِلَيْهِ أَثَرَ الرَّحَى ، وَبَلَغَهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَبْيٍ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ، فَلَمْ تَلْقَهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ ، فَحَدَّثَتْهَا الْحَدِيثَ ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ ، فَقَالَ : مَكَانَكُمَا ، وَقَعَدَ بَيْنَنَا ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي ، فَقَالَ :أَدَلُّكَمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ، تُكَبِّرَانِ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، وَتُسَبِّحَانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتَحْمَدَانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ چکی پیسنے کی وجہ سے ہونے والی مشقت کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کریں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا پتہ چلا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی آئے ہیں، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم مانگنے کے لیے تشریف لائی تھیں۔ ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی، ان کی ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساری بات بتا دی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا دی۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (رات کے وقت) اس وقت ہمارے پاس تشریف لائے جب ہم اپنے بستر میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی جگہ پر رہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں جو تم دونوں نے مجھ سے مانگی ہے؟ تم ۳۴ مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، ۳۳ مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ اور ۳۳ مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اس وقت پڑھ لیا کرو جب تم اپنے بستر پر لیٹو، یہ تم دونوں کے لیے خادم (کے ملنے) سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5524]

5525

Sahih Ibn Hibban #5525

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي ، قَالَ : اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اشجعی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جسے میں اس وقت پڑھ لیا کروں جب میں اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سورۃ الکافرون پڑھ لیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5525]

5526

Sahih Ibn Hibban #5526

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا ، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ ؟ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا ، قَالَ : فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اپنے والد (سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں ہماری سوتیلی صاحب زادی (کی تعلیم و تربیت) میں دلچسپی ہے تاکہ زینب اس کی کفالت کرے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس بچی کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”پھر تم کس کام سے آئے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم «سُورَةَ الْكَافِرُونَ» ”سورت الکافرون“ کی تلاوت کیا کرو اور ان اختتامی کلمات کے ہمراہ سو جایا کرو، یہ سورت شرک سے بری الذمہ ہونے کا اظہار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5526]

5527

Sahih Ibn Hibban #5527

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ، وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : أَوْصَى رَجُلاً أَنْ يَقُولَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ بستر پر جائے، یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ تلقین کی کہ وہ یہ پڑھے: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں اپنا آپ تیرے سپرد کرتا ہوں، میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا، میں نے اپنی پشت کو تیرے سہارے کر دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے بھی اور تیری (بے نیازی سے) ڈرتے ہوئے بھی، تیرے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں ہے، تیرے مقابلے میں صرف تیری طرف رجوع کیا جا سکتا ہے، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ان کلمات کو پڑھنے والا شخص اگر اسی رات میں فوت ہو جاتا ہے تو وہ فطرت (یعنی دین اسلام) پر مرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5527]

5528

Sahih Ibn Hibban #5528

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، غَفَرَ اللَّهُ ذُنُوبَهُ أَوْ خَطَايَاهُ شَكَّ مِسْعَرٌ وَإِنْ كَانَ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اس کے لیے مخصوص ہے، حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، اللہ کی ذات عیب سے پاک ہے، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کی خطاؤں کی مغفرت کر دیتا ہے، یہ شک مسعر نامی راوی کو ہے (آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں) ”خواہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5528]

5529

Sahih Ibn Hibban #5529

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَدُلُّكِ أَوْ أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ ، فَسَبِّحِي وَكَبِّرِي وَهَلِّلِي ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَأَرْبَعًا وَثَلاثِينَ "، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَلَمْ أَدَعْهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خادم مانگنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا میں تمہیں اس چیز کی تعلیم نہ دوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر (سونے کے لیے) جاؤ تو 33، 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ پڑھ لیا کرو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، میں نے اس عمل کو کبھی ترک نہیں کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا: کیا جنگِ صفین کی رات بھی نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جنگِ صفین کی رات بھی (میں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5529]

5530

Sahih Ibn Hibban #5530

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَضَوَّرَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ہے، وہ غلبے والا ہے، وہ آسمان و زمین اور اس کے درمیان موجود تمام چیزوں کا پروردگار ہے، وہ غالب ہے اور مغفرت کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5530]

5531

Sahih Ibn Hibban #5531

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي ، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا ، وَلا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ أَنْ هَدَيْتَنِيَ ، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اے اللہ! تو پاک ہے، میں اپنے ذنب کی مغفرت تجھ سے طلب کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ کر اور میرے دل کو، تو نے ہدایت نصیب کی ہے اس کے بعد اسے ٹیڑھا نہ کرنا اور محض اپنے فضل کے تحت مجھے رحمت عطا کر، بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ﴿لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5531]

5532

Sahih Ibn Hibban #5532

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا ، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے زندہ ہوتا ہوں (یعنی بیدار ہوتا ہوں) اور تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے مرتا ہوں (یعنی سوتا ہوں)۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں موت (یعنی نیند) دینے کے بعد زندگی (یعنی بیداری) دی اور اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5532]

5533

Sahih Ibn Hibban #5533

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ ، أَتَاهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ : اخْتِمْ بِخَيْرٍ ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ : اخْتِمْ بِشَرٍّ ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ ، ثُمَّ نَامَ ، بَاتَتِ الْمَلائِكَةُ تَكْلَؤُهُ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ ، قَالَ الْمَلَكُ : افْتَحْ بِخَيْرٍ ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ : افْتَحْ بِشَرٍّ ، فَإِنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي ، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولا ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الأَرْضِ إِلا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ وَقَعَ مِنْ سَرِيرِهِ ، فَمَاتَ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کے پاس آتے ہیں، فرشتہ یہ کہتا ہے: بھلائی کے ذریعے (اپنے دن بھر کے کاموں کا) اختتام کرو۔ شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے (اپنے دن بھر کے کاموں کا) اختتام کرو۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر وہ شخص اللہ کا ذکر کر کے سوتا ہے تو فرشتے رات بھر اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں، جب وہ بیدار ہو جائے تو فرشتہ کہتا ہے: بھلائی کے ذریعے (اپنے دن کے کاموں) کا آغاز کرو، اور شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے آغاز کرو، اگر وہ شخص یہ پڑھ لے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ﴿إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا﴾ [سورة فاطر: 41] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ﴿وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ [سورة الحج: 65] » ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری جان مجھے واپس کر دی اور اسے سونے کے دوران ہی موت نہیں دی، ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روکا ہوا ہے وہ برباد ہو جائیں (یہ آیت کے آخر تک پڑھنا ہے)، ہر طرح کی حمد اس کے لیے مخصوص ہے جس نے آسمان کو اس بات سے روکا ہوا ہے وہ زمین پر گر جائے البتہ اس کی اجازت سے ایسا ہو سکتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5533]

5534

Sahih Ibn Hibban #5534

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارَهُ ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ ، وَيُسَمِّي اللَّهَ ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنَ ، وَلْيَقُلْ : سُبْحَانَكَ رَبِّي ، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي ، وَبِكَ أَرْفَعُهُ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لَهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا ، فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو وہ اپنے تہبند کے اندرونی حصے کے ذریعے اسے جھاڑ لے اور «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھے؛ کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس کے بستر پر کیا چیز آئی تھی، پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ پڑھے: «سُبْحَانَكَ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”تو پاک ہے اے میرے پروردگار! میں تیری مدد کے ذریعے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد کے ذریعے اسے اٹھاؤں گا، اگر تو نے میری جان کو روک لیا (یعنی مجھے موت دے دی) تو اس کی مغفرت کرنا اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا (یعنی میں دوبارہ بیدار ہو گیا) تو اس چیز کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا جس کے ہمراہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5534]

5535

Sahih Ibn Hibban #5535

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلْيَنْزِعْ إِزَارَهُ ، وَلْيَنْفُضْ بِدَاخِلَتِهَا فِرَاشَهُ ، ثُمَّ لْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ ، وَيَقُولُ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَضَعُ جَنْبِي ، وَبِكَ ارْفَعُهُ ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو اپنے تہبند کا (ایک سرا) باہر نکال کر اس کے اندرونی حصے کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑ لے، پھر وہ دائیں پہلو کے بل تکیے (پر سر رکھے) اور یہ پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد سے ہی اسے اٹھاؤں گا: اے اللہ! اگر تو نے اسے روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی اس چیز کے ہمراہ حفاظت کرنا جس کے ذریعے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید مقبری نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5535]

5536

Sahih Ibn Hibban #5536

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ قُلِ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَاجْعَلْهُ آخِرَ مَا تَقُولُ ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقُلْتُ : أَسْتَذْكِرُهُنَّ ، وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ؟ فَقَالَ : وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم بستر پر جانے لگو تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاؤ، پھر یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سامنے جھکا دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈر رکھتے ہوئے اپنی پشت تیرے ساتھ لگا دی (یعنی تجھ پر آسرا کر لیا)، تیرے مقابلے میں تیرے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ہے، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”تم ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بناؤ، اگر تم (اسی رات میں) فوت ہو جاتے ہو تو تم فطرت (یعنی دین اسلام) پر فوت ہو گے۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں یاد کرتے ہوئے لفظ ”تیرے نبی پر ایمان لایا“ کی بجائے ”تیرے رسول پر ایمان لایا“ پڑھ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(یہ پڑھو) تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5536]

5537

Sahih Ibn Hibban #5537

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو صَالِحٍ ، يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ ، أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الأَوَّلُ ، فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخِرُ ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ "، وَكَانَ يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابوصالح ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے لگے، تو وہ اپنے دائیں پہلو کے بل (بستر پر) لیٹ جائے اور پھر یہ کہے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے تمام آسمانوں کے پروردگار اور زمین کے پروردگار اور عظیم عرش کے پروردگار! اے ہمارے پروردگار اور اے ہر چیز کے پروردگار! اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے! اے تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ہے، تو ہی سب کے بعد ہے تیرے بعد کچھ نہیں ہے، تو ایسا ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی نہیں ہے، تو ہماری طرف سے قرض کو ادا کر دے اور ہمیں غربت سے محفوظ کر دے۔“ سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابوصالح نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5537]

5538

Sahih Ibn Hibban #5538

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُإِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَسَقَانِي ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَمَالِكَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، لَكَ كُلُّ شَيْءٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي، وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اَللّٰهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، وَإِلٰهَ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری ضروریات کی کفایت کی، مجھے پناہ دی، مجھے کھلایا اور مجھے سیراب کیا؛ ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے اپنا فضل کیا؛ ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھے عطا کرتے ہوئے بہترین عطا کیا؛ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر حالت میں ہے؛ اے اللہ! اے ہر چیز کے پروردگار، اے ہر چیز کے مالک، اے ہر چیز کے معبود! ہر چیز تیری ملکیت ہے، میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5538]

5539

Sahih Ibn Hibban #5539

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا ، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے مرتا ہوں (یعنی سوتا ہوں) اور زندہ ہوں گا (یعنی بیدار ہوں گا)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں موت (یعنی نیند) دینے کے بعد زندگی (یعنی بیداری) دی اور اس کی بارگاہ میں دوبارہ زندہ ہونا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5539]

5540

Sahih Ibn Hibban #5540

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا ، فَكَمْ مِمَّنْ لا كَافِيَ لَهُ وَلا مُؤْوِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں کھلایا، ہمیں پلایا اور ہماری کفایت کی، تو کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کا کفایت کرنے والا کوئی نہیں ہے، جنہیں پناہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5540]

5541

Sahih Ibn Hibban #5541

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَتَوَفَّاهَا ، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ تَوَفَّيْتَهَا ، فَاغْفِرْ لَهَا ، وَإِنْ أَحْيَيْتَهَا ، فَاحْفَظْهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِهِ : أَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : بَلْ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ بستر پر لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ» ”اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا ہے، تو ہی اسے موت دے گا، اس کی موت اور زندگی تیرے ہاتھ میں ہے، اے اللہ! اگر تو نے اسے موت دے دی تو اس کی مغفرت کرنا اور اگر اسے زندہ رکھا تو اس کی حفاظت کرنا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کلمات پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہتر شخصیت ان کلمات کو پڑھتے تھے؛ راوی بیان کرتے ہیں: ہمارا یہ خیال ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5541]

5542

Sahih Ibn Hibban #5542

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، رغبت رکھتے ہوئے بھی اور ڈرتے ہوئے بھی، تیرے مقابلے میں تیری ذات کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5542]

5543

Sahih Ibn Hibban #5543

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَقِيلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ النَّوْمَ ، جَمَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا ، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ "، قَالَ عَقِيلٌ : وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو دونوں ہاتھ ملا کر ان پر پھونک مارتے تھے، پھر آپ سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ الناس کی تلاوت کرتے تھے، پھر وہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے، اپنے سر اور اپنے پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔ عقیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5543]

5544

Sahih Ibn Hibban #5544

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، جَمَعَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا ، وَقَرَأَ فِيهِمَا بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، ثُمَّ يَسْمَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تھے تو آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر پھونک مارتے تھے، ان میں ” ﴿سورہ اخلاص﴾ [سورة الإخلاص] ، ﴿سورہ فلق﴾ [سورة الفلق] اور ﴿سورہ الناس﴾ [سورة الناس] “ پڑھ کر دم کرتے تھے، پھر آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہو سکتا تھا پھیر لیتے تھے، ایسا آپ تین مرتبہ کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5544]

5545

Sahih Ibn Hibban #5545

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي ، قَالَ : اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فروہ بن نوفل اشجعی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دیجیے جسے میں اس وقت پڑھ لیا کروں جب میں اپنے بستر پر جاتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سورہ الکافرون پڑھ لیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5545]

5546

Sahih Ibn Hibban #5546

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا ، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ ؟ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا ، قَالَ : فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَمِّلَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فروہ بن نوفل اپنے والد رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہیں ہماری سوتیلی بیٹی زینب میں دلچسپی ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں اسے اس کی والدہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پھر تم کیوں آئے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دیں جسے میں رات کے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم «سُورَةُ الْكَافِرُونَ» ”سورہ الکافرون“ پڑھ لیا کرو اور پھر اسے پڑھنے کے بعد سو جایا کرو، یہ سورۃ شرک سے بری الذمہ ہونے کا اظہار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5546]

5547

Sahih Ibn Hibban #5547

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعَتْنِي عَائِشَةُ ، وَأَنَا أَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَقَالَتْ : يَا عُرَيُّ ،أَلا تُرِيحُ كَاتِبَكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَنَامُ قَبْلَهَا ، وَلا يَتَحَدَّثُ بَعْدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے عشاء کی نماز کے بعد بات کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا: ”اے عروہ! کیا تم اپنے کاتب (یعنی نیکیاں لکھنے والے فرشتے) کو آرام نہیں کرنے دو گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سوتے نہیں تھے اور اس کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5547]

5548

Sahih Ibn Hibban #5548

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالنَّوْمِ قَبْلَهَا ، وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا ، يَعْنِي عِشَاءَ الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس (عشاء کی نماز) سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے“ سے منع کیا ہے، راوی کی مراد عشاء کی نماز تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5548]

5549

Sahih Ibn Hibban #5549

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ ، فَغَمَزَهُ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : إِنَّهَذِهِ ضِجْعَةٌ لا يُحِبُّهَا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے پیٹ کے بل (الٹا) لیٹا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے ٹہوکا دیا اور ارشاد فرمایا: ”یہ لیٹنے کا ایسا طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5549]

5550

Sahih Ibn Hibban #5550

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ قَيْسِ بْنِ طِغْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَالَ : يَا فُلانُ ، انْطَلِقْ مَعَ فُلانٍ ، وَيَا فُلانُ ، انْطَلِقِ مَعَ فُلانٍ ، حَتَّى بَعَثَ خَمْسَةً أَنَا خَامِسُهُمْ ، فَقَالَ : قُومُوا مَعِي ، فَفَعَلْنَا ، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا ، فَقَرَّبَتْ جَشِيشَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا ، فَقَرَّبَتْ حَيْسًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، اسْقِينَا ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ دُونَهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ عِنْدَنَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَتَيْتُمُ الْمَسْجِدَ فَنِمْتُمْ فِيهِ ، قَالَ : فَنِمْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، فَأَصَابَنِي نَائِمًا عَلَى بَطْنِي ، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ :مَا لَكَ وَلِهَذِهِ النَّوْمَةِ ، هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ ، أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قیس بن طغفہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت صفہ (کے چبوترے) پر موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم فلاں کے ہمراہ روانہ ہو جاؤ“، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ افراد کو بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ہمارے ساتھ چلو“، ہم نے ایسا ہی کیا، ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے، یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! ہمیں کھانے کے لیے کچھ دو“، تو انہوں نے «جَشِيْشَة» (مخصوص قسم کا کھانا) ”جشیشہ“ آگے کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! ہمیں (مزید کچھ) کھانے کے لیے دو“، تو انہوں نے «حَيْس» (مخصوص قسم کا کھانا) ”حیس“ پیش کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! ہمیں (مزید کچھ) پینے کے لیے دو“، تو انہوں نے «عُسّ» (مخصوص قسم کا مشروب) ”عس“ پیش کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! ہمیں پینے کے لیے کچھ اور دو“، تو وہ مزید «عُسّ» ”عس“ لے آئیں جو پہلے سے کچھ کم تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو تو تم ہمارے ہاں سو جاؤ اور اگر تم چاہو تو مسجد جا کر وہاں سو جاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم لوگ مسجد میں سو گئے، رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیٹ کے بل سوئے ہوئے پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے مجھے ٹہوکا دے کر ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے تم اس طرح سو رہے ہو؟ یہ سونے کا ایسا طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ تھے) ”جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5550]

5551

Sahih Ibn Hibban #5551

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَسْتَلْقِ الإِنْسَانُ عَلَى قَفَاهُ ، وَيَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي زَجَرَ عَنْهُ : هُوَ أَنْ يَسْتَلْقِيَ الْمَرْءُ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ يَشِيلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ ، وَيَضَعَهَا عَلَى الأُخْرَى ، وَذَاكَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا أَصْحَابَ مَيَازِرَ ، وَإِذَا اسْتَعْمَلَ مَا وَصَفْتُ ، مَنْ عَلَيْهِ الْمِئْزَرُ دُونَ السَّرَاوِيلِ ، رُبَّمَا تُكْشَفُ عَوْرَتُهُ ، فَمِنْ أَجْلِهِ مَا نَهَى عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی انسان اپنی گدی کے بل اس طرح نہ لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں دوسرے پر ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ فعل جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے مراد یہ ہے: آدمی گدی کے بل یوں لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں اوپر ہو اور اسے اس نے دوسرے پر رکھ لیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ تہبند باندھا کرتے تھے اور جس شخص نے تہبند باندھا ہوا ہو اور شلوار نہ پہنی ہو اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے تو ایسا کرنے کے نتیجے میں اس کی شرم گاہ سے پردہ ہٹ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5551]

5552

Sahih Ibn Hibban #5552

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي اسْتَعْمَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَدُّ الرِّجْلَيْنِ جَمِيعًا ، وَوَضْعُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، دُونَ ذَلِكَ الْفِعْلِ الَّذِي نَهَى عَنْهُ ، وَهُوَ ضِدُّ قَوْلِ مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ ، فَزَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادَّ وَتَتَهَاتَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ فعل ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں سیدھے کیے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ یہ وہ فعل نہیں ہے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس گمان کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5552]

5553

Sahih Ibn Hibban #5553

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَالاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمالِ صماء“ اور ایک کپڑے کو «احْتِبَاء» ”احتباء“ کے طور پر لپیٹنے سے منع فرمایا ہے اور (اس بات سے بھی منع فرمایا ہے) کہ آدمی ایک پاؤں دوسرے پر رکھے جب کہ وہ پشت کے بل چت لیٹا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5553]

5554

Sahih Ibn Hibban #5554

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَسْتَلْقِيَ الرَّجُلُ ، وَيَثْنِيَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کے اس طرح چت لیٹنے سے منع فرمایا ہے کہ اس نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5554]

5555

Sahih Ibn Hibban #5555

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ گاڑنے، دوسروں کا حق ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے کو تمہارے لیے حرام قرار دیا ہے اور اس نے تین چیزوں کو تمہارے لیے ناپسندیدہ قرار دیا ہے: (فضول) بحث کرنا، بکثرت (غیر ضروری) سوال کرنا (یا ضرورت کے بغیر) مانگنا اور مال کو ضائع کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5555]

5556

Sahih Ibn Hibban #5556

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا غُلامَهُ وَرَّادًا ، فَقَالَ : اكْتُبْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ وَأْدِ النَّبَاتِ ، وَعُقُوقِ الأُمَّهَاتِ ، وَعَنْ مَنَعَ وَهَاتِ ، وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ "، سَمِعَ الشَّعْبِيُّ هَذَا عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث تحریر کر کے بھیج دیں، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نوجوان (سیکرٹری) وراد کو بلایا اور بولے: تم یہ لکھو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے، ماؤں کی نافرمانی کرنے، دوسروں کا حق ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے، فضول بحث و تمحیص اور بکثرت سوالات (یعنی غیر ضروری سوالات یا ضرورت کے بغیر مانگنے) اور مال کو ضائع کرنے“ سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ امام شعبی نے یہ روایت وراد کے حوالے سے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5556]

5557

Sahih Ibn Hibban #5557

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الآخِرَةِ ، أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ ، وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الآخِرَةِ ، أَسْوَؤُكُمْ أَخْلاقًا ، الْمُتَشَدِّقُونَ ، الْمُتَفَيْهِقُونَ ، الثَّرْثَارُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آخرت میں تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے، اور آخرت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ برے ہوں گے؛ وہ لوگ جو تکلف کے ساتھ خود کو فصیح ظاہر کرتے ہیں، پھیلا کر گفتگو کرتے ہیں اور واہی تباہی بولتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5557]

5558

Sahih Ibn Hibban #5558

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَرْبَعَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ : الْبَيَّاعُ الْحَلافُ ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالإِمَامُ الْجَائِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے: قسمیں اٹھا کر (مال) فروخت کرنے والے کو، غریب متکبر کو، بوڑھے زانی کو اور ظالم حکمران کو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5558]

5559

Sahih Ibn Hibban #5559

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الْجَهْمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ، وَالْمَكْرُ وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمیں دھوکہ دے (یا ملاوٹ کرے) وہ ہم میں سے نہیں ہے، دھوکہ اور فریب جہنم میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5559]

5560

Sahih Ibn Hibban #5560

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ خَبَّبَ عَبْدًا عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی بندے کو اس کی بیوی کے حوالے سے دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف اکسائے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5560]

5561

Sahih Ibn Hibban #5561

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالسِّحْرُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہلاکت کا شکار کرنے والی سات چیزوں سے بچو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، جادو کرنا، ایسی جان کو قتل کرنا جس کو اللہ تعالیٰ نے قابل احترام قرار دیا ہو—البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے—سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر لینا اور پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام عائد کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5561]

5562

Sahih Ibn Hibban #5562

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاالْكَبَائِرُ ؟ قَالَ : الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ "، قُلْتُ لِعَامِرٍ : مَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ؟ قَالَ : الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ صَبْرٍ ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کبیرہ گناہ کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر والدین کی نافرمانی کرنا۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جھوٹی قسم اٹھانا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد عامر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ «الْيَمِينُ الْغَمُوسُ» ”یمین غموس“ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ آدمی جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5562]