Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 5 · Chapter 3

The Book of Faith

Hadith 519–552

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

519

Sahih Ibn Hibban #519

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ ، خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پڑوسیوں میں زیادہ بہتر وہ شخص ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں زیادہ بہتر ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 519]

520

Sahih Ibn Hibban #520

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَشَكَا إِلَيْهِ جَارًا لَهُ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ : " اصْبِرْ " ثُمَّ ، قَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ : " اطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ " فَفَعَلَ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ بِهِ وَيَقُولُونَ : مَا لَكَ ؟ فَيَقُولُ : آذَاهُ جَارُهُ ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : لَعَنَهُ اللَّهُ فَجَاءَهُ جَارُهُ ، فقَالَ : رُدَّ مَتَاعَكَ ، لا وَاللَّهِ لا أُوذِيكَ أَبَدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم صبر سے کام لو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ یا شاید تیسری مرتبہ یہ فرمایا: ”تم اپنا سامان راستے میں ڈال دو۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ اس کے پاس سے گزرتے وقت دریافت کرتے: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تو وہ یہ کہتا تھا کہ اس کے پڑوسی نے اسے تکلیف پہنچائی ہے، تو لوگ یہ کہتے تھے: اللہ کی لعنت ہو، تو اس کا پڑوسی آیا اور بولا: تم اپنا سامان واپس لے جاؤ، اللہ کی قسم! آئندہ میں کبھی تمہیں اذیت نہیں پہنچاؤں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 520]

521

Sahih Ibn Hibban #521

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ ، وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي ، قَالَ : عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ ، وَلا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي ، وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ ، فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ ، فَلا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ ، دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ ، وَأَجْرُهُ لَكَ ، وَلا تَسُبَّنَّ شَيْئًا " ، قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً وَلا إِنْسَانًا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ " أَمْرٌ فُرِضَ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ كُلِّهِمْ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وإفْرَاغُ الْمَرْءِ الدَّلْوَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي مِنْ إِنَائِهِ ، وَبَسْطُهُ وَجْهَهُ عِنْدَ مُكَالَمَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فِعْلانِ قُصِدَ بِالأَمْرِ بِهِمَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ قَصْدًا لِطَلَبِ الثَّوَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلیم بن جابر ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی چادر کو «اِحْتِبَاء» ”احتباء“ کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو (خواہ وہ نیکی یہ ہو) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو، یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عار دلائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے، تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عار نہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے، تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو، اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے۔“ یہ ایک ایسا حکم ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں، جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے برتن میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں، جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے، اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 521]

522

Sahih Ibn Hibban #522

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَعَلِّمْنَا شَيْئًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ ، فقَالَ : لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي ، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ ، وَإِسْبَالَ الإِزَارِ ، فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ ، وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ ، فَلا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ ، فَإِنَّ أَجْرَهُ لَكَ ، وَوَبَالَهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِتَرْكِ اسْتِحْقَارِ الْمَعْرُوفِ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الإِرْشَادُ ، وَالزَّجْرُ عَنْ إِسْبَالِ الإِزَارِ زَجْرُ حَتْمٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَهِيَ الْخُيَلاءُ ، فَمَتَى عُدِمَتِ الْخُيَلاءُ ، لَمْ يَكُنْ بِإسْبَالِ الإِزَارِ بَأْسٌ وَالزَّجْرُ عَنِ الشَّتِيمَةِ إِذَا شُوتِمَ الْمَرْءُ ، زَجْرٌ عَنْهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ ، وَقَبْلَهُ ، وَبَعْدَهُ ، وَإِنْ لَمْ يُشْتَمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں دیہات کا رہنے والا شخص ہوں۔ آپ ہمیں ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم کسی بھی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھنا، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیل دو، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو۔ اور تم تہبند کو لٹکانے سے بچنا، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے تمہیں برا کہے جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ خامی تمہارے اندر ہے، تو تم ایسی چیز کے حوالے سے اس کو برا نہ کہنا جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ خامی اس کے اندر ہے۔ تمہارا اجر تمہیں مل جائے گا اور اس کا وبال اس شخص پر ہوگا جس نے وہ بات کہی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نیکی کو حقیر نہ سمجھنے کا حکم ہونا، یہ ایک ایسا امر ہے جس کے ذریعے رہنمائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے، اور تہبند کو لٹکانے سے ممانعت کا حکم ایک لازمی حکم ہے جو ایک متعین علت کی وجہ سے ہے اور وہ تکبر کرنا ہے، تو جب تکبر کرنے کی علت معدوم ہو تو تہبند کو لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ اور جب آدمی کو برا کہا جائے، تو اس وقت برا کہنے سے ممانعت کا حکم ایسا ہے جو اس وقت کے لیے بھی ہے، اس سے پہلے کے لیے بھی ہے اور اس کے بعد کے لیے بھی ہے، اگرچہ آدمی کو برا نہ کہا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 522]

523

Sahih Ibn Hibban #523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ ، بِالأَهْوَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَوْذَةَ بْنِ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، فَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً ، فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، وَاغْرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھنا، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو اور جب تم شوربا بناؤ، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دو اور اس میں سے اپنے پڑوسیوں کو بھی (شوربا بھجوا دو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 523]

524

Sahih Ibn Hibban #524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، أَرَادَ سَفَرًا ، فقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوْصِنِي ، قَالَ : اعْبُدِ اللَّهَ لا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " إِذَا أَسَأْتَ ، فَأَحْسِنْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " اسْتَقِمْ وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! مزید عطا کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم برائی کرو، تو اچھائی بھی کر لو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم استقامت اختیار کرو اور تمہارے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 524]

525

Sahih Ibn Hibban #525

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى أَكُونُ مُحْسِنًا ؟ قَالَ : إِذَا قَالَ جِيرَانُكَ : أَنْتَ مُحْسِنٌ ، فَأَنْتَ مُحْسِنٌ ، وَإِذَا قَالُوا : إِنَّكَ مُسِيءٌ ، فَأَنْتَ مُسِيءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اچھائی کرنے والا کب شمار ہوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارا پڑوسی یہ کہے کہ تم اچھے ہو، تو تم اچھے ہو گے اور لوگ یہ کہیں گے کہ تم برے ہو، تو تم برے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 525]

526

Sahih Ibn Hibban #526

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ ؟ قَالَ : إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ ، فَقَدْ أَسَأْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اچھائی کی ہے یا میں نے برائی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھائی کی ہے، تو اس کا مطلب ہے تم نے اچھائی کی ہے اور جب تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برائی کی ہے، تو اس کا مطلب ہے تم نے برائی کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 526]

527

Sahih Ibn Hibban #527

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ " ، فقَالَ رَجُلٌ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لا يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَلا يُؤْمَنُ شَرُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو تمہارے بروں کے مقابلے میں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟“ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں زیادہ بہتر لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کی برائی سے محفوظ رہا جاتا ہے، اور تمہارے برے لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید نہیں کی جاتی اور جن کی برائی سے محفوظ نہیں رہا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 527]

528

Sahih Ibn Hibban #528

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ ، فقَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ " ؟ قَالَ : فَسَكَتُوا ، قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فقَالَ رَجُلٌ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا ، قَالَ :" خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لا يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَلا يُؤْمَنُ شَرُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس رکے اور ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں تمہارے اچھے یا برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کچھ دیر خاموش رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ہمیں ہمارے برے اور اچھوں کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں، جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کی برائی سے محفوظ رہا جاتا ہے اور تم میں سے برے لوگ وہ ہیں، جن سے بھلائی کی امید نہیں کی جاتی اور جن کی برائی سے محفوظ نہیں رہا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 528]

529

Sahih Ibn Hibban #529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ ، بِقَرْيَةِ سِنْجَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ لَكَ ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلالَةِ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا تمہارے لیے صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور تمہارا برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، تمہارا کسی شخص کی گم شدہ زمین پر رہنمائی کرنا تمہارے لیے صدقہ ہے، یا جس شخص کی نگاہ کمزور ہو تمہارا اسے راستہ دکھا دینا تمہارے لیے صدقہ ہے، اور تمہارا راستے سے کانٹے یا پتھر یا ہڈی کو ہٹا دینا تمہارے لیے صدقہ ہے، اور تمہارا اپنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں (پانی ڈال دینا تمہارے لیے صدقہ ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 529]

530

Sahih Ibn Hibban #530

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ وُصْلَةً لأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عُسْرٍ أَجَازَهُ اللَّهُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةَ عِنْدَ دَحْضِ الأَقْدَامِ "لَفْظُ الْخَبَرِ لابْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی حاکم کے سامنے اپنے کسی مسلمان بھائی تک بھلائی پہنچانے یا تنگی کو آسان کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پل صراط سے پار کروا دے گا، جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن قتیبہ کے نقل کردہ ہیں۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 530]

531

Sahih Ibn Hibban #531

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُوتَى فَأُسْأَلُ ، وَيُطْلَبُ إِلَيَّ الْحَاجَةُ ، وَأَنْتُمْ عِنْدِي ، فَاشْفَعُوا ، فَلْتُؤْجَرُوا ، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ أَوْ مَا شَاءَ "، قَالَ الشَّيْخُ : ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَرَادَ بِهِ ابْنَ ابْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهُوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک مجھے (مال و دولت) عطا کیا گیا ہے، اس لیے مجھ سے مانگا جاتا ہے اور مجھ سے حاجت طلب کی جاتی ہے اور تم لوگ میرے پاس ہوتے ہو، تم لوگ سفارش کیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چیز پسند کرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلہ سنا دیتا ہے۔“ شیخ کہتے ہیں: ابن ابوبردہ نامی راوی جو اس روایت میں مذکور ہیں، اس سے مراد ابن ابوبردہ کے صاحبزادے ہیں۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں: یہ برید بن عبداللہ بن ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 531]

532

Sahih Ibn Hibban #532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَدَغَتْ رَجُلا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ ؟ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ ، فَلْيَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک صاحب نے عرض کی: میں اسے دم کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو جو نفع پہنچا سکتا ہو، اسے وہ کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 532]

533

Sahih Ibn Hibban #533

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لا يَظْلِمُهُ وَلا يُسْلِمُهُ ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، فَرَّجَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا ، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے اس کے حال پر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے؛ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 533]

534

Sahih Ibn Hibban #534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان سے پریشانی کو دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں مشغول رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 534]

535

Sahih Ibn Hibban #535

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :أُنْزِلَتْ : عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى ، قَالَتْ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْشِدْنِي ، قَالَتْ : وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الآخَرِ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُلانُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا " فَيَقُولُ : لا ، فَنَزَلَتْ عَبَسَ وَتَوَلَّى "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ [سورة عبس: 1] ”اس نے ماتھے پر بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا“ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا کے بارے میں نازل ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! آپ میری رہنمائی کیجئے“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کے بڑوں میں سے ایک فرد بیٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے منہ پھیرتے رہے اور اس کی طرف متوجہ رہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں اس میں کوئی حرج ہے؟“ تو وہ جواب دیتا: ”جی نہیں“، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ [سورة عبس: 1] ”اس نے ماتھے پر بل ڈال لیے اور منہ پھیر لیا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 535]

536

Sahih Ibn Hibban #536

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَذَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اللَّهُ جَلَّ وَعَلا أَجَلُّ مِنْ أَنْ يَشْكُرَ عَبِيدَهُ ، إِذْ هُوَ الْبَادِئُ بِالإحْسَانِ إِلَيْهِمْ ، وَالْمُتَفَضِّلُ بِإتْمَامِهَا عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنَّ رِضَا اللَّهِ جَلَّ وَعَلا بِعَمَلِ الْعَبْدِ عَنْهُ يَكُونُ شُكْرًا مِنَ اللَّهِ ، جَلَّ وَعَلا عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص ایک مرتبہ ایک راستے میں جا رہا تھا، اسے راستے میں کانٹوں کی ایک شاخ نظر آئی، اس نے اسے لیا (اور ایک طرف کر دیا)، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے کہ وہ اپنے بندے کا شکر ادا کرے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کر کے ان کے ساتھ آغاز کرتا ہے، اور پھر اسے ان پر مکمل کر کے ان پر فضل کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے عمل سے راضی ہو جانا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر شمار ہو گا، جو بندے کے اس فعل پر ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 536]

537

Sahih Ibn Hibban #537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص ایک راستے سے جا رہا تھا، اسے راستے میں کانٹوں کی ٹہنی ملی، اس نے اسے پرے کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 537]

538

Sahih Ibn Hibban #538

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْكَتَّانِيُّ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ إِلا غُصْنُ شَوْكٍ كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ كَانَ يُؤْذِي النَّاسَ ، فَعَزَلَهُ ، فَغُفِرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا، تو اس کے نامۂ اعمال میں کانٹوں کی ٹہنی کے علاوہ اور کوئی بھلائی نہیں ملی۔ وہ ٹہنی ایک راستے میں پڑی ہوئی تھی، تو لوگوں کو اذیت دیتی تھی، اس شخص نے اسے پرے کر دیا تھا، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 538]

539

Sahih Ibn Hibban #539

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : غُفِرَ لِرَجُلٍ أَخَذَ غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ذَنْبُهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَا تَأَخَّرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک ایسے شخص کے گزشتہ اور آئندہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو گئی، جس نے لوگوں کے راستے میں سے کانٹوں کی ٹہنی لی تھی (اور ایک طرف کر دی تھی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 539]

540

Sahih Ibn Hibban #540

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَزَعَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ ، إِمَّا كَانَ فِي شَجَرَةٍ فَقَطَعَهُ فَأَلْقَاهُ ، وَإِمَّا كَانَ مَوْضُوعًا فَأَمَاطَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى قَوْلِهِ : " لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ " يُرِيدُ بِهِ : سِوَى الإِسْلامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص نے راستے سے کانٹوں کی شاخ ایک طرف کر دی۔ اس شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا، یا تو شاخ درخت میں لگی ہوئی تھی اور اس نے اسے کاٹ کر ایک طرف رکھ دیا تھا یا پھر راستے میں رکھی ہوئی تھی، تو اس نے اسے پرے کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ ”اس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا“ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے مسلمان ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 540]

541

Sahih Ibn Hibban #541

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَنْتَفِعُ بِهِ ، قَالَ : نَحِّ الأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ هَذَا وَالِدُ عُتْبَةَ الْغُلامِ ، وَأَبُو الْوَازِعِ : اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو بَرْزَةَ اسْمُهُ نَضْلَةُ بْنُ عُبَيْدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجیے جس کے ذریعے میں نفع حاصل کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو پرے کر دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابان بن صمعہ نامی راوی عتبہ غلام کے والد ہیں، اور ابووازع راوی کا نام جابر بن عمرو ہے، اور ابوبرزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 541]

542

Sahih Ibn Hibban #542

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تَرِدُ عَلَى حَوْضِي ، فَهَلْ فِيهَا أَجْرٌ إِنْ سَقَيْتُهَا ؟ قَالَ : اسْقِهَا ، فَإِنَّ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کوئی گم شدہ اونٹ میرے حوض پر آ جاتا ہے، تو اگر میں اسے پانی پلا دیتا ہوں، تو کیا اس کا اجر ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پانی پلا دو، کیونکہ ہر جاندار کے ساتھ اچھائی کرنے میں اجر ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 542]

543

Sahih Ibn Hibban #543

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَنَا رَجُلٌ إِلَى بِئْرٍ ، فَنَزَلَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَعَلَى الْبِئْرِ كَلْبٌ يَلْهَثُ ، فَرَحِمَهُ ، فَنَزَعَ إِحْدَى خُفَّيْهِ ، فَغَرَفَ لَهُ فَسَقَاهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص ایک کنویں کے پاس پہنچا، وہ اس کے اندر اترا، اس نے اس میں سے پانی پی لیا۔ اس کنویں کے کنارے پر ایک کتا ہانپ رہا تھا۔ اس شخص کو اس پر رحم آیا۔ اس نے اپنے ایک موزے کو اتارا اور اس میں پانی بھر کر اس کتے کو پلا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 543]

544

Sahih Ibn Hibban #544

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالا : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبُ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ بِي ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ ، فَمَلأَ خُفَّهُ مَاءً ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ ، فَسَقَى الْكَلْبَ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لأَجْرًا ؟ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا اسے شدید پیاس محسوس ہوئی۔ اسے ایک کنواں ملا، وہ اس کے اندر اتر گیا۔ اس نے اس میں سے پانی پیا اور جب وہ باہر نکلا، تو وہاں ایک کتا ہانپ رہا تھا۔ وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے زمین چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے سوچا اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہو گی، جس طرح مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں کے اندر اترا اس نے اپنے موزے میں پانی بھرا پھر اس نے منہ کے ذریعے اس موزے کو پکڑا اور اوپر چڑھ آیا پھر اس نے کتے کو پانی پلایا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا جانوروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) پر ہمیں اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر جاندار کے ساتھ (اچھا سلوک کرنے پر) اجر ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 544]

545

Sahih Ibn Hibban #545

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الأَنْصَارِيَّ ، أَنَّ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعَ سَأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ : أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا فَفَعَلَ ، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا فَأَمَّا عُيَيْنَةُ ، فقَالَ : مَا فِيهِ ؟ فقَالَ : فِيهِ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَقَبَّلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ ، وَأَمَّا الأَقْرَعُ ، فقَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً لا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ؟ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ، فقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا ، وَكُلُوهَا سِمَانًا ، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا ، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا يُغْنِيهِ ؟ قَالَ : " مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ " : أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الأَوْقَاتِ وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبُوهَا صِحَاحًا " كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْعَجْفَاءَ الضَّعِيفَةَ يَجِبُ أَنْ يُتَنَكَّبَ رُكُوبُهَا إِلَى أَنْ تَصِحَّ ، وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكُلُوهَا سِمَانًا " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْمَهْزُولَةَ الَّتِي لا نِقْيَ لَهَا يُسْتَحَبُّ تَرْكُ نَحْرِهَا إِلَى أَنْ تَسْمَنَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عیینہ اور اقرع رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے لیے وہ چیز لکھ دیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگا دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے سپرد کر دیں، عیینہ نے دریافت کیا کہ اس میں کیا ہے؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس میں وہ کچھ تحریر ہے جو مجھے حکم دیا گیا تھا۔ عیینہ نے اسے قبول کر لیا اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا، لیکن اقرع نے کہا کہ میں ایک ایسا صحیفہ اٹھا کر لے جاؤں جس کے بارے میں مجھے پتا ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا تحریر ہے، یہ تو دھوکے کے صحیفے کی مانند ہو گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے، آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو مسجد کے دروازے کے پاس بندھا ہوا تھا۔ یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے، جب آپ دن کے آخری حصے میں وہاں سے گزرے، تو وہ اونٹ اسی حالت میں موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟“ اسے تلاش کیا گیا تو وہ نہیں ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں اور انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ موٹے تازے ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز مانگے اور اس کے پاس وہ چیز موجود ہو جو اسے بے نیاز کر دے، تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو چیز اسے بے نیاز کر دے اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صبح اور شام کا کھانا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس کا صبح اور شام کا کھانا“ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیشہ ایسا کرے۔ ”تم صحیح ہونے کی حالت میں ان پر سواری کرو۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیمار اور کمزور اونٹنی کے حوالے سے یہ بات لازم ہے کہ جب تک وہ تندرست نہیں ہو جاتی اس پر سواری کرنے سے گریز کیا جائے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ موٹے تازے ہو جائیں۔“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ ایسی کمزور اونٹنی جس کے اندر گودا ہی نہ ہو، اس کے حوالے سے یہ بات مستحب ہے کہ اس کو اس وقت تک قربان نہ کیا جائے جب تک وہ موٹی تازی نہ ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 545]

546

Sahih Ibn Hibban #546

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ". أَخْبَرْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جسے اس نے باندھ دیا تھا، اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی زمین میں سے کچھ کھا پی لیتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 546]

547

Sahih Ibn Hibban #547

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَوَى مَالِكٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ إِلا هَذَا الْحَدِيثَ ، وَرَوَى الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) امام مالک رحمہ اللہ نے امام اوزاعی رحمہ اللہ کے حوالے سے صرف یہی روایت نقل کی ہے، جبکہ اوزاعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے حوالے سے چار روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 547]

548

Sahih Ibn Hibban #548

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ بھلائی سے محروم رہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 548]

549

Sahih Ibn Hibban #549

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الأُبُلِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ نرم ہے، وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 549]

550

Sahih Ibn Hibban #550

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاعِ وَقَالَ لِي : يَا عَائِشَةُ فَإِنَّالرِّفْقَ ، لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلا زَانَهُ ، وَلا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ إِلا شَانَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس اونچی (یا نیچی) زمین کے پاس تشریف لائے، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! تم مجھ سے نرمی سے کام لو، کیونکہ نرمی جس چیز میں ہو گی، اسے سنوار دے گی اور جس چیز سے الگ ہو گی، یہ اسے رسوا کر دے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 550]

551

Sahih Ibn Hibban #551

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ الْقُومِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلا زَانَهُ ، وَلا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلا شَانَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نرمی جس چیز میں بھی ہوگی، یہ اسے آراستہ کر دے گی اور فحش (یعنی سختی) جس چیز میں بھی ہوگی، اسے بگاڑ دے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 551]

552

Sahih Ibn Hibban #552

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ، وَمَا لا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نرم ہے اور وہ نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا اور جو نرمی کے علاوہ اور کسی چیز پر عطا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 552]