Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 6 · Chapter 1

The Book of Piety and Benevolence

Hadith 553–592

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

553

Sahih Ibn Hibban #553

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا : اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمَرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمان بن شماسہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کوئی چیز مانگنے کے لیے حاضر ہوا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گھر میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی بھی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان لوگوں پر سختی سے کام لے، تو اس پر سختی کرنا اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان کے ساتھ نرمی سے کام لے، تو اس پر نرمی کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 553]

554

Sahih Ibn Hibban #554

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلانَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : لا تُصَاحِبْ إِلا مُؤْمِنًا ، وَلا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلا تَقِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم صرف مومن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیزگار لوگ کھائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 554]

555

Sahih Ibn Hibban #555

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَصْحَبْ إِلا مُؤْمِنًا ، وَلا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلا تَقِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم صرف مؤمن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیزگار لوگ کھائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 555]

556

Sahih Ibn Hibban #556

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ ؟ قَالَ : إِنَّكَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن وہ ان کے عمل کی طرح عمل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم جس سے محبت رکھتے ہو، تم اس کے ساتھ ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 556]

557

Sahih Ibn Hibban #557

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلا يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 557]

558

Sahih Ibn Hibban #558

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلا بِالْجِعْرَانَةِ ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ بِلالٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ ، فقَالَ : أَلا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي ؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ ، فقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : لَقَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنَ الْبُشْرَى ، قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَبِلالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فقَالَ : " إِنَّهَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى ، فَاقْبَلا أَنْتُمَا " فَقَالا : قَبْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : " اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا أَوْ نُحُورِكُمَا " فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلا لأُمِّكُمَا فِي إِنَائِكُمَا ، فَأَفْضَلا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان ”جعرانہ“ کے مقام پر فروکش تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک دیہاتی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم خوشخبری قبول کرو۔“ دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ پہلے ہی مجھے بہت ساری خوشخبریاں دے چکے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کی طرف غصے کے عالم میں متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اس شخص نے خوشخبری کو مسترد کر دیا ہے، تو تم دونوں اسے قبول کر لو۔“ ان دونوں صاحبان نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے قبول کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی موجود تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس میں سے پی لو اور اسے اپنے چہروں اور سینوں کے اوپر بھی انڈیل لو۔“ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے پیالہ لیا اور ویسا ہی کیا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تھی، پردے کے پیچھے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکار کر کہا: اپنے برتن میں سے اپنی والدہ کے لیے بھی کچھ بچا لینا، تو ان دونوں نے اس میں سے (تھوڑا سا پانی) ان کے لیے بھی بچا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 558]

559

Sahih Ibn Hibban #559

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، بِدَرْبِ الرُّومِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَمْ يُحَدِّثِ ابْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ بِخُرَاسَانَ إِنَّمَا حَدَّثَ بِهِ بِدَرْبِ الرُّومِ ، فَسَمِعَ مِنْهُ أَهْلُ الشَّامِ ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِي كُتُبِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مَرْفُوعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ» ”برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ حدیث خراسان میں بیان نہیں کی تھی، یہ حدیث انہوں نے درب (روم) میں بیان کی، تو اہل شام نے ان سے اس حدیث کو سن لیا اور یہ حدیث ابن مبارک رحمہ اللہ کی کتابوں میں مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 559]

560

Sahih Ibn Hibban #560

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَيْوَةَ بْنَ شُرَيْحٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تُصَاحِبْ إِلا مُؤْمِنًا ، وَلا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلا تَقِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم صرف مومن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیزگار شخص کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 560]

561

Sahih Ibn Hibban #561

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً ، وَنَافِخُ الْكِيرِ ، إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الْمُقَايِسَاتِ فِي الدِّينِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال اسی طرح ہے جیسے کسی نے مشک اٹھایا ہوا ہو اور کوئی بھٹی جھونکتا ہو، تو مشک اٹھانے والے شخص سے یا تو تم اسے خرید لو گے یا پھر تم اس سے خوشبو حاصل کر لو گے اور بھٹی جھونکنے والا شخص یا تو تمہارے کپڑے کو جلا دے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دینی معاملات میں قیاس کرنا مباح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 561]

562

Sahih Ibn Hibban #562

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا مُحَمَّدُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ ، فَقُلْنَا : وَيْلَكَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا ، قَالَ : لا وَاللَّهِ حَتَّى أَسْمَعَهُ ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ : هَاؤُمُ " ، فقَالَ : أَرَأَيْتَرَجُلا أَحَبَّ قَوْمًا ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ "قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاؤُمُ " أَرَادَ بِهِ رَفَعَ الصَّوْتِ فَوْقَ صَوْتِ الأَعْرَابِيِّ ، لِئَلا يَأْثَمَ الأَعْرَابِيُّ بِرَفْعِ صَوْتِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اپنی آواز کو پست رکھو کیونکہ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ وہ بولا: نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک میں انہیں سنا نہیں لیتا (میں اپنی آواز نیچی نہیں کروں گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے اشارہ کیا کہ ”آگے آ جاؤ“۔ اس شخص نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ «هَاؤُمُ» اس سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی کی آواز سے زیادہ بلند آواز میں یہ لفظ کہا تاکہ وہ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کے حوالے سے گنہگار نہ ہو، یہ بات شیخ سے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 562]

563

Sahih Ibn Hibban #563

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 563]

564

Sahih Ibn Hibban #564

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ،مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ عَمَلٍ إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تو قائم ہو ہی جانا ہے۔ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل کی تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جس سے محبت رکھتے ہو، تم اس کے ساتھ ہو گے اور تم نے جس ثواب کی امید رکھی ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 564]

565

Sahih Ibn Hibban #565

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِمَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ ، فقَالَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا ، فَلا يُدْرِكُهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "زَادَ هُدْبَةُ : قَالَ أَنَسٌ : فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الأَلْفَاظِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِتَعْيِينِ خِطَابٍ مُرَادُهُ التَّحْذِيرُ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ تَحْذِيرَ النَّاسِ عَنِ الرُّكُونِ إِلَى هَذِهِ الدُّنْيَا ، بِتَعْرِيفِهِمُ الشَّيْءَ الَّذِي يَكُونُ بِخَلَدِهِمْ تَقَبُّلُ حَقِيقَتِهِ مِنْ قُرْبِ السَّاعَةِ عَلَيْهِمْ ، دُونَ اعْتِمَادِهِمْ عَلَى مَا يَسْمَعُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ اسی دوران نماز کھڑی ہو گئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تو قائم ہو ہی جانا ہے، تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل کی صورت میں تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص موجود تھا جس کا نام محمد تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ زندہ رہ گیا، تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔“ یہاں ہدبہ نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): یہ روایت ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جس میں خطاب کی تعین مطلق رکھی گئی ہے، اور اس سے مراد منع کرنا ہے وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس چیز سے منع کرنا مراد لیا ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف راغب ہوں اور ان کے سامنے ایسی چیز کی تعریف بیان کی ہے، جو ان کے ہمیشہ رہنے کے حوالے سے ہے کہ اس کی حقیقت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ ان لوگوں کے لیے قیامت کا وقت قریب ہے، اور انہیں اس چیز پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، جو وہ سن رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 565]

566

Sahih Ibn Hibban #566

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا تَحَابَّ اثْنَانِ فِي اللَّهِ ، إِلا كَانَ أَفْضَلَهُمَا أَشَدُّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بھی دو لوگ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، تو ان دونوں میں سے افضل وہ شخص ہوتا ہے، جو اپنے ساتھی سے زیادہ شدید محبت رکھتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 566]

567

Sahih Ibn Hibban #567

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الْجَهْمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ، وَالْمَكْرُ ، وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمیں دھوکا دے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے، مکر اور دھوکا جہنم میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 567]

568

Sahih Ibn Hibban #568

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ خَبَّثَ عَبْدًا عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا ، فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی بیوی کے حوالے سے دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف کر دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 568]

569

Sahih Ibn Hibban #569

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ هَذَا لِلَّهِ ، قَالَ : فَهَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ ؟ " قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ " ، قَالَ : فَاتَّبَعْتُهُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : وَاللَّهِإِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ ، قَالَ هُوَ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ قُلْتُ : لَوْلا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمُكَ لَمْ أَفْعَلْ "تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کو سلام کیا پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ بات اپنے بھائی کو بتا دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پیچھے گیا۔ میں اس تک پہنچ گیا۔ میں نے اسے کندھے سے پکڑا۔ میں نے اسے سلام کیا اور میں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں، تو انہوں نے بھی یہ کہا: اللہ کی قسم! میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ میں نے بتایا: اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو یہ بات بتا دوں، تو میں ایسا نہ کرتا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ازرق بن علی نامی راوی منفرد ہے اور یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 569]

570

Sahih Ibn Hibban #570

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُعْلِمْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت رکھتا ہو، تو وہ اسے بتا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 570]

571

Sahih Ibn Hibban #571

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، كِتَابَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِإِنِّي لأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " قُمْ أَعْلِمْهُ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فقَالَ : يَا هَذَا ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ، قَالَ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص وہاں سے گزرا، حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اٹھو اور اسے یہ بتاؤ۔“ تو وہ شخص اٹھ کر اس کے پاس گیا اور بولا: اے صاحب! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں، تو ان صاحب نے جواب دیا: «أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ» ”جس ذات کی خاطر آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں وہ ذات آپ سے بھی محبت رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 571]

572

Sahih Ibn Hibban #572

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَجُلا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، قَالَ : فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا ، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ ، قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، فقَالَ لَهُ : هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لا ، غَيْرَأَنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے دوسری بستی میں گیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو متعین کیا۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا، تو فرشتے نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ تو اس نے بتایا: میں اس بستی میں اپنے بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے اس سے کہا: کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی جس کا تم بدلہ دینا چاہتے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا: جی نہیں، میں اللہ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں، تو فرشتے نے کہا: میں اللہ کی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہاری طرف آیا ہوں؛ اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح محبت رکھتا ہے، جس طرح تم اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اس شخص سے محبت رکھتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 572]

573

Sahih Ibn Hibban #573

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنْ عِبَادِ اللَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ ، قِيلَ : مَنْ هُمْ لَعَلَّنَا نُحِبُّهُمْ ؟ قَالَ : هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِنُورِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَرْحَامٍ وَلا انْتِسَابٍ ، وُجُوهُهُمْ نُورٌ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، لا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ ، وَلا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں، جو نبی نہیں ہیں، لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کرتے ہیں۔“ دریافت کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں؟ (ہمیں بھی اس بارے میں بتایا جائے) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو کسی رشتے داری یا کسی اور نسبت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کے چہرے نور والے ہوں گے اور یہ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے؛ جب لوگ خوف زدہ ہوں گے اس وقت انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، جب لوگ غمگین ہوں گے اس وقت انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [سورة يونس: 62] ”خبردار! بیشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ لوگ غمگین ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 573]

574

Sahih Ibn Hibban #574

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِي ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي ، يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنا سایۂ رحمت عطا کروں گا۔ ایک ایسے دن میں، جب میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 574]

575

Sahih Ibn Hibban #575

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًى بَرَّاقُ الثَّنَايَا ، وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ ، إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ ، أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ ، وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقِيلَ : هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ ، هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ ، وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ، قَالَ : فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ ، فقَالَ : آللَّهُ ؟ قُلْتُ : آللَّهُ ، فَأَخَذَ بِحَبْوَةِ رِدَائِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ : أَبْشِرْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، كَانَ سَيِّدَ قُرَّاءِ أَهْلِ الشَّامِ فِي زَمَانِهِ ، وَهُوَ الَّذِي أَنْكَرَ عَلَى مُعَاوِيَةَ مُحَارَبَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حِينَ ، قَالَ لَهُ : مَنْ أَنْتَ حَتَّى تُقَاتِلَ عَلِيًّا ، وَتُنَازِعُهُ الْخِلافَةَ ، وَلَسْتَ أَنْتَ مِثْلَهُ ، لَسْتَ زَوْجَ فَاطِمَةَ وَلا بِأَبِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَلا بِابْنِ عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْفَقَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُفْسِدَ قُلُوبَ قُرَّاءِ الشَّامِ ، فقَالَ لَهُ : إِنَّمَا أَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَلَيْسَ عَلِيٌّ قَاتِلَهُ ، قَالَ : لَكِنَّهُ يَمْنَعُ قَاتِلَهُ عَنْ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ ، قَالَ : اصْبِرْ حَتَّى آتِيَهُ ، فَأَسْتَخْبِرُهُ الْحَالَ ، فَأَتَى عَلِيًّا وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ لَهُ : مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : اللَّهُ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ ، عَنَى : وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ ، وَقِيلَ : أَرَادَ اللَّهُ قَتْلَهُ ، وَأَنَا حَارَبْتُهُ ، فَجَمَعَ جَمَاعَةَ قُرَّاءِ الشَّامِ وَحَثَّهُمْ عَلَى الْقِتَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو ادریس خولانی بیان کرتے ہیں: میں مسجدِ دمشق میں داخل ہوا تو وہاں ایک نوجوان موجود تھا جس کے سامنے کے دانت انتہائی چمک دار تھے۔ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، جب ان لوگوں کے درمیان کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا تو وہ لوگ اس کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس کی رائے پر عمل کرتے تھے۔ میں نے اس نوجوان کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں جلدی آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان مجھ سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ ابو ادریس کہتے ہیں: میں ان صاحب کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں سامنے کی طرف سے ان کے پاس آیا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ کی خاطر؟ میں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کی خاطر۔ انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور بولے: تم یہ خوشخبری حاصل کر لو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میری محبت ان لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابو ادریس خولانی نامی راوی کا نام عائذ اللہ بن عبداللہ ہے۔ یہ اپنے زمانے میں شام سے تعلق رکھنے والے علمِ قرأت کے ماہرین کے سردار ہیں۔ یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرنے کا انکار کیا تھا۔ جب انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: آپ کون ہوتے ہیں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کریں اور خلافت کے حوالے سے ان کے ساتھ جھگڑا کریں؟ آپ ان کی مانند نہیں ہیں۔ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (جیسی خاتون) کے شوہر نہیں ہیں۔ آپ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جیسے حضرات) کے والد نہیں ہیں۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد نہیں ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات سے ڈر گئے کہ کہیں وہ شام کے قاریوں کے ذہن خراب نہ کر دیں۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کا طلب گار ہوں، تو انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تو انہیں قتل نہیں کیا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل سے قصاص لینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: آپ صبر سے کام لیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور حقیقتِ حال جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا اور پھر ان سے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی: ان کے ساتھ میں بھی مقتول ہوں۔ اور ایک قول یہ ہے: ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور میں نے اس بارے میں بچنے کی کوشش کی۔ (لیکن) ابو ادریس خولانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے شام کی ایک جماعت کو اکٹھا کیا اور انہیں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کی ترغیب دی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 575]

576

Sahih Ibn Hibban #576

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَجُلا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا ، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ ، قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَزُورُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، فقَالَ : هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لا ، إِلاأَنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے دوسری بستی میں گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو تعینات کر دیا۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس آیا، تو اس فرشتے نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اس بستی میں اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے دریافت کیا: کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی اچھائی کی تھی جس کا تم بدلہ دے رہے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا: جی نہیں! میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس سے محبت رکھتا ہوں، تو فرشتے نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح محبت رکھتا ہے، جس طرح تم اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اس شخص سے محبت رکھتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 576]

577

Sahih Ibn Hibban #577

فقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : حُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ، وَهُمْ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ بِمَكَانِهِمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَوْبٍ ، يَمَانِيٌّ ، تَابِعِيٌّ ، مِنْ أَفَاضِلِهِمْ وَأَخْيَارِهِمْ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَهُ الْعَنْسِيُّ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِنَارٍ عَظِيمَةٍ ، فَأُجِّجَتْ وَخَوَّفَهُ أَنْ يَقْذِفَهُ فِيهَا إِنْ لَمْ يُوَاتِهِ عَلَى مُرَادِهِ ، فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَقَذَفَهُ فِيهَا ، فَلَمْ تَضُرَّهُ فَاسْتَعْظَمَ ذَلِكَ ، وَأَمَرَ بِإخْرَاجِهِ مِنَ الْيَمَنِ ، فَأُخْرِجَ فَقَصَدَ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فقَالَ لَهُ : مَا فَعَلَ الْفَتَى الَّذِي أُحْرِقَ ؟ فقَالَ : لَمْ يَحْتَرِقْ ، فَتَفَرَّسَ فِيهِ عُمَرُ أَنَّهُ هُوَ ، فقَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِاللَّهِ ، أَنْتَ أَبُو مُسْلِمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عُمَرُ حَتَّى ذَهَبَ بِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَسُرَّا بِذَلِكَ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أُرَانَا فِي هَذِهِ الأُمَّةِ مَنْ أُحْرِقَ فَلَمْ يَحْتَرِقْ ، مِثْلَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ : إِنَّهُ كَانَ لَهُ امْرَأَةٌ صَبِيحَةُ الْوَجْهِ ، فَأَفْسَدَتْهَا عَلَيْهِ جَارَةٌ لَهُ ، فَدَعَا عَلَيْهَا ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَعْمِ مَنْ أَفْسَدَ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَبَيْنَمَا الْمَرْأَةُ تَتَعَشَّى مَعَ زَوْجِهَا إِذْ قَالَتِ : انْطَفَأَ السِّرَاجُ ؟ قَالَ زَوْجُهَا : لا ، فَقَالَتْ : فَقَدْ عَمِيتُ ، لا أُبْصِرُ شَيْئًا ، فَأُخْبِرَتْ بِدَعْوَةِ أَبِي مُسْلِمٍ عَلَيْهَا ، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ : أَنَا قَدْ فَعَلْتُ بِامْرَأَتِكَ ذَلِكَ ، وَأَنَا قَدْ غَرَّرْتُهَا وَقَدْ تُبْتُ ، فَادْعُ اللَّهَ يَرُدُّ بَصَرِي إِلَيَّ ، فَدَعَا اللَّهَ وَقَالَ : اللَّهُمَّ رُدَّ بَصَرَهَا ، فَرَدَّهُ إِلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسلم خولانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں، لیکن کسی دنیاوی وجہ سے نہیں رکھتا کہ جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ مجھے آپ کی طرف سے وہ مل جائے گی اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کوئی قرابت ہے، جس کی وجہ سے میں یہ محبت رکھتا ہوں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تو پھر کس وجہ سے رکھتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے میری چادر کا کنارہ کھینچا اور پھر ارشاد فرمایا: ”اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو تم یہ خوشخبری حاصل کر لو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن عرش کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور ان لوگوں کے مقام پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔““ راوی بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے انہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی، تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے کی خیر خواہی رکھنے والے لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ میری محبت، میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ یہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے اور ان کے مقام پر انبیاء اور صدیقین رشک کریں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومسلم خولانی نامی راوی کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، یہ یمانی ہیں اور تابعی ہیں۔ یہ تابعین میں سے فضیلت رکھنے والے اور بہتر لوگوں میں سے ایک ہیں۔ یہ وہ ہیں جن سے عنسی نے یہ کہا تھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ اس نے پھر دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ عنسی کے حکم کے تحت ڈھیر ساری آگ جلائی گئی، تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا، اگر وہ اس کی مراد میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے، لیکن انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، تو اس نے انہیں آگ میں ڈال دیا، لیکن انہیں آگ کا کوئی نقصان نہیں ہوا، تو عنسی نے اس بات کو بہت بڑا شمار کیا۔ اس کے حکم کے تحت انہیں یمن بھجوا دیا گیا۔ انہیں وہاں سے نکالا گیا، تو یہ مدینہ منورہ آ گئے، وہاں ان کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا: ”کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے اس بارے میں بتایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اس نوجوان کا کیا بنا جس کو جلایا گیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا: ”وہ جلا نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگا لیا کہ یہی وہ صاحب ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم ابومسلم ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور انہوں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، تو وہ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما اس پر بہت خوش ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں اس امت میں ایسا شخص دکھایا ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح جلایا گیا، لیکن وہ جلا نہیں۔“ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے: ان کی اہلیہ بہت خوبصورت تھیں۔ ان کی ایک پڑوسن نے اس خاتون کو خراب کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے اس کو بد دعا دی: ”اے اللہ! جو میری بیوی کو خراب کرنا چاہتا ہے، تو اسے اندھا کر دے۔“ تو وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی رات کا کھانا کھا رہی تھی، اسی دوران اس نے دریافت کیا: ”کیا تم نے چراغ بجھا دیا ہے؟“ اس کے شوہر نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ تو اس نے کہا: ”میں اندھی ہو گئی ہوں، مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔“ پھر اس عورت کو ابومسلم کی اسے دی گئی بد دعا کے بارے میں بتایا گیا تو وہ عورت ان کے پاس آئی اور بولی: ”میں نے آپ کی بیوی کے بارے میں اس طرح کرنے کی کوشش کی تھی، میں نے اسے دھوکہ بھی دیا، اب میں توبہ کرتی ہوں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ میری بینائی کو واپس کر دے۔“ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور یہ کہا: ”اے اللہ! اس عورت کی بینائی کو واپس کر دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بینائی کو واپس کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 577]

578

Sahih Ibn Hibban #578

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : فِي النَّارِ " فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّأَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے دریافت کیا: ”میرے والد کہاں ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جہنم میں۔“ جب وہ مڑ کر واپس گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور ارشاد فرمایا: ”میرا باپ اور تمہارا باپ جہنم میں ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 578]

579

Sahih Ibn Hibban #579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ ، إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْهُ ، أَصَابَكَ رِيحُهُ ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْقَيْنِ ، إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ بِشَرَرِهِ ، عَلِقَ بِكَ مِنْ رِيحِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نیک ہم نشین کی مثال عطار کی مانند ہے، اگر تم اس سے کچھ خریدتے نہیں ہو، تو بھی اس کی خوشبو تم تک پہنچ جائے گی اور برے ہم نشین کی مثال لوہار کی طرح ہے، اگر وہ اپنے شرارے کے ذریعے تمہیں جلاتا نہیں ہے، تو بھی اس کی بدبو تم تک پہنچے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 579]

580

Sahih Ibn Hibban #580

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ ثَالِثٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 580]

581

Sahih Ibn Hibban #581

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُكَلِّمُهُ ، فقَالَ لَهُمَا : اسْتَرْخِيَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میرے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ ایک اور شخص آیا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں صاحبان سے کہا: آپ دونوں پرے ہو جائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 581]

582

Sahih Ibn Hibban #582

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ ، وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ ، فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلا ، حَتَّى كُنَّا أَرْبَعَةً ، فقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَا ، اسْتَرْخِيَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، خالد بن عقبہ کے بازار میں موجود گھر کے پاس موجود تھے، وہاں ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرنا چاہی، اس وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ میرے علاوہ اور اس شخص کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا جو ان کے ساتھ سرگوشی میں بات کرنا چاہتا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اور شخص کو بلوایا، یہاں تک کہ ہم چار افراد ہو گئے، تو انہوں نے مجھے اور جس شخص کو انہوں نے بلوایا تھا اسے یہ کہا: کہ تم دونوں پرے ہو جاؤ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دو آدمی ایک کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 582]

583

Sahih Ibn Hibban #583

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلاثَةً ، فَلا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا حَتَّى يَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم لوگ تین آدمی ہو، تو دو آدمی اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں، یہاں تک کہ جب وہ لوگوں میں گھل مل جائیں (تو آپس میں سرگوشی میں بات کر سکتے ہیں)، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کر دے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 583]

584

Sahih Ibn Hibban #584

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ "قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَقُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : فَأَرْبَعَةٌ ؟ قَالَ : لا يَضُرُّكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو آدمی اپنے (تیسرے) ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کر دے گی۔“ ابوصالح نامی راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: اگر چار آدمی ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 584]

585

Sahih Ibn Hibban #585

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَجَالِسُ ثَلاثَةٌ : سَالِمٌ ، وَغَانِمٌ ، وَشَاجِبٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجالس کی تین قسمیں ہیں۔ (یعنی محفل میں تین طرح کے لوگ شریک ہوتے ہیں) سلامتی والا (یعنی جو خاموش رہتا ہے) اور غنیمت حاصل کرنے والا (یعنی جو بھلائی کا حکم دیتا ہے) اور غمگین ہونے والا (جو غلط بات کرتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 585]

586

Sahih Ibn Hibban #586

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَرَادِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جائے، بلکہ تم کشادگی اور وسعت اختیار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 586]

587

Sahih Ibn Hibban #587

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ رَجُلا مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 587]

588

Sahih Ibn Hibban #588

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص کسی محفل سے اٹھ کر جائے اور پھر وہاں واپس آ جائے، تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 588]

589

Sahih Ibn Hibban #589

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ کو بائیں طرف موجود تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 589]

590

Sahih Ibn Hibban #590

أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَارَةَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَافِظُ ، بِالْكَرْجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي مَجْلِسٍ ، فَتَفَرَّقُوا مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ ، وَالصَّلاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کچھ لوگ کسی محفل میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر اس محفل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر جدا ہو جاتے ہیں، تو یہ چیز قیامت کے دن ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 590]

591

Sahih Ibn Hibban #591

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنْ أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بھی کچھ لوگ کسی جگہ پر اکٹھے بیٹھتے ہیں اور وہ وہاں اللہ کا ذکر نہیں کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہیں بھیجتے، تو یہ چیز قیامت کے دن ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی، اگرچہ انہیں ثواب کے لیے جنت میں داخل کر دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 591]

592

Sahih Ibn Hibban #592

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کچھ لوگ کسی جگہ پر بیٹھتے ہیں اور وہ وہاں اللہ کا ذکر نہیں کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہیں بھیجتے، تو یہ چیز قیامت کے دن ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گی، اگرچہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 592]