Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 5 · Chapter 2

The Book of Faith

Hadith 479–518

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

479

Sahih Ibn Hibban #479

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل ایمان میں ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 479]

480

Sahih Ibn Hibban #480

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِخُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مومن اپنے اخلاق کے ذریعے روزہ دار اور نوافل ادا کرنے والے شخص کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 480]

481

Sahih Ibn Hibban #481

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَشُعَيْبُ بْنُ مُحْرِزٍ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَطَاءٌ هَذَا هُوَ عَطَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكَيْخَارَانَ : مَوْضِعٌ بِالْيَمَنِ وَأُمُّ الدَّرْدَاءِ : هِيَ الصُّغْرَى وَاسْمُهَا هُجَيْمَةُ بِنْتُ حُيَيٍّ الأَوْصَابِيَّةُ ، وَالْكُبْرَى : خَيْرَةُ بِنْتُ أَبِي حَدْرَدٍ الأَنْصَارِيَّةُ ، لَهَا صُحْبَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میزان میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطاء نامی راوی عطاء بن عبداللہ ہے، اور کیخاران یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ سیده ام درداء کمسن ہیں ان کا نام ہجیمہ بنت حیی ہے، جبکہ بڑی والی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا نام خیره بنت ابوحدرد انصاریہ ہے، اور وہ صحابیہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 481]""

482

Sahih Ibn Hibban #482

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَحَبَّكُمْ إِلَى اللَّهِ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَى اللَّهِ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک تم میں سےاللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور تم میں سے، میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے ہوں اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور تم میں سے مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہیں جو زیادہ بولتے ہوں۔ باتیں بڑھا چڑھا کر کرتے ہوں اور چبا چبا کر بولتے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 482]

483

Sahih Ibn Hibban #483

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَرَمُ الْمَرْءِ دِينُهُ ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کی عزت اس کا دین ہے۔ اس کی مروت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 483]

484

Sahih Ibn Hibban #484

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلاقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن کی عمر زیادہ طویل ہو اور جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 484]

485

Sahih Ibn Hibban #485

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَجْلِسٍ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا ، قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَحْسَنُكُمْ أَخْلاقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جو تم میں سے میرے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھے ہوں گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 485]

486

Sahih Ibn Hibban #486

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِنَا الرَّخَمَ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي كَذَا ، أَفْتِنَا فِي كَذَا ، فقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّاللَّهَ قَدْ وَضَعَ عَنْكُمُ الْحَرَجَ ، إِلا امْرَأً اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ " قَالُوا : أَفَنَتَدَاوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ " ، قَالُوا : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْهَرَمُ " ، قَالُوا : فَأَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہمارے سروں پر گھونسلے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص کلام نہیں کرتا تھا اس دوران کچھ دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس مسئلے کے بارے میں فتوی دیجئے۔ آپ ہمیں اس مسئلے کے بارے میں فتوی دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم سے حرج کو اٹھا لیا ہے۔ ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے بھائی کی عزت کو خراب کرنے کی کوشش کرے۔ یہ وہ شخص ہے، جو گناہ کا ارتکاب کرے گا اور ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم دوا استعمال کر سکتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دوا بھی نازل کی ہے۔ صرف ایک بیماری کا معاملہ مختلف ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سی؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا لوگوں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون شخص زیادہ محبوب ہے؟ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں زیادہ محبوب وہ شخص ہے، جس کے اخلاق اچھے ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 486]

487

Sahih Ibn Hibban #487

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ :لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، أُصِيبَ مِنَ الأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسَبْعُونَ ، وَمِنْهُمْ سِتَّةٌ فِيهِمْ حَمْزَةُ ، فَمَثَّلُوا بِهِمْ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ ، أَنْزَلَ اللَّهُ : وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرينَ سورة النحل آية 126 َ ، فقَالَ رَجُلٌ : لا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ غَيْرَ أَرْبَعَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے دن انصار کے 74 آدمی شہید ہوئے اور ان میں سے چھ آدمی شہید ہوئے جن میں سے ایک سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان (کافر) لوگوں نے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی تو انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا، تو ہم بھی انہیں پورا بدلہ دیں گے۔ جب فتح مکہ کا موقع آیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اگر تم سزا دینا چاہتے ہو، تو اس کی مانند سزا دو جو سلوک تمہارے ساتھ کیا گیا تھا، اور اگر تم صبر سے کام لو، تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے۔“ ایک شخص نے کہا: آج کے بعد قریش بالکل نہیں رہیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار لوگوں کے علاوہ اور کسی کو قتل نہ کرنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 487]

488

Sahih Ibn Hibban #488

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ ، وَلا ضَرَبَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ ، وَلا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ ، إِلا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ ، فَيَنْتَقِمُهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ ، انْتَقَمَ لَهُ ، وَلا عَرَضَ لَهُ أَمْرَانِ ، إِلا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ ، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا ، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خادم کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نہ ہی آپ نے کبھی اپنی کسی اہلیہ کو مارا، نہ ہی آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کسی چیز کو کبھی مارا، البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران (دشمنوں کو مارتے تھے) اور جب بھی آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی، تو آپ نے اس زیادتی کرنے والے سے انتظام نہیں لیا، البتہ اگراللہ تعالیٰ کے لئے (انتقام لینا ہو، تو وہ لیا ہے)، کیونکہ اگر کوئی معاملہاللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا تھا، تو آپ اس کا انتقام لیتے تھے اور جب بھی آپ کے سامنے دو قسم کی صورت حال پیش آئی، تو آپ نے ان میں سے اس صورت حال کو اختیار کیا جو زیادہ آسمان تھی۔ بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتی، تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 488]

489

Sahih Ibn Hibban #489

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ " لَفْظَةٌ يَشْتَمِلُ اسْتِعْمَالُهَا عَلَى شُعَبٍ كَثِيرَةٍ بِاخْتِلافِ أَحْوَالِ الْمُخَاطَبِينَ فِيهَا قَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لِهَذَا الْوَصْفِ فِيمَا قَبْلُ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْشُوا السَّلامَ " لَفْظَةٌ أُطْلِقَتْ عَلَى الْعُمُومِ لا يَجِبُ اسْتِعْمَالُهُ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا اسْتَعْمَلَ ذَلِكَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ ، ضَاقَ بِهِ الأَمْرُ ، وَخَرَجَ إِلَى مَا لَيْسَ فِي وُسْعِهِ ، وَتَكَلَّفَ إلْزَامَ الْفَرَائِضِ بِالرَّدِّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا كَانَ الرَّدُّ هُوَ الْفَرْضُ صَارَ عَلَى الْكِفَايَةِ ، كَانَ ابْتِدَاءُ السَّلامِ الَّذِي لَيْسَ لَهُ تَخْصِيصٌ فَرْضٌ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ عَلَى الْكِفَايَةِ ، وَقَوْلُهُ : " أَطْعِمُوا الطَّعَامَ " أَمْرٌ نُدِبَ إِلَى اسْتِعْمَالِهِ ، وَحُثَّ عَلَيْهِ قَصْدًا لِطَلَبِ الثَّوَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رحمان کی عبادت کرو (اپنے درمیان) سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم رحمن کی عبادت کرو یہ ایسے الفاظ ہیں، جو مخاطبین کے اختلاف کے حوالے سے کئی شعبوں کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں، جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، جو اس وصف کے ہمراہ ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم لوگ سلام کو پھیلاؤ“ یہ ایسے الفاظ ہیں، جو عموم پر اطلاق کیے جاتے ہیں، لیکن تمام حالتوں میں ان کا استعمال واجب نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آدمی ان کو تمام حالتوں میں استعمال کرے گا، اور ہر شخص کے لئے کرے گا، تو پھر معاملہ تنگی کا باعث بن جائے گا، اور یہ چیز آدمی کی گنجائش سے باہر نکل آئے گی اور اس صورت میں مسلمانوں پر یہ بات لازم کرنا آئے گا کہ وہ سلام کا جواب دیں، کیونکہ سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ تو یہ چیز کفایت کر جائے گی، تو وہ سلام، جو آغاز میں کیا جاتا ہے، جس کے فرض ہونے کی تخصیص نہیں ہے مناسب ہے کہ وہ کفایت کر جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم لوگ کھانا کھلاؤ۔“ یہ ایسا حکم ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے، اور اس کا مقصود ثواب کے حصول کے لئے اس کی ترغیب دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 489]""

490

Sahih Ibn Hibban #490

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ لِيَ الْجَنَّةَ ، قَالَ :" عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلامِ ، وَبَذْلِ السَّلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح اپنے والد ہانی کا بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جو میرے لئے جنت کو واجب کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمدہ کلام کرنا اور سلام کو پھیلانا تم پر لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 490]

491

Sahih Ibn Hibban #491

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ قِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَفْشُوا السَّلامَ تَسْلَمُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سلام کو پھیلاؤ تم لوگ سلامت رہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 491]

492

Sahih Ibn Hibban #492

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ "، قَالَ قَتَادَةُ : وَكَانَ الْحَسَنُ يُصَافِحُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مصافحہ ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ قتادہ بیان کرتے ہیں: حسن (بصری) مصافحہ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 492]""

493

Sahih Ibn Hibban #493

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ ، فقَالَ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ ، فقَالَ : عَشْرُ حَسَنَاتٍ " ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرَ ، فقَالَ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فقَالَ : " عِشْرُونَ حَسَنَةً " ، فَمَرَّ رَجُلٌ آخَرَ ، فقَالَ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، فقَالَ : " ثَلاثُونَ حَسَنَةً " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَوْشَكَ مَا نَسِيَ صَاحِبُكُمْ !إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنْ قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے۔ اس نے عرض کی: سلام علیکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کو) دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص گزرا اس نے کہا: السلام علیکم ورحمة الله، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیس نیکیاں پھر اور ایک شخص گزرا اس نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس نیکیاں، پھر حاضرین میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے سلام نہیں کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہو سکتا ہے تمہارا یہ ساتھی (سلام کرنا) بھولا نہ ہو گا، جو شخص کسی محفل میں آئے، تو سلام کرے اگر اسے مناسب لگے، تو وہاں بیٹھ جائے اور اگر اٹھ کر جانا چاہے، تو پھر سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حق دار نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 493]

494

Sahih Ibn Hibban #494

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کسی محفل میں آئے، تو اسے سلام کرنا چاہئے پھر اگر اسے وہاں بیٹھنا مناسب لگے، بیٹھ جائے اور جب کھڑا ہو، تو سلام کرنا چاہئے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حق دار نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 494]

495

Sahih Ibn Hibban #495

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ، وَإِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص کسی محفل میں آئے، تو اسے سلام کرنا چاہئے اور جب وہ اٹھے، تو سلام کرنا چاہئے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے زیادہ حقدار نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 495]

496

Sahih Ibn Hibban #496

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ ، فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ "، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : وَأَخْبَرْنَاهُ ابْنُ عَجْلانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص محفل میں آئے، تو اسے سلام کرنا چاہئے پھر اگر اسے بیٹھنا مناسب لگے، تو بیٹھ جائے، تو جب وہ کھڑا ہو، تو اسے پھر سلام کرنا چاہئے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حق دار نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 496]

497

Sahih Ibn Hibban #497

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِيُسَلِّمِ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سوار شخص کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنا چاہئے اور پیدل چلنے والے شخص کو بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنا چاہئے اور تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں کو سلام کرنا چاہئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 497]

498

Sahih Ibn Hibban #498

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْمَاشِيَانِ أَيُّهُمَا بَدَأَ فَهُوَ أَفْضَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سوار شخص کو پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والے کو بیٹھے ہوئے شخص کو، سلام کرنا چاہئے اور دو پیدل چلنے والوں میں سے جو پہلے سلام کرے گا وہ زیادہ فضیلت والا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 498]

499

Sahih Ibn Hibban #499

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، إِنْ عَاشَ رُزِقَ وَكُفِيَ ، وَإِنْ مَاتَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ : مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ فَسَلَّمَ ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَمْ يَطْعَمْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً مِنْ طَيِّبَاتِ الدُّنْيَا شَيْئًا غَيْرَ الْحَسْوِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کی ضمانتاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ اگر وہ زندہ رہے، تو انہیں رزق دیا جائے گا اور ان کی کفایت کی جائے گی اور اگر وہ فوت ہو جائیں، تواللہ تعالیٰ انہیں، جنت میں داخل کرے گا، جو شخص اپنے گھر میں داخل ہو کر سلام کرے، تو وہ شخصاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور جو شخص نکل کر مسجد کی طرف جائے، تو وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) نکلے وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن معافی نے اٹھارہ سال تک دنیا کی پاکیزہ چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں کھائی، وہ افطار کے وقت شوربا وغیرہ پی لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 499]""

500

Sahih Ibn Hibban #500

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُبَادِرُوا أَهْلَ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل کتاب کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، جب تمہارا ان سے راستے میں سامنا ہو، تو انہیں زیادہ تنگ راستے پر جانے پر مجبور کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 500]

501

Sahih Ibn Hibban #501

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالأَهْوَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَبْدَءُوا أَهْلَ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اہل کتاب کو سلام میں پہل نہ کرو جب تم انہیں کسی راستے میں دیکھو، تو انہیں زیادہ تنگ راستے پر جانے کے لئے مجبور کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 501]

502

Sahih Ibn Hibban #502

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْ وَعَلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”یہودی جب تم لوگوں کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے: «السَّامُ عَلَيْكَ» (یعنی تمہیں موت آئے)، تو تم یہ کہو: «وَعَلَيْكَ» (تمہیں بھی آئے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 502]

503

Sahih Ibn Hibban #503

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّيَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابِهِ ، فقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، سَلَّمَ عَلَيْنَا ، قَالَ : " لا ، إِنَّمَا ، قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، أَيْ : تُسَامُونَ دِينَكُمْ ، فَإِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سلام کرتے ہوئے «السَّامُ عَلَيْكَ» ”آپ لوگوں کو موت آئے“ کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم یہ بات جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! اس نے ہمیں سلام کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، اس نے «السَّامُ عَلَيْكَ» یعنی ”تمہارا دین کمزور ہو“ کہا ہے، تو جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں (اس طرح سے) سلام کرے، تو تم یہ کہو: «وَعَلَيْكَ» ”اور تم پر بھی ایسا ہی ہو“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 503]

504

Sahih Ibn Hibban #504

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنِ ابْنِ هَانِئٍ أَنَّ هَانِئًا لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ " ؟ قَالَ : قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا بِي حَكَمًا فَأَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ، فقَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَحَسَنٌ ، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ " ؟ قَالَ شُرَيْحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَمُسْلِمٌ ، قَالَ : " فَأَيُّهُمْ أَكْبَرُ " ؟ قَالَ : شُرَيْحٌ ، قَالَ : " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ " فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ ، فَلَمَّا أَرَادَ الْقَوْمُ الرُّجُوعَ إِلَى بِلادِهِمْ ، أَعْطَى كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْضًا حَيْثُ أَحَبَّ فِي بِلادِهِ ، قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ لِيَ الْجَنَّةَ ، قَالَ :" طِيبُ الْكَلامِ ، وَبَذْلُ السَّلامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ہانی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ہمراہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے افراد کو سنا کہ وہ سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ کو «أَبُو الْحَكَمِ» ”ابوالحکم“ کی کنیت کے ساتھ بلا رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ہی «الْحَكَمُ» ”حکم“ ہے اور «الْحُكْمُ» ”حکم“ اسی کی طرف لوٹتا ہے، تو پھر تمہاری کنیت «أَبُو الْحَكَمِ» ”ابوالحکم“ کیوں ہے؟“ سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جب میری قوم کے افراد کسی چیز کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں، تو وہ میرے حکم (ثالث) ہونے سے راضی ہوتے ہیں، تو میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اچھی بات ہے“، اور یہ جو بچے ہیں شریح، عبداللہ اور مسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان میں کون بڑا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: شریح، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ابوشریح ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بچوں کو بلایا، جب ان کی قوم کے افراد اپنے علاقے میں واپس جانے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک شخص کو وہ زمین عطا کی جو اسے اپنے علاقے میں پسند ہو، تو سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جو میرے لیے جنت کو واجب کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاکیزہ کلام کرنا، سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 504]

505

Sahih Ibn Hibban #505

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،أَيُّ الإِسْلامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا اسلام زیادہ بہتر ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ اور جسے تم جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے اسے سلام کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 505]

506

Sahih Ibn Hibban #506

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلا يُؤْذِي جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو الأَحْوَصِ : سَلامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَأَبُو حُصَيْنٍ : عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ ، وَأَبُو صَالِحٍ : ذَكْوَانُ السَّمَّانُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابواحوص نامی راوی کا نام سلام بن سلیم ہے جبکہ ابوحصین کا نام عثمان بن عاصم ہے، اور ابوصالح کا نام ذکوان بن سمان ہے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عمرو دوسی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 506]

507

Sahih Ibn Hibban #507

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ ، وَأَفْشُوا السَّلامَ ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رحمان کی عبادت کرو، سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 507]

508

Sahih Ibn Hibban #508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَوْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : أَفْشِ السَّلامَ ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ ، وَصِلِ الأَرْحَامَ ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں، تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 508]

509

Sahih Ibn Hibban #509

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّفِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا ، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَفْشَى السَّلامَ ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ مُعَانِقٍ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَانِقٍ الأَشْعَرِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں، جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے، سلام کو پھیلاتا ہے اور رات کے وقت نماز ادا کرتا ہے، جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن معانق نامی راوی کا نام عبداللہ بن معانق اشعری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 509]

510

Sahih Ibn Hibban #510

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَذَكَرَ الصُّوفِيُّ آخر معهما ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَاجَرَ السُّوءَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں رہیں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان سلامت رہیں اور مہاجر وہ شخص ہے جو برائی سے لاتعلق ہو جائے۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! ایسا بندہ جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 510]

511

Sahih Ibn Hibban #511

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 511]

512

Sahih Ibn Hibban #512

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 512]

513

Sahih Ibn Hibban #513

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا طَبَخْتَ قِدْرًا ، فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهَا ، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ لِلأَهْلِ وَالْجِيرَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم ہنڈیا پکاؤ، تو اس میں شوربا زیادہ کر لو، کیونکہ یہ اہل خانہ اور پڑوسیوں کے لیے زیادہ گنجائش والا ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 513]

514

Sahih Ibn Hibban #514

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً ، فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ ، فَاحْسُهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم شوربا بناؤ، تو اس میں پانی زیادہ کر لو اور پھر اپنے پڑوسیوں کے گھر کا جائزہ لو اور اس میں سے مناسب طور پر کچھ انہیں بھی دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 514]

515

Sahih Ibn Hibban #515

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ "قَالَ ابْنُ رُمْحٍ : سَمِعْتُ اللَّيْثَ ، يَقُولُ : هَذَا أَوَّلُ مَا لِمَالِكٍ عِنْدَنَا وَآخِرُهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي قَوْلِ اللَّيْثِ : هَذَا أَوَّلُ مَا لِمَالِكٍ عِنْدَنَا وَآخِرَهُ ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْخَبَرَ الَّذِي رَوَاهُ قُرَادٌ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قِصَّةُ الْمَمَالِيكِ خَبَرٌ بَاطِلٌ لا أَصْلَ لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں شہتیر لگانے سے ہرگز منع نہ کرے۔“ ابن رمح کہتے ہیں: میں نے لیث کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: امام مالک کے حوالے سے منقول ہمارے پاس یہ پہلی اور آخری روایت ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیث کا یہ کہنا کہ امام مالک کے حوالے سے منقول ہمارے پاس یہ پہلی اور آخری روایت ہے، اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وہ روایت جسے قراد نے لیث کے حوالے سے، امام مالک کے حوالے سے، زہری، عروہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت کیا ہے، جس میں غلاموں کا حصہ ہے، وہ ایک جھوٹی روایت ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 515]

516

Sahih Ibn Hibban #516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ایذاء نہ پہنچائے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 516]

517

Sahih Ibn Hibban #517

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ الْوَعْلانِيُّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دُخَيْنٍ أَبِي الْهَيْثَمِ ، كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَأَنَا دَاعٍ الشُّرْطَ لِيَأْخُذُوهُمْ ، فقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، لا تَفْعَلْ ، وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَهَدِّدْهُمْ ، قَالَ : إِنِّي نَهَيْتُهُمْ ، فَلَمْ يَنْتَهُوا ، وَإِنِّي دَاعٍ الشُّرْطَ لِيَأْخُذُوهُمْ ، فقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، لا تَفْعَلْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ ، فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَى مَوْءُودَةً فِي قَبْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہیثم دخین، یہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے دستِ راست تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں کوتوال کو بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، تم انہیں واضح نصیحت کرو، تم انہیں ڈراؤ، انہوں نے کہا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے، اب میں کوتوال کو بلاؤں گا تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کسی مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو اس کی مثال اسی طرح ہے، جیسے وہ زندہ گاڑ دی جانے والی بچی کو اس کی قبر میں سے بچا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 517]

518

Sahih Ibn Hibban #518

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پڑوسیوں میں سب سے بہتر وہ پڑوسی ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 518]