Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 5 · Chapter 1

The Book of Faith

Hadith 439–478

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

439

Sahih Ibn Hibban #439

أَخْبَرَنَا ابْنُ نَاجِيَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَجَلِهِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص یہ بات پسند کرتا ہو کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اس کی زندگی لمبی ہو اسےاللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے اور صلہ رحمی کرنی چاہئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 439]

440

Sahih Ibn Hibban #440

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لِيَكُونُوا فَجَرَةً ، فَتَنْمُو أَمْوَالُهُمْ ، وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا تَوَاصَلُوا ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَتَوَاصَلَونَ فَيَحْتَاجُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک جس نیکی کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے۔ بیشک ایک گھرانے کے لوگ گناہ گار ہوتے ہیں، لیکن ان کے اموال زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، جب وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور جس گھرانے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہوں، ایسا نہیں ہو گا کہ وہ محتاج ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 440]

441

Sahih Ibn Hibban #441

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ خَلَقَ الرَّحِمَ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ ، قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِينَ مِنَ الْقَطِيعَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ أَلا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ " ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَهُوَ لَكِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ ، وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے رحم کو پیدا کیا، یہاں تک کہ جب وہ اس کی تخلیق سے فارغ ہو گیا، تو رحم کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یہ قطع رحمی سے پناہ مانگنے والوں کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جی ہاں! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جو تمہیں ملا کر رکھے گا۔ میں اسے ملاؤں گا اور جو تمہیں کاٹ دے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔ اس نے عرض کی: جی ہاں!اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ چیز تمہیں مل گئی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کر لو۔ ”(اے منافقین!) عنقریب یہ ہو گا کہ اگر تم واپس چلے گئے تو تم زمین میں فساد پیدا کرو گے اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرو گئے، یہی وہ لوگ ہیں جن پراللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے، انہیں بہرہ کیا ہے اور ان کی بصارت کو اندھا کر دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 441]

442

Sahih Ibn Hibban #442

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، تَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنِّي قُطِعْتُ ، إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، فَيُجِيبُهَا رَبُّهَا : " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ، وَأَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لفظ رحم رحمان سے ماخوذ ہے۔ یہ عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور عرض کرتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھے قطع کر دیا گیا۔ میرے ساتھ برائی کی گئی، تو اس کے پروردگار نے اسے فرمایا ہے: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جو تمہیں قطع کر دے میں اسے قطع کر دوں اور جو تمہیں ملا کر رکھے میں اسے ملاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 442]

443

Sahih Ibn Hibban #443

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ ، وَشَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنِ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا ، وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا ، بَتَتُّهُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور میں نے اپنے اسم سے اس کے نام کو مشتق کیا ہے، جو شخص اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو شخص اسے قطع کرے گا میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 443]

444

Sahih Ibn Hibban #444

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ " تَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِنِّي ظُلِمْتُ ، إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، إِنِّي قُطِعْتُ ، قَالَ : فَيُجِيبُهَا رَبُّهَا : " أَلا تَرْضَيْنَ أَنْ أَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ، وَأَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک رحم، رحمان سے وابستہ ہے، جب قیامت کا دن آئے گا، تو رحم کہے گا: اے میرے پروردگار! میرے ساتھ ظلم کیا گیا۔ میرے ساتھ برائی کی گئی۔ مجھے قطع کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس کا پروردگار جواب دے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو، جس نے تمہیں قطع کیا۔ میں اسے قطع کر دوں اور جس نے تمہیں ملایا میں اسے ملاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 444]

445

Sahih Ibn Hibban #445

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رحم، عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور بدلے کے طور پر اچھائی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا شمار نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے کہ جب اس کی رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جائے، تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 445]

446

Sahih Ibn Hibban #446

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الأَعْشَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلاثُ أَخَوَاتٍ ، أَوِ ابْنَتَانِ ، أَوْ أُخْتَانِ ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں ہوں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے بارے میںاللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 446]

447

Sahih Ibn Hibban #447

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلافُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ ثَلاثَا ، أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، حَتَّى يَبِنَّ ، أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبَعِهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا "وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ الْعَلافِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " أَرَادَ بِهِ فِي الدُّخُولِ وَالسَّبْقِ ، لا أَنَّ مَرْتَبَةَ مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَرْتَبَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَوَاءٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص دو بیٹیوں، یا تین بیٹیوں، یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی کفالت کرے، یہاں تک وہ شادی شدہ ہو جائیں، یا وہ شخص انہیں چھوڑ کر (ان کی کفالت کے دوران ہی) انتقال کر جائے، تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح ہوں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیانی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی)“ روایت کے یہ الفاظ ابراہیم بن حسن علاف کے نقل کردہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میں اور وہ جنت میں ان دو کی طرح ہوں گے۔“ اس سے مراد داخل ہونے اور سبقت لے جانے کے حوالے سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دو بیٹیوں، یا دو بہنوں کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس مرتبے پر فائز ہو گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 447]""

448

Sahih Ibn Hibban #448

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا ، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلاثَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا ، فَاسْتَطْعَمَتَاهَا ابْنَتَاهَا ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي حَنَانُهَا ، فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّاللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا الْجَنَّةَ ، وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک غریب عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھا کر لائی میں نے اسے کھانے کے لئے تین کھجوریں دیں۔ اس نے دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور اپنے منہ کی طرف بڑھائی تاکہ اسے کھا لے، تو ان دونوں بچیوں نے وہ مانگ لی۔ اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے جسے وہ خود کھانا چاہتی تھی اور اسے ان دونوں میں تقسیم کر دیا۔ مجھے اس کی یہ مہربانی بہت اچھی لگی۔ میں نے اس کے اس طرز عمل کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لئے جنت کو واجب کر دیا ہے اور اس وجہ سے اسے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 448]

449

Sahih Ibn Hibban #449

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرْخِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِخِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ : أَوْصَانِي بِأَنْ لا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي ، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ ، وَأَوْصَانِي أَنْ أَصِلَ رَحِمِي وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَوْصَانِي أَنْ لا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ ، وَأَوْصَانِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَوْصَانِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھلائی کی کچھ باتوں کی تلقین کی تھی۔ آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں اپنے سے اوپر والے شخص کی طرف نہ دیکھوں میں اپنے سے نیچے والے شخص کی طرف دیکھوں آپ نے مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے اور ان کے قریب رہنے کی تلقین کی تھی اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے منہ موڑے اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میںاللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہوں اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں حق بات کہوں اگرچہ وہ کڑوا ہو اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں بکثرت لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھتا رہوں، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 449]

450

Sahih Ibn Hibban #450

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّلِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي ، وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ ، وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظُهَيْرٌ ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ "الْمَلُّ رَمَادٌ يَكُونُ فِيهِ الشَّطْبَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ میں اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ اچھائی کرتا ہوں۔ وہ میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر صورت حال اسی طرح ہے جس طرح تم بیان کر رہے ہو، تو تم ان پر راکھ پھینکتے ہو، جب تک تم اس طرح کرتے رہو گےاللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ”المل“ سے مراد ایسی راکھ ہے، جس میں شطبہ (یعنی انگاروں کے ٹکڑے) ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 450]""

451

Sahih Ibn Hibban #451

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّلِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ ، وَيَقْطَعُونِي ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ ، لَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظُهَيْرٌ ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر صورت حال ویسی ہی ہے جیسی تم بیان کر رہے ہو، تو گویا کہ تم ان پر راکھ چھڑکتے ہو اوراللہ تعالیٰ کی مدد تمہاری شامل حال رہے گی۔ جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 451]

452

Sahih Ibn Hibban #452

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ : قَدِمَتْ أُمِّي مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي هُدْنَةِ قُرَيْشٍ ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّأُمِّي أَتَتْ رَاغِبَةً . أَفَأَصِلُهَا ؟ فقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ صِلِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میری والدہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئی۔ یہ قریش کے ساتھ صلح کے زمانے کی بات ہے۔ وہ خاتون مشرک تھیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میری والدہ میرے پاس اُمید لے کر آئی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جی ہاں! تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 452]

453

Sahih Ibn Hibban #453

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ السَّلْمَسِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أُمٍّ لَهَا مُشْرِكَةٍ ، قَالَتْ :جَاءَتْنِي رَاغِبَةً رَاهِبَةً ، أَصِلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی والدہ کے بارے میں دریافت کیا: جو مشرک تھیں۔ انہوں نے عرض کی: وہ میرے پاس اُمید لے کر آئی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 453]

454

Sahih Ibn Hibban #454

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ قَاطَعٌ "لَيْسَ هَذَا فِي " الْمُوَطَّأِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قطع رحمی کرنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا“ ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت ”موطار“ میں نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 454]""

455

Sahih Ibn Hibban #455

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا ، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ ، مِنَ الْبَغِيِّ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”زنا اور قطع رحمی سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اس کو کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دے اور اس کے ساتھ آخرت میں بھی سزا تیار رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 455]

456

Sahih Ibn Hibban #456

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا ، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ ، مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَالْبَغْيِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان قتل کرتے ہیں: ”قطع رحمی اور زنا سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اس کے کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دے اور اس کے ہمراہ آخرت میں بھی اس کے لئے سزا تیار رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 456]

457

Sahih Ibn Hibban #457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَبْصَرَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فقَالَ : إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ ، فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لا يَرْحَمْ لا يُرْحَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس تمیمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے رہے تھے۔ اس نے عرض کی: میرے دس بیٹے ہیں۔ میں نے ان میں سے کسی ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 457]

458

Sahih Ibn Hibban #458

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ ، وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 458]

459

Sahih Ibn Hibban #459

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَزُورُ الأَنْصَارَ ، وَيُسَلِّمُ عَلَى صِبْيَانِهِمْ ، وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے ملنے جایا کرتے تھے۔ آپ ان کے بچوں کو سلام کیا کرتے تھے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 459]

460

Sahih Ibn Hibban #460

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هَكَذَا " أَرَادَ بِهِ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ ، لا أَنَّ كَافِلَ الْيَتِيمِ تَكُونُ مَرْتَبَتُهُ مَعَ مَرْتَبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْجَنَّةِ وَاحِدَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس طرح۔“ اس سے مراد جنت میں داخل کرنے کے حوالے سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والا شخص اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ایک ہی مرتبے میں ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 460]""

461

Sahih Ibn Hibban #461

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَسُولُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِهِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْسَلَتْ إِلَيْكَ ابْنَتُكَ أَنْ تَأْتِيَهَا ، فَإِنَّ صَبِيًّا لَهَا فِي الْمَوْتِ ، فقَالَ : ائْتِهَا فَقُلْ لَهَا : إِنَّلِلَّهِ مَا أَخَذَ ، وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " ، قَالَ : فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ رَجَعَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تُقْسِمُ عَلَيْكَ إِلا جِئْتَهَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلْنَا ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهِ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ کی ایک صاحبزادی کی طرف سے ایک پیغام رساں آیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی صاحب زادی نے آپ کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ آپ ان کے ہاں تشریف لے آئیں، کیونکہ ان کے صاحب زادے فوت ہونے والے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے پاس جا کر اس سے کہو کہاللہ تعالیٰ جو چیز واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے، جو چیز اسی نے دی ہو وہ چیز بھی اسی کی ملکیت ہے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کی ایک متعین مدت ہے۔ اس لئے اسے صبر سے کام لینا چاہئے اور ثواب کی امید رکھنی چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ آپ کو قسم دے رہی ہیں۔ آپ ان کے ہاں ضرور تشریف لے جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جو انصار کے کچھ افراد تھے ہم ان کے ہاں گئے اس بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو اس کا سانس سینے میں اکھڑ کر آ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کس وجہ سے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ رحمت ہے، جواللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 461]

462

Sahih Ibn Hibban #462

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَقُولُ حَدَّثَنِي ، فقَالَ : أَلَيْسَ إِذَا قَرَأْتُهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، يَقُولُ : إِنَّالرَّحْمَةَ لا تُنْزَعُ إِلا مِنْ شَقِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق اور مصدوق ہیں، انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”رحمت، صرف بدبخت سے الگ کی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 462]

463

Sahih Ibn Hibban #463

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَبْصَرَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فقَالَ : إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ ؟ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لا يَرْحَمْ لا يُرْحَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس تمیمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے رہے ہیں، تو اس نے عرض کی: میرے دس بچے ہیں۔ میں نے ان میں سے کسی ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 463]

464

Sahih Ibn Hibban #464

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ ، وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑے کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹ پر رحم نہیں کرتا نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 464]

465

Sahih Ibn Hibban #465

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لا يَرْحَمِ النَّاسَ لا يَرْحَمْهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتااللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 465]

466

Sahih Ibn Hibban #466

أَخْبَرَنَا ابْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلا مِنْ شَقِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رحمت، صرف بدبخت سے الگ کی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 466]

467

Sahih Ibn Hibban #467

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لا يَرْحَمِ النَّاسَ لا يَرْحَمْهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتااللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 467]

468

Sahih Ibn Hibban #468

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، فَإنْ لَمْ تَجِدْ ، فَلايِنِ النَّاسَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِمْ مُنْبَسِطٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر تمہیں کچھ نہیں ملتا، تو لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور کشادہ روئی کے ساتھ ان سے ملو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 468]

469

Sahih Ibn Hibban #469

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَايُحَرَّمُ عَلَى النَّارِ كُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر آسمان، نرم، قریب ہونے والے اور سہل شخص کو جہنم کے لئے حرام قرار دیدیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 469]

470

Sahih Ibn Hibban #470

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ تُحَرَّمُ عَلَيْهِ النَّارُ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ هَيِّنٍ ، لَيِّنٍ ، قَرِيبٍ ، سَهْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس پر جہنم کو حرام قرار دیا گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آسان ”نرم“ قریب اور سہل شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 470]

471

Sahih Ibn Hibban #471

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فِي آخَرِينَ قَالُوا : حَدَّثَنَا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُدَارَاةُ النَّاسِ صَدَقَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمُدَارَاةُ الَّتِي تَكُونُ صَدَقَةً لِلْمُدَارِي هِيَ تَخَلُّقُ الإِنْسَانِ الأَشْيَاءَ الْمُسْتَحْسَنَةَ ، مَعَ مَنْ يُدْفَعُ إِلَى عِشْرَتِهِ ، مَا لَمْ يَشُبْهَا بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَالْمُدَاهَنَةُ : هِيَ اسْتِعْمَالُ الْمَرْءِ الْخِصَالَ الَّتِي تُسْتَحْسَنُ مِنْهُ فِي الْعِشْرَةِ وَقَدْ يَشُوبُهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا صدقہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ مدارات، جو مدارات کرنے والے شخص کے لئے صدقہ ہوتی ہیں اس سے مراد یہ ہے: آدمی مستحسن اشیاء کو اپنے اخلاق کا حصہ بنائے۔ نیز اس کے ہمراہ اپنی ذات سے اس چیز کو پرے رکھے جس میںاللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا امکان ہو سکتا ہے۔ جبکہ مداہنت سے مراد آدمی کا ان خصائل کو اختیار کرنا ہے، جو لوگوں کے ساتھ تعلق میں مستحسن سمجھے جاتے ہیں، اور ان میں ایسی چیز بھی شامل ہوتی ہے، جسےاللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 471]""

472

Sahih Ibn Hibban #472

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اچھی بات کہنا صدقہ ہے اور مسجد کی طرف چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 472]

473

Sahih Ibn Hibban #473

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آگ سے بچو خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ہو اور اگر تمہیں یہ بھی نہیں ملتی تو پاکیزہ بات کے ذریعے (آگ سے بچنے کی کوشش کرو)“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 473]

474

Sahih Ibn Hibban #474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو زُمَيْلٍ هَذَا : هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ يَمَانِيٌّ ثِقَةٌ ، وَالنَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هَذَا : هُوَ الْجُرَشِيُّ الْيَمَامِيُّ ، وَالنَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ : مَرْوَزِيٌّ ، صَاحِبُ الرَّأْيِ ، وَكَانَا فِي زَمَنٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوزمیل نامی یہ راوی سماک بن ولید حنفی یمانی ہے، اور ثقہ ہے، جبکہ نصر بن محمد نامی راوی جرشی یمانی ہے، اور نضر بن محمد قریشی مروزی ہے، جو صاحب رائے تھا، اور یہ دونوں ایک ہی زمانے میں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 474]

475

Sahih Ibn Hibban #475

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِقِنَاعِ جَزْءٍ ، فقَالَ : مَثَلا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ، فقَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ " ، وَمَثلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ قَالَ : " هِيَ الْحَنْظَلَةُ "قَالَ شُعَيْبٌ : فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ ، فقَالَ : كَذَلِكَ كُنَّا نَسْمَعُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَنَسٍ إِنَّهُ أُتِيَ بِقِنَاعِ جَزْءٍ أَرَادَ بِهِ طَبَقَ رُطَبٍ لأَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ يُسَمُّونَ الطَّبَقَ الْقِنَاعَ ، وَالرُّطَبَ الْجَزْءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک تھال پیش کیا گیا، تو آپ نے یہ آیت پڑھی: ”پاکیزہ کلمے کی مثال پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں بلند ہوتی ہیں۔ وہ ہر موسم میں اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق پھل دیتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد کھجور کا درخت ہے (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) ”بری بات کی مثال برے درخت کی طرح ہے، جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا۔“ آپ نے ارشاد فرمایا: اس سے مراد حنظلہ ہے۔ شعیب نامی کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابوالعالیہ کو بتائی، تو انہوں نے فرمایا: ہم نے بھی اسی طرح سنی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ”وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قناع جزء لے کر آئے“ اس سے مراد کھجوروں کا تھال ہے، کیونکہ اہل مدینہ تھال کے لئے لفظ ”قناع“ استعمال کرتے ہیں، اور کھجوروں کے لئے لفظ جزء استعمال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 475]

476

Sahih Ibn Hibban #476

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْكَرْخِيُّ ، بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : تَقْوَى اللَّهِ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ " قِيلَ : فَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ ؟ قَالَ : " الأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ إِدْرِيسَ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزَّعَافِرِيُّ الأَوْدِيُّ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفَةِ وَمُتْقِنِيهِمْ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي عَصْرِهِ بِالْكُوفَةِ مَنْ لا يَشْرَبُ غَيْرُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ کون سی چیز ایسی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اچھے اخلاق عرض کی گئی: کون سی چیز ایسی ہے، جو زیادہ لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوراخ والی دو چیزیں منہ اور شرم گاہ۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (ابن ادریس نامی راوی عبداللہ بن ادریس بن یزید بن عبدالرحمن زعافری اودی ہے یہ کوفہ کے رہنے والے ثقہ اور متقن افراد میں سے ایک ہے اس کے زمانے میں کوفہ میں اس کے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں تھا، جو یہ مشرب نہ رکھتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 476]""

477

Sahih Ibn Hibban #477

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا ، وَلا مُتَفَاحِشًا ، وَكَانَ يَقُولُ : خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فحش گفتگو نہیں کرتے تھے۔ بد زبانی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ آپ یہ فرمایا کرتے تھے۔ ”تم لوگوں میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 477]

478

Sahih Ibn Hibban #478

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا أَفْضَلُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : حُسْنُ الْخُلُقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بندہ مسلم کو جو چیزیں دی گئی ہیں ان میں سب سے افضل چیز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 478]