Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 4 · Chapter 3

The Book of Knowledge

Hadith 405–438

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

405

Sahih Ibn Hibban #405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدُّورِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَشِّرْ هَذِهِ الأُمَّةَ بِالنَّصْرِ وَالسَّنَاءِ وَالتَّمْكِينِ ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الآخِرَةِ لِلدُّنْيَا ، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الآخِرَةِ نَصِيبٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس امت کو مدد، چمک اور تمکین (یعنی دنیا میں اثر و رسوخ) کی خوشخبری دیدو، ان لوگوں میں سے جو بھی شخص آخرت کا عمل، دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 405]

406

Sahih Ibn Hibban #406

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَنَوْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَمَّعَ يُسَمِّعُ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى يُرَائِي اللَّهُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلمہ بن کہیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میں نے ان کے علاوہ اور کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس لئے میں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گیا۔ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص شہرت کے لئے کام کرے گااللہ تعالیٰ اس کی شہرت کروا دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لئے کام کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 406]

407

Sahih Ibn Hibban #407

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَمَّعَ يُسَمِّعُ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى يُرَائِي اللَّهُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص شہرت کے لئے کام کرے گااللہ تعالیٰ اس کی شہرت کروا دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لئے کام کرے گااللہ تعالیٰ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 407]

408

Sahih Ibn Hibban #408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ شُفَيًّا الأَصْبَحِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلا ، قُلْتُ لَهُ : أَنْشُدُكَ بِحَقِّي لَمَا حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتَهُ ، فقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَفْعَلُ ، لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً فَمَكَثَ قَلِيلا ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فقَالَ : لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى ، فَمَكَثَ كَذَلِكَ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ ، فقَالَ : أَفْعَلُ ، لأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ نَشْغَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ ، وَاشْتَدَّ بِهِ طَوِيلا ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فقَالَ : حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّاللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، يَنْزِلُ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ ، وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ ، وَرَجُلٌ ، يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْقَارِئِ : أَلَمْ أُعَلِّمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ : كَذَبْتَ وَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ : كَذَبْتَ ، وَيَقُولُ اللَّهُ : بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : فُلانٌ قَارِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعْكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : كَذَبْتَ ، وَتَقُولُ الْمَلائِكَةُ لَهُ : كَذَبْتَ ، وَيَقُولُ اللَّهُ : بَلْ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : فُلانٌ جَوَادٌ ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ : فِي مَاذَا قُتِلْتَ ؟ فَيَقُولُ : أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ ، فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : كَذَبْتَ ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ : كَذَبْتَ وَيَقُولُ اللَّهُ : بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : فُلانٌ جَرِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ " ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْبَتِي ، فقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ : فَأَخْبَرَنِي عُقْبَةُ أَنَّ شُفَيًّا هُوَ الَّذِي دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ وَحَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ كَانَ سَيَّافًا لِمُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ ، فَحَدَّثَهُ بِهَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَدْ فُعِلَ بِهَؤُلاءِ مِثْلُ هَذَا ، فَكَيْفَ بِمَنْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ ؟ ثُمَّ بَكَى مُعَاوِيَةُ بُكَاءً شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ هَالِكٌ ، وَقُلْنَا : قَدْ جَاءَنَا هَذَا الرَّجُلُ بِشَرٍّ ، ثُمَّ أَفَاقَ مُعَاوِيَةُ ، وَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ ، فقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا ، نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا ، وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ ، وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا ، وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلْفَاظُ الْوَعِيدِ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ كُلُّهَا مَقْرُونَةٌ بِشَرْطٍ ، وَهُوَ : إِلا أَنْ يَتَفَضَّلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى مُرْتَكِبِ تِلْكَ الْخِصَالِ بِالْعَفْوِ وَغُفْرَانِ تِلْكَ الْخِصَالِ ، دُونَ الْعُقُوبَةِ عَلَيْهَا وَكُلُّ مَا فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ مِنْ أَلْفَاظِ الْوَعْدِ مَقْرُونَةٌ بِشَرْطٍ ، وَهُوَ : إِلا أَنْ يَرْتَكِبَ عَامِلُهَا مَا يَسْتَوْجِبُ بِهِ الْعُقُوبَةَ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ ، حَتَّى يُعَاقَبَ ، إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِ بِالْعَفْوِ ، ثُمَّ يُعْطَى ذَلِكَ الثَّوَابَ الَّذِي وُعِدَ بِهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْفِعْلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقبہ بن مسلم بیان کرتے ہیں: شفی اصجی نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوئے، تو وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے۔ شفی نے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں، تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ شفی کہتے ہیں: میں ان کے قریب ہو کر ان کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ وہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے، تو میں نے ان سے دریافت کیا: میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور آپ نے اسے سمجھا ہو اور جان لیا ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایسا کرتا ہوں میں تمہیں ایک ایسی حدیث بتاتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی تھی اور میں نے اسے سمجھا بھی تھا، اور جان بھی لیا تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک سسکی لی پھر تھوڑا وقت گزر گیا جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سنائی تھی اس وقت اس گھر میں، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہمارے ساتھ اور کوئی موجود نہیں تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ سسکی لی پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کیا اور بولے: میں ایسا کرتا ہوں میں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیان کی تھی۔ اس وقت اس گھر میں، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میرے ساتھ کوئی موجود نہیں تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ زور سے سسکی لی اور وہ اپنے چہرے کے بل گرنے کی طرح آگے کی طرف جھکے اس مرتبہ ان کی یہ کیفیت طویل ہوئی پھر جب ان کی طبیعت سنبھلی، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی تھی: ”جب قیامت کا دن ہو گا، تواللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزول فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل موجود ہو گی، تو سب سے پہلےاللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بلائے گا، جس نے قرآن کو جمع کیا (یعنی اس کا علم حاصل کیا) اور ایک ایسے شخص کو جس کواللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا گیا ہو اور ایک ایسے شخص کو جس کے پاس مال بہت زیادہ تھا انہیں بلایا جائے گا)اللہ تعالیٰ قرآن کے عالم سے کہے گا: میں نے اپنے رسول پر جو نازل کیا تھا کیا اس کا علم میں نے تمہیں نہیں دیا تھا؟ وہ جواب دے گا: جی ہاں! میرے پروردگاراللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جو علم حاصل کیا ہے اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا۔ میں رات دان اس کے ساتھ مصروف رہا۔اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے جھوٹ کہا: ہے۔ فرشتے بھی اس شخص سے کہیں گے کہ تم نے جھوٹ کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے: فلاں شخص قرآن کا عالم ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر مال دار شخص کو لایا جائے گا، پھراللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں کشادگی عطا نہیں کی تھی، یہاں تک کہ میں نے تمہیں ایسی حالت میں رکھا تھا کہ تمہیں کسی کی بھی ضرورت نہ ہو؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں! میرے پروردگار!اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے جو کچھ تمہیں دیا تھا اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور خیرات کرتا رہا، تواللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے غلط کہا: ہے۔ فرشتے بھی اس سے یہ کہیں گے تم نے غلط کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے: فلاں شخص سخی ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا، جسے (دنیا میں) اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا، تو اس سے یہ دریافت کیا جائے گا تمہیں کیوں قتل کیا گیا؟ وہ جواب دے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا میں نے جنگ میں حصہ لیا، یہاں تک کہ مجھے قتل کر دیا گیا، تواللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے غلط کہا: ہے فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم نے غلط کہا: ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا: جائے کہ وہاں شخص کتنا بہادر ہے، تو یہ بات کہہ دی گئی۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا: ”اے ابوہریرہ! یہاللہ تعالیٰ کی مخلوق کے پہلے تین لوگ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھرکایا جائے گا۔“ (یعنی جنہیں سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا) ولید بن ابوولید بیان کرتے ہیں عقبہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ”شفی“ نامی راوی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا۔ ابوعثمان ولید نے یہ بات بیان کی ہے۔ علاء بن ابوحکیم نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے جلاد تھے وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث ان کے سامنے بیان کی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں کے ساتھ اس طرح ہو گا، تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انتہائی زیادہ روئے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ کہیں وہ ہلاکت کا شکار نہ ہو جائیں۔ ہم نے کہا: یہ شخص ایک برائی لے کر آیا ہے پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا، تو انہوں نے اپنے چہرے کو پونچھا اور کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ ”جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ کرتا ہے، تو ہم دنیا میں اسے اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیں گے اور انہیں اس میں کوئی کمی نہیں کی جائیگی، یہ وہ لوگ ہیں، جن کا آخرت میں حصہ صرف جہنم میں ہو گا، اور انہوں نے دنیا میں، جو کچھ کیا وہ ضائع ہو جائیگا، اور جو عمل وہ کرتے رہے وہ باطل ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اور سنت میں وعید کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ سب شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اور وہ یہ ہے: اگراللہ تعالیٰ چاہے، تو اپنے فضل کے ساتھ ان باتوں کے مرتکب شخص کو معاف کر سکتا ہے، اور ان غلطیوں کی مغفرت کر سکتا ہے۔ ان پر (آدمی کو سزا نہ دے) اور کتاب و سنت میں وعدے کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ اس شرط کے ساتھ ملے ہوتے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب نہیں ہو گا، جو اس فعل کے ارتکاب پر سزا کو لازم کر دے، یہاں تک کہ اسے سزا دی جائے اگر اس پر معافی کا فضل نہیں کیا جاتا۔ پھر اس شخص کو اس چیز کا ثواب ملے گا، جو وعدہ اس فعل کے حوالے سے اس شخص کے ساتھ کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 408]""

409

Sahih Ibn Hibban #409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ ، فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً ، قَالَ : آمِينَ " ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى ، فقَالَ : " آمِينَ " ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً ، فقَالَ : " آمِينَ " ثُمَّ ، قَالَ :" أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْتُ : آمِينَ ، قَالَ : وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ، فَدَخَلَ النَّارَ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْتُ : آمِينَ ، فقَالَ : وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ قَدِ اسْتَحَبَّ لَهُ تَرْكُ الانْتِصَارِ لِنَفْسِهِ ، وَلا سِيَّمَا إِذَا كَانَ الْمَرْءُ مِمَّنْ يُتَأَسى بِفِعْلِهِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا ، قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " بَادَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَنْ ، قَالَ : آمِينَ وَكَذَلِكَ فِي قَوْلِهِ : " وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ ، أَوْ أَحَدَهُمَا ، فَدَخَلَ النَّارَ ، أَبْعَدَهُ اللَّهُ " فَلَمَّا ، قَالَ لَهُ : " وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " فَلَمْ يُبَادِرْ إِلَى قَوْلِهِ : " آمِينَ " عِنْدَ وُجُودِ حَظِّ النَّفْسِ فِيهِ ، حَتَّى ، قَالَ جِبْرِيلُ قُلْ : آمِينَ ، قَالَ : قُلْتُ : " آمِينَ " أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، التَّأَسِّي بِهِ فِي تَرْكِ الانْتِصَارِ لِلنَّفْسِ بِالنَّفْسِ ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا هُوَ نَاصِرُ أَوْلِيَائِهِ فِي الدَّارَيْنِ ، وَإِنْ كَرِهُوا نُصْرَةَ الأَنْفُسِ فِي الدُّنْيَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن حسن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا مالک بن حورث رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے جب آپ نے پہلے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین اور جب آپ نے دوسرے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین جب آپ نے تیسرے زینے پر قدم رکھا، تو آپ نے کہا: آمین پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) دور کر دے، تو میں نے کہا: آمین، جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو جائے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) دور کرے، تو میں نے کہا: آمین، جبرائیل نے کہا: جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے دور کر دے، آپ آمین کہیں، تو میں نے آمین کہا:۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ اپنی ذات کے لئے مدد حاصل کرنے کو ترک کر دے خصوصا اس صورت میں جب آدمی ایسی شخصیت کا مالک ہو، جس کے فعل کی پیروی کی جاتی ہو اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: ”جو شخص رمضان کا مہینہ پا لے اور اس کی مغفرت نہ ہو، تواللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت سے دور کر دے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے یہ کہا: آمین۔ اسی طرح جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: ”جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور جہنم میں داخل ہو جائے، تواللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ (تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً آمین کہہ دیا) لیکن جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے یہ کہا: جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے، اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، تواللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے دور کر دے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً آمین نہیں کہا:۔ کیونکہ اس جملے میں آپ کی ذات کا حصہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے گزارش کی کہ آپ آمین کہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے آمین کہہ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ تھی: اس بارے میں آپ اسوہ قائم کریں کہ اپنی ذات کے لئے کسی دوسرے سے مدد حاصل نہیں کرنی ہے، کیونکہاللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اپنے دوستوں کا مددگار ہے، اگرچہ وہ دنیا میں لوگوں کی مدد کو ناپسند کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 409]

410

Sahih Ibn Hibban #410

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ ، فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الأَجْنَبِيِّينَ ، وَأَمَرِ بِبِرِّهِ وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا ، إِلَى أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ مَالُهُ ، فقَالَ لَهُ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " ، لا أَنَّ مَالَ الابْنِ يَمْلِكُهُ الأَبُ فِي حَيَاتِهِ عَنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَ الابْنِ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے اپنے والد کے زمے لازم قرض کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ جھگڑا کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس چیز سے منع کیا ہے کہ وہ باپ کے ساتھ ایسا طرز عمل اختیار کرے جس طرح کا سلوک اجنبی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے اور زبان اور فعل کے حوالے سے نرمی کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے اس کے مال کو اس کے والد کے ساتھ ملا دیا ہے، اور آپ نے اس سے یہ فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے۔“ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بیٹے کے مال کا مالک باپ بن جاتا ہے، جبکہ بیٹا زندہ ہو اور بیٹے کی یہ خواہش بھی نہ ہو کہ (اس کا باپ اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال کو استعمال کرے) [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 410]

411

Sahih Ibn Hibban #411

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " ، قِيلَ : وَكَيْفَ يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ لِلنَّاسِ فَيَسُبُّ وَالِدَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کبیرہ گناہوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے عرض کی گئی: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ لوگوں کے ماں باپ کے درپے ہوتا ہے اور وہ اس کے ماں باپ کو برا کہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 411]

412

Sahih Ibn Hibban #412

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " ، قَالَ : وَكَيْفَ يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : " يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی دوسرے کے باپ کو برا کہتا ہے، تو وہ اس کے باپ کو برا کہتا ہے۔ وہ اس کی ماں کو برا کہتا ہے، تو وہ اس کی ماں کو برا کہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 412]

413

Sahih Ibn Hibban #413

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : انْقَلَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى ، فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فقَالَ : إِنَّ فُلانًا يَقُولُ : لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلانًا ، قَالَ عُمَرُ : إِنِّي قَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ ، وَأُحَذِّرُهُمْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أَمْرَهُمْ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ لا تَفْعَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ ، وَغَوْغَاءَهُمْ ، وَإِنَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ إِذَا أَقَمْتَ فِي النَّاسِ ، فَيَطِيرُوا بِمَقَالَتِكَ ، وَلا يَضَعُوهَا مَوَاضِعَهَا أَمْهِلْ حَتَّى تَقْدُمَ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ ، فَتَخْلُصَ بِعُلَمَاءِ النَّاسِ وَأَشْرَافِهِمْ ، وَتَقُولُ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا ، وَيَعُونَ مَقَالَتَكَ ، وَيَضَعُونَهَا مَوَاضِعَهَا ، فقَالَ عُمَرُ : لَئِنْ قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ سَالِمًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأَتَكَلَّمَنَّ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، فَوَجَدْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَدْ سَبَقَنِي ، فَجَلَسَ إِلَى رُكْنِ الْمِنْبَرِ الأَيْمَنِ ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ ، فَلَمْ أَنْ طَلَعَ عُمَرُ ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ : أَمَا إِنَّهُ سَيَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ ، قَالَ : وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولَ ؟ فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا ، لا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجْلِي ، فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا ، فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْهَا ، فَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَرَأَ بِهَا ، وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَأَخَافُ إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ : مَا نَجْدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، وَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ حَمْلٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْلا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ : زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، لَكَتَبْتُهَا أَلا وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ لا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ " ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :" لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " أَلا وَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ فُلانًا ، قَالَ : لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ ، بَايَعْتُ فُلانًا ، فَمَنْ بَايَعَ امْرَأً مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنَّهُ لا بَيْعَةَ لَهُ ، وَلا لِلَّذِي بَايَعَهُ ، فَلا يَغْتَرَّنَّ أَحَدٌ فَيَقُولُ : إِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً ، أَلا وَإِنَّهَا كَانَتْ فَلْتَةً ، إِلا أَنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَنْ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الأَعْنَاقُ مِثْلَ أَبِي بَكْرٍ أَلا وَإِنَّهُ كَانَ مِنْ خَيْرِنَا يَوْمَ تَوَفَّى اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ اجْتَمَعُوا إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَتَخَلَّفَ عَنَّا الأَنْصَارُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَقُلْتُ لأَبِي بَكْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ نَنْظُرُ مَا صَنَعُوا ، فَخَرَجْنَا نَؤُمُّهُمْ ، فَلَقِيَنَا رَجُلانِ صَالِحَانِ مِنْهُمْ ، فَقَالا : أَيْنَ تَذْهَبُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ؟ فَقُلْتُ : نُرِيدُ إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : فَلا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَأْتُوهُمْ ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا نَرْجِعُ حَتَّى نَأْتِيَهُمْ ، فَجِئْنَاهُمْ ، فَإِذَا هُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَإِذَا رَجُلٌ مُزَّمِّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، قُلْتُ : مَا لَهُ ؟ قَالُوا : وَجِعٌ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا قَامَ خَطِيبُهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَكَتِيبَةُ الإِسْلامِ ، وَقَدْ دَفَّتْ إِلَيْنَا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مِنْكُمْ دَافَّةٌ ، وَإِذَا هُمْ قَدْ أَرَادُوا أَنْ يَخْتَصُّوا بِالأَمْرِ ، وَيُخْرِجُونَا مِنْ أَصْلِنَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَمَّا سَكَتَ ، أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، وَقَدْ كُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً قَدْ أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَكُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ ، وَكَانَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، وَقَالَ : اجْلِسْ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ ، فَتَكَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِمَّا زَوَّرْتُهُ فِي مَقَالَتِي إِلا ، قَالَ مِثْلَهُ فِي بَدِيهَتِهِ أَوْ أَفْضَلَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَمَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ ، وَلَنْ يَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الأَمْرَ إِلا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَنَسَبَا ، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا ، فَلَمْ أَكْرَهُ شَيْئًا مِنْ مَقَالَتِهِ غَيْرَهَا ، كَانَ وَاللَّهِ لأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي فِي أَمْرٍ لا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، فقَالَ فَتَى الأَنْصَارِ : أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، فَكَثُرَ اللَّغَطُ ، وَخَشِيتُ الاخْتِلافَ ، فَقُلْتُ : ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَبَسَطَهَا ، فَبَايَعْتُهُ ، وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ ، وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدٍ ، فقَالَ قَائِلٌ : قَتَلْتُمْ سَعْدًا فَقُلْتُ : قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا هُوَ أَفْضَلَ مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ ، خَشِيتُ إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ أَنْ يُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَيْعَةً ، فَإِمَّا أَنْ نُبَايِعَهُمْ عَلَى مَا لا نَرْضَى ، وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَهُمْ ، فَيَكُونُ فَسَادًا وَاخْتِلافًا ، فَبَايَعْنَا أَبَا بَكْرٍ جَمِيعًا ، وَرَضِينَا بِهِقَالَ أَبُو حَاتِمٍ قَوْلُ عُمَرَ : " قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا " يُرِيدُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو آخری حج کیا تھا اس کے دوران سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ اپنی منی میں موجود رہائش گاہ سے واپس آئے اور بولے: فلاں شخص یہ کہہ رہا ہے اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج شام میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہوں گا (یعنی ان سے خطاب کروں گا) اور انہیں ان لوگوں سے بچاؤں گا، جو ان کے معاملے کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا نہ کیجئے۔ امیر المؤمنین صبح کے موقع پر ہر طرح کے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ لوگوں کے درمیان (خطاب کرنے کے لئے) کھڑے ہوں گے، تو یہ لوگ آپ کی محفل میں غالب آ جائیں گے اور آپ کی گفتگو کو آگے اپنے رنگ میں پیش کریں گے اور اسے درست طور پر بیان نہیں کریں گے۔ آپ ابھی ٹھہر جائیں۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں، تو وہ ہجرت کی جگہ ہے وہاں صرف لوگوں میں سے اہل علم اور معززین ہوں گے۔ وہاں آپ جو بھی کہیں پورے اطمینان سے کہیں گے۔ وہ لوگ آپ کی بات کو سمجھیں گے اور اسے صحیح جگہ استعمال کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں مدینہ منورہ پہنچ گیا، تو اللہ نے چاہا، تو میں اپنی سب سے پہلی گفتگو (یا خطاب) میں اسی بارے میں بات کروں گا۔ پھر ذوالحجہ کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے جب جمعہ کا دن آیا، تو شدید گرمی کے دن کے باوجود میں جلدی مسجد چلا گیا، تو میں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہ منبر کے دائیں کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کے ساتھ مس ہو رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، تو میں نے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ آج سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی بات چیت اس منبر پر کرنی ہے، جو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد کبھی نہیں کی، تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا بات کریں گے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے انہوں نےاللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ان کی حمد و ثناء بیان کی پھر انہوں نے یہ فرمایا: ”میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسی بات کرنا چاہتا ہوں جسے کرنے کا مجھے موقع دیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے میری موت کا وقت میرے قریب آ چکا ہو اور جو شخص اس بات کو سمجھ لے اور اسے محفوظ رکھ لے وہ اس بات کو یہاں تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری جا سکتی ہے، جو شخص اس کو نہیں سمجھ پاتا، تو کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے۔ بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوص کیا۔ اس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ اس نے جو چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی اس میں سنگسار کرنے کے حکم والی آیت بھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تلاوت بھی کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کروایا۔ بھی آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے، جب طویل زمانہ گزر جائے گا، تو کوئی شخص یہ کہے گا ہمیں اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے سے حکم سے متعلق آیت نہیں ملتی، تو وہ لوگ ایک ایسے فریضے کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، جس کواللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا حالانکہ ہر ایسے شخص کو سنگسار کرنا لازم ہے، جو مرد ہو یا عورت ہو اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو جبکہ ثبوت کے ذریعے یہ بات ہو جائے یا (عورت) حاملہ ہو جائے یا (مرد یا عورت) اعتراف کر لیں، اگر اللہ کی قسم! اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر نےاللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں اس چیز کو نوٹ کروا دیتا۔ خبردار! ہم پہلے یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے۔ ”تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ موڑو کیونکہ اپنے آباؤ اجداد سے تمہارا منہ موڑنا تمہارا کفر ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا، جس طرح عیسائیوں نے عیسی بن مریم کو بڑھا دیا تھا۔ بیشک میں بندہ ہوں، تو تم لوگ یہ کہنا: اللہ کے بندے اور اس کے رسول۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خبردار! مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو میں فلاں کا بیعت کر لوں گا، جو بھی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی بھی امیر کی بیعت کرے گا، تو اس کی کوئی بیعت نہیں ہو گی اور نہ ہی اس شخص کی ہو گی، جس کی اس نے بیعت کی ہے۔ کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار ہو کر یہ نہ کہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہو گئی تھی۔ خبردار وہ اچانک ہوئی تھی، لیکناللہ تعالیٰ نے اس کی خرابی سے بچا کے رکھا اور آج تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جس کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح کی حیثیت حاصل ہو، خبردار! جس دن اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت وہ ہم میں سب سے زیادہ بہتر تھے۔ بیشک مہاجرین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کی بیعت کرنے کے لئے) اکٹھے ہوئے تھے، لیکن انصار ہم سے الگ سقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہوئے میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمارے ساتھ انصار بھائیوں کے ساتھ چلیں تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ہم لوگ روانہ ہوئے۔ ہمارا ارادہ ان کی طرف جانے کا تھا ہماری ملاقات ان میں سے دو نیک آدمیوں سے ہوئی، تو ان دونوں نے دریافت کیا: اے مہاجرین کے گروہ آپ لوگ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: ہم اپنے انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں، تو ان صاحب نے کہا: آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر آپ ان کے پاس نہ جائیں آپ اپنا معاملہ خود نمٹا لیں اے مہاجرین کے گروہ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ہم ان لوگوں کے پاس چلے نہیں جاتے پھر ہم ان کے پاس آئے، تو وہ لوگ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہو چکے تھے وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کون ہے؟ یہ تو لوگوں نے بتایا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں میں نے دریافت کیا: انہیں کیا ہوا ہے۔ لوگوں نے بتایا انہیں تکلیف ہے، جب ہم بیٹھ گئے، تو ان کا خطیب کھڑا ہوا۔ اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر اس نے یہ کہا: امابعد! ہماللہ تعالیٰ کے مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں۔ اے مسلمانوں کے گروہ! اب ہمیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ لوگ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں سرے سے ہی نکال دینا چاہتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب وہ خاموش ہوا، تو میں نے کلام کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے ذہن میں مضمون سوچ لیا تھا جو مجھے بہت پسند آیا کہ اگر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بیان کو کروں گا، تو یہ بہت عمدہ ہو گا اور میں اس کی وجہ سے ان لوگوں کی ناراضگی کو کسی حد تک کم کر دوں گا، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ بردبار اور زیادہ پروقار تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: تم بیٹھے رہو۔ مجھے انہیں ناراض کرنا پسند نہیں آیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلام کرنا شروع کیا۔ اللہ کی قسم! جو بھی گفتگو میں نے سوچی ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فی البدیہہ اس کی مانند بلکہ اس سے بھی بہتر گفتگو کی اور کوئی پہلو نہیں چھوڑا۔ انہوں نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی: اما بعد! تم نے جس بھلائی کا ذکر کیا ہے تم لوگ اس کے اہل ہو، لیکن اہل عرب حکومت کے معاملے میں صرف قریش قبیلے سے واقف ہیں، کیونکہ اپنی رہائش اور نسب کے اعتبار سے یہ عربوں میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ میں تم لوگوں کے لئے ان دو میں سے کسی ایک شخص سے راضی ہوں تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اس کی بیعت کر لو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صرف یہ بات اچھی نہیں لگی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جاتی جو بغیر کسی جرم کے ہوتی، تو یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ تھی کہ مجھے کسی ایسی قوم کا امیر مقرر کیا جائے، جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوں۔ انصار کے ایک نوجوان نے کہا: میں ایک ایسی شاخ ہوں جس کے ساتھ خارش کی جاتی ہے (یعنی امور میں میری رائے اور مشورے پر عمل کیا جاتا ہے) اور ایک ایسی کھجور ہوں جسے بچایا جاتا ہے (یعنی میرے قبیلے کے لوگ میرے پس پشت نہ ہیں) ایک امیر ہم میں سے ہو، اے قریش کے گروہ! اور ایک امیر آپ لوگوں میں سے ہو، اس پر آوازیں بلند ہوئیں، لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ان کی بیعت کر لی پھر مہاجرین اور انصار نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ ہم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بالکل نظر انداز کر دیا، تو کسی شخص نے کہا: تم لوگوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہے، تو میں نے کہا:اللہ تعالیٰ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، تو ہمیں اس وقت کوئی ایسی چیز نہیں ملی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے افضل ہو۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ اگر ہم ان لوگوں سے جدا ہو گئے، تو وہ کہیں ہمارے بعد نئے سرے سے بیعت نہ کر لیں، تو یا، تو ہمیں اس چیز پر بیعت کرنی پڑے گی، جس سے ہم راضی نہیں ہیں، یا پھر مخالفت کرنی پڑے گی، تو فساد اور اختلاف ہو گا اس لئے ہم سب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور اس سے راضی ہو گئے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے:اللہ تعالیٰ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: اللہ کی راہ میں ایسا ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 413]""

414

Sahih Ibn Hibban #414

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَلَمْ أَرَ رَجُلا يَجِدُ مِنَ القُشَعْرِيرَةِ مَا يَجِدُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَجِئْتُ أَلْتَمِسُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَوْمًا ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَانْتَظَرْتُهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى رَجَعَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَ لِي : لَوْ رَأَيْتَ رَجُلا آنِفًا ، قَالَ لِعُمَرَ كَذَا وَكَذَا ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمِنًى ، فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلا أَتَى إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلا قَالَ : وَاللَّهِ لَوْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلانًا ، قَالَ عُمَرُ حِينَ بَلَغَهُ ذَلِكَ : إِنِّي لَقَائِمٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ ، فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَغْتَصِبُونَ الأُمَّةَ أَمَرَهُمْ ، فقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لا تَفْعَلْ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا ، فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ ، وَغَوْغَاءَهُمْ ، وَإِنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ ، فَأَخْشَى إِنْ قُلْتَ فِيهِمُ الْيَوْمَ مَقَالا أَنْ يَطِيرُوا بِهَا ، وَلا يَعُوهَا ، وَلا يَضَعُوهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا ، أَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ ، وَتَخْلُصَ لِعُلَمَاءِ النَّاسِ وَأَشْرَافِهِمْ ، فَتَقُولُ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا ، فَيَعُوا مَقَالَتَكَ ، وَيَضَعُوهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا ، قَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لَئِنْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ صَالِحًا ، لأُكَلِّمَنَّ بِهَا النَّاسَ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ ، وَجَاءَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، هَجَّرْتُ صَكَّةَ الأَعْمَى لِمَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَوَجَدْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ ، فَجَلَسَ إِلَى رُكْنٍ جَانِبَ الْمِنْبَرِ الأَيْمَنِ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ ، فَلَمْ يَنْشَبْ عُمَرُ أَنْ خَرَجَ ، فَأَقْبَلَ يَؤُمُّ الْمِنْبَرَ ، فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَعُمَرُ مُقْبِلٌ : وَاللَّهِ لَيَقُولَنَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ الْيَوْمَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا أَحَدٌ قَبْلَهُ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ وَقَالَ : مَا عَسَى أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ فَلَمَّا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ ، قَامَ عُمَرُ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قَدْ قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا ، لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجْلِي فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا ، فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لا يَعِيهَا ، فَلا أُحِلُّ لَهُ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا ، بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَرَأْنَاهَا ، وَعَقَلْنَاهَا ، وَوَعَيْنَاهَا ، وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمْنَا ، بَعْدَهُ ، وَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ : وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَيَتْرُكَ فَرِيضَةً أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ ، أَوِ الاعْتِرَافُ ثُمَّ إِنَّا قَدْ كُنَّا نَقْرَأُ أَنْ : لا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ " ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :" لا تُطْرُونِي كَمَا أُطْرِيَ ابْنُ مَرْيَمَ ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ فُلانًا مِنْكُمْ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلانًا فَلا يَغُرَّنَّ امرءا أَنْ يَقُولَ : إِنْ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً فَتَمَّتْ ، فَإِنَّهَا قَدْ كَانَتْ كَذَلِكَ ، إِلا أَنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا ، وَلَيْسَ فِيكُمْ مَنْ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الأَعْنَاقُ مِثْلَ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنَّهُ كَانَ مِنْ خَيْرِنَا حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ، وَمَنْ مَعَهُمَا تَخَلَّفُوا عَنَّا ، وَتَخَلَّفَتِ الأَنْصَارُ عَنَّا بِأَسْرِهَا ، وَاجْتَمَعُوا فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ ، إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ رَجُلٌ يُنَادِي مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ : اخْرُجْ إِلَيَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّا مَشَاغِيلُ عَنْكَ ، فقَالَ : إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ لا بُدَّ مِنْكَ فِيهِ ، إِنَّ الأَنْصَارَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَأَدْرِكُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يُحْدِثُوا أَمْرًا ، فَيَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ فِيهِ حَرْبٌ ، فَقُلْتُ لأَبِي بَكْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلاءِ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَانْطَلَقْنَا نَؤُمُّهُمْ ، فَلَقِيَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ ، فَمَشَى بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِينَا رَجُلانِ صَالِحَانِ فَذَكَرَا الَّذِي صَنَعَ الْقَوْمُ وَقَالا : أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ؟ فَقُلْتُ : نُرِيدُ إِخْوَانَنَا مِنْ هَؤُلاءِ الأَنْصَارِ ، قَالا : لا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَقْرَبُوهُمْ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ ، فَإِذَا هُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ رَجُلٌ مُزَّمِّلٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، قُلْتُ : فَمَا لَهُ ؟ قَالُوا : هُوَ وَجِعٌ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا ، تَكَلَّمَ خَطِيبُ الأَنْصَارِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ، وَكَتِيبَةُ الإِسْلامِ ، وَأَنْتُمْ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، رَهْطٌ مِنَّا ، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ ، قَالَ عُمَرُ : وَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَيَحُطُّوا بِنَا مِنْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ ، أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، وَكُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي ، أُرِيدُ أَنْ أَقُومَ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَكُنْتُ أُدَارِي مِنْ أَبِي بَكْرٍ بَعْضَ الْحِدَّةِ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَلَى رِسْلِكَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ كَانَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ ، وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلا تَكَلَّمَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَفْضَلَ فِي بَدِيهَتِهِ حَتَّى سَكَتَ ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا الأَنْصَارُ ، فَمَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ ، وَلَنْ تَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الأَمْرَ إِلا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا ، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، فَبَايِعُوا أَيُّهُمَا شِئْتُمْ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَلَمْ أَكْرَهْ مِنْ مَقَالَتِهِ غَيْرَهَا ، كَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ ، أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، إِلا أَنْ تَغَيَّرَ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو بَكْرٍ مَقَالَتَهُ ، قَالَ قَائِلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، قَالَ عُمَرُ : فَكَثُرَ اللَّغَطُ ، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ ، حَتَّى أَشْفَقْتُ الاخْتِلافَ ، قُلْتُ : ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَبَسَطَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ ، فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ ، وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فقَالَ قَائِلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : قَتَلْتُمْ سَعْدًا ، قَالَ عُمَرُ : فَقُلْتُ ، وَأَنَا مُغْضَبٌ : قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا فَإِنَّهُ صَاحِبُ فِتْنَةٍ وَشَرٍّ ، وَإِنَّا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا فِيمَا حَضَرَ مِنْ أَمْرِنَا أَمْرٌ أَقْوَى مِنْ بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ ، فَخَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ قَبْلَ أَنْ تَكُونَ بَيْعَةٌ ، أَنْ يُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَيْعَةً ، فَإِمَّا أَنْ نُبَايِعَهُمْ عَلَى مَا لا نَرْضَى وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَهُمْ ، فَيَكُونُ فَسَادًا ، فَلا يَغْتَرَّنَّ امْرٌؤٌ أَنْ يَقُولَ : إِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً فَتَمَّتْ ، فَقَدْ كَانَتْ فَلْتَةً ، وَلَكِنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا ، أَلا وَإِنَّهُ لَيْسَ فِيكُمُ الْيَوْمَ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ مَالِكٌ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّجُلَيْنِ الأَنْصَارِيَّيْنِ اللَّذَيْنِ لَقِيَا الْمُهَاجِرِينَ هُمَا : عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ ، وَمَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَعَمَ مَالِكٌ أَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِي ، قَالَ يَوْمَئِذٍ : " أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ " رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، يُقَالُ لَهُ : حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ عُمَرَ : " إِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً وَلَكِنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا " يُرِيدُ أَنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ غَيْرِ مَلأٍ ، وَالشَّيْءُ الَّذِي يَكُونُ عَنْ غَيْرِ مَلأٍ ، يُقَالُ لَهُ : " الْفَلْتَةُ " وَقَدْ يُتَوَقَّعُ فِيمَا لا يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْمَلأُ الشَّرُّ ، فقَالَ : " وَقَى اللَّهُ شَرَّهَا " يُرِيدُ الشَّرَّ الْمُتَوَقَّعَ فِي الْفَلَتَاتِ ، لا أَنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَ فِيهَا شَرٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جس کی وہ حالت ہو جاتی ہو، جو سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کی قرأت کرتے وقت ہوتی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو تلاش کرتا ہوا آیا۔ وہ مجھے نہیں ملے میں ان کے گھر میں ان کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ واپس آ گئے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کاش تم اس شخص کو بھی دیکھتے جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات کہی ہے، وہ ان دنوں منی میں مقیم تھے۔ یہ اس آخری حج کی بات ہے، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور اس نے یہ بتایا کہ ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم! اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی، تو انہوں نے فرمایا کہ آج شام میں لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے کھڑا ہوں گا اور انہیں اس طرح کے لوگوں سے بچنے کی تلقین کروں گا، جو اس امت سے اس کے معاملے کو غصب کرنا چاہتے ہیں، سیدنا عبدالرحمن کہتے ہیں، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ آج کے دن ایسا نہ کیجئے، کیونکہ حج کے موقع پر ہر طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کی محفل میں غالب آ جائیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ آج ان کے درمیان آپ جو بات کہیں گے یہ اس کا فسانہ بنا دیں گے۔ یہ اسے محفوظ نہیں رکھیں گے اور غلط جگہ استعمال کر دیں گے۔ ابھی آپ ٹھہر جائیں جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائیں، تو وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے۔ وہاں لوگوں کے علماء اور اشراف کے سامنے آپ جو مناسب سمجھیں وہ بات آرام سے کر لیں وہ لوگ آپ کی بات کو محفوظ بھی رکھیں گے اور درست استعمال بھی کریں گے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں صحیح سلامت مدینہ منورہ پہنچ گیا، تو میں لوگوں سے اپنے پہلے خطاب میں اسی موضوع پر بات کروں گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ذوالحجہ کے آخر میں ہم مدینہ منورہ آ گئے جب جمعہ کا دن آیا، تو میں ایک نابینا شخص کی طرح (یعنی) وقت اور موسم کی پرواہ کئے بغیر جلدی (مسجد کی طرف) چلا گیا، کیونکہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مجھے اس بارے میں بتا چکے تھے وہاں مجھے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے آ چکے تھے وہ منبر کے دائیں طرف والے کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پہلو میں آ کر بیٹھ گیا، تو میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کے ساتھ مس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے وہ منبر کی طرف تشریف لائے، تو میں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا: جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وقت آ رہے تھے۔ اللہ کی قسم! آج امیر المؤمنین اس منبر پر ایسی گفتگو کریں گے، جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کی، تو سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور بولے: وہ آج ایسی کون سی بات کریں گے، جو اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھ گئے اور موذن نے اذان دی جب مؤذن خاموش ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تو انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی ثناء بیان کی۔ پھر یہ بات ارشاد فرمائی: ”امابعد آج میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسی گفتگو کرنا چاہتا ہوں جسے کرنے کا مجھے موقع دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میرے مرنے سے پہلے (کی آخری بڑی اہم) گفتگو ہو، تو شخص اسے سمجھ لے وہ اسے محفوظ رکھے اور جہاں تک اس کی سواری جا سکتی ہو وہاں تک اسے پہنچا دے اور جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اس نے اسے محفوظ نہیں رکھا، تو میں اس کے لئے اس بات کو جائز قرار نہیں دوں گا کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے۔ بیشکاللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا۔ اس نے ان پر کتاب نازل کی۔ اس نے ان پر جو چیز نازل کی تھی اس میں سنگسار کرنے والی آیت بھی تھی۔ ہم نے اس کی تلاوت کی اور اسے سمجھا اور اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کروایا۔ آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب طویل زمانہ گزر جائے گا، تو کوئی شخص یہ نہ کہے۔ اللہ کی قسم! ہمیں، تو اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے کی آیت نہیں ملتی ہے، تو وہ شخص ایک ایسے فریضے کو ترک کر دے گا، جسےاللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے کا حکم ایسے شخص کے بارے میں ہے، جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو جبکہ وہ مرد ہو یا عورت ہو، لیکن محصن ہو جب ثبوت قائم ہو جائے یا (عورت) حاملہ ہو جائے یا اعتراف کر لے پھر ہم یہ بھی پڑھتے رہے ہیں۔ ”تم لوگ اپنے آبا ؤ اجداد سے منہ نہ موڑو، کیونکہ تمہارا آبا ؤ اجداد سے منہ موڑنا تمہارا کفر کرنا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھا دو، جس طرح ابن مریم کو بڑھا دیا گیا۔ میں بندہ ہوں، تو تم لوگ یہ کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔“ (پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ تم میں سے فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہو گیا، تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا۔ یہ بات کسی کو بھی دھوکے کا بھی شکار نہ کرے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہو گئی اور مکمل ہو گئی، وہ ہوئی اچانک ہی تھی، لیکناللہ تعالیٰ نے اسے خرابی سے محفوظ رکھا تھا، اور تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی نمایاں حیثیت حاصل ہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا اس وقت وہ ہم میں سب سے بہتر تھے۔ بیشک علی، زبیر اور ان کے ساتھ کے دیگر افراد ہم سے پیچھے رہ گئے تھے اور انصار بھی ہم سے کچھ پیچھے رہے تھے۔ وہ لوگ بنوساعدہ کی بیٹھک میں اکٹھے ہوئے مہاجرین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ ابھی ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ میں تھے کہ دیوار کے پرے سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا: اے خطاب کے صاحب زادے! میرے پاس باہر تشریف لائیں میں نے کہا: تم مجھ سے دور رہو۔ میری تمہارے علاوہ اور بھی مصروفیات ہیں، تو وہ شخص بولا: ایک ایسا معاملہ رونما ہو گیا ہے جہاں آپ کی موجودگی ضروری ہے۔ انصار بنوساعدہ کی بیٹھک میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ آپ لوگ ان کے پاس پہنچ جائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی نیا فیصلہ کر لیں اور بعد میں آپ کے اور ان کے درمیان جنگ ہو، تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ بھی ہمارے ساتھ ہمارے ان انصار بھائیوں کی طرف چلیں، تو ہم لوگ ان لوگوں کی طرف جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی ہم سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ میرے اور ان کے درمیان چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم لوگ ان لوگوں کے قریب ہوئے، تو دو نیک آدمی ہم سے ملے ان دونوں نے اس بات کا تذکرہ کیا، جو ان کی قوم کے افراد کر رہے ہیں ان دونوں نے دریافت کیا۔ اے مہاجرین کے گروہ! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: ہم لوگ اپنے ان انصار بھائیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ ان کے قریب جائیں۔ اے مہاجرین کے گروہ! آپ لوگ اپنا فیصلہ خود کر لیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور ان لوگوں کے پاس آ گئے، تو وہ بنوساعدہ کے سقیفے میں موجود تھے۔ ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا یہ سعد بن عبادہ ہیں۔ میں نے کہا: انہیں کیا ہوا ہے۔ لوگوں نے بتایا یہ بیمار ہیں۔ جب ہم بیٹھ گئے، تو انصار کے خطیب نے گفتگو شروع کی۔ اس نےاللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی ثنا بیان کی پھر یہ بات کہی۔ امابعد! ہم لوگاللہ تعالیٰ کے مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں اور تم لوگ اسے مہاجرین کے گروہ! ہمارا ایک گروہ ہو تمہیں تمہاری قوم نے پرے کر دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ ہمیں اصل سے دور کر دیں اور ہمیں ایک طرف کر دیں جب اس شخص نے اپنی گفتگو مکمل کر لی، تو میں نے بات چیت کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے ذہن میں ایک مضمون سوچ لیا تھا جو مجھے پسند بھی آیا۔ میں یہ چاہتا تھا کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہو جاؤں اور میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ صورت حال کو بہتر کر سکوں۔ جب میں نے بات چیت کرنے کا ارادہ کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ٹھہر جاؤ۔ مجھے انہیں ناراض کرنا اچھا نہ لگا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات چیت شروع کی وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور زیادہ پروقار تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے اپنے ذہن میں جو مضمون سوچا تھا، اور جو مجھے اچھا لگا تھا۔ انہوں نے اس میں سے کوئی بھی بات ترک نہیں کی۔ انہوں نے اس کی مانند یا اس سے زیادہ عمدہ انداز میں بات کی، یہاں تک کہ جب وہ خاموش ہو گئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اوراللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ کہا:۔ امابعد! اے انصار! تم لوگوں نے اپنے اندر موجود جس بھلائی کا ذکر کیا ہے تم لوگ اس کے اہل ہو، لیکن عرب اس معاملے (یعنی حکومت) کے بارے میں صرف اسی قبیلے قریش سے واقف ہیں، کیونکہ یہ نسب اور رہائش کے اعتبار سے عربوں میں سب سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ میں تم لوگوں کے لئے ان دو میں سے کسی ایک فرد سے راضی ہوں تم جس کی چاہو بیعت کر لو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صرف یہی بات اچھی نہیں لگی۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے کر دیا جائے اور میری گردن اڑا دی جائے اور وہ کسی گناہ کی پاداش میں نہ ہو۔ یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ مجھے کسی ایسی قوم کا امیر مقرر کیا جائے جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں، البتہ اگر مرنے کے قریب میری صورتحال تبدیل ہو جائے، تو اس کا معاملہ مختلف ہے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات مکمل کر لی، تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: میں وہ شاخ ہوں جس کے ذریعے کھجایا جاتا ہے اور وہ کھجور ہوں جس کی حفاظت کی جاتی ہے (یعنی مشکل وقت میں مجھ سے مشورہ لیا جاتا ہے اور میری قوم میرے ساتھ ہوتی ہے) اے قریش کے گروہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ایک امیر تم میں سے ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس پر شور شرابا شروع ہو گیا اور آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ میں نے اس اختلاف کو چیرا اور میں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ان کی بیعت کر لی۔ مہاجرین اور انصار نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ ہم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، تو انصار میں سے ایک صاحب نے کہا: تم لوگوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اس وقت غصے میں تھا۔اللہ تعالیٰ نے سعد کو قتل کیا ہے، کیونکہ یہ فتنہ اور شر پیدا کرنا چاہتا تھا۔ بے شک ہم لوگ اللہ کی قسم! ہم نے اپنے معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے زیادہ بہتر اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ہم لوگ ان لوگوں سے الگ ہو گئے اس سے پہلے کے بیعت ہو جائے، تو کہیں ہمارے بعد وہ نئی بیعت نہ کر لیں، تو پھر یا، تو ہمیں ایسی بیعت کرنی پڑے گی، جس سے ہم راضی نہیں ہوں گے یا ان کی مخالفت کرنی پڑے، تو پھر فساد پیدا ہو گا، تو کسی بھی شخص کا یہ کہنا ہرگز غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی اچانک ہو گئی تھی، لیکن وہ مکمل ہو گئی تھی۔ وہ اچانک ہوئی تھی، لیکناللہ تعالیٰ نے اس کی خرابی سے محفوظ رکھا تھا۔ خبردار! اب تمہارے درمیان ابوبکر جیسا اور کوئی شخص نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: زہری نے عروہ بن زبیر کی یہ بات نقل کی ہے کہ وہ دو انصاری افراد جن کی مہاجرین سے ملاقات ہوئی تھی وہ سیدنا عویم بن ساعدہ اور سیدنا معن بن عدی تھے۔ امام مالک بیان کرتے ہیں: زہری نے سعید بن مسیب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ایک دن انہوں نے یہ کہا: روایت کے یہ الفاظ: ”میں وہ شاخ ہوں جس کے ذریعے کھجایا جاتا ہے۔“ یہ بات کہنے والا شخص بنوسلمہ سے تعلق رکھتا تھا جس کا نام حباب بن المنذر تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی، لیکناللہ تعالیٰ نے ان کو برائی سے محفوظ رکھا، اس سے مراد یہ ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے آغاز میں سب لوگ شامل نہیں تھے اور وہ چیز جس میں سب لوگ شامل نہ ہوں اس کے لیے لفظ اچانک استعمال ہوتا ہے، اور جس چیز میں سب لوگ شریک نہ ہوں اس کے بارے میں خرابی کا اندیشہ بھی ہوتا ہے، اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا:اللہ تعالیٰ نے اس کو خرابی سے محفوظ رکھا۔ اس سے مراد وہ خرابی ہے، جو اچانک ہو جانے والی چیزوں میں متوقع ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں کوئی خرابی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 414]""

415

Sahih Ibn Hibban #415

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ ، لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعَ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلامِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ "فقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان بیان کرتے ہیں: جب زیاد کے بارے میں دعوی کیا گیا، تو میری ملاقات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے کہا: یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میرے دونوں کانوں نے اس بات کو سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اسلام میں کسی باپ کی طرف خود کو منسوب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی۔“ تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 415]

416

Sahih Ibn Hibban #416

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلامِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ "، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے دونوں کانوں کے ساتھ یہ بات سنی ہے اور میرے دل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر اسے محفوظ رکھا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اسلام میں کسی باپ (کی اولاد ہونے) کا دعویٰ کرے اور وہ شخص یہ بات جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اپنے دونوں کانوں کے ذریعے اس بات کو سنا تھا، اور میرے دل نے بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر محفوظ رکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 416]

417

Sahih Ibn Hibban #417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، تو ایسے شخص پراللہ تعالیٰ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 417]

418

Sahih Ibn Hibban #418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، وَأَنَا عِنْدَهُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّأَبَوَيَّ قَدْ هَلَكَا ، فَهَلْ بَقِيَ لِي بَعْدَ مَوْتِهِمَا مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، الصَّلاةُ عَلَيْهِمَا ، وَالاسْتِغْفَارُ لَهُمَا ، وَإِنْفَاذُ عُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا ، وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لا رَحِمَ لَكَ إِلا مِنْ قِبَلِهِمَا " ، قَالَ الرَّجُلُ : مَا أَكْثَرَ هَذَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَطْيَبَهُ ! ، قَالَ : " فَاعْمَلْ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس پر عمل کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 418]

419

Sahih Ibn Hibban #419

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ السَّرَّادُ بِتُسْتُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّيأُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ ، فقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِمَا ، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح، تم نے انہیں رلایا ہے اس طرح انہیں ہنساؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 419]

420

Sahih Ibn Hibban #420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِأُجَاهِدُ ؟ قَالَ : لَكَ أَبَوَانِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کی بھرپور (خدمت کرو) [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 420]

421

Sahih Ibn Hibban #421

حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْجِهَادِ ، قَالَ : أَلَكَ وَالِدَانِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَبِرَّهُمَا " فَذَهَبَ وَهُوَ يَحْمِلُ الرِّكَابَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے جہاد کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، تو وہ شخص چلا گیا حالانکہ وہ رکاب اٹھا کر آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 421]

422

Sahih Ibn Hibban #422

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَ الْيَمَنِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي هَاجَرْتُ ؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْهَجَّرْتَ الشِّرْكَ ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ ؟ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ " ؟ قَالَ : أَبَوَايَ ، قَالَ : " أَذِنَا لَكَ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " ارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا ، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ ، فَجَاهِدْ ، وَإِلا فَبِرَّهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے ہجرت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کی ہے، لیکن جہاد (کا معاملہ باقی ہے) کیا یمن میں تمہارا کوئی عزیز ہے اس نے عرض کیا میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور ان دونوں سے اجازت لو اگر وہ تمہیں اجازت دیدیں، تو تم جہاد میں حصہ لو ورنہ تم ان کی خدمت کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 422]

423

Sahih Ibn Hibban #423

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَقَدْ أَسْلَمَ ، وَقَالَ : قَدْتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِمَا ، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا " وَأَبَى أَنْ يَخْرُجَ مَعَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ اس نے اسلام قبول کیا، تو اس نے عرض کی: میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان دونوں کو ہنساؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ آپ کے ساتھ (جہاد کے لئے) جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 423]

424

Sahih Ibn Hibban #424

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا ، فَيَشْتَرِيَهُ فَيَعْتِقَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی شخص اپنے باپ کو بدلا نہیں دے سکتا، ماسوائے اس صورت حال کے، کہ وہ اس (باپ) کو غلام کی حیثیت میں پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 424]

425

Sahih Ibn Hibban #425

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ : أَنَّ رَجُلا أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فقَالَ : إِنَّ أَبِي لَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ ، وَإِنَّهُ الآنَ يَأْمُرُنِي بِطَلاقِهَا ، قَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تَعُقَّ وَالِدَكَ ، وَلا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ ، غَيْرَ أَنَّكَ إِنْ شِئْتَ ، حَدَّثْتُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَحَافِظْ عَلَى ذَلِكَ إِنْ شِئْتَ ، أَوْ دَعْ " ، قَالَ : فَأَحْسِبُ عَطَاءً ، قَالَ : فَطَلَّقَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمان سلمی بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میرے والد نے بہت اصرار کر کے میری شادی کروائی اور اب وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں اس عورت کو طلاق دیدوں۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی ہدایت نہیں کروں گا کہ تم اپنے باپ کی نافرمانی کرو اور میں تمہیں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو، البتہ اگر تم چاہو، تو میں تمہیں وہ بات سنا دیتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، اب اگر تم چاہو، تو اس کی حفاظت کرو اور اگر چاہو، تو چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی تھی: پھر اس شخص نے اس عورت کو طلاق دیدی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 425]""

426

Sahih Ibn Hibban #426

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَتَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ ، فَأَمَرَهُ بِطَلاقِهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہ عورت اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت کو طلاق دیدیں۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد کی بات مان لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 426]

427

Sahih Ibn Hibban #427

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْتَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا ، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا ، فَأَمَرَنِي بِطَلاقِهَا ، فَأَبَيْتُ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ طَلِّقْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری ایک بیوی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا، لیکن میرے والد اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے اسے طلاق دینے کی ہدایت کی۔ میں نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! تم اس عورت کو طلاق دیدو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 427]

428

Sahih Ibn Hibban #428

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلِّ أَجَمَةٍ ، فقَالَ : قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، فقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ ، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ، لَئِنْ شِئْتَ لآتِيَنَّكَ بِرَأْسِهِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا ، وَلَكِنْبِرَّ أَبَاكَ ، وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو كَبْشَةَ هَذَا وَالِدُ أُمِّ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ قَدْ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ ، فَاسْتَحْسَنَ دِينَ النَّصَارَى ، فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ وَأَظْهَرَهُ ، فَعَاتَبَتْهُ قُرَيْشٌ حَيْثُ جَاءَ بِدِينٍ غَيْرِ دِينِهِمْ ، فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَيِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَنْسِبُهُ إِلَيْهِ ، يَعْنُونَ بِهِ أَنَّهُ جَاءَ بِدَيْنٍ غَيْرِ دِينِهِمْ ، كَمَا جَاءَ أَبُو كَبْشَةَ بِدَيْنٍ غَيْرِ دِينَهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا۔ وہ اس وقت ایک گنجان درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بولا: ابن ابی کبشہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ہم پر غبار اڑایا ہے، تو اس کے بیٹے عبداللہ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) عرض کی اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ اگر آپ چاہیں، تو میں اس کا سر لے کر آپ کی خدمت میں آ جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ تم اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کی خدمت کرو۔ ابوکبشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نانی کے والد تھے یہ شام تشریف لے گئے تھے۔ انہیں عیسائیوں کا دین اچھا لگا، جب یہ قریش کی طرف واپس تشریف لائے، تو انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی، تو قریش نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین پیش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے سے عار دلاتے تھے اور ان کی طرف منسوب کیا کرتے تھے، اس سے قریش کی مراد یہ ہوتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے دین کے علاوہ نیا دین لے کے آئے ہیں۔ جس طرح جناب ابوکبشہ ان لوگوں کے دین سے مختلف دین لے کے آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 428]

429

Sahih Ibn Hibban #429

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رِضَاءُ اللَّهِ فِي رِضَاءِ الْوَالِدِ ، وَسَخَطُ اللَّهِ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اوراللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 429]

430

Sahih Ibn Hibban #430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّأَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیشک سب سے عمدہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 430]

431

Sahih Ibn Hibban #431

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّأَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک سب سے بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اس کے (دنیا سے) چلے جانے کے بعد اچھا سلوک کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 431]

432

Sahih Ibn Hibban #432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ لا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ ، فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ " وَإِنَّهُ كَانَ بَيْنَ أَبِي عُمَرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصِلَ ذَاكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ اس کی قبر میں اچھا سلوک کرے، اسے اپنے باپ کے بعد اپنے باپ کے بھائیوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئے۔“ (سیدنا ابن عمر نے بتایا) میرے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور تمہارے والد کے درمیان بھائی چارگی اور دوستی تھی، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس حوالے سے (تمہارے ساتھ) اچھا سلوک کروں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 432]

433

Sahih Ibn Hibban #433

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ؟ قَالَ : أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ " ، قَالَ : فَيَرَوْنَ أَنَّ لِلأُمِّ ثُلُثَيِ الْبِرِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ، اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا والد۔ راوی کہتے ہیں: علماء اس بات کے قائل ہیں: دو تہائی اچھا سلوک والدہ کے ساتھ کیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 433]

434

Sahih Ibn Hibban #434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ :مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صُحْبَتِي ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، فقَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے دریافت کیا: میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری والدہ، تو اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ، تو اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا والد۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 434]

435

Sahih Ibn Hibban #435

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّيأَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَلَكَ خَالَةٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَبِرَّهَا إِذًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ گناہ کئے ہیں۔ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہاری خالہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 435]

436

Sahih Ibn Hibban #436

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَرَضِهِ : أَرْحَامَكُمْ أَرْحَامَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض (وفات) کے دوران فرمایا: ”اپنے رشتے داروں کے (حقوق کا خیال رکھنا) اپنے رشتے داروں (کے حقوق کا خیال رکھنا)“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 436]

437

Sahih Ibn Hibban #437

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنْجِينِي مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى وُجُوهِ أَصْحَابِهِ وَكَفَّ عَنْ نَاقَتِهِ وَقَالَ : لَقَدْوُفِّقَ ، أَوْ هُدِيَ ، لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا۔ اس نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے معاملے کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات دیدے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور اپنی اونٹنی کو روک لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو توفیق دی گئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ہدایت دی گئی، تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز ادا کرو، زکوۃ ادا کرو۔ صلہ رحمی کرو اور (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 437]

438

Sahih Ibn Hibban #438

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَجَلِهِ ، وَيُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی زندگی طویل ہو اور اس کے رزق میں کشادگی ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 438]