Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 4 · Chapter 2

The Book of Knowledge

Hadith 365–404

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

365

Sahih Ibn Hibban #365

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ ، قَالَ لِجِبْرِيلَ : قَدْ أَحْبَبْتُ فُلانًا فَأَحِبَّهُ ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلانًا فَأَحِبُّوهُ ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ، قَالَ مَالِكٌ : لا أَحْسِبُهُ إِلا ، قَالَ فِي الْبُغْضِ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَمِعَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو وہ جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں کے درمیان اعلان کرتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے، تو تم لوگ بھی اس سے محبت رکھو، تو آسمان والے بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں پھر اس شخص کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ ”اور جباللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے“ مالک نامی راوی نے یہ کہا: ہے میرا گمان ہے کہ روایت میں ناپسند کرنے کے الفاظ ہیں۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت سہیل نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ روایت کا قعقاع بن حکیم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 365]""

366

Sahih Ibn Hibban #366

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ يَعْمَلُ لِنَفْسِهِ ، وَيُحِبُّهُ النَّاسُ ؟ قَالَ : تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنے لئے عمل کرتا ہے، لیکن لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مومن کو جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 366]

367

Sahih Ibn Hibban #367

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَالرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ يَحْمَدُهُ النَّاسُ ؟ قَالَ : ذَلِكَ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جو کوئی نیکی کا عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کو ملنے والی خوشخبری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 367]

368

Sahih Ibn Hibban #368

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا ، أَثْنَى عَلَيْهِ ، بِسَبْعَةِ أَضْعَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهَا ، وَإِذَا سَخِطَ عَلَى عَبْدٍ أَثْنَى عَلَيْهِ بِسَبْعَةِ أَضْعَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو ایسی سات ہزار بھلائیوں کے ہمراہ اس کی تعریف کرتا ہے، جس کا اس بندے نے ارتکاب بھی نہیں کیا اور جب وہ کسی بندے پر ناراض ہوتا ہے، تو ایسی سات ہزار برائیوں کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے، جس کا اس شخص نے ارتکاب نہیں کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 368]

369

Sahih Ibn Hibban #369

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز تیار رکھی ہے، جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے۔ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں ہے۔ کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا:) اس کا مصداقاللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود (یہ آیت ہے) کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے، جو ان کے کئے ہوئے عمل کا بدلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 369]

370

Sahih Ibn Hibban #370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَإِنَّ أَصْحَابَهُ قَدْ أَصَابَتْهُمُ الْكَآبَةُ وَالْحُزْنُ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " فَتَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الآيَةَ بَعْدَهَا : لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کر دی ہے، تاکہاللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی تھی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پریشانی اور غم کا سامنا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے، جو میرے نزدیک دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ان لوگوں کے سامنے تلاوت کی، تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے یہ بات، تو بیان کر دی ہے کہ اس نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے، لیکن اس نے ہمارے ساتھ کیا کرنا ہے۔ (یہ بیان نہیں کیا)، تواللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی یہ آیت نازل کر دی۔ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 370]

371

Sahih Ibn Hibban #371

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : ، قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فِي قَوْلِهِ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ قَدْ خَالَطَهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ ، قَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَسْأَلَتِهِمْ ، وَنَحَرُوا الْبُدْنَ ، بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " فَقَرَأَهَا عَلَيْهِمْ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ إِلَى آخِرِ الآيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی۔“ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ آپ کے اصحاب کو غم اور تکلیف کا سامنا تھا، کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تھے اور انہوں نے حدیبیہ میں ہی اپنے قربانی کے جانور قربان کر دیئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی جو میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری آیت ان لوگوں کے سامنے تلاوت کی، تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے لئے مبارک باد ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کر دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 371]

372

Sahih Ibn Hibban #372

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ غَدَا إِلَى مَسْجِدٍ أَوْ رَاحَ ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّزُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ إِنْسَانًا ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، تو وہ اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے، تو وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص حاکم وقت کے پاس جاتا ہے، تاکہ اس کی مدد کرے وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی انسان کی غیبت نہیں کرتا وہ بھیاللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے۔ (یعنی اس کی امان میں ہوتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 372]

373

Sahih Ibn Hibban #373

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يُؤْمِنُ بِاللَّهِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعَ الإِيمَانِ عَمَلا ؟ قَالَ : " يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ " قُلْتُ : وَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لا شَيْءَ لَهُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ مَعْرُوفًا بِلِسَانِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ كَانَ عَيِيًّا لا يُبْلِغُ عَنْهُ لِسَانُهُ ؟ قَالَ : " فَيُعِينُ مَغْلُوبًا " قُلْتُ : فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لا قُدْرَةَ لَهُ ؟ قَالَ : " فَلْيَصْنَعْ لأَخْرَقَ " قُلْتُ : وَإِنْ كَانَ أَخْرَقَ ؟ قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ : " مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ ، فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ تَيْسِيرٍ ؟ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا ، يُرِيدُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ ، إِلا أَخَذَتْ بِيَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرحمن بْنِ أُذَيْنَةَ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکثیر سحیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے کہ بندہ جب اسے کر لے، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہاللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ایمان کے ہمراہ کوئی عمل بھی ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے تھوڑا سا (اللہ کی راہ میں بھی) دے، میں نے عرض کیا اگر وہ کوئی ایسا شخص ہو، جس کے پاس کوئی بھی چیز نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی زبان کے ذریعے نیکی کی بات کہے میں نے عرض کی: اگر وہ ایسا معذور ہو کہ اپنی زبان کے ذریعے کچھ نہ پہنچا سکتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مغلوب شخص کی مدد کرے میں نے عرض کی: اگر وہ ایسا کمزور ہو کہ وہ اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر وہ کسی معذور کے لئے کوئی کام کرے میں نے عرض کی: اگر وہ خود معذور ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: اگر تم اس شخص کے بارے میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے، تو پھر وہ شخص لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ کلمات آسانی فراہم کرنے کے لئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو کوئی بندہ ان میں سے جو بھی کام کرے گا اور وہ اس کے ذریعےاللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا ارادہ کرے گا تو یہ عمل قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوکثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ”ثقہ“ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 373]""

374

Sahih Ibn Hibban #374

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ ، فَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ :أَعْتِقِ النَّسَمَةَ ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ " ، قَالَ : أَوَ لَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ ؟ قَالَ : لا ، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا ، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعْطِي فِي ثَمَنِهَا ، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْقَاطِعِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَاكَ ، فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلا مِنْ خَيْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے مختصر الفاظ استعمال کئے ہیں اور بڑی بات دریافت کی ہے، تم جان (یعنی غلام یا کنیز) کو آزاد کرو اور گردن کو چھڑاؤ اس نے دریافت کیا: یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم صرف اسے آزاد کرو اور گردن کو چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کرو (اور دوسرے شخص کے غلام کو آزاد کر دو) ایسا عطیہ دینا جو مسلسل جاری ہو اور رشتے داری کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے رشتے دار پر خرچ کرنا اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تو تم بھوکے کو کھانا کھلا دو اور پیاسے کو کچھ پلا دو نیکی کا حکم دو برائی سے منع کر دو اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے، تو تم بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روک کے رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 374]

375

Sahih Ibn Hibban #375

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّالرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ ، فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ ، سَرَّهُ ؟ قَالَ : لَهُ أَجْرَانِ : أَجْرُ السِّرِّ ، وَأَجْرُ الْعَلانِيَةِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ " إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ ، فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ سَرَّهُ " مَعْنَاهُ أَنَّهُ يَسُرُّهُ أَنَّ اللَّهَ وَفَّقَهُ لِذَلِكَ الْعَمَلِ ، فَعَسَى يُسْتَنُّ بِهِ فِيهِ ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ ، كُتِبَ لَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا سَرَّهُ ذَلِكَ لِتَعْظِيمِ النَّاسِ إِيَّاهُ ، أَوْ مَيْلِهِمْ إِلَيْهِ ، كَانَ ذَلِكَ ضَرْبًا مِنَ الرِّيَاءِ ، لا يَكُونُ لَهُ أَجْرَانِ وَلا أَجْرٌ وَاحِدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص کوئی عمل کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے، لیکن جب اس کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے، تو کیا یہ بات اسے اچھی لگنی چاہئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے۔ ایک پوشیدہ رکھنے کا اجر اور ایک ظاہر ہونے کا اجر۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”بے شک ایک شخص ایک عمل کرتا ہے، اور وہ اسے پسند آتا ہے، اور وہ جب اس پر مطلع ہوا جائے، تو یہ چیز اسے اچھی لگتی ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے: آدمی اس بات پہ خوش ہوتا ہے کہاللہ تعالیٰ نے اسے اس عمل کی توفیق دی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے، تو جب اس طرح کی صورتحال ہو، تو اسے دو طرح کا اجر ملے گا، اور جب آدمی کو یہ بات اس لیے اچھی لگے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں گے یا اس کی طرف مائل ہوں گے، یہ ریا کی ایک قسم ہے ایسے شخص کو دگنا اجر نہیں ملے گا بلکہ اسے ایک اجر بھی نہیں ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 375]

376

Sahih Ibn Hibban #376

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِذَا أَتَانِي مَشْيًا ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ، وَإِنْ هَرْوَلَ سَعَيْتُ إِلَيْهِ ، وَاللَّهُ أَوْسَعُ بِالْمَغْفِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے، تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ذراع میرے قریب ہوتا ہے، تو میں ایک باغ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے، تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دوڑتا ہوا آتا ہے، تو میں زیادہ تیزی سے چل کر اس کی طرف جاتا ہوں اوراللہ تعالیٰ وسیع مغفرت کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 376]

377

Sahih Ibn Hibban #377

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ لا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ ، فَأَمَّا الْكَافِرُ ، فَيَطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَإِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن پر نیکی کے حوالے سے ظلم نہیں کرتا وہ دنیا میں اسے رزق عطا کرتا ہے اور آخرت میں اس نیکی کا بدلہ عطا کرے گا جہاں تک کافر کا تعلق ہے، تو وہ دنیا میں اپنی نیکیوں کا پھل کھا لیتا ہے اور جب وہ آخرت کی طرف جائے گا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی، جس کے عوض میں اسے کوئی بھلائی دی جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 377]

378

Sahih Ibn Hibban #378

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ ، سِتِّينَ عَامًا ، فَأَمْطَرَتِ الأَرْضُ ، فَاخْضَرَّتْ ، فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ ، فقَالَ : لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ ، لازْدَدْتُ خَيْرًا ، فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الأَرْضِ ، لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ ، حَتَّى غَشِيَهَا ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ ، فَجَاءَهُ سَائِلٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ ، أَوِ الرَّغِيفَ ، ثُمَّ مَاتَ فَوُزِنَتْ عِبَادَةُ سِتِّينَ سَنَةً بِتِلْكَ الزَّنْيَةِ ، فَرَجَحَتِ الزَّنْيَةُ بِحَسَنَاتِهِ ، ثُمَّ وُضِعَ الرَّغِيفُ أَوِ الرَّغِيفَانِ مَعَ حَسَنَاتِهِ ، فَرَجَحَتْ حَسَنَاتُهُ فَغُفِرَ لَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ ، عَنْ وَكِيعٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ بِالْعِرَاقِ ، وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ فِلَسْطِينَ عَنْ وَكِيعٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ایک عبادت گزار شخص عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے اپنی عبادت گاہ میں ساٹھ برس تک عبادت کی ایک مرتبہ بارش ہوئی اور زمین سرسبز و شاداب ہو گئی۔ اس راہب نے اپنی عبادت گاہ سے باہر جھانک کر دیکھا، تو اس نے سوچا اگر میں نیچے جا کراللہ تعالیٰ کا ذکر کروں، تو میں زیادہ بھلائی حاصل کر لوں گا۔ پھر وہ وہاں سے نیچے اتر آیا اس کے ساتھ ایک یا شاید دو روٹیاں تھیں۔ ابھی وہ زمین میں پہنچا تھا کہ ایک عورت سے اس کی ملاقات ہوئی۔ وہ راہب اس عورت سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ عورت اس شخص کے ساتھ بات چیت کرنے لگی، یہاں تک کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ زنا کر لیا پھر اس پر مدہوشی طاری ہوئی، تو وہ غسل کرنے کے لئے کنویں میں اتر گیا۔ اسی دوران ایک مانگنے والا اس کے پاس آیا، تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ان دو روٹیوں، یا ایک روٹی کو لے لو، پھر وہ راہب فوت ہو گیا، تو اس کی ساٹھ سال کی عبادت کا وزن اس ایک مرتبہ زنا کرنے کے ساتھ کیا گیا، تو وہ زنا کرنا اس کی نیکیوں سے زیادہ وزنی تھا پھر وہ ایک یا دو روٹیاں اس کی نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں، تو اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اس شخص کی مغفرت ہو گئی۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت غالب بن وزیر نامی راوی نے وکیع نامی راوی سے بیت المقدس میں سنی تھی۔ انہوں نے یہ روایت عراق میں بیان نہیں کی یہ ان روایات میں سے ایک ہے جنہیں اہل فلسطین، وکیع کے حوالے سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 378]""

379

Sahih Ibn Hibban #379

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ ، فَإِذَا عَمِلَهَا ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً ، فَأَنَا أَغْفِرُهَا مَا لَمْ يَفْعَلْهَا ، فَإِذَا فَعَلَهَا ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا مِثْلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ”جنب میرا بندہ یہ سوچتا ہے کہ وہ ایک نیکی کرے گا، تو میں اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لیتا ہوں جب تک وہ اس پر عمل نہیں کرتا جب وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے، تو میں اس کا دس گنا اجر نوٹ کر لیتا ہوں اور جب بندہ یہ سوچتا ہے کہ وہ کوئی گناہ کرے گا، تو جب تک وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا میں اس سے درگزر کرتا ہوں اور جب وہ اس کا ارتکاب کر لیتا ہے، تو میں اسے ایک گناہ کے طور پر نوٹ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 379]

380

Sahih Ibn Hibban #380

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ ، فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً ، فَإِذَا عَمِلَهَا ، فَاكْتُبُوهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَإِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ ، فَلا تَكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا ، فَإِنْ تَرَكَهَا ، فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرماتا ہے، جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے، تو تم اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لو اور جب وہ اس پر عمل کرے، تو تم اسے دس گنا کے طور پر نوٹ کر لو اور جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے، تو تم اسے نوٹ نہ کرو اور اگر وہ اسے چھوڑ دے، تو تم اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 380]

381

Sahih Ibn Hibban #381

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ سَيِّئَةً ، فَإِنْ تَابَ مِنْهَا ، فَامْحُوهَا عَنْهُ ، وَإِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(اے فرشتو!) جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے اور وہ اس پر عمل نہ کرے، تو تم لوگ اسے نیکی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس پر عمل کر لے، تو تم اسے برائی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس سے توبہ کر لے، تو تم اس کی طرف سے برائی کو مٹا دو اور جب میرا بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے، تو تم اسے نیکی کے طور پر نوٹ کرو اور اگر وہ اس پر عمل کر لے، تو تم اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا (اجر و ثواب) کے طور پر نوٹ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 381]

382

Sahih Ibn Hibban #382

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَالَ :إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً ، فَلا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلْهَا ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا مِثْلَهَا ، فَإِنْ تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِي ، فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ عَشْرَةَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: (اے فرشتو!) جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے، تو تم اسے اس وقت تک نوٹ نہ کرو جب تک وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو تم اسے ایک برائی کے طور پر نوٹ کرو اگر وہ میری وجہ سے اسے چھوڑ دیتا ہے، تو تم اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کرو اگر وہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے، تو تم اسے نیکی کے طور پر نوٹ کرو اگر وہ اس نیکی پر عمل بھی کر لیتا ہے، تو تم اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا (اجر و ثواب) کے طور پر نوٹ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 382]

383

Sahih Ibn Hibban #383

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : عنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِالْحَسَنَةِ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبْتُهَا لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبْتُهَا وَاحِدَةً "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : " إِذَا هَمَّ عَبْدِي " أَرَادَ بِهِ إِذَا عَزَمَ ، فَسَمَّى الْعَزْمَ هَمًّا ، لأَنَّ الْعَزْمَ نِهَايَةُ الْهَمِّ ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُطْلِقُ اسْمَ الْبَدَاءَةِ عَلَى النِّهَايَةِ ، وَاسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى الْبَدَاءَةِ ، لأَنَّ الْهَمَّ لا يُكْتَبُ عَلَى الْمَرْءِ ، لأَنَّهُ خَاطِرٌ لا حُكْمَ لَهُ ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يَكْتُبُ لِمَنْ هَمَّ بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ ، وَإِنْ لَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِ وَلا عَمِلَهُ لِفَضْلِ الإِسْلامِ ، فَتَوْفِيقُ اللَّهِ الْعَبْدَ لِلإِسْلامِ فَضْلٌ تَفَضَّلَ بِهِ عَلَيْهِ ، وَكِتْبَتُهُ مَا هَمَّ بِهِ مِنَ الْحَسَنَاتِ وَلَمَّا يَعْمَلْهَا فَضْلٌ ، وَكِتْبَتُهُ مَا هَمَّ بِهِ مِنَ السَّيِّئَاتِ وَلَمَّا يَعْمَلْهَا لَوْ كَتَبَهَا ، لَكَانَ عَدْلا ، وَفَضْلُهُ قَدْ سَبَقَ عَدْلَهُ ، كَمَا أَنَّ رَحْمَتَهُ سَبَقَتْ غَضَبَهُ ، فَمِنْ فَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ مَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَى صِبْيَانِ الْمُسْلِمِينَ مَا يَعْمَلُونَ مِنْ سَيِّئَةٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ ، وَكَتَبَ لَهُمْ مَا يَعْمَلُونَهُ مِنْ حَسَنَةٍ ، كَذَلِكَ هَذَا وَلا فَرْقَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے، جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو میں اسے دس نیکیوں کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کر لیتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اسے نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو میں اسے ایک (برائی) کے طور پر نوٹ کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ”جب میرا بندہ ارادہ کرتا ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے: جب وہ عزم کرتا ہے، تو یہاں عزم کے لئے لفظ ”ہم“ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: ”ہم“ کی انتہا عزم ہے، اور عرب اپنے محاور ے میں کسی ابتدا والے اسم کا اطلاق انتہا پر کر دیتے ہیں، اور انتہا والے اسم کا اطلاق آغاز پر کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے: ارادہ کرنا آدمی کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا، کیونکہ وہ صرف ایک خیال ہے اس کا کوئی حکم نہیں ہو گا۔ اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ، جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہواللہ تعالیٰ اس کے لئے نیکی لکھ لیتا ہے اگرچہ اس نے اس کا پختہ ارادہ نہ کیا ہو اور اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔اللہ تعالیٰ اسلام کی فضیلت کی وجہ سے ایسا کر دیتا ہو، تواللہ تعالیٰ کا بندے کو اسلام کی توفیق دینا ایک فضل ہے، جو اس نے اپنے بندے پر کیا ہے، اور بندہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہے، اور اس پر عمل نہیں کرتا ہے اس کو نوٹ کر لینا بھیاللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا، اور بندہ جس برائی کا ارادہ کرتا ہے، اور اس پر عمل نہیں کرتا، تو اگراللہ تعالیٰ اسے نوٹ کر لیتا ہے، تو یہ انصاف کے مطابق ہو گا۔ لیکن، کیونکہ اس کا فضل اس کے انصاف سے آگے نکل گیا ہے اس طرح اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے، تو اس کے فضل اور اس کی رحمت میں یہ بات شامل ہے کہ مسلمانوں کے کمسن بچے، جب تک بالغ نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کا کوئی گناہ نوٹ نہ کیا جائے، اور ان کی نیکیاں نوٹ کی جائیں۔ تو یہ اسی طرح ہو گا، اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 383]""

384

Sahih Ibn Hibban #384

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبْتُ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبْتُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ أَكْتُبْ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كَتَبْتُهَا عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے، تو میں اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ ایک برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا، تو میں اس کے خلاف کچھ نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے خلاف ایک برائی نوٹ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 384]

385

Sahih Ibn Hibban #385

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ : لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ؟ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا ، وَهَوًى مُتَّبَعًا ، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً ، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ ، فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ ، وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ " ، قَالَ وَزَادَنِي غَيْرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " خَمْسِينَ مِنْكُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ الْمُبَارَكِ هُوَ الَّذِي قَالَ : وَزَادَنِي غَيْرُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوامیہ شعبانی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے ابوثعلبہ! آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ”جب تم لوگ اطاعت کر لو، تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم نے ایک ایسے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا ہے، جو اس بارے میں جانتا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: بلکہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور ایک دوسرے کو برائی سے منع کرو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ کنجوسی کی پیروی کی جانے لگی ہے، خواہش نفس کے پیچھے چلنے لگ پڑے ہیں۔ دنیا کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ ہر سمجھدار شخص اپنی رائے کے بارے میں خود پسندی کا شکار ہو چکا ہے، تو اس وقت تم پر صرف اپنا خیال رکھنا لازم ہے تم لوگوں کے معاملے کو ترک کر دو، کیونکہ اس کے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کی مانند ہو گا۔ ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو اس کے عمل جیسے پچاس آدمیوں کے عمل کا ثواب ملے گا۔ جبکہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان میں سے پچاس آدمیوں کا اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سے پچاس آدمیوں کا اجر ملے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے کہ ابن مبارک نے یہ الفاظ نقل کیے ہوں کہ دوسرے راوی نے مجھے مزید (الفاظ) بیان کیے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 385]""

386

Sahih Ibn Hibban #386

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّامْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَنَزَعَتْ لَهُ ، فَسَقَتْهُ ، فَغُفِرَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے کنارے چکر لگا رہا تھا، اور وہ اپنی زبان پیاس کی شدت کی وجہ سے باہر نکال رہا تھا۔ اس عورت نے اسے پانی نکال کر دیا اور اسے پلایا، تو اس عورت کی مغفرت ہو گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 386]

387

Sahih Ibn Hibban #387

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً ، يَقُولُ : كَانَذُو الْكِفْلِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لا يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَهَوِيَ امْرَأَةً ، فَرَاوَدَهَا عَلَى نَفْسِهَا ، وَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا ، فَلَمَّا جَلَسَ مِنْهَا ، بَكَتْ وَأُرْعِدَتْ ، فقَالَ لَهَا : مَا لَكِ ؟ فَقَالَتْ : إِنِّي وَاللَّهِ لَمْ أَعْمَلْ هَذَا الْعَمَلَ قَطُّ ، وَمَا عَمِلْتُهُ إِلا مِنْ حَاجَةٍ ، قَالَ : فَنَدِمَ ذُو الْكِفْلِ ، وَقَامَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، وَجَدُوا عَلَى بَابِهِ مَكْتُوبًا : إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس سے زیادہ مرتبہ یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ”ذوالکفل“ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا وہ کسی بھی گناہ سے بچتا نہیں تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک عورت کے پاس گیا۔ اس عورت نے اپنا آپ اس کے سامنے پیش کر دیا۔ ذوالکفل نے اسے ساٹھ دینار دیئے جب وہ اس عورت کے پاس آ کر بیٹھا، تو وہ عورت رونے لگی اور کپکپانے لگی۔ ذوالکفل نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے کبھی یہ عمل (گناہ کا کام) نہیں کیا اور میں صرف مجبوری کی وجہ سے یہ کرنے لگی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ذوالکفل کو ندامت ہوئی اور وہ کچھ بھی کئے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔ اسی رات اسے موت آ گئی۔ صبح کے وقت اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا۔ ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 387]

388

Sahih Ibn Hibban #388

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعمال (کی جزاء) کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔ جس شخص کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی۔ اس کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کے لئے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس کی طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 388]

389

Sahih Ibn Hibban #389

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعمال (کی جزاء) کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جو اس نے نیت کی ہے، جس شخص کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گئی، تو اس کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کے لئے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 389]

390

Sahih Ibn Hibban #390

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ ، وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، فَقَالُوا :تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا ؟ فقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ، فقَالَ رَجُلٌ : لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ، لَيَسْمَعَنَّ إِذَا أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ : مَا أَرَى إِلا أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ إِلَى آخِرِ الآيَةِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا۔ مسجد (یعنی خانہ کعبہ کے قریب) ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور اس کے دو داماد جن کا تعلق قریش سے تھا وہ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے۔ کیااللہ تعالیٰ ہماری بات سن لیتا ہے۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں بات کریں گے۔ تو وہ سن لے گا۔ دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز میں بات کرنے پر سن لیتا ہے۔ تو پھر پست آواز والی بات کو بھی ضرور سننا چاہیے۔ تیسرے نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہاللہ تعالیٰ ہماری ہر بات سن لیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے قول کے بارے میں بتایا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اور جو کچھ تم چھپا کر رکھتے ہو، تو تمہاری سماعت اور بصارت تمہارے خلاف گواہی دیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 390]

391

Sahih Ibn Hibban #391

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَة ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَهْبٍ هُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، إِذْ جَاءَ ثَلاثَةُ نَفَرٍ : ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، قَلِيلٌ فِقْهُهُمْ ، فَتَحَدَّثُوا الْحَدِيثَ بَيْنَهُمْ ، فقَالَ أَحَدُهُمْ :أَتَرَى اللَّهَ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا ؟ وَقَالَ الآخَرُ : إِذَا رَفَعْنَا سَمِعَ ، وَإِذَا خَفَضْنَا لَمْ يَسْمَعْ ، وَقَالَ الآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ ، وَلا أَبْصَارُكُمْ ، وَلا جُلُودُكُمْ الآيَةَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں خانہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ اسی دوران تین آدمی وہاں آئے ایک ثقیف قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، اور دو اس کے قریشی داماد تھے۔ ان کے پیٹ پر چربی زیادہ تھی اور عقل ان میں کم تھی۔ وہ آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا:اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ ہم جو کہتے ہیں: کیا وہ سن لیتا ہے؟ دوسرے نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں بات کریں گے، تو وہ سن لے گا اگر پست آواز میں بات کریں، تو نہیں سنے گا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز میں بات سن لیتا ہے، تو پھر وہ پست آواز میں بات بھی سن لے گا۔ (سیدنا عبداللہ کہتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اور جو کچھ بھی تم پوشیدہ رکھتے ہو، تو تمہاری سماعت اور تمہاری بصارت اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 391]

392

Sahih Ibn Hibban #392

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ رَبٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّمَاالْعَمَلُ كَالْوِعَاءِ ، إِذَا طَابَ أَعْلاهُ ، طَابَ أَسْفَلُهُ ، وَإِذَا خَبُثَ أَعْلاهُ ، خَبُثَ أَسْفَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عمل کی مثال برتن کی مانند ہے، جس کا بالائی حصہ صاف ہو گا، تو نیچے والا بھی صاف ہو گا اور اگر اوپر والا حصہ گندہ ہو گا، تو نیچے والا حصہ بھی گندہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 392]

393

Sahih Ibn Hibban #393

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا ، يَقُولُ : يَابْنَ آدَمَ ،تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلأْ صَدْرَكَ غِنًى ، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ ، وَإِنْ لا تَفْعَلْ مَلأْتُ يَدَكَ شُغْلا ، وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! تم میری عبادت کے لئے فارغ ہو جاؤ۔ میں تمہارے سینے کو خوشحالی سے بھر دوں گا اور تمہاری غربت کو ختم کر دوں گا اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے، تو میں تمہارے دونوں ہاتھوں کو مصروفیات سے بھر دوں گا اور تمہاری غربت کو ختم نہیں کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 393]

394

Sahih Ibn Hibban #394

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ لا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشکاللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور اموال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 394]

395

Sahih Ibn Hibban #395

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلا ، فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِئٌ ، هُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں تمام شراکت داروں سے زیادہ بہتر ہوں، جو شخص کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اس میں میرے علاوہ دوسرے کو شریک کر لیتا ہے، تو میں اس عمل سے لاتعلق ہوں یہ عمل اس کے لئے ہو گا۔ جس کو اس شخص نے شریک کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 395]

396

Sahih Ibn Hibban #396

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُؤَاخِذُ اللَّهُ أَحَدَنَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلامِ ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیااللہ تعالیٰ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ان اعمال کا بھی مواخذہ کرے گا، جو وہ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتا تھا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام میں اچھائی کرے گا۔ اس نے زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کیا اس پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا اور جو شخص اسلام میں برائی کرے گا، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 396]

397

Sahih Ibn Hibban #397

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ ، فقَالَ : الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ ، وَالإِثْمُ مَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: نیکی اچھے اخلاق ہیں اور گناہ وہ چیز ہے، جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں یہ بات بری لگے کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 397]

398

Sahih Ibn Hibban #398

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَذْكُرَنَّ اللَّهُ قَوْمًا فِي الدُّنْيَا ، عَلَى الْفُرُشِ الْمُمَهَّدَةِ ، يُدْخِلُهُمُ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک قوم کا ذکر ضرور کرے گا جو آراستہ بچھونوں پر ہوں گے اور وہ انہیں بلند درجات میں داخل ضرور کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 398]

399

Sahih Ibn Hibban #399

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 399]

400

Sahih Ibn Hibban #400

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! مسلمانوں میں سے کون شخص زیادہ بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 400]

401

Sahih Ibn Hibban #401

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَتْتُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ لأَنْ لا يَرَاهَا ، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ ، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ ، نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهَا : وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک انتہائی خوب صورت عورت نماز ادا کیا کرتی تھی، تو حاضرین میں سے بعض لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض حضرات پچھلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ جب رکوع میں جائیں، تو اپنی بغل کے نیچے سے اسے دیکھ لیں۔ ”تواللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ”اور ہم تم میں سے آگے ہونے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے ہونے والوں کو بھی جانتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 401]

402

Sahih Ibn Hibban #402

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ يُكَفِّرُ الْخَطَايَا ، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَوِ الطُّهُورِ فِي الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ ، وَالصَّلاةُ بَعْدَ الصَّلاةِ وَمَا مِنْ أَحَدٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ مَعَ الإِمَامِ ، ثُمَّ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ الَّتِي بَعْدَهَا ، إِلا ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ ، فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ ، وَسُدُّوا الْفُرَجَ ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ ، فَكَبِّرُوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي ، وَإِذَا ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ ، فَاحْفَظْنَ أَبْصَارَكُنَّ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ "فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : مَا يَعْنِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : ضِيقُ الأُزُرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کروں؟ جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، اس وقت اچھی طرح وضو کرنا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ لفظ وضو استعمال ہوا ہے یا طہارت استعمال ہوا ہے) اور اس مسجد کی طرف زیادہ چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز ادا کرنا جو بھی شخص اچھی طرح وضو کر کے اپنے گھر سے نکل کر مسجد تک آتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ (راوی کو یہ شک ہے شاید) امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتا ہے اور پھر وہ اس سے بعد والی نماز کا انتظار کرتا ہے، تو فرشتے یہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر۔ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو، تو اپنی صفوں کو سیدھا کر لو اور درمیان میں خالی جگہ کو پر کر دو جب امام تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو، کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں جب امام «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو۔ مردوں کی سب سے زیادہ بہتر صف آگے والی ہے اور مردوں کی کم بہتر صنف سب سے پیچھے والی ہے اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے آگے والی ہے۔ اے خواتین کے گروہ! جب مرد سجدے میں جائیں، تو تم لوگ مردوں کی شرم گاہ کے حوالے سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابوبکر سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ (یعنی اس حکم کی وجہ کیا ہے)، تو انہوں نے فرمایا: کیونکہ ان کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 402]

403

Sahih Ibn Hibban #403

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ ، مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كَرِهَ اللَّهُ مِنْكَ شَيْئًا ، فَلا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کو تمہاری طرف سے جو بات پسند نہیں ہے تم اسے تنہائی میں بھی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 403]

404

Sahih Ibn Hibban #404

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ وكان من الصحابة قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لِيَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ ، نَادَى مُنَادٍ : مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ لِلَّهِ أَحَدًا ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب قیامت کے دناللہ تعالیٰ پہلے والوں اور بعد والوں کو اکٹھا کرے گا یہ ایک ایسا دن ہو گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا، جو شخص اپنے عمل میں کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا تھا، تو وہ اپنا ثواب اسی سے حاصل کرے، کیونکہاللہ تعالیٰ شریک سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 404]