Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 4 · Chapter 1

The Book of Knowledge

Hadith 325–364

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

325

Sahih Ibn Hibban #325

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ : رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عید والے دو مہینے کم نہیں ہوتے ہیں رمضان اور ذوالج۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 325]

326

Sahih Ibn Hibban #326

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْرَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ زُرْعَةَ الْخَوْلانِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلانِيَّ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ صَلَّى لِلْقِبْلَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا وَأَكَلَ الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَزَالُ اللَّهُ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ بِغَرْسٍ يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں، جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے۔ انہوں نے جاہلیت میں خون کھایا تھا۔ وہ یہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس دین میں مسلسل پودے لگاتا رہے گا اور وہ ان لوگوں کو اپنی فرمانبرداری کے لئے استعمال کرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 326]

327

Sahih Ibn Hibban #327

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا ، مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، يَقُولُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " وَحَلَّقَ بِأَصْبُعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: ایک سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں تشریف لائے آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا، اور آپ یہ فرما رہے تھےاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ عربوں کے لئے اس برائی کی وجہ سے بربادی ہے، جو قریب آ چکی ہے، آج ”یاجوج ماجوج“ کی دیوار کا اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے ذریعے حلقہ بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے؟ جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! جب برائی زیادہ ہو جائے گی، تو پھر سب لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 327]

328

Sahih Ibn Hibban #328

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَحْكِي عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ ، وَمَنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا ، اقْتَرَبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَمَنِ اقْتَرَبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، اقْتَرَبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَمَنْ جَاءَنِي يَمْشِي ، جِئْتُهُ أُهَرْوِلُ ، وَمَنْ جَاءَنِي يُهَرْوِلُ ، جِئْتُهُ أَسْعَى ، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کبریائی میری چادر ہے عظمت میرا تہبند ہے، جو شخص ان دونوں میں سے ایک حوالے سے میرا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہو گا میں ایک ذراع اس کے قریب ہوں گا اور جو شخص ایک ذراع میرے قریب ہو گا میں دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہوں گا اور جو شخص چلتے ہوئے میری طرف آئے گا میں دوڑتے ہوئے اس کی طرف جاؤں گا اور جو شخص دوڑتے ہوئے میری طرف آئے گا میں اس سے زیادہ تیزی سے اس کی طرف جاؤں گا اور جو شخص دل میں مجھے یاد کرے گا، تو میں بھی تنہا اسے یاد کروں گا اور جو شخص محفل میں مجھے یاد کرے گا، تو میں اس سے زیادہ افراد اور زیادہ پاکیزہ لوگوں کی محفل میں اسے یاد کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 328]

329

Sahih Ibn Hibban #329

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ : مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ ، فَهَلْ فِيهَا أَجْرٌ ؟ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ أَجْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو میں نے زمانہ جاہلیت میں نیکی کے طور پر کئے تھے جن کا تعلق صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ کرنے سے ہے کیا ان کا اجر ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے پہلے جو عمل کئے تھے۔ ان کے اجر کے طور پر ہی اسلام قبول کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 329]

330

Sahih Ibn Hibban #330

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ابْنَ جُدْعَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لا ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:۔ ابن جدعان زمانہ جاہلیت مہمان نوازی کرتا پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا۔ صلہ رحمی کرتا تھا، تو کیا اس کو (ان اچھائیوں کا) کوئی فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! کیونکہ اس نے کبھی بھی یہ نہیں کہا:۔ اے اللہ! قیامت کے دن میرے گناہوں کی مغفرت کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 330]

331

Sahih Ibn Hibban #331

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْهُ عَنْ قَوْلِهِ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ ، وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ فقَالَ : عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ ؟ قَالَ : " لا يَنْفَعُهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ ”جب زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو بھی تبدیل کر دیا جائے، تو یہ سب، ایک اور زبردستاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جائیں گے۔“ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پل صراط پر ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ چیز اسے فائدہ دے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا اسے فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ اس نے کبھی بھی یہ نہیں کہا: اے میرے پروردگار! میرے گناہوں کی مغفرت کر دینا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 331]

332

Sahih Ibn Hibban #332

قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ صَيْدًا ، وَلا أَجِدُ مَا أَذْبَحُ بِهِ إِلا الْمَرْوَةَ أَوِ الْعَصَا ؟ قَالَ : أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے وہ یہ عمل کیا کرتے تھے اور وہ عمل کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ایک چیز کے طلب گار تھے وہ انہیں مل گئی، (راوی کہتے ہیں) یعنی شہرت۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے ایسے کھانے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں جسے میں حرج کے طور پر ترک کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی کسی چیز کو نہ چھوڑو جس میں نصرانیت نے شمولیت اختیار کی ہو۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں پھر وہ ایک شکار کو پکڑ لیتا ہے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کے ذریعے میں اسے ذبح کروں۔ صرف کانہ یا لاٹھی ملتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جس چیز کے ذریعے چاہو خون بہا دو اوراللہ تعالیٰ کا نام لے لو (اور پھر شکار کو کھا لو) [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 332]

333

Sahih Ibn Hibban #333

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قِيلَ : فَمَا يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت معلوم (یعنی طے شدہ ہیں؟) - نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عرض کی گئی: پھر عمل کرنے والے لوگ عمل کیوں کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 333]

334

Sahih Ibn Hibban #334

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ فِي الأَرْضِ ، فقَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ " ، فقَالَ رَجُلٌ : أَلا نَتَّكِلُ ؟ فقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى ، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کو کریدنے لگے پھر آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم میں سے ہر ایک شخص کا جہنم یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے“ تو ایک صاحب نے عرض کی: کیا ہم (اسی پر) تکیہ نہ کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے (اس کا مخصوص عمل) آسان کر دیا جاتا ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ”پس جو شخص دے اور پرہیزگاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے، تو ہم اس کے لئے آسانی کو آسان کر دیں گے اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لئے تنگی کو آسان کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 334]

335

Sahih Ibn Hibban #335

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ ، فقَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَوْ مِنَ النَّارِ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا ، كُلٌّ مُيَسَّرٌ ، فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى ، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى ، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى "قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، فَلَمْ أُنْكِرُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ ایک جنازے میں شریک ہوئے۔ آپ نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کریدنے لگے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا جہنم میں، یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے آسانی کر دی جاتی ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”پس جو شخص دے اور پرہیزگاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے، تو ہم اس کے لئے آسانی کو آسان کر دیں گے۔ اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے اور بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لئے تنگی کو آسان کر دیں گے۔“ شعبہ کہتے ہیں: منصور بن معتمر نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن میں نے سلمان سے منقول ہونے کے حوالے سے اس کا انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 335]

336

Sahih Ibn Hibban #336

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَمْ لأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ ؟ قَالَ : لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم کسی ایسے معاملے کے حوالے سے عمل کرتے ہیں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے یا کسی ایسے معاملے کے حوالے سے کرتے ہیں جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسی صورت ہے، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا مخصوص عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 336]

337

Sahih Ibn Hibban #337

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ أَمْرِنَا كَأَنَّا نَنْظُرُ إِلَيْهِ ، أَبِمَا جَرَتْ بِهِ الأَقْلامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَوْ بِمَا يُسْتَأْنَفُ ؟ قَالَ : لا ، بَلْبِمَا جَرَتْ بِهِ الأَقْلامُ وَثَبَتَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ "قَالَ سُرَاقَةُ : فَلا أَكُونُ أَبَدًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا فِي الْعَمَلِ مِنِّي الآنَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سراقہ بن جعشم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس صورت حال کے بارے میں بتائیے جس کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔ کیا اس کے بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے؟ یا یہ نئے سرے سے کوئی چیز ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ اس بارے میں قلم جاری ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے۔ انہوں نے عرض کی: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے آسانی کر دی جاتی ہے۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آج کے بعد میں ہمیشہ عمل کے بارے میں بھرپور کوشش کرتا رہوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 337]

338

Sahih Ibn Hibban #338

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ السُّلَمِيُّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فقَالَ : هَؤُلاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلا أُبَالِي ، وَهَؤُلاءِ فِي النَّارِ وَلا أُبَالِي " ، قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر اس نے ان کی پشت میں سے مخلوق کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ جہنم میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقدیر کے فیصلے کی بنیاد پر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 338]

339

Sahih Ibn Hibban #339

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبٍّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّمَاالأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا ، كَالْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ ، وَإِذَا خَبُثَ أَعْلاهُ خَبُثَ أَسْفَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اعمال کا دارومدار خاتمے کے اعتبار سے ہوتا ہے، جس طرح برتن ہوتا ہے، جس کا اوپر والا حصہ ٹھیک ہو، تو نیچے والا بھی صاف ہو گا، جب اوپر والا حصہ گندہ ہو گا، تو نیچے والا بھی گندہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 339]

340

Sahih Ibn Hibban #340

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَاالأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعمال کا دارومدار خاتمے کے اعتبار سے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 340]

341

Sahih Ibn Hibban #341

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا يَسْتَعْمِلُهُ " قِيلَ : كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جباللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے، تو اس سے کام لیتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! وہ اس سے کیسے کام لیتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کی توفیق دیدیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 341]

342

Sahih Ibn Hibban #342

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " قِيلَ : وَمَا عَسَلُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ ؟ قَالَ : " يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جباللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے، تو اس کے مرنے سے پہلے اسے شہد کر دیتا (یعنی اس کی پاکیزہ تعریف کرتا) ہے۔“ عرض کی گئی: اس کو مرنے سے پہلے شہد کر دینے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لئے مرنے سے پہلے نیک عمل کو کھول دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 342]

343

Sahih Ibn Hibban #343

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قِيلَ : وَمَا عَسَلُهُ ؟ قَالَ : " يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جباللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے، تو اس کو مرنے سے پہلے اسے شہد کر دیتا (یعنی اس کی پاکیزہ تعریف کرتا) ہے۔ عرض کی گئی: اس کو شہد کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے مرنے سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص اس سے راضی ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 343]

344

Sahih Ibn Hibban #344

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ ، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَخَالَطْنَاهُمْ ، أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْحَالِ ، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ کہا: کرتے تھے: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، تو ہمیں اپنی باطنی کیفیات پسندیدہ محسوس ہوتی ہیں، لیکن جب ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ جا کر ان کے ساتھ میل جول کرتے ہیں، تو ہماری کیفیات مختلف ہو جاتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے پاس جس کیفیت میں ہوتے ہو اگر مستقل طور پر اس کیفیت میں رہو، تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں، لیکن وقت، وقت (کی کیفیت مختلف ہوتی ہے) [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 344]

345

Sahih Ibn Hibban #345

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ ، مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر مومن کو یہ پتہ چل جائے کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیسی سزا موجود ہے، تو کوئی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور کافر کو یہ پتہ چل جائے کہاللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی ہے، تو کوئی شخص جنت سے مایوس نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 345]

346

Sahih Ibn Hibban #346

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بعض اوقات ایک شخص اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے بعض اوقات ایک شخص ایسے جہنم کا سا عمل کرتا رہتا ہے، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 346]

347

Sahih Ibn Hibban #347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَقُولُ :مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا ، فَقَدْ آذَانِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ ، كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا فَإِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي ، أَعْطَيْتُهُ ، وَإِنِ اسْتَعَاذَنِي ، أَعَذْتُهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يُعْرَفُ لِهَذَا الْحَدِيثِ إِلا طَرِيقَانِ اثْنَانِ : هِشَامٌ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَكِلا الطَّرِيقَيْنِ لا يَصِحُّ ، وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ مَا ذَكَرْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شکاللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے، جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ مجھے (جنگ کی) دعوت دیتا ہے اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں وہ ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ سنتا ہے۔ اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ پکڑتا ہے اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ چلتا ہے میرا بندہ جو مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں اور پھر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تو میں اسے پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی بھی کام کو کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی جان قبض کرنے میں تردد ہوتا ہے، کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور مجھے اس کا ناپسند کرنا، پسند نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت صرف انہی دو طریقوں سے معروف ہے یعنی ہشام کنعانی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، جبکہ عبدالواحد بن میمون نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں سندیں مستند نہیں ہیں۔ صحیح روایت وہ ہے، جو ہم نے ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 347]""

348

Sahih Ibn Hibban #348

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " ، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا أَنَا إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں۔ البتہاللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے، تو تم لوگ میانہ روی اختیار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 348]

349

Sahih Ibn Hibban #349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا سَادًّا وَقَارِبًا ، فَارْجُوهُ ، وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ ، فَلا تَعُدُّوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک ہر عمل کی ایک رغبت ہوتی ہے، اور ہر رغبت کی ایک فترت ہوتی ہے، جب عمل کرنے والا شخص ٹھیک رہے اور میانہ روی اختیار کرے، تو تم اس کی امید رکھو اور اگر انگلی کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے، تو پھر تم اسے کسی گنتی میں شمار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 349]

350

Sahih Ibn Hibban #350

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَلا يُنْجِي أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " قُلْنَا : وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا أَنَا إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو، کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں، البتہ مجھےاللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 350]

351

Sahih Ibn Hibban #351

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّهَذَا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلا غَلَبَهُ ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوَاحِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یہ دین آسان ہے اور جو شخص اس میں سختی کرنے کی کوشش کرے گا، تو یہ دین اس پر غالب آ جائے گا، تو تم لوگ ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو اور تم لوگ صبح، شام اور رات کے کچھ حصے (میں عمل) کے ذریعے مدد حاصل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 351]

352

Sahih Ibn Hibban #352

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ يَعْنِي نَفْسَهُ : لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ ؟ " فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّكَ لا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ،صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَنَمْ وَقُمْ ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَلأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاثَةَ الأَيَّامِ الَّتِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " يُرِيدُ بِهِ " لَكَ " لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ ضَعْفَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَمَّا وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَيْهِ مِنَ الطَّاعَاتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی کہ میں نے یہ کہا: ہے: میں جب تک زندہ رہا، رات بھر نفل پڑھتا رہوں گا اور دن بھر روزہ رکھتا رہوں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے یہ بات کہی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے استطاعت نہیں رکھو گے، تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو (رات کے وقت) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی مانند ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن روزہ نہ رکھا کرو۔ یہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے اور یہ روزہ رکھنے کا سب سے مناسب طریقہ ہے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے زیادہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن روزہ رکھنے کی جو بات ارشاد فرمائی تھی، اگر میں اسے قبول کر لیتا، تو یہ میرے نزدیک اپنے اہل خانہ اور مال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس سے زیادہ فضیلت اور کسی چیز میں نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ ہے: تمہارے لیے ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس بات کا پتہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو جن نیکیوں کا پابند کر رہے ہیں وہ ان کے حوالے سے کمزور ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 352]""

353

Sahih Ibn Hibban #353

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " ، قَالَتْ : وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ قَلَّ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَامَ عَلَيْهَا "قَالَ : يَقُولُ أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ لِلْمُخَاطَبِ أَنْ يَعْرِفَ صِحَّةَ مَا خُوطِبَ بِهِ ، فِي الْقَصْدِ عَلَى الْحَقِيقَةِ ، إِلا بِهَذِهِ الأَلْفَاظِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اتنا عمل اختیار کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہاللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھکاوٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدگی سے سر انجام دیں، اگرچہ وہ تھوڑا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی (نفل) نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اور وہ لوگ اپنی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بے شکاللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو۔“ یہ لوگوں کے محاور ے کے الفاظ میں سے ہیں، کیونکہ مخاطب شخص کو صرف اسی حوالے سے مفہوم منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد اس کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 353]""

354

Sahih Ibn Hibban #354

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصت کو قبول کیا جائے۔ جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی لازم کی ہوئی چیزوں پر عمل کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 354]

355

Sahih Ibn Hibban #355

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا فِي سَفَرٍ ، فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ ، يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ ، فقَالَ : مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ، فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک شخص کو دیکھا جو ایک درخت کے سائے میں موجود تھا، اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے تم لوگوں پر لازم ہے کہاللہ تعالیٰ کی وہ رخصت قبول کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 355]

356

Sahih Ibn Hibban #356

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، إِلا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف رمضان میں (پورا مہینہ) روزے رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 356]

357

Sahih Ibn Hibban #357

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ ، فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ ، فَمَكَثَ مَلِيًّا ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَوَجَدَ الرَّجُلَ عَلَى حَالِهِ يُصَلِّي ، فَجَمَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُعَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ، عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو ایک چٹان پر کھڑا نماز ادا کر رہا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک کنارے (کسی کام کے سلسلے میں) تشریف لائے وہاں آپ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ جب آپ واپس تشریف لائے، تو آپ نے اس شخص کو اسی حالت میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور یہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے۔ بے شکاللہ تعالیٰ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے اور تم لوگ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 357]

358

Sahih Ibn Hibban #358

سَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ الْحُبَابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُونَ ، فقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فقَالَ : إِنَّ اللَّهَ ، قَالَ لَكَ : لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي ؟ قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ وَقَالَ : " سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اپنے اصحاب کے کچھ افراد کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ تو سیدنا جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ ارشاد فرمایا ہے: آپ میرے بندوں کو کیوں مایوس کر رہے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس واپس تشریف لے گئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم ٹھیک رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 358]

359

Sahih Ibn Hibban #359

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَوْلاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا ، وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : هَذِهِ الْحَوْلاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لا تَنَامُ بِاللَّيْلِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنَامُ بِاللَّيْلِ ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَوَاللَّهِ لا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا " مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ لِلْمُخَاطَبِ أَنْ يَعْرِفَ الْقَصْدَ فِيمَا يُخَاطَبُ بِهِ إِلا بِهَذِهِ الأَلْفَاظِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ حولاء بنت تویت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزری، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ کے پاس موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یہ حولاء بنت تویت ہے، یہ رات بھر سوتی نہیں ہیں بلکہ نفل پڑھتی رہتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ رات بھر سوتی نہیں ہیں؟ تم لوگ اتنا عمل کیا کرو جس کی تم میں طاقت ہو۔ اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھک نہیں جاتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو۔ یہ لوگوں کے محاور ے کے الفاظ ہیں جو مخاطب تک مفہوم منتقل کرنے کے لئے استعمال کیے گئے ہیں، اور وہ مفہوم انہی الفاظ کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 359]""

360

Sahih Ibn Hibban #360

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي مَقْعَدِي هَذَا ، تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلا تَغْتَرُّوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمران بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مقاعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا پھر یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ پر دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص میرے اس وضو کی مانند وضو کرے گا اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگ غلط فہمی کا شکار نہ ہو جانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 360]

361

Sahih Ibn Hibban #361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَالِسٌ وَحْدَهُ ، قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍَّ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً ، وَإِنَّ تَحِيَّتَهُ رَكْعَتَانِ ، فَقُمْ فَارْكَعْهُمَا " ، قَالَ : فَقُمْتُ فَرَكَعْتُهُمَا ، ثُمَّ عُدْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِالصَّلاةِ ، فَمَا الصَّلاةُ ؟ قَالَ : " خَيْرُ مَوْضُوعٍ ، اسْتَكْثِرْ أَوِ اسْتَقِلَّ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَسْلَمُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الصَّلاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الصِّيَامُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ أَضْعَافٌ كَثِيرَةٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جَهْدُ الْمُقِلِّ يُسَرُّ إِلَى فَقِيرٍ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " آيَةُ الْكُرْسِيِّ " ثُمَّ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ مَعَ الْكُرْسِيِّ إِلا كَحَلْقَةٍ مُلْقَاةٍ بِأَرْضٍ فَلاةٍ وَفَضْلُ الْعَرْشِ عَلَى الْكُرْسِيِّ كَفَضْلِ الْفَلاةِ عَلَى الْحَلْقَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ الأَنْبِيَاءُ ؟ قَالَ : " مِائَةُ أَلْفٍ وَعِشْرُونَ أَلْفًا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " ثَلاثُ مِائَةٍ وَثَلاثَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كَانَ أَوَّلُهُمْ ؟ قَالَ : " آدَمُ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبِيٌّ مُرْسَلٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ، وَكَلَّمَهُ قِبَلا " ثُمَّ ، قَالَ : يَا " أَبَا ذَرٍّ أَرْبَعَةٌ سُرْيَانِيُّونَ : آدَمُ ، وَشِيثُ ، وَأَخْنُوخُ وَهُوَ إِدْرِيسُ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ ، وَنُوحٌ وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَرَبِ : هُودٌ ، وَشُعَيْبٌ ، وَصَالِحٌ ، وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ كِتَابًا أَنْزَلَهُ اللَّهُ ؟ قَالَ : " مِائَةُ كِتَابٍ ، وَأَرْبَعَةُ كُتُبٍ ، أُنْزِلَ عَلَى شِيثُ خَمْسُونَ صَحِيفَةً ، وَأُنْزِلَ عَلَى أَخْنُوخُ ثَلاثُونَ صَحِيفَةً ، وَأُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَشَرُ صَحَائِفَ ، وَأُنْزِلَ عَلَى مُوسَى قَبْلَ التَّوْرَاةِ عَشَرُ صَحَائِفَ ، وَأُنْزِلَ التَّوْرَاةُ وَالإِنْجِيلُ وَالزَّبُورُ وَالْقُرْآنُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ صَحِيفَةُ إِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : " كَانَتْ أَمْثَالا كُلُّهَا : أَيُّهَا الْمَلِكُ الْمُسَلَّطُ الْمُبْتَلَى الْمَغْرُورُ ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْكَ لِتَجْمَعَ الدُّنْيَا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُكَ لِتَرُدَّ عَنِّي دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنِّي لا أَرُدُّهَا وَلَوْ كَانَتْ مِنْ كَافِرٍ ، وَعَلَى الْعَاقِلِ مَا لَمْ يَكُنْ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ أَنْ تَكُونَ لَهُ سَاعَاتٌ : سَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ ، وَسَاعَةٌ يُحَاسِبُ فِيهَا نَفْسَهُ ، وَسَاعَةٌ يَتَفَكَّرُ فِيهَا فِي صُنْعِ اللَّهِ ، وَسَاعَةٌ يَخْلُو فِيهَا لِحَاجَتِهِ مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ ، وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ لا يَكُونَ ظَاعِنًا إِلا لِثَلاثٍ : تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ ، أَوْ مَرَمَّةٍ لِمَعَاشٍ ، أَوْ لَذَّةٍ فِي غَيْرِ مُحَرَّمٍ ، وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ ، مُقْبِلا عَلَى شَأْنِهِ ، حَافِظًا لِلِسَانِهِ ، وَمَنْ حَسَبَ كَلامَهُ مِنْ عَمَلِهِ ، قَلَّ كَلامُهُ إِلا فِيمَا يَعْنِيهِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا كَانَتْ صُحُفُ مُوسَى ؟ قَالَ : " كَانَتْ عِبَرًا كُلُّهَا : عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ ، ثُمَّ هُوَ يَفْرَحُ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالنَّارِ ، ثُمَّ هُوَ يَضْحَكُ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ هُوَ يَنْصَبُ ، عَجِبْتُ لِمَنْ رَأَى الدُّنْيَا وَتَقَلُّبَهَا بِأَهْلِهَا ، ثُمَّ اطْمَأَنَّ إِلَيْهَا ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْحِسَابِ غَدًا ثُمَّ لا يَعْمَلُ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، فَإِنَّهُ رَأْسُ الأَمْرِ كُلِّهِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ ، وَذِكْرِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الأَرْضِ ، وَذُخْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي : ، قَالَ : " إِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ ، فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ ، وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلا مِنْ خَيْرٍ ، فَإِنَّهُ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ ، وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ ، فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنِي ، قَالَ : " أَحِبَّ الْمَسَاكِينَ وَجَالِسْهُمْ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " انْظُرْ إِلَى مَنْ تَحْتَكَ وَلا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ فَوْقَكَ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لا تُزْدَرَى نِعْمَةُ اللَّهِ عِنْدَكَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " لِيَرُدَّكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْرِفُ مِنْ نَفْسِكَ وَلا تَجِدْ عَلَيْهِمْ فِيمَا تَأْتِي ، وَكَفَى بِكَ عَيْبًا أَنْ تَعْرِفَ مِنَ النَّاسِ مَا تَجْهَلُ مِنْ نَفْسِكَ ، أَوْ تَجِدَ عَلَيْهِمْ فِيمَا تَأْتِي " ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي ، فقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ، وَلا وَرَعَ كَالْكَفِّ ، وَلا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ هَذَا ، هُوَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وُلِدَ عَامَ حُنَيْنٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَاتَ بِالشَّامِ سَنَةَ ثَمَانِينَ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ مِنْ كِنْدَةَ ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ، مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ وَقُرَّائِهِمْ ، سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَمَوْلِدُهُ يَوْمَ رَاهِطَ ، فِي أَيَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَزِيدَ ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَوَلاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَضَاءَ الْمَوْصِلِ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَهْلَ الْحِجَازِ ، فَلَمْ يَزَلْ عَلَى الْقَضَاءِ بِهَا حَتَّى وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلافَةَ ، فَأَقَرَّهُ عَلَى الْحُكْمِ فَلَمْ يَزَلْ عَلَيْهَا أَيَّامَهُ ، وَعُمِّرَ حَتَّى مَاتَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ وَمِائَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! مسجد کے لئے ایک نفلی (نماز) ہوتی ہے اور اس کی نفلی (نماز) دو رکعات ہے۔ تم اٹھ کر انہیں ادا کر لو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان دو رکعات کو ادا کر لیا پھر میں واپس آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا نماز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ (اب تمہاری مرضی ہے) کہ تم زیادہ حاصل کرتے ہو یا کم حاصل کرتے ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اہل ایمان میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل کون شخص ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اہل ایمان میں سے سب سے زیادہ سلامتی والا کون شخص ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام طویل ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گناہوں سے لاتعلق ہو جائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! روزہ کیا چیز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک فرض ہے، جو کافی ہو جاتا ہے اوراللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کا اجر و ثواب) کئی گنا ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں (گھوڑے کے) پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس پیسے کم ہوں اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ غریب ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو کچھ بھی نازل کیا ہے۔ اس میں سب سے عظیم چیز کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آیت الکرسی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی) کرسی کے مقابلے میں سات آسمان اس طرح ہیں، جیسے کسی بے آب و گیاہ جگہ کے اوپر ایک چھلہ (انگوٹھی) ہو اور عرش کو کرسی پر وہی فضیلت حاصل ہے۔ جس طرح اس آب و گیاہ جگہ کو اس چھلے (انگوٹھی) پر فضیلت حاصل ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار میں نے عرض کی: اس میں سے رسول کتنے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین سو تیرہ کا گروہ ہے۔ میں نے عرض کی: ان میں سب سے پہلے کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا وہ رسول نبی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونکا اور سامنے آ کر ان سے کلام کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! چار حضرات سریانی ہیں۔ سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا شیث علیہ السلام، سیدنا اخنوخ علیہ السلام یہ سیدنا ادریس علیہ السلام اور یہ وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے قلم کے ذریعے لکھا تھا، اور سیدنا نوح علیہ السلام چار حضرات کا تعلق عرب سے ہے۔ سیدنا ہود علیہ السلام، سیدنا شعیب علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام اور تمہارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سو چار کتابیں سیدنا شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا اخنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے نازل ہوئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل ہوئے پھر تورات، انجیل، زبور اور قرآن نازل ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا صحیفہ کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سارے کا سارا مثالوں والا تھا، لیکن اس میں یہ تحریر تھا۔ ”اے بادشاہ! جسے اقتدار عطا کیا گیا ہے اور آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے اور غلط فہمی کا شکار کیا گیا میں نے تمہیں اس لئے نہیں بھیجا تاکہ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں دنیا جمع کرو، میں نے تمہیں اس لئے بھیجا ہے، تاکہ تم مظلوم کی بددعا کو مجھ تک نہ آنے دو، کیونکہ میں مظلوم کی دعا کو مسترد نہیں کرتا۔ خواہ وہ کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو اور عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ جب تک اس کی عقل مغلوب نہیں ہوتی وہ اپنے وقت کو مختلف حصوں میں تقسیم کرے کچھ وقت میں وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کرتا رہے۔ کچھ وقت میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کچھ وقت میں وہاللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور و فکر کرتا رہے اور کچھ وقت وہ اپنے کھانے پینے کی تیاری کے لئے مخصوص رکھے۔ عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کی تیاری رکھے۔ اپنے انجام (یعنی آخرت) کے لئے زادراہ کی، اپنی زندگی گزارنے کے لئے ضروریات زندگی کی، یا پھر ایسی لذت کی جو حرام نہ ہو اور عقلمند شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہوا اپنے حال کی طرف متوجہ رہے۔ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور جو شخص اپنے عمل کے مقابلے میں اپنے کلام کا حساب رکھتا ہے اس کا کلام کم ہوتا ہے اور صرف وہی کلام ہوتا ہے، جو انتہائی ضروری ہو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا موسی علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ساری کی ساری عبرت آمیز باتیں تھیں۔ (جن میں سے کچھ باتیں یہ ہیں) ”مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے، جو موت پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ خوش رہتا ہے۔ مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو جہنم پر بھی یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ ہنستا ہے مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی وہ نصب کر لیتا ہے۔ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے، جو دنیا اور اہل دنیا کی حالات کی تبدیلی کو دیکھتا ہے اور پھر بھی وہ دنیا سے مطمئن ہوتا ہے۔ مجھے اس شخص پر بھی حیرانگی ہوتی ہے، جو حساب پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی عمل نہیں کرتا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہ تمام معاملے کی بنیاد ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اوراللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا لازم ہے اور کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آخرت میں تمہارے لئے ذخیرہ ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر خاموشی اختیار کرنا لازم ہے، البتہ بھلائی کی بات کا حکم مختلف ہے، کیونکہ یہ چیز تم سے شیطان کو پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہارے لئے مددگار ہو گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر جہاد کرنا لازم ہے، کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھو اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھو، کیونکہ اس طرح تم اپنے پاس موجوداللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کم تر نہیں سمجھو گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہونا یہ چاہئے کہ وہ چیز تمہیں لوگوں سے پرے کر دے، جسے تم اپنی ذات کے حوالے سے جانتے ہو اور جو کام تم خود کرتے ہو اس کی وجہ سے لوگوں کے خلاف جذبات نہ رکھو۔ اور تمہارے عیب دار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ تم لوگوں کے حوالے سے اس چیز کی شناخت رکھو جس سے تم اپنے حوالے سے ناواقف ہو یا لوگوں کے خلاف اس حوالے سے جذبات رکھو جو تم خود کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! تدبیر کی مانند کوئی عقلمندی نہیں ہے اور رکنے کی مانند کوئی ورع (پرہیز) نہیں ہے اور اچھے اخلاق کی مانند کوئی حسب نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوادریس خولانی نامی یہ راوی عائذ الله بن عبداللہ ہے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں غزوہ حنین کے سال پیدا ہوئے تھے اور سن 80ھ میں ان کا شام میں انتقال ہوا تھا۔ یحیی بن یحییٰ غسانی نامی راوی کا تعلق کندہ سے ہے، اور یہ دمشق کا رہنے والا ہے۔ یہ شام کے علم فقہ اور علم قرأت کے ماہرین میں سے ایک ہے انہوں نے ابوادریس خولانی سے احادیث کا سماع پندرہ سال کی عمر میں کیا تھا ان کی پیدائش راہط کے دن معاویہ بن یزید کے دور خلافت میں 64ھ میں ہوئی تھی۔ سلیمان بن عبدالملک نے انہیں موصل کا قاضی مقرر کیا تھا۔ انہوں نے سعید بن مسیب اور اہل حجاز سے احادیث کا سماع کیا ہے یہ وہاں قاضی کے منصب پر اس وقت تک فائز رہے، جب تک عمر بن عبدالعزیز خلیفہ نہیں بن گئے پھر حکم نے انہیں برقرار رکھا اور اس کے عہد خلافت میں یہ مسلسل اسی عہدے پر فائز رہے ان کی عمر طویل ہوئی تھی یہاں تک کہ ان کا انتقال 133ھ میں دمشق میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 361]""

362

Sahih Ibn Hibban #362

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ، فقَالَ : يَا مُعَاذُ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ ، قَالَ : " يَا مُعَاذُ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِيمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ، إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ " ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لا يُعَذِّبَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سواری پر) سوار تھا میرے اور آپ کے درمیان صرف پالان کی پچھلی لکڑی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو۔اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو جب بندے ایسا کر لیں، تو پھر بندوں کااللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں کااللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں، تواللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 362]

363

Sahih Ibn Hibban #363

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي ، أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، فَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي ، كَرِهْتُ لِقَاءَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جب میرا بندہ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے، تو میں بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہوں اور جب وہ میری بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 363]

364

Sahih Ibn Hibban #364

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ : إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لأَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ رَبَّكُمْ أَحَبَّ فُلانًا فَأَحِبُّوهُ ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا فَمِثْلُ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو جبرائیل سے فرماتا ہے: میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، تو سیدنا جبرائیل اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا پروردگار فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، تو تم لوگ بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، پھر اس شخص کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جباللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے، تو پھر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 364]