Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 48 · Chapter 3

Book of Prohibition and Permission

Hadith 5442–5475

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5442

Sahih Ibn Hibban #5442

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سُهَيْلٍ ، فَقَالَ : يَا سُفْيَانُ ،لا تُسْبِلْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إِلَى الْمُسْبِلِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا سفیان بن ابوسہیل رضی اللہ عنہ کے پہلو کو پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”اے سفیان! اپنے تہبند کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والوں کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5442]

5443

Sahih Ibn Hibban #5443

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جَرَّ ثِيَابَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو لٹکائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5443]

5444

Sahih Ibn Hibban #5444

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاءِ ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي ، إِلا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا تہبند ایک طرف سے لٹک جاتا ہے، مجھے اس کا بہت خیال رکھنا پڑے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5444]

5445

Sahih Ibn Hibban #5445

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي ، فَقَالَ : هُنَا مَوْضِعُ الإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَهَهُنَا ، وَلا حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کو درمیان سے پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”یہ جگہ تہبند کے لیے ہے، اگر تم نہیں مانتے تو یہاں تک، لیکن ٹخنوں میں تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5445]

5446

Sahih Ibn Hibban #5446

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الإِزَارِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عبدالرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہبند کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے، نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں تک کے درمیان میں جہاں بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جو اس سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں ہو گا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5446]

5447

Sahih Ibn Hibban #5447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنِ الإِزَارِ ، فَقَالَ أَنَا أُخْبِرُكُ بِعِلْمٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، لا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہبند کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس بارے میں علم کی بات بتاتا ہوں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مومن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے۔ نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں تک کے درمیان میں جہاں بھی ہو، اسے کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جو اس سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔“ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا): ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5447]

5448

Sahih Ibn Hibban #5448

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَضَلَةِ سَاقِهِ ، فَقَالَ : هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَأَسْفَلَ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَلا حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اپنی (یا ان کی) پنڈلی کے نصف حصے پر رکھا اور ارشاد فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر تم نہیں مانتے تو نیچے کر لو، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں میں تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔“ (یعنی اسے ٹخنوں سے اونچا ہونا چاہئے) [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5448]

5449

Sahih Ibn Hibban #5449

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي ، فَقَالَ : هَاهُنَا مَوْضِعُ الإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، فَهَهُنَا ، وَلا حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيرٍ ، وَالأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، إِلا أَنَّ خَبَرَ الأَغَرِّ أَغْرَبُ ، وَخَبَرَ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ أَشْهُرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کو درمیان سے پکڑا اور ارشاد فرمایا: ”یہ جگہ تہبند کے لیے ہے، اگر تم نہیں مانتے تو یہ ہے، تاہم ٹخنوں میں تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابواسحاق نے یہ روایت مسلم بن نذیر اور اغر ابومسلم سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں، البتہ اغر کی نقل کردہ روایت زیادہ غریب ہے اور مسلم بن نذیر کی نقل کردہ روایت زیادہ مشہور ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5449]

5450

Sahih Ibn Hibban #5450

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الإِزَارُ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِزَارِ ، فَقَالَ : أَجَلْ بِعِلْمٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ تہبند کا معاملہ ذکر کیا گیا تو میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: آپ مجھے تہبند کے بارے میں بتائیں، انہوں نے فرمایا: جی ہاں، علم کی بات (میں تمہیں بتاتا ہوں)، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں کے درمیان جہاں بھی ہو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا، لیکن جو اس سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا اور جو شخص اپنے تہبند کو تکبر کے طور پر لٹکائے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5450]

5451

Sahih Ibn Hibban #5451

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ حِينَ ذُكِرَ الإِزَارُ : فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : تُرْخِي شِبْرًا ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : إِذًا تَنْكَشِفُ عَنْهَا ، قَالَ : فَذِرَاعًا لا تَزِيدُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفیہ بنت ابوعبید بیان کرتی ہیں کہ جب تہبند کا ذکر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عورت کا کیا حکم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اس صورت میں تو وہ بے پردہ ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک ذراع (یعنی دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ جتنی) لٹکا لے، اس سے زیادہ نہ لٹکائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5451]

5452

Sahih Ibn Hibban #5452

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ،فَبَايَعْنَاهُ ، وَإِنَّهُ لَمُطْلَقُ الإِزَارِ ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ ، فَمَسَسْتُ الْخَاتِمَ ، فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلا ابْنَهُ قَطُّ فِي شِتَاءٍ ، وَلا حَرٍّ ، إِلا تَنْطَلِقُ أُزُرُهُمَا لا يُزِرَّانِ أَبَدًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں مزینہ قبیلے کے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گریبان کھلا ہوا تھا تو میں نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور مہرِ نبوت کو چھو لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ اور ان کے والد کو دیکھا کہ وہ گرمی اور سردی ہر موسم میں گریبان کھلا رکھتے تھے، وہ بٹن کبھی بند نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5452]

5453

Sahih Ibn Hibban #5453

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي مَحْلُولا إِزَارُهُ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كَذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ بٹن کھول کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5453]

5454

Sahih Ibn Hibban #5454

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يَقُولُ : أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ : أَمَّا بَعْدُ ،فَاتَّزِرُوا ، وَارْتَدُوا ، وَانْتَعِلُوا ، وَارْمُوا بِالْخِفَافِ ، وَاقْطَعُوا السَّرَاوِيلاتِ ، وَعَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيكُمْ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالشَّمْسِ ، فَإِنَّهَا حَمَّامُ الْعَرَبِ ، وَاخْشَوْشِنُوا ، وَاخْلَوْلِقُوا ، وَارْمُوا الأَغْرَاضَ ، وَانْزُوا نَزْوًا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْحَرِيرِ ، إِلا هَكَذَا : أُصْبُعَيْهِ وَالْوسْطَى وَالسَّبَّابَةِ "، قَالَ : فَمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي إِلا الأَعْلامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عثمان بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب ہمارے پاس آیا، ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آذربائیجان میں موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا) «أَمَّا بَعْدُ» ”بعد ازاں!“ بٹن بند رکھو، جوتے پہن کے رکھو، کم وزنی تیر چلاؤ اور شلواروں کو (ٹخنوں سے کچھ اوپر) کاٹ دو، تم پر لازم ہے تم اپنے جدِ امجد سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا سا لباس پہنو اور تم لوگ (مہنگی اور فضول) آرائش و زیبائش والی نعمتوں اور عجمیوں کے طور طریقوں سے بچو اور تم پر لازم ہے دھوپ میں بھی رہو کیونکہ یہ عربوں کا حمام ہے، کھردرے اور پرانے کپڑے پہنو اور گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سواری کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”ریشم پہننے سے منع کیا ہے البتہ اتنے کی اجازت ہے یعنی دو انگلیوں کی، درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی۔“ راوی کہتے ہیں: ہمارے علم کے مطابق اس سے مراد نشانی (یعنی پٹی کے طور پر ریشم استعمال کرنا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5454]

5455

Sahih Ibn Hibban #5455

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ ، وَإِذَا نَزَعَ ، فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ ، فَلْتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا بِفِعْلٍ ، وَآخِرَهُمَا بِنَزْعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص جوتا پہنے، تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں سے اتارے، دایاں پاؤں پہننے میں پہلے ہونا چاہیے اور بایاں اتارنے میں پہلے ہونا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5455]

5456

Sahih Ibn Hibban #5456

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ التَّيَامُنَ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى فِي التَّرَجُّلِ وَالانْتِعَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملے میں دائیں طرف سے آغاز کرنے کو پسند کرتے تھے، یہاں تک کہ کنگھی کرنے اور جوتا پہننے میں بھی (دائیں طرف سے آغاز کو پسند کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5456]

5457

Sahih Ibn Hibban #5457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اکثر جوتا پہن کر رکھا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتا پہنے رہتا ہے سوار کی طرح ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5457]

5458

Sahih Ibn Hibban #5458

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا : اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوے کے دوران میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اکثر جوتا پہن کر رکھا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتا پہنے رکھتا ہے سوار کی طرح ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5458]

5459

Sahih Ibn Hibban #5459

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلا يَمْشِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ ، وَفِي الْخُفِّ الْوَاحِدِ ، لِيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے اور ایک موزہ پہن کر نہ چلے، اسے یا تو دونوں پہننے چاہئیں یا دونوں کو اتار دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5459]

5460

Sahih Ibn Hibban #5460

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَمْشِ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، لِيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے یا دونوں جوتے پہن لے یا دونوں جوتے اتار دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5460]

5461

Sahih Ibn Hibban #5461

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَسَاحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَحْفِهِمَا جَمِيعًا ، أَوِ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، وَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعْتَ ، فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوِ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا " : أَمْرُ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ ، قَصَدَ بِهِمَا الزَّجْرَ عَنِ الْمَشْيِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ خُفٍّ وَاحِدَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یا تو ان دونوں کو اتار دو یا ان دونوں کو پہن لو اور جب تم جوتا پہنو تو پہلے دائیں طرف والا پہنو اور جب اتارو تو پہلے بائیں طرف والا اتارو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم ان دونوں کو اتار دو یا ان دونوں کو پہن لو۔“ یہ امر استحباب اور رہنمائی کے طور پر ہے اور اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر چلنے سے منع کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5461]

5462

Sahih Ibn Hibban #5462

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ جَدِّهِ ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكِلابِ ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جنگِ کلاب کے دن ان کی ناک ضائع ہو گئی تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی، اس میں سے بو آنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی کہ ”وہ سونے کی ناک بنوا لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5462]

5463

Sahih Ibn Hibban #5463

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ ،اسْتَجْمَرَ بِالأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ ، وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الأَلُوَّةِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب انگیٹھی سلگاتے تھے تو اُلوہ (مخصوص قسم کی لکڑی) کے ذریعے سلگاتے تھے اور کافور کو بھی اس کے ساتھ ملا دیتے تھے، پھر یہ بتاتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح انگیٹھی سلگاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5463]

5464

Sahih Ibn Hibban #5464

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زعفران لگانے سے منع کیا ہے (یا زعفرانی رنگ پہننے سے منع کیا ہے)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5464]

5465

Sahih Ibn Hibban #5465

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”آدمی زعفران لگائے (یا زعفرانی رنگ پہنے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5465]

5466

Sahih Ibn Hibban #5466

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النخعي ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا ، وَنَعْلُهُ حَسَنَةً ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْكِبْرُ مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان ہو گا، اور ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا تکبر ہو گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہونے چاہئیں اور اس کا جوتا اچھا ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ» ”بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے،“ تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو قبول نہ کرے اور لوگوں کو کم تر سمجھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5466]

5467

Sahih Ibn Hibban #5467

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ ، فَمَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ فِيهِ بِشِرَاكٍ ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ هُوَ ؟ قَالَ : لا ، إِنَّمَاالْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خوبصورتی متاثر کرتی ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس حوالے سے کوئی شخص ایک تسمے جتنا بھی مجھ سے آگے ہو، تو کیا یہ چیز تکبر ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو قبول نہ کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5467]

5468

Sahih Ibn Hibban #5468

فَقُلْتُ : أَنْطَلِقُ إِلَى عَائِشَةَ ، فَأَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُهَا ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْمَلائِكَةَ لا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تِمْثَالٌ أَوْ كَلْبٌ ، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : لا ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ : خَرَجَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ ، فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا ، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْمَعْرِضِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، اسْتَقْبَلْتُهُ عَلَى الْبَابِ ، فَقُلْتُ : السَّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَنَصَرَكَ وَأَكْرَمَكَ ،فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَرَأَى فِيهِ النَّمَطَ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، وَرَأَيْتُ الْكَرَاهَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الطِّينَ وَالْحِجَارَةَ ، قَالَتْ : فَقَطَعْتُهُ قِطْعَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا ، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے اس بارے میں دریافت کروں گا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے امی جان! ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا موجود ہو۔“ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جی نہیں، لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ کے واپس آنے کا وقت ہوا تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے پردے کے طور پر لٹکا دیا۔ جب آپ تشریف لائے تو میں نے دروازے پر آپ کا استقبال کیا۔ میں نے عرض کی: آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے آپ کو عزت عطا کی، آپ کی مدد کی اور آپ کی عزت افزائی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا تو آپ کو وہ پردہ نظر آیا، آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہو گئے۔ میں نے وہ پردہ اتار کر اسے پھاڑ دیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے کاٹ دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق عطا کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم مٹی اور پتھروں کو لباس پہنائیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کپڑے کے دو حصے کیے اور ان میں پتے بھر دیے (یعنی ان کے تکیے بنا لیے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5468]

5469

Sahih Ibn Hibban #5469

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ ،فَغَلَّفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، حَتَّى قَنَأَ لَوْنُهَا سَوَادًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ ، فَقُلْتُ : قَنَأَ لَوْنُهَا سَوَادًا ، قَالَ : لَمْ أَقُلْ سَوَادًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، آپ کے ساتھیوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ تھے، وہ مہندی اور «الْكَتَم» ”کتم“ (نامی بوٹی) ملا کر خضاب لگاتے تھے یہاں تک کہ (ان کے بالوں کا رنگ) سیاہ ہو چکا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اگلی مرتبہ جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے کہا: (روایت میں یہ الفاظ ہیں:) ان کا رنگ سیاہ ہونے کے قریب تھا، تو (راوی استاد) نے کہا: میں نے یہ نہیں کہا: سیاہ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5469]

5470

Sahih Ibn Hibban #5470

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لا يَصْبِغُونَ ، فَخَالِفُوهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہودی اور عیسائی (بالوں کو) رنگتے نہیں ہیں، تو تم لوگ ان کے برخلاف کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5470]

5471

Sahih Ibn Hibban #5471

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَثُغَامَةٍ بَيْضَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَيِّرُوا رَأْسَهُ ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی (کے بال) ثغامہ پھول کی طرح سفید تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان کے سر (کے بالوں کی رنگت) تبدیل کرو البتہ سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5471]

5472

Sahih Ibn Hibban #5472

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمِ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرٍ : لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ ، لأَتَيْنَاهُ تَكْرِمَةً لأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : فَأَسْلَمَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيْضَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوهُمَا " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِشَيْءٍ ، وَالْمَأْمُورُ فِي وَصْفِهِ مُخَيَّرٌ أَنْ يُغَيِّرَهُمَا بِمَا شَاءَ مِنَ الأَشْيَاءِ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى السَّوَادَ مِنْ بَيْنِهَا ، فَنَهَى عَنْهُ ، وَبَقِيَ سَائِرُ الأَشْيَاءِ عَلَى حَالَتِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابوبکر اور سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر تم ان بزرگ کو گھر میں رہنے دیتے اور میں خود ان کے پاس چلا جاتا (تو یہ ٹھیک تھا)۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کے لیے یہ بات ارشاد فرمائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ پھول کی طرح سفید تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان کی رنگت تبدیل کر دو البتہ سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ان کی رنگت تبدیل کر دو“، یہ لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کی صفت کے بارے میں جو حکم ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے، آدمی جس چیز کے ذریعے چاہے تبدیل کر دے پھر اس میں سے سیاہ رنگ کا استثناء کر لیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تو باقی تمام چیزیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5472]

5473

Sahih Ibn Hibban #5473

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَيِّرُوا الشَّيْبَ ، وَلا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سفید بالوں کی رنگت تبدیل کر دو اور یہودیوں و عیسائیوں سے مشابہت اختیار نہ کرو۔ (کیونکہ وہ بالوں کو خضاب نہیں لگاتے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5473]

5474

Sahih Ibn Hibban #5474

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدٍ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ ، الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس چیز کے ذریعے تم سفید بالوں کی رنگت تبدیل کرتے ہو، ان سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5474]

5475

Sahih Ibn Hibban #5475

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَبِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ ، وَإِعْفَاءِ اللِّحَى "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَوَى مَالِكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَاسْمُ أَبِي بَكْرٍ : عُمَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مونچھیں چھوٹی رکھنے اور داڑھی بڑی رکھنے“ کا حکم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک نے ابوبکر بن نافع کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور حدیث نقل نہیں کی اور ابوبکر بن نافع کا نام عمر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5475]