Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 48 · Chapter 2

Book of Prohibition and Permission

Hadith 5398–5441

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5398

Sahih Ibn Hibban #5398

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عَامِرًا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ خَطَبَ النَّاسَ بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّالْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالذُّرَةِ ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک خمر انگور، کشمش، کھجور، گندم، جو اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5398]

5399

Sahih Ibn Hibban #5399

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلالَةِ ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْجَلالَةُ : مَا كَانَ الْغَالِبُ عَلَى عَلَفِهَا الْقَذَارَةَ ، فَإِذَا كَانَ الْغَالِبُ عَلَى عَلَفِهَا الأَشْيَاءَ الطَّاهِرَةَ الطَّيِّبَةَ لَمْ تَكُنْ بِجَلالَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جلالہ (گندگی کھانے والے) جانوروں کا دودھ پینے اور مجثمہ اور مشکیزے سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جلالہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کی زیادہ تر خوراک گندگی ہو لیکن اگر اس کے چارے میں زیادہ تر چیزیں پاک ہوں پھر وہ جلالہ شمار نہیں ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5399]

5400

Sahih Ibn Hibban #5400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى بِالأَبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَأَمْسِكُوهَا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلا فِي سِقَاءٍ ، فَاشْرَبُوا ، وَلا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کرو۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے اپنے پاس رکھو اور میں نے تمہیں صرف مشکیزے میں نبیذ پینے کی اجازت دی تھی، اب تم (جس برتن میں چاہو) پیو، البتہ نشہ آور چیز نہ پینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5400]

5401

Sahih Ibn Hibban #5401

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ ، وَقَالَ :" انْبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ ، وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ ، وَأَشَارَ النَّضْرُ بِكَفِّهِ ، فَقَالَ : " إِذًا تَجْعَلُهَا مِثْلَ هَذِهِ " ، وَأَشَارَ النَّضْرُ بِبَاعِهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ السَّائِلِ : ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذَا : أَرَادَ بِهِ إِبَاحَةَ الْيَسِيرِ فِي الانْتِبَاذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَمَا أَشْبَهَهَا ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يَتَعَدَّى ذَلِكَ بَاعًا ، فَيَرْتَقِي إِلَى الْمُسْكِرِ ، فَيَشْرَبَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدقیس قبیلے کے وفد کو دباء، حنتم، مزفت، نقیر اور مشکیزے میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مشکیزے میں نبیذ تیار کرو اور ان کا منہ بند کر دو اور اسے اس وقت پیو جب وہ میٹھی اور پاکیزہ ہو۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اتنی سی کی اجازت دیں گے۔ (یہاں نضر نامی راوی نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم اسے اتنا کر لو گے۔“ (یہاں نضر نامی راوی نے اپنی بالشت کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سائل کا یہ کہنا کہ آپ مجھے اتنی کی اجازت دیجیے، اس کے ذریعے اس کی مراد یہ تھی کہ دباء اور حنتم اور اس جیسے دیگر برتنوں میں تھوڑی سی نبیذ تیار کرنے کی اجازت دیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت نہیں دی کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس میں اضافہ کر کے اسے ایک بالشت جتنا اختیار کر لے گا اور پھر وہ نشہ آور چیز تک چلا جائے گا اور اسے پی لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5401]

5402

Sahih Ibn Hibban #5402

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الأَخْضَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سبز گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5402]

5403

Sahih Ibn Hibban #5403

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : ذَلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : ذَلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ ، فَقُلْتُ : وَمَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا۔ ایک شخص نے ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے انہیں بتایا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے ٹھیک کہا ہے۔ میں نے دریافت کیا: گھڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی گئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5403]

5404

Sahih Ibn Hibban #5404

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھڑے، «دُبَّاء» اور «مُزَفَّت» والے برتنوں (کو استعمال کرنے) سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5404]

5405

Sahih Ibn Hibban #5405

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ قَيْسٍ : أَنْهَاكُمْ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ ، وَاشْرَبْ فِي سِقَائِكَ ، وَأَوْكِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے وفد سے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں نقیّر، مُقَیَّر، حنتم، دُبَّاء اور مخصوص قسم کے مشکیزے سے منع کرتا ہوں، تم اپنے مشکیزوں میں پیا کرو اور ان کا منہ بند کر دیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5405]

5406

Sahih Ibn Hibban #5406

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، يُحَدِّثُنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الشُّرْبُ فِي الْحَنَاتِمِ : أَرَادَ بِهِ الانْتِبَاذَ فِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ریشم پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور «الْحَنْتَمِ» ”حنتم“ میں پینے“ سے منع فرمایا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الْحَنْتَمِ» ”حنتم“ میں پینے سے مراد اس میں نبیذ تیار کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5406]

5407

Sahih Ibn Hibban #5407

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، فَأَمَّا الدُّبَّاءُ ، فَكَانَتْ تُخْرَطُ عَنَاقِيدُ الْعِنَبِ ، فَنَجْعَلُهُ فِي الدُّبَّاءِ ، ثُمَّ نَدْفِنُهَا حَتَّى تَمُوتَ ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ ، فَجِرَارٌ كُنَّا نُؤْتَى فِيهَا بِالْخَمْرِ مِنَ الشَّامِ ، وَأَمَّا النَّقِيرُ ، فَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَعْمِدُونَ إِلَى أُصُولِ النَّخْلَةِ فَيَنْقِرُونَهَا ، وَيَجْعَلُونَ فِيهَا الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ ، فَيَدْفِنُونَهَا فِي الأَرْضِ حَتَّى تَمُوتَ ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ ، فَهَذِهِ الزِّقَاقُ الَّتِي فِيهَا الزِّفْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ” «الدُّبَّاءُ» ”دباء“، «الْحَنْتَمُ» ”حنتم“، «النَّقِيرُ» ”نقیر“ اور «الْمُزَفَّتُ» ”مزفت“ سے منع فرمایا ہے“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جہاں تک دباء کا تعلق ہے تو انگور کی بیلوں کو توڑ کر ہم اسے دباء (نامی برتن میں) رکھ دیتے، پھر اسے دفن کر دیتے یہاں تک کہ وہ مر جاتی ہے۔ جہاں تک حنتم کا تعلق ہے تو یہ ایک گھڑا ہے جس میں ہم شام سے شراب لاتے تھے۔ جہاں تک نقیر کا تعلق ہے تو اہل مدینہ یہ کرتے تھے کہ کھجور کی جڑ لے کر اسے کھوکھلا کرتے تھے، اس میں تازہ اور خشک کھجوریں ڈالتے تھے، اسے زمین میں دفن کر دیتے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتی تھی۔ جہاں تک مزفت کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں زفت ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5407]

5408

Sahih Ibn Hibban #5408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْمُزَفَّتِ ، وَالْمُقَيَّرِ ، وَالْحَنْتَمَةِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، مقیر، حنتم، دباء اور نقیر سے منع کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5408]

5409

Sahih Ibn Hibban #5409

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنِّينَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الأَوْعِيَةِ ، أَلا وَإِنَّ وِعَاءً لا يُحَرِّمُ شَيْئًا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے تمہیں مخصوص برتنوں کی نبیذ سے منع کیا تھا، خبردار! برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5409]

5410

Sahih Ibn Hibban #5410

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دباء اور نقیر“ سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5410]

5411

Sahih Ibn Hibban #5411

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّبِيذِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْنَبِيذِ الْجَرِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھڑے کی نبیذ“ سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5411]

5412

Sahih Ibn Hibban #5412

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کرنے کے لیے جب کوئی چیز نہیں ملتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے پیالے میں نبیذ تیار کر لی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5412]

5413

Sahih Ibn Hibban #5413

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الأَصَمُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ ، فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ لَهُ سِقَاءٌ ، فَفِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، جب مشکیزہ نہیں ملتا تھا تو پتھر کے پیالے میں تیار کی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5413]

5414

Sahih Ibn Hibban #5414

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ شَاةً لِسَوْدَةَ مَاتَتْ ، فَدَبَغْنَا جِلْدَهَا ، فَكُنَّا نَنْتَبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا بَالِيًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی، ہم نے اس کی جلد کی دباغت کی، ہم اس میں نبیذ تیار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ مشکیزہ پرانا ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5414]

5415

Sahih Ibn Hibban #5415

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَتْ فُلانَةُ ، تَعْنِي الشَّاةَ ، قَالَ : فَهَلا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا ، فَقَالَتْ : نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا قَالَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا ، لا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ ، تَنْتَفِعُونَ بِهِ " ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا ، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں مر گئی ہے۔ (ان کی مراد بکری تھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کو حاصل کیوں نہیں کیا؟“ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا ہم ایسی بکری کی کھال حاصل کریں جو مر چکی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿قُل لَّآ أَجِدُ فِى مَآ أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا﴾ [سورة الأنعام: 145] ”تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں، میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام قرار دی گئی ہو ماسوائے اس کے جو مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے تم اس کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کرو۔“ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے اس کو بھجوایا اور اس کی کھال کی دباغت کر لی گئی، پھر ہم نے اس کے ذریعے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ اس میں سوراخ ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5415]

5416

Sahih Ibn Hibban #5416

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ ، فَقَالُ : هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْ أَيِّ مَالٍ ؟ قُلْتُ : مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ ، قَالَ :إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالاً ، فَلْيُرَ عَلَيْكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلاً نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي ، وَلَمْ يَقْرِنِي ، فَنَزَلَ بِي ، أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ ؟ قَالَ : " لا ، بَلْ أَقْرِهِ "، أَبُو الأَحْوَصِ : عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص عوف بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میری حالت بکھری ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال عطا کیا ہے؛ اونٹ بھی، غلام بھی اور بکریاں بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہو تو اس کا نشان تم پر نظر آنا چاہیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس کے ہاں میں مہمان بنتا ہوں اور وہ میری عزت افزائی نہیں کرتا اور نہ ہی میری مہمان نوازی کرتا ہے، پھر ایک مرتبہ وہ میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے تو کیا میں اس کے طرز عمل کا بدلہ دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔“ ابواحوص عوف بن مالک بن نضلہ رحمہ اللہ کے والد رضی اللہ عنہ صحابی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5416]

5417

Sahih Ibn Hibban #5417

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ ، فَقَالَ : مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ ؟ قَالَ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً ، أَحَبَّ أَنْ تُرَى بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص اپنے والد (مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں والے دیہاتی کی شکل میں ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ہر طرح کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو نعمت عطا فرمائے تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی وہ نعمت اس بندے پر نظر آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5417]

5418

Sahih Ibn Hibban #5418

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا ، فَالْتَمَسْتُ فِيهَا ، فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ ، فَكَسَرْتُهُ ، ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ جَابِرٌ : وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ لِيَذْهَبَ يَرْعَى ظَهَرْنَا ، قَالَ : فَجَهَّزْتُهُ ، ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلُقَا ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا ، قَالَ : فَادْعُهُ ، فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ ، فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ ، أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَكَذَا كَانَتْ نِيَّةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِدَايَةِ ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ؛ لأَنَّ جَابِرًا مَاتَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ ، وَمَاتَ أَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ سَنَةَ بِضْعٍ وَخَمْسِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَكَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِذْ ذَاكَ ، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَهُوَ كَبِيرٌ ، وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ وَمِئَةَ ، وَقَدْ عُمِّرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ انمار کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سائے کی طرف تشریف لے آئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (سواری سے) نیچے اتر آئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھ کر اپنے توشہ دان کی طرف آیا، میں نے اس میں تلاش کیا تو مجھے اس میں ککڑی ملی، میں نے اسے توڑا اور پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جسے ہم سامان تیار کر کے دے دیتے تھے اور وہ ہمارے سواری کے جانوروں کو چرنے کے لیے لے جایا کرتا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس کا سامان تیار کیا پھر وہ اس کو اپنی پشت پر لاد کر چل پڑا، اس کے جسم پر دو چادریں تھیں جو پرانی ہو چکی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا: ”اس کے پاس ان دو چادروں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے پاس سامان میں دو اور کپڑے ہیں جو میں نے اسے پہننے کے لیے دیے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے بلاؤ اور اسے یہ ہدایت کرو کہ وہ ان کپڑوں کو پہن لے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے بلایا، اس نے وہ دو کپڑے پہن لیے، پھر وہ جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کی گردن پر مارے، کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے؟“ اس شخص نے یہ بات سن لی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی راہ میں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں۔“ پھر وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغاز میں یہی نیت تھی۔ زید بن اسلم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے احادیث کا سماع کیا ہے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا انتقال 79 ہجری میں ہوا تھا اور اسلم کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں 50 ہجری کے آس پاس ہوا تھا۔ مروان بن حکم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا، تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے، وہ بڑی عمر کے آدمی تھے جب کہ زید بن اسلم کا انتقال 136 ہجری میں ہوا، ان کی عمر کافی زیادہ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5418]

5419

Sahih Ibn Hibban #5419

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالاً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا ظَهْرَ لَهُ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ زَادٍ ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لا زَادَ لَهُ "، فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ ، حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لا حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس اضافی بوجھ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس بوجھ نہ ہو، اور جس شخص کے پاس اضافی زادِ راہ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہ ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی مختلف اصناف کا ذکر کیا یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم میں سے کسی کو بھی کوئی اضافی چیز رکھنے کا حق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5419]

5420

Sahih Ibn Hibban #5420

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا الْقَمِيصَ ، أَوِ الرِّدَاءَ ، أَوِ الْعِمَامَةَ ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ اس کا نام لیتے تھے (مثلاً قمیص یا چادر یا عمامہ) پھر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5420]

5421

Sahih Ibn Hibban #5421

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا ، فَلَكَ الْحَمْدُ ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے کا نام لے کر یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تو نے مجھے یہ (چادر یا قمیص) پہنائی ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5421]

5422

Sahih Ibn Hibban #5422

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا لَبِسَ قَمِيصًا ، بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قمیص پہنتے تھے تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5422]

5423

Sahih Ibn Hibban #5423

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدَ ، يَجْلُو الْبَصَرَ ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سفید کپڑے پہنو اور سفید کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہے اور تمہارے سرموں میں سب سے بہترین اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5423]

5424

Sahih Ibn Hibban #5424

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَلَمِ فِي إِصْبَعَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو انگلیوں جتنے نشان (یعنی کپڑے پر ریشمی پٹی) لگانے کی اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5424]

5425

Sahih Ibn Hibban #5425

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حَمَّادِ ابْنِ أُخْتِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5425]

5426

Sahih Ibn Hibban #5426

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اور «احْتِبَاء» کے طور پر ایک کپڑا پہننے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5426]

5427

Sahih Ibn Hibban #5427

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْلُبْسَتَيْنِ : اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ : وَهُوَ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَيَبْدُو شِقُّهُ ، وَالآخَرُ : أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ، يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو طرح کا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے: «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑے کو اس طرح سے لپیٹ لے کہ اس کے دونوں کنارے اس کے کندھے پر ہوں اور اس کا پہلو ظاہر ہو رہا ہو، اور دوسرا یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑے کو «اِحْتِبَاءٌ» کے طور پر اس طرح لپیٹ لے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کی شرمگاہ پر نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5427]

5428

Sahih Ibn Hibban #5428

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قُبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ، ثُمَّ نَزَعَهُ ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ نَزَعْتَهُ ؟ فَقَالَ : جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَنَهَانِي عَنْهُ ، قَالَ : فَجَاءَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْرَهُهُ وَتُعْطِينِيهِ ، قَالَ :" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَ لِتَلْبَسَهُ ، وَإِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَبِيعَهُ "، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ریشم کی بنی ہوئی قبا زیب تن کی جو آپ کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی، پھر آپ نے اسے اتار دیا۔ آپ نے وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دی۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے اتار کیوں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے خود اسے ناپسند کیا ہے اور پھر یہ مجھے عطا کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہیں اس لیے عطا نہیں کی ہے کہ تم اسے پہن لو، یہ میں نے تمہیں اس لیے عطا کی ہے کہ تم اسے فروخت کرو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہزار درہم کے عوض میں اسے فروخت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5428]

5429

Sahih Ibn Hibban #5429

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْحَرِيرِ ، قَالَ : مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”جو شخص دنیا میں اسے پہن لے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5429]

5430

Sahih Ibn Hibban #5430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حَكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت عطا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5430]

5431

Sahih Ibn Hibban #5431

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ ، مِنْ حَكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشم پہننے کی اجازت دی تھی کیونکہ انہیں خارش لاحق تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5431]

5432

Sahih Ibn Hibban #5432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، شَكَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ ، فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصَ حَرِيرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جوؤں کی شکایت کی، یہ ایک جنگ کے دوران کی بات ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو ریشمی قمیض پہننے کی اجازت دے دی، تو میں نے ان دونوں صاحبان کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5432]

5433

Sahih Ibn Hibban #5433

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، وَقَالَ : لا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فَرُّوجُ الْحَرِيرِ : هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى دُرُوزِهِ حَرِيرٌ ، دُونَ أَنْ يَكُونَ الْكَلُّ مِنَ الْحَرِيرِ ، وَلَوْ كَانَ الْكَلُّ حَرِيرًا مَا لَبِسَهُ ، وَلا صَلَّى فِيهِ ، وَهَذَا مَعْنَى خَبَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی جبہ پیش کیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کرتے ہوئے سختی سے اتار دیا اور فرمایا: ”یہ پرہیزگاروں کے لیے مناسب نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «فَرُّوجُ حَرِيرٍ» (ریشمی جبہ) سے مراد وہ کپڑا ہے جس کا تانا ریشم کا ہوتا ہے، وہ سارے کا سارا ریشم نہیں ہوتا؛ اگر وہ سارے کا سارا ریشم کا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ اسے پہنتے اور نہ ہی اسے پہن کر نماز ادا کرتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا بھی یہی مطلب ہے کہ صرف دو یا تین یا چار انگلیوں جتنی (ریشم کی پٹی لگانے) کی اجازت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5433]

5434

Sahih Ibn Hibban #5434

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ حَرِيرًا ، فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ ، وَذَهَبًا ، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ ، وَقَالَ : هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : خَبَرُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْبَابِ ، مَعْلُولٌ لا يَصِحُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا لیا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لیے حرام ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن ابوہند نے ابوموسیٰ کے حوالے سے اس بارے میں جو روایت نقل کی ہے وہ معلول ہے اور مستند نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5434]

5435

Sahih Ibn Hibban #5435

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ، قَالَ : مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص دنیا میں ریشم پہن لے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5435]

5440

Sahih Ibn Hibban #5440

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قسی اور معصفر پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع کے دوران قرأت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5440]

5441

Sahih Ibn Hibban #5441

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ ، فَقَالَ : نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْلُبْسِ الْحَرِيرِ إِلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ ، أَوْ ثَلاثٍ ، أَوْ أَرْبَعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ریشم پہننے سے منع کیا ہے، البتہ دو انگلیوں، یا تین انگلیوں، یا چار انگلیوں (جتنی پٹی استعمال کرنے کی) اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5441]