Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 48 · Chapter 1

Book of Prohibition and Permission

Hadith 5357–5397

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5357

Sahih Ibn Hibban #5357

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ مَاتَ ، دَخَلَ النَّارَ ، فَإِنْ تَابَ ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ ، فَشَرِبَ ، فَسَكِرَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ مَاتَ ، دَخَلَ النَّارَ ، فَإِنْ تَابَ ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ ، فَشَرِبَ ، فَسَكِرَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ مَاتَ ، دَخَلَ النَّارَ ، فَإِنْ تَابَ ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص شراب پیے اور نشے میں آ جائے، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ (اس دوران) مر جائے تو جہنم میں داخل ہو گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کرے اور شراب پی کر نشے میں آ جائے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی اور اگر وہ (اسی عالم میں) مر گیا تو (جہنم میں داخل ہو گا)، اگر پھر اس نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرے گا اور اگر پھر وہ ایسا کرے اور شراب پی کر نشے میں آ جائے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اور اگر وہ (اسی عالم میں) مر گیا، تو (جہنم میں داخل ہو گا) اور اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرے گا اور اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے قیامت کے دن اسے «طِينَةَ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ پلائے۔“ لوگوں نے عرض کی: «طِينَةَ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ جہنم (کے خون اور پیپ وغیرہ) کا نچوڑ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5357]

5358

Sahih Ibn Hibban #5358

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو جَابِرٍ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّالْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ : مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالْخَمْرُ : مَا خَامَرَ الْعَقْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر یہ بات بیان کی کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو، ویسے «الْخَمْرُ» ”شراب“ ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5358]

5359

Sahih Ibn Hibban #5359

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ : مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالْخَمْرُ : مَا خَامَرَ الْعَقْلَ ، ثَلاثٌ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا ، حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ : الْكَلالَةُ ، وَالْجَدُّ ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو، ویسے «الْخَمْرُ» ”خمر“ ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ اے لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں زیادہ وضاحت سے بتا دیتے: «الْكَلَالَةُ» ”کلالہ“، (وراثت میں) دادا کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5359]

5360

Sahih Ibn Hibban #5360

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْداً لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ ، أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے «طِينَةُ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ پلائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5360]

5361

Sahih Ibn Hibban #5361

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنْ شَرَابٍ ، حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ فِيهِمْ ، فَمَرَّ بِنَا مَارٌّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَنَادَى :أَلا هَلْ شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ أَمَرُونِيَ أَنِ اكْفَأْ مَا فِي آنِيَتِكَ ، فَفَعَلْتُ ، فَمَا عَادُوا فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى لَقُوا اللَّهَ ، وَإِنَّهَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ، وَإِنَّهَا لَخَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ يَوْمَئِذٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں موجود تھے اور میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا۔ وہ حضرات اسے پی ہی رہے تھے کہ اسی دوران وہاں سے ایک مسلمان گزرا اور اس نے اعلان کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا (اور فوراً) مجھے یہ ہدایت کی کہ ”تم اپنے برتن میں موجود شراب کو انڈیل دو“ تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس زمانے میں شراب تازہ اور خشک کھجوروں سے بنائی جاتی تھی اور ان دنوں ہماری شراب یہی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5361]

5362

Sahih Ibn Hibban #5362

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُقَائِمًا عَلَى الْحَيِّ عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ ، وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالُوا : يَا أَنَسُ اكْفَأْهَا ، قَالَ : فَكَفَأْتُهَا "، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقُلْتُ : مَا كَانَتْ ؟ قَالَ : بُسْرًا وَرُطَبًا ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے چچاؤں کو فضیخ پلا رہا تھا کیونکہ میں عمر میں ان میں سب سے کم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا: اے انس! اسے گرا دو، تو میں نے اسے گرا دیا۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ وہ شراب کس چیز کی بنائی جاتی تھی؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: خشک اور تازہ کھجوروں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابوبکر بن انس رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی کہ ان دنوں شراب اسی چیز سے بنائی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5362]

5363

Sahih Ibn Hibban #5363

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَبَا عُبَيْدَةَ ، وَكَعْبًا ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ ، نَبِيذَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ حَتَّى أَسْرَعَتْ فِيهِمْ ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي : أَلا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا أَحَقًّا قَالَ أَمْ بَاطِلا ، فَقَالُوا : اكْفَأْ يَا أَنَسُ ، قَالَ : فَكَفَأْتُهُ ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ إِلَى رُؤُوسِهِمْ حَتَّى لَقُوا اللَّهَ ، وَكَانَ خَمْرَهُمُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوطلحہ، سیدنا ابوعبیدہ، سیدنا کعب اور سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو خشک اور تازہ کھجور سے بنی ہوئی نبیذ پلا رہا تھا، اسی دوران ایک منادی نے یہ اعلان کیا: ”خبردار! شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ پہلے اس بات کی تحقیق کر لیں کہ یہ بات درست ہے یا غلط ہے، ان لوگوں نے کہا: اے انس! اسے بہا دو، تو میں نے اسے بہا دیا، اللہ کی قسم! اس کے بعد یہ حضرات مرتے دم تک دوبارہ کبھی شراب کی طرف نہیں گئے، ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5363]

5364

Sahih Ibn Hibban #5364

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُأَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَأَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ ، شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ ، فَجَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : قُمْ يَا أَنَسُ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا ، فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو فضیخ نامی شراب پلا رہا تھا، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: ”شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے“، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے انس! تم اس مٹکے کے پاس جاؤ اور اسے توڑ دو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھ کر اپنے بیلچے کے پاس آیا، میں نے وہ اس مٹکے کے نیچے مارا اور اسے توڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5364]

5365

Sahih Ibn Hibban #5365

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّ الأَخْضَرِ ، وَالْجَرِّ الأَبْيَضِ ، وَالْجَرِّ الأَحْمَرِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : لا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَلا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ ، وَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ ، قَالُوا : فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ ؟ قَالَ : وَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ ، فَصُبُّوا عَلَيْهَا الْمَاءَ ، قَالُوا : فَإِنِ اشْتَدَّ ؟ قَالَ : فَأَهْرِيقُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَيَّ ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ : مَا الْكُوبَةُ ؟ قَالَ : الطَّبْلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سبز گھڑے، سفید گھڑے اور سرخ گھڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس بارے میں سب سے پہلے عبدالقیس قبیلے کے وفد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ دباء، مزفت اور حنتم (نامی برتنوں) میں نہ پیو اور تم مٹکے میں نہ پیو، تم مشکیزوں میں پی لیا کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: اگر مشکیزے میں موجود (نبیذ میں) شدت آ جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مشکیزے میں موجود مشروب میں شدت آ جاتی ہے تو تم اس پر پانی ڈال لو۔“ انہوں نے عرض کی: اگر پھر بھی شدت رہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے بہا دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام قرار دیا ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ”اللہ تعالیٰ نے شراب، جوے اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی حرام ہے۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کہا: کوبہ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ڈھول۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5365]

5366

Sahih Ibn Hibban #5366

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلافُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا ، لَمْ يَتُبْ مِنْهَا ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَفْظُ الْخَبَرِ ، لأَبِي كَامِلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جو شخص دنیا میں خمر پئے گا اور مر جائے گا جبکہ وہ اسے باقاعدگی سے پیتا ہو اور اس نے اس سے توبہ نہ کی ہو تو وہ آخرت میں اسے نہیں پی سکے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ ابوکامل کے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5366]

5367

Sahih Ibn Hibban #5367

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاةَ ، وَالسُّنَنَ ، وَالْفَرَائِضَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لا تَطْعَمُوهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذِكْرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا ، فَقَالَ : الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لا تَطْعَمُوهُ ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ؟ قَالَ : فَلا تَطْعَمُوهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ هَذَا : عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَلِيفُ الأَوْسِ مِنْ جِلَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز، سنتوں اور فرائض کی تعلیم دی۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے ہاں ایک مشروب ہے جسے ہم گندم اور جو سے بناتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ” «غَبِیْرَاءُ» (کے بارے میں تم پوچھنا چاہتے ہو؟)“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ۔“ دو دن کے بعد پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «غَبِیْرَاءُ» (کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے ہو؟)“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ۔“ جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( «غَبِیْرَاءُ» کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو؟)“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر بن حکم نامی راوی عمر بن حکم بن ثوبان ہیں جو اوس قبیلے کے حلیف ہیں اور اہل مدینہ کے جلیل القدر افراد میں سے ایک ہیں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5367]

5368

Sahih Ibn Hibban #5368

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5368]

5369

Sahih Ibn Hibban #5369

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5369]

5370

Sahih Ibn Hibban #5370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس چیز کے تھوڑے استعمال سے بھی منع کیا ہے جس کی زیادہ مقدار نشہ کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5370]

5371

Sahih Ibn Hibban #5371

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِتْعِ» (نامی مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5371]

5372

Sahih Ibn Hibban #5372

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِتْعُ» (نامی مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5372]

5373

Sahih Ibn Hibban #5373

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : بَشِّرَا وَيَسِّرَا ، وَعَلِّمَا وَلا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا " ، فَلَمَّا وَلَّى مُعَاذٌ ، رَجَعَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعِنَبِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ ، وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاةِ فَهُوَ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : غَرِيبٌ غَرِيبٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن بردہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے فرمایا: ”تم دونوں خوشخبری سنانا اور آسانی فراہم کرنا، تم دونوں تعلیم دینا اور متنفر کرنے کی کوشش نہ کرنا اور تم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا۔“ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مڑ کر چلے گئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ واپس آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہاں انگور سے ایک شراب بنائی جاتی ہے جسے پکا لیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور «المِزْرُ» ”مزر“ ہے جسے جو سے بنایا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر وہ چیز جو نماز سے نشہ کر دے وہ حرام ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت غریب غریب (یعنی انتہائی زیادہ غریب) ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5373]

5374

Sahih Ibn Hibban #5374

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كُلُّ مُسْكِرٍ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر نشہ آور چیز ہر مومن پر حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5374]

5375

Sahih Ibn Hibban #5375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5375]

5377

Sahih Ibn Hibban #5377

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةَ : الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ ، قَالَ : وَمَا الْبِتْعُ ؟ فَقُلْتُ : شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ ، وَالْمِزْرُ شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں «بِتْع» اور «مِزْر» نامی شراب استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ” «بِتْع» کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ شراب ہے جو شہد سے بنائی جاتی ہے اور «مِزْر» ایک شراب ہے جو جَو سے بنائی جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5377]

5378

Sahih Ibn Hibban #5378

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5378]

5379

Sahih Ibn Hibban #5379

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا ، وَأَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے یا تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5379]

5380

Sahih Ibn Hibban #5380

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ بِالزَّهْوِ ، ثُمَّ يُشْرَبَ ، وَإِنَّ ذَلِكَ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”خشک کھجور کو تازہ کے ساتھ ملا کر (نبیذ تیار کی جائے) اور پھر اسے پیا جائے“ کیونکہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو زیادہ تر شراب اسی طرح بنائی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5380]

5381

Sahih Ibn Hibban #5381

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا ، وَلا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا ، وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو، تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو۔ ان میں سے ہر ایک کی نبیذ علیحدہ تیار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5381]

5382

Sahih Ibn Hibban #5382

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَلِيلُ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5382]

5383

Sahih Ibn Hibban #5383

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو عُثْمَانَ هَذَا اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ سَالِمٍ الأَنْصَارِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کا پیالہ نشہ کر دے اس کو مٹھی بھر پینا بھی حرام ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوعثمان نامی راوی کا نام عمرو بن سالم انصاری ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5383]

5384

Sahih Ibn Hibban #5384

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاهُ قَوْمٌ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وِشِرَائِهِ وَالتِّجَارَةِ فِيهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لا يَصْلُحُ بَيْعُهُ ، وَلا شِرَاؤُهُ ، وَلا التِّجَارَةُ فِيهِ لِمُسْلِمٍ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ مِنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، مَثَلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَلَمْ يَأْكُلُوهَا ، فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الطِّلاءِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَمَا طِلاؤُكُمْ هَذَا الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ ؟ قَالُوا : هَذَا الْعِنَبُ يُطْبَخُ ، ثُمَّ يُجْعَلُ فِي الدِّنَانِ ، قَالَ : وَمَا الدِّنَانُ ؟ قَالُوا : دِنَانٌ مُقَيِّرَةٌ ، قَالَ : أَيُسْكِرُ ؟ قَالُوا : إِذَا أَكْثَرَ مِنْهُ أَسْكَرَ ، قَالَ : فَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ ، قَالَ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَجَعَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي نَقِيرٍ ، وَحَنَاتِمَ ، وَدُبَّاءٍ ، فَأَمَرَ بِهَا ،فَأُهْرِيقَتْ ، وَأَمَرَ بِسِقَاءٍ ، فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي يَسْتَقْبِلُ ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ ، فَإِذَا أَمْسَى فَشَرِبَ وَسَقَى ، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے شراب کی خرید و فروخت اور اس کی تجارت کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: کیا تم لوگ مسلمان ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے فروخت کرنا اور اس کی تجارت کرنا کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سے جو شخص ایسا کرے گا اس کی مثال بنی اسرائیل کی طرح ہو گی جن کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے کھایا تو نہیں، لیکن اسے فروخت کرنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔ پھر ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «طِلَاء» ”طلاء“ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «طِلَاء» ”طلاء“ کیا چیز ہے جس کے بارے میں تم لوگ دریافت کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ یہ انگور کو پکایا جاتا ہے، پھر اسے مٹکے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: «دِنَان» ”دنان“ سے کیا مراد ہے؟ لوگوں نے کہا: اس سے مراد مخصوص قسم کا مٹکا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: کیا وہ مشروب نشہ کر دیتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جب اسے زیادہ پی لیا جائے تو نشہ کر دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ“ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ پھر ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر گئے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے «نَقِير» ”نقیر“، «حَنْتَم» ”حنتم“ اور «دُبَّاء» ”دباء“ (یعنی مخصوص قسم کے برتنوں) میں نبیذ تیار کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈال کر (نبیذ تیار کی گئی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے وقت نبیذ تیار کی گئی تو اس سے اگلے دن صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد اگلی رات آئی، اس کے بعد اگلے دن کی شام آئی، جب شام آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا اور پلایا بھی، جب اس سے اگلے دن کی صبح آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5384]

5385

Sahih Ibn Hibban #5385

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأَبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنَّانَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلاهُ ، نَنْبِذُهُ غُدْوَةً ، فَيَشْرَبُهُ عَشِيًّا ، وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا ، فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کیا کرتے تھے جس کے منہ کو بند کر دیا جاتا تھا۔ ہم صبح کے وقت نبیذ تیار کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت اسے پی لیتے تھے اور اگر ہم شام کے وقت تیار کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اسے پی لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5385]

5386

Sahih Ibn Hibban #5386

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ ، عَنِ النَّبِيذِ ، قَالَ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي حَنَاتِمَ ، وَنَقِيرٍ ، وَدُبَّاءٍ ، فَأَمَرَ بِهَا ،فَأُهْرِيقَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ ، فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ ، فَإِذَا أَمْسَى شَرِبَ وَسَقَى ، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ ، فَأُهْرِيقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حنتم، نقیر اور دباء نامی مخصوص قسم کے برتنوں میں نبیذ تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے وقت نبیذ تیار کی گئی، اگلے دن کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد اگلی رات آئی، اس کے بعد اگلا دن آیا، یہاں تک کہ جب اس کی شام آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور لوگوں کو بھی پلایا، اس کے اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت صبح کے وقت اس نبیذ کو بہا دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5386]

5387

Sahih Ibn Hibban #5387

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبیذ تیار کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی تھی تو آپ کے لیے پتھر سے بنے ہوئے پیالے میں نبیذ تیار کر لی جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5387]

5388

Sahih Ibn Hibban #5388

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعَ عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّهُنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ : مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالْخَمْرُ : مَا خَامَرَ الْعَقْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو، اور ویسے خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5388]

5389

Sahih Ibn Hibban #5389

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى جَانِبِهِ مَاءٌ فِي رَكِيٍّ ، فَقَالَ : أَعِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ ، وَإِلا كَرَعْنَا فِي هَذَا " ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ ، وَحُلِبَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ : هُنَاكَ فُلَيْحٌ ، اذْهَبْ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ ، فَلَقِيتُ فُلَيْحًا ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، كَمَا حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِسْمَاعِيلُ هَذَا : هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، لَمْ يَذْكُرْهُ فِي كِتَابِنَا هَذَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ احْتِجَاجًا مِنَّا بِهِ ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ؛ لأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ فُلَيْحٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ قَدْ ذَكَرْنَا السَّبَبَ فِي تَرْكِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کو بلایا جس کے پہلو میں پانی کا مشکیزہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس ایسا پانی ہے جو رات سے مشکیزے میں رہا ہو؟ ورنہ ہم (اس بہتے ہوئے پانی میں سے) پی لیتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا جس میں دودھ ملایا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ منصور نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اسماعیل نامی راوی نے مجھ سے کہا: فلیح نامی راوی یہاں آئے ہوئے ہیں، تم جا کر ان سے یہ حدیث سن لو۔ منصور کہتے ہیں: تو میری ملاقات فلیح سے ہوئی، میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح اسماعیل نے سنائی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسماعیل نامی راوی اسماعیل بن عیاش ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں صرف اس جگہ ان کا ذکر کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے استدلال کیا جائے ورنہ اس روایت میں ہمارا اعتماد منصور بن ابومزاحم نامی راوی پر ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو فلیح اور اسماعیل دونوں سے سنا ہے اور ہم نے اسماعیل کو متروک قرار دینے کی وجہ کتاب المجروحین میں بیان کر دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5389]

5390

Sahih Ibn Hibban #5390

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، فَفَدَّاهُ بِالأَبِ وَالأُمِّ ، وَقَالَ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّياسْتَأْذَنْتُ فِي الاسْتِغْفَارِ لأُمِّي ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَدَمَعَتْ عَيْنِي رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاثٍ ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي الأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ ، وَلا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ماں باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں ملی، تو ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ان کے جہنم میں ہونے کی وجہ سے۔ میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا؛ قبروں کی زیارت کرنے سے، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت بھلائی میں اضافہ کرے گی، میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے روک کے رکھو، میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروب پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس طرح کے برتن میں چاہو مشروب پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5390]

5391

Sahih Ibn Hibban #5391

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلا فِي سِقَاءٍ ، فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلَّهَا ، وَلا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، اب تمہیں جتنا مناسب لگے اسے اپنے پاس روک کر رکھو اور میں نے تمہیں صرف مشکیزے میں نبیذ پینے کی اجازت دی تھی، اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پی سکتے ہو، البتہ نشہ آور چیز کو نہ پینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5391]

5392

Sahih Ibn Hibban #5392

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ وَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا فَضْلُ ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْقِنِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْقِنِي ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْتَقُونَ ، وَيَعْمَلُونَ فِيهَا ، فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا أَنْ تُغْلَبُوا ، لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ " ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے والوں کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے (اپنے صاحب زادے سے) فرمایا: اے فضل! تم اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی مشروب لے کر آؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کچھ پینے کے لیے دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اس میں ڈالے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کچھ پینے کے لیے دو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے پاس تشریف لائے، لوگ پانی حاصل کر رہے تھے اور وہاں کام کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ کام کرتے رہو، تم ایک نیک کام کر رہے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ ہجوم زیادہ ہو جائے گا تو میں بھی نیچے اترتا، یہاں تک کہ میں (پانی نکالنے والے ڈول کی) رسی کو یہاں رکھتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5392]

5393

Sahih Ibn Hibban #5393

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ ، فَهُوَ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِتْعُ» (مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5393]

5394

Sahih Ibn Hibban #5394

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَهُ هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ سَقَيْتُ بِقَدَحِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ ، وَالْمَاءَ ، وَالْعَسَلَ ، وَالنَّبِيذَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اس پیالے کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ اور پانی اور شہد اور نبیذ پلائی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5394]

5395

Sahih Ibn Hibban #5395

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ،دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ ، ثُمَّ صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا ، وَمَا قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلا امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ ، وَبَلَّتْ تُمَيْرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ بِهِ ، فَسَقَتْهُ "تَخُصُّهُ بِذَلِكِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی دعوت کی، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کروایا۔ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام اسید رضی اللہ عنہا نے لوگوں کے سامنے کھانا پیش کیا، انہوں نے پتھر کے برتن میں رات سے ہی کچھ کھجوریں بھگوئی ہوئی تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کھانا کھا کر) فارغ ہوئے تو وہ خاتون اس مشروب کو لے کر آئی اور بطور خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مشروب پلایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5395]

5396

Sahih Ibn Hibban #5396

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فَيَشْرَبُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ ، وَالثَّانِي ، وَالثَّالِثَ ، إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے پیالے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہلے دن، دوسرے دن اور تیسرے دن دوپہر تک پیتے تھے (اس کے بعد ضائع کر دیتے تھے کیونکہ اس میں جوش آ جاتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5396]

5397

Sahih Ibn Hibban #5397

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ ، فَهُوَ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5397]