Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 47 · Chapter 3

Book of Adornment and Perfuming

Hadith 5323–5356

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5323

Sahih Ibn Hibban #5323

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَزَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5323]

5324

Sahih Ibn Hibban #5324

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ مَا فِي بَطْنِهِ ، لاسْتَقَاءَ "، أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کھڑے ہو کر پینے والے شخص کو اگر پتا چل جائے کہ اس میں کیا نقصان ہے تو وہ اسے قے کر دے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5324]

5325

Sahih Ibn Hibban #5325

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّانَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي ، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہو کر پی لیا کرتے تھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5325]

5326

Sahih Ibn Hibban #5326

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحْبَةِ ، قَالَ :فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَأَخَذَهُ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَدَمَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ ، وَقَالَ : هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر ہم کھلے میدان میں آ گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اسے لیا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اپنے چہرے اور دونوں بازو، اپنے سر اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا، پھر انہوں نے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پی لیا، پھر انہوں نے یہ بات بتائی: کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہوا ہو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5326]

5327

Sahih Ibn Hibban #5327

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ قَالَ : أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ، ثُمَّ تَنَفَّسْ ، قَالَ : فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فِيهِ ، قَالَ : فَأَهْرِقْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومثنیٰ جہنی بیان کرتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس موجود تھا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لائے، مروان نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برتن میں پھونک مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں، ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ہی سانس کے ذریعے سیراب نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پیالے کو اپنے سے دور کرو پھر سانس لو۔“ اس نے عرض کی: میں اس میں کوئی گندگی پاتا ہوں (تو میں کیا کروں)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے گرا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5327]

5328

Sahih Ibn Hibban #5328

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ ، فَلا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کچھ پیے، تو برتن میں سانس نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5328]

5329

Sahih Ibn Hibban #5329

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلاثًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5329]

5330

Sahih Ibn Hibban #5330

أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي عَزَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا شَرِبَ يَتَنَفَّسُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَقَالَ : هُوَ أَهْنَأُ وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز پیتے تھے تو تین مرتبہ سانس لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”یہ زیادہ آسان، زیادہ سہولت والا، زیادہ سیر کرنے والا (طریقہ ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5330]

5331

Sahih Ibn Hibban #5331

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ ، وَلا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ "، فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : يَا أَبَا عُرْوَةَ ، إِنَّ الزُّهْرِيَّ رَوَى هَذَا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ مَعْمَرٌ : إِنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ عَنِ النَّفْرِ ، فَلَعَلَّ هَذَا مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھائے اور بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ کے ذریعے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ کے ذریعے پیتا ہے۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا: اے ابوعروہ! زہری نے یہ روایت ابوبکر بن عبیداللہ کے حوالے سے نقل کی ہے تو معمر نے کہا: زہری کئی آدمیوں کے حوالے سے روایت بیان کرتے ہیں تو شاید یہ بھی ان روایات میں سے ایک ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5331]

5332

Sahih Ibn Hibban #5332

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کنویں والے گھروں سے میٹھا پانی منگوایا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5332]

5333

Sahih Ibn Hibban #5333

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، آپ کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے (باقی رہ جانے والا دودھ) دیہاتی کو دیا اور ارشاد فرمایا: ”دائیں طرف والے کا حق پہلے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5333]

5334

Sahih Ibn Hibban #5334

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ ، وَقَدْ شِيبَ بِمَاءٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور پھر دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”دائیں طرف والے کا حق پہلے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5334]

5335

Sahih Ibn Hibban #5335

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلامٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ الأَشْيَاخُ ، فَقَالَ لِلْغُلامِ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاءِ ؟ فَقَالَ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا ، قَالَ : فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے کہا: ”کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ یہ میں پہلے ان لوگوں کو دے دوں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی طرف سے آنے والے اپنے حصے میں میں کسی کے لیے ایثار نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]

5336

Sahih Ibn Hibban #5336

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا ، عَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ فَضْلَهُ ، وَقَالَ : الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، آپ کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچا ہوا دودھ پہلے دیہاتی کو دیا اور ارشاد فرمایا: ”دائیں طرف والے کا حق پہلے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5336]

5337

Sahih Ibn Hibban #5337

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ وَقَدْ شِيبَ بِمَاءٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ الْفِعْلانِ كَانَا فِي مَوْضِعَيْنِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أُتِيَ بِشَرَابٍ ، وَعَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامٌ ، وَاسْتَأْذَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقْيِهِمْ دُونَهُ ، وَفِي خَبَرِ أَنَسٍ أُتِيَ بِلَبَنٍ وَقَدْ شِيبَ بِالْمَاءِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَلَمْ يَسْتَأْذِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَ فِي خَبَرِ سَهْلٍ ، فَدَلَّكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّهُمَا فِعْلانِ مُتَبَايِنَانِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، لا فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”دائیں طرف والے کا حق پہلے ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں فعل دو مختلف مواقع کے ہیں اور اس بات کی دلیل وہ ہے جو سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچے ہوئے حصے کو اس کی بجائے دوسرے کو دیں، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف دیہاتی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت نہیں مانگی جس طرح اس روایت میں اجازت مانگنے کا ذکر ہے جو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف فعل ہیں جو دو مختلف مواقع پر پیش آئے تھے، یہ ایک ہی موقع کا واقعہ نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5337]

5338

Sahih Ibn Hibban #5338

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَمَّادَانِ : حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو پلانے والا آخر میں (خود پیتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5338]

5339

Sahih Ibn Hibban #5339

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ بِالْمَدَائِنِ ، فَأَتَاهُ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَحَذَفَهُ بِهَا ، فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نُكَلِّمَهُ ، فَلَمَّا سَكَنَ الْغَضَبُ عَنْهُ ، قَالَ : أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ هَذَا ، إِنِّي كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ أَنْ لا يَسْقِيَنِي فِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا خَطِيبًا ، قَالَ : لا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ وَلا الذَّهَبِ ، وَلا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ "، قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ حَدَّثَنَا بِهِ أَوَّلاً ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي فَرْوَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَلا أَظُنُّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى سَمِعَهُ إِلا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمِ ؛ لأَنَّهُ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک کسان سے پانی مانگا تو وہ چاندی کے بنے ہوئے برتن میں پانی لے کر ان کے پاس آیا، انہوں نے اسے پھینک دیا، ہم نے ہیبت کی وجہ سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی، جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے فرمایا: میں تمہارے سامنے اس کا عذر بیان کرتا ہوں، میں اس سے پہلے اسے یہ ہدایت کر چکا ہوں کہ اس طرح کے برتن میں مجھے پینے کے لیے نہ دے، پھر انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”چاندی اور سونے کے برتنوں میں نہ پیو اور حریر و دیباج نہ پہنو کیونکہ یہ ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہوں گے۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہ روایت ابن ابونجیح نے مجاہد کے حوالے سے، ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہمیں بیان کی تھی، پھر میں نے انہیں یزید بن ابوزیاد کے حوالے سے، ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرتے ہوئے سنا، پھر میں نے اسے ابوفروہ سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عکیم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ سفیان یہ کہتے ہیں: میرا یہ خیال ہے ابن ابولیلیٰ نے بھی یہ روایت عبداللہ بن عکیم سے سنی ہوگی کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5339]

5340

Sahih Ibn Hibban #5340

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبْعٍ : عَنْخَوَاتِيمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ ، وَالْقِسِّيِّ ، وَعَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ ، وَالْحَرِيرِ ، وَالإِسْتَبْرَقِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کرتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں سات چیزوں سے منع کیا ہے: سونے کی انگوٹھیوں، میاثر اور قسی (مخصوص قسم کے ریشمی کپڑے پر بیٹھنے)، دیباج، حریر اور استبرق (مخصوص قسم کے ریشمی کپڑے) پہننے اور چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5340]

5341

Sahih Ibn Hibban #5341

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5341]

5342

Sahih Ibn Hibban #5342

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ ، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي جَوْفِهِ نَارَ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5342]

5343

Sahih Ibn Hibban #5343

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى ، فَأَتَاهُ الْخَادِمُ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ ، فَرَدَّهُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَنَا فِي الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو وائل بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، خادم ان کے لیے ایسے پیالے میں پانی لے کر آیا جس پر چاندی کا کام ہوا تھا، تو انہوں نے اسے واپس کر دیا اور یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5343]

5344

Sahih Ibn Hibban #5344

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ : النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ "، أَبُو كَثِيرٍ : يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شراب ان دو درختوں سے بنائی جاتی ہے: کھجور اور انگور۔“ ابوکثیر نامی راوی کا نام یزید بن عبدالرحمن بن اذینہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5344]

5345

Sahih Ibn Hibban #5345

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ ، قَالَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِتْعِ» (مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ» ”ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5345]

5346

Sahih Ibn Hibban #5346

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ لا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَقَاطِعُ الرَّحِمِ ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ ، سَقَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ ، قِيلَ : وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ ؟ قَالَ : نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ ، يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے: باقاعدگی سے شراب پینے والا، رشتہ داری کے حقوق پامال کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا؛ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے مر جائے، اللہ تعالیٰ اسے «نَهْرِ الْغُوطَةِ» ”نہرِ غوطہ“ میں سے پلائے گا۔“ عرض کی گئی: نہرِ غوطہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ نہر ہے جس میں عذاب پانے والی عورتوں کی شرم گاہوں سے نکلنے والا مواد بہتا ہوگا اور ان کی شرم گاہوں کی بو اہل جہنم کو بھی اذیت پہنچاتی ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5346]

5347

Sahih Ibn Hibban #5347

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ ، لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ : مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ مُسْتَحِلاً لَشُرْبِهِ ، لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ ، لاسْتِوَائِهِمَا فِي حَالَةِ الْكُفْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے وہ بتوں کے عبادت گزار کے طور پر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اور اس کے پینے کو حلال سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے جیسے وہ بتوں کا عبادت گزار ہو کیونکہ یہ دونوں صورتیں کفر کی حالت ہونے میں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5347]

5348

Sahih Ibn Hibban #5348

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَطِيبًا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اجْتَنِبُوا أُمَّ الْخَبَائِثِ ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ ، وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ ، فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ خَادِمًا ، فَقَالَتْ : إِنَّا نَدْعُوكَ لِشَهَادَةٍ ، فَدَخَلَ فَطَفِقَتْ كُلَّمَا يَدْخُلُ بَابًا ، أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ جَالِسَةٍ ، وَعِنْدَهَا غُلامٌ وَبَاطِيَةٌ فِيهَا خَمْرٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّا لَمْ نَدْعُكَ لِشَهَادَةٍ ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقْتُلَ هَذَا الْغُلامَ ، أَوْ تَقَعَ عَلَيَّ ، أَوْ تَشْرَبَ كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، صِحْتُ بِكَ وَفَضَحْتُكَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لا بُدَّ لَهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : اسْقِينِي كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ ، فَسَقَتْهُ كَأْسًا مِنَ الْخَمْرِ ، فَقَالَ : زِيدِينِي ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا ، وَقَتَلَ النَّفْسَ ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لا يَجْتَمِعُ الإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ فِي صَدْرِ رَجُلٍ أَبَدًا ، لَيُوشِكَنَّ أَحَدُهُمَا يُخْرِجُ صَاحِبَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُرَيْجٍ هَذَا ، هُوَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمام برائیوں کی جڑ سے اجتناب کرو کیونکہ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جو عبادت کیا کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا، ایک عورت کو اس سے محبت ہو گئی، اس نے اپنے خادم کو اس کے پاس بھیجا اور بولی: ہم ایک گواہی کے سلسلے میں تمہیں بلا رہے ہیں۔ وہ جیسے ہی اس کے گھر میں داخل ہوا اس پر یہ دروازے بند کر دیے گئے یہاں تک کہ وہ شخص ایک عورت کے پاس پہنچ گیا جو انتہائی خوبصورت تھی اور بیٹھی ہوئی تھی، اس کے پاس ایک لڑکا بھی تھا اور ایک صراحی بھی تھی جس میں شراب موجود تھی، اس عورت نے کہا: ہم نے تمہیں کسی گواہی کے سلسلے میں نہیں بلایا بلکہ میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے تاکہ تم یا تو اس لڑکے کو قتل کر دو یا میرے ساتھ زنا کر لو یا پھر اس شراب کا ایک پیالہ پی لو، اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں بلند آواز میں چلاؤں گی اور تمہیں رسوا کر دوں گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب اس شخص نے یہ دیکھا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا: تم مجھے شراب کا پیالہ پلا دو، اس عورت نے اسے شراب کا پیالہ پلا دیا، اس نے کہا: تھوڑی سی اور دو، اس کے بعد وہ مسلسل شراب پیتا رہا یہاں تک کہ اس نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس لڑکے کو قتل بھی کر دیا۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”تو تم لوگ شراب سے اجتناب کرو کیونکہ اللہ کی قسم! کسی بھی شخص کے سینے میں ایمان اور شراب نوشی اکٹھے نہیں ہو سکتے، ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو باہر نکال دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر بن سعید سریج نامی راوی اہل مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں، جس کے حوالے سے عبدالرحمن بن اسحاق مدنی نے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5348]

5349

Sahih Ibn Hibban #5349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : فِيَّ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، شَرِبْتُ مَعَ قَوْمٍ ، ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى أَنْفِي بِلَحْيِ جَمَلٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ ، قَالَ : وَأَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرے بارے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا، میں کچھ لوگوں کے ساتھ شراب پی رہا تھا، یہ شراب کو حرام قرار دیے جانے سے پہلے کی بات ہے، ان میں سے ایک آدمی نے میری ناک پر اونٹ کی ہڈی مار دی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت سے متعلق حکم نازل کر دیا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر مجھے ایک تلوار ملی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”لوگ تم سے مالِ غنیمت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تم یہ فرما دو! انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5349]

5350

Sahih Ibn Hibban #5350

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا ، قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَكَيْفَ بِأَصْحَابِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَنَزَلَتْ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے، جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عرض کیا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جو ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ [سورة المائدة: 93] ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ایسے لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اس چیز کے بارے میں جو وہ کھاتے پیتے رہے جبکہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5350]

5351

Sahih Ibn Hibban #5351

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ ، قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ بِأَصْحَابِنَا مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب ایسے عالم میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے، جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے عرض کی: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جو ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [سورة المائدة: 93] ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہوگا، جو وہ کھاتے پیتے رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5351]

5352

Sahih Ibn Hibban #5352

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن المبارك ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ :إِنَّهَا حَرُمَتِ الْخَمْرُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ ، فَقَالُوا : اكْفَأْهَا ، فَكَفَأْتُهَا فَكَفَأْتُهَا ، فَقُلْتُ لأَنَسٍ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے محلے میں اپنے چچاؤں کو (شراب پلا رہا تھا)، میں وہاں سب سے کم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ میں وہاں کھڑا ہوا ان لوگوں کو «فَضِيخ» (نامی شراب) پلا رہا تھا۔ ان حضرات نے کہا: اسے گرا دو، میں نے اسے گرا دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا وہ کس چیز کی شراب ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: خشک اور تازہ کھجوروں سے بنی ہوئی۔ ابوبکر بن انس بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں ان لوگوں کی شراب اسی چیز کی ہوتی تھی، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کا انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5352]

5353

Sahih Ibn Hibban #5353

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَانَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ : مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَمَا خَامَرَ الْعَقْلَ ، فَهُوَ خَمْرٌ ، ثَلاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا ، نَنْتَهِي إِلَيْهِ : الْجَدُّ ، وَالْكَلالَةُ ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے لوگو! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، شہد، گندم اور جو؛ اور جو بھی چیز عقل کو ڈھانپ لے وہ «الْخَمْرُ» ”شراب“ ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بارے میں زیادہ واضح طور پر بتا دیتے: (وراثت میں) دادا (کی وراثت کا مسئلہ)، کلالہ کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5353]

5354

Sahih Ibn Hibban #5354

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ» ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5354]

5355

Sahih Ibn Hibban #5355

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، وعدة ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلاةً ، وَلا يَرْفَعُ لَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ حَسَنَةً : الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ ، فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى ، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا اور ان کی کوئی نیکی آسمان کی طرف بلند نہیں ہوگی: وہ مفرور غلام جب تک وہ اپنے آقا کے پاس واپس نہیں آ جاتا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں نہیں دے دیتا، وہ عورت جس کا شوہر اس سے ناراض ہو جب تک اس کا شوہر راضی نہیں ہو جاتا اور نشے کا شکار شخص جب تک اس کا نشہ ختم نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5355]

5356

Sahih Ibn Hibban #5356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزَّبَادِيُّ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّاللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَشَارِبَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَمُسْقَاهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، اسے نچڑوانے والے پر، اسے اٹھانے والے پر، جس کے لیے اٹھا کر لے جائی جا رہی ہے اس پر، اسے پینے والے پر، اسے فروخت کرنے والے پر، اسے خریدنے والے پر، اسے پلانے والے پر، اور جسے وہ پلائی جا رہی ہے، اس پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5356]