Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 47 · Chapter 2

Book of Adornment and Perfuming

Hadith 5283–5322

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5283

Sahih Ibn Hibban #5283

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الأَزْوَرِ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا فَحَلَبْتُهَا ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے اہل خانہ نے ایک حاملہ اونٹنی کے ہمراہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ میں نے اس کا دودھ دوہ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دودھ کے داعی کے لیے (تھوڑا سا دودھ) چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5283]

5284

Sahih Ibn Hibban #5284

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا وَرَاءَهَا ، فَهُوَ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5284]

5285

Sahih Ibn Hibban #5285

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَتْ : مَا عِنْدَنَا إِلا نَحْوُ مُدٍّ مِنْ دَقِيقِ شَعِيرٍ ، قَالَ : فَاعْجِنِيهِ ، وَأَصْلِحِيهِ ، عَسَى أَنْ نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلَ عِنْدَنَا ، قَالَ : فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ ، فَجَاءَ قُرْصًا ، فَقَالَ : ادْعُ لِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ ، قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ : أَحْسِبُهُ بَضْعَةً وَثَمَانِينَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَبُو طَلْحَةَ يَدْعُوكَ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : أَجِيبُوا أَبَا طَلْحَةَ ، فَجِئْتُ مُسْرِعًا حَتَّى أَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ بَكْرٌ : فَقَفَدَنِي قَفْدًا ، وَقَالَ ثَابِتٌ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا فِي بَيْتِي مِنِّي ، وَقَالا جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ : فَاسْتَقْبَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلا قُرْصٌ ، رَأَيْتُكَ طَاوِيًا ، فَأَمَرْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَجَعَلَتْ ذَلِكَ قُرْصًا ، قَالَ : فَدَعَا بِالْقُرْصِ ، وَدَعَا بِجَفْنَةٍ فَوَضَعَهُ فِيهَا ، وَقَالَ : هَلْ مِنْ سَمْنٍ ؟ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : وَكَانَ فِي الْعُكَّةِ شَيْءٌ ، فَجَاءَ بِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو طَلْحَةَ يَعْصِرَانِهَا ، حَتَّى خَرَجَ شَيْءٌ ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَبَّابَتَهُ ، ثُمَّ مَسَحَ الْقُرْصَ فَانْتَفَخَ ، وَقَالَ :بِسْمِ اللَّهِ ، فَانْتَفَخَ الْقُرْصُ ، فَلَمْ يَزَلْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَالْقُرْصُ يَنْتَفِخُ ، حَتَّى رَأَيْتُ الْقُرْصَ فِي الْجَفْنَةِ يَتَمَيَّعُ ، فَقَالَ : ادْعُ عَشْرَةً مِنْ أَصْحَابِي ، فَدَعَوْتُ لَهُ عَشْرَةً ، قَالَ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْقُرْصِ ، وَقَالَ : كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ ، فَأَكَلُوا حَوَالَيِ الْقُرْصِ ، حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي عَشْرَةً ، فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو عَشْرَةً عَشْرَةً ، يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْقُرْصِ ، حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ بَضْعَةٌ وَثَمَانُونَ مِنْ حَوَالَيِ الْقُرْصِ ، حَتَّى شَبِعُوا ، وَإِنَّ وَسَطَ الْقُرْصِ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَمَا هُوَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کے عالم میں دیکھا تو وہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: تمہارے پاس کچھ کھانے کے لیے ہے؟ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو صرف جو کے آٹے کا ایک مد ہے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اسے گوندھ لو اور اسے تیار کر لو، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرتے ہیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھانا کھائیں؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے آٹا گوندھ لیا اور روٹی پکا لی، پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روٹیوں کے پاس آئے اور بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلا لاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے ہمراہ کچھ لوگ بھی تھے۔ یہاں مبارک بن فضالہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میرا خیال ہے وہ 80 سے زیادہ لوگ تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: ”ابوطلحہ کی دعوت کو قبول کرو“۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں تیزی سے چلتا ہوا آیا، اور ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کچھ میرے گھر میں ہے۔ پھر اس کے بعد دونوں راویوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ انہوں نے عرض کی: ہمارے پاس تو صرف ایک تھال (جتنا) کھانا ہے، میں نے آپ کو بھوکا دیکھا تھا تو میں نے ام سلیم سے کہا، اس نے یہ کھانا تیار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تھال منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوا کر وہ روٹی اس میں رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس گھی ہے؟“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ایک کپی میں تھوڑا سا ہے، وہ اسے لے کر آگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسے نچوڑنے لگے یہاں تک کہ تھوڑا سا گھی نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے لگایا اور اسے روٹی پر لگا دیا تو وہ پھول گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھا تو روٹی اور پھول گئی۔ اس کے بعد مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ روٹی پھولتی ہوئی اس پوری پرات کے اوپر غالب آگئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ“۔ میں نے دس آدمیوں کو بلوایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک روٹی کے درمیان میں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کھانا شروع کرو“۔ انہوں نے اطراف سے روٹی کھانا شروع کی یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس دس آدمیوں کو بلا کر لاؤ“۔ اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دس کر کے آدمیوں کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے، جو 80 سے زیادہ افراد تھے، روٹی کے اطراف میں سے کھا لیا، یہاں تک کہ وہ سب سیر ہوگئے اور روٹی کا درمیان کا وہ حصہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک رکھا ہوا تھا، وہ اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5285]

5286

Sahih Ibn Hibban #5286

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدٍ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي مَجْهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، مَا عِنْدِي إِلا مَاءٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ ، رَحِمَهُ اللَّهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : لا ، إِلا قُوتُ صِبْيَانِي ، قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا ، فَأَضِيئِي السِّرَاجَ ، وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ قَوْمِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ ، قَالَ : فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا اللَّيْلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میں ضرورت مند ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا تو اس خاتون نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میرے پاس صرف پانی ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا۔ انہوں نے بھی یہ جواب دیا یہاں تک کہ تمام ازواج نے اسی طرح کا جواب دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”آج رات کون اسے مہمان بنائے گا؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے۔“ تو ایک انصاری کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بناؤں گا۔ وہ اسے ساتھ لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں صرف بچوں کی خوراک ہے۔ اس انصاری نے کہا: تم انہیں کسی چیز کے ذریعے بہلا دینا، جب ہمارا مہمان اندر آئے تو تم چراغ روشن کرنا اور یوں ظاہر کرنا جیسے ہم کھانا کھانے لگے ہیں، جب وہ کھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو تم چراغ کی طرف جا کر اسے بجھا دینا۔ راوی بیان کرتے ہیں تو وہ سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے کھایا۔ اگلے دن صبح وہ انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو گزشتہ رات تم دونوں (میاں بیوی) کا کیا ہوا طرز عمل بہت پسند آیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5286]

5287

Sahih Ibn Hibban #5287

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ "، أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ : اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو ، مِنْ جِلَّةِ الصَّحَابَةِ ، عِدَادُهُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ ، مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے۔ اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہوگی، عام مہمان نوازی تین دن ہوگی اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ شمار ہوگا۔ البتہ مہمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اتنے دن وہاں قیام کرے کہ میزبان کو حرج میں مبتلا کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوشریح کعبی کا نام خویلد بن عمرو ہے، یہ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہوتا ہے، ان کا انتقال 86 ہجری میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5287]

5288

Sahih Ibn Hibban #5288

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْزِلُ بِقَوْمٍ لا يُضَيِّفُونَا ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ ، فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ ، فَاقْبَلُوا ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا ، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ کرتے ہیں اور وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ کرو تو اگر وہ تمہارے لیے اس چیز کا حکم دیں جو مہمان کے لیے مناسب ہوتی ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو تم ان سے مہمان کا وہ حق حاصل کرو جو مہمان کے لیے ہونا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5288]

5289

Sahih Ibn Hibban #5289

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں دعوت دی جائے تو تم دعوت میں جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5289]

5290

Sahih Ibn Hibban #5290

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، كَانَ إِذَا دُعِيَ ذَهَبَ إِلَى الدَّاعِي ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا جَلَسَ ، فَأَكَلَ ، قَالَ نَافِعٌ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ ، فَأَجِيبُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب انہیں دعوت دی جاتی تھی، تو وہ دعوت میں چلے جاتے تھے۔ اگر انہوں نے روزہ رکھا ہوتا تھا تو برکت کی دعا کر کے واپس تشریف لے آتے تھے اور اگر روزہ نہیں ہوتا تھا، تو وہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہاری پائے (کھانے) کی دعوت کی جائے تو تم اسے قبول کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5290]

5291

Sahih Ibn Hibban #5291

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ ، لَقَبِلْتُهُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَيْهِ ، لأَجَبْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر مجھے «كُرَاعٌ» ”پایہ“ تحفے کے طور پر دیا جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا اور اگر اس کے لیے میری دعوت کی جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5291]

5292

Sahih Ibn Hibban #5292

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ ، لأَجَبْتُ ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ، لَقَبِلْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا اور اگر وہ مجھے تحفے کے طور پر دیا جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5292]

5293

Sahih Ibn Hibban #5293

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، وَكَانَ فِيهَا قَرْعٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَكُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ، قَالَ : فَكُنْتُ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلَمْ يَزَلِ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُهُ يُعْجِبُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک درزی تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی جس میں جو کی روٹی تھی اور بھنا ہوا گوشت تھا جس میں کدو ملے ہوئے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو کدو پسند آئے تو میں کدو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کرنے لگا، جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پسند کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے بعد میں بھی ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5293]

5294

Sahih Ibn Hibban #5294

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ ، فَلْيَأْتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے اس میں جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5294]

5295

Sahih Ibn Hibban #5295

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، وَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي ، وَتُصَلِّيَ فِيهِ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا فِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ ،" فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ ، فَكُنِسَ ، ثُمَّ رُشَّ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کر لیا اور انہوں نے گزارش کی کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کی ایک طرف جھاڑو دی گئی پھر وہاں پانی چھڑکا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا فرمائی اور ہم نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5295]

5296

Sahih Ibn Hibban #5296

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدٍ ، فَقَالَ : أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلائِكَةُ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں افطاری کی تو ارشاد فرمایا: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ» ”تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی ہے اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی ہے اور نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5296]

5297

Sahih Ibn Hibban #5297

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ ، وَحَيْسٍ ، وَسَوِيقٍ ، وَتَمْرٍ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ ، فَنَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ : وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ ، وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى ، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ ، ثُمَّ دَعَا لَهُمْ ، فَقَالَ :" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہمراہ تشریف لائے، آپ نے وہاں قیام کیا۔ آپ کی خدمت میں کھانا، حیس، ستو اور کھجور پیش کیے گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا تو آپ نے اسے اپنے دائیں طرف والے شخص کی طرف بڑھا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھاتے تھے اور گٹھلی کو اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان رکھ دیتے تھے، پھر آپ اسے پھینک دیتے تھے، پھر آپ نے ان لوگوں کے لیے دعائے رحمت فرمائی اور یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت رکھ دے، ان کی مغفرت کر اور ان پر رحم کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5297]

5298

Sahih Ibn Hibban #5298

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ ، فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا ، فَقَالَ : انْزِلْ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَزَلَ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَجَاءَهُمْ بِحَيْسٍ ، فَأَكَلُوهُ ، ثُمَّ جَاءَهُمْ بِتَمْرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَيَقُولُ بِالنَّوَى هَكَذَا ، وَيُقَلِّبْهُ ، وَضَمَّ شُعْبَةُ أُصْبُعَيْهِ ، ثُمَّ جَاءُوهُ بِشَرَابٍ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفید خچر پر سوار تھے۔ میرے والد نے اس کی لگام پکڑ لی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے ہاں قیام کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ٹھہر گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حیس لے کر آئے، ان لوگوں نے اسے کھا لیا، پھر وہ کھجوریں لے کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں کھانے لگے اور اس کی گٹھلیوں کو یوں الٹنے لگے۔ یہاں شعبہ نامی راوی نے دو انگلیوں کو ملا کر یہ دکھایا، پھر ان کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں طرف موجود شخص کی طرف اسے بڑھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت رکھ دے، ان کی مغفرت کر دے اور ان پر رحم کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5298]

5299

Sahih Ibn Hibban #5299

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبِي لأُمِّي لَوْ صَنَعْتِ طَعَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً ، وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يُقَلِّلُهَا ، فَانْطَلَقَ أَبِي ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا ، فَلَمَّا طَعِمُوا ، دَعَا لَهُمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے میری والدہ سے کہا: اگر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرو (تو یہ مناسب ہو گا)۔ اس خاتون نے ثرید تیار کیا۔ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا۔ میرے والد گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک برتن کے اوپر رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اسے حاصل کرو۔“ لوگوں نے اطراف سے اسے حاصل کرنا شروع کیا۔ جب ان لوگوں نے کھانا کھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ» ”اے اللہ! ان کی مغفرت کر دے، ان پر رحم کر اور ان کے رزق میں برکت عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5299]

5300

Sahih Ibn Hibban #5300

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شُعَيْبٍ ، وَكَانَ لَهُ غُلامٌ لَحَّامٌ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَقَالَ لِغُلامِهِ : اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةٍ ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، قَالَ : فَصَنَعَ ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَذَا تَبِعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ ، وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ "، قَالَ : بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام ابوشعیب تھا، اس کا ایک غلام تھا جو گوشت بنایا کرتا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک محسوس ہوئی، اس نے اپنے غلام سے کہا: تم ہمارے پانچ آدمیوں کے لیے کھانا تیار کرو، میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے کھانا تیار کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ آدمیوں سمیت تشریف لائے، ایک اور شخص بھی آپ کے پیچھے آ گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ہمارے پیچھے آ گیا ہے، اگر تم چاہو تو تم اسے اجازت دو اور اگر چاہو تو یہ واپس چلا جائے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اسے اجازت دیتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5300]

5301

Sahih Ibn Hibban #5301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلاً فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا ، فَصَنَعَ طَعَامًا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ تَعَالَ ، وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" وَهَذِهِ مَعِي ، وَأَشَارَ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : لا ، قَالَ : ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَهَذِهِ مَعِي ، قَالَ : لا ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : وَهَذِهِ مَعِي ، وَأَشَارَ إِلَى عَائِشَةَ ، قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک فارسی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی تھا، اس کا شوربہ انتہائی خوشبودار ہوتا تھا، اس نے کھانا تیار کیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اشارہ کیا کہ آپ تشریف لے آئیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ بھی میرے ساتھ آئے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کیا تو اس نے جواب دیا: جی نہیں، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ساتھ ہے؟“ اس نے پھر عرض کی: جی نہیں، پھر اس نے تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ساتھ ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کیا تھا تو اس نے کہا: ٹھیک ہے (یعنی یہ بھی تشریف لے آئیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5301]

5302

Sahih Ibn Hibban #5302

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَنَعَ رَجُلٌ طَعَامًا ، فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ائْتِنِي أَنْتَ وَخَمْسَةٌ ، قَالَ : فَبَعَثَ إِلَيْهِ : أَتَأْذَنُ لِي فِي سَادِسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کھانا تیار کیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا اور عرض کی کہ آپ سمیت پانچ آدمی میرے ہاں تشریف لے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھجوایا: ”کیا تم میرے ساتھ چھٹے آدمی کو بھی شریک ہونے کی اجازت دو گے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5302]

5303

Sahih Ibn Hibban #5303

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ شَاءَ أَكَلَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے تو اسے دعوت کو قبول کرنا چاہیے، اگر وہ چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5303]

5304

Sahih Ibn Hibban #5304

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُدْعَى إِلَيْهَا الأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا قَصَّرْتُ بِهِ ، لأَنَّ أَصْحَابَ الزُّهْرِيِّ كُلَّهُمْ كَذَا قَالُوا مَوْقُوفًا ، وَالْمُسْنَدُ هُوَ آخِرُ الْحَدِيثِ : وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے برا کھانا ولیمے کا ہوتا ہے جس میں خوشحال لوگوں کو بلا لیا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ بات بیان کی کہ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ میں نے اس کو مختصر طور پر ذکر کر دیا ہے کیونکہ زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کو اسی طرح موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ مسند روایت دوسری ہے: ”جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5304]

5305

Sahih Ibn Hibban #5305

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينٍ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُدْعَى الأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے، جس میں خوشحال لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5305]

5306

Sahih Ibn Hibban #5306

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا ، فَلْيُصَلِّ ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا ، فَلْيَطْعَمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ " ، يُرِيدُ بِهِ : فَلْيَدْعُ ؛ لأَنَّ الصَّلاةَ دُعَاءٌ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِصَفِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ سورة التوبة آية 103 ْ أَرَادَ بِهِ : وَادْعُ لَهُمْ " ، فَأَمَّا الْمُجْمَلُ مِنَ الأَخْبَارِ ، فَهُوَ الْخَبَرُ الَّذِي يَرْوِيهِ صَحَابِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَفْظَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ ، يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا عَلَى عُمُومِ الْخِطَابِ ، وَالْمُفَسِّرُ : هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ آخَرَ ذَلِكَ الْخَبَرَ بِعَيْنِهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِزِيَادَةِ بَيَانٍ لَيْسَ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ الأَوَّلِ ، ذَلِكَ الْبَيَانُ حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي هِيَ مُسْتَقِلَّةٌ بِنَفْسِهَا ، إِلا بِاسْتِعْمَالِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ الَّتِي هِيَ الْبَيَانُ لِتِلْكَ اللَّفْظَةِ الَّتِي لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ ، وَقَدْ ذَكَرْنَا كُلَّ خَبَرٍ مُجْمَلٍ وَمُفَسِّرٍ لَهُ فِي السُّنَنِ فِي كِتَابِ : فُصُولِ السُّنَنِ ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنِ الاسْتِقْصَاءِ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ؛ لأَنَّ فِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ غُنْيَةً لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ وَتَدَبَّرَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھا لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے۔“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ دعا کر دے کیونکہ «الصَّلَاةُ» کا مطلب دعا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ﴾ [سورة التوبة: 103] ”تم ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان کا تزکیہ اس کے ذریعے کر دو اور ان کے لیے دعائے رحمت کرو، بے شک تمہاری دعا ان کے لیے سکون کا باعث ہے۔“ تو اس کے ذریعے مراد یہی ہے کہ تم ان کے لیے دعا کر دو۔ جہاں تک مجمل روایت کا تعلق ہے تو یہ وہ روایت ہے جو ایک صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مستقل لفظ کے طور پر نقل کی ہے جس میں روایت کے الفاظ عمومی ہیں، البتہ وضاحتی روایت وہ ہے جو دوسرے صحابی نے انہی الفاظ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافی بیان کے ہمراہ نقل کی ہے جو پہلے والے صحابی کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے، یہاں تک کہ اس مجمل الفاظ والی روایت پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک ان اضافی الفاظ والی روایت پر عمل نہ کیا جائے جو ان الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جو اس صحابی کی روایت میں نہیں ہے؛ ہم نے سنن میں مجمل اور مفصل دونوں روایتیں کتاب ”فصول السنن“ میں نقل کر دی ہیں۔ اس لیے اس نوعیت کی تمام روایات کو اس کتاب میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے جو اس شخص کے لیے کافی ہو گی جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور جو غور و فکر کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5306]

5307

Sahih Ibn Hibban #5307

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ تَكُونُ الْقَائِلَةُ ، وَكَانَتْ فِينَا امْرَأَةٌ ، فَكَانَتْ تَجْعَلُ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا سِلْقًا ، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ ، فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ فَتَطْحَنُهَا فَيَكُونُ ذَلِكَ السِّلْقُ عُرَاقَةً ، قَالَ سَهْلٌ : فَكُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَيْهَا مِنْ صَلاةِ الْجُمُعَةِ ، فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا ، فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا ، فَنَلْعَقُهُ ، قَالَ : فَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے، اس کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ایک خاتون تھی، وہ اپنے کھیت میں چقندر بویا کرتی تھی، جب جمعہ کا دن آتا تھا تو وہ چقندر کی جڑیں اتار لیتی تھی اور اسے ہنڈیا میں پکاتی تھی۔ اس میں مٹھی بھر جو ڈال کر انہیں بھون لیتی تھی، تو اس کا سالن بن جایا کرتا تھا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اس خاتون کے پاس واپس جاتے تھے، اسے سلام کرتے تھے تو وہ وہ کھانا ہمارے آگے کر دیتی تھی جسے ہم کھایا کرتے تھے۔ اس کے اس کھانے کی وجہ سے ہم جمعہ کا دن (جلدی آنے کے) آرزو مند ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5307]

5308

Sahih Ibn Hibban #5308

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا عَنِ الصَّبِيِّ ، خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ ، فَإِذَا حَلَقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ ، وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب لوگ بچے کا عقیقہ کرتے تھے تو عقیقے کے خون کے ہمراہ روئی کو گیلا کرتے تھے اور جب وہ بچے کا سر مونڈتے تھے تو روئی کو بچے کے سر پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خون کی جگہ «الْخَلُوْقُ» (مخصوص قسم کی خوشبو) لگایا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5308]

5309

Sahih Ibn Hibban #5309

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أنس بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ بِكَبْشَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے پر دو دنبے ذبح کیے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5309]

5310

Sahih Ibn Hibban #5310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ ، فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے ان سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقے میں قربان کی جائے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5310]

5311

Sahih Ibn Hibban #5311

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهُوَ الْيَافِعِيُّ شيخ ثقة مصري ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَسَمَّاهُمَا ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الأَذَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی پیدائش کے ساتویں دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عقیقہ کیا اور ان کا نام رکھا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ ”ان کے سر سے تکلیف دہ چیز (یعنی بالوں کو) صاف کر دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5311]

5312

Sahih Ibn Hibban #5312

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْعَقِيقَةِ ، قَالَ : عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ، لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عقیقہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی۔ تمہیں کوئی نقصان نہیں خواہ وہ بکرا ہو یا بکری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5312]

5313

Sahih Ibn Hibban #5313

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خيثمٍ ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ : عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ "، فَقُلْتُ لَهُ ، يَعْنِي عَطَاءً : مَا الْمُكَافِئَتَانِ ؟ قَالَ : مِثْلانِ ، ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهِمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیقہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے یعنی عطا رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ برابر کی ہونے سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں ایک جیسی ہوں، تاہم اگر وہ بکرے ہوں تو یہ میرے نزدیک بکریوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5313]

5314

Sahih Ibn Hibban #5314

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَمَعَهُ صَاحِبٌ ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ ، فَرَدَّ الرَّجُلُ ، وَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فِي سَاعَةٍ حَارَّةٍ ، فَقَالَ لَهُ : إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ ، فَاسْقِنَاهُ ، وَإِلا كَرَعْنَا " ، وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ ، فَقَالَ : عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاءٌ بَائِتٌ ، فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ ، وَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى عَرِيشَةٍ ، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ عَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے، آپ کے ہمراہ ایک صاحب بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے سلام کیا، اس شخص نے جواب دیا، اس شخص نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، گرمی شدید ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس ایسا پانی ہو جو گزشتہ رات سے مشکیزے میں پڑا ہوا ہو تو وہ ہمیں پلاؤ ورنہ ہم (کھیت کو پانی دینے والا) پانی پی لیتے ہیں۔“ وہ شخص اس وقت اپنے باغ کو سیراب کر رہا تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایسا پانی ہے جو رات سے پڑا ہوا ہے، پھر وہ چھپر کے پاس گیا، وہ ان دونوں کو لے کر اس کے نیچے آ گیا، اس نے ایک مشکیزے میں پانی انڈیلا، پھر اپنی بکری کا دودھ دوہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، پھر اس نے دوبارہ دوہ لیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشریف لانے والے صاحب نے بھی اسے پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]

5315

Sahih Ibn Hibban #5315

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالشُّرْبِ مِنْ ثَلْمَةِ الْقَدَحِ ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ٹوٹے ہوئے کنارے والے پیالے (سے پینے) اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5315]

5316

Sahih Ibn Hibban #5316

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْيَشْرَبَ الرَّجُلُ مِنْ فِي السِّقَاءِ ، وَأَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”آدمی مشکیزے کو منہ لگا کر پیے یا برتن میں سانس لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5316]

5317

Sahih Ibn Hibban #5317

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِاخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ : أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مشکیزے کو منہ لگا کر پینے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5317]

5318

Sahih Ibn Hibban #5318

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَشَرِبَ مِنْ فَمِ قِرْبَةٍ وَهُوَ قَائِمٌ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ فَقَطَعَتْهُ ، فَأَمْسَكَتْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر وہ خاتون اٹھ کر اس مشکیزے کے پاس گئیں اور انہوں نے اس کے کنارے کو کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5318]

5319

Sahih Ibn Hibban #5319

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آبِ زمزم پیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5319]

5320

Sahih Ibn Hibban #5320

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ بِزَمْزَمَ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأَتَيْتُهُ بِالدَّلْوِ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زم زم کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا، میں ڈول میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5320]

5321

Sahih Ibn Hibban #5321

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5321]

5322

Sahih Ibn Hibban #5322

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ بْنِ وَابِلِ بْنِ الْوَضَّاحِ اللُّؤْلُئِيُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيَّانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّاعَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي ، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہو کر پی لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5322]