Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 46 · Chapter 1

Book of Adornment and Perfuming

Hadith 5128–5167

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5128

Sahih Ibn Hibban #5128

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعُمْرَى لِمَنْ أَُعْمِرَهَا ، وَالرُّقْبَى لَمْ أَُرْقِيَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عمریٰ اس کی ملکیت ہوتی ہے جسے آدمی نے عمریٰ کے طور پر دی ہو، رقبیٰ اس کی ملکیت ہوتی ہے جسے رقبیٰ کے طور پر دی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5128]

5129

Sahih Ibn Hibban #5129

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعُمْرَى جَائِزَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عمریٰ جائز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5129]

5130

Sahih Ibn Hibban #5130

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمریٰ اس شخص کی ملکیت ہوتی ہے جسے ہبہ کی گئی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5130]

5131

Sahih Ibn Hibban #5131

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا عُمْرَى ، وَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «الْعُمْرَىٰ» (درست نہیں ہے) جو شخص کوئی چیز عمریٰ کرتا ہے تو وہ اس کی ملکیت ہو گی (جسے عمریٰ کے طور پر دی گئی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5131]

5132

Sahih Ibn Hibban #5132

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعُمْرَى سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عمری کا طریقہ وراثت کا طریقہ ہو گا (یعنی اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5132]

5133

Sahih Ibn Hibban #5133

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ مُعَاذٍ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ مَزَيْدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”وارث کے لیے عُمریٰ کا فیصلہ دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5133]

5134

Sahih Ibn Hibban #5134

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ بِالْمَصِّيصَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْمِرَ أَرْضًا فَهِيَ لِوَرَثَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر زمین دی گئی وہ اس کے ورثاء کو ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5134]

5135

Sahih Ibn Hibban #5135

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عمریٰ اس شخص کی ملکیت ہو گی، جسے عمریٰ کے طور پر دی گئی اور اس کے پس ماندگان کو ملے گی اور اس کے پس ماندگان میں سے جو شخص اس کا وارث بنتا ہے وہ عمریٰ میں بھی وارث بنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5135]

5136

Sahih Ibn Hibban #5136

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَنْصَارِ : لا تُعْمِرُوا أَمْوَالَكُمْ ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”تم اپنے اموال کو عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جو چیز کسی کو زندگی میں عمریٰ کے طور پر دی جائے وہ اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے پر اس کے ورثاء کو ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5136]

5137

Sahih Ibn Hibban #5137

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا ، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطِيَّةً وَقَعَتْ فِيهَا الْمَوَارِيثُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی وہ اس کی ملکیت ہوگی اور اس کے پسماندگان کی ہوگی کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے جسے دی گئی تھی، جس نے دی تھی وہ اسے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5137]

5138

Sahih Ibn Hibban #5138

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَعْمَرَ رَجُلا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ مِنْهَا وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص عمریٰ کے طور پر کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اس دوسرے شخص کی اور اس کے پسماندگان کی ملکیت ہو گی، (دینے والے نے) اپنے قول کے ذریعے اس چیز میں سے اپنے حق کو الگ کر دیا ہے، یہ اس شخص کی ملکیت ہو گی جسے عمریٰ کے طور پر دی گئی اور اس کے ورثاء کی ملکیت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5138]

5139

Sahih Ibn Hibban #5139

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقُولَ : هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ عمریٰ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے اس سے مراد یہ کہنا ہے: ”یہ تمہاری ہوئی اور تمہارے بعد تمہارے پس ماندگان کی ہوئی“۔ جہاں تک یہ کہنے کا تعلق ہے: ”جب تک تم زندہ رہو گے یہ تمہاری ہوئی“، تو پھر اس چیز کا مالک اس کو واپس لے سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5139]

5140

Sahih Ibn Hibban #5140

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو وہ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت شمار ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5140]

5141

Sahih Ibn Hibban #5141

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلا تُعْمِرُوهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ ، وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ "، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ وَالْعُمْرَى وَالرُّقْبَى كَانَ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ ، وَهِيَ إِبْقَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ ، لا أَنَّ اسْتِعْمَالَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ جَائِزٌ إِذَا كَانَ طَاعَةً لا مَعْصِيَةً ، وَذَاكَ أَنَّ الصَّحَابَةَ قَطَنُوا الْمَدِينَةَ وَلا مَالَ لَهُمْ بِهَا ، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الرُّقْبَى وَالْعُمْرَى إِبْقَاءً عَلَى أَمْوَالِهِمْ لِلضَّرُورَةِ الْوَاقِعَةِ الَّتِي كَانَتْ بِهِمْ ، لا أَنَّهُمَا لا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے اموال اپنے پاس رکھو انہیں عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی جائے وہ اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے اور عمریٰ اور رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دینے سے منع کیا ہے جس کی ایک متعین علت ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے اموال ان کے پاس رہنے دینا چاہتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان تین چیزوں پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جب کہ وہ فرمانبرداری کے کاموں میں ہوں معصیت کے طور پر نہ ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ وہاں ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ وہ رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ان کے اموال ان کے پاس باقی رہیں کیونکہ انہیں ان کی ضرورت تھی، اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان دونوں چیزوں پر عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5141]

5142

Sahih Ibn Hibban #5142

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5142]

5143

Sahih Ibn Hibban #5143

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ :" عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ " ، فَقُلْنَا : وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلا قَدْ رَعَاهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم پیلو چن رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سیاہ رنگ کے پیلو چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔“ ہم نے دریافت کیا: کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5143]

5144

Sahih Ibn Hibban #5144

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ ، وَإِنِّي كُنْتُ آكُلُهُ زَمَنَ كُنْتُ أَرْعَى " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكُنْتَ تَرْعَى ؟ فَقَالَ : " وَهَلْ بُعِثَ نَبِيٌّ إِلا وَهُوَ رَاعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم پیلو چن رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سے سیاہ رنگ کے چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔ میں انہیں اس زمانے میں کھایا کرتا تھا، جب میں بکریاں چراتا تھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی نبی کو مبعوث کیا گیا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5144]

5145

Sahih Ibn Hibban #5145

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشَرِ سِنِينَ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَكُنَّ أُمَّهَاتِي يُحَرِّضْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ بِالْمَدِينَةِ ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً ، قَالَ : وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ،أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا ، فَدَعَا الْقَوْمَ ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ، وَخَرَجُوا ، وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، وَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتْبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَضَرَبَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ سِتْرًا ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت میری عمر دس سال تھی، میری والدہ اور خالائیں وغیرہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھیں، میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، یعنی اس دوران جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عمر بیس سال تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجاب کے حکم کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ علم ہے کہ یہ کب نازل ہوا تھا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جیسے افراد مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، یہ اس وقت نازل ہوا تھا، شادی کے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا، ان لوگوں نے کھانا کھایا، پھر وہ لوگ چلے گئے، ان میں سے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے رہے، وہ کافی دیر بیٹھے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں بھی چلا گیا، مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ بھی اٹھ کر چلے جائیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ کے پاس پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے اور آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے تو وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، وہ لوگ اٹھ کر نہیں گئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے، آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آ گیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گمان کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، میں بھی واپس آیا تو وہ لوگ جا چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ ڈلوا دیا اور اس وقت حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5145]

5146

Sahih Ibn Hibban #5146

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَقَالُوا : هَلْ فيكمْ مَنْ رَاقٍ ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ ، فَلَمَّا أَتَى أَصْحَابُهُ كَرِهُوا ذَلِكَ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَقَالُوا : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَاقٍ ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کا کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سانپ یا بچھو کا ڈنگ مارا ہوا کوئی شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ کے درمیان کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب چلے گئے۔ انہوں نے کچھ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ آدمی ٹھیک ہو گیا۔ جب وہ صاحب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا، انہوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جس میں بچھو یا سانپ کا ڈنگ مارا ہوا ایک شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟ تو میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو اس میں زیادہ حق دار اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5146]

5147

Sahih Ibn Hibban #5147

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ ، وَعِنْدَهُ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زِنْ فَأَرْجِحْ "، أَرَادَ بِهِ مِنْ مَالِهِ لِيُعْطِيَ ثَمَنَ السَّرَاوِيلِ رَاجِحًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اور مخرفہ عبدی نے ”ہجر“ کے مقام سے کپڑا خریدا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شلوار کے بارے میں ہمارے ساتھ سودا طے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وزن کرنے والا ایک شخص تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” «زِنْ وَأَرْجِحْ» وزن کرو اور زیادہ ادائیگی کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے شلوار کی زیادہ قیمت ادا کرنا چاہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5147]

5148

Sahih Ibn Hibban #5148

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ ، لَفْظَةُ زَجْرٍ عَنْ فِعْلٍ قُصِدَ بِهَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَ بِهِمُ الضِّيقُ فِي الْعَيْشِ وَالْمِنْحَةُ كَانَتْ أَوْقَعَ عِنْدَهُمْ لِلأَرْضِ مِنْ إِكْرَائِهَا ، فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى جَوَازِ كَرْيِ الأَرْضِ إِلا الْجِنْسَ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر سکتا، تو وہ اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ دے دے، وہ اس سے اس کا کرایہ نہ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے، یہاں پر لفظی طور پر فعل سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا اور رہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی، تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا، ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کا کرایہ لینا جائز ہے سوائے اس جنس کے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5148]

5149

Sahih Ibn Hibban #5149

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزِلْ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ ، قَالَ :" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ؟ "وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ ، يَقُولُ : لا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں پڑاؤ کریں گے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی رہائشی جگہ چھوڑی ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل اور جناب طالب، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں بنے تھے، کیونکہ یہ دونوں صاحبان مسلمان تھے جبکہ جناب عقیل اور جناب طالب کفر کے عالم میں فوت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: ”کوئی مومن کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5149]

5150

Sahih Ibn Hibban #5150

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو معاوضہ ادا کیا اور اسے زیادہ ادائیگی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5150]

5151

Sahih Ibn Hibban #5151

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ادا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5151]

5152

Sahih Ibn Hibban #5152

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ حَدِيثِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَسْبُ الْجَحَّامِ خَبِيثٌ وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پچھنے لگانے والے کی آمدن ناپاک ہے، کتے کی قیمت ناپاک ہے اور فاحشہ عورت کی کمائی ناپاک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5152]

5153

Sahih Ibn Hibban #5153

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَسْبُ الْحَجَّامِ مُحَرَّمٌ إِذَا كَانَ عَلَى شَرْطٍ مَعْلُومٍ ، بِأَنْ يَقُولَ : أُخْرِجُ مِنْكَ مِنَ الدَّمِ كَذَا ، فَإِذَا عُدِمِ هَذَا الشَّرْطُ الَّذِي هُوَ الْمُضْمَرُ فِي الْخَطَّابِ جَازَ كَسْبُهُ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَهُ لأَبِي طَيْبَةَ وَجَازَاهُ عَلَى فِعْلِهِ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ مُحَرَّمَانِ جَمِيعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پچھنے لگانے والے کی آمدن خبیث ہے، فاحشہ عورت کی آمدن خبیث ہے اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پچھنے لگانے والے کی کمائی کو اس وقت حرام قرار دیا گیا، جبکہ وہ کسی متعین شرط کے ساتھ ہو یعنی وہ یہ کہے: میں تمہارا اتنا خون اتنے عوض میں نکالوں گا۔ جب یہ شرط معلوم ہو جو خطاب میں پوشیدہ ہے تو یہ آمدن جائز ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کے لیے اسے جائز قرار دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل کے ذریعے اسے جائز قرار دیا ہے۔ جہاں تک کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی آمدن کا تعلق ہے تو یہ دونوں حرام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5153]

5154

Sahih Ibn Hibban #5154

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ : أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ ، وَأَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَأَبِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِذْنِ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فِيهِ شَرْطٌ مُضْمَرٌ ، وَهُوَ أَنْ يُشَارِطَ الْحَجَّامَ فِي حَجْمِهِ عَلَى إِخْرَاجِ شَيْءٍ مِنَ الدَّمِ مَعْلُومٍ ، فَلِعَدَمِ قُدْرَتِهِ عَلَى إِيجَادِ هَذَا الشَّرْطِ كَرِهَ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ فِي كَسْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ ، وَأَعْلِفُهُ نَاضِحَكَ ، وَلَوْ كَانَ كَسْبُ الْحَجَّامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ لَمْ يَأْمُرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِطْعَامَ الْمَرْءِ رَقِيقَهُ مِنْهُ ، إِذِ الرَّقِيقُ مُتَعَبَّدُونَ ، وَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَأْمُرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ بِإِطْعَامِ رَقِيقِهِ حَرَامًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن محیصہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے کے خراج (معاوضے) کے بارے میں اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسلسل بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (اس کی آمدن کو) اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کے معاوضے کے بارے میں اجازت دینے سے اس لیے انکار کیا تھا جس میں یہ شرط پوشیدہ ہے پچھنے لگانے والے شخص نے پچھنے لگانے میں اس بات کی شرط عائد کی تھی کہ وہ متعین مقدار میں خون باہر نکالے گا، تو کیونکہ وہ اس شرط کو پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ اس کی آمدن کے بارے میں اجازت دیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارے کے طور پر کھلا دو“ تو اگر پچھنے لگانے کی آمدن مکمل طور پر منع ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کو اس میں سے کھلانے کی اجازت نہ دیتے، کیونکہ غلام بھی عبادت گزار ہوتے ہیں اور یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کو اپنے غلام کو کوئی حرام چیز کھلانے کا حکم دیں۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5154]

5155

Sahih Ibn Hibban #5155

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْضِرَابِ الْجَمَلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اونٹ کو جفتی کے لیے (کرائے پر) دینے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5155]

5156

Sahih Ibn Hibban #5156

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اونٹ کو جفتی کے لیے معاوضے پر دینے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5156]

5157

Sahih Ibn Hibban #5157

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی“ سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5157]

5158

Sahih Ibn Hibban #5158

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْعُصْفُرِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْكَسْبِ الإِمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کنیزوں کی کمائی سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5158]

5159

Sahih Ibn Hibban #5159

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْكَسْبِ الإِمَاءِ مَخَافَةَ أَنْ يَبْغِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کنیزوں کی کمائی سے منع کیا ہے“ اس اندیشے کے تحت کہ وہ کہیں فحاشی کرنا شروع نہ کر دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5159]

5160

Sahih Ibn Hibban #5160

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ، قَالَتْ : حَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجْعٍ ، قُلْتُ : مَا لِي أَرَاكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ ؟ قَالَ : مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا الأَمْسِ فَلَمْ نَقْسِمْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ کسی تکلیف کی وجہ سے ہے، میں نے عرض کی: کیا وجہ ہے مجھے آپ کے چہرے پر تکلیف کے آثار محسوس ہو رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے جو ہمارے پاس گزشتہ شام آئے تھے اور ہم انہیں تقسیم نہیں کر سکے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5160]

5161

Sahih Ibn Hibban #5161

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ناحق طور پر (کسی کی) ایک بالشت جتنی زمین ہتھیا لے گا (قیامت کے دن) اس کے گلے میں سات زمینوں جتنا طوق ڈالا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5161]

5162

Sahih Ibn Hibban #5162

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَخَذَ مِنَ الأَرْضِ شِبْرًا بِغَيْرِ حَقٍّ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایک بالشت زمین ناحق طور پر حاصل کرے گا اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5162]

5163

Sahih Ibn Hibban #5163

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ ظَلَمَ مِنَ الأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

”جو زمین کا ایک بالشت یا اس سے زیادہ غصب کر لیتا ہے، اگرچہ اس نے وہ زمین جھوٹی قسم کے ذریعے حاصل کی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5163]

5164

Sahih Ibn Hibban #5164

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ سَبْعَ أَرَضِينَ ، ثُمَّ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَفْصِلَ بَيْنَ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر ہتھیا لے گا اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا پابند کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے یہاں تک کہ وہ سات زمینوں تک پہنچ جائے گا پھر اس کے گلے میں قیامت کے دن طوق ڈال دیا جائے گا جو اس وقت تک باقی رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5164]

5165

Sahih Ibn Hibban #5165

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرِّيَاحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ جَمْرَتَيْنِ مِنَ الْجِمَارِ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنَ النَّارِ "، تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارث بن برصاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دو جمرات کے درمیان چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کے مال میں سے ایک بالشت چیز جھوٹی قسم کے ذریعے حاصل کر لے اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عمر بن عبدالوہاب نامی راوی منفرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5165]

5166

Sahih Ibn Hibban #5166

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا نَصَرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : " تُمْسِكُهُ مِنَ الظُّلْمِ ، فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد تک تو بات ٹھیک ہے، میں ظالم کی مدد کیسے کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہ تمہارا اس کی مدد کرنا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5166]

5167

Sahih Ibn Hibban #5167

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : " تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی تو ہم مدد کر دیتے ہیں۔ ظالم کی ہم کیسے مدد کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ظلم سے روک دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5167]