Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 45 · Chapter 3

Book of Dress and Its Etiquette

Hadith 5094–5127

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5094

Sahih Ibn Hibban #5094

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَمَنْ وَجَدَ لِقْحَةً مُصَرَّاةً فَلا يَحِلُّ لَهُ صِرَارُهَا حَتَّى يُرِيَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاریت کے طور پر لی ہوئی چیز واپس ادا کی جاتی ہے اور عاریت کے طور پر لیا ہوا (جانور) لوٹایا جائے گا، جو شخص کوئی ایسی تھیلی پاتا ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہو تو اس کے لیے اسے کھولنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس کا اعلان نہیں کر دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العارية/حدیث: 5094]

5095

Sahih Ibn Hibban #5095

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعُونَ حَسَنَةً أَعْلاهُنَّ مِنْحَةُ الْعَنْزِ ، لا يَعْمَلُ عَبْدٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا ، وَتَصْدِيقًا بِمَوْعُودِهَا ، إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چالیس نیکیاں ہیں جن میں سب سے بڑی یہ ہے کہ دودھ دینے والے جانور کو عاریت کے طور پر دے دیا جائے۔ جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے ان (چالیس نیکیوں) میں سے کسی بھی نیکی پر عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العارية/حدیث: 5095]

5096

Sahih Ibn Hibban #5096

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُبَيْدًا الإِيَامِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً أَوْ سَقَى لَبَنًا أَوْ أَهْدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص (کوئی جانور) عاریت کے طور پر دیتا ہے یا دودھ پلاتا ہے یا راستے کی رہنمائی کرتا ہے تو اسے گردن (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) جان کو آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العارية/حدیث: 5096]

5097

Sahih Ibn Hibban #5097

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا القَعْنَبيُّ قَالَ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا هَذَا الْعَبْدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ هَذَا ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو یہ غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5097]

5098

Sahih Ibn Hibban #5098

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَيْدٍ بِفَمِ الصُّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ ، وَلَدٌ غَيْرَهُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " سَوِّ بَيْنَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (عطیہ دینے میں) تم ان کے درمیان برابری رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5098]

5099

Sahih Ibn Hibban #5099

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " سَوِّ بَيْنَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی: میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ان کے درمیان برابری کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5099]

5100

Sahih Ibn Hibban #5100

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَارْجِعْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے، انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے واپس لے لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5100]

5101

Sahih Ibn Hibban #5101

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ : انْحَلِ ابْنِي هَذَا غُلامًا ، وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُهُ ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : " لا يَصْلُحُ هَذَا ، وَإِنِّي لا أَشْهَدُ إِلا عَلَى الْحَقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو غلام عطیے کے طور پر دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد سے) دریافت کیا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو اسی طرح عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5101]

5102

Sahih Ibn Hibban #5102

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلامًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الْغُلامُ ؟ " قَالَ : غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ :" فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ " ، وَقَالَ لأَبِيهِ : " لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں غلام عطیے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کس کا غلام ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا انہوں نے تمہارے تمام بھائیوں کو اسی طرح عطا کیا ہے، جس طرح تمہیں عطا کیا ہے؟“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے واپس کر دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: ”تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5102]

5103

Sahih Ibn Hibban #5103

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ فَالْتَوَى بِهِ سَنَةً ، ثُمَّ بَدَا لَهُ ، فَوَهَبَهَا لِي ، وَإِنَّهَا قَالَتْ : لا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ مَوْهِبَةٍ لابْنِي هَذَا ، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ تُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا بَشِيرُ ،أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے میرے والد سے یہ گزارش کی کہ وہ اپنے مال میں سے کوئی چیز مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ ایک سال تک اسے ملتوی کرتے رہے، پھر انہیں یہ مناسب لگا، انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کر دی۔ میری والدہ نے یہ کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ نہیں بنا لیتے، تو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس لڑکے کی والدہ جو رواحہ کی صاحب زادی ہے، وہ ایک سال سے مجھے یہ کہہ رہی تھیں کہ میں اپنے اس بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کروں، اب مجھے مناسب لگا تو میں نے اسے ہبہ کر دیا۔ اس عورت کی یہ خواہش ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کے گواہ بن جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے بشیر! کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5103]

5104

Sahih Ibn Hibban #5104

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : طَلَبَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ إِلَى بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنْ يَنْحِلَنِيَ نَحْلا مِنْ مَالِهِ ، وَإِنَّهُ أَبَى عَلَيْهَا ، ثُمَّ بَدَا لَهُ بَعْدَ حَوْلٍ أَوْ حَوْلَيْنِ أَنْ يَنْحَلَنِيهِ ، فَقَالَ لَهَا : الَّذِي سَأَلْتِ لابْنِي كُنْتُ مَنَعْتُكِ ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أَنْحَلَهُ إِيَّاهُ ، قَالَتْ : لا وَاللَّهِ ، لا أَرْضَى حَتَّى تَأْخُذَ بِيَدِهِ فَتَنْطَلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُشْهِدَهُ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مَعَهُ وَلَدٌ غَيْرَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ آتَيْتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي آتَيْتَ هَذَا ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا ، هَذَا جَوْرٌ ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلادِكُمْ فِي النَّحْلِ كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ ، وَاللُّطْفِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْفِعْلِ الْمَأْمُورِ بِهِ لَوْ فَعَلَهُ ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الأَمْرِ بِضِدِّهِ ، كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ : اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (میری والدہ) عمرہ بنت رواحہ نے (میرے والد) سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ وہ اپنے مال میں سے مجھے (یعنی سیدنا نعمان بن بشیر کو) کوئی عطیہ دیں، لیکن انہوں نے اس خاتون کی بات تسلیم نہیں کی۔ ایک یا دو سال گزرنے کے بعد انہیں یہ مناسب لگا تو انہوں نے مجھے ایک عطیہ دے دیا۔ انہوں نے اس خاتون سے کہا: تم نے جو میرے بیٹے کے بارے میں درخواست کی تھی اسے میں نے پورا نہیں کیا تھا، اب مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے عطیہ دے دوں۔ اس خاتون نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا گواہ نہیں بناتے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”جس طرح تم نے اسے دیا ہے، اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں اس بات کا گواہ نہیں بنتا، یہ زیادتی ہے، تم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو، تم لوگ اپنی اولاد کے درمیان عطیات کے حوالے سے انصاف سے کام لو، جس طرح تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی اور بھلائی کے حوالے سے تمہارے ساتھ انصاف سے کام لیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ اس کے ذریعے اس بات کی اطلاع دینا مراد ہے کہ اگر وہ یہ فعل کر لیتے ہیں، تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی ممانعت اس کے متضاد کا حکم دینے کے الفاظ کے ذریعے کی ہے، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”تم (ولاء) کی شرط ان کے لیے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5104]

5105

Sahih Ibn Hibban #5105

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَرَادَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا بِصَدَقَةٍ ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَلا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری بیوی) عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس کے بیٹے کو کوئی چیز عطیے کے طور پر دوں، اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بچے ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ان سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح تم نے اسے عطیہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5105]

5106

Sahih Ibn Hibban #5106

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبِي نَحَلَنِي كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَى بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ ، أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، هَذَا جَوْرٌ " ثُمْ قَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلا إِذًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے فلاں، فلاں چیز عطیے کے طور پر دی، وہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، یہ ظلم ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہاری تمام اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ درست نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5106]

5107

Sahih Ibn Hibban #5107

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ وَالِدِي بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ نُفِسَتْ بِغُلامٍ ، وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ نُعْمَانَ ، وَإِنَّهَا أَبَتْ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى جَعَلْتُ لَهُ حَدِيقَةً لِي أَفْضَلَ مَالِي هُوَ ، وَإِنَّهَا قَالَتْ : أَشْهِدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَبَايُنُ الأَلْفَاظِ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ فِيهِ تَضَادٌّ وَتَهَاتُرٌ وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ النَّحْلَ مِنْ بَشِيرٍ لابْنِهِ كَانَ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ ، وَذَاكَ أَنَّ أَوَّلَ مَا وَلَدُ النُّعْمَانُ أَبَتْ عَمْرَةُ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ بَشِيرٌ حَدِيقَةً ، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَأَرَادَ الإِشْهَادَ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ، عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ ، تُصَرِّحُ هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَنَّ الْحَيْفَ فِي النَّحْلِ بَيْنَ الأَوْلادِ غَيْرُ جَائِزٍ ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّبِيِّ مُدَّةٌ ، قَالَتْ عَمْرَةُ لِبَشِيرٍ : انْحَلِ ابْنِي هَذَا ؟ فَالْتَوَى عَلَيْهِ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ وَالْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، فَنَحَلَهُ غُلامًا ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، قَالَ : لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النُّعْمَانُ قَدْ نَسِيَ الْحُكْمَ الأَوَّلَ أَوْ تَوَهَّمَ أَنَّهُ قَدْ نُسِخَ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ ، فِي الْكَرَّةِ الثَّانِيَةِ زِيَادَةُ تَأْكِيدٍ فِي نَفْيِ جَوَازِهِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّحْلَ فِي الْغُلامِ لِلنُّعْمَانِ كَانَ ذَلِكَ وَالنُّعْمَانُ مُتَرَعْرِعٌ ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : مَا هَذَا الْغُلامُ ؟ قَالَ : غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي ، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ هَذَا النَّحْلَ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ فِي الْحَدِيقَةِ ، لأَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ امْتِنَاعِ عَمْرَةَ عَنْ تَرْبِيَةِ النُّعْمَانِ عِنْدَمَا وَلَدَتْهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ وَتَهَاتَرُ ، وَأَبُو حَرِيزٍ كَانَ قَاضِيَ سِجِسْتَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری اہلیہ) سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام نعمان رکھا ہے، اس نے اس بچے کی پرورش کرنے سے انکار کر دیا جب تک میں اس بچے کو اپنا وہ باغ نہیں دیتا جو (میرا) سب سے بہترین مال ہے، اور اس عورت نے یہ کہا: کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے صرف انصاف کے کام میں گواہ بناؤ، میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطیہ دینے کا یہ جو واقعہ ہم نے ذکر کیا ہے اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے جس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ اس روایت میں شاید تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عطیہ جو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو دیا تھا یہ دو مختلف مقامات پر منقول ہے۔ وہ یوں کہ جب پہلی مرتبہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے ان کی تربیت کرنے سے اس وقت تک انکار کر دیا جب تک سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ انہیں کوئی باغ عطیے کے طور پر نہیں دیتے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اس بارے میں گواہ بنانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صرف انصاف کے کام پر مجھے گواہ بناؤ کیونکہ میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔“ جیسا کہ ابوحریز نامی راوی کی روایت میں یہ بات مذکور ہے اور یہ الفاظ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ عطیہ دیتے ہوئے اولاد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا درست نہیں ہے، پھر جب بچہ بڑا ہو گیا تو سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو کوئی عطیہ دیجیے، تو وہ ایک سال یا دو سال تک اس کو ملتوی کرتے رہے۔ جیسا کہ ابوحیان تیمی اور مغیرہ کی امام شعبی کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے پھر انہوں نے اسے ایک غلام عطیہ کر دیا، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ انہیں اس بارے میں گواہ بنائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پہلا حکم بھول چکے ہوں یا انہیں یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ وہ حکم منسوخ ہو گیا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“ یہ دوسری مرتبہ اس کام کے جائز ہونے کی نفی میں زیادہ تاکید پیدا کرنے کے لیے ہو، اور اس بات کی دلیل کہ غلام کی صورت میں دیا جانے والا عطیہ بھی سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کو ہی دیا گیا تھا یہ ہے کہ عاصم نے امام شعبی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”یہ غلام کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے، تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ یہ عطیہ اس عطیے کے علاوہ تھا جس کا ذکر ابوحریز کی نقل کردہ روایت میں کیا گیا ہے جو باغ کے بارے میں ہے؛ کیونکہ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا کا ان کی تربیت کرنے سے انکار کرنا اس وقت تھا جب ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے برخلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات متضاد ہیں اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابوحریز نامی راوی سجستان کے قاضی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5107]

5108

Sahih Ibn Hibban #5108

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأشجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلا يَرُدَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خالد بن زید جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی (یعنی مال و دولت وغیرہ) ملے، اسے اسے قبول کر لینا چاہیے اور اسے واپس نہیں کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5108]

5109

Sahih Ibn Hibban #5109

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ ، فَلا يَرُدَّهُ ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو خوشبو دی جائے وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اس کا وزن بھی زیادہ نہیں ہوتا اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5109]

5110

Sahih Ibn Hibban #5110

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ " ، فَقَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھے۔ آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ آپ نے وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ انہیں اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کا نشان نظر نہیں آیا تھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں لیکن میں نے اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جسے آپ نے ناپسند کیا ہے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5110]

5111

Sahih Ibn Hibban #5111

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دَعُوهُ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبَهُ " ، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأُثَايَةَ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ ، إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا يَقِفُ عِنْدَهُ لا يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے نکلے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک زیبرا تھا جس کا پاؤں کٹا ہوا تھا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے رہنے دو، عنقریب اس کا مالک اس تک آ جائے گا“، پھر سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے، وہ اس کے مالک تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس زیبرے کو استعمال کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ رویثہ اور عرج کے درمیان اثایا کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک سائے میں ہرن بیٹھا ہوا تھا جس کو تیر لگا ہوا تھا۔ سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اس ہرن کے پاس ٹھہرا رہے تاکہ کوئی بھی شخص اس کو تنگ نہ کرے یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں سے گزر جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5111]

5112

Sahih Ibn Hibban #5112

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثْنَاءِ الرَّوْحَاءِ ، وَهُمْ حُرُمٌ ، إِذَا حِمَارٌ مَعْقُورٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ ، فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، روحاء کے قریب جب ہم پہنچے تو ہم سب حالتِ احرام میں تھے۔ وہاں ایک زیبرا تھا جو زخمی تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے رہنے دو، اس کا مالک اس کے پاس آ جائے گا۔“ پھر بہزی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا، یہ وہ شخص تھا جس نے اس زیبرے کو زخمی کیا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5112]

5113

Sahih Ibn Hibban #5113

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْهِ الْوفُودُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ " ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِ حُلَلٍ مِنْهُ ، فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً ، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً ، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً ، فَأَتَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ : فِيهَا مَا قُلْتَ ، ثُمَّ بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ ، فَقَالَ : " بِعْهَا ، فَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ ، أَوْ شُقَّهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (بازار) گئے، انہوں نے استبرق سے بنا ہوا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے خرید لیجیے اور جمعہ کے دن اور جب وفود آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں، اس دن اسے زیب تن کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے وہ شخص پہنے گا، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسی قسم کے تین حلے پیش کیے گئے تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سے ایک حلہ عطا کیا، ایک عدد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیا اور ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو عطا کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو اس کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اب آپ نے یہ میری طرف بھیج دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے فروخت کرو اور اس کے ذریعے اپنی ضروریات کو پورا کرو یا پھر اسے کاٹ کر اپنی بیویوں کی چادریں بنوا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5113]

5114

Sahih Ibn Hibban #5114

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِسْكٍ ، ولا أثراهُ أَلا قَدْ مَاتَ ، وَسَتُرَدُّ الْهَدِيَّةُ ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَهِيَ لَكَ " ، قَالَتْ : فَكَانَ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ وَرُدَّتِ الْهَدِيَّةُ ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ ، وَدَفَعَ الْحُلَّةَ وَسَائِرَ الْمِسْكِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طور پر بھجوائے تھے۔ میرا خیال ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے، تو یہ تحفہ واپس آ جائے گا، اگر ایسا ہی ہوا تو وہ تمہیں ملے گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر ویسا ہی ہوا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا، نجاشی کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ تحفہ واپس آ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کی طرف مشک کا ایک اوقیہ بھجوایا اور وہ حلہ اور باقی تمام مشک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5114]

5115

Sahih Ibn Hibban #5115

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، فَاشْتَرَطُوا وَلاءَهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "، قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے اس کے ولاء کی شرط عائد کی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تحفے کے طور پر دیا گیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس خاتون کا شوہر آزاد شخص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5115]

5116

Sahih Ibn Hibban #5116

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ سُنَنٍ ، إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَإِدَامٌ مِنْ إِدَامِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ ذَاكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، وَأَنْتَ لا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ کے بارے میں تین شرعی احکام سامنے آئے: جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے (یا علیحدگی اختیار کرنے) کے بارے میں اختیار دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا تھا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5116]

5117

Sahih Ibn Hibban #5117

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ زَعَمَ ، أَنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ " قَالَتْ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ إِلا عَظْمَ شَاةٍ أُعْطِيَتْ مَوْلاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : " قَرِّبِيهِ ، فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم نہیں ہے، ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں ہے صرف ایک بکری کی ہڈی (والا گوشت) ہے جو میری کنیز کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی پیش کر دو کیونکہ وہ اپنے مقام تک پہنچ چکا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5117]

5118

Sahih Ibn Hibban #5118

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ قَالَتْ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا طَعَامٌ أُعْطِيَتْهُ مَوْلاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَرِّبِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی نہیں، صرف وہ کھانا ہے جو ہماری کنیز کو صدقے میں سے دیا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی پیش کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5118]

5119

Sahih Ibn Hibban #5119

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَائِشَةَ : عِنْدَكِ شَيْءٌ تُطْعِمِينِي ؟ " قَالَتْ : لا ، إِلا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بُعِثَتْ بِهَا إِلَى نُسَيْبَةُ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : " هَاتِيهِ ، فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھانے کے لیے دو؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، صرف وہ بکری ہے جو نسیبہ رضی اللہ عنہا کو صدقے میں سے دی گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی پیش کر دو، وہ اپنے مقام تک پہنچ چکی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5119]

5120

Sahih Ibn Hibban #5120

وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَفِيهِ رِجْلُ شَاةٍ أَوْ يَدٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : أَلا تَطْبُخُونَ لَنَا هَذَا اللَّحْمَ " ، فَقَالَتْ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا ، فَقَالَ : " اطْبُخُوا ، فَهُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو انصار سے خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شرط تسلیم کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی شرط عائد کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) بریرہ کا شوہر بھی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہے جیسے پہلے رہ رہی تھی اور اگر چاہے تو اس سے علیحدگی اختیار کرے، تو اس خاتون نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک بکری کا پایہ یا دستی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے یہ گوشت نہیں پکایا؟“ انہوں نے عرض کی: یہ تو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا، وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے پکاؤ کیونکہ یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5120]

5121

Sahih Ibn Hibban #5121

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَهَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہبہ کو واپس لینے والا شخص ایسے ہی ہے جس طرح کوئی اپنی قے کو چاٹتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5121]

5122

Sahih Ibn Hibban #5122

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ ، مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَأْكُلُ قَيْئِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صدقہ کر کے پھر اس صدقے کو واپس لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر واپس آ کر اپنی قے کو کھا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5122]

5123

Sahih Ibn Hibban #5123

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ عُمَرَ ، يقولان : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، إِلا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً أَوْ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، ثُمَّ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى قَيْئِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے جب وہ کوئی عطیہ دے یا ہبہ کرے پھر اسے واپس لے ماسوائے والد کے اس چیز کے بارے میں، جو اس نے اپنی اولاد کو عطیے کے طور پر دی ہو، جو شخص کوئی چیز عطیہ کرے یا ہبہ کرے پھر اسے واپس لے تو اس کی مثال کتے کی مانند ہے جو کھاتا ہے تو سیر ہو جاتا ہے پھر وہ قے کر دیتا ہے پھر واپس اپنی قے کی طرف آ جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5123]

5124

Sahih Ibn Hibban #5124

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لا تَبْتَعْهُ ، وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک گھوڑے کو اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر انہوں نے اس گھوڑے کو فروخت ہوتے ہوئے پایا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ خریدو اور اپنے صدقے کو واپس نہ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5124]

5125

Sahih Ibn Hibban #5125

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لا تَبْتَعْهُ ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا صدقے کے طور پر دیا، جس شخص کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے ضائع کر دیا، تو میں نے اس سے اس گھوڑے کو خریدنے کا ارادہ کیا، میرا یہ اندازہ تھا کہ میں اسے کم قیمت پر خرید لوں گا، میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ خریدو! خواہ وہ تمھیں ایک درہم کے عوض میں دے رہا ہو، کیونکہ اپنے صدقے کو واپس لینے والا شخص ایسے کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو دوبارہ کھا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5125]

5126

Sahih Ibn Hibban #5126

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُرْقِبُوا أَمْوَالَكُمْ ، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِمَنْ أَُرْقِبَهُ "، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ : هَذَا لِفُلانٍ مَا عَاشَ ، فَإِذَا مَاتَ فُلانٌ فَهُوَ لِفُلانٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”اپنے اموال کو رقبیٰ نہ کرو، جو شخص کوئی چیز رقبیٰ کرے تو وہ اس کی ملکیت ہو گی جس کو اس نے رقبیٰ کی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) رقبیٰ سے مراد یہ ہے: کوئی شخص یہ کہے: فلاں شخص جب تک زندہ رہا یہ اس کے لیے ہے، تو جب وہ فلاں شخص فوت ہو گا، تو وہ فلاں کی ملکیت ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5126]

5127

Sahih Ibn Hibban #5127

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُرْقِبُوا وَلا تُعْمِرُوا ، فَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا أَوْ أَُرْقَبَ فَهُوَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ (اپنی چیزوں کو) «رُقْبٰی» اور «عُمْرٰی» نہ کرو، جو شخص کوئی چیز «عُمْرٰی» کرتا ہے یا «رُقْبٰی» کرتا ہے تو وہ (اس دوسرے شخص) کی ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5127]