Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 45 · Chapter 2

Book of Dress and Its Etiquette

Hadith 5054–5093

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5054

Sahih Ibn Hibban #5054

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ تَرَكَ مَالا فَلأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض چھوڑ کر جائے وہ میری طرف آئے گا اور اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الكفالة/حدیث: 5054]

5055

Sahih Ibn Hibban #5055

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلاءُ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُدْعَى بِالْقَاضِي الْعَادِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْحِسَابِ مَا يَتَمَنَّى ، أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي عُمْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن عادل قاضی کو بلایا جائے گا اور اس سے اتنی سختی سے حساب لیا جائے گا کہ وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہ دیا ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5055]

5056

Sahih Ibn Hibban #5056

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ لابْنِ عُمَرَ : اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا ، قَالَ : أَوَتُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : اذْهَبْ ، فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ ، قَالَ : تُعْفِيَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ ، قَالَ : لا تَعْجَلْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ مَعَاذًا " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا ، قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي ؟ قَالَ : لأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :" مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْجَهْلِ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْجَوْرِ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا يَقْضِي بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ ، سَأَلَ التَّفَلُّتَ كَفَافًا "، فَمَا أَرْجُو مِنْهُ بَعْدَ ذَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمِ : ابْنُ وَهْبٍ وهَذَا ، هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ الأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ مِنَ الْمَدِينَةِ رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: تم جاؤ، تم قاضی ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے اس سے معاف نہیں رکھیں گے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ انہوں نے گزارش کی: اے امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے اس سے معافی نہیں دیتے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں تاکید کر رہا ہوں کہ تم جاؤ اور فیصلہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: آپ جلدی نہ کیجیے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کی پناہ لیتا ہے وہ ایک ایسی ذات کی پناہ لیتا ہے جس کی پناہ لی جاتی ہے“۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم ایسا کیوں نہیں کرتے جبکہ تمہارے والد فیصلے دیا کرتے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قاضی ہو اور علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو کر ظلم کے مطابق فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو اور عالم بھی ہو اور حق کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) انصاف کے ساتھ فیصلہ دے وہ بھی (قیامت کے دن) یہ آرزو کرے گا کہ اسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے“۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:) تو اب اس کے بعد میں کیا امید رکھ سکتا ہوں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن وہب نامی راوی عبداللہ بن وہب بن اسود قریشی ہے جس کا تعلق مدینہ منورہ سے ہے۔ ابن شہاب زہری نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5056]

5057

Sahih Ibn Hibban #5057

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، وَكَانَتِ النَّضِيرُ أشرف من قريظة ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وَدَى مِئَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلُهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ ، فَنَزَلَتْ : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ، وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، ثُمَّ نَزَلَتْ : أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک قریظہ قبیلہ تھا اور ایک نضیر قبیلہ تھا، نضیر قبیلہ، قریظہ قبیلے سے زیادہ معزز سمجھا جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا جب کوئی شخص بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا اور جب بنو نضیر سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ کھجور کے ایک سو وسق دیت ادا کر دیتا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تو بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ لوگوں نے کہا: تم لوگ اسے ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم بھی اسے قتل کریں۔ ان لوگوں نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اگر تم فیصلہ دیتے ہو تو ان کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ دو﴾ [سورة المائدة: 42] ۔ یہاں انصاف سے مراد یہ ہے کہ جان کا بدلہ جان ہو، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿کیا وہ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں﴾ [سورة المائدة: 50] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5057]

5058

Sahih Ibn Hibban #5058

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَتْ مُهَاجِرَةُ الْحَبَشَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا تُحَدِّثُونِي بِأَعْجَبَ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ " ، قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ عَلَيْنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِهِمْ تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ ، فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا عَلَى رُكْبَتَيْهَا ، فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَتْ : سَتَعْلَمُ يَا غُدَرُ ، إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ ، وَجَمَعَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ، وَتَكَلَّمَتِ الأَيْدِي وَالأَرْجُلُ بِمَا كَانَا يَكْسِبُونَ ، فَسَوْفَ تَعْلَمُ أَمْرِي وَأَمْرَكَ عِنْدَهُ غَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَتْ ، ثُمَّ صَدَقَتْ ،كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ قَوْمًا لا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حبشہ کے مہاجرین واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے حبشہ کی سرزمین پر جو حیران کن بات دیکھی ہے اس بارے میں ہمیں کچھ بتاؤ۔“ تو ان میں سے کچھ نوجوانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک بوڑھی عورت ہمارے پاس سے گزری، اس نے اپنے سر پر پانی کا مٹکا اٹھایا ہوا تھا، وہ حبشیوں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے پاس سے گزری تو اس نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا اور پھر اسے گھٹنوں کے بل گرا دیا، اس عورت کا مٹکا ٹوٹ گیا، پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر اس نے کہا: اے نالائق! عنقریب تم جان لو گے اللہ تعالیٰ جب کرسی کو رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والوں کو جمع کرے گا، اس دن ہاتھ اور پاؤں اس بارے میں کلام کریں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا، اس وقت تم میرے اور اپنے معاملے کے بارے میں جان لو گے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے سچ کہا ہے، اس نے سچ کہا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے پاک کر سکتا ہے جس میں کمزور کے لیے طاقت ور سے مواخذہ نہیں کیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5058]

5059

Sahih Ibn Hibban #5059

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ لا يُؤْخَذُ مِنْ شَدِيدِهِمْ لِضَعِيفِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایسی امت کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے جس میں کمزور کے لیے طاقت ور سے مواخذہ نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5059]

5060

Sahih Ibn Hibban #5060

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَوَى مَعْمَرٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ مُسْنِدًا إِلا هَذَا الْحَدِيثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی قاضی فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرتا ہے اور درست فیصلہ کرتا ہے تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب وہ فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرتا ہے اور اس سے غلطی ہو جائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) معمر نے ثوری کے حوالے سے مسند روایت کے طور پر یہی روایت نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5060]

5061

Sahih Ibn Hibban #5061

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب قاضی فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرے اور درست فیصلہ دے تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب وہ فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5061]

5062

Sahih Ibn Hibban #5062

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5062]

5063

Sahih Ibn Hibban #5063

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5063]

5064

Sahih Ibn Hibban #5064

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5064]

5065

Sahih Ibn Hibban #5065

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْزِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا غُلامٌ حَدِيثُ السِّنِّ ؟ فَأُسْأَلُ عَنِ الْقَضَاءِ وَلا أَدْرِي مَا أُجِيبُ ، قَالَ : مَا بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ أَنْتَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَإِنْ كَانَ وَلا بُدَّ أَذْهِبُ أَنَا ، فَقَالَ :" انْطَلِقْ ، فَاقْرَأْهَا عَلَى النَّاسِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ سَيَتَقَاضُونَ ، فَإِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ ، فَلا تَقْضِي لِوَاحِدٍ حَتَّى تَسْمَعَ كَلامَ الآخَرِ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَعْلَمَ لِمَنِ الْحَقُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام رساں (یعنی گورنر) بنا کر بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں حالانکہ میں ایک کم عمر آدمی ہوں، مجھ سے قضا کے بارے میں دریافت کیا جائے گا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا جواب دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے، یا مجھے جانا ہوگا یا تم چلے جاؤ۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے عرض کی: اگر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے لوگوں کے سامنے تلاوت کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا اور تمہارے دل کو ہدایت پر ثابت رکھے گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اپنے مقدمات لے کر آئیں گے، جب دو فریق تمہارے پاس آئیں تو تم کسی بھی فریق کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے فریق کا کلام نہ سن لو، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہیں پتا چل جائے کہ حق پر کون ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5065]

5066

Sahih Ibn Hibban #5066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا دَاوُدَ ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ تَخْتَصِمُ فِي ابْنِهَا ، فَقَضَى لِلْكُبْرَى ، فَلَمَّا خَرَجَتَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا ؟ فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ ، وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ السِّكِّينُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ ، فَقَالَتِ الصُّغْرَى : مَهْ ؟ قَالَ : أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا ، قَالَتِ : ادْفَعْهُ إِلَيْهَا ، وَقَالَتِ : الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا ، قَالَ : فَقَضَاهُ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى ، وَقَالَ : لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضَيْ أَنْ نَشُقَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو خواتین سیدنا داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے بڑی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ فرما دیا، جب وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے؟ ان دونوں خواتین نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس بارے میں بتایا، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تم میرے پاس چھری لے کر آؤ (راوی کہتے ہیں: پہلی مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لفظ «السِّكِّينُ» ”سکین“ سنا، کیونکہ ہم لوگ چھری کے لیے لفظ «المُدْيَةُ» ”مدیہ“ استعمال کرتے ہیں) تو چھوٹی عمر کی عورت نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اس عورت نے کہا: آپ اس بچے کو اس بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیں، جبکہ بڑی عمر کی عورت نے کہا: آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر یہ تمہارا بیٹا ہوتا تو تم اس بات سے راضی نہ ہوتیں کہ اس کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5066]

5067

Sahih Ibn Hibban #5067

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطُّرُقِ فَدَعُوا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے، تو سات ذراع تک جگہ چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5067]

5068

Sahih Ibn Hibban #5068

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دو گواہ بھی پیش کر دیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانور کو ان دونوں کے درمیان نصف نصف کے طور پر تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5068]

5069

Sahih Ibn Hibban #5069

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ ، دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْهُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا " ، فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ الآيَةَ ، وَقَالَ : رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ، قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ " ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ، قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 284] ”تمہارے من میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپا کے رکھو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا“ نازل ہوئی تو اس آیت کے نزول کی وجہ سے لوگ انتہائی زیادہ پریشان ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا» ”ہم نے سنا اور اطاعت کی“ اور ہم نے تسلیم کیا“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة البقرة: 285] ”رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی اور اہل ایمان بھی (ایمان لائے)“۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں (وہ لوگ یہ کہتے ہیں): ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”اے ہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا ہی کیا“۔ (اس میں یہ دعا بھی ہے): ﴿رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر اس طرح بوجھ نہ لاد دینا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر لاد دیا تھا۔“ تو پروردگار نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا ہی کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5069]

5070

Sahih Ibn Hibban #5070

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میں ایک انسان ہوں، تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو، البتہ اگر کوئی شخص اپنے موقف کو ثابت کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہو اور میں نے جو سنا میں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو میں جس شخص کے حق میں اس کے کسی بھائی کے حق کا فیصلہ دوں تو وہ اسے قبول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5070]

5071

Sahih Ibn Hibban #5071

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ يَكُونُ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں ایک انسان ہوں ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے موقف کو پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو تو جس کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5071]

5072

Sahih Ibn Hibban #5072

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میں ایک انسان ہوں۔ تم لوگ میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اپنا موقف پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو، تو جس شخص کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دے دوں، تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5072]

5073

Sahih Ibn Hibban #5073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5073]

5074

Sahih Ibn Hibban #5074

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لأَبِي ، فَقَالَ الكنديُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي زَرَعْتُهَا ، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَلَكَ يَمِينُهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ ، لا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلا ذَلِكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ :" أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا ، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرموت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی ملکیت تھی، کندی نے کہا: وہ زمین میری ہے، میرے قبضے میں ہے، میں نے اس پر کھیتی باڑی کی ہے اور اس کا اس زمین میں کوئی حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں قسم اٹھانی ہو گی۔“ دوسرے شخص نے عرض کی: یہ گناہ گار شخص ہے، یہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور یہ کسی چیز سے ڈرتا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تمہیں یہی چیز مل سکتی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانے کے بعد ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے اس مال کے بارے میں اس لیے قسم اٹھائی ہے تاکہ ظلم کے طور پر اسے ہتھیا لے، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5074]

5075

Sahih Ibn Hibban #5075

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ ،فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک سند کے مطابق سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک سند کے مطابق سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے مرنے کے قریب چھ غلاموں کو آزاد کر دیا، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5075]

5076

Sahih Ibn Hibban #5076

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فیصلہ کرتے ہوئے رشوت لینے والے اور دینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5076]

5077

Sahih Ibn Hibban #5077

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5077]

5078

Sahih Ibn Hibban #5078

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَمَلا فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ ، فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَرَاهُ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ : قَالَ : " وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، فَمَا أُوتِيَ أَخَذَ ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عدی کندی رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق بنو ارقم سے ہے، روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جو شخص ہمارے لیے (زکوۃ وغیرہ وصول کرنے کا) کوئی کام کرتا ہے اور پھر ہم سے اس میں سے کوئی ایک سوئی چھپا لیتا ہے یا اس سے بھی اوپر کی کوئی چیز چھپا لیتا ہے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ خیانت کرنے والا ہو گا۔“ تو ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا، یہ منظر آج بھی گویا کہ میری نگاہ میں ہے، میرا خیال ہے وہ ایک انصاری تھا۔ اس نے گزارش کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو آپ نے مجھے ذمہ داری عطا کی تھی اسے واپس لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے عرض کی: میں نے ابھی آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس شخص کو ہم کسی کام کا نگران مقرر کریں وہ تھوڑی اور زیادہ سب چیزیں لے کر آئے، جو اسے دیا جائے اسے وصول کر لے اور جس چیز سے اسے منع کیا جائے اس سے باز آ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5078]

5079

Sahih Ibn Hibban #5079

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ، الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُحَدِّثُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں تمہیں سب سے بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ لوگ ہیں ان سے مطالبہ کرنے سے پہلے ہی یہ اپنی گواہی لے آتے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے بیان کر دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشهادات/حدیث: 5079]

5080

Sahih Ibn Hibban #5080

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ ، وَافٍ أَوْ غَيْرَ وَافٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَفَافٍ ، شَرْطٌ أُرِيدَ بِهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ الْعَفَافِ مِمَّا لا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حق کا مطالبہ کرے اسے نرمی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنا چاہیے خواہ وہ پورا ملے یا پورا نہ ملے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”نرمی کے ہمراہ کرنا چاہیے“ یہ ایک ایسی شرط ہے جس کے ذریعے ممانعت مراد لی گئی ہے جو اس چیز سے ممانعت ہے جو نرمی کی متضاد ہوتی ہے، جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5080]

5081

Sahih Ibn Hibban #5081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٍ خَمْسًا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو، تم ان کے پاس جاؤ تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اگر وہ اس بارے میں تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اس بارے میں بھی اگر تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے خوشحال لوگوں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں تو تم لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5081]

5082

Sahih Ibn Hibban #5082

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرُزَانِ لَيْسَ مَعَهُمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرَهُمَا ، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا ، قَدْ طُعِنَ فِي بَطْنِ كَفِّهَا بِإِشْفَى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِ كَفِّهَا ، تَقُولُ : طَعَنَتْهَا صَاحِبَتُهَا ، وَتُنْكِرُ الأُخْرَى ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِمَا ، فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : لا تُعْطِي شَيْئًا إِلا بِالْبَيِّنَةِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ ، لادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ رِجَالٍ وَدِمَاءَهُمْ ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " ، فَادْعُهَا ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ ، وَاقْرَأْ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا ، فَفَعَلْتُ ، فَاعْتَرَفَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: دو خواتین گھر میں اکیلی تھیں، گھر میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، ان دونوں میں سے ایک گھر سے باہر نکلی تو اس کے پیٹ میں نیزہ مارا جا چکا تھا جو اس کی کمر کی طرف سے باہر نکل آیا تھا۔ اس عورت نے یہ بتایا کہ دوسری عورت نے اسے یہ نیزہ مارا ہے جبکہ دوسری عورت نے اس کا انکار کیا، میں نے یہ مقدمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا، اس عورت نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم صرف ثبوت پیش کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ جات کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور جانوں کے بارے میں دعویٰ کرنا شروع کر دیں گے، جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔“ تم اس عورت کو بلاؤ، اس کے سامنے قرآن کی تلاوت کرو اور یہ آیت پڑھو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔“ پھر میں نے ایسا ہی کیا تو (اس عورت نے) اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5082]

5083

Sahih Ibn Hibban #5083

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لادَّعَى النَّاسُ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں کے بارے میں دعویٰ کرنے لگ جائیں گے، اس لیے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے، اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5083]

5084

Sahih Ibn Hibban #5084

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالا ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ غَضْبَانُ ، وَنَزَلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ " الآيَةَ، فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ؟ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ وَفِي صَاحِبِي فِي بِئْرٍ ادَّعَيْتُهَا ، وَلَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ مِنَّا بَيِّنَةٌ فَحَلَفَ عَلَيْهَا ، فَذَكَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا ، عِنْدَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور وہ اس میں جھوٹا ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کے ذریعے وہ مال ہتھیا لے تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ تو اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد کے عوض میں خریدتے ہیں۔“ اسی دوران سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے، وہ لوگ مسجد میں اس حدیث کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: ابنِ امِ عبد کیا بیان کر رہے ہیں؟ لوگوں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، یہ آیت میرے اور میرے ایک مقابل فریق کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ہمارا ایک کنوئیں کے بارے میں اختلاف تھا جس کا میں دعویدار تھا، ہم میں سے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، تو اس شخص نے اس بارے میں قسم اٹھا لی تھی، تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5084]

5085

Sahih Ibn Hibban #5085

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ ، يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا " إِلَى آخِرِ الآيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کا مال ہڑپ کر لے، جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5085]

5086

Sahih Ibn Hibban #5086

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَقَالَ الأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ " قُلْتُ : لا ، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ : " احْلِفْ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفُ ، فَيَذْهَبُ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا إِلَى آخِرِ الآيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی حق کو دبائے یا حاصل کرے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا۔“ یہ سن کر سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ واقعہ تو میرے ہی ساتھ پیش آیا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے اس زمین کا انکار کر دیا، تو میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: ”تو قسم کھا لے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر یہ قسم کھا لے گا تو میری زمین تو یہ یوں ہی لے جائے گا! پس اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں…“ (آیت کے آخر تک) [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5086]

5087

Sahih Ibn Hibban #5087

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا ، مِنْ أَرَاكٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ناحق طور پر ہتھیانا چاہے، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جہنم لازم کر دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اگر وہ مال بہت تھوڑا ہو تب بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! چاہے وہ اراک کی لکڑی (مسواک کی ایک معمولی چھڑی) ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5087]

5088

Sahih Ibn Hibban #5088

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ أَجْذَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص اس قسم میں جھوٹا ہو، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ «أَجْذَمُ» ”جذام کا شکار“ ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5088]

5089

Sahih Ibn Hibban #5089

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي : الْوَاجِدُ يُحِلُّ عِرْضُهُ وَعُقُوبَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شريد اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”(قرض کی واپسی کے لیے اپنے پاس گنجائش) پانے والا شخص (ٹال مٹول کر کے) اپنی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5089]

5090

Sahih Ibn Hibban #5090

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خوشحال شخص کا (ادائیگی کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی شخص کو (اپنے مال کی وصولی کے لیے) کسی دوسرے شخص کے سپرد کیا جائے تو وہ اسے قبول کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5090]

5091

Sahih Ibn Hibban #5091

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ السِّمْسَارُ بِسَمَرْقَنْدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان (ہر قسم کی) صلح جائز ہے ماسوائے اس صلح کے جو حرام کو حلال قرار دے دے یا حلال کو حرام قرار دے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلح/حدیث: 5091]

5092

Sahih Ibn Hibban #5092

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ ، وَالْقِيَامِ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِصْلاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں درجے کے اعتبار سے (نفلی) روزے اور قیام سے زیادہ افضل عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے درمیان صلح کروانا اور لوگوں کے درمیان فساد کروانا سر مونڈنے والا ہے (یعنی خرابی پیدا کرنے والی چیز ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلح/حدیث: 5092]

5093

Sahih Ibn Hibban #5093

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَتَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ، أَوْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " ، فَتَسَارَعَ إِلَيْهِ الشُّبَّانُ وَبَقِيَ الشُّيُوخُ تَحْتَ الرَّايَاتِ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، جَاءُوا يَطْلُبُونَ مَا قَدْ جَعَلَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمُ الأَشْيَاخُ : لا تَذْهَبُونَ بِهِ دُونَنَا ، فَإِنَّا كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص فلاں اور فلاں جگہ پر جائے گا اور ایسا اور ایسا کرے گا تو اسے یہ اور یہ ملے گا،“ تو نوجوان لوگ تیزی سے وہاں پہنچ گئے جبکہ عمر رسیدہ لوگ باقی رہ گئے۔ وہ جھنڈوں کے نیچے ہی رہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی تو وہ لوگ اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے آئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مقرر کی تھی، تو عمر رسیدہ افراد نے ان سے کہا: ”تم ہمیں چھوڑ کر اسے نہیں لے جا سکتے کیونکہ ہم تمہارے پشت پناہ تھے،“ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلح/حدیث: 5093]