Sahih Ibn Hibban #5014
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شَاءَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر برابر (لین دین ہو، تو جائز ہے)“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ”سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جیسے چاہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ لین دین دست بدست ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5014]