Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 45 · Chapter 1

Book of Dress and Its Etiquette

Hadith 5014–5053

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5014

Sahih Ibn Hibban #5014

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شَاءَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر برابر (لین دین ہو، تو جائز ہے)“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ”سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جیسے چاہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ لین دین دست بدست ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5014]

5015

Sahih Ibn Hibban #5015

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ : كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ ، فَقَالَ عُبَادَةُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو اشعث بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی، تنخواہ ملنے تک خرید و فروخت کر لیتے تھے، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سونے کے عوض میں سونے، چاندی کے عوض میں چاندی، گندم کے عوض میں گندم، جو کے عوض میں جو، کھجور کے عوض میں کھجور اور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے، ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو؛ جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو، وہ سود کا کام کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5015]

5016

Sahih Ibn Hibban #5016

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونے کے عوض سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو، تم اس میں سے کسی ایک پہلو کو دوسرے کے مقابلے میں کم نہ کرو، چاندی کے عوض چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کرو، تم اس میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی موجود چیز کو غیر موجود کے عوض میں فروخت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5016]

5017

Sahih Ibn Hibban #5017

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلا حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ نَافِعٌ : فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ وَأَنَا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لأَبِي سَعِيدٍ : أَرَأَيْتَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ هَذَا الرَّجُلُ ، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسَمِعْتَهُ ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَمَا هُوَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِأُصْبُعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ ، فَقَالَ : بَصُرَ عَيْنِي ، وَسَمِعَ أُذُنِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور وہ شخص تشریف لے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہاں تک کہ ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اس حدیث سے واقف ہیں جو اس شخص نے مجھے بیان کی ہے؟ کیا آپ نے وہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے؟ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا بات ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو فروخت کرنے والی روایت۔ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا اور یہ بات بیان کی کہ میری آنکھوں نے یہ بات دیکھی اور میرے کانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”سونے کے عوض میں سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو، ان میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور چاندی کے عوض میں چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کرو، ان میں کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی بھی غیر موجود کو موجود چیز کے عوض میں فروخت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5017]

5018

Sahih Ibn Hibban #5018

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونے کے عوض میں سونا، چاندی کے عوض میں چاندی، گندم کے عوض میں گندم، جو کے عوض میں جو (کا لین دین) صرف برابر برابر اور دست بدست ہوگا، جب ان کی اصناف میں اختلاف ہو، تو پھر جیسے تم چاہو اسے فروخت کرو، البتہ جبکہ وہ دست بدست لین دین ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5018]

5019

Sahih Ibn Hibban #5019

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ ، فَلَقِيتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بِظِلِّ جِدَارٍ فَاسْتَامَهَا مِنِّي إِلَى أَنْ يَأْتِيَهُ خَادِمُهُ مِنَ الْغَابَةِ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ ، فَسَأَلَ طَلْحَةَ عَنْهُ ، فَقَالَ : دَنَانِيرُ أَرَدْتُهَا إِلَى أَنْ يَأْتِيَ خَادِمِي مِنَ الْغَابَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ لا تُفَارِقْهُ ، لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تُنْقِدَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سو دینار لے کر نکلا، میری ملاقات سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک دیوار کے سائے میں موجود تھے، انہوں نے میرے ساتھ اس کا بھاؤ طے کیا اور یہ بات بیان کی کہ جب ان کا خادم غابہ سے آئے گا تو وہ ادائیگی کر دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی، انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: کچھ دینار ہیں (جو میں خرید رہا ہوں) میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرا خادم غابہ سے آئے گا (تو میں ادائیگی کر دوں گا)۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس سے جدا نہ ہونا، تم اس سے جدا نہ ہونا جب تک تم اسے ادائیگی نہیں کر دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5019]

5020

Sahih Ibn Hibban #5020

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلا فِيهِ يُبْسٌ ، فَقَالَ : أَنَّى لَكُمْ هَذَا ؟ " قَالُوا : ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا ، قَالَ :" فَلا تَفْعَلْ إِنَّ هَذَا لا يَصْلُحُ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ، ثُمَّ اشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تازہ کھجوریں لائی گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں دوسری قسم کی تھیں جن میں کچھ خشک تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کہاں سے آئی ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ہم نے اپنی کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو یہ درست نہیں ہے بلکہ تم اپنی کھجوروں کو (کسی اور چیز کے عوض میں) فروخت کرو (پھر اس چیز کے عوض میں) اپنی ضرورت کی چیز کو خرید لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5020]

5021

Sahih Ibn Hibban #5021

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكَلَ تَمْرَكَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : لا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" فَلا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا نگران مقرر کیا، وہ شخص عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہم نے دو صاع کھجوروں کے عوض میں اس کا ایک صاع حاصل کیا ہے اور تین صاع کے عوض میں دو صاع حاصل کیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تم کھجوروں کو درہم کے عوض میں فروخت کرو اور پھر درہم کے عوض میں اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5021]

5022

Sahih Ibn Hibban #5022

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " قَالَ : اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لا تَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجور لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کہاں سے آئی ہیں؟“ اس نے بتایا: میں نے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «أَوِّهْ» ”افوہ!“ یہ تو عین سود ہے، تم ایسا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5022]

5023

Sahih Ibn Hibban #5023

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : هَلْ تَتَّهِمُ أُسَامَةَ ؟ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لا ، قَالَ : فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا رِبَا إِلا فِي النَّسِيئَةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الأَشْيَاءَ إِذَا بِيعَتْ بِجِنْسِهَا مِنَ السِّتَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْخَبَرِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ يَكُونُ رِبًا ، وَإِذَا بِيعَتْ بِغَيْرِ أَجْنَاسِهَا وَبَيْنَهَا فَضْلٌ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ نَسِيئَةً كَانَ رِبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابنِ ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، انہوں نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: کیا آپ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پر الزام عائد کرتے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی نہیں، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ”سود صرف اُدھار میں ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ حدیث میں مذکور چھ چیزیں جب ان کی جنس کے عوض میں فروخت کی جائیں اور ان کے درمیان اضافی ادائیگی ہو، تو یہ سود ہوگا، لیکن جب ان کی جنس کے علاوہ کے عوض میں فروخت کی جائے اور پھر جو چیز اضافی ہو تو یہ جائز ہوگی جبکہ وہ لین دین دست بدست ہو، لیکن اگر وہ ادھار کا لین دین ہو، تو پھر یہ سود ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5023]

5024

Sahih Ibn Hibban #5024

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرِ الْجَنِيبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعِ تَمْرٍ ، وَلا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ ، وَلا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم عمدہ کھجوروں کے ایک صاع کے عوض میں عام سی کھجوریں دو صاع فروخت کر دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور کے دو صاع کھجور کے ایک صاع کے عوض میں (فروخت) نہیں کیے جا سکتے اور گندم کے دو صاع، گندم کے ایک صاع کے عوض میں (فروخت) نہیں کیے جا سکتے اور دو درہم ایک درہم کے عوض میں (فروخت) نہیں کیے جا سکتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5024]

5025

Sahih Ibn Hibban #5025

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لا تَحِلُّ صَفْقَتَانِ فِي صَفْقَةٍ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سود کھانے والے، اسے کھلانے والے، اس کے گواہوں اور اسے تحریر کرنے والے پر لعنت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5025]

5026

Sahih Ibn Hibban #5026

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الصَّبْرِ مِنَ التَّمْرِ لا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غیر متعین پیمائش والے کھجور کے ڈھیر کو متعین پیمائش والی کھجور کے عوض میں فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5026]

5027

Sahih Ibn Hibban #5027

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدٌ ، فَبَايَعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ " ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايعْ أَحَدًا حَتَّى يَسْأَلَهُ ، أَعْبُدٌ هُوَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ہجرت کی بیعت کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ غلام ہے، پھر اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے مجھے فروخت کر دو“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض میں اسے خرید لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سے بیعت لیتے تھے تو پہلے اس سے دریافت کر لیتے تھے: ”کیا وہ غلام تو نہیں ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5027]

5028

Sahih Ibn Hibban #5028

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”آپ نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5028]

5029

Sahih Ibn Hibban #5029

أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ هِلالٍ بِالْمَصِّيصَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَقَالَ نَادِمًا بَيْعَتَهُ ، أَقَالَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "مَا رَوَى عَنْ مَالِكٍ إِلا إِسْحَاقَ الفَرْوِيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص (کسی) نادم (ہونے والے) کا سودا منسوخ (اقالہ) کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5029]

5030

Sahih Ibn Hibban #5030

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا عَثْرَتَهُ ، أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، مَا رَوَى عَنِ الأَعْمَشِ إِلا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَمَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، وَمَا رَوَى عَنْ حَفْصٍ إِلا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَلا عَنْ مَالِكِ بْنِ سُعَيْرٍ إِلا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کی لغزش سے درگزر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزش سے درگزر فرمائے گا۔“ (امام ابنِ حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اعمش کے حوالے سے یہ روایت صرف حفص بن غیاث اور مالک بن سعیر نے نقل کی ہے اور حفص کے حوالے سے یہ روایت صرف یحییٰ بن معین نے نقل کی ہے اور مالک بن سعیر کے حوالے سے یہ روایت زیاد بن یحییٰ حسانی نے نقل کی ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5030]

5031

Sahih Ibn Hibban #5031

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”آفت زدہ (کی ادائیگی مکمل یا جزوی طور پر) معاف کرنے“ کا حکم دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5031]

5032

Sahih Ibn Hibban #5032

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي ، إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلانٍ ثَمَرَ مَالِهِ ، فَأَحْصَيْنَاهُ ، لا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَحْصَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ ، وَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَأَلَّى لا يَصْنَعُ خَيْرًا ! " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتْ : فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ الثَّمَرِ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي ، إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا ، وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ ، فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں شخص سے اس کے مال (باغ یا زمین) کا پھل خریدا اور ہم نے اسے شمار کیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو اتنی عظمت و شان عطا کی ہے، ہم نے وہ اپنے پیٹ میں ڈال کر کھا لیا یا برکت کی امید رکھتے ہوئے کسی غریب کو کھلا دیا، پھر ہم آئے اور اپنے ہونے والے نقصان کے حوالے سے اس سے (معاوضے میں) کمی کی درخواست کی تو اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ہمارے لیے کوئی معافی نہیں رکھے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس بات کی اطلاع اس پھل کے مالک تک پہنچی تو اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو ان کا جو نقصان ہوا ہے میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں تمام ادائیگی معاف کر دیتا ہوں، تو اس شخص نے ان کے نقصان کے حساب سے ادائیگی معاف کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5032]

5033

Sahih Ibn Hibban #5033

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کو ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے اور اس کا قرض زیادہ ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس کو صدقہ دو۔“ اس شخص کو صدقہ دیا گیا، لیکن وہ پھر بھی اس کے قرض کی پوری ادائیگی تک نہیں پہنچ سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (یعنی قرض خواہوں سے فرمایا): ”تمہیں جو مل رہا ہے وہ حاصل کر لو، تمہیں صرف یہی ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5033]

5034

Sahih Ibn Hibban #5034

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مِنْ مَالِ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ "، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ : هَلْ سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اپنے کسی بھائی سے پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے، تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے۔ تم ناحق طور پر اپنے بھائی کے مال میں سے کس بنیاد پر حاصل کرو گے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا تمہارے استاد نے تمہارے سامنے لاحق ہونے والی آفت کا نام لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5034]

5035

Sahih Ibn Hibban #5035

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ "، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ : سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اپنے بھائی سے کوئی پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے، تم حق کے بغیر اپنے بھائی کے مال کو کس بنیاد پر حاصل کرو گے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے تمہارے سامنے آفت کا نام ذکر کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5035]

5036

Sahih Ibn Hibban #5036

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ ، فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مفلس ہو جائے اور پھر کوئی شخص اپنا مال اس کے پاس پائے تو وہ اس مال کے بارے میں دوسروں سے زیادہ حق دار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5036]

5037

Sahih Ibn Hibban #5037

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ سِلْعَةً ، ثُمَّ فَلَّسَ وَهِيَ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنَ الْغُرَمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کوئی سامان خریدے اور پھر وہ مفلس ہو جائے اور وہ سامان بعینہ اس کے پاس ہو تو (اسے فروخت کرنے والا) دیگر قرض خواہوں کی بہ نسبت اسے لینے کا زیادہ حق دار ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5037]

5038

Sahih Ibn Hibban #5038

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص مفلس ہو جائے اور اپنے سامان کو فروخت کرنے والا شخص بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پائے تو باقی قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5038]

5039

Sahih Ibn Hibban #5039

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُعْدِمَ الرَّجُلُ ، فَوَجَدَ الْبَائِعُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص دیوالیہ ہو جائے اور فروخت کرنے والا اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5039]

5040

Sahih Ibn Hibban #5040

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، كَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْ تَاجِرٍ ، فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قَضَاهُ ، فَقَالَ الأَسْوَدُ : إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ عَنْكَ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عَلَيْنَا حُقُوقٌ فِي هَذَا الْعَطَاءِ ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ : لَسْتَ فَاعِلا ، فَنَقَدَهُ الأَسْوَدُ خَمْسَ مِئَةِ دِرْهَمٍ حَتَّى إِذَا قَبَضَهَا ، قَالَ لَهُ التَّاجِرُ : دُونَكَهَا ، فَخُذْ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ الأَسْوَدُ : قَدْ سَأَلْتُكَ هَذَا فَأَبَيْتَ ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ : إِنِّي سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُنَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : مَنْ أَقْرَضَ اللَّهَ مَرَّتَيْنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِهِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْفُضَيْلُ أَبُو مُعَاذٍ هَذَا هُوَ الْفُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ حَدَّثَ بِالْبَصْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ اسود بن یزید ایک تاجر سے قرض لیا کرتے تھے، جب ان کی تنخواہ آتی تھی تو وہ ادائیگی کر دیا کرتے تھے۔ اسود نے کہا: اگر تم چاہو، تو میں تمہیں ایک مرتبہ تاخیر سے ادائیگی کروں گا کیونکہ اس مرتبہ اس تنخواہ میں مجھے کچھ دیگر اخراجات بھی پورے کرنے ہیں۔ تاجر نے ان سے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، تو اسود نے پانچ سو درہم اسے نقد ادا کر دیے یہاں تک کہ اس تاجر نے وہ اپنے قبضے میں لے لیے۔ پھر تاجر نے ان سے کہا: یہ آپ کے حوالے ہیں، آپ انہیں لے لیں۔ اسود نے اس سے دریافت کیا: پہلے جب میں نے تم سے یہ درخواست کی تھی، تو تم نے میری یہ بات نہیں مانی تھی؟ تاجر نے ان سے کہا: میں نے آپ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، آپ نے ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اللہ کے نام پر کسی کو دو مرتبہ قرض دیتا ہے، تو اسے ان دو میں سے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کا اجر ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) فضیل ابومعاذ نامی راوی فضیل بن میسرہ ہیں، یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابوحریز نامی راوی عبداللہ بن حصین ہیں، یہ سجستان کے قاضی تھے اور انہوں نے بصرہ میں حدیثیں بیان کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5040]

5041

Sahih Ibn Hibban #5041

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ ، فَقَالَ : لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَوَجَدُوا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : لا أَتْرُكُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بن حذیفہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اکثر قرض لیا کرتی تھیں، ان کے گھر والوں نے ان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور ناراضگی کا اظہار کیا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اسے ترک نہیں کروں گی کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہو کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کا وہ قرض ادا کروا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5041]

5042

Sahih Ibn Hibban #5042

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كَانَ رَجُلٌ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَإِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ ، قَالَ لِفَتَاهُ : تَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَقِيَ اللَّهَ ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے (زمانے میں) ایک تاجر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، وہ جب کسی تنگ دست کی تنگدستی دیکھتا تو اپنے نمائندے سے کہتا: اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5042]

5043

Sahih Ibn Hibban #5043

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَاينُ النَّاسُ ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ ، قَالَ : فَلَمَّا هَلَكَ ، قَالَ اللَّهُ :هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ قَالَ : لا ، إِلا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلامٌ ، وَكُنْتُ أُدَاينُ النَّاسَ ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى ، قُلْتُ لَهُ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوزُ عَنَّا ، قَالَ اللهُ تَعَّالى : قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ أَرَادَ بِهِ سِوَى الإِسْلامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا وہ اپنے نمائندوں سے یہ کہتا تھا، جو شخص خوشحال ہو اس سے قرض واپس لے لینا اور جو تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: کیا تم نے کبھی کوئی نیکی کی؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، البتہ میرا ایک غلام تھا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب میں اس غلام کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تھا، تو میں اس سے یہ کہتا تھا جو شخص آسانی سے دے دے اس سے وصول کر لینا اور جو شخص تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگزر کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق میں نے بھی تم سے درگزر کیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی“ اس سے مراد یہ ہے: اسلام قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی نیکی نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5043]

5044

Sahih Ibn Hibban #5044

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حُرَزَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلامٌ لَهُ ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ ، وَعَلَى غُلامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا مِنْ غَضَبٍ ، قَالَ : أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلانِ بْنِ فُلانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ ، فَقُلْتُ : أَثِمْتُ ؟ قَالُوا : لا ، فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ أَبُوكَ ؟ فَقَالَ : سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ ، فَقُلْتُ : اخْرُجْ إِلَيَّ ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ ، فَخَرَجَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ ؟ قَالَ : أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ ، ثُمَّ لا أَكْذِبُكَ ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ ، وَأَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ ، وَكُنْتُ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا ، قَالَ : قُلْتُ : آللَّهِ ؟ قَالَ : اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : آللَّهِ ؟ قَالَ : اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ : بِصَحِيفَتِهِ فَمَحَاهَا ، وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ ، وَإِلا فَأَنْتَ فِي حِلٍّ ، فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ "، أَبُو الْيَسَرِ : اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: میں اور میرے والد علم کے حصول کے لیے انصار کے پاس آئے، اس سے پہلے کہ وہ لوگ انتقال کر جائیں تو ہماری ملاقات سب سے پہلے سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ نے ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی، ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور ایک معافری چادر پہنی ہوئی تھی۔ میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے فلاں بن فلاں سے کچھ رقم لینی تھی، میں اس کے گھر آیا، میں نے دریافت کیا: کیا وہ یہاں ہے؟ گھر والوں نے جواب دیا: جی نہیں، پھر اس کا بیٹا نکل کر میرے پاس آیا، میں نے دریافت کیا: تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سن لی تھی، وہ اندر چلا گیا ہے۔ میں نے (اس آدمی کو مخاطب کر کے) کہا: تم نکل کر میرے پاس آؤ، مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو، وہ نکل کر میرے پاس آیا، میں نے دریافت کیا: تم کس وجہ سے چھپنے پر مجبور ہوئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں، میں آپ کے ساتھ غلط بیانی نہیں کروں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر (میں آپ کے سامنے آیا) اور میں نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو مجھے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنا پڑے گا، میں آپ کے ساتھ کوئی وعدہ کر لوں گا پھر اس کی خلاف ورزی کرنی پڑے گی۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں (اب میں آپ کے ساتھ اس طرح کرتا ہوا اچھا تو نہیں لگتا)، اللہ کی قسم! میں ایک تنگ دست شخص ہوں۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا صحیفہ لیا اور اسے مٹا دیا اور بولے: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش مل جائے تو ادا کر دینا ورنہ میری طرف سے یہ معاف ہے، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے (اسے) دیکھا، میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس بات کو محفوظ رکھا (انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی) کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا اسے ادائیگی (مکمل یا جزوی طور پر) معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا خاص سایہ عطا کرے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ کا نام کعب بن عمرو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5044]

5045

Sahih Ibn Hibban #5045

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی فراہم کرے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں آسانی فراہم کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5045]

5046

Sahih Ibn Hibban #5046

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ ، قَالَ لِفَتَاهُ : تَجَاوَزْ عَنْهُ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب وہ کسی تنگ دست شخص کو پاتا تو اپنے اہلکاروں سے یہ کہتا: تم اس سے درگزر کرو تاکہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر کرے، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5046]

5047

Sahih Ibn Hibban #5047

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلا أَنَّهُ كَانَ رَجُلا مُوسِرًا ، فَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ لِغُلامِهِ : تَجَاوَزْ عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِمَلائِكَتِهِ :نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ تَجَاوَزُوا عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص سے حساب لیا گیا تو اس کے حق میں کوئی بھی نیکی نہیں ملی، صرف یہ نیکی تھی کہ وہ ایک خوشحال شخص تھا، لوگوں سے لین دین کیا کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے یہ کہتا تھا: تم تنگ دست شخص سے درگزر کرنا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تم لوگ اس سے درگزر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5047]

5048

Sahih Ibn Hibban #5048

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ ، وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ : يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ ، قَالَ كَعْبٌ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : قُمْ فَاقْضِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابوحدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا تقاضا کیا جس کی ادائیگی ان کے ذمے تھی، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے اور یہ مسجد کا واقعہ ہے۔ ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں موجود رہتے ہوئے ان کی آواز سن لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکارا: ”اے کعب بن مالک!“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارہ کیا کہ ”تم اپنے قرض کا نصف حصہ معاف کر دو۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا ہی کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے فریق سے فرمایا): ”تم اٹھو اور (باقی رہ جانے والی رقم) ادا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5048]

5049

Sahih Ibn Hibban #5049

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُبَايعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ ، فَإِنَّهُ يُبَايعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لا أَصْبِرْ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ لِلْبَيْعِ ، فَقُلْ هَاءً ، وَهَاءً وَلا خِلابَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص خرید و فروخت کیا کرتا تھا جس کی زبان میں لکنت تھی۔ اس کے اہل خانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیجیے کیونکہ وہ خرید و فروخت کرتا ہے، اس کی قوت گویائی ٹھیک نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور خرید و فروخت کرنے سے منع کر دیا تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے خرید و فروخت ترک نہیں کرنی تو پھر یہ کہہ دیا کرو: یہ ہے اور یہ ہے اور کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحجر/حدیث: 5049]

5050

Sahih Ibn Hibban #5050

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُرُزِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَبْتَاعُ عَلَى عَهْدِ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَجَاءَ أَهْلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ هَاءً وَهَاءً وَلا خِلابَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور اس کی زبان میں لکنت تھی، اس کے اہل خانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیں کیونکہ وہ خرید و فروخت کرتا ہے اور اس کی زبان میں لکنت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع کر دیا، تو اس نے عرض کی: یا نبی اللہ! میرا خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم خرید و فروخت کو ترک نہیں کرتے تو پھر یہ کہہ دیا کرو: «هَا وَهَا، وَلَا خِلَابَةَ» ”یہ ہے اور یہ ہے اور کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحجر/حدیث: 5050]

5051

Sahih Ibn Hibban #5051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ لَهُ : مَنْ بَايَعْتَ ، فَقُلْ : لا خِلابَةَ "، وَكَانَ إِذَا بَايَعَ ، يَقُولُ : لا خِلابَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا کہ اسے خرید وفروخت میں دھوکا ہو جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جس کے ساتھ تم کوئی سودا کرو تو یہ کہہ دیا کرو: «لَا خِلَابَةَ» ”کوئی دھوکا نہیں چلے گا“۔“ تو جب وہ شخص کوئی سودا کرتا تھا تو وہ یہی کہہ دیتا تھا: ”کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحجر/حدیث: 5051]

5052

Sahih Ibn Hibban #5052

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَنْخَدِعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا بِعْتَ ، فَقُلْ : لا خِلابَةَ "قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا ابْتَاعَ ، يَقُولُ : لا خِلابَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جسے کاروبار میں دھوکہ ہو جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کوئی خرید و فروخت کرو، تو یہ کہہ دو: «لَا خِلَابَةَ» ”کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔“”راوی کہتے ہیں: تو جب وہ شخص کوئی چیز فروخت کرتا تھا تو یہ کہہ دیتا تھا: «لَا خِلَابَةَ» ”کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحجر/حدیث: 5052]

5053

Sahih Ibn Hibban #5053

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خوشحال شخص کا (ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی کو وصولی کے لیے کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے تو اسے اس (دوسرے شخص) کے پیچھے جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحجر/حدیث: 5053]