Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 44 · Chapter 3

Book of Beverages

Hadith 4980–5013

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4980

Sahih Ibn Hibban #4980

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے، جب تک وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرا یہ خیال ہے کہ ہر چیز کی حیثیت اناج کی طرح ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن دینار نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4980]

4981

Sahih Ibn Hibban #4981

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا ، وَمَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھل کو اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے اور جو شخص کوئی اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4981]

4982

Sahih Ibn Hibban #4982

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّانَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جُزَافًا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم پہلے (تجارتی) سواروں سے اندازے کے تحت ڈھیر خرید لیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا کہ ”ہم اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کریں جب تک اس کی جگہ سے اسے (دوسری جگہ) منتقل نہ کر دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4982]

4983

Sahih Ibn Hibban #4983

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِصْمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي الْمَتَاعَ ، فَمَا الَّذِي يَحِلُّ لِي مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِذَا ابْتَعْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مَشْهُورٌ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، وَهَذَا خَبَرٌ غَرِيبٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جو کوئی سامان خریدتا ہے تو اس میں سے کیا چیز میرے لیے حلال ہے اور کیا چیز مجھ پر حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرو جب تک اسے اپنے قبضے میں نہ لے لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت یوسف بن مالک کے حوالے سے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر مشہور ہے، اس میں عبداللہ بن عصمہ نامی راوی کا ذکر نہیں ہے اور یہ روایت ”غریب“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4983]

4984

Sahih Ibn Hibban #4984

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ بِزَيْتٍ فَسَاوَمْتُهُ فِيمَنْ سَاوَمَهُ مِنَ التُّجَّارِ حَتَّى ابْتَعْتُهُ مِنْهُ ، فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ ، فَأَرْبَحَنِي حَتَّى أَرْضَانِي ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ لأَضْرِبَ عَلَيْهِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ بِذِرَاعِي مِنْ خَلْفِي ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لِي :لا تَبِعْهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَأَمْسَكْتُ يَدَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ شام سے ایک شخص زیتون کا تیل لے کر آیا، جن تاجروں نے اس کی قیمت لگائی تھی ان کے ساتھ میں نے بھی بولی میں حصہ لیا، یہاں تک کہ میں نے وہ تیل اس سے خرید لیا۔ پھر ایک شخص میرے پاس آ کر کھڑا ہوا اور مجھے زیادہ معاوضہ دینے لگا، یہاں تک کہ اس نے مجھے راضی کر لیا۔ میں اپنا ہاتھ اس پر مارنے ہی لگا تھا (یعنی سودا طے کرنے ہی لگا تھا) کہ اسی دوران میرے پیچھے سے کسی نے میری کلائی پکڑ لی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”تم اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک تم اسے اپنی مخصوص جگہ تک منتقل نہیں کر دیتے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) تو میں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4984]

4985

Sahih Ibn Hibban #4985

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَعْنِي ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ : اشْتَرَيْتُ طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَةِ ، فَأَرْبَحْتُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَهُ ، فَأَرَدْتُ بَيْعَهُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے صدقے کے اناج میں سے کچھ اناج خریدا، اس کو قبضے میں لینے سے پہلے ہی مجھے اس کا منافع ملنے لگا، میں نے اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا، میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک اپنے قبضے میں نہیں لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4985]

4986

Sahih Ibn Hibban #4986

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بَنُ الصَّبَاحِ الدُّولابِيُّ مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ، قَالَ : وَنَهَى أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُحَوِّلَهُ مِنْ مَكَانِهِ أَوْ يَنْقُلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک اسے پوری طرح قبضے میں نہ لے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اسے دوسری جگہ منتقل کرنے سے پہلے ہی فروخت کر دے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4986]

4987

Sahih Ibn Hibban #4987

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَصْحَابَ الطَّعَامِ يَضْرِبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا مُجَازَفَةً فَبَاعُوهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں نے دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اناج والے ان افراد کی پٹائی کی جاتی تھی، جب وہ اندازے کے تحت کوئی اناج خرید کر اسے اپنی مخصوص جگہ تک منتقل کرنے سے پہلے ہی آگے فروخت کر دیتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4987]

4988

Sahih Ibn Hibban #4988

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطْعَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جب تک وہ (کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4988]

4989

Sahih Ibn Hibban #4989

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحوضيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے۔“ (یعنی وہ پک نہ جائے) [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4989]

4990

Sahih Ibn Hibban #4990

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ، قِيلَ : وَمَا تُزْهِي ؟ قَالَ : حَتَّى تَحْمَرَّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ بہتر نہ ہو جائے۔ ان سے دریافت کیا گیا بہتر ہونے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب تک وہ سرخ نہ ہو جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ تعالیٰ اس پھل (کی پیداوار) کو روک لے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص کس بنیاد پر اپنے بھائی کے مال کو حاصل کرے گا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4990]

4991

Sahih Ibn Hibban #4991

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کی صلاحیت نمودار ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فروخت کرنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4991]

4992

Sahih Ibn Hibban #4992

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ ، قَالَ زَيْدٌ حَدَّثَنَا وَهُوَ عِنْدَ عَطَاءٍ جَالِسٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُشْقِحَ ، وَالإِشْقَاحُ أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ "، قَالَ زَيْدٌ : فَقُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ ذَلِكَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الشَّيْخُ : أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ رَوَى عَنْهُ أَبُو حَنِيفَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ)، «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ)، «الْمُخَابَرَةِ» (مخابرہ) اور درخت پر لگی ہوئی کھجور کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کا رنگ تبدیل نہ ہو جائے، رنگ تبدیل ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے یا کھانے کے قابل ہو جائے۔“ زید بن ابوانیسہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء بن ابی رباح سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے خود سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ شیخ کہتے ہیں: ابوولید نامی یہ راوی سعید بن میناء ہے جس کے حوالے سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4992]

4993

Sahih Ibn Hibban #4993

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کا رنگ تبدیل نہ ہو جائے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دانے کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ سخت نہ ہو جائے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”انگور کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ سیاہ نہ ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4993]

4994

Sahih Ibn Hibban #4994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ مِنَ الْعَاهَةِ ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سنبل (بالی) کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ سفید نہ ہو جائے اور آفت سے محفوظ نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے اور خریدار (دونوں کو) منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4994]

4995

Sahih Ibn Hibban #4995

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کئی سالوں (کے بعد ادائیگی کی شرط والے) سودے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4995]

4996

Sahih Ibn Hibban #4996

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مُزَابَنَہ اور مُحَاقَلَہ سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4996]

4997

Sahih Ibn Hibban #4997

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَيْعِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، فَقَالَ :" أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا جَفَّ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلا إِذَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْبَيْضَاءُ الرُّطَبُ مِنَ السُّلْتِ بِالْيَابِسِ مِنَ السُّلْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک قسم کے جو کی دوسری قسم کے جو کے عوض فروخت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تر کھجور کے عوض خشک کھجور کا سودا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تر کھجور سوکھنے پر کم نہیں ہو جاتی؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسا نہیں ہو گا (یعنی یہ درست نہیں ہو گا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے: تر جو کو خشک جو کے عوض میں فروخت کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4997]

4998

Sahih Ibn Hibban #4998

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ كَيْلا ، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزابنہ سے منع کیا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) مزابنہ سے مراد یہ ہے: کھجور کو کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے اور انگور کو کشمش کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4998]

4999

Sahih Ibn Hibban #4999

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلا ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ ، وَعَنْ بَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور انگور کو کشمش کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور (گندم کے) کھیت کو گندم کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4999]

5000

Sahih Ibn Hibban #5000

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِلانَ بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُعَاوَمَةِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“، «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ اور «الْمُعَاوَضَةِ» ”معاوضہ“ سے منع فرمایا ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرَايَا» ”عرایا“ کے بارے میں اجازت دی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5000]

5001

Sahih Ibn Hibban #5001

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے شخص کو رخصت دی ہے کہ ”وہ اندازے کے تحت کھجوروں کو فروخت کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5001]

5002

Sahih Ibn Hibban #5002

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالثَّمَرِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا ، وَالْعَرِيَّةُ أَنْ يَأْكُلَهَا أَهْلُهَا رُطَبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھل کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرِيَّةُ» (عریہ) کے بارے میں اجازت دی ہے، اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے“ «الْعَرِيَّةُ» (عریہ) یہ ہے: اس کے اہل خانہ تازہ کھجوریں کھا لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5002]

5003

Sahih Ibn Hibban #5003

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الْبَيْضَاءُ ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ يَبِسِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، " فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعیاش زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جو کی ایک قسم کے عوض میں دوسری قسم کے لین دین کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے دریافت کیا کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سفید والا، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» ”کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہے؟“ سائل نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5003]

5004

Sahih Ibn Hibban #5004

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عرایا کو اندازے کے تحت (فروخت کرنے) کی اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5004]

5005

Sahih Ibn Hibban #5005

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو اندازے کے تحت فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5005]

5006

Sahih Ibn Hibban #5006

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الشَّكُّ مِنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ فِي أَحَدِ الْعَدَدَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے کہ ”وہ پانچ وسق سے کم ہو“ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) ”وہ پانچ وسق ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں میں سے کسی ایک عدد کے بارے میں یہ شک داؤد بن حصین نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5006]

5007

Sahih Ibn Hibban #5007

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «عَرَايَا» کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ پانچ «وَسْق» سے کم ہو (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) پانچ «وَسْق» ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5007]

5008

Sahih Ibn Hibban #5008

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَأَذِنَ لِلْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا ، يَقُولُ : الْوَسْقُ ، وَالْوَسْقَيْنِ ، وَالثَّلاثَةُ ، وَالأَرْبَعَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جب آپ نے عرایا کے بارے میں اجازت دی کہ اسے اندازے کے تحت فروخت کر سکتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسے اس وقت فروخت کر سکتے ہیں) جب کہ وہ ایک وسق ہو یا دو وسق ہو، یا تین ہو یا چار ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5008]

5009

Sahih Ibn Hibban #5009

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عرایا کو (اندازے کے تحت) فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ کے بارے میں اجازت نہیں دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5009]

5010

Sahih Ibn Hibban #5010

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا ، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : لا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ، فَقُلْتُ : لا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُحْيِيَكَ ، قَالَ : إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ ، ثُمَّ يَبْعَثُنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ أَعْطَيْتُكَ ، فَقُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا الآيَةَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنْ سَبَقَ إِلَى قَلْبِ الْمُسْتَمِعِينَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ إِبَاحَةُ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ وَبَيْعُ الْمُسْلِمِ الْحَرْبِيَّ مَا يَتَقَوَّى بِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَلْيَعْلَمْ أَنَّ هَذَا اسْتِنْبَاطٌ ضَعِيفٌ وَاسْتِدْلالٌ تَالِفٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِي عَمِلَ خَبَّابٌ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّيْفَ فِيهِ لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ فِيهِ آيَةَ الْقِتَالِ ، وَلا فَرَضَ الْجِهَادَ ، لأَنَّ فَرْضَ الْجِهَادِ وَالأَمْرَ بِقِتَالِ الْمُشْرِكِينَ كَانَ بَعْدَ إِخْرَاجِ أَهْلِ مَكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَسَبِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ ، وَهَذِهِ الْقِصَّةُ كَانَتْ بِمَكَّةَ قَبْلَ فَرْضِ اللَّهِ الْجِهَادَ عَلَى النَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل کے لیے تلوار بنائی، میں اس کے پاس (اس کی قیمت کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا، تو اس نے کہا: میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرتے۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں موت دے کر دوبارہ زندگی نہیں دیتا۔ اس نے کہا: جب اللہ تعالیٰ مجھے موت دے کر دوبارہ زندگی دے گا اس وقت میرے پاس مال بھی ہو گا اور اولاد بھی ہو گی، تو میں تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ (سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77] ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے: مجھے عنقریب مال اور اولاد دیے جائیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر ان الفاظ کو سننے والے افراد کا دل اس طرف چلا جائے یعنی یہ الفاظ کہ میں نے عاص بن وائل کے لیے تلوار بنائی اور پھر میں اس کے پاس (اس کے معاوضے کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا (تو اس کو سننے والا یہ سمجھے) کہ دار الحرب میں تجارت کرنا مباح ہے اور مسلمان کا حربی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا مباح ہے جبکہ وہ اس کی قیمت کے ذریعے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے، تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ کمزور استنباط اور نقصان دہ استدلال ہو گا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے عاص بن وائل کے لیے یہ کام تلوار بنائی تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے قتال کے حکم سے متعلق آیت نازل نہیں کی تھی اور جہاد کو فرض قرار نہیں دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کی فرضیت اور مشرکین سے قتال کرنے کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے اس بات کا ذکر کر چکے ہیں اور (سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا) یہ واقعہ مکہ کا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے لوگوں پر جہاد کو فرض کرنے سے پہلے کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5010]

5011

Sahih Ibn Hibban #5011

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامًا لَهُ بِصَاعِ شَعِيرٍ ، فَقَالَ : بِعْهُ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلامُ وَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ انْطَلَقَ فَرُدَّهُ وَلا تَأْخُذْ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلا بِمِثْلٍ " ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معمر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو جو کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور فرمایا: تم اسے فروخت کرو اور اس کے بدلے میں جو خرید کر لے آؤ۔ وہ لڑکا گیا، اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ جو حاصل کر لیے۔ جب وہ معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم جاؤ اور انہیں واپس کرو اور صرف برابر وصول کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اناج کے عوض میں اناج کا لین دین برابر ہو گا۔“ اور اس زمانے میں ہمارا اناج جو ہوا کرتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5011]

5012

Sahih Ibn Hibban #5012

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دینار کے عوض میں دینار، درہم کے عوض میں درہم (کا لین دین کرتے ہوئے) کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5012]

5013

Sahih Ibn Hibban #5013

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِئَةِ دِينَارٍ : قَالَ : فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، وَقَالَ : حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سو دینار کی بیعِ صرف کرنا چاہی، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، ہم دونوں نے سودا طے کر لیا، انہوں نے میرے ساتھ بیعِ صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا، وہ اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ (جنگل) سے آتا ہے (تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں)۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو، اور جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5013]