Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 44 · Chapter 2

Book of Beverages

Hadith 4940–4979

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4940

Sahih Ibn Hibban #4940

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ، فقال : زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت (کھانے کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4940]

4941

Sahih Ibn Hibban #4941

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَهْرَ الْبَغِيِّ وَثَمَنَ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ وَكَسْبِ الْحَجَّامِ مِنَ السُّحْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، بلی کی قیمت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی حرام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4941]

4942

Sahih Ibn Hibban #4942

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، ثُمَّ إِنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ شُرْبَهَا ؟ " فَسَارَ الرَّجُلُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " بِمَ سَارَرْتَهُ ؟ " فَقَالَ : أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعُهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّالَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا "، فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن وعلہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو انگور میں سے نچوڑا جاتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پینے کو حرام قرار دے دیا ہے؟“ اس شخص نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص سے سرگوشی میں کوئی بات کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس کے ساتھ سرگوشی میں کیا بات کی ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے اسے ہدایت کی ہے کہ یہ اس کو فروخت کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بیشک (اللہ تعالیٰ نے) جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا ہے، اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔“ تو اس شخص نے اس مشکیزے کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ اس میں موجود سب کچھ ختم ہو گیا۔ (یعنی نیچے گر گیا) [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4942]

4943

Sahih Ibn Hibban #4943

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات جب نازل ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4943]

4944

Sahih Ibn Hibban #4944

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلالٌ ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَأَقْبَلَ بِهَا عَلَى بَعِيرٍ حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَقَالَ : مَا هَذَا مَعَكَ ؟ " قَالَ : رَاوِيَةٌ مِنْ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ ، قَالَ : " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَهَا ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا " ، فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَقَامَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاذَا قُلْتَ لَهُ ؟ " قَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا ، قَالَ : " إِنَّالَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا "، قَالَ : فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ ، فَخَرَجْتُ فِي التُّرَابِ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا، ایک شخص (اپنے گھر سے) نکلا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کرنا تھا، وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف فرما پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے ساتھ کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: شراب کا مشکیزہ ہے جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔“ تو وہ شخص اونٹ کو لے کر چلنے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے پست آواز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس سے کیا کہا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس کو فروخت کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس چیز کے پینے کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس کے فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص نے حکم دیا، اس مشکیزے کا منہ کھول دیا گیا اور اس میں سے شراب نکل کر مٹی میں مل گئی، میں کھلے میدان میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس مشکیزے میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4944]

4945

Sahih Ibn Hibban #4945

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ وَآخَرَ مَعَهُمْ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالَ : إِنِّي يَوْمَئِذٍ أَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلا ، قَالَ : فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا ، وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتِ السِّكَكُ تَمْتَنِعُ مِنْ رِيحِهَا ، قَالَ أَنَسٌ : وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ ؟ فَجَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا ، أَفَتَرَى أَنْ أَبِيعَهُ ، فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " ، وَلَمْ يَأْذَنْ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس دن شراب کو حرام قرار دیا گیا، میں اس دن گیارہ آدمیوں کو شراب پلا رہا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (جب اس کی حرمت کا حکم پہنچ گیا) تو ان لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس شراب کو گرا دوں۔ لوگوں نے اپنے برتنوں میں موجود شراب کو بھی گرا دیا یہاں تک کہ اس شراب کی بو کی وجہ سے گلیوں میں سے گزرنا مشکل ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں شراب صرف خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے، میں نے اس کے ذریعے شراب خریدی ہوئی ہے، آپ کی کیا رائے ہے، میں اسے فروخت کر کے اس یتیم کا مال اسے واپس کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے، جب ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔“ (راوی کہتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شراب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4945]

4946

Sahih Ibn Hibban #4946

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حمل کے حمل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4946]

4947

Sahih Ibn Hibban #4947

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ هُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ الْمَرْءُ بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُوَفِّرَ ثَمَنَهُ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ نَاقَةُ الْفُلانِيَّةِ ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا ، فَهَذَا أَجَلٌ يَتَلَقَّاهُ غَرَرَانِ اثْنَانِ ، وَلا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ سودا کیا کرتے تھے۔ ایک شخص اونٹ کو یوں خریدتا تھا کہ جب اس اونٹنی کے ہاں بچہ ہوگا اور پھر اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ہاں بچہ ہوگا، (تو اس وقت ادائیگی کی جائے گی)، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمل کے حمل کو فروخت کرنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے: ایک شخص کوئی اونٹ خریدتا ہے اس شرط پر کہ وہ اس کی پوری قیمت اس وقت ادا کرے گا جب فلاں اونٹنی کے ہاں بچہ ہو جائے گا اور اس کے ہونے والے بچے کے ہاں بچہ ہو جائے گا تو یہ اس کی طے شدہ مدت ہوتی تھی۔ اس میں دو قسم کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4947]

4948

Sahih Ibn Hibban #4948

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الْوَلاءِ ، وَعَنْ هِبَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4948]

4949

Sahih Ibn Hibban #4949

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الْوَلاءِ ، وَعَنْ هِبَتِهِ "، قَالَ زُهَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي بِهِ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے“۔ زہیر نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت عبداللہ بن دینار کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے اسی کی مانند مجھے سنائی ہے، ان کا نام عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4949]

4950

Sahih Ibn Hibban #4950

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ ، لا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء، نسبی رشتے کی طرح ایک پختہ تعلق ہے، جسے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4950]

4951

Sahih Ibn Hibban #4951

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کے سودے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4951]

4952

Sahih Ibn Hibban #4952

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو أَبَا الْمِنْهَالِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الْمَاءِ "، لا يَدْرِي عَمْرٌو أَيَّ مَاءٍ هُوَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پانی کو فروخت کرنے“ سے منع کیا ہے۔ عمرو (نامی راوی) کو یہ نہیں معلوم کہ اس سے مراد کون سا پانی ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4952]

4953

Sahih Ibn Hibban #4953

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اضافی پانی کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں گھاس اُگنا بند ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4953]

4954

Sahih Ibn Hibban #4954

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ الْمَاءَ الَّذِي لا يَقَعُ فِيهِ الْحَوْزُ وَلا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ مَا دَامَ مَشَاعًا مِثْلَ الْمِيَاهِ الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرِكَةِ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ الْمَاءُ الَّذِي يَكُونُ لِلْمَرْءِ فِي الْبَادِيَةِ مِنْ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَيَنْتَفِعُ بِهِ ، وَيَمْنَعُ النَّاسَ مَا فَضَلَ عَنْهُ ، فَنُهِيَ عَنْ مَنْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا فَضَلَ مِنْ مَائِهِ بَعْدَ قَضَاءِ حَاجَتِهِ عَنْهُ ، لأَنَّ فِي مَنْعِهِ ذَلِكَ مَنْعَ النَّاسِ عَنِ الْكَلإِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اضافی پانی سے منع نہ کیا جائے ورنہ اس کے نتیجے میں گھاس کا اگنا بند ہو جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں حوض واقع نہ ہو (یعنی اس کے اردگرد چار دیواری کھڑی نہ ہو)، کوئی ایک شخص تنہا اس کا مالک نہ ہو اور وہ لوگوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہو، جو بہتے ہوئے پانی کی مانند مشترک ہوتا ہے اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ پانی ہو جو جنگل میں کنویں یا چشمے کا ہو اور اس کے ذریعے نفع حاصل کیا جاتا ہو، پھر کوئی آدمی اضافی پانی کے استعمال سے لوگوں کو منع کر دے؛ اور اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد مسلمانوں کو اضافی پانی استعمال کرنے سے روک دیا جائے کیونکہ اس سے روکنے کے نتیجے میں لوگوں کو گھاس ملنے سے روکنا بھی لازم آئے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4954]

4955

Sahih Ibn Hibban #4955

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ ، يَعْنِي فَضْلَ الْمَاءِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُمُّهُ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَكَانَتْ مِنْ أَعْلَمِ النِّسَاءِ بِحَدِيثِ عَائِشَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”کنویں کے «نَقْع» سے منع کیا جائے۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد اضافی پانی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن عبدالرحمن نامی راوی کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ ہیں، یہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول احادیث کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی خاتون ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4955]

4956

Sahih Ibn Hibban #4956

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَيْوَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى غِفَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ ، وَلا تَمْنَعُوا الْكَلأَ ، فَيَهْزُلَ الْمَاءُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اضافی پانی سے منع نہ کرو اور گھاس سے منع نہ کرو ورنہ مال (یعنی زرعی زمین) ختم ہو جائے گی اور بال بچے بھوکے رہ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4956]

4957

Sahih Ibn Hibban #4957

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيَاضِ الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کی بیاض“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4957]

4958

Sahih Ibn Hibban #4958

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ هُوَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْتَلَقِّي الْبُيُوعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(منڈی سے باہر ہی) سوداگروں سے ملنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4958]

4959

Sahih Ibn Hibban #4959

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى تَهْبِطَ الأَسْوَاقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تاجروں کو (منڈی سے باہر ہی) ملنے سے منع کیا ہے جب تک وہ بازار نہیں پہنچ جاتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4959]

4960

Sahih Ibn Hibban #4960

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَدَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری شخص کسی دیہاتی کے لیے ہرگز سودا نہ کرے، تم لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4960]

4961

Sahih Ibn Hibban #4961

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى عَنِ التَّلَقِّي ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ الْمُهَاجِرُ لِلأَعْرَابِيِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”آپ نے (منڈی سے باہر ہی) سوداگروں سے ملنے سے منع کیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مہاجر شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا کرے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4961]

4962

Sahih Ibn Hibban #4962

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَقَالَ : لا تَلَقُّوا الْبُيُوعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری شخص کسی دیہاتی کے لیے سودا کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سوداگروں کو (منڈی سے باہر) نہ ملو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4962]

4963

Sahih Ibn Hibban #4963

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے ہرگز سودا نہ کرے، تم لوگوں کو (ان کے حال پر) رہنے دو، انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق ملتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4963]

4964

Sahih Ibn Hibban #4964

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، تم لوگوں کو (ان کے حال پر) رہنے دو، اللہ تعالیٰ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4964]

4965

Sahih Ibn Hibban #4965

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4965]

4966

Sahih Ibn Hibban #4966

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلا بِإِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، البتہ اس کی اجازت کے ساتھ کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4966]

4967

Sahih Ibn Hibban #4967

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَدِمَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِينَ حِمْلِ شَعِيرٍ وَتَمْرٍ ، فَسَعَّرَ مُدًّا بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ فِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ طَعَامٌ غَيْرُهُ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَ النَّاسَ قَبْلَ ذَلِكَ جُوعٌ لا يَجِدُونَ فِيهِ طَعَامًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ يَشْكُونَ إِلَيْهِ غَلاءَ السِّعْرِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : لا أَلْقَيَنَّ اللَّهَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُعْطِيَ أَحَدًا مِنْ مَالِ أَحَدٍ مِنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ ، إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ، وَلَكِنَّ فِي بُيُوعِكُمْ خِصَالا أَذْكُرُهَا لَكُمْ ، لا تُضَاغِنُوا ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَحَاسَدُوا ، وَلا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَالْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک یہودی تئیس اونٹوں پر لاد کر جو اور کھجوریں لے آیا، اس نے ایک مد کی قیمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے زیادہ مقرر کر دی، ان دنوں لوگوں کے پاس اس کے علاوہ اناج حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس سے پہلے وہ بھوک کا شکار ہو چکے تھے، انہیں اس دوران اناج نہیں ملتا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں ہرگز حاضر نہیں ہوں گا کہ میں نے کسی کا مال اس کی ناپسندیدگی کے ساتھ کسی دوسرے کو دیا ہو۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے، تاہم تمہاری خرید و فروخت میں کچھ چیزیں ہیں جن کے حوالے سے میں تمہیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں: تم ایک دوسرے کے لیے کینہ نہ رکھو، ایک دوسرے کے مقابلے میں بولی نہ لگاؤ، آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور شہری شخص دیہاتی کے لیے ہرگز (کوئی چیز) فروخت نہ کرے۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے، تم اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کے رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4967]

4968

Sahih Ibn Hibban #4968

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّجْشِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مصنوعی بولی لگانے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4968]

4969

Sahih Ibn Hibban #4969

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ اللِّقْحَةَ أَوِ الشَّاةَ فَلا يُحَفِّلْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے لگے، تو وہ اس کا تصریہ نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4969]

4970

Sahih Ibn Hibban #4970

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اونٹنیوں اور بکریوں کا «تَصْرِيَة» (تھنوں میں دودھ روکنا) نہ کرو، اور جو شخص اس کے بعد اسے خرید لے، اسے دو میں سے ایک چیز کا اختیار ہوگا؛ اس کا دودھ دوہ لینے کے بعد اگر وہ پسند کرے تو اس جانور کو اپنے پاس رہنے دے اور اگر ناپسند کرے تو اسے واپس کر دے اور کھجور کا ایک صاع بھی دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4970]

4971

Sahih Ibn Hibban #4971

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالثُّنَيَّا ، إِلا أَنْ تُعْلَمَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ في غَيْرِ الزُّهْرِيُّ ثَبْتٌ ، فَإِنَّمَا اخْتَلَطَ عَلَيْهِ صَحِيفَةُ الزُّهْرِيِّ ، فَكَانَ يَهِمُ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(غیر متعین) استثناء سے منع کیا ہے، البتہ جب اس کے بارے میں تعین کر لیا جائے (تو حکم مختلف ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سفیان بن حصین نامی راوی زہری کے علاوہ نقل کرنے میں ثبت ہے، تاہم زہری کے صحیفے کے حوالے سے وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اس میں سے نقل کرتے ہوئے وہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4971]

4972

Sahih Ibn Hibban #4972

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الْغَرَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4972]

4973

Sahih Ibn Hibban #4973

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے ”ایک بیع میں دو بیع کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4973]

4974

Sahih Ibn Hibban #4974

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایک ہی سودے میں دو سودے کر لیتا ہے، تو اس کے حصے میں یا تو نقصان آئے گا یا سود آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4974]

4975

Sahih Ibn Hibban #4975

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4975]

4976

Sahih Ibn Hibban #4976

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعَتَيْنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " ، فَالْمُنَابَذَةُ هُوَ أَنْ يَقُولَ : إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ ، وَلا يَنْشُرُهُ ، وَلا يُقَلِّبُهُ ، يَقُولُ : إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الْمُشْتَرِي ثَوْبًا إِلَى الْبَائِعِ ، وَيَنْبِذَ الْبَائِعُ إِلَى الْمُشْتَرِي ثَوْبًا لِيَبِيعَ أَحَدَهُمَا وَصَلَهُ عَلَى أَنَّهُمَا إِذَا وَقَفَا بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الطُّولِ وَالْعَرْضِ لا يَكُونُ لَهُمَا الْخِيَارُ إِلا ذَلِكَ النَّبْذُ فَقَطْ ، وَالْمُلامَسَةُ أَنْ يَلْمِسَ الْمُشْتَرِي الثَّوْبَ ، ثُمَّ يَشْتَرِيَهُ عَلَى أَنْ لا خِيَارَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَشَرَهُ وَقَلَّبَهُ سِوَى ذَلِكَ اللَّمْسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع کیا ہے: ” «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ““۔ (راوی کہتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ جب میں تمہاری طرف یہ کپڑا پھینکوں گا، تو سودا طے ہو جائے گا۔ «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوئے، اسے کھولے نہیں، اسے پلٹے نہیں اور یہ کہے کہ جیسے ہی اسے چھو لیا تو سودا لازم ہو جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو فروخت کرنے والے کی طرف پھینکے اور فروخت کرنے والا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینکے تاکہ ان دونوں کا آپس میں سودا طے ہو جائے، اس شرط پر کہ جب وہ اس کے بعد کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی پر واقف ہوں تو انہیں سودا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہ ہو، صرف یہ پھینکنا ہی (سودا طے ہونے کی نشانی ہو)۔ «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو چھو لے تو پھر اسے خریدے اس شرط پر کہ اس کے بعد اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا، یعنی جب وہ اسے کھولے گا اور جب اسے الٹائے گا (تو اختیار نہیں ہو گا)، صرف چھونا کافی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4976]

4977

Sahih Ibn Hibban #4977

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْبَيْعِ الْحَصَاةِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : بَيْعُ الْحَصَاةِ ، أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ إِلَى قَطِيعِ غَنَمٍ أَوْ عَدَدِ دَوَابَّ أَوْ جَمَاعَةِ رَقِيقٍ ، ثُمَّ يَقُولُ لِلْبَائِعِ : اخْذِفْ بِحَصَاتِي هَذِهِ ، فَكُلُّ مَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ حَصَاتِي هَذِهِ فَهُوَ لِي بِكَذَا وَكَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کنکریوں والی بیع کرنے سے منع کیا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کنکریوں والی بیع یہ ہے، آدمی بکریوں کے ریوڑ کے پاس یا کچھ جانوروں کے گروہ کے پاس آتا ہے اور پھر وہ فروخت کرنے والے سے کہتا ہے: ”میں یہ کنکری پھینکوں گا، تو جس پر بھی یہ کنکری گری وہ اتنی، اتنی رقم کے عوض میں میرا ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4977]

4978

Sahih Ibn Hibban #4978

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا ، فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمْلَيْنَا هَذَا الْخَبَرَ فِي هَذَا النَّوْعِ ، لأَنَّ لَهُ مَدْخَلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَنَّ الْمَرْءَ مَمْنُوعٌ أَبَدًا أَنْ يَبِيعَ الطَّعَامَ الَّذِي اشْتَرَاهُ قَبْلَ الْقَبْضِ لَهُ ، وَالْمَدْخَلُ الثَّانِي أَنَّ الْمَرْءَ مَمْنُوعٌ عَنْ هَذَا الْفِعْلِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكَلِّ ، وَهُوَ بَعْدَ اشْتِرَائِهِ قَبْلَ الْقَبْضِ لا قَبْلَ اشْتِرَائِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اناج خریدے، تو وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے پوری طرح (اپنے قبضے میں نہ لے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم نے یہ روایت اس قسم میں اس لیے املا کروائی ہے کیونکہ اس میں دو پہلو ہیں، ان میں سے ایک پہلو یہ ہے: آدمی کے لیے یہ بات ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے کہ جو سودا اس نے خریدا ہے، اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت کرے، دوسرا پہلو یہ ہے: آدمی کو اس فعل سے بعض حالتوں میں منع کیا گیا ہے، ہر حالت میں یہ منع نہیں ہے اور اس سے مراد قبضے میں لینے سے پہلے خریدنا ہے، خریدنے سے پہلے ایسا کرنا مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4978]

4979

Sahih Ibn Hibban #4979

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی اناج خریدے وہ اسے اس وقت تک (آگے) فروخت نہ کرے جب تک وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4979]