Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 44 · Chapter 1

Book of Beverages

Hadith 4899–4939

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4899

Sahih Ibn Hibban #4899

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ ، فَقَالَ :" احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَبَسَهَا عُمَرُ عَلَى السَّائِلِ ، وَالْمَحْرُومِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَجَعَلَ قَيِّمَهَا يَأْكُلُ وَيُؤْكِلُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ثَمْغ» میں موجود زمین کو صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو (اللہ کی) راہ میں دے دو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مانگنے والے، محروم، مسافر اور اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والے افراد)، غلاموں اور مسکینوں کے لیے مخصوص کر دیا، اور آپ نے اس کے نگران کو اس بات کا حق دیا کہ وہ خود بھی اس کو کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی کھلا سکتا ہے جبکہ وہ مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4899]

4900

Sahih Ibn Hibban #4900

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ بِثَمْغٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهِ تَقْسِمُ ثَمَرَهُ ، وَتَحْبِسُ أَصْلَهُ ، لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لیا کہ وہ اپنے ”ثمغ“ میں موجود مال (یعنی زمین) کو صدقہ کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے صدقہ کر دو، یوں کہ تم اس کے پھل کو تقسیم کر دو اور زمین کو اپنے پاس رہنے دو جسے فروخت نہ کیا جا سکے اور ہبہ نہ کیا جا سکے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4900]

4901

Sahih Ibn Hibban #4901

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ 2 ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ قَطُّ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا ؟ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى أَنَّهُ لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ ، فَتَصَدَّقْ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الْغُرَبَاءِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَفِي الضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ "، قَالَ : وَقَالَ مُحَمَّدٌ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا، انہوں نے عرض کی: مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھے کیا ہدایت فرماتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے (پھل اور آمدن کو) صدقہ کر دو۔“ اس شرط پر کہ اس زمین کو صدقہ نہیں کیا جائے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا اور اسے وراثت میں منتقل نہیں کیا جائے گا، تم (اس کے پھل کو) غریبوں میں، مسافروں میں، غلاموں میں، اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والوں میں)، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کرو، جو شخص اس کا نگران ہو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے خود کھا لیتا ہے یا کسی دوست کو کھلا دیتا ہے جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں محمد نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4901]

4902

Sahih Ibn Hibban #4902

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الْمَرْءُ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلاثٌ ، وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا ، وَعَمَلٌ يُعْمَلُ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی مرنے کے بعد جو کچھ چھوڑ کر جاتا ہے، اس میں سے تین چیزیں سب سے بہتر ہیں: وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے، وہ صدقہ جو جاریہ ہو جس کا اجر اس تک پہنچتا رہے اور وہ نیک عمل جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4902]

4903

Sahih Ibn Hibban #4903

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا ، إِذَا بَاعَ سَمْحًا ، إِذَا اشْتَرَى سَمْحًا ، سَمْحًا إِذَا قَضَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جو فروخت کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے، خریدتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے، تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے اور ادائیگی کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4903]

4904

Sahih Ibn Hibban #4904

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذِبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد کو (سودا ختم کرنے کا) اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، اگر وہ دونوں سچ بولیں اور بیان کریں تو ان کے سودے میں ان کے لیے برکت رکھی جاتی ہے اور اگر وہ دونوں جھوٹ بولیں اور (سودے کی خامی کو) چھپائیں تو ان کے سودے سے برکت کو مٹا دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4904]

4905

Sahih Ibn Hibban #4905

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ ، فَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِيهَا ، فَإِذَا فِيهِ بَلَلٌ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ؟ " قَالَ : أَصَابَتْهُ سَمَاءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" فَهَلا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ نے اپنی انگلیاں اس میں داخل کیں تو اس میں گیلا پن محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اس اناج والے! یہ کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس (گیلے حصے کو) اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4905]

4906

Sahih Ibn Hibban #4906

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَعَةٌ لِلسِّلْعَةِ ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جھوٹی قسم سامان کو فروخت کروا دیتی ہے لیکن کمائی میں برکت کو مٹا دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4906]

4907

Sahih Ibn Hibban #4907

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ خَابُوا وَخَسِرُوا ؟ ، فَأَعَادَهَا ، فَقُلْتُ : مَنْ هُمْ ؟ فَقَالَ : " الْمُسْبِلُ ، وَالْمَنَّانُ ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ كَاذِبًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْبِلُ ، أَرَادَ بِهِ الْمُسْبِلَ إِزَارَهُ خُيَلاءَ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَنَّانُ ، أَرَادَ بِهِ عِنْدَ إِعْطَاءِ صَدَقَةِ الْفَرِيضَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کو دردناک عذاب ہو گا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ تو ہلاک ہو جائیں گے اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ بات دہرائی تو میں نے عرض کی: وہ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تکبر کی وجہ سے اپنے تہبند کو) لٹکانے والا شخص، احسان جتانے والا شخص اور جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا شخص۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”لٹکانے والا“ اس سے مراد وہ شخص ہے جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”احسان جتانے والا“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت احسان جتاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4907]

4908

Sahih Ibn Hibban #4908

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، رَجُلٌ حَلَفَ بَعْدَ الْعَصْرِ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ ، وَرَجُلٌ حَلَفَ لَقَدْ أَعْطَى بِسِلْعَتِهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ ، يَقُولُ اللَّهُ : الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي ، كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْهُ يَدَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا۔ ایک وہ شخص جو عصر کے بعد کسی مسلمان کے مال پر قسم اٹھا کر اسے ہتھیا لے۔ ایک وہ شخص جو یہ قسم اٹھائے کہ اس نے اس سامان کے اتنے پیسے دیے تھے جو اس سے زیادہ ہوں جو اسے دیے جا رہے ہوں۔ ایک وہ شخص جو اضافی پانی کو لینے سے منع کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج کے دن میں اپنے فضل کو تم سے روک لیتا ہوں، جس طرح تم نے اس اضافی چیز کو روک لیا تھا، جو تمہارے ہاتھوں کی کمائی نہیں تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4908]

4909

Sahih Ibn Hibban #4909

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِشَاةٍ ، فَقُلْتُ : تَبِيعُنِيهَا بِثَلاثَةِ دَرَاهِمَ ؟ قَالَ : لا وَاللَّهِ ، ثم باعنيها ، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : بَاعَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی ایک بکری لے کر گزرا، میں نے کہا: کیا تم تین درہموں کے عوض یہ مجھے فروخت کر دو گے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! (نہیں کروں گا) پھر اس نے وہ بکری مجھے فروخت کر دی۔ میں نے بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اپنی دنیا کے عوض اپنی آخرت کو فروخت کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4909]

4910

Sahih Ibn Hibban #4910

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ وَالنَّاسُ يَتَبَايَعُونَ ، فَنَادَى : يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ " ، فَاسْتَجَابُوا لَهُ ، وَرَفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ ، وَقَالَ : " إِنَّالتُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رفاعہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بقیع کی طرف گئے، لوگ خرید و فروخت کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں فرمایا: ”اے تاجروں کے گروہ!“ لوگوں نے آپ کی طرف توجہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک تاجروں کو قیامت کے دن گنہگار لوگوں کے طور پر زندہ کیا جائے گا، ماسوائے اس شخص کے جو پرہیزگاری اختیار کرے، نیکی کرے اور سچ بولے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4910]

4911

Sahih Ibn Hibban #4911

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا " ، قُلْتُ : لا ، بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : فَقَالَ : " لا ، بِعْنِيهِ " ، قُلْتُ : لا ، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لا بِعْنِيهِ ، قُلْتُ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَهُوَ لَكَ بِهَا ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" قَدْ أَخَذْتُهُ ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ " ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ : " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ "، قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِي كِيسٍ لي ، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے، ہم نے مدینہ سے کچھ پہلے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے کہا: میں نے ایک شخص کا سونے کا ایک اوقیہ دینا ہے، تو یہ اس کے عوض میں آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے لے لیا، تم اس پر سوار ہو کر مدینہ تک چلے جاؤ۔“ جب میں مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زیادہ ادائیگی کرنا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اضافی ادائیگی کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گی، وہ رقم میرے پاس ایک تھیلی میں محفوظ رہی، پھر واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے ہتھیا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4911]

4912

Sahih Ibn Hibban #4912

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا "، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ فَارَقَ صَاحِبَهُ لِكَيْ يَجِبَ لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے آدمیوں کو (سودا ختم کرنے کا) اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے۔“ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب انہیں کوئی چیز پسند آ جاتی تو وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتے تھے تاکہ سودا ان کے حق میں طے ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4912]

4913

Sahih Ibn Hibban #4913

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُلُّ بَيِّعَيْنِ لا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کے درمیان سودا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے، البتہ جس سودے میں (بعد میں ختم کرنے کا) اختیار ہو، اس کا حکم مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4913]

4914

Sahih Ibn Hibban #4914

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ ، فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِنْ فَارَقَهُ فَلا خِيَارَ لَهُ "، أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے تو یہ اس کے حق میں لازم ہو جاتی ہے اور اسے اس بارے میں اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ اس (ساتھی) سے جدا نہیں ہو جاتا۔ اگر وہ چاہے، تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔ اگر وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4914]

4916

Sahih Ibn Hibban #4916

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُتَبَايعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں فریقوں کو دوسرے فریق کے حوالے سے اختیار حاصل رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے البتہ بیع خیار کا حکم مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4916]

4917

Sahih Ibn Hibban #4917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب دو آدمی سودا کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو (سودا ختم کرنے کا) اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے رہیں یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بعد میں سودا ختم کرنے کا) اختیار دے دے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دے دیتا ہے اور وہ اس شرط پر سودا کر لیتے ہیں تو سودا طے ہو جائے گا اور اگر وہ سودا طے کر لینے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان دونوں میں سے ایک نے بیع کو ترک نہ کیا ہو تو بیع لازم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4917]

4918

Sahih Ibn Hibban #4918

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كِيلُوا طَعَامَكُمْ ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے اناج کو ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈالی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4918]

4919

Sahih Ibn Hibban #4919

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ماپنے میں سب سے زیادہ کمی کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] ”بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جو ماپنے میں کمی کرتے ہیں۔“ نازل کی، اس کے بعد ان لوگوں نے اچھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4919]

4920

Sahih Ibn Hibban #4920

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتُهُمَا بِسِعْرِ يَوْمِهِمَا فَافْتَرَقْتُمَا وَلَيْسَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا، میں دینار کے عوض میں اونٹ فروخت کرتا تھا اور درہم وصول کر لیا کرتا تھا یا درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار وصول کر لیا کرتا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کیے، میں نے دینار کے عوض میں فروخت کیے اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لیے، یا درہم کے عوض میں فروخت کیے اور اس کی جگہ دینار وصول کر لیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب تم نے اس دن کی قیمت کے مطابق وصولی کی ہو اور تم دونوں (فریق) ایسی حالت میں جدا ہوئے ہو کہ تمہارے درمیان کوئی (بعد کی ادائیگی کی شرط) نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4920]

4921

Sahih Ibn Hibban #4921

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اشْتَرَى نَخْلا بَعْدَمَا أُبِّرَتْ وَلَمْ يَشْتَرِطْ ثَمَرَهَا فَلا شَيْءَ لَهُ ، وَمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا وَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ فَلا شَيْءَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدے اور (سودا کرتے ہوئے) اس کے پھل کی شرط عائد نہ کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا اور جو شخص غلام خریدتے ہوئے اس کے پاس موجود مال کی شرط عائد نہ کرے اسے کچھ نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4921]

4922

Sahih Ibn Hibban #4922

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنِ ابْتَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا باغ خریدتا ہے تو اس کا پھل اس شخص کو ملے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا) اور جو شخص کوئی غلام خریدتا ہے، جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4922]

4923

Sahih Ibn Hibban #4923

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَاعَ نَخِيلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: ”جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہے) اور جو شخص کوئی غلام فروخت کرے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4923]

4924

Sahih Ibn Hibban #4924

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافِي الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَأْبِيرِهِ ، فَلَهُ ثَمَرُهُ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی غلام فروخت کرتا ہے جس کے پاس مال موجود ہو تو اس غلام کا مال اس شخص کو ملے گا اور اگر اس غلام نے کچھ قرض لیا ہو تو اس کی ادائیگی اس شخص پر ہوگی البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا) اور جو شخص کھجور کے کسی درخت کی پیوندکاری کر دیتا ہے اور پیوندکاری کرنے کے بعد اسے فروخت کرتا ہے تو اس درخت کا پھل اسے ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہوگا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4924]

4925

Sahih Ibn Hibban #4925

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَسْلَفَ ، فَلا يُسْلِفْ إِلا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ "، أَبُو الْمِنْهَالِ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ بیع سلف کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جو شخص بیع سلف کرے وہ اس وقت بیع سلف کرے جب وہ متعین ماپ اور متعین وزن کے بارے میں ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومنہال نامی راوی کا نام عبدالرحمن بن مطعم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4925]

4926

Sahih Ibn Hibban #4926

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، وَأَبُو بُرْدَةَ ، فَقَالا لِي : انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلامَ ، وَيَقُولانِ : هَلْ كُنْتُمْ تُسْلِفُونَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ،كُنَّا نَصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُسْلِفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ، فَقُلْتُ : مَنْ لَهُ زَرْعٌ ، أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ ، فَقَالَ : مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ابومجالد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بھیجا اور ان دونوں نے مجھ سے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور ان دونوں نے یہ دریافت کیا ہے: کیا آپ لوگ گندم، جو اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہمیں غلہ حاصل ہوتا تھا، تو ہم گندم، جو، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس شخص کے ساتھ یہ معاملہ کرتے تھے جس کے پاس کھیت ہوتے تھے یا اس کے ساتھ جس کے پاس کھیت نہیں ہوتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہم اس بارے میں تحقیق نہیں کرتے تھے۔ (یعنی دونوں قسم کے لوگوں سے بیع سلف کر لیتے تھے) [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4926]

4927

Sahih Ibn Hibban #4927

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج، ضمان کے حساب سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4927]

4928

Sahih Ibn Hibban #4928

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَاءَ لِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ بَيْنَنَا ، وَكَانَ بَعْضُ الشُّرَكَاءِ غَائِبًا ، فَقَدِمَ وَأَبَى أَنْ يُجِيزَهُ ، فَخَاصَمْنَا إِلَى هِشَامٍ ، فَقَضَى بِرَدِّ الْغُلامِ وَالْخَرَاجِ ، وَكَانَ الْخَرَاجُ بَلَغَ أَلْفًا ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُقَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ "، قَالَ : فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَرَدَّهُ وَلَمْ يَرُدَّ الْخَرَاجَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخلد بن خفاف کہتے ہیں: میرے اور میرے کچھ رشتہ داروں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا (ہم نے اسے فروخت کر دیا)، ایک رشتہ دار وہاں موجود نہیں تھا جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ ہم اپنا مقدمہ لے کر ہشام کے پاس گئے تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ غلام واپس آئے گا اور خراج بھی واپس آئے گا۔ خراج کی رقم ایک ہزار (دینار یا درہم) تک پہنچتی تھی، میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے پاس آیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج، ضمان کے حساب سے ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں ہشام کے پاس آیا، میں نے اسے اس بارے میں بتایا تو اس نے اس غلام کو واپس کر دیا اور خراج واپس نہیں کروایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4928]

4929

Sahih Ibn Hibban #4929

أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُجِيبِ أَبُو صَالِحٍ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَاعَ الْمُدَبَّرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر (غلام) کو فروخت کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4929]

4930

Sahih Ibn Hibban #4930

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، قَالَ جَابِرٌ : كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا ، مَاتَ عَامَ الأَوَّلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض میں اسے خرید لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم ان صاحب کو دے دی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4930]

4931

Sahih Ibn Hibban #4931

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَهُ مَالُ غَيْرِهِ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ :" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمٌ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى أَقَارِبِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَهُنَا وَهَهُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابومذکور تھا، انہوں نے اپنے ایک غلام کو مدبر کر دیا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ چنانچہ سیدنا نعیم نحام رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس رقم کو تم اپنے اوپر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو، اگر اضافی ہو تو ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4931]

4932

Sahih Ibn Hibban #4932

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَا مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ ، فَاحْتَاجَ ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُحْتَاجًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَلأَهْلِهِ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَلأَقَارِبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابومذکور رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا، وہ خود ضرورت مند تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو فروخت کر دیا اور ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص ضرورت مند ہو تو وہ اپنی ذات (پر خرچ کرنے) سے آغاز کرے۔ اگر اس کے پاس اضافی ہو تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے اور اگر اضافی ہو تو قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4932]

4933

Sahih Ibn Hibban #4933

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَاعَهُ ، وَقَالَ : أَنْتَ أَحْوَجُ إِلَى ثَمَنِهِ وَاللَّهُ عَنْهُ أَغْنَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اپنے غلام کو اپنے بعد آزاد قرار دیا، ان کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اسے فروخت کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کی قیمت کے زیادہ ضرورت مند ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بے نیاز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4933]

4934

Sahih Ibn Hibban #4934

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْمُعَدِّلُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، وَاسْمُ الْغُلامِ يعقوب ، والذي أعتقه يدعى أبا مذكور ، ولم يكن له مال غيره ، فدعا به النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يَشْتَرِي هَذَا مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ دَعَا بِهِ ، فَقَالَ : " إِذَا كُنْتَ فَقِيرًا فَأَبْدَأُ بِنَفْسِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَا هُنَا وَهَهُنَا "، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا، اس غلام کا نام یعقوب تھا اور جن صاحب نے اسے آزاد کیا تھا ان کا نام ابومذکور تھا، ان صاحب کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلوایا اور دریافت فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا، انہوں نے آٹھ سو درہم کے عوض میں وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی ذات سے آغاز کرو، اگر تمہارے پاس اضافی مال ہو تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرو، اگر پھر بھی اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو، اگر پھر بھی اضافی ہو تو پھر ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4934]

4935

Sahih Ibn Hibban #4935

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : غَلا السِّعْرُ عَلَى عَهْد ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلا السِّعْرُ ، فَسَعِّرْ لَنَا سِعْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ لا أَلْقَى اللَّهَ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهَا أَحَدًا مِنْكُمْ فِي أَهْلٍ وَلا مَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اب ہمارے لیے قیمتیں متعین کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے، وہ تنگی (کا شکار) کرنے والا ہے، کشادگی عطا کرنے والا ہے، رزق عطا کرنے والا ہے، مجھے یہ امید ہے جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا تو میں نے تم میں سے کسی کے ساتھ بھی (اس کے) اہل خانہ یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4935]

4936

Sahih Ibn Hibban #4936

أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ بِبَغْدَادَ عِنْدَ قَبْرٍ مَعْرُوفٍ الْكَرْخِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحْتَكِرُ إِلا خَاطِئٌ "، قَالَ الشَّيْخُ : هُوَ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار کرتا ہے۔“ شیخ کہتے ہیں: معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بن نضلہ عدوی ہیں، انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4936]

4937

Sahih Ibn Hibban #4937

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : إِنَّاللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَا بَيْعَ الْخَنَازِيرِ ، وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ ، وَبَيْعَ الأَصْنَامِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَرَى فِي شَحْمِ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّا نَدْهِنُ بِهِ الْجُلُودَ وَالسُّفُنَ وَنَسْتَصْبِحُ بِهِ ، فَقَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا فَجَمَلُوهَا ، ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ اور اس کے رسول نے خنزیر کی خرید و فروخت، مردار کی خرید و فروخت اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دے دیا ہے۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ چونکہ ہم اس کی چربی کو کھالوں پر لگانے کے لیے اور کشتیوں پر لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے چراغ بھی جلاتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے“، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر پھر اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمتیں کھانے لگے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4937]

4938

Sahih Ibn Hibban #4938

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے، ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی چیز کو حرام قرار دے دے تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دے دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4938]

4939

Sahih Ibn Hibban #4939

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عون بن ابوجحیفہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خون کی قیمت اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4939]