Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 43 · Chapter 3

Book of Foods

Hadith 4865–4898

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4865

Sahih Ibn Hibban #4865

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ : لا هِجْرَةَ وَلَكِنَّهَا جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب ہجرت باقی نہیں رہی تاہم جہاد اور نیت باقی ہیں، جب تم سے (جہاد کے لیے) نکلنے کے لیے کہا جائے تو نکل پڑو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4865]

4866

Sahih Ibn Hibban #4866

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَقْدَانِ الْقُرَشِيِّ ، وَكَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ ، وَأُمُّهُ ابْنَةُ الْحَجَّاجِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَهْمٍ ، مَاتَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن وقدان قرشی رضی اللہ عنہ، جو بنو سعد بن بکر کے ہاں دودھ پیتے رہے، انہیں عبداللہ بن سعدی بھی کہا جاتا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تک کفار کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ہجرت ختم نہیں ہو گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ عبداللہ بن سعدی بن وقدان بن عبدشمس بن عبدود ہیں، ان کی والدہ حجاج بن عامر بن سعد بن سہل کی صاحبزادی تھیں، ان کا انتقال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4866]

4867

Sahih Ibn Hibban #4867

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ انْقِطَاعِ فَضِيلَةِ الْهِجْرَةِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْهِجْرَةِ ؟ فَقَالَتْ : لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ أَوْ قَالَتْ بَعْدَ الْيَوْمِ ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا ، وَقَدْ أَفْشَى اللَّهُ الإِسْلامَ ، فَحَيْثُ شَاءَ الْعَبْدُ عَبَدَ رَبَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر روانہ ہوئے۔ ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبید بن عمیر نے ان سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آج کے بعد باقی نہیں رہی۔ لوگ اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ جاتے تھے کہ کہیں انہیں آزمائش میں مبتلا نہ کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو پھیلا دیا اب بندہ جہاں چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4867]

4868

Sahih Ibn Hibban #4868

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعمال کی (جزا کا) دار و مدار نیتوں پر ہے، آدمی کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیت کی ہو گی۔ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی ہو گی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت کسی دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف شمار کی جائے گی جو نیت کر کے اس نے ہجرت کی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4868]

4869

Sahih Ibn Hibban #4869

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَنْ أَنْ يَدْخُلَهَا وَيُقِيمُ بِهَا ثَلاثًا ، وَلا يَدْخُلُهَا إِلا بِجُلُبَّانِ السِّلاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ ، وَلا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ ، وَلا يَمْنَعُ أَحَدًا يَمْكُثُ فِيهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ :اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا ، هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ بَايَعْنَاكَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : امْحُهُ وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : لا أَمْحُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : امْحُهُ وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : لا أَمْحُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرِنِي مَكَانَهُ حَتَّى أَمْحُوَهُ ، فَمَحَاهُ وَكَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلاثًا ، فَلَمَّا كَانَ آخِرَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، قَالُوا لِعَلِيٍّ : قَدْ مَضَى شَرْطُ صَاحِبِكَ ، فَمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، قَالَ : نَعَمْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُمْ فِي الشَّرْطِ وَلا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ أَرَادُوا بِهِ عَلَى كُرْهٍ مِنْهُمْ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ لا يُخْرِجَ أَحَدًا مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ أَصْلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کے ساتھ یہ صلح کر لی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوں گے، وہاں تین دن قیام کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار میان میں رکھے ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے والے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں نکلے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو منع نہیں کریں گے جو مکہ میں ٹھہرنا چاہتا ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم ہمارے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو تحریر کرو گے، یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے“، تو مشرکین نے کہا: اگر ہمیں یہ پتہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لکھیں کہ محمد بن عبداللہ نے کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی جگہ مجھے دکھاؤ میں اسے مٹا دیتا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹایا اور وہاں محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن تک مقیم رہے، جب تیسرے دن کا آخری حصہ آیا تو لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کی طے کردہ شرط کا وقت پورا ہونے لگا ہے، آپ ان سے کہیں کہ وہ تشریف لے جائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شرط میں ان کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کوئی ایسا شخص (مکہ سے) باہر نہیں جائے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مکہ میں) داخل ہوا تھا، اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے ناپسندیدگی کے عالم میں، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو باہر نہ جانے دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مکہ میں) آیا تھا، (یعنی وہ شخص) جس کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4869]

4870

Sahih Ibn Hibban #4870

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا صَالَحَ قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : لا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ ، اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاتَّبَعْنَاكَ وَلَمْ نُكَذِّبْكَ ، اكْتُبْ بِنَسَبِكَ مِنْ أَبِيكِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَتَبَ : مَنْ أَتَى مِنْكُمْ رَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ ، وَمَنْ أَتَى مِنَّا تَرَكْنَاهُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُعْطِيهِمْ هَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ أَتَاهُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَتَانَا مِنْهُمْ فَرَدَدْنَاهُ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب (صلح) حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ تحریر کرو۔“ تو (قریش کے نمائندے) سہیل بن عمرو نے کہا: ہم «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”نہایت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا“ سے واقف نہیں ہیں، آپ یہ لکھیں: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ» ”اے اللہ! تیرے ہی نام کے ساتھ“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم یہ تحریر کرو: یہ وہ معاہدہ ہے، جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔“ تو سہیل نے کہا: اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب نہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نسب یعنی اپنے والد کے نام کے ساتھ (اپنا اسم گرامی) تحریر کروائیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم محمد بن عبداللہ تحریر کر دو۔“ تو انہوں نے (معاہدے میں یہ) تحریر کیا: ”تم (یعنی مشرکین مکہ) میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، ہم اسے تمہیں لوٹا دیں گے اور ہم (مسلمانوں) میں سے جو تمہارے پاس آئے، اسے ہم تمہارے پاس ہی رہنے دیں گے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم یہ (اجازت) انہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم میں سے جو (مرتد ہو کر) ان کے پاس جائے گا، اسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہے اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، اور اسے ہم لوٹا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی اور راستہ بنا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4870]

4871

Sahih Ibn Hibban #4871

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَقْدٌ ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلادِهِمْ وَهُوَ يُرِيدُ إِذَا انْقَضَى الْعَقْدُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا شَيْخٌ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ لا غَدْرَ ، فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا كَانَ بَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَلا يَحُلُّ عُقْدَةٌ حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا ، أَوْ يُنْبَذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل روم کے درمیان معاہدہ چل رہا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے علاقے کی طرف روانہ ہونے لگے، ان کا خیال تھا کہ جیسے ہی معاہدہ کی مدت ختم ہو گی وہ فوراً ان پر حملہ کر دیں گے۔ تو وہاں ایک عمر رسیدہ صاحب نے یہ کہا: «اَللهُ أَكْبَرُ! اَللهُ أَكْبَرُ!» ”اللہ سب سے بڑا ہے! اللہ سب سے بڑا ہے!“ (معاہدہ کی) خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ (سلیم بن عامر کہتے ہیں) وہ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی قوم کے درمیان کوئی معاہدہ چل رہا ہو، تو اس کی خلاف ورزی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اس کی انتہائی مدت پوری نہیں ہو جاتی، یا پھر اسے برابری کی بنیاد پر ان کی طرف پھینک نہیں دیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4871]

4872

Sahih Ibn Hibban #4872

قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، وَمَرْوَانَ في حديثهما فراحوا حتى إذا كانوا ببعض الطريق ، قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً ، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَتَّى إِذَا هُوَ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ ، فَأَقْبَلَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يَهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهَا بَرَكَتْ رَاحِلَتُهُ ، فَقَالَ : النَّاسُ حَلَّ حَلَّ فَأَلَحَّتْ ، فَقَالُوا : خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ، ثُمَّ زَجَرَهَا ، فَوَثَبَتْ بِهِ ، قَالَ : فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ ، إِنَّمَا يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يَلْبَثْ بِالنَّاسِ أَنْ نَزَحُوهُ ، فَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ ، قَالَ : فَمَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ ، وَكَانَتْ عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ ، وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ ، وَأَضَرَّتْ بِهِمْ ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً ، وَيَخْلُوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ ، فَإِنْ ظَهَرْنَا وَشَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ ، فَعَلُوا وَقَدْ جَمُّوا وَإِنْ هُمْ أَبَوْا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي أَوْ لَيُبْدِيَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ ، قَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ : سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلا ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا ، فَقَالَ : سُفَهَاؤُهُمْ لا حَاجَةَ لَنَا فِي أَنْ تُخْبِرُونَا عَنْهُ بِشَيْءٍ ، وَقَالَ ذُو الرَّأْيِ : هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عِنْدَ ذَلِكَ أَبُو مَسْعُودٍ ، عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، فَقَالَ : يَا قَوْمُ أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : أَلَسْتُ بِالْوَالِدِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَهَلْ تَتَّهِمُونِي ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظٍ ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي ، وَمَنْ أَطَاعَنِي ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ هَذَا امْرُؤٌ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ ، فَاقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِهِ ، قَالُوا : ائْتِهِ ، فَأَتَاهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ : ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ ، أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَكَ ، هَلْ سَمِعْتَ أَحَدًا مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَصْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى ، فَوَاللَّهِ إِنِّي أَرَى وُجُوهًا وَأَرَى أَشْوَابًا مِنَ النَّاسِ خُلَقَاءَ أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : امْصُصْ بِبَظْرِ اللاتِ ، أَنَحْنُ نَفِرُّ وَنَدَعُهُ ؟ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لأَجَبْتُكَ ، وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الثَّقَفِيُّ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّيْفُ وَالْمِغْفَرُ ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ ، وَقَالَ : أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الثَّقَفِيُّ ، فَقَالَ : أَيْ غُدَرُ ، أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَتَلَهُمْ ، وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا الإِسْلامُ فَأَقْبَلَ ، وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ ، قَالَ : إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ صَحَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا يَتَنَخَّمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ انْقَادُوا لأَمْرِهِ ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ إِلَى الْمُلُوكِ ، وَوَفَدْتُ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا ، وَوَاللَّهِ إِنْ يَتَنَخَّمْ نُخَامَةً إِلا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ ، وَإِذَا تَوَضَّأَ اقْتَتَلُوا عَلَى وَضُوئِهِ ، وَإِذْ تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَقَبَلَوهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ : دَعُونِي آتِهِ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا فُلانٌ ، مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ ، فَابْعَثُوهَا لَهُ ، قَالَ : فَبُعِثَتْ ، وَاسْتَقْبَلَهُ الْقَوْمُ يُلَبُّونَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا يَنْبَغِي لِهَؤُلاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزٌ ، فَقَالَ : دَعُونِي آتِهِ ، فَقَالُوا : ائْتِهِ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مِكْرَزٌ ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ ، إِذْ جَاءَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا سُهَيْلٌ ، قَدْ سَهَّلَ اللَّهُ لَكُمْ أَمْرَكُمْ ، قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، وَمَرْوَانَ : فَلَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ ، قَالَ : هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا ، فَدَعَا الْكَاتِبُ ، فَقَالَ : اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَقَالَ سُهَيْلٌ : أَمَّا الرَّحْمَنُ ، فَلا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا هُوَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ ، وَلا قَاتَلْنَاكَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ : لا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ ، إِلا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، وَمَرْوَانَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفُ بِهِ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : إِنَّهُ لا يَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّا أَخَذْنَا ضَغْطَةً وَلَكِنْ لَكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَكَتَبَ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : عَلَى أَنَّهُ لا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ ، أَوْ يُرِيدُ دِينَكَ إِلا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ جَاءَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ قَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا أَوَّلُ مَنْ نُقَايِضُكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَمْ نُمْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لا أُصَالِحُكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَجِزْهُ لِي ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ ، قَالَ : فَافْعَلْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ ، قَالَ مِكْرَزٌ : بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو : يَا مَعْشَرُ الْمُسْلِمِينَ ، أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا ، أَلا تَرَوْنَ إِلَى مَا لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : وَاللَّهِ مَا شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلا يَوْمَئِذٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَلَسْتَ رَسُولَ اللَّهِ حَقًّا ؟ قَالَ : بَلَى ، قُلْتُ : أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ، وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قُلْتُ : فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، إِذَا قَالَ : إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَلَسْتُ أَعْصِي رَبِّي وَهُوَ نَاصِرِيٌّ ، قُلْتُ : أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَخَبَّرْتُكَ أَنَّكَ تَأْتِيَهِ الْعَامَ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَإِنَّكَ تَأْتِيَهِ فَتَطُوفُ بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا ؟ قَالَ : بَلَى ، قُلْتُ : أَوَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ، وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قُلْتُ : فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، إِذَا قَالَ : أَيُّهَا الرَّجُلُ ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ ، فَاسْتَمْسَكَ بِغَرْزِهِ حَتَّى تَمُوتَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى حَقٍّ ، قُلْتُ : أَوَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ ، وَنَطُوفُ بِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَأَخْبَرَكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَإِنَّكَ آتِيَهِ وَتَطُوفُ بِهِ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : فَعَمِلْتُ فِي ذَلِكَ أَعْمَالا ، يَعْنِي فِي نَقْضِ الصَّحِيفَةِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكِتَابِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : انْحَرُوا الْهَدْيَ ، وَاحْلِقُوا ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ رَجَاءَ أَنْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : أَوَ تُحِبُّ ذَاكَ اخْرُجْ وَلا تُكَلِّمَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ وَتَدْعُو حَالِقَكَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ وَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى نَحَرَ بُدْنَهُ ، ثُمَّ دَعَا حَالِقَهُ ، فَحَلَقَهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّاسُ جَعَلَ بَعْضُهُمْ يُحَلِّقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا ، قَالَ : جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، قَالَ : فَطَلَّقَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ امْرَأَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ فِي الشِّرْكِ ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَالأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ ، وَقَالُوا : الْعَهْدُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا ، فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ ، فَخَرَجَا حَتَّى بَلَغَا بِهِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ : وَاللَّهِ لأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلانُ جَيِّدًا ، فَقَالَ أَجَلْ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ، ثُمَّ جَرَّبْتُ ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ : أَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ ، وَفَرَّ الآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَتَلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي ، وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْلُ أُمِّهِ لَوْ كَانَ مَعَهُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سَيْفَ الْبَحْرِ ، قَالَ : وَتَفَلَّتَ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ ، فَجَعَلَ لا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَسْلَمَ إِلا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلا اعْتَرَضُوا لَهَا ، فَقَتَلُوهُمْ ، وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللَّهَ وَالرَّحِمَ لَمَا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ مِمَّنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

0 [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4872]

4873

Sahih Ibn Hibban #4873

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : لا نُقِرُّ بِهَذَا ، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا ، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : امْحُ رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لا أَمْحُوكَ أَبَدًا ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ ، فَأَمَرَ ،فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ مُحَمَّدًا ، فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنْ لا يَدْخَلَ مَكَّةَ بِالسِّلاحِ إِلا السَّيْفَ ، وَلا يَخْرُجُ مِنْهَا بِأَحَدٍ يَتْبَعُهُ ، وَلا يَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : قُلْ لِصَاحِبِكَ فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبِعَتْهُمْ بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ ، يَا عَمُّ ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رِضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ : دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ ، فَحَمَلَتْهَا ، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي ، وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي ، وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ لِخَالَتِهَا ، وَقَالَ : الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ : أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلانَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ذی القعدہ کے مہینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ جب ان لوگوں نے معاہدہ تحریر کر دیا تو انہوں نے یہ بات تحریر کی کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں، تو کفار نے کہا: "ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے، اگر ہمیں یہ پتا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز سے نہ روکتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محمد بن عبد اللہ ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی تحریر کریں)۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد اللہ بھی ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لفظ ’رسول اللہ‘ مٹا دو۔“ انہوں نے عرض کی: "میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کا اسم گرامی) کبھی نہیں مٹاؤں گا۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر کو لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باقاعدہ لکھنا نہیں آتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لفظ ’رسول اللہ‘ کی جگہ لفظ ’محمد‘ لکھ دیا گیا اور یہ تحریر کیا گیا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبد اللہ کر رہے ہیں کہ وہ ہتھیار لے کر مکہ میں داخل نہیں ہوں گے، البتہ ان کی تلواریں میان میں ہوں گی اور وہ مکہ میں سے کسی ایسے شخص کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے جو ان کا پیروکار ہوگا اور وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں روکیں گے جو مکہ میں مقیم رہنا چاہے گا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے آئے اور طے شدہ مدت گزر گئی تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: "اپنے آقا سے کہیے کہ وہ ہمارے پاس سے تشریف لے جائیں، کیونکہ متعین مدت پوری ہو گئی ہے۔" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آئی: "اے چچا! اے چچا!" سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بچی کو پکڑ لیا، انہوں نے اس بچی کا ہاتھ پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "تم اپنی چچازاد کو سنبھالو۔" سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے اٹھا لیا۔ اس لڑکی کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اسے میں نے حاصل کیا ہے۔" سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: "یہ میری چچازاد ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔" سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: "یہ میری بھتیجی ہے۔" تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کے بارے میں اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم شکل و صورت اور اخلاق میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم ہمارے بھائی اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4873]

4874

Sahih Ibn Hibban #4874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ السَّدُوسِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ : أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانُوا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ ، قَالَ : أَوْهَمَ جَابِرٌ هُوَ الَّذِي حَدَّثَنِيأَنَّهُمْ كَانُوا أَلْفًا وَخَمْسَ مِئَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا صلح حدیبیہ کے موقع پر ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار پانچ سو۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں ان کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی، تو سعید رحمہ اللہ نے کہا: انہیں غلط فہمی ہوئی ہو گی، انہوں نے خود مجھے یہ بات بتائی ہے ان کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4874]

4875

Sahih Ibn Hibban #4875

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ السَّمُرَةُ ، وَقَالَ : بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد ایک ہزار چار سو تھی، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک پکڑا ہوا تھا، وہ سمرہ کا درخت تھا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے، ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4875]

4876

Sahih Ibn Hibban #4876

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الصَّحِيحُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِئَةٍ عَلَى مَا قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر حدیبیہ کے موقع پر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت کے نیچے موجود تھے، میں نے اس درخت کی ایک شاخ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اوپر اٹھا رکھی تھی۔ ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اس دن لوگوں کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) درست یہ ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، جیسا کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4876]

4877

Sahih Ibn Hibban #4877

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلامُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَاللَّهِ لا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ ، وَلا أَحْبِسُ الْبُرُدَ ، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَيْهِمْ ، فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِي قَلْبِكَ الآنَ فَارْجِعْ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ إِنِّي أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمْتُ "، قَالَ بُكَيْرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ قریش کا مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم میں کبھی ان کی طرف واپس نہیں جاؤں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور میں قاصد کو اپنے پاس نہیں رکھوں گا، تم ان کے پاس واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو تمہارے ذہن میں اب ہے تو تم واپس آ جانا“۔ راوی کہتے ہیں: میں ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا، پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا، ابوبکیر نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ قبطی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4877]

4878

Sahih Ibn Hibban #4878

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ " يَعْنِي رَسُولَ مُسَيْلِمَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم سفیر نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔“ (راوی کہتے ہیں) یعنی مسیلمہ کے سفیر کو یہ فرمایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4878]

4879

Sahih Ibn Hibban #4879

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ ، فَقَالَ : مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ إِحْنَةٌ ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ ، فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ ، فَجِيءَ بِهِمُ ، فَاستَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ ، وَقَالَ لَهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ "، وَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ قَتِيلا فِي السُّوقِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: میرے اور کسی بھی عرب کے درمیان کوئی پوشیدہ دشمنی نہیں ہے، میں بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا، وہ لوگ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا، ان لوگوں کو لایا گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی، صرف ابن نواحہ نے توبہ نہیں کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔“ (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:) آج تم قاصد نہیں ہو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس شخص کی گردن اڑا دی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اسے بازار میں مقتول پڑا ہوا دیکھ لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4879]

4880

Sahih Ibn Hibban #4880

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ سَمَّعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا دَخَلَ النَّارَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی یہودی یا عیسائی کو ستاتا ہے (شاید اس سے مراد یہ ہے: اسے ناحق طور پر قتل کرتا ہے) وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4880]

4881

Sahih Ibn Hibban #4881

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4881]

4882

Sahih Ibn Hibban #4882

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ الأَخْبَارُ كُلُّهَا مَعْنَاهَا لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُرِيدُ جَنَّةً دُونَ جَنَّةِ الْقَصْدِ مِنْهُ الْجَنَّةُ الَّتِي هِيَ أَعْلَى وَأَرْفَعُ يُرِيدُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْخِصَالَ ، أَوِ ارْتَكَبَ شَيْئًا مِنْهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، أَوْ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الَّتِي هِيَ أَرْفَعُ الَّتِي يَدْخُلُهَا مَنْ لَمْ يَرْتَكِبْ تِلْكَ الْخِصَالَ ، لأَنَّ الدَّرَجَاتِ فِي الْجِنَانِ يَنَالُهَا الْمَرْءُ بِالطَّاعَاتِ ، وَحَطُّهُ عَنْهَا يَكُونُ بِالْمَعَاصِي ، الَّتِي ارْتَكَبَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس بات کو حرام قرار دیتا ہے کہ وہ جنت کی بو بھی محسوس کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شخص کسی ایک مخصوص قسم کی جنت میں داخل نہیں ہو گا، البتہ دوسری جنت میں داخل ہو سکتا ہے اور اس سے مراد جنت کا بالائی حصہ ہے جس میں وہ داخل نہیں ہو گا، یعنی وہ شخص جو اس طرح کے کسی فعل کا مرتکب ہوتا ہے یا کسی بھی ایسی چیز کا مرتکب ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے یا وہ شخص اس کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا، تو اس سے مراد وہ جنت ہے جو جنت کا بلند ترین مرتبہ ہے جس میں ان کاموں کا مرتکب شخص داخل نہیں ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت کے مختلف درجات ہیں جن تک آدمی نیکیاں کرنے کی وجہ سے پہنچتا ہے اور گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ان میں سے کسی ایک مرتبے سے نیچے آ جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4882]

4883

Sahih Ibn Hibban #4883

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالأَهْوَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کی عیادت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4883]

4884

Sahih Ibn Hibban #4884

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَطِعِ أبا الْقَاسِمَ ، قَالَ : فَأَسْلَمَ ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تم اسلام قبول کر لو۔“ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، اس کے باپ نے اس سے کہا: تم سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لو، راوی کہتے ہیں: تو اس نے اسلام قبول کر لیا، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے پاس سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کو جہنم سے بچا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4884]

4885

Sahih Ibn Hibban #4885

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا قَيْنًا ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ لِي : لا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ، ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ : وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ سَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَيَّ مَالِي وَوَلَدِي ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سنار تھا، میں نے عاص بن وائل سے کچھ قرض لینا تھا، میں اس کے پاس آیا اور اس سے قرض کا تقاضا کیا، اس نے مجھ سے کہا: میں اس وقت تک تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا جب تک تم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر دیتے، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کا اس وقت تک انکار نہیں کروں گا جب تک تم مر نہیں جاتے اور دوبارہ زندہ نہیں ہوتے، اس نے کہا: اگر مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا کیونکہ اس وقت میرا مال اور میری اولاد مجھے دوبارہ واپس مل جائیں گے، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77] ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے: مجھے مال اور اولاد ضرور دیے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4885]

4886

Sahih Ibn Hibban #4886

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ،فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور یہ ہدایت دی کہ: ”میں گائے میں سے ہر چالیس میں سے ایک «مُسِنَّة» ”مسنہ“ اور تیس میں سے ایک «تَبِيْع» ”تبیع“ وصول کروں اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے وزن کے برابر «مَعَافِر» ”معافر“ (مخصوص قسم) کی خوشبو وصول کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4886]

4887

Sahih Ibn Hibban #4887

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جارود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان کی گمشدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4887]

4888

Sahih Ibn Hibban #4888

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُ فِي الطَّرِيقِ هَوَامِي مِنَ الإِبِلِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو عامر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں راستے میں اونٹ ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کی گم شدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4888]

4889

Sahih Ibn Hibban #4889

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُعَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنَكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ، قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ، قَالَ : " مَا لَكَ ، وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا ، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِاسْتِعْمَالِ الانْتِفَاعِ بِاللُّقَطَةِ بَعْدَ تَعْرِيفِ سَنَةٍ أَضْمَرَ فِيهِ اعْتِقَادَ الْقَلْبِ عَلَى رَدِّهَا عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ وَعَرَّفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی تھیلی اور اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم اسے استعمال کرو۔“ اس شخص نے دریافت کیا: گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہو گا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیا لے جائے گا۔“ اس شخص نے دریافت کیا: گم شدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے پاس ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت سے کچھ کھا پی لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد گمشدہ ملنے والی چیز سے نفع حاصل کرنے کا حکم اس صورت میں ہے جب آدمی کے دل میں اس بات کا اعتقاد ہو کہ وہ اس چیز کے مالک کے آنے پر وہ چیز اس مالک کو واپس کر دے گا اور اس شخص نے اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی چیز کی پہچان رکھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4889]

4890

Sahih Ibn Hibban #4890

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَسَأَلَهُعَنِ اللُّقَطَةِ ، قَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً " ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا "، أَبُو الرَّبِيعِ ، هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ مِصْرِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بَصْرِيٌّ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس تھیلی کو اور اس کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت کو یاد رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کا کوئی طلبگار نہیں آتا تو پھر تم اسے خرچ کر لو۔“ اس نے دریافت کیا: گم شدہ بکری (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیوں کو ملے گی۔“ اس نے عرض کی: گمشدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔“ ابوربیع نامی راوی کا نام سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد ہے جو رشدین بن سعد مصری کے بھتیجے ہیں اور ابوربیع زہرانی کا نام سلیمان بن داؤد بصری ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4890]

4891

Sahih Ibn Hibban #4891

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا ، فَقَالا : دَعْهُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ ، لأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالَ : أَحْسَنْتَ إِنِّي أَصَبْتُ صُرَّةً فِيهَا دَنَانِيرُ ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلا " ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا ، فَعَرَّفْتُهَا ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " احْفَظْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ ، فَادْفَعْهَا ، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ روانہ ہوا، میں نے (راستے میں) گمشدہ کوڑا اٹھا لیا۔ تو ان دونوں نے کہا کہ تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا جائیں، میں اس کے ذریعے فائدہ حاصل کروں گا۔ میں مدینہ منورہ آ گیا۔ میری ملاقات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے، مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں دینار تھے، میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ پھر مجھے کوئی شخص نہیں ملا، میں نے تین سال تک اس کا اعلان کیا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی ڈوری اور اس میں موجود دیناروں کی تعداد کو یاد رکھنا، اگر کوئی شخص آ کر تمہیں اس بارے میں بتا دے تو یہ اس کے حوالے کر دینا، ورنہ تم اس سے نفع حاصل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4891]

4892

Sahih Ibn Hibban #4892

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَيْبِ ، فَقَالا : دَعْهُ ، فَقُلْتُ لا أَدَعُهُ ، فَقَدِمْتُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : أَحْسَنْتَ ، أَحْسَنْتَ ، الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْد ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِئَةَ دِينَارٍ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ :" عَرِّفْهَا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " اعْلَمْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا ، فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا ، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ، وَشَأْنَكَ بِهَا أَضْمَرَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةَ رَدَّ اللُّقَطَةِ عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ بَعْدَ الأَحْوَالِ الثَّلاثَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما کے ہمراہ روانہ ہوا۔ عذیب کے مقام پر ایک کوڑا ملا، میں نے وہ اٹھا لیا، ان دونوں نے کہا: تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا لیں، پھر میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مجھے ایک سو دینار پڑے ہوئے ملے تھے۔ میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک ان کا اعلان کیا، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کا اعلان کرو۔“ میں نے پھر ایک سال تک ان کا اعلان کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کا اعلان کرو۔“ میں ایک سال تک ان کا اعلان کرتا رہا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی تعداد، اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی نشانی یاد رکھنا، اگر کوئی شخص بعد میں آ کر تمہیں اس کی تعداد، تھیلی اور تھیلی کی ڈوری کی نشانی کے بارے میں بتا دے تو تم (اتنی ہی رقم) اسے ادا کر دینا، ورنہ تم اس کے ذریعے نفع حاصل کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اس کے ذریعے نفع حاصل کرو“ اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر تین سال گزرنے کے بعد بھی اس کا مالک اس کے پاس آ جاتا ہے تو وہ ملنے والی چیز اسے لوٹائی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4892]

4893

Sahih Ibn Hibban #4893

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا ، فَدَعْهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، تم اسے چھوڑ دو، وہ خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا اور پانی تک پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ اسے تلاش کرنے والا شخص اس تک پہنچ جائے۔“ اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی۔“ پھر اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی شناخت کو یاد رکھو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ اس کی تعداد، تھیلی اور ڈوری کے بارے میں نشانی بتا دے تو وہ تم اس کے سپرد کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہوئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4893]

4894

Sahih Ibn Hibban #4894

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوِي عَدْلٍ ، ثُمَّ لا يَكْتُمُ ، وَلا يُغَيِّرُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ إِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا ، فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص گمشدہ ملنے والی چیز کو اٹھا لیتا ہے، وہ دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لے، پھر وہ کوئی بات چھپائے نہیں اور کسی چیز کو تبدیل نہ کرے، اگر اس چیز کا مالک آ جاتا ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہو گا، ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مال شمار ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر اس کا مالک نہیں آتا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کا مال ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4894]

4895

Sahih Ibn Hibban #4895

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ كُلْهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کے مالک کا پتا نہیں چلتا تو پھر اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کو یاد رکھو، پھر تم اسے خود استعمال کر لو، اگر اس کا مالک آ گیا (تو اس کی مانند رقم) اسے دے دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4895]

4896

Sahih Ibn Hibban #4896

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأشجِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ "، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَلُقَطَةُ الْحَجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قُتِلَ هُوَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو اٹھانے سے منع کیا ہے“۔ ابن وہب بیان کرتے ہیں، حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو یوں ہی رہنے دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبدالرحمن نامی یہ راوی عبدالرحمن بن عثمان بن عبید اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہیں، یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں، یہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ایک ہی دن شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4896]

4897

Sahih Ibn Hibban #4897

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی گمشدہ (چیز) کو پناہ دیتا ہے تو وہ گمراہ شمار ہوتا ہے جب وہ اس کا اعلان نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4897]

4898

Sahih Ibn Hibban #4898

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُعَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، وَإِلا فَشَأْنَكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ، قَالَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ، قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی تھیلی اور اس کی ڈوری کی شناخت یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے تم استعمال کرو۔“ اس نے دریافت کیا: گمشدہ ملنے والی بکری (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیوں کو ملے گی۔“ اس نے دریافت کیا: گمشدہ ملنے والے اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی پی لے گا، درخت کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک بھی اس تک پہنچ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4898]