Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 43 · Chapter 2

Book of Foods

Hadith 4825–4864

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4825

Sahih Ibn Hibban #4825

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَجَّهَ جَيْشًا فَغَنِمُوا طَعَامًا وَعَسَلا ، فَلَمْ يُخَمِّسْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، انہیں مال غنیمت میں اناج اور شہد ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے خمس وصول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4825]

4826

Sahih Ibn Hibban #4826

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمام بن منبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیثیں بیان کی تھیں، پھر انہوں نے کچھ روایات ذکر کیں، جن میں ایک روایت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتی ہے، اس کے (مال غنیمت میں سے) خمس اللہ اور اس کے رسول کو ملے گا اور پھر وہ تمہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4826]

4827

Sahih Ibn Hibban #4827

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ الْفَزَارِيَّ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ : جَعَلْتَ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعَبِيدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو ایک سو اونٹ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ کو ایک سو اونٹ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ کو ایک سو اونٹ دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم اونٹ دیے تو انہوں نے یہ شعر کہا کہ آپ نے میرا اور غلام کا حصہ عیینہ اور اقرع کے درمیان رکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4827]

4828

Sahih Ibn Hibban #4828

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَمَا زَارَ يُعْطِينِي حَتَّى أَنَّهُ لأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (مال) عطا کیا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک ناپسندیدہ ترین شخصیت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل (عطیات) دیتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4828]

4829

Sahih Ibn Hibban #4829

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ ، فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، وآثرَ نَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا ، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ "، فَقُلْتُ : لا جَرَمَ ، لا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) تقسیم کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو ترجیح دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیینہ بن حصن کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرب سرداروں کو ترجیحی طور پر (زیادہ) ادائیگی کی تو ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ضرور بتاؤں گا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر (یعنی غصہ کی وجہ سے سرخ) ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی انصاف سے کام نہیں لیں گے تو پھر کون انصاف سے کام لے گا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَىٰ» ”اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے“، انہیں اس سے زیادہ ایذا پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے طے کیا: اب میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک (اس نوعیت کی) کوئی بات نہیں پہنچاؤں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4829]

4830

Sahih Ibn Hibban #4830

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي ، فَأَعِنِّي فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ نَحْمِلُهُ عَنْكَ " ، قَالَ : هِيَ لَكَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا قَبِيصَةُ بْنَ مُخَارِقٍ ، إِنَّالْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ ، إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِهِ إِرَادَةَ الإِصْلاحِ ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أُمْنِيَّتَهُ أَمْسَكَ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ " ، قَالَهَا ثَلاثًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قبیصہ بن مخارق بلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی قوم (کے ذمہ لازم) ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی قوم کی طرف سے ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں میری مدد کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ ادائیگی ہم اپنے ذمہ لیتے ہیں جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو تمہیں یہ (رقم یا ادائیگی کی چیز) مل جائے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قبیصہ بن مخارق! مانگنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے صرف تین قسم کے لوگوں میں کسی ایک کے لیے مانگنا جائز ہے۔ ایک وہ شخص جو بھلائی کے ارادے کے ساتھ اپنی قوم کی طرف سے کوئی ادائیگی اپنے ذمہ لے وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین تجربہ کار افراد اس کے حق میں گواہی دیں (تو وہ شخص مانگ سکتا ہے) یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جس (کی زرعی پیداوار) کو کوئی آفت لاحق ہو جائے تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ مانگنے سے رک جائے۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ جو بھی مانگنا ہو وہ حرام ہو گا۔“ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4830]

4831

Sahih Ibn Hibban #4831

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : شَهِدْتُ حُنَيْنًا وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَهْمِي ، فَأَعْطَانِي سَيْفًا ، وَقَالَ : تَقَلَّدْهُ " ، وَأَعْطَانِي مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ حنین میں شریک ہوا، میں ایک غلام تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (مال غنیمت میں سے) میرا حصہ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تلوار عطا کی اور فرمایا: ”اسے تم گلے میں لٹکا لو۔“ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عام سا کچھ ساز و سامان بھی عطا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4831]

4832

Sahih Ibn Hibban #4832

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ بَعْثًا وَكُنْتُ فِيهِمْ فَغَنِمْنَا ، فَأَصَابَنِي مِنَ الْقَسَمِ ثِنْتَا عَشْرَةَ نَاقَةً ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَنَا بَعْدَ ذَلِكَ نَاقَةً ، نَاقَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ فرمائی، میں بھی اس میں شریک تھا، ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا تو تقسیم کرتے ہوئے میرے حصے میں بارہ اونٹنیاں آئیں، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزید ایک ایک اونٹنی عطا فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4832]

4833

Sahih Ibn Hibban #4833

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ ، فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرًا ، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک مہم روانہ کی، جس میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک ہوئے۔ ان لوگوں کو مال غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے تو ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے اور (ان میں سے ہر ایک کو) مزید ایک ایک اونٹ کی ادائیگی بھی کی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4833]

4834

Sahih Ibn Hibban #4834

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ فِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ ، وَإِنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، ثُمَّ نُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا بَعِيرًا ، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک مہم روانہ کی جس میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور پھر ان (میں سے ہر ایک) کو ان کے علاوہ بھی ایک ایک اونٹ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4834]

4835

Sahih Ibn Hibban #4835

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ النَّحَّاسُ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى يَذْكُرَانِ النَّفَلَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لا نَفْلَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : شَغَلَكَ أَكْلُ الزَّبِيبِ بِالطَّائِفِ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رجاء بن ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے عمرو بن شعیب اور سلیمان بن موسیٰ کو (مال غنیمت میں سے) نفلی ادائیگی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا۔ عمرو نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مال غنیمت میں سے) کوئی نفلی ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔ اس پر سلیمان بن موسیٰ نے کہا: آپ طائف میں کشمش کھانے میں ہی مصروف رہے (اور علم حاصل نہ کر سکے) مکحول نے زیاد بن جاریہ لخمی کے حوالے سے سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز میں خمس کے بعد چوتھائی حصہ نفلی طور پر عطا کیا تھا اور واپسی پر خمس کے بعد تہائی حصہ عطا کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4835]

4836

Sahih Ibn Hibban #4836

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلا وَأَخَذَ أَسْلابَهُمْ ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ضَرَبْتُ رَجُلا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَخَذْتُهُ ، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُسْأَلُ شَيْئًا أَلا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ ، فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : وَاللَّهِ لا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو، تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے مل جائے گا۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا، انہوں نے ان سب کا ساز و سامان حاصل کر لیا، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک کافر کے کندھے پر وار کیا، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی، تو ایک صاحب بولے: میں نے (اس مقتول کا) ساز و سامان لے لیا ہے، آپ انہیں اس سامان کی طرف سے راضی کر دیں اور وہ سامان مجھے عطا کر دیں (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا خاموش رہتے تھے۔ اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک شیر کو مال فے میں سے کچھ عطا کرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں عطا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر نے ٹھیک کہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4836]

4837

Sahih Ibn Hibban #4837

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَاسْتَدْبَرْتُ لَهُ ، حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ فِيهَا رِيحَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي ، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : أَمْرُ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقُمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي ، فَأَرْضِهِ مِنِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : لاهَا اللَّهُ إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ "، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَأَعْطَانِيهِ ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہمارا (اور دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرب لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی، وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ (اس جنگ سے) واپس آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا ہو اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو مقتول کا ساز و سامان اس شخص کو ملے گا۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ تو میں بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو اس مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا۔“ میں کھڑا ہوا، پھر مجھے خیال آیا میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابو قتادہ! کیا معاملہ ہے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس مقتول کا ساز و سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ کا ایک شیر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا سامان تمہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ اسے دے دو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4837]

4838

Sahih Ibn Hibban #4838

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، فَجَعَلُوهَا صَفَّيْنِ لِيُكْثِرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ نَضْرِبْ بِسَيْفٍ وَلَمْ نَطْعَنْ بِرُمْحٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ :" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلا وَأَخَذَ أَسْلابَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَهَا ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ هِيَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنِّي وَأَعْطِنِيهَا ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ ، وَيُعْطِيكَهَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْتُلُ بِهَا الطُّلَقَاءَ ، انْهَزَمُوا بِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن قبیلے کے لوگ بکریاں اور اونٹ لے آئے، انہوں نے اپنی دو صفیں بنا لیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ شدت سے حملہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب مسلمانوں اور مشرکین کا سامنا ہوا تو (کچھ) مسلمان پیٹھ پھیر کر واپس پلٹ گئے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا حالانکہ (ایسا) ہمارے تلوار کے ذریعے (انہیں) مارنے یا نیزے کے ذریعے زخمی کرنے کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے ملے گا۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا، ان کا ساز و سامان انہوں نے حاصل کر لیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کیا، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی (پھر وہ مارا گیا) میں اس کی زرہ حاصل نہیں کر سکا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں کہ وہ کس کے پاس ہے؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میں نے حاصل کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میری طرف سے راضی کر دیں اور وہ (زرہ) مجھے عطا کر دیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت شریفہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا پھر خاموش رہتے تھے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”نہ“ نہیں کرتے تھے) اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک شیر کو وہ (زرہ) مالِ فے کے طور پر عطا کی ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر نے ٹھیک کہا ہے۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس موقع پر) سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ہوئی، ان کے پاس خنجر تھا، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے ام سلیم! یہ تمہارے پاس کیوں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ ارادہ کیا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کے ذریعے ان طلقاء کو قتل کر دوں گی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام سلیم! بے شک اللہ تعالیٰ نے کفایت کر دی ہے اور (جنگ کا نتیجہ) عمدہ رکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4838]

4839

Sahih Ibn Hibban #4839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَتَلْتُهُ ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ مشرکوں کا جاسوس ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اسے قتل کر دے گا تو اس (جاسوس) کا ساز و سامان (یعنی اس کے ہتھیار وغیرہ) اسے مل جائیں گے۔“ (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اس تک پہنچ کر اسے قتل کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ساز و سامان مجھے عطا کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4839]

4840

Sahih Ibn Hibban #4840

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ بَيْنَ الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي ، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلامَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ غَمَزَنِي أَحَدُهُمَا ، فَقَالَ : أَيْ عَمِّ ؟ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا بْنَ أَخِي ، فَقَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُهُ لا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا ، قَالَ : فَأَعْجَبَنِي قَوْلُهُ ، قَالَ : فَغَمَزَنِي الآخَرُ ، وَقَالَ مِثْلَهَا ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ أَبَا جَهْلٍ يَجُولُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقُلْتُ لَهُمَا : هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلانِي عَنْهُ ، فَابْتَدَرَاهُ ، فَضَرَبَاهُ بِسَيْفِهِمَا فَقَتَلاهُ ، ثُمَّ أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَاهُ بِمَا صَنَعَا ، فَقَالَ :" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ؟ " فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَكُمَا ؟ " قُلْنَا : لا ، قَالَ : فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِلاكُمَا قَتَلَهُ " ، ثُمَّ قَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، قَالَ : وَالرَّجُلانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّتِنَا أَنَّ سَلَبَ الْقَتِيلِ إِذَا اشْتَرَكَ النَّفْسَانِ فِي قَتْلِهِ يَكُونُ خِيَارُهُ إِلَى الإِمَامِ بِأَنْ يُعْطِيَهُ أَحَدَ الْقَاتِلَيْنِ مَنْ شَاءَ مِنْهُمَا ، وَكُنَّا نَقُولُ بِهِ مُدَّةً ، ثُمَّ تَدَبَّرْنَا ، فَإِذَا هَذِهِ الْقِصَّةُ كَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَحِينَئِذٍ لَمْ يَكُنْ حُكْمُ سَلَبِ الْقَتِيلِ لِقَاتِلِهِ ، وَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ ، كَانَ الْخِيَارُ إِلَى الإِمَامِ أَنْ يُعْطِيَ ذَلِكَ أَيَّمَا شَاءَ مِنَ الْقَاتِلَيْنِ ، كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَلَبِ أَبِي جَهْلٍ حَيْثُ أَعْطَاهُ مُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَكَانَ هُوَ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ قَاتِلَيْهِ ، وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَيَوْمُ حُنَيْنٍ بَعْدَ بَدْرٍ بِسَبْعِ سِنِينَ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ الْقَاتِلَيْنِ إِذَا اشْتَرَكَا فِي قَتِيلٍ كَانَ السَّلَبُ لَهُمَا مَعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا، جب میں نے اپنے دائیں اور بائیں طرف دیکھا تو میں دو انصاری لڑکوں کے درمیان تھا، ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے مجھے ٹہوکا دیا اور بولا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل بن ہشام کو پہچانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اے میرے بھتیجے، تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتا ہے، «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے“ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گا جب تک ہم دونوں میں سے وہ شخص مر نہیں جاتا جسے پہلے موت آنی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کی بات سے متاثر ہوا تو دوسرے نے مجھے ٹہوکا دیا، اس نے بھی اسی کی مانند بات کہی، اسی دوران میں نے ابوجہل کو لوگوں کے درمیان گھومتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان دونوں سے کہا: یہ رہا وہ شخص جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے دریافت کر رہے تھے۔ وہ دونوں اس کی طرف لپکے، ان دونوں نے اس پر تلوار کا وار کیا اور اسے قتل کر دیا، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس عمل کے بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ ان دونوں نے یہی کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم دونوں نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟“ ہم نے (یعنی ان دونوں نے) جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں کا جائزہ لیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دونوں ہی نے اسے قتل کیا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوجہل) کا ساز و سامان (یعنی ہتھیار وغیرہ) معاذ بن عمرو بن جموح کو دیے جانے کا فیصلہ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو لڑکے سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرتے ہوئے ہمارے ائمہ کی ایک جماعت کو غلط فہمی ہوئی کہ جس کافر کو قتل کرنے میں دو آدمی حصہ دار ہوں اس کافر (کے ساز و سامان) کے بارے میں امیر کو اختیار ہو گا کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سے کسی ایک کو دے دے جسے بھی وہ چاہے، ہم ایک عرصہ تک اس کے مطابق فتوی دیتے رہے۔ پھر ہم نے غور و فکر کیا (تو یہ بات سامنے آئی) یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے اور اس وقت یہ حکم نہیں تھا کہ مقتول کا ساز و سامان قاتل کو ملے گا، تو جب یہ صورتحال تھی تو (اس وقت) اختیار امیر کے پاس تھا کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سے جسے چاہے دے دے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے سامان کے بارے میں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دے دیا حالانکہ وہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما (دونوں ابوجہل کے) قاتل تھے۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ» ”جو کسی (کافر) کو قتل کرے تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے مل جائے گا۔“ یہ فرمان غزوہ حنین کے موقع کا ہے اور غزوہ حنین، غزوہ بدر کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔ اس بنیاد پر میں یہ کہتا ہوں جب دو (مجاہد) کسی (کافر) کو قتل کرنے میں حصہ دار ہوں تو (اس کافر کا) ساز و سامان ان دونوں کو ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4840]

4841

Sahih Ibn Hibban #4841

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبٍ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ نَفْسًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ فَلَهُ سَلَبُهُ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ ، مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ مَنْ قَتَلَ وَحْدَهُ ، فَلَهُ سَلَبُ الْمَقْتُولِ إِذَا كَانَ مُنْفَرِدًا بِدَمِهِ ، وَإِذَا اشْتَرَكَ جَمَاعَةٌ فِي قَتْلِ وَاحِدٍ كَانَ السَّلَبُ بَيْنَهُمْ ، لأَنَّ الْعِلَّةَ الَّتِي هِيَ مَوْجُودَةٍ فِي قَاتِلٍ وَاحِدٍ وُجِدَتْ فِي الْقَاتِلِينَ إِذَا اشْتَرَكُوا فِي دَمٍ وَاسْتَوَى حُكْمُهُمْ وَحُكْمُ الْمُنْفَرِدُ فِيمَا وَصَفْنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا ساز و سامان اسے ملے گا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن اکیس آدمیوں کا ساز و سامان حاصل کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا ساز و سامان اسے ملے گا“ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:) ”جو شخص کسی کو قتل کر دے اس کا ساز و سامان اسے ملے گا“ ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے کہ جس اکیلے شخص نے کسی کو قتل کیا ہو تو مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا جب وہ اسے قتل کرنے میں منفرد ہو اور اگر کسی شخص کو قتل کرنے میں ایک جماعت حصے دار ہو تو وہ ساز و سامان ان کے درمیان تقسیم ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے: ایک قاتل میں جو علت پائی جا رہی ہے وہی کئی قاتلوں میں پائی جا رہی ہے اس وقت جب وہ کسی کے خون میں حصہ دار ہوں، تو ان کا حکم اور منفرد شخص کا حکم ایک ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4841]

4842

Sahih Ibn Hibban #4842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ مَدَدِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ رَافَقَهُمْ ، وَأَنَّ رُومِيًّا كَانَ يَسْمُو عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُغْرِي عَلَيْهِمْ فَتَلَطَّفَ الْمَدَدِيُّ ، فَقَعَدَ تَحْتَ صَخْرَةٍ ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ عَرْقَبَ فَرَسَهُ ، وَخَرَّ الرُّومِيُّ لِقَفَاهُ ، وَعَلاهُ الْمَدَدِيُّ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ ، وَأَقْبَلَ بِسَرْجِهِ ، وَلِجَامِهِ ، وَسَيْفِهِ ، وَمِنْطَقَتِهِ ، وَسِلاحِهِ ، فَذَهَبَا بِالذَّهَبِ وَالْجَوْهَرِ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَأَخَذَ خَالِدٌ مِنْهُ طَائِفَةً وَنَفَّلَهُ بَقِيَّتَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا خَالِدُ ، مَا هَذَا ؟ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ السَّلَبَ كُلَّهُ لِلْقَاتِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَمَا لَعَمْرِ اللَّهِ لأُعَرِّفَنَّهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ خَبَرَهُ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الْمَدَدِيِّ بَقِيَّةَ سَلَبِهِ ، فَوَلَّى خَالِدٌ لِيَفْعَلَ ، فَقُلْتُ لَهُ : فَكَيْفَ رَأَيْتَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ بِمَا وَعَدْتُكَ ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : يَا خَالِدُ ، لا تُعْطِهِ وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، فَقَالَ :" هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي أُمَرَائِي ؟ لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ " ، قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَالِدُ ، لا تُعْطِهِ ، أَرَادَ بِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَعْطَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مددی شخص نے غزوہ تبوک کے موقع پر ان کا ساتھ دیا۔ رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تو اس مددی نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا، جب رومی شخص اس کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے پر حملہ کیا، تو رومی شخص گدی کے بل نیچے گر گیا۔ مددی شخص تلوار لے کر اس پر غالب آیا اور اس نے اسے قتل کر دیا، پھر وہ اس کی زین، اس کی لگام، اس کی تلوار، اس کا پٹکا اور اس کے ہتھیار لے کر آیا۔ یہ دونوں صاحبان سونا اور جواہرات لے کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ چیزیں رکھ لیں اور بقیہ چیزیں اس مددی کو انعام کے طور پر دے دیں۔ میں نے ان سے کہا: اے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ! یہ آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارا ساز و سامان قتل کرنے والے کو عطیے کے طور پر دیتے ہیں؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہیں: جی ہاں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا (اس لیے میں نے اسے نہیں دیا)۔ (سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) تو میں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور اس بارے میں آگاہ کروں گا۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مددی کو باقی رہ جانے والا ساز و سامان بھی دیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ایسا کرنے کے لیے مڑ کر جانے لگے تو میں نے ان سے کہا: اے خالد! آپ نے دیکھا کہ میں نے آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خالد! تم اسے نہ دینا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں سے درگزر نہیں کر سکتے؟ ان کے معاملے کی اچھائی کا فائدہ تمہیں مل جائے اور ان کی کوتاہی کا وبال ان پر ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اے خالد! تم اسے نہ دو“ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد تھی کہ اس وقت میں نہ دو۔ بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے وہ چیز دے دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4842]

4843

Sahih Ibn Hibban #4843

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ نَتَضَحَّى إِذَا رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ بَعِيرَهُ ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى يَتَغَدَّى ، فَنَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ رِقَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو حَتَّى أَتَى بَعِيرَهُ ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ يُرْكِضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ ، قَالَ إِيَاسٌ : قَالَ أَبِي : فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو وَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ جِئْتُ بِنَاقَتِهِ أَقُودُهَا عَلَيْهَا سَلَبُهُ ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ " قَالَ : ابْنُ الأَكْوَعِ ، قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " لَكَ سَلَبُهُ أَجْمَعُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " هَذَا النَّوْعُ لَوِ اسْتَقْصَيْنَا فِيهِ لَدَخَلَ فِيهِ أَكْثَرُ السُّنَنِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَيِّنُ عَنْ مُرَادٍ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الْكِتَابِ قَوْلا وَفِعْلا ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الإِيمَاءِ إِلَيْهِ الْغُنْيَةُ لِمَنْ تَدَبَّرَ الْقَصْدَ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوازن کے ساتھ جنگ کی، ایک دن ہم بیٹھے ہوئے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اونٹ کی نکیل کو کھینچ کر اس کے ذریعے اونٹ کو باندھ دیا، پھر وہ شخص آیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا، اس نے لوگوں کا جائزہ لیا کہ ان کے پاس سواریاں کم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ پیدل ہیں۔ جب اس نے لوگوں کا جائزہ لے لیا تو پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کو ایڑھ لگا دی، وہ کفار کا جاسوس تھا۔ ہم میں سے اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا۔ ایاس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس کے پیچھے گیا، میں نے اپنی تلوار سونت کر اس کا سر اڑا دیا، پھر میں اس کی اونٹنی کو ہانک کر ساتھ لے آیا جس پر اس کا ساز و سامان بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہمراہ میرے سامنے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا سارا ساز و سامان تمہیں ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر اس نوعیت کی تمام روایات کی ہم تحقیق کریں، تو اس میں اکثر سنن داخل ہو جائیں گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حکم کو اپنے قول اور فعل کے ذریعے بیان کرنے والے تھے اور جو چیز ہم نے ذکر کی ہے اس میں اس شخص کے لیے کافی اشارہ ہے جو اس بارے میں غور و فکر کرنے کا قصد کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4843]

4844

Sahih Ibn Hibban #4844

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(قاتل کو دیے جانے والے مقتول کافر کے ساز و سامان میں سے خمس نہیں نکالا تھا)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4844]

4845

Sahih Ibn Hibban #4845

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَفَرَدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ ، فَلَحِقَ بِالرُّومِ ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا اور دشمن نے اسے پکڑ لیا، پھر جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک غلام بھاگ کر رومیوں سے جا ملا تھا، جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو ان کا وہ غلام سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا تھا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کے بعد کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4845]

4846

Sahih Ibn Hibban #4846

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَامَ خَيْبَرَ أَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَضَعْنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر اس بات سے منع فرما دیا کہ ”قیدیوں میں سے حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کی جائے، اس وقت تک جب تک وہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم نہ دے دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4846]

4847

Sahih Ibn Hibban #4847

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يَعَارٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، لا أُلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفُقُ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُولُ : لا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر ایک اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر ایک بکری ہو جو آوازیں نکال رہی ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو جو آواز نکال رہا ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر رقاع (یعنی کپڑے کے ٹکڑے وغیرہ) ہوں تو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4847]

4848

Sahih Ibn Hibban #4848

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَ مِنْ أَمْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، وَلا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ "، الرِّقَاعُ أَرَادَ ثِيَابًا ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مالِ غنیمت) میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے، تو میں یہ کہوں: میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی بکری ہو جو آواز نکال رہی ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں: میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو جو آواز نکال رہا ہو، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے تو میں یہ کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی شخص ہو جو چیخ رہا ہو، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے تو میں یہ کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن میں «رِقَاعٌ» (یعنی کپڑے کے ٹکڑے) ہوں، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے اور میں کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی خاموش (مال) ہو، وہ شخص عرض کرے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کریں اور میں کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔“ لفظ «رِقَاعٌ» سے مراد کپڑے ہیں۔ یہ بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4848]

4849

Sahih Ibn Hibban #4849

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فُلانٌ شَهِيدٌ ، وَفُلانٌ شَهِيدٌ ، حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلا ، فَقَالُوا : فُلانٌ شَهِيدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلا ، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا أَوْ بُرْدَةٍ غَلَّهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، اذْهَبْ ، فَنَادِ فِي النَّاسِ ، أَنَّهُلا يَدْخُلُ الْجَنَّةُ إِلا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ "، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ شہید ہو گئے تو لوگوں نے کہا: فلاں شخص شہید ہے، فلاں شخص شہید ہے، یہاں تک کہ لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ فلاں شخص شہید ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں! میں نے اسے ایک «عَبَاءَةٍ» (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چادر کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ «أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ» ”جنت میں صرف مومن شخص داخل ہو گا۔“”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4849]

4850

Sahih Ibn Hibban #4850

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ عَامَ خَيْبَرَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْقِيَنَّ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَأْخُذَنَّ دَابَّةً مِنَ الْمَغَانِمِ فَيَرْكَبَهَا حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِي الْمَغَانِمِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِي الْمَغَانِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں، غزوہ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پانی کے ذریعے کسی دوسرے کی اولاد کو سیراب نہ کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی جانور حاصل کر کے خود اس پر سوار نہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ جانور کمزور ہو جائے تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کرا دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا لے کر پہن نہ لے کہ جب وہ پرانا ہو جائے تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کرا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4850]

4851

Sahih Ibn Hibban #4851

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا فِضَّةً إِلا الأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ ، فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ وَادِي الْقُرَى ، وَكَانَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ : مِدْعَمٌ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى ، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّالشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا " ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ ، أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَسْلَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِدَوْسٍ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ نَحْوَ خَيْبَرَ وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيُّ ، اسْتَخْلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى أَبُو هُرَيْرَةَ مَعَ سِبَاعٍ وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَشَهِدَ خَيْبَرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمیں مالِ غنیمت میں سونا یا چاندی حاصل نہیں ہوا، صرف زمینیں، کپڑے اور ساز و سامان ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سیاہ فام غلام تحفے کے طور پر دیا جس کا نام مدعم تھا، ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم وادیِ قریٰ میں پہنچے تو مدعم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ سے سامان اتار رہا تھا۔ اسی دوران ایک اندھا تیر آیا، اسے لگا اور وہ مر گیا تو لوگوں نے اسے جنت کی مبارکباد دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، غزوہ خیبر کے موقع پر اس نے جو چادر مالِ غنیمت میں سے حاصل کر لی تھی جو تقسیم تک نہیں پہنچی تھی، وہ آگ کی بن کر اس پر جل رہی ہے“۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تسمہ آگ سے بنا ہوا ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”یہ دو تسمے آگ سے بنے ہوئے ہیں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوس قبیلے میں اسلام قبول کر لیا تھا، پھر جب وہ مدینہ منورہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نائب مقرر کیا تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سباع رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی، انہوں نے انہیں ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، پھر وہ خیبر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے اور غزوہ خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4851]

4852

Sahih Ibn Hibban #4852

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَهْدَى رِفَاعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامًا فَخَرَجَ بِهِ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَتَى الْغُلامَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ ، فَقُلْنَا : هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،الشَّمْلَةُ لَتَحْتَرِقُ عَلَيْهِ الآنَ فِي النَّارِ غَلَّهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ خَيْبَرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ يَوْمَئِذٍ شِرَاكَيْنِ ، قَالَ : " يُعَدَّدُ لَكَ مِثْلُهُمَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام تحفے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ساتھ لے کر خیبر تشریف لے گئے۔ ایک اجنبی تیر اس غلام کو آ کر لگا اور وہ غلام مر گیا تو ہم نے کہا: اسے جنت کی مبارک ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، وہ چادر اس پر جہنم میں جل رہی ہے جو اس نے مسلمانوں کے مال میں غزوہ خیبر کے موقع پر خیانت کی تھی“، تو ایک انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن مجھے دو تسمے ملے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے ان دونوں کی مانند جہنم کی آگ میں (تسمے تیار کیے جائیں گے)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4852]

4853

Sahih Ibn Hibban #4853

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَتَغَيَّرَتْ وجُوهُ الْقَوْمِ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ ، فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ لا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کا غزوہ خیبر کے موقع پر انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کے انتقال کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ تو اس بات پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے (یعنی وہ پریشان ہو گئے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی تھی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم نے اس کے ساز و سامان کا جائزہ لیا تو اس میں یہودیوں کا ایک ہار ملا جس کی قیمت دو درہم بھی نہیں ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4853]

4854

Sahih Ibn Hibban #4854

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ ، فَيَسْأَلُ ، هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلا ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کسی ایسے شخص کی میت لائی جاتی تھی جس کے ذمے قرض ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کرتے تھے کہ کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر یہ بات بتائی جاتی کہ اس نے ایسی چیز چھوڑی ہے جس کے ذریعے اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4854]

4855

Sahih Ibn Hibban #4855

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللَّهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ ، فَلَمَّا كَفَى اللَّهُ الْعَدُوَّ ، وَرَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوهُمْ ، قَالُوا : لَنَا النَّفْلُ ، نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللَّهُ وَهَزَمَهُمْ ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنَّا ، هُوَ لَنَا ، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنْ لا يَنَالَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً ، قَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ : وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا ، هُوَ لَنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ الآيَةَ ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُهُمْ إِذَا خَرَجُوا بَادِينَ الرُّبُعَ ، وَيُنَفِّلُهُمْ إِذَا قَفَلُوا الثُّلُثَ ، وَقَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبٍ بَعِيرٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُلا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلا الْخُمُسِ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ " ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الأَنْفَالَ ، وَيَقُولُ : " لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن سے سامنا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا، تو مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے ساتھ لڑنے کے لیے ان کے پیچھے گیا، دوسرا گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ٹھہر گیا۔ ایک گروہ نے لشکر اور لوٹنے کے معاملات سنبھال لیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کی طرف سے اطمینان کر دیا اور وہ لوگ واپس آ گئے جو ان کے پیچھے گئے تھے تو انہوں نے کہا: اضافی ادائیگی ہمیں ملے گی، کیونکہ ہم دشمن کے پیچھے گئے تھے اور ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہاں سے دور کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے۔ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد پہرہ دے رہے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو، وہ ہمیں بھی ملے گا کیونکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے تاکہ کہیں کوئی دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دے۔ وہ لوگ جو لشکر اور لوٹنے کے نگہبان تھے وہ بولے: اللہ کی قسم! تم لوگ اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو، یہ ہمیں ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”لوگ تم سے اضافی ادائیگی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مالِ غنیمت ان کے درمیان تقسیم کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عطیے کے طور پر چیزیں دیتے رہے۔ جب وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تھے تو شروع میں ایک چوتھائی دیا گیا اور جب وہ واپس آ گئے تھے تو انہیں ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیا گیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے پہلو کا بال پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں مالِ غنیمت کے طور پر جو کچھ عطا کرتا ہے اس میں سے اس (بال جتنی بھی) کوئی چیز میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے «الْخُمُسِ» ”خمس“ کے، اور خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا، اس لیے تم سوئی اور دھاگہ تک ادا کرو اور خیانت کرنے سے بچنا، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث ہو گی۔ تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے کیونکہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم کو ختم کر دیتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اضافی ادائیگی کو ناپسند کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”اہلِ ایمان میں سے خوش حال لوگ اپنے غریبوں کو یہ دے دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4855]

4856

Sahih Ibn Hibban #4856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ السُّلَمِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا انْتَاطَ غَزْوُكُمْ ، وَكَثُرَتِ الْعَزَائِمُ ، وَاسْتُحِلَّتِ الْغَنَائِمُ ، فَخَيْرُ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتبہ بن ندر سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہاری جنگ ختم ہو جائے اور عزائم زیادہ ہو جائیں اور مال غنیمت حلال قرار دیا جائے تو تمہارے لیے سب سے بہترین جہاد (سرحدوں پر) پہرہ داری کرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4856]

4857

Sahih Ibn Hibban #4857

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرٍ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : فُلانٌ شَهِيدٌ ، فُلانٌ شَهِيدٌ ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : فُلانٌ شَهِيدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلا ، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا ، أَوْ عَبَاءَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ : أَنَّهُلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا الْمُؤْمِنُونَ "، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَنَادَيْتُ أَلا إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَلا الْمُؤْمِنُونَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الإِيمَانَ يَزِيدُ بِالطَّاعَةَ ، وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُنْفَى عَنْهُ اسْمُ الإِيمَانِ بِالْمَعْصِيَةِ ، إِذَا ارْتَكَبَهَا لا الإِيمَانُ كُلُّهُ ، كَمَا أَنَّ الطَّاعَةَ يُطْلَقُ عَلَى مَنْ أَتَى بِهَا اسْمُ الإِيمَانِ ، لا الإِيمَانُ كُلُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ کہنا شروع کیا: فلاں شخص شہید ہے، فلاں شخص شہید ہے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: فلاں شہید ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہرگز نہیں! میں نے اسے ایک چادر کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک عباء کی وجہ سے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! تم جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے نکلا، میں نے اعلان کیا: خبردار! جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نیکی کرنے کی وجہ سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور گناہ کی وجہ سے اس میں کمی ہوتی ہے، اس میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے کہ بعض اوقات کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کسی مومن شخص سے لفظ ایمان کی نفی کی جاتی ہے، اس سے پورے ایمان کی نفی نہیں کی جاتی، جس طرح اگر کوئی شخص کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے لیے لفظ ایمان استعمال کیا جاتا ہے، اس سے پورا ایمان مراد نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4857]

4858

Sahih Ibn Hibban #4858

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ ثَلاثَةً ، فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ ، فَيُخَمِّسُهَا ، وَيَقْسِمُهَا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَبِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَا فِي الْغَنِيمَةِ ، قَالَ : مَا سَمِعْتَ بِلالا نَادَى ثَلاثًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں تین مرتبہ اعلان کر دیا، لوگ اپنے طور پر مال غنیمت میں ملنے والی تمام چیزیں لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے خمس نکال لیا اور باقی کو تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد ایک شخص بال سے بنی ایک لگام لے کر آیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ان چیزوں میں شامل ہے جو ہمیں مال غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے بلال کو سنا نہیں تھا، اس نے تین مرتبہ اعلان کیا تھا؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے لے کر کیوں نہیں آئے۔“ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عذر پیش کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسے شخص بن جاؤ کہ تم اسے اپنے ساتھ قیامت کے دن لے کر آؤ گے، تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4858]

4859

Sahih Ibn Hibban #4859

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوثَقٌ ، فَنَادَاهُ : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَلى مَا أُحْبَسُ ؟ فَقَالَ : بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الأَسِيرُ :إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُلْتَهَا ، وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاحِ " ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ أَيْضًا ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَاهُ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ كَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْهُمَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ الأَسِيرِ : إِنِّي مُسْلِمٌ وَتَرْكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ ، كَانَ لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ مِنْهُ بِإِعْلامِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِيَّاهُ ، أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَسْرِهِ ، كَمَا كَانَ يَقْبَلُ مِثْلَهُ مِنْ مِثْلِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ أَسِيرًا ، فَأَمَّا الْيَوْمُ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ ، فَإِذَا قَالَ الْحَرْبِيُّ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، قَبْلَ ذَلِكَ مِنْهُ ، وَرُفِعَ عَنْهُ السَّيْفَ سَوَاءٌ كَانَ أَسِيرًا أَوْ مُحَارِبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اصحاب کو قید کر لیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بنو عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قید کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، وہ بندھا ہوا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو گئے، اس نے دریافت کیا کہ مجھے کیوں قید کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے حلیفوں کی زیادتی کی وجہ سے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے تو اس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس قیدی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی: میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ بات کہتے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو گے اور تم مکمل طور پر کامیابی حاصل کر لو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے تو اس نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ بولا: میں بھوکا ہوں، مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دو آدمیوں کے فدیے کے طور پر ادا کیا جنہیں ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قید کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس قیدی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دینا، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ وہ شخص اپنے اس بیان میں جھوٹا ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قید کے دوران اس سے اعتراف کو قبول نہیں کیا، جس طرح کا اعتراف آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی صورت حال میں قبول کر لیتے جب کہ وہ آدمی قیدی نہ ہوتا۔ جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (بعد کے) دور کا تعلق ہے تو وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، لہٰذا جب کوئی حربی شخص یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں، تو اس سے اس بات کو قبول کیا جائے گا اور اس سے تلوار کو اٹھا لیا جائے گا، خواہ وہ شخص قیدی ہو یا جنگجو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4859]

4860

Sahih Ibn Hibban #4860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، فَعَرَّسْنَا ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ بِشَنِّ الْغَارَةِ ، فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا ، قَالَ سَلَمَةُ : فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقِ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا ، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَاءَ ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ آدَمَ ، مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا ، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، ثُمَّ بِتُّ وَلَمِ اكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا ، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَبْ لِي الْمَرْأَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَنِي ، ثُمَّ لَقِيَنِي مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : " يَا سَلَمَةُ ،هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَشَفْتُ لَهُ ثَوْبًا ، فَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ، فَكَّهُمْ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر فرمایا تھا۔ ہم نے فزارہ قبیلے کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنی تھی، جب ہم پانی کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے وہاں پڑاؤ کر لیا۔ جب ہم نے صبح کی نماز ادا کر لی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یک بارگی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے پانی کے آس پاس موجود بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی جس میں بچے اور عورتیں تھیں، میں ان کے پیچھے گیا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ پہنچ جائیں تو میں نے ایک تیر مارا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا کر گرا تو وہ لوگ رک گئے۔ میں انہیں پکڑ کر اور ہانک کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، یہاں تک کہ میں پانی کے پاس آ گیا۔ ان میں فزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عربوں کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی مجھے بطورِ نفل (انعام) دے دی، میں نے اس کا پردہ نہیں ہٹایا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آ گیا، پھر میں نے رات بسر کی اور اس کا پردہ نہیں ہٹایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت مجھے ہبہ (تحفے) کے طور پر دے دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! مجھے وہ بہت اچھی لگی ہے اور میں نے تو ابھی اس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ پھر اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے بازار میں ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمہ! تم وہ عورت مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں نے تو اس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا، بہرحال وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے (نذر ہے) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو پیغام بھیجا، ان کے ہاں کچھ مسلمان قیدی تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کے فدیے کے طور پر وہ عورت ادا کر دی اور ان لوگوں کو اس عورت کے عوض میں چھڑوا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4860]

4861

Sahih Ibn Hibban #4861

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ ، أَنَّ فُدَيْكًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُدَيْكُ ، أَقِمِ الصَّلاةَ ، وَاهْجُرِ السُّوءَ ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِمِ الصَّلاةَ أَمْرُ فَرْضٍ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكَلِّ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاهْجُرِ السُّوءَ فَرْضٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كُلِّهِمْ فِي كُلِّ الأَحْوَلِ لِئَلا يَرْتَكِبُوا سُوءًا بِأَنْفُسِهِمْ مِنَ الْمَعَاصِي وَبِغَيْرِهِمْ مِمَّا لا يَرْضَى اللَّهُ مِنَ الأَفْعَالِ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ أَمْرُ إِبَاحَةٍ مُرَادُهُ الإِعْلامُ بِأَنَّ تَارِكَ السُّوءِ عَلَى مَا وَصَفْنَا لا ضَيْرَ عَلَيْهِ ، أَيَّ مَوْضِعٍ سَكَنَ ، وَإِنْ لَمْ يَقْصِدِ الْمَوَاضِعَ الشَّرِيفَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فدیک! تم نماز ادا کرتے رہو، برائی سے لاتعلق رہو اور جہاں چاہو اپنی قوم کی سرزمین میں رہائش رکھو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «أَقِمِ الصَّلَاةَ» ”تم نماز قائم کرو“ یہ فرض حکم ہے جو مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتا ہے، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «وَاهْجُرِ السُّوءَ» ”تم برائی سے لاتعلق رہو“ یہ تمام مسلمانوں پر ہر حالت میں فرض ہے تاکہ وہ بھی کسی بھی صورت میں اپنی ذات کے حوالے سے گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور کسی دوسرے کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ» ”اور تم اپنی قوم کی سرزمین پر رہائش رکھو جہاں بھی تم چاہو“ یہ مباح قرار دینے کے طور پر حکم ہے لیکن اس سے مراد اطلاع دینا ہے کہ برائی کو ترک کرنے والا وہ شخص جس کی صفت ہم نے بیان کی ہے، اس شخص پر کوئی نقصان نہیں ہوگا چاہے وہ کسی بھی جگہ پر رہائش اختیار کرے، اگرچہ وہ شرف والے مقامات پر رہائش کو اختیار نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4861]

4862

Sahih Ibn Hibban #4862

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : أَلاأُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے حوالے سے مامون ہوں، اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ سلامت ہوں۔ مجاہد وہ شخص ہے جو اپنی ذات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بارے میں جہاد کرتا ہے اور مہاجر وہ شخص ہے جو اپنی خطاؤں اور گناہوں سے لاتعلق رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4862]

4863

Sahih Ibn Hibban #4863

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ ، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي يُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے؛ دیہاتی شخص کی ہجرت یہ ہے: جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو فرماں برداری کرے۔ جہاں تک شہری شخص کی ہجرت کا تعلق ہے تو آزمائش کے اعتبار سے یہ شدید ہوتی ہے اور اجر بھی اس کا زیادہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4863]

4864

Sahih Ibn Hibban #4864

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ يَعْلَى ابْنَ مُنْيَةَ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايَعَ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْأُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ ، قَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لوں گا کیونکہ ہجرت ختم ہو چکی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4864]