Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 43 · Chapter 1

Book of Foods

Hadith 4785–4824

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4785

Sahih Ibn Hibban #4785

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةًفَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران ایک عورت کو مقتول پایا تو آپ نے ”(جنگ کے دوران) خواتین اور بچوں کو مارنے سے“ منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4785]

4786

Sahih Ibn Hibban #4786

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،سُئِلَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ وَفِيهِمُ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَقَالَ : هُمْ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی بستی کے رہنے والے بچوں اور خواتین کے بارے میں دریافت کیا گیا جن پر رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هُمْ مِنْهُمْ» ”وہ ان کا حصہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4786]

4787

Sahih Ibn Hibban #4787

قَالَ : فَصِدْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ بِالأَبْوَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّ ذَلِكَ ، فَعَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلا أَنَّا حُرُمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تین احادیث بیان کیا کرتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا ہم ان کے ہمراہ انہیں بھی قتل کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، کیونکہ وہ ان کا حصہ ہیں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے منع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے“۔ (تیسری روایت یہ ہے) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابواء کے مقام پر زیبرے کا شکار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت احرام میں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم نے یہ تمہیں صرف اس لیے واپس کیا ہے کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4787]

4788

Sahih Ibn Hibban #4788

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَشَكُّوا فِيَّ ، أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ ؟ فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي ، فَلَمْ يَجِدُوهَا نَبَتَتْ ، فَأُلْقِيتُ فِي الذُّرِّيَّةِ ، وَلَمْ أُقْتَلْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمَّا جَعَلَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَرْقَ بَيْنَ مَنْ يُقْتَلَ وَبَيْنَ مَنْ يُسْتَبْقَى مِنَ السَّبْيِ الإِنْبَاتَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ مَنْ أَنْبَتَ صَحَّ أَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ أَنَّ مَنْ أَنْبَتَ كَانَ بَالِغًا يَجُوزُ أَنْ يُقَاتَلَ ، وَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ ، كَانَ فِيهَا الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مِنْ دُورِ الْحَرْبِ إِذَا قَاتِلُوا قُوتِلُوا ، إِذِ الْعِلَّةُ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَتْلُ ، عُدِمَتْ فِيهِمْ ، وَهِيَ مُجَانَبَةُ الْقِتَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا تھا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ بچوں میں شمار ہوں گا یا جنگ کرنے والوں میں شمار ہوں گا۔ جب انہوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا تو انہیں وہاں بال اگے ہوئے نہیں ملے، تو مجھے بچوں میں شامل کر لیا گیا اور مجھے قتل نہیں کیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیے جانے والے اور چھوڑ دیے جانے والے قیدیوں کے بارے میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ وہ زیر ناف بالوں کا اگنا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں“، تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اس میں علت یہ ہے: جس کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں وہ بالغ شمار ہو گا اور اسے قتل کرنا جائز ہو گا، اور جب یہ بات صحیح طور پر ثابت ہو گئی جو علت میں نے بیان کی ہے تو اس میں اس بات کی دلیل موجود ہو گی کہ غیر مسلموں کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ بچے اور خواتین اگر جنگ میں حصہ لیں، تو انہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ وہ علت جس کی وجہ سے ان سے قتل کا حکم اٹھا لیا گیا تھا وہ ان میں معدوم ہو گی، اور وہ علت جنگ سے الگ رہنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4788]

4789

Sahih Ibn Hibban #4789

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَعَلَى مُقَدِّمَةِ النَّاسِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَجَعَلُوا يَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا قَدْ أَصَابَتْهَا الْمُقَدِّمَةُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : هَاهْ مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ ، ثُمَّ قَالَ : أَدْرِكْ خَالِدًا ، فَلا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً وَلا عَسِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے۔ مقدمۃ الجیش کے امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، راستے میں ایک مقتول عورت ملی تو لوگ اس پر حیرانگی کا اظہار کرنے لگے کہ مقدمۃ الجیش کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو اس عورت کے پاس ٹھہر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی تھی“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”خالد کے پاس جاؤ (اور اسے یہ پیغام پہنچاؤ) تم بچوں اور مزدوروں (غیر جنگجو افراد) کو قتل نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4789]

4790

Sahih Ibn Hibban #4790

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَثْبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةَ لِلْمَقْتُولِ دُونَ مَالِهِ ، وَأَبَاحَ قِتَالَ قَاتِلِهِ ، وَالْخَبَرُ عَلَى الْعُمُومِ ، فَلَمَّا كَانَ قِتَالُ الْمَرْءِ مَعَ الْمُسْلِمِ الْمُحَرَّمِ دَمُهُ عِنْدَ أَخْذِ مَالِهِ جَائِزًا ، كَانَ قِتَالُ مِثْلِهِ مَعَ الْمَرْءِ الَّذِي لَيْسَ بِمُحَرَّمٍ دَمُهُ وَلا مَالُهُ صَبِيًّا كَانَ أَوْ بَالِغًا ، امْرَأَةً كَانَتْ أَوْ عَبْدًا ، أَوْلَى أَنْ يَكُونَ جَائِزًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے، اور جو شخص کسی دوسرے کی زمین ایک بالشت کے برابر ناجائز طور پر حاصل کر لے، تو اس کو سات زمینوں جتنا وزنی طوق پہنایا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے شہادت کو برقرار رکھا ہے جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے اور اس کے لیے اپنے قاتل کے ساتھ لڑائی کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ روایت عموم سے تعلق رکھتی ہے، تو جب آدمی کا کسی ایسے مسلمان کے ساتھ جس کا خون قابل احترام ہے، اپنے مال کو دینے کی وجہ سے لڑنا جائز ہو جائے، تو آدمی کا اس طرح کے شخص کے ساتھ لڑنا جائز ہو گا جس کا خون یا مال اس کے لیے قابل احترام نہیں ہے، خواہ وہ بچہ ہو یا بالغ، عورت ہو یا غلام ہو، تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ایسا کرنا جائز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4790]

4791

Sahih Ibn Hibban #4791

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بَحْرَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ وَالنَّاسُ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ، أَدْرِكْ خَالِدًا ، فَقُلْ لَهُ : لا تَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلا عَسِيفًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ ، وَجَدُّهُ رِيَاحٌ الرَّبِيعُ ، وَهُمَا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جس کے اردگرد لوگ جمع تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی، خالد کے پاس جاؤ اور کہو کہ بچوں اور ملازمین کو قتل نہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مرقع بن صیفی نے یہ روایت سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، انہوں نے یہ روایت اپنے دادا سے بھی سنی ہے، ان کے دادا سیدنا ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں، یہ دونوں روایات محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4791]

4792

Sahih Ibn Hibban #4792

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ مِنْ تَبُوكَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تھے تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے بچوں کے ہمراہ ثنیۃ الوداع تک گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4792]

4793

Sahih Ibn Hibban #4793

قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشُدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ فَوْقَهُ ، يَقُولُ : أَقْدِمْ حَيْزُومُ ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ مُسْتَلْقِيًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذْا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ سَوْطٍ ، فَاخْضَرَّ ذَاكَ أَجْمَعُ ، فَجَاءَ الأَنْصَارِيُّ ، فَحَدَّثَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ " ، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا أَسَرُوا الأُسَارَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرٍ وَعَلِيٍّ وَعُمَرَ : " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلاءِ الأُسَارَى ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ ، أَرَى أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً تَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ إِلَى الإِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " قُلْتُ : لا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنَا ، فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلانٍ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ نَسِيبٍ كَانَ لِعُمَرَ ، فَإِنَّ هَؤُلاءَ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جِئْتُ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ : فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا ، فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: جب غزوہ بدر کا دن آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا جن کی تعداد ایک ہزار تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تین سو سے کچھ زیادہ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے اور آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں یہ التجا کرنے لگے: «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ» ”اے اللہ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے، اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاکت کا شکار ہو گیا جو اہل اسلام سے تعلق رکھتا ہے تو پھر تیری زمین پر عبادت نہیں کی جائے گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجائیں کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، قبلہ کی طرف رخ کیا ہوا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے سے چادر گر گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھی، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بہت سی التجائیں کر لی ہیں۔ آپ کا پروردگار آپ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ [سورة الأنفال: 9] ”جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا کو قبول کیا۔ بے شک میں تمہاری طرف ایک ہزار فرشتے بھیجنے لگا ہوں جو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آئیں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد کی۔ ابوزمیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے: اس دن ایک مسلمان شخص ایک مشرک کے پیچھے جا رہا تھا جو اس کے آگے تھا، اسی دوران اس نے کوڑے کی آواز اپنے اوپر سے سنی اور اپنے اوپر سے ایک گھڑ سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا: «أَقْدِمْ حَيْزُومُ» ”حیزوم! آگے بڑھو۔“ اسی دوران اس کی نظر اپنے آگے مشرک پر پڑی جو چت لیٹا ہوا گر چکا تھا۔ اس نے اس کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور ناک چھل چکے تھے یوں جیسے اسے کوڑا لگا ہوا ہو۔ پھر وہ انصاری آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کہا ہے، یہ آسمان سے آنے والی تیسری مدد تھی۔“ ان لوگوں نے اس دن ستر (70) مشرکین کو قتل کیا تھا اور ستر کو قید کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ان لوگوں نے قیدیوں کو قید کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ چچا زاد ہیں، خاندان کے افراد ہیں، میری یہ رائے ہے کہ ہم ان سے فدیہ لے لیتے ہیں جو ہمارے لیے کفار کے خلاف تیاری میں مدد دے گا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی ہدایت نصیب کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! تمہاری کیا رائے ہے؟“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے عرض کی: جی نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری وہ رائے نہیں ہے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، میری یہ رائے ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کریں ہم ان کی گردنیں اڑاتے ہیں، آپ عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں یہ اس کی گردن اڑائیں، مجھے فلاں کے حوالے کریں میں اس کی گردن اڑاتا ہوں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھانجے کے بارے میں یہ بات کہی)، یہ لوگ کفر کے پیشوا ہیں اور اس کے سردار ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو اختیار کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیش کی تھی اور اس رائے کو اختیار نہیں کیا تھا جو میں نے بیان کی تھی۔ اگلے دن میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بتائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کس بات پر رو رہے ہیں؟ تاکہ میں بھی اس بات پر رونا شروع کر دوں، اگر میں اس بات پر رو نہ سکوں تو رونے والی شکل بنا لوں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات پر رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کی پیشکش کی تھی۔“ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا ہے: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ سے ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 67-69] تک، تو اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4793]

4794

Sahih Ibn Hibban #4794

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رِجَالا مِنَ الأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ائْذَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلْنَتْرُكْ لابْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَاءَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا وَاللَّهِ لا تَذَرُونَ دِرْهَمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ انصاریوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑ دیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم! تم ان کا ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4794]

4795

Sahih Ibn Hibban #4795

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ هَبَطَ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : خَيِّرْهُمْ ، يَعْنِي أَصْحَابَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الأُسَارَى إِنْ شَاءُوا الْقَتْلَ ، وَإِنْ شَاءُوا الْفِدَاءَ ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ مِنْهُمْ عِدَّتُهُمْ " ، قَالُوا : الْفِدَاءُ ، وَيُقْتَلُ مِنَّا عِدَّتُهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا: ”آپ انہیں اختیار دیجیے یعنی اپنے اصحاب کو قیدیوں کے بارے میں اختیار دیجیے، اگر وہ چاہیں تو انہیں قتل کر دیں اور اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں، اس شرط پر کہ پھر اگلے سال ان میں سے اتنی ہی تعداد میں لوگ قتل کیے جائیں گے۔“ ان لوگوں نے کہا: ”ہم فدیہ لے لیتے ہیں“، تو پھر ان میں سے اتنی ہی تعداد میں لوگ قتل کیے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4795]

4796

Sahih Ibn Hibban #4796

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهْرَ ، وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلا مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ یہ بات کیا کرتے تھے کہ اصحابِ بدر کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی، یہ سیدنا طالوت علیہ السلام کے ان ساتھیوں جتنی تعداد تھی جنہوں نے ان کے ہمراہ نہر کو پار کیا تھا اور ان کے ساتھ صرف مومن لوگوں نے ہی اسے پار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4796]

4797

Sahih Ibn Hibban #4797

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَهُمْ ، فَدَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا ، فَقَالَ : يَا حَاطِبُ ، أَفَعَلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا نِفَاقًا ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ وَيُتِمُّ أَمْرَهُ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ غَرِيبًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، فَكَانَتْ أَهْلِي مَعَهُمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ يَدًا ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَقْتُلُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو ایک خط لکھا جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کی طرف رہنمائی کر دی گئی جس کے پاس وہ خط تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بھیجا، انہوں نے اس کے سر (کے بالوں) میں سے وہ خط حاصل کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے حاطب! کیا تم نے ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی منافقت کی وجہ سے ایسا کیا ہے، میں یہ بات جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس بات کو ظاہر کر دے گا اور اپنے معاملے کو پورا کرے گا، لیکن میں ان لوگوں کے درمیان اجنبی ہوں اور میرے اہل خانہ ان کے ساتھ تھے، اس لیے میں ان پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اس کا سر نہ اڑا دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا ہو: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ» ”تم جو چاہو عمل کرو۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4797]

4798

Sahih Ibn Hibban #4798

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ عَمِيَ ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ تَعَالَ فَاخْطُطْ فِي دَارِي مَسْجِدًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ ، وَبَقِيَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ فُلانٌ ؟ فَغَمَزَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنَّهُ ، وَإِنَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نابینا ہو گئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز کے لیے کسی جگہ کو مخصوص کر دیں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگ آپ کی خدمت میں اکٹھے ہو گئے، ان میں سے ایک شخص نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فلاں شخص کہاں ہے؟“ تو ایک صاحب نے اس پر الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہا: وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ بدر میں شریک نہیں ہوا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لیکن وہ اس اس طرح کے کام کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» ”تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4798]

4799

Sahih Ibn Hibban #4799

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيَدْخُلُ حَاطِبٌ النَّارَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتَ ، إِنَّهُ لا يَدْخُلُهَا ، إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا ، وَالْحُدَيْبِيَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ جہنم میں جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا ہے، وہ اس میں نہیں جائے گا، اس نے غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4799]

4800

Sahih Ibn Hibban #4800

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ : لا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَهْ : ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے: ”کوئی بھی ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جو صلح حدیبیہ اور غزوہ بدر میں شریک ہوا ہو۔“ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] ”تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہو گا۔“؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو کیا (اللہ تعالیٰ نے) یہ نہیں فرمایا ہے: ﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا﴾ [سورة مريم: 72] ”پھر ہم ان لوگوں کو نجات عطا کر دیں گے جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔“؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4800]

4801

Sahih Ibn Hibban #4801

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا ، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ وَمِائَةً ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا ، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا ، ثُمَّدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَتَوَضَّأَ ، وَتَمَضْمَضَ ، وَدَعَا ، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا ، فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَا الشَّيْخُ ، فَقَالَ : أَرْبَعَ عَشْرَةَ وَمِائَةً ، وَإِنَّمَا هُوَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً بِلا وَاوٍ ، لأَنَّ أَصْحَابَ الْحُدَيْبِيَةِ كَانُوا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ مِائَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ ”فتح“ فتح مکہ کو سمجھتے ہو، فتح مکہ بھی ”فتح“ ہے لیکن ہم حدیبیہ کے دن بیعتِ رضوان کو ”فتح“ شمار کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ 114 افراد تھے، حدیبیہ ایک کنواں ہے، ہم نے اس میں سے پانی نکال لیا، ہم نے اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہنے دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے تشریف فرما ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، کلی کی، دعا مانگی اور وہ پانی اس کنویں میں انڈیل دیا، تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم نے اپنی پسند کے مطابق (ڈھیر سارا) پانی اس میں سے لیا اور اپنی سواریوں کو بھی (پلایا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہمارے شیخ نے یہی الفاظ ہمیں بیان کیے ہیں: ”114“ افراد، حالانکہ ان حضرات کی تعداد 1400 تھی، کیونکہ حدیبیہ کے موقع پر موجود افراد ایک ہزار چار سو تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4801]

4802

Sahih Ibn Hibban #4802

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”درخت کے نیچے بیعت (رضوان) کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4802]

4803

Sahih Ibn Hibban #4803

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : كُنَّا يَوْمَ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلاثَ مِائَةٍ ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ رَحِمَهُمُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: درخت والے (یعنی بیعت رضوان کے) دن ہم ایک ہزار تین سو افراد تھے، اس دن اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد مہاجرین کے آٹھویں حصے (جتنی تعداد میں) تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4803]

4804

Sahih Ibn Hibban #4804

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ آدَمَ فِيهَا أَرْبَعُونَ رَجُلا ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَفْتُوحُونَ ، وَمَنْصُورُونَ ، وَمُصِيبُونَ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ مِنْكُمْ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں تشریف فرما تھے جس میں چالیس افراد موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں (مال و دولت) نصیب ہوگا، تم میں سے جو بھی اس زمانے کو پائے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے منع کرتا رہے اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4804]

4805

Sahih Ibn Hibban #4805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ ، فَاسْتَدْبَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ الدِّرْعَ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي ، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَقُمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَقُمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي ، فَأَرْضِهِ مِنِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لا هَاللَّهُ ، إِذًا لا يَعْمِدُ إِلَيَّ أَسَدٌ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَأَعْطَانِيهِ ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ ، فَابْتَعْتُ مِنْهُ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلا : فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ أَرَادَ بِذَلِكَ بَعْضَ الْخُمُسِ ، إِذِ السَّلَبُ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَلَيْسَ بِدَاخِلٍ فِي الْخُمُسِ بِحُكْمِ الْمُبَيِّنِ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مُرَادُهُ مِنْ كِتَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہمارا (اور دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرب لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی، وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ (اس جنگ سے) واپس آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا ہو اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو، تو مقتول کا ساز و سامان اس شخص کو ملے گا“، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ تو میں بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو اس مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا“، میں کھڑا ہوا، پھر مجھے خیال آیا میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے ابوقتادہ! کیا معاملہ ہے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس مقتول کا ساز و سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ کا ایک شیر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا سامان تمہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ اسے دے دو“، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہو گا“ اس سے مراد بعض خمس ہے، کیونکہ (مقتول کے جسم کا) ساز و سامان بھی مال غنیمت میں شامل ہوتا ہے، لیکن وہ خمس میں شامل نہیں ہوتا، یہ بات اس ہستی کے حکم کے ذریعے ثابت ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے احکام کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضاحت کرنے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4805]

4806

Sahih Ibn Hibban #4806

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ ، كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ نَارٌ فَتَأْكُلُهَا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سے پہلے کسی بھی امت کے لیے مال غنیمت حلال قرار نہیں دیا گیا (پہلے زمانے میں) آسمان کی طرف سے آگ نازل ہوتی تھی اور مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) غزوہ بدر کے موقع پر جب لوگ مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾ [سورة الأنفال: 68] نازل کی: ”اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (تقدیر میں) پہلے طے نہ ہو چکا ہوتا تو تم نے جو حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4806]

4807

Sahih Ibn Hibban #4807

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ غَزَا بِأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : لا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ بَنَى دَارًا لَمْ يَسْكُنْهَا ، أَوْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَمْ يَدْخُلْ بِهَا ، أَوْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الرُّجُوعِ ، قَالَ : فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عَنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنِّي مَأْمُورٌ ، فَاحْبِسْهَا عَلَيَّ حَتَّى تَقْضِيَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ ، فَجَمَعُوا الْغَنَائِمَ فَلَمْ تَأْكُلْهَا النَّارُ ، وَكَانُوا إِذَا غَنِمُوا غَنِيمَةً بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهَا النَّارَ فَأَكَلَتْهَا ، فَقَالَ لَهُمْ نَبِيِّهُمْ : إِنَّ فيكُمْ غُلُولا ، فَلْيَأْتِنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلْيُبَايِعْنِي ، فَأَتَوْهُ فَبَايَعُوهُ ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمَا غَلَلْتُمَا ، فَقَالا : أَجَلْ صُورَةُ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَاءَا بِهَا ، فَأَلْقَيَاهَا فِي الْغَنَائِمِ ، فَبَعَثَ اللَّهُ النَّارَ فَأَكَلَتْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَةً رَحِمَنَا بِهَا ، وَتَخْفِيفًا خَفَّفَهُ عَنَّا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضَعْفَنَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ مِنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ بِمَكَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک نبی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے (روانگی سے پہلے) فرمایا: ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے نیا گھر بنایا ہو لیکن ابھی اس میں رہائش اختیار نہ کی ہو، اور ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت کے ساتھ شادی کر لی ہو لیکن ابھی اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، یا اس نے واپس جا کر کوئی ضروری کام کرنا ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان کا دشمن سے سامنا سورج غروب ہونے کے قریب ہوا، انہوں نے دعا کی: اے اللہ! یہ (سورج بھی) حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں، تو اس کو میرے لیے (غروب ہونے سے) اس وقت تک روک دے جب تک میرے اور ان (کفار) کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس (نبی علیہ السلام) کو فتح نصیب کی، ان لوگوں نے مال غنیمت کو جمع کیا، لیکن اسے آگ نے نہیں کھایا، وہ لوگ جب مال غنیمت جمع کر لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس پر آگ بھیج دیتا تھا جو اس کو کھا لیتی تھی۔ ان کے نبی علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، ہر قبیلے کا ایک شخص میرے پاس آ کر میری بیعت کرے، وہ لوگ اس نبی علیہ السلام کے پاس آئے، انہوں نے ان کی بیعت کی تو ان میں سے دو آدمیوں کا ہاتھ اس نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، تو اس نبی علیہ السلام نے فرمایا: تم دونوں نے خیانت کی ہے۔ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں! (ہم نے) سونے سے بنے ہوئے گائے کے سر جیسی چیز (چھپائی ہوئی ہے)، پھر وہ دونوں اسے لے کر آئے اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا، تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو بھیجا اور اس نے اس (مال غنیمت) کو کھا لیا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی رحمت کی وجہ سے ہمیں مال غنیمت عطا کیا اور اس نے ہمیں تخفیف عطا کی کیونکہ وہ ہماری کمزوری سے واقف ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبدالرحمن بن ابراہیم دمشقی نے معاذ بن ہشام سے مکہ میں احادیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4807]

4808

Sahih Ibn Hibban #4808

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ نَاكَحَ امْرَأَةً وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا ، وَلا رَفَعَ بِنَاءً وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُفَهَا ، وَلا اشْتَرَى غَنَمًا وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلادَهَا ، فَغَزَا ، فَدَنَا إِلَى الدَّيْرِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ ، أَوْ قَرُبَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ ، وَأَنَا مَأْمُورٌ ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا ، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ ، فَأَبَتِ النَّارُ أَنْ تَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ ، فَبَايَعَهُ ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ فِيكُمُ الْغُلُولَ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ ، فَلَصِقَتْ بِيَدِهِ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ ، فَأَخْرَجُوا مِثْلَ رَأْسِ الْبَقَرَةِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ ، فَأَكَلَتْهُ ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا ، فَطَيَّبَهَا لَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک نبی علیہ السلام جنگ کے لیے تشریف لے جانے لگے، تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کوئی ایسا شخص میرے ساتھ نہ جائے جس نے کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا ہو اور اب وہ اس عورت کی رخصتی کروانا چاہتا ہو یا جس نے عمارت بنا لی ہو اور ابھی چھت نہ ڈالی ہو یا اس نے بکری خریدی اور وہ اس بکری کے ہاں بچے ہونے کا منتظر ہو۔ جب عصر کا وقت ہوا یا اس کے قریب کا وقت ہوا تو وہ عبادت گاہ کے قریب آئے اور انہوں نے سورج سے فرمایا: «إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ» ”تم بھی حکم کے پابند ہو اور میں بھی حکم کا پابند ہوں“، «اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اسے میرے لیے کچھ دیر کے لیے (غروب ہونے سے) روک دے“ تو اسے روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی۔ انہیں جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا وہ انہوں نے اکٹھا کیا تاکہ آگ آ کر اسے کھا لے لیکن آگ نے اسے نہیں کھایا تو انہوں نے فرمایا: تمہارے درمیان خیانت کا ارتکاب کیا گیا ہے، ہر قبیلے کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے، تو ان کی بیعت شروع ہوئی ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا تو اس نبی نے فرمایا: خیانت تمہارے (قبیلے) میں ہوئی ہے۔ تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے۔ اس شخص کے قبیلے نے ان کی بیعت کی تو دو (راوی کو شک ہے یا شاید) تین افراد کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا تو انہوں نے فرمایا: خیانت تم نے کی ہے، تو ان لوگوں نے سونے سے بنا ہوا گائے کا سر نکالا اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا جو ایک کھلے میدان میں پڑا تھا، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہم سے پہلے کسی کے لیے بھی مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے: جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری ملاحظہ کی تو ہمارے لیے اسے پاکیزہ (یعنی حلال) قرار دے دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4808]

4809

Sahih Ibn Hibban #4809

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ ، فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ ، فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ بِلالا يُنَادِي ثَلاثًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْ أَنْتَ الَّذِي يَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں، تو لوگ اپنے اپنے مالِ غنیمت کو لے آتے، (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ”خمس“ نکال کر بقیہ مال تقسیم کر دیا تو اس کے بعد ایک شخص بالوں سے بنی ہوئی رسی لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے بلال کا تین مرتبہ کیا ہوا اعلان نہیں سنا تھا؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں (سنا تھا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پھر کیا وجہ ہے تم اسے پہلے کیوں لے کر نہیں آئے؟“ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معذرت پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے ہو جاؤ کہ اگر تم اسے قیامت کے دن بھی لے کر آؤ گے تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4809]

4810

Sahih Ibn Hibban #4810

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(مالِ غنیمت میں) گھوڑے کے دو حصے ہوں گے اور آدمی کا ایک حصہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4810]

4811

Sahih Ibn Hibban #4811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُأَسْهَمَ لِلْفَارِسِ ثَلاثَةَ أَسْهُمٍ ، سَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ ، وَسَهْمًا لِلرَّجُلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(مالِ غنیمت میں سے) گھڑ سوار کے تین حصے ہوں گے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ آدمی کا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4811]

4812

Sahih Ibn Hibban #4812

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ مقرر کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4812]

4813

Sahih Ibn Hibban #4813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فُتِحَتْ خَيْبَرُ بِثَلاثٍفَأَسْهَمَ لَنَا وَلَمْ يُسْهِمْ لأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم خیبر فتح ہونے کے تین دن بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت میں سے) ہمیں بھی حصہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے علاوہ اور کسی بھی ایسے شخص کو حصہ نہیں دیا جو جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4813]

4814

Sahih Ibn Hibban #4814

قَالَ الْوَلِيدُ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَقْسِمْ لَهُمْ فَغَضِبَ أَبَانُ وَنَالَ مِنْهُ ، قَالَ : وَحَمَلَ عَلَيْهِ بِرُمْحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَهْلا يَا أَبَانُ " ، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْجَيْشُ إِذَا فَتَحَ مَوْضِعًا مِنْ مَوَاضِعِ أَعْدَاءِ اللَّهِ لَحِقَ بِهِمْ جَيْشٌ آخَرُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ فَرَاغِهِمْ مِنْ فَتْحِهِمِ يَجِبُ أَنْ تُقْسَمَ الْغَنَائِمُ بَيْنَ الْجَيْشِ الَّذِي كَانَ الْفَتْحُ لَهُمْ ، فَيُسْهَمُ لِلْفَارِسِ ثَلاثَةُ أَسْهُمٍ سَهْمَانِ لِفَرَسِهِ وَسَهْمٌ لَهُ ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ وَاحِدٌ ، وَلا يُسْهَمُ لِمَنْ أَتَى بَعْدَ الْفَتْحِ مِمَّا غَنِمُوا شَيْئًا إِلا أَنْ يَكُونَ الْجَيْشُ الَّذِي لَحِقَ بِالْجَيْشِ الأَوَّلِ كَانُوا مَدَدًا لَهُمْ ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَانُوا كَأَنَّهُمَا جَيْشٌ وَاحِدٌ أَصْلُهُمْ وَاحِدٌ ، وَيَكُونُ مَدَدُهُمْ عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِمْ ، فَحِينَئِذٍ يُسْهَمُ لَهُمْ كُلِّهِمْ ، وَأَمَّا إِسْهَامُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَشْعَرِيِّينَ بَعْدَمَا فَتَحَ خَيْبَرَ كَانَ ذَلِكَ مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِيَسْتَمِيلَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ ، لا أَنَّهُمْ أُعْطُوا مِنْ مَغَانِمِ خَيْبَرَ حَيْثُ لَمْ يَشْهَدُوا فَتْحَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمرو سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مال غنیمت حاصل نہیں ہوتا، ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مال غنیمت میں شراکت دار نہیں ہوتا، خواہ ان دونوں نے مال غنیمت حاصل کیا ہو یا ان میں سے کسی ایک نے مال غنیمت حاصل کیا ہو، ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کیا، تو انہوں نے بتایا: میں نے زہری کو سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی، اس مہم کے امیر سیدنا ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ (مال غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجیے گا، تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابان! ٹھہر جاؤ!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو (مال غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب کوئی لشکر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے کسی علاقے کو فتح کر لے اور پھر مسلمانوں کا دوسرا لشکر ان لوگوں کے فتح حاصل کر لینے کے بعد ان سے آ کر ملے تو یہ بات لازم ہے کہ مال غنیمت صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جائے جنہوں نے فتح حاصل کی تھی۔ (اس تقسیم میں) گھڑ سوار کو تین حصے دیے جائیں گے، دو حصے اس کے گھوڑے کے ہوں گے اور ایک حصہ گھڑ سوار کا ہو گا۔ پیادہ شخص کو ایک حصہ ملے گا، جو لوگ فتح حاصل ہو جانے کے بعد آئے ہوں انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ جو لشکر بعد میں آ کر پہلے لشکر سے ملا ہے، اگر وہ مدد کے لیے آیا تھا تو پھر حکم مختلف ہو گا، کیونکہ اس صورت میں دونوں لشکر ایک ہی لشکر شمار ہوں گے کیونکہ ان کی اصل ایک ہے اور اگر دوسرے لشکر کی (اس جنگ میں) مدد کی ضرورت ہوتی تو انہوں نے مدد کرنی تھی۔ اس صورت میں ان سب کو حصہ دیا جائے گا۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشعر قبیلے کے افراد کو خیبر فتح ہونے کے بعد حصہ دینے کا تعلق ہے تو وہ حصہ «الْخُمُسُ» ”خمس“ میں سے دیا گیا تھا۔ وہ «الْخُمُسُ» ”خمس“ جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ مائل ہو جائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انہیں خیبر کے مال غنیمت میں سے حصہ دیا گیا ہو اس صورت میں، جبکہ وہ اس کی فتح میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4814]

4815

Sahih Ibn Hibban #4815

قَالَ الْوَلِيدُ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ ، عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَقْسِمْ لَهُمْ ، فَقَالَ : فَغَضِبَ أَبَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَهْلا يَا أَبَانُ " ، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمرو سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کو مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مالِ غنیمت حاصل نہیں ہوتا، ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مالِ غنیمت میں شراکت دار نہیں ہوتا، خواہ ان دونوں نے مالِ غنیمت حاصل کیا ہو یا ان میں سے کسی ایک نے مالِ غنیمت حاصل کیا ہو، ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کیا، تو انہوں نے بتایا: میں نے زہری کو سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی، اس مہم کے امیر سیدنا ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہما تھے، وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ (مالِ غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجیے گا، تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابان! ٹھہر جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو (مالِ غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4815]

4816

Sahih Ibn Hibban #4816

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ بِمَرْوٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ كَانَ يَقْسِمُهُ مِنْ يَوْمِهِ ، ثُمَّ يُعْطِي الآهِلَ حَظَّيْنِ ، وَالْعَزَبَ حَظًّا مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ ، لأَنَّهُ كَانَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي الْفَيْءِ عَلَى الْعُزُوبَةِ وَالتَّأَهُّلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ فے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم کر دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا فرماتے تھے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا فرماتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مالِ فے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم کر دیتے اور بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا فرماتے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا فرماتے، (یہ احتمال ہے کہ) یہ ادائیگی مالِ خمس میں سے کی جاتی ہو گی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بال بچے دار اور کنواروں کو مختلف نوعیت کی ادائیگی فرماتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4816]

4817

Sahih Ibn Hibban #4817

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا ، وَقَالَ :" قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ " ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَضِيَ مَخْرَمَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا، سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اندر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخرمہ راضی ہو گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4817]

4818

Sahih Ibn Hibban #4818

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ ، فَقَالَ :" قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ " ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَضِيَ مَخْرَمَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا۔ سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اندر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخرمہ راضی ہو گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4818]

4819

Sahih Ibn Hibban #4819

قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي ، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں سے چیزیں نکال کر لوگوں کو عطا کر رہے تھے۔ ایک شخص بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں انصاف سے کام نہیں لوں گا تو پھر کون انصاف سے کام لے گا؟ اگر میں انصاف سے کام نہ لوں تو میں خسارے اور نقصان کا شکار ہو جاؤں گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ! (اس صورت میں غیر مسلم) لوگ یہ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہوں۔ بے شک یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4819]

4820

Sahih Ibn Hibban #4820

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَمْلاهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَهُ الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ حَتَّى خُطِفَ رِدَاؤُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَوَقَفَ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ ، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لا تَجِدُونِي بَخِيلا ، وَلا جَبَانًا ، وَلا كَذَّابًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اور بھی لوگ تھے، یہ غزوہ حنین سے واپسی کی بات ہے، کچھ دیہاتیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ رہے تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمرہ کے درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچ لی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر مجھے واپس کرو، کیا تمہیں میرے بارے میں بخل کا اندیشہ ہے؟ اگر یہ تمام شاخیں نعمتوں میں تبدیل ہو جائیں تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور تم مجھے بخیل یا بزدل یا جھوٹا نہیں پاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4820]

4821

Sahih Ibn Hibban #4821

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْكُرْدِيُّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ "، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ عَنْ عَشْرَةٍ إِذَا نُحِرَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ”دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیتے تھے۔“ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان یہی ہے میں نے یہ روایت سعید بن مسروق سے سنی ہے۔ غندر کہتے ہیں: میں نے یہ روایت سفیان سے سنی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے اونٹ کی قربانی دس آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4821]

4822

Sahih Ibn Hibban #4822

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (مال غنیمت میں سے) اس مال میں شامل تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4822]

4823

Sahih Ibn Hibban #4823

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ، وَفَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ "، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْ ذَلِكَ ، فَهَجَرَتْهُ ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ ، وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَيْلا ، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا انْصَرَفَتْ وجُوهُ النَّاسِ عَنْ عَلِيٍّ حَتَّى أَنْكَرَهُمْ ، فَضَرَعَ عَلِيٌّ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى مُصَالَحَةِ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتِهِ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ ، وَكَرِهَ عَلِيٌّ أَنْ يَشْهَدَهُمَ عُمَرُ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ عُمَرَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ لا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَمَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي ، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَإِنَّا لَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ ، وَكُنَّا نَرَى لَنَا حَقًّا ، وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي ، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لأَتْرُكَ فِيهَا أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِيهَا إِلا صَنَعْتُهُ ، قَالَ عَلِيٌّ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ ارْتَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَلا إِنْكَارُ فَضِيلَتِهِ الَّتِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهَا وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الأَمْرِ نَصِيبًا وَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ ، وَقَالُوا لِعَلِيٍّ : أَصَبْتَ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ عَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے اس مال میں سے اپنے وراثت کے حصے کا مطالبہ کیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مالِ فئے کے طور پر عطا کیا تھا؛ وہ مدینہ منورہ اور فدک میں موجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کی زمینوں) کے صدقے (میں سے اپنے حصے) کی طلب گار تھیں اور اس میں سے بھی جو خیبر کے خمس میں سے باقی بچتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہماری (یعنی انبیاء کی) وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والے اس مال میں سے صرف اپنی خوراک حاصل کر سکتے ہیں، ان کے لیے خوراک سے زیادہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات (کو خرچ کرنے) میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، یہ اسی حالت میں رہیں گے جس حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تھے اور میں انہیں اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں استعمال کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کوئی بھی چیز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا، اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں، انہوں نے اپنے انتقال تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی اور ان سے کبھی بات نہیں کی، ان کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے 6 ماہ بعد ہوا۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہیں دی، ان کی نمازِ جنازہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مل لیتے تھے لیکن جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کی توجہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہٹ گئی اور لوگ ان کے لیے اجنبی ہو گئے، اس بات نے انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے اور ان کی بیعت کرنے کی طرف مائل کیا، ان (6) مہینوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ ہمارے ہاں آئیں، لیکن آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے؛ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ ہوں، کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج کی سختی سے واقف تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان لوگوں کے ہاں نہیں جائیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے، اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: اے ابوبکر! آپ کی فضیلت اور جو (خصوصیات) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہیں، ہم ان سے واقف ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو بھلائی عطا کی ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے لیکن حکومت کے معاملے میں آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، ہماری یہ رائے ہے کہ ہم اس کا حق رکھتے ہیں؛ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے حق کا تذکرہ کیا۔ وہ مسلسل بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) مجھے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے، جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے جو ان صدقات کے حوالے سے میرے اور آپ کے درمیان اختلاف ہوا تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی، میں نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کام ترک نہیں کیا جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کرتے ہوئے دیکھا، میں نے وہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بیعت کے لیے آپ سے شام کو ملاقات ہو گی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو وہ منبر پر چڑھے، انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیعت نہ کرنے کے معاملے اور ان کے عذر کا ذکر کیا اور پھر کلمہ استغفار پڑھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی ناراضگی یا ان کی اس فضیلت کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا جو فضیلت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے؛ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی:) ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت میں ہمارا حصہ ہونا چاہیے تھا اور انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے اس کی وجہ سے ہمیں ناراضگی تھی، (لیکن اب میں بیعت کر رہا ہوں) اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ٹھیک کیا ہے؛ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے درست موقف کی طرف رجوع کر لیا تو مسلمان پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4823]

4824

Sahih Ibn Hibban #4824

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ ؟ فَقَالَ : هُوَ لأَقْرِبَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ ، فَكَانَ عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کے زمانے میں نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا اور ان سے یہ دریافت کیا: «ذَوِي الْقُرْبَىٰ» کا مخصوص حصہ کسے ملے گا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو ملے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حصہ ان میں ہی تقسیم کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ حصہ ہمیں پیش کیا تھا جس کے بارے میں ہماری یہ رائے تھی کہ یہ ہمارے حق سے کم ہے تو ہم نے اسے واپس کر دیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ان رشتہ داروں کو اس حصہ میں سے پیش کش کرتے تھے کہ نکاح کرنے والے کی مدد کر دیتے ہیں یا تاوان ادا کرنے والے کی طرف سے ادائیگی کر دیتے ہیں یا غریب شخص کو دے دیتے ہیں، لیکن انہوں نے مزید ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4824]