Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 42 · Chapter 3

Book of Reviving Dead Lands

Hadith 4751–4784

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4751

Sahih Ibn Hibban #4751

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، قَالَ : وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلا مِنْهُمْ ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَقَتَلْتُهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أُسَامَةُ قَتَلْتُهُ ، بَعْدَمَا قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا قَالَ مُتَعَوِّذًا ، فَقَالَ :طَعَنْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان لوگوں پر حملہ کیا اور انہیں پسپا کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں اور ایک انصاری ان لوگوں کے ایک شخص کے سامنے آئے۔ جب ہم اس پر غالب آنے لگے تو اس نے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، تو انصاری نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم لوگ واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے اسامہ! کیا تم نے اس کے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا؟“ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جان بچانے کے لیے یہ پڑھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اس کے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا؟“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات مسلسل دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی نہ قبول کیا ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4751]

4752

Sahih Ibn Hibban #4752

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ ، فَعَدَوْا عَلَيْهِ ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا " ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرا، اس شخص کے ساتھ بکریاں بھی تھیں۔ اس شخص نے ان لوگوں کو سلام کیا تو ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کو سلام صرف اس لیے کیا تاکہ تم سے بچ جائے۔ ان لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں حاصل کر لیں، پھر وہ لوگ ان بکریوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو پہلے اس بات کی تحقیق کر لو۔“ یہ آیت آخر تک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4752]

4753

Sahih Ibn Hibban #4753

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ فَيَتَسَمَّعُ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلا أَغَارَ ، قَالَ : فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا رَجُلٌ يَقُولُ :اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : الْفِطْرَةُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ : خَرَجَ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت حملہ کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے غور سے سنتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز آ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے تھے ورنہ حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کی کوشش کی تو ایک شخص «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہہ رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عَلَى الْفِطْرَةِ» (یعنی دین فطرت پر گامزن ہے)۔“ اس شخص نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خَرَجَ مِنَ النَّارِ» (یہ جہنم سے نکل گیا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4753]

4754

Sahih Ibn Hibban #4754

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا "، قَالَ : وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلا تَاجِرًا ، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَأَصَابَ مَالا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے کاموں میں ان کے لیے برکت رکھ دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مہم یا لشکر روانہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دن کے ابتدائی حصے میں روانہ کرتے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے، وہ دن کے ابتدائی حصے میں اپنی تجارت کا سامان بھجوا دیا کرتے تھے، وہ صاحب حیثیت بھی ہو گئے اور انہیں بہت سا مال بھی حاصل ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4754]

4755

Sahih Ibn Hibban #4755

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا "، قَالَ : فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَ بِهَا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلا تَاجِرًا ، فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، فَكَثُرَ مَالُهُ ، وَأَثْرَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے کاموں میں ان کے لیے برکت رکھ دے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنے لڑکوں کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیج دیتے تھے تو ان کا مال زیادہ ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4755]

4756

Sahih Ibn Hibban #4756

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ لِلْهُرْمُزَانِ : أَمَا إِذَا فُتَّنِي بِنَفْسِكَ فَانْصَحْ لِي ، وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ لَهُ : تَكَلَّمْ لا بَأْسَ ، فَأَمَّنَهُ ، فَقَالَ الْهُرْمُزَانُ : نَعَمْ ، إِنَّ فَارِسَ الْيَوْمَ رَأْسٌ وَجَنَاحَانِ ، قَالَ : فَأَيْنَ الرَّأْسُ ؟ قَالَ : بِنَهَاوَنْدَ مَعَ بَنْذَاذِقَانَ ، فَإِنَّ مَعَهُ أَسَاوِرَةَ كِسْرَى وَأَهْلَ أَصْفَهَانَ ، قَالَ : فَأَيْنَ الْجَنَاحَانِ ، فَذَكَرَ الْهُرْمُزَانُ مَكَانًا نَسِيتُهُ ، فَقَالَ الْهُرْمُزَانُ : فَاقْطَعِ الْجَنَاحَيْنِ تُوهِنُ الرَّأْسَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، بَلْ أَعْمِدُ إِلَى الرَّأْسِ فَيَقْطَعُهُ اللَّهُ ، وَإِذَا قَطَعَهُ اللَّهُ عَنِّي انْفَضَّ عَنِّي الْجَنَاحَانِ ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْهِ بِنَفْسِهِ ، فَقَالُوا : نُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ تَسِيرَ بِنَفْسِكَ إِلَى الْعَجَمِ ، فَإِنْ أُصِبْتَ بِهَا لَمْ يَكُنْ لِلْمُسْلِمِينَ نِظَامٌ ، وَلَكِنِ ابْعَثِ الْجُنُودَ ، قَالَ : فَبَعَثَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، وَبَعَثَ فِيهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَبَعَثَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ ، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنْ سِرْ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَكَتَبَ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنْ سِرْ بِأَهْلِ الْكُوفَةِ حَتَّى تَجْتَمِعُوا جَمِيعًا بِنَهَاوَنْدَ ، فَإِذَا اجْتَمَعْتُمْ فَأَمِيرُكُمُ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعُوا بِنَهَاوَنْدَ جَمِيعًا ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ بَنْذَاذِقَانَ الْعِلْجَ أَنْ أَرْسِلُوا إِلَيْنَا يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ رَجُلا مِنْكُمْ نُكَلِّمُهُ ، فَاخْتَارَ النَّاسُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ أَبِي : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ رَجُلٌ طَوِيلٌ ، أَشْعَرُ ، أَعْوَرُ ، فَأَتَاهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا سَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ لَنَا : إِنِّي وَجَدْتُ الْعِلْجَ قَدِ اسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ ، فِي أَيِّ شَيْءٍ تَأْذَنُونَ لِهَذَا الْعَرَبِيِّ أَبِشَارَتِنَا ، وَبَهْجَتِنَا ، وَمُلْكِنَا أَوْ نَتَقَشَّفُ لَهُ فَنَزْهَدُهُ عَمَّا فِي أَيْدِينَا ؟ فَقَالُوا : بَلْ نَأْذَنُ لَهُ بِأَفْضَلِ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّارَةِ وَالْعُدَّةِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُمْ رَأَيْتُ تِلْكَ الْحِرَابَ ، وَالدَّرَقَ يَلْتَمِعُ مِنْهُ الْبَصَرُ ، وَرَأَيْتُهُمْ قِيَامًا عَلَى رَأْسِهِ ، وَإِذَا هُوَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ ذَهَبٍ وَعَلَى رَأْسِهِ التَّاجُ ، فَمَضَيْتُ كَمَا أَنَا ، وَنَكَسْتُ رَأْسِي لأَقْعُدَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، قَالَ : فَدُفِعْتُ وَنُهِرْتُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ الرُّسُلَ لا يُفْعَلُ بِهِمْ هَذَا ، فَقَالُوا لِي : إِنَّمَا أَنْتَ كَلْبٌ ، أَتَقْعُدُ مَعَ الْمَلِكِ ؟ فَقُلْتُ : لأَنَا أَشْرَفُ فِي قَوْمِي مِنْ هَذَا فِيكُمْ ، قَالَ : فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسْتُ ، فَتُرْجِمَ لِي قَوْلُهُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا ، وَأَعْظَمَ النَّاسِ شَقَاءً ، وَأَقْذَرَ النَّاسِ قَذَرًا ، وَأَبْعَدَ النَّاسِ دَارًا ، وَأَبْعَدَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ ، وَمَا كَانَ مَنَعَنِي أَنْ آمُرَ هَؤُلاءِ الأَسَاوِرَةَ حَوْلِي ، أَنْ يَنْتَظِمُوكُمْ بِالنُّشَّابِ إِلا تَنَجُّسًا بِجِيَفِكُمْ لأَنَّكُمْ أَرْجَاسٌ ، فَإِنْ تَذْهَبُوا نُخَلِّي عَنْكُمْ ، وَإِنْ تَأْبَوْا نُرِكُمْ مَصَارِعَكُمْ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَخْطَأْتَ مِنْ صِفَتِنَا وَنَعْتِنَا شَيْئًا ، إِنْ كُنَّا لأَبْعَدَ النَّاسِ دَارًا ، وَأَشَدَّ النَّاسِ جُوعًا ، وَأَعْظَمَ النَّاسِ شَقَاءً ، وَأَبْعَدَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ ، حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولا ، فَوَعَدَنَا النَّصْرَ فِي الدُّنْيَا وَالْجَنَّةَ فِي الآخِرَةِ ، فَلَمْ نَزَلْ نَتَعَرَّفُ مِنْ رَبِّنَا مُذْ جَاءَنَا رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْفَلْجُ ، وَالنَّصْرُ حَتَّى أَتَيْنَاكُمْ ، وَإِنَّا وَاللَّهِ نَرَى لَكُمْ مُلْكًا وَعَيْشًا لا نَرْجِعُ إِلَى ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا حَتَّى نَغْلِبَكُمْ عَلَى مَا فِي أَيْدِيكُمْ أَوْ نُقْتَلَ فِي أَرْضِكُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا الأَعْوَرُ فَقَدْ صَدَقَكُمُ الَّذِي فِي نَفْسِهِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ وَاللَّهِ أَرْعَبْتُ الْعِلْجَ جَهْدِي ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا الْعِلْجُ إِمَّا أَنْ تَعْبُرُوا إِلَيْنَا بِنَهَاوَنْدَ ، وَإِمَّا أَنْ نَعْبُرَ إِلَيْكُمْ ، فَقَالَ النُّعْمَانُ : اعْبُرُوا ، فَعَبَرْنَا ، قَالَ أَبِي : فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، إِنَّ الْعُلُوجَ يَجِيئُونَ كَأَنَّهُمْ جِبَالُ الْحَدِيدِ ، وَقَدْ تَوَاثَقُوا أَنْ لا يَفِرُّوا مِنَ الْعَرَبِ ، وَقَدْ قُرِنَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى كَانَ سَبْعَةٌ فِي قِرَانٍ ، وَأَلْقَوْا حَسَكَ الْحَدِيدِ خَلْفَهُمْ ، وَقَالُوا : مَنْ فَرَّ مِنَّا عَقَرَهُ حَسَكُ الْحَدِيدِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حِينَ رَأَى كَثْرَتَهُمْ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فَشَلا ، إِنَّ عَدُوَّنَا يُتْرَكُونَ أَنْ يَتَتَامُّوا فَلا يَعْجَلُوا ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ الأَمْرَ إِلَيَّ لَقَدْ أَعْجَلْتُهُمْ بِهِ ، قَالَ : وَكَانَ النُّعْمَانُ رَجُلا بَكَّاءً ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا يُشْهِدُكَ أَمْثَالَهَا فَلا يُخْزِيكَ وَلا يُعَرِّي مَوْقِفَكَ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أُنَاجِزَهُمْ إِلا لِشَيْءٍ شَهِدْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذْ غَزَا فَلَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ لَمْ يُعَجِّلْ حَتَّى تَحْضُرَ الصَّلَوَاتُ وَتَهُبَّ الأَرْوَاحُ وَيَطِيبَ الْقِتَالُ "، ثُمَّ قَالَ النُّعْمَانُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَقَرَّ عَيْنِي الْيَوْمَ بِفَتْحٍ يَكُونُ فِيهِ عِزُّ الإِسْلامِ وَأَهْلِهِ ، وَذُلُّ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ ، ثُمَّ اخْتِمْ لِي عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ بِالشَّهَادَةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمِّنُوا يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ ، فَأَمَّنَا وَبَكَى وَبَكَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ النُّعْمَانُ : إِنِّي هَازٌّ لِوَائِي فَتَيَسَّرُوا لِلسَّلاحِ ، ثُمَّ هَازُّهُ الثَّانِيَةَ فَكُونُوا مُتَيَسِّرِينَ لِقِتَالِ عَدُوِّكُمْ بِإِزَائِهِمْ ، فَإِذَا هَزَزْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلْيَحْمِلْ كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيهِمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ وَهَبَّتِ الأَرْوَاحُ كَبَّرَ وَكَبَّرْنَا ، وَقَالَ : رِيحُ الْفَتْحِ وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لِي وَأَنْ يَفْتَحَ عَلَيْنَا ، فَهَزَّ اللِّوَاءَ فَتَيَسَّرُوا ، ثُمَّ هَزَّهُ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ هَزَّهُ الثَّالِثَةَ ، فَحَمَلْنَا جَمِيعًا كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيهِمْ ، وَقَالَ النُّعْمَانُ : إِنْ أَنَا أُصِبْتُ ، فَعَلَى النَّاسِ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَإِنْ أُصِيبَ حُذَيْفَةُ ، فَفُلانٌ ، فَإِنْ أُصِيبَ فُلانٌ فَفُلانٌ ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً آخِرُهُمُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ أَبِي : فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدًا يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَظْفِرَ ، وَثَبَتُوا لَنَا فَلَمْ نَسْمَعْ إِلا وَقَعَ الْحَدِيدُ عَلَى الْحَدِيدِ ، حَتَّى أُصِيبَ فِي الْمُسْلِمِينَ مُصَابَةٌ عَظِيمَةٌ ، فَلَمَّا رَأَوْا صَبْرَنَا وَرَأَوْنَا لا نُرِيدُ أَنْ نَرْجِعَ انْهَزَمُوا ، فَجَعَلَ يَقَعُ الرَّجُلُ فَيَقَعُ عَلَيْهِ سَبْعَةٌ فِي قِرَانٍ فَيُقْتَلُونَ جَمِيعًا ، وَجَعَلَ يَعْقِرُهُمْ حَسَكُ الْحَدِيدِ خَلْفَهُمْ ، فَقَالَ النُّعْمَانُ : قَدِّمُوا اللِّوَاءَ فَجَعَلْنَا نُقَدِّمُ اللِّوَاءَ فَنَقْتُلُهُمْ وَنَضْرِبُهُمْ ، فَلَمَّا رَأَى النُّعْمَانُ أَنَّ اللَّهَ قَدِ اسْتَجَابَ لَهُ وَرَأَى الْفَتْحَ جَاءَتْهُ نُشَّابَةٌ ، فَأَصَابَتْ خَاصِرَتَهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَجَاءَ أَخُوهُ مَعْقِلُ بْنُ مُقَرِّنٍ فَسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبًا ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ فَتَقَدَّمَ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : تَقَدَّمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ ، فَجَعَلْنَا نَتَقَدَّمُ فَنَهْزِمُهُمْ وَنَقْتُلُهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا وَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، قَالُوا : أَيْنَ الأَمِيرُ ؟ فَقَالَ مَعْقِلٌ : هَذَا أَمِيرُكُمْ ، قَدْ أَقَرَّ اللَّهُ عَيْنَهُ بِالْفَتْحِ وَخَتَمَ لَهُ بِالشَّهَادَةِ ، فَبَايَعَ النَّاسُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ يَدْعُو اللَّهَ وَيَنْتَظِرُ مِثْلَ صَيْحَةِ الْحُبْلَى ، فَكَتَبَ حُذَيْفَةُ ، إِلَى عُمَرَ بِالْفَتْحِ مَعَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ : أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِفَتْحٍ أَعَزَّ اللَّهُ فِيهِ الإِسْلامَ وَأَهْلَهُ وَأَذَلَّ فِيهِ الشِّرْكَ وَأَهْلَهُ ، وَقَالَ : النُّعْمَانُ بَعَثَكَ ؟ قَالَ : احْتَسِبِ النُّعْمَانَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَبَكَى عُمَرُ وَاسْتَرْجَعَ ، وَقَالَ : وَمَنْ وَيْحَكَ ؟ فَقَالَ : فُلانٌ ، وَفُلانٌ ، وَفُلانٌ ، حَتَّى عَدَّ نَاسًا ، ثُمَّ قَالَ : وَآخَرِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لا تَعْرِفُهُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْكِي : لا يَضُرُّهُمْ أَنْ لا يَعْرِفَهُمْ عُمَرُ ، لَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا: ”جب تم نے اپنی ذات کے حوالے سے مجھے آزمائش کا شکار کر دیا تو تم میری خیرخواہی کرو۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے یہ کہا تھا: ”تم بات کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے امان دے دی تو ہرمزان نے کہا: ”جی ہاں، آج فارس کا ایک سر ہے اور دو پر ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اس کا سر کہاں ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہاوند میں بنذ اذقان کے پاس، اس کے ساتھ کسریٰ کے کنگن ہیں اور اہل اصفہان۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اس کے دو پر کہاں ہیں؟“ ہرمزان نے ایک جگہ کا ذکر کیا تھا جو میں بھول گیا ہوں۔ ہرمزان نے کہا: ”آپ ان کے دو پروں کو کاٹ دیں تو اس طرح آپ سر کو کمزور کر دیں گے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن! تم نے غلط کہا ہے بلکہ میں سر کی طرف جاؤں گا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا اور جب اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا تو وہ دونوں پروں کو بھی دور کر دے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بنفس نفیس اس کی طرف جائیں، تو لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ آپ اگر بذات خود عجمی علاقوں کی طرف چلے گئے اور وہاں آپ شہید ہو گئے تو مسلمانوں کے پاس کوئی نظام نہیں رہے گا، آپ لشکر کو بھیج دیجئے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اپنے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، مہاجرین اور انصار کو بھیجا۔ انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم اہل بصرہ کو ساتھ لے کر روانہ ہو جاؤ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اہل کوفہ کو ساتھ لے کر روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ تم سب لوگ نہاوند کے مقام پر اکٹھے ہو جاؤ تو تمہارا امیر نعمان بن مقرن مزنی ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سب لوگ نہاوند کے مقام پر اکٹھے ہو گئے تو بنذ اذقان علج نے انہیں پیغام بھیجا: ”اے عربوں کے گروہ! ہماری طرف ایک شخص کو بھیجو جس کے ساتھ ہم بات چیت کریں۔“ تو لوگوں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اختیار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے، ان کی شکل و صورت کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ لمبے تڑنگے شخص تھے، ان کے بال زیادہ تھے اور وہ کانے تھے۔ وہ اس کے پاس گئے۔ جب وہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے ہمیں بتایا: ”میں نے علج (یعنی ان کے سردار) کو پایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشورہ کر رہا تھا کہ کیا ہمیں ان کے ساتھ بھرپور شان و شوکت کے ساتھ ملنا چاہیے تاکہ ان پر ہمارا رعب قائم ہو؟ تو اس کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں ان کے ساتھ بھرپور تیاری اور شان و شوکت کے ساتھ ملنا چاہیے۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”جب میں ان لوگوں کے پاس آیا تو میں نے اسے ایسے اسلحے سے لیس دیکھا کہ نگاہیں چکا چوند ہوتی تھیں۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے اور وہ سونے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس کے سر پر تاج تھا۔ میں جیسا تھا اسی طرح گزرتا چلا گیا اور میں نے اپنے سر کو جھکایا تاکہ میں اس کے ساتھ تخت پر بیٹھوں۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تو مجھے وہاں سے دھکیل دیا گیا اور مجھے ڈانٹا گیا تو میں نے کہا: سفیروں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا: تم ایک کتے ہو، کیا تم بادشاہ کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی قوم میں اس سے زیادہ معزز شمار ہوتا ہوں جتنا یہ شخص تمہارے درمیان معزز ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس نے مجھے ڈانٹا اور اس نے کہا: ”تم بیٹھ جاؤ“ تو میں بیٹھ گیا، پھر اس کے قول کا ترجمہ میرے سامنے کیا گیا تو اس نے یہ کہا تھا: ”اے عربوں کے گروہ! تم سب سے زیادہ بھوکے تھے، سب سے زیادہ سنگدل تھے، سب سے زیادہ گندے تھے اور سب سے زیادہ دور دراز کے علاقے کے رہنے والے تھے اور بھلائی سے سب سے زیادہ دور تھے، اگر تم لوگ چلے جاتے ہو تو ہم تمہیں جانے دیں گے، اگر تم لوگ نہیں مانتے تو پھر ہم تمہارے بدلے کی جگہ دکھا دیں گے۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے ہماری جو حالت اور صورتحال بیان کی ہے اس میں تم نے کوئی غلطی نہیں کی۔ ہمارا علاقہ سب سے زیادہ دور ہے، ہم سب سے زیادہ بھوکے تھے، ہم سب سے زیادہ سنگدل تھے اور بھلائی سے سب سے زیادہ دور تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا، اس نے ہمارے ساتھ دنیا میں مدد کرنے کا اور آخرت میں جنت عطا کرنے کا وعدہ کیا، تو جب سے ہمارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے مسلسل فلاح اور کامیابی کو حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ ہم تمہارے پاس آ گئے۔ اللہ کی قسم! ہم نے دیکھ لیا ہے تمہاری بادشاہی کو بھی اور تمہارے طرزِ حیات کو بھی اور اب ہم اس بدبختی کی طرف کبھی واپس نہیں جائیں گے اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر غلبہ حاصل کر لیں گے یا پھر ہم تمہاری سرزمین پر شہید ہو جائیں گے۔“ اس پر اس نے کہا: ”اس کانے شخص نے تمہارے ساتھ سچی بات کی ہے جو اس کے ذہن میں تھی۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تو میں اس کے پاس سے اٹھ گیا، اللہ کی قسم! میں نے علج (نامی سردار کو) مرعوب کرنے کی پوری کوشش کی۔“ پھر علج نے ہماری طرف پیغام بھجوایا: ”کیا تم (دریا کو) عبور کر کے ہماری طرف نہاوند میں آؤ گے یا ہم عبور کر کے تمہاری طرف آئیں؟“ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ عبور کرو۔“ تو ہم لوگوں نے عبور کر لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے اس دن جیسا سمندر کبھی نہیں دیکھا، ان کے لشکر کے لوگ یوں آ رہے تھے جس طرح لوہے کے پہاڑ تھے اور ان لوگوں نے آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ عربوں کے مقابلے میں فرار نہیں ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے یہاں تک کہ وہ سات آدمی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے پیچھے ایک چکی رکھ دی تھی، ان لوگوں نے یہ کہا تھا: ”ہم میں سے جو شخص فرار ہو گا اسے لوہے کی چکی کچل دے گی۔“ جب سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی کثرت دیکھی تو فرمایا: ”میں نے آج کی طرح کی خوفناک صورتحال کبھی نہیں دیکھا، ہمارے دشمن کو بھرپور برتری حاصل ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو بہت زیادہ روتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو اس طرح کی اور ایسی صورت پھر دکھا دے گا اور آپ کو رسوا نہ کرے گا اور آپ کو ڈگمائے گا نہیں، اللہ کی قسم! میں ان پر صرف اس لیے حملہ نہیں کر رہا، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک چیز دیکھی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ابتدائی حصے میں لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک لڑائی شروع نہیں کرتے تھے جب تک نماز کا وقت نہیں ہو جاتا تھا اور ہوا نہیں چل پڑتی تھی اور جنگ کی صورتحال تیار نہیں ہو جاتی تھی،“ تو پھر سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَقَرَّ عَيْنِي الْيَوْمَ بِفَتْحٍ يَكُونُ فِيهِ عِزُّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ وَذِلُّ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ ثُمَّ اقْبِضْنِي عَلَى الشَّهَادَةِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو آج فتح کے ذریعے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے کیونکہ اس میں اسلام اور اہل اسلام کی عزت ہے اور کفر اور اہل کفر کی ذلت ہے اور پھر اس کے بعد مجھے شہادت نصیب کر کے میرا خاتمہ کر دینا۔“ پھر انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ آمین کہو، اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحم کرے۔“ تو ہم نے آمین کہا، پھر وہ بھی رونے لگے اور ہم بھی رونے لگے۔ پھر سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنا جھنڈا لہراؤں گا تم لوگ ہتھیار تیار کر لینا، پھر میں دوسری مرتبہ لہراؤں گا تو تم دشمن کے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے اس کے مدمقابل آ کے تیار ہو جانا، پھر جب میں تیسری مرتبہ لہراؤں گا تو ہر شخص اللہ تعالیٰ کی برکت حاصل کرتے ہوئے اپنے قریبی دشمن پر حملہ کر دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نماز کا وقت ہو گیا اور ہوائیں چل پڑیں تو انہوں نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ فتح کی ہوا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا (تو ہم فتح حاصل کر لیں گے) اور مجھے یہ امید ہے اللہ تعالیٰ میری دعا کو قبول کر لے گا اور ہمیں فتح نصیب کرے گا۔“ تو انہوں نے جھنڈا لہرایا اور لوگ تیار ہو گئے، انہوں نے دوسری مرتبہ لہرایا، پھر انہوں نے تیسری مرتبہ لہرایا تو ہم سب نے حملہ کر دیا۔ ہر فرد نے اپنے قریبی دشمن پر حملہ کر دیا۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں شہید ہو جاؤں تو سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ لوگوں کے امیر ہوں گے، اگر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو فلاں صاحب ہوں گے، اگر وہ شہید ہو جائیں تو فلاں ہوں گے،“ یہاں تک کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کا نام گنوایا جن میں سے آخری فرد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میرے والد بیان کرتے ہیں: ”اللہ کی قسم! مجھے مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کے بارے میں یہ علم نہیں ہے جو اس بات کا خواہشمند ہو کہ وہ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس جائے یہاں تک کہ یا تو وہ شہید ہو جائے یا کامیاب ہو جائے۔“ ان لوگوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہمیں صرف لوہے کی لوہے سے ٹکرانے کی آواز آ رہی تھی یہاں تک کہ بہت سارے مسلمان شہید ہوئے۔ جب ان لوگوں نے ہمارا صبر دیکھا اور انہوں نے دیکھا کہ ہم واپس نہیں جانا چاہتے تو وہ لوگ پسپا ہو گئے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص گرتا تو اس کے اوپر ایک ہی لڑی کے سات آدمی بھی گر جاتے تو وہ سب مارے جاتے اور ان کے پیچھے لوہے کی چکی انہیں کچل دیتی۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جھنڈے کو آگے کرو،“ تو ہم نے جھنڈے کو آگے کر دیا اور ہم انہیں قتل کرتے رہے اور انہیں مارتے رہے۔ جب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کر لیا ہے اور انہوں نے فتح کو دیکھ لیا اور کامیابی ان کے پاس آ گئی، وہ ان کے پہلو میں آ کر لگی اور وہ شہید ہو گئے۔ ان کے بھائی سیدنا مقرن بن مقرن رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے ان پر کپڑا ڈال دیا اور علم کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر آگے بڑھ گئے، پھر انہوں نے کہا: ”تم لوگ آگے بڑھو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے۔“ اور ہم لوگ آگے بڑھنے لگے۔ ہم نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا اور انہیں قتل کر دیا، جب ہم فارغ ہوئے اور لوگ اکٹھے ہوئے تو لوگوں نے دریافت کیا: ”امیر کہاں ہے؟“ تو سیدنا مقرن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہارے امیر ہیں، اللہ تعالیٰ نے فتح کے ذریعے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا اور آخر میں انہیں شہادت بھی نصیب کر دی،“ تو لوگوں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں اللہ سے دعائیں کر رہے تھے اور وہ اس طرح سے منتظر تھے جس طرح کسی حاملہ عورت کی چیخ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فتح کی خوش خبری کا پروانہ ایک مسلمان شخص کے ہمراہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کو فتح کی خوش خبری نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں اسلام اور اہل اسلام کو عزت عطا کی اور اس میں شرک اور اہل شرک کو ذلت عطا کی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا نعمان نے تمہیں بھیجا ہے؟“ تو قاصد نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! نعمان کے بارے میں آپ ثواب کی امید رکھیں (یعنی ان کے لیے دعائے مغفرت کیجئے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تمہارا ستیاناس ہو! اور کون (شہید ہوا ہے)؟“ قاصد نے بتایا: ”فلاں اور فلاں اور فلاں،“ اس نے متعدد لوگوں کے نام گنوائے، پھر اس نے بتایا: ”اے امیر المؤمنین! اور لوگ بھی ہیں جن سے آپ واقف نہیں ہیں،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: ”ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اگر ”عمر“ ان سے واقف نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو ان سے واقف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4756]

4757

Sahih Ibn Hibban #4757

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، وَعَفَّانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمِزِّنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، أَنَّهُ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَاكَانَ عِنْدَ الْقِتَالِ ، فَلَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَهُ إِلَى أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرنے لگتے تھے تو دن کے ابتدائی حصے میں جنگ شروع نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس وقت تک مؤخر کرتے تھے کہ سورج ڈھل جاتا تھا اور ہوائیں چل پڑتی تھیں اور مدد نازل ہو جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4757]

4758

Sahih Ibn Hibban #4758

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَيَّامَ حُنَيْنٍ هَمَسَ شَيْئًا ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ ، قَالَ : أَقُولُ : اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ ، وَبِكَ أُصَاوِلُ ، وَبِكَ أُقَاتِلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین کے موقع پر جب نماز ادا کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں کچھ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا کام کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نہیں کیا تھا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھ رہا تھا: «اللّٰهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ» ”اے اللہ! میں تیری مدد کے ساتھ مقابلہ کرتا ہوں (لڑائی میں) کود پڑتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ جنگ کرتا ہوں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4758]

4759

Sahih Ibn Hibban #4759

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا أَصْبَحَ بِبَدْرٍ مِنَ الْغَدِ أَحْيَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ كُلَّهَا وَهُوَ مُسَافِرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے دن صبح کے وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر جاگتے رہے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسافر تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4759]

4760

Sahih Ibn Hibban #4760

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : وَفَدَتْ وفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي رَمَضَانَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا عَلَى رَحْلِهِ ، فَقُلْتُ : لَوْ صَنَعْتُ طَعَامًا ، ثُمَّ دَعَوْتُهُمْ إِلَى رَحْلِي ، فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ ، فَصُنِعَ ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : سَبَقْتَنِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ إِلَى رَحْلِي ، إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلا أُحَامِلُكُمْ أَوْ أُحَادِثُكُمْ ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ حَتَّى يُدْرِكَ الطَّعَامُ ، فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ ، فَقَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى أَحَدِ الْجَنَبَتَيْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْيُسْرَى ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا الْوَادِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ ، وَقَدْ بَعَثَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا لَهَا ، فَقَالُوا : نُقَدِّمُ هَؤُلاءِ ، وَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ ، كُنَّا مَعَهُمْ ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا مَا سَأَلُوا ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ ، فَلا يَأْتِينِي إِلا أَنْصَارِيٌّ " ، فَهَتَفَ بِهِمْ ، فَجَاءُوا ، فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ ، وَأَتْبَاعِهِمْ ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى مِمَّا يَلِي الْخِنْصَرَ وَسَطَ الْيُسْرَى ، وَقَالَ : احْصُدُوهُمْ حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ إِلا قَتَلَهُ ، وَمَا يُوَجِّهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَيْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ ، لا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، فَأَغْلَقُوا أَبْوَابَهُمْ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ ، وَهُوَ آخِذٌ الْقَوْسَ ، وَكَانَ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ صَنَمٌ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُ فِي جَنْبِهِ بِالْقَوْسِ ، وَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ ، وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى الصَّفَا ، فَعَلا حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ ، فَجَعَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَهُ ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرُهُ وَالأَنْصَارُ تَحْتَهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَكَانَ لا يَخْفَى عَلَيْنَا إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَلْ يَطْرِقُ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، قَالُوا : قَدْ قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :كَلا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمُ الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، فأَقْبَلُوا يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، قَالَ : وَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ فَتْحَ مَكَّةَ كَانَ عَنْوَةً لا صُلْحًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں: رمضان کے مہینے میں کچھ وفود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جن میں، میں اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ ہم لوگ ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر اپنی رہائشی جگہ پر ہمیں بلایا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اگر میں بھی کھانا تیار کروں اور پھر ان لوگوں کو اپنی رہائشی جگہ پر بلاؤں تو (یہ مناسب ہو گا)۔ میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، کھانا تیار ہو گیا۔ شام کے وقت میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے کہا: اے ابوہریرہ! آج رات دعوت میری طرف ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم مجھ سے سبقت لے گئے ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان لوگوں کو بھی اپنی رہائشی جگہ پر بلا لیا، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث نہ سناؤں؟ میں تم لوگوں کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو اے انصار کے گروہ! تمہاری حدیث ہے، اتنی دیر میں کھانا بھی آ جائے گا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کا ذکر کیا، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے ایک طرف سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور بائیں طرف سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ایک دستے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ وہ لوگ نشیبی علاقے میں پہنچ گئے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھوٹے دستے میں تھے۔ قریش نے اپنے اوباشوں اور پیروکار لڑکوں کو اس دستے کی طرف بھیجا، انہوں نے کہا: ہم ان لوگوں کو موقع دیتے ہیں، اگر یہ جیت گئے تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور اگر یہ مارے گئے تو جو وہ مانگیں گے ہم دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر دوڑا کر مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوہریرہ! انصار کو بلا کر لاؤ، میرے پاس صرف انصار آئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور وہ لوگ آ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے قریش کے اوباشوں اور پیروکار لڑکوں کو دیکھا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں دست مبارک کو بائیں پر مارا اور فرمایا: ”تم انہیں کاٹ کے رکھ دینا یہاں تک کہ تم لوگ مجھے صفا پر آ کر ملنا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے اور ہم میں سے جس شخص نے ان میں سے جس شخص کو قتل کرنا چاہا اسے قتل کر دیا یہاں تک کہ پھر ان میں سے کوئی ہمارے سامنے نہیں آیا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قریش کے قتل کو مباح قرار دیا گیا ہے، آج کے بعد قریش باقی نہیں رہیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دروازے کو بند کر لے وہ محفوظ ہو گا، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں ہو گا۔“ تو لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک کمان تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کمان کو پکڑا ہوا تھا۔ خانہ کعبہ کے ایک پہلو میں ایک بت تھا جس کی وہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمان کے ذریعے اس کے پہلو میں مارا اور یہ پڑھا: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آ گیا باطل رخصت ہو گیا۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بیت اللہ پر پڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا۔ انصار صفا کے نیچے موجود تھے، ان میں سے کسی ایک نے کسی دوسرے سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بستی سے محبت اور اپنے خاندان سے محبت لاحق ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو یہ چیز ہم پر مخفی نہیں رہتی تھی، اس وقت کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا، وہ انتظار کرتا تھا یہاں تک کہ وحی مکمل ہو جاتی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول مکمل ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! تم لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ ان صاحب کو اپنی بستی کی محبت اور خاندان کی محبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے یہ بات کہی ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے، میری زندگی تمہارے ساتھ ہے اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔“ تو انصار نے رونا شروع کر دیا اور کہنا شروع کر دیا: اللہ کی قسم! ہم نے صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے یہ بات کہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ مکہ جنگ کے نتیجے میں فتح ہوا تھا، صلح کے نتیجے میں فتح نہیں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4760]

4761

Sahih Ibn Hibban #4761

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي ، وَأَنْتَ نَصِيرِي ، وَبِكَ أُقَاتِلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ میں حصہ لیتے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! تو ہی میرا حامی اور تو ہی میرا مددگار ہے اور میں تیری مدد سے ہی جنگ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4761]

4762

Sahih Ibn Hibban #4762

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ ، وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ ، وَمِنَ الْخُيَلاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ ، فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الدِّينِ ، وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ دِينِهِ ، وَالْخُيَلاءُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ ، وَالاخْتِيَالُ الَّذِي يُبْغِضُ اللَّهُ الاخْتِيَالُ فِي الْبَاطِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک قسم کا غصہ وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ایک قسم کا غصہ وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک قسم کا فخر کا اظہار وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ایک قسم کا وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ وہ غصہ جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ دینی معاملات میں غصہ ہے اور وہ غصہ جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ دین کے علاوہ کے معاملات میں غصہ ہے، اور وہ فخر جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ یہ ہے: آدمی لڑائی کے وقت اپنے اوپر فخر کرے اور صدقہ کرتے وقت فخر کرے، اور وہ فخر جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ باطل کے بارے میں فخر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4762]

4763

Sahih Ibn Hibban #4763

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرٍ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4763]

4764

Sahih Ibn Hibban #4764

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، فَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللَّهَ ، فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لأَحَدِكُمْ ، أَنْ يَقُولَ لِمَا لا يَعْلَمُ ، اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا ، قَالَ : اللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ ، وَيَنْظُرُ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا مِنْ جُوعٍ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِين سورة الدخان آية 10 ٍ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ، فَالْبَطْشَةُ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَقَدْ مَضَى آيَةُ الدُّخَانِ ، وَالْبَطْشَةِ وَاللِّزَامِ وَالرُّومِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: کندہ کے دروازوں کے پاس ایک واعظ تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ دھوئیں کی نشانی (جس کا ذکر قرآن میں ہوا ہے) وہ عنقریب آئے گی اور کفار کی سانسوں کو اپنی گرفت میں لے گی، اور اہل ایمان کو اس کے ذریعے زکام جیسی کیفیت محسوس ہوگی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق بات بیان کر دے اور جسے علم نہ ہو تو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، کیونکہ تم میں سے زیادہ بڑا عالم وہ شخص ہے جو اس چیز کے بارے میں، جس کا اسے علم نہیں ہے، یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا تھا: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] ”تم یہ فرما دو! میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کا (اسلام قبول کرنے سے) پیٹھ پھیرنا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ”اے اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی مقرر کر دے۔“ تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی گرفت میں لے لیا یہاں تک کہ وہ مردار اور کھالیں کھانے لگے، ان میں سے کوئی ایک شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھواں نظر آتا تھا۔ پھر ابوسفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دینے کے لیے تشریف لائے ہیں، جب کہ آپ کی قوم کے افراد بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ﴾ [سورة الدخان: 10] ”اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے آئے گا۔“ (ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔“ تو یہاں پکڑ سے مراد غزوہ بدر کا موقع ہے، جبکہ دھوئیں، پکڑ، لزام اور اہل روم سے متعلق نشانیاں پہلے گزر چکی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4764]

4765

Sahih Ibn Hibban #4765

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصَابَ قَوْمًا ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملہ کرتے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» ”اے اللہ! ہم ان کے مقابلے میں تجھے (اپنا مددگار) بناتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4765]

4766

Sahih Ibn Hibban #4766

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعِيَاضٌ ، وَلَيْسَ عِيَاضٌ صَاحِبَ الْحَدِيثِ الَّذِي يُحَدِّثُ سِمَاكٌ عَنْهُ ، قَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : إِذَا كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ، قَالَ : فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ أَنْ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاهُ ،فَكَتَبَ إِلَيْنَا أَنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي ، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْصَنُ جُنْدًا اللَّهُ فَاسْتَنْصِرُوهُ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ بِأَقَلَّ مِنْ عَدَدِكُمْ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي فَقَاتِلُوهُمْ وَلا تُرَاجِعُونِي ، قَالَ : فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ ، وَأَصَبْنَا أَمْوَالا ، فَتَشَاوَرُوا فَأَشَارَ عَلَيْهِمْ عِيَاضٌ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةٌ ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنُنِي ؟ ، فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا ، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ، قَالَ : فَسَبَقَهُ ، فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں جنگِ یرموک میں شریک ہوا ہوں، اس میں پانچ امیر تھے: سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ، سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ (یہ وہ والے عیاض نہیں ہیں جو اس روایت کو بیان کر رہے ہیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب لڑائی شروع ہو تو ابوعبیدہ تمہارے امیر ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر لیا ہے، ہم نے ان سے مدد مانگی تو انہوں نے ہمیں جوابی خط لکھا: ”تمہارا خط میرے پاس آیا ہے، جس میں تم نے مدد مانگی ہے۔ میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کرتا ہوں جو مدد کے لیے زیادہ فائدہ مند اور لشکر کے لیے زیادہ حفاظت کا باعث ہے، وہ اللہ کی ذات ہے؛ پس تم اس سے مدد مانگو کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی اور تم سے کم تعداد کے ہمراہ کی گئی تھی، جب تمہارے پاس میرا مکتوب آئے تو تم ان کے ساتھ لڑائی کرو اور تم دوبارہ مجھے (مدد کے لیے) نہ لکھنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کفار کے ساتھ جنگ کی اور ہم نے انہیں پسپا کر دیا، چار فرسخ تک ہم انہیں قتل کرتے رہے اور ہمیں بہت سے اموال بھی ملے۔ ان لوگوں نے مشورہ کیا تو سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہر آدمی کی طرف سے دس ہوں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کون شخص میری مدد کرے گا؟“ ایک نوجوان نے کہا: ”میں، اگر آپ غصہ نہ کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ ان سے آگے نکل گیا، میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے کندھوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا، وہ ایک عربی گھوڑے پر اس کے پیچھے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4766]

4767

Sahih Ibn Hibban #4767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ابْغُوا لِي ضُعَفَاءَكُمْ ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے پاس اپنے کمزور لوگوں کو لے کر آؤ، بے شک تمہیں تمہارے کمزور افراد کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4767]

4768

Sahih Ibn Hibban #4768

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : مَنْ صَحِبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا، جس میں کچھ لوگ جنگ میں حصہ لیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں! تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی۔ پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب وہ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی۔ پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سارے لوگ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4768]

4769

Sahih Ibn Hibban #4769

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةُ آلافٍ ، وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ ، قَالَ : فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَى يَسَارِهِ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ ، وَقَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ ، وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : إِذَا كَانَ فِي الشِّدَّةِ فَنَحْنُ ، وَيُعْطِي الْغَنِيمَةَ غَيْرَنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي ؟ فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَضِينَا ، قَالَ :لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ حنین کا موقع آیا تو ہوازن اور غطفان قبیلے کے لوگ اپنے بال بچوں اور ساز و سامان کو لے کر آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دس ہزار افراد تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ بلند آواز میں پکارا اور ان کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار!“ تو لوگوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ» ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم حاضر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش رہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں طرف توجہ فرمائی اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار!“ تو ان لوگوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ» ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم حاضر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے فکر رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اترے اور فرمایا: «أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ» ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ تو مشرکین پسپا ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کثیر مالِ غنیمت حاصل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال مہاجرین اور نئے مسلمان ہونے والے افراد کے درمیان تقسیم کر دیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ دیا۔ اس پر انصار نے کہا: ”جب مشکل آئی تھی تو ہمیں بلایا گیا اور مالِ غنیمت دوسروں کو دے دیا گیا۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک خیمے میں جمع کیا اور ارشاد فرمایا: ”اے گروہِ انصار! یہ کیا بات ہے جو مجھ تک پہنچی ہے؟“ وہ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے جاؤ؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں جائیں، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4769]

4770

Sahih Ibn Hibban #4770

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ قَيْسٍ ، قَالَ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ الْبَرَاءُ : لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَنَا النَّبِيُّ لا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ لوگ غزوہِ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرار نہیں ہوئے۔ ہوازن قبیلے کے لوگ اچھے تیر انداز تھے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر پر سوار دیکھا، سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس خچر کی لگام کو پکڑا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4770]

4771

Sahih Ibn Hibban #4771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ ، رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ ، وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَهُمْ ، حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَقُوا الْعَدُوَّ ، فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر مانگے، وہ ان کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری کی وجہ سے سوال نہ کرے، تو ان میں سے ایک شخص الٹے قدموں واپس جائے اور اسے پوشیدہ طور پر کچھ دے دے، اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور دینے والے شخص کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ (دوسری قسم کا شخص وہ ہیں) جو رات کے وقت سفر کر رہے ہوں، یہاں تک کہ نیند جب ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو تو وہ پڑاؤ کریں اور اپنا سر رکھ کر سو جائیں، تو ایک شخص کھڑا ہو کر میری بارگاہ میں مناجات کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ (اور تیسرا شخص وہ ہے) جو کسی جنگ میں حصہ لے، جب اس کا دشمن سے سامنا ہو تو اس کے ساتھی پسپا ہو جائیں، لیکن وہ سینے کو لے کر آگے بڑھے یہاں تک کہ شہید ہو جائے یا اس کو فتح نصیب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4771]

4772

Sahih Ibn Hibban #4772

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ ، تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ ، وَقَالَ : تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ قِتَالا لَيَرَيَنَّ مَا أَصْنَعُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، يَقُولُ : أَيْنَ ، أَيْنَ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَحَمَلَ ، فَقَاتَلَ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَطَقْتُ مَا أَطَاقَ ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ : وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُ أَخِي إِلا بِحُسْنِ بَنَانِهِ ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً ضَرْبَةُ سَيْفٍ ، وَرَمْيَةُ سَهْمٍ ، وَطَعْنَةُ رُمْحٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا "، قَالَ حَمَّادٌ : وَقَرَأْتُ فِي مُصْحَفِ أَبِي ، وَمِنْهُمْ مَنْ بَدَّلَ تَبْدِيلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے پہلے غزوہ کیا تھا میں اس میں شریک نہیں ہو سکا، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے اب مجھے جنگ کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ اس بات کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، پھر غزوہ احد کا موقع آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پسپا ہوئے تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا: کہاں ہے؟ کہاں ہے؟ اللہ کی ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، مجھے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے جو احد کے دوسری طرف ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے حملہ کیا، لڑائی کی اور شہید ہو گئے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو انہوں نے کیا ہے اس کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ ان کی بہن بیان کرتی ہیں: میں نے انہیں ان کی پوروں سے پہچانا تھا۔ ان کے جسم پر تلوار کی ضرب، تیر لگنے اور نیزہ لگنے کے 80 سے زیادہ زخم تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”اہلِ ایمان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا، ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی نذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے کچھ لوگ ابھی انتظار کر رہے ہیں، انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔“ حماد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کے مصحف میں یہ آیت یوں پڑھی ہے: ”ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے تبدیلی کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4772]

4773

Sahih Ibn Hibban #4773

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ عَشْرَةً ، فَثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، وَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَوَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ رَجُلَيْنِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ : إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ، يَعْنِي غَنَائِمَ بَدْرٍ لَوْلا أَنِّي لا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر یہ بات لازم قرار دی کہ ایک آدمی دس کے ساتھ مقابلہ کرے گا، یہ بات ان کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی اور انہیں بہت گراں گزری، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو آسانی فراہم کی کہ ایک آدمی دو کے ساتھ مقابلہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ﴾ ”اگر تم میں سے صبر کرنے والے بیس افراد ہوں“ [سورة الأنفال: 65] ، یہ آیت کے آخر تک ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ ”اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس پر تمہیں عظیم عذاب اپنی گرفت میں لے لیتا“ [سورة الأنفال: 68] ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد غزوہ بدر کا مال غنیمت ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر میں نے پہلے یہ طے نہ کیا ہوتا کہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو عذاب نہیں دوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4773]

4774

Sahih Ibn Hibban #4774

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَعْلَمُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ الَّذِينَ جَيَّشُوا لَنَا ، فَاسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ فِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ ، وَهُوَ وَادٍ أَجْوَفُ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ ، إِنَّمَا يَنْحَدِرُونَ فِيهِ انْحِدَارًا ، قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَيُتَابِعُونَ لا يَعْلَمُونَ بِشَيْءٍ إِذْ فَجِئَهُمُ الْكَتَائِبُ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ ، فَلَمْ يَنْتَظِرِ النَّاسُ أَنِ انْهَزَمُوا رَاجِعِينَ ، قَالَ : وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ ، وَقَالَ : أَيْنَ أَيُّهَا النَّاسُ ؟ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " ، وَكَانَ أَمَامَ هَوَازِنَ رَجُلٌ ضَخْمٌ ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ سَوْدَاءُ ، إِذَا أُدْرِكَ طَعَنَ بِهَا ، وَإِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ بَيْنَ يَدَيْهِ دَفَعَهَا مِنْ خَلْفِهِ ، فَرَصَدَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كِلاهُمَا يُرِيدُهُ ، قَالَ : فَضَرَبَ عَلِيٌّ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ ، فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ ، وَضَرَبَ الأَنْصَارِيُّ سَاقَهُ فَطَرَحَ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ ، فَوَقَعَ ، وَاقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى كَانَتِ الْهَزِيمَةُ ، وَكَانَ أَخُو صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ لأُمِّهِ ، قَالَ : أَلا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمیں اس بارے میں علم نہیں تھا کہ دشمن نے ہمارے لیے کس طرح کا لشکر تیار کیا ہے، ہم حنین کی وادی کے پاس پہنچے، یہ صبح کے وقت کی بات ہے، یہ تہامہ کی وادیوں میں سے ایک نشیبی وادی تھی، لوگ اس میں نیچے کی طرف اتر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! لوگوں کا پیچھا کیا جا رہا تھا پر انہیں اس بات کا پتا نہ تھا، اس دوران ہر طرف سے دستے آنے لگے تو لوگوں نے واپس لوٹنے میں پسپا ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف رخ کر کے فرمایا: ”اے لوگو! تم کہاں ہو؟ میں اللہ کا رسول ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) ہوازن قبیلے کے آگے ایک بھاری بھرکم شخص تھا جو سرخ اونٹ پر سوار تھا، اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا، جب کوئی شخص اس تک پہنچ جاتا تو وہ اسے نیزہ مار دیتا اور جب کوئی چیز اس کے سامنے آتی تو وہ اسے اپنے پیچھے کر دیتا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دونوں اس کی گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی پشت پر حملہ کیا تو وہ (سردار) گدی کے بل نیچے گر گیا، انصاری نے اس کی پنڈلی پر مارا اور اس کا پاؤں نصف پنڈلی کے قریب کاٹ دیا۔ وہ گرا تو لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی، یہاں تک کہ وہ لوگ پسپا ہو گئے۔ وہ صفوان بن امیہ کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا، اس نے کہا: خبردار! آج کے دن جادو جھوٹا ثابت ہو گیا۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ اس وقت مشرک تھے، یہ بعد کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے سینے وغیرہ پر ضرب لگائی تھی)، سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: خاموش رہو! اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند کرے، اللہ کی قسم! قریش کا کوئی شخص مجھ سے آ ملے، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ ہوازن قبیلے کا کوئی شخص مجھ سے ملے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4774]

4775

Sahih Ibn Hibban #4775

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ حنین کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین سے مقابلہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اتر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدل (لڑائی میں حصہ لیتے رہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4775]

4776

Sahih Ibn Hibban #4776

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاثًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان کے علاقے میں تین دن تک مقیم رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4776]

4777

Sahih Ibn Hibban #4777

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاثًا ، أَوْ قَالَ ثَلاثَ لَيَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر فتح حاصل کر لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے علاقے میں تین دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تین راتوں تک رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4777]

4778

Sahih Ibn Hibban #4778

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ ، فَقُذِفُوا فِي طَويٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاثَ لَيَالٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ ، فَشُدَّ عَلَيْهَا فَرَحَلَهَا ، ثُمَّ مَشَى وَتَبِعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَقَالُوا : مَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةَ الرَّكِيِّ ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، يَا فُلانُ بْنَ فُلانٍ ،أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَكَلَّمَ مِنْ أَجْسَادٍ لا أَرْوَاحَ لَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً وَحَسْرَةً وَتَنَدُّمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا کہ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے چوبیس سرداروں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے علاقے میں تین راتوں تک مقیم رہیں، جب تیسرا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ کی سواریوں پر پالان باندھ دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے پیچھے چلے، لوگوں نے کہا: ہمارا خیال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے کر جانے لگے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس گڑھے کے کنارے تک آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کفارانِ قریش) کو ان کے نام اور ان کے باپوں کے نام لے کر مخاطب کیا: ”اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہاری یہ خواہش نہیں ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ ہمارے پروردگار نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے حق پا لیا ہے، کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے حق پا لیا ہے؟“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسے اجسام کے ساتھ کیسے خطاب کر رہے ہیں، جن میں روح ہی نہیں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں جو کہہ رہا ہوں، تم ان لوگوں کے مقابلے میں مجھ سے زیادہ نہیں سن رہے (یعنی وہ بھی اسی طرح سن رہے ہیں جس طرح تم اسے سن رہے ہو)۔“ قتادہ نامی راوی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا تھا، یہاں تک کہ انہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز) اس لیے سنائی تھی تاکہ ان کی توبیخ ہو، ان کا کم تر ہونا ظاہر ہو، انہیں ذلت، حسرت اور ندامت ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4778]

4779

Sahih Ibn Hibban #4779

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَحْ ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ " ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو ہم (کل) روانہ ہو جائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: کیا ہم فتح حاصل کیے بغیر روانہ ہو جائیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل پھر تم حملہ کر لینا۔“ ان لوگوں نے ان پر حملہ کیا تو ان میں سے بہت سے لوگ زخمی ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم روانہ ہو جائیں گے“، تو لوگوں کو یہ بات اچھی لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4779]

4780

Sahih Ibn Hibban #4780

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَشَكَّوْا فِيَّ ، فَقِيلَ لِي : هَلْ أَنْبَتَّ ، فَفَتَّشُونِي ، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ ، فَخُلِّيَ سَبِيلِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ قریظہ کے موقع پر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا (کیا میں بالغ ہو چکا ہوں کہ نہیں؟) تو مجھ سے دریافت کیا گیا: ”کیا تمہارے زیر ناف بال اگ گئے ہیں؟“ ان لوگوں نے میری تلاشی لی تو انہیں پتا چلا کہ میرے زیر ناف بال نہیں اگے ہیں، تو مجھے چھوڑ دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4780]

4781

Sahih Ibn Hibban #4781

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَشَكَّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرُوا ، فَإِنْ كَانَ أَنْبَتَ الشَّعْرَ فَاقْتُلُوهُ ، وَإِلا فَلا تَقْتُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا، ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ ہوں، یا میں جنگجو لوگوں میں شمار ہوں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کا جائزہ لو، اگر اس کے زیرِ ناف بال اگے ہیں، تو اسے قتل کر دو اور اگر نہیں اگے تو پھر اسے قتل نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4781]

4782

Sahih Ibn Hibban #4782

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، سَمِعَ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ : كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ ، فَاسْتُبْقِيتُ ، فَهَا أَنَا ذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا، تو انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میرے زیرِ ناف بال نہیں اگے تھے، تو اسی وجہ سے میں زندہ رہ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4782]

4783

Sahih Ibn Hibban #4783

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ ، فَجِيءَ بِي وَأَنَا أَرَى أَنَّهُ سَيَقْتُلُنِي ، فَكَشَفُوا عَنْ عَانَتِي ، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ ، فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں وہ پہلا شخص ہوں جس کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا تھا، مجھے لایا گیا تو میں سمجھ رہا تھا کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے لیکن جب انہوں نے میرے زیرِ ناف حصے کی تحقیق کی تو مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میرے زیرِ ناف بال نہیں اگے تھے، تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں شامل کر لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4783]

4784

Sahih Ibn Hibban #4784

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَتَرَكَهُ ، فَنَزَفَ الدَّمُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تَقَرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : تُقْتَلُ رِجَالُهُمْ ، وَتُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ ، فَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ ، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ ، فَمَاتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا جس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے آگ جلوائی اور اس کے ذریعے داغ لگوایا تو ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا تو خون پھر بہنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ لگوایا تو پھر ان کا ہاتھ پھول گیا، جب انہوں نے یہ صورتحال دیکھی تو انہوں نے کہا: اے اللہ! تو میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا، تو ان کی رگ کا خون نکلنا بند ہو گیا اور اس کے بعد ایک قطرہ بھی نہیں نکلا، یہاں تک کہ جب بنو قریظہ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کیا تو انہوں نے انہیں بلوایا اور حکم دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی خواتین اور بچوں کو زندہ رکھا جائے، تو مسلمانوں کو مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“ ان لوگوں کی تعداد چار سو تھی۔ جب لوگ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4784]