Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 42 · Chapter 2

Book of Reviving Dead Lands

Hadith 4711–4750

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4711

Sahih Ibn Hibban #4711

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ مَوْلًى لِكِنْدَةَ ، قَالَ : كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ ، فَأَخْرَجُوا إِلَيْنَا صَفًّا عَظِيمًا ، مِنَ الرُّومِ ، وَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِثْلُهُ ، أَوْ أَكْثَرُ ، وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ ، حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ ، فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ ، وَقَالُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تُلْقِي بِيَدِكَ إِلَى التَّهْلُكَةِ ، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ الإِسْلامَ وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ ، قُلْنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَزَّ الإِسْلامَ وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ ، فَلَوْ أَقَمْنَا فِي أَمْوَالِنَا ، فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنَّا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا قُلْنَا : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ، فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ الإِقَامَةَ فِي أَمْوَالِنَا ، وَإِصْلاحَهَا ، وَتَرْكَنَا الْغَزْوَ "، قَالَ : وَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ شَاخِصًا ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَتَّى دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمران اسلم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کے ایک شہر میں تھے تو اہل روم کی طرف سے ایک بڑا لشکر ہمارے سامنے آ گیا، ان کی طرف سے بھی ایک بڑا لشکر گیا تھا جو شاید ان سے زیادہ تھے۔ ان دنوں مصر کے گورنر سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک شخص اہل روم کی صف میں داخل ہو گیا، لوگوں نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“! تم اپنے ہاتھ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہو، تو سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو حالانکہ یہ آیت ہمارے یعنی انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا اور اس کے مددگار بکثرت ہو گئے تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے خفیہ طور پر یہ بات کہی: تمہارے اموال ضائع ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا کر دی اور اس کے مددگار زیادہ ہو گئے، اب اگر ہم اپنی کھیتی باڑی کی طرف دھیان دیں اور اپنے نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں (تو یہ مناسب ہو گا)، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات نازل کی جس میں ہماری اس بات کا جواب دیا: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] ”تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھائی کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔ تو ہلاکت یہ ہے: آدمی اپنی کھیتی باڑی میں مشغول رہے اور اسے ٹھیک کرے اور جنگ کو ترک کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں روم کی سرزمین پر دفن کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4711]

4712

Sahih Ibn Hibban #4712

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَالِي الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ دَامَ بَصَرُهُ مَفْتُوحَةٌ عَيْنَاهُ وَفَرَغَ سَمْعُهُ وَقَلْبُهُ لِمَا يَأْتِيهِ مِنَ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَقَالَ لِلْكَاتِبِ : اكْتُبْ :لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَقَامَ الأَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ذَنْبُنَا ؟ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا لِلأَعْمَى : إِنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَافَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِهِ فَبَقِيَ قَائِمًا ، وَيَقُولُ : أَعُوذُ بِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْكَاتِبِ : اكْتُبْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ان کے ماموں سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کرنا شروع کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت متوجہ رہتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن بھی اس چیز کی طرف متوجہ رہتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صورت حال کا اندازہ ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کرنے والے سے فرمایا: ”تم یہ نوٹ کرو: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہلِ ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے (یعنی جہاد میں شریک نہ ہونے والے) لوگ برابر نہیں ہیں“ ﴿وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں“۔“ تو ایک نابینا صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا کیا قصور ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو ہم نے اس نابینا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ہے، تو اس نابینا کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے معاملے سے متعلق کوئی چیز نازل نہ ہو جائے تو وہ کھڑا رہا اور یہ کہہ رہا تھا: «أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْغَضَبِ» ”میں اللہ کے رسول کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں“۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے فرمایا: ”تم یہ بھی لکھو: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] ”وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4712]

4713

Sahih Ibn Hibban #4713

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اكْتُبْ :لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَبِي مِنَ الزَّمَانَةِ مَا تَرَى قَدْ ذَهَبَ بَصَرِي ، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : فَثَقُلَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَرَفَّضَ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " اكْتُبْ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وحی کی) کتابت کیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ نوٹ کرو: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے (یعنی جہاد میں شریک نہ ہونے والے) لوگ برابر نہیں ہیں اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہیں“۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو پسند کرتا ہوں، لیکن میرے اندر معذوری ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے ہیں کہ میری بینائی رخصت ہو چکی ہے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میرے زانو پر موجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زانو اتنا وزنی ہو گیا کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میری ٹانگ ٹوٹ نہ جائے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ نوٹ کرو: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو وہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4713]

4714

Sahih Ibn Hibban #4714

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرَّيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ شَهِدَكُمْ أَقْوَامٌ بِالْمَدِينَةِ ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے ہیں جو مدینے میں موجود ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بیماری کی وجہ سے (جنگ میں شریک نہیں ہو سکے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4714]

4715

Sahih Ibn Hibban #4715

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر کیا جائے“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس اندیشے کے تحت (منع کیا ہے) کہ کہیں دشمن اس کی بے حرمتی نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4715]

4716

Sahih Ibn Hibban #4716

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي قَوْلِهِ : مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ، بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ الْعَدُوَّ إِذَا كَانَ فِيهِمْ ضِعْفٌ ، وَقِلَّةٌ وَالْمُسْلِمُونَ فِيهِمْ قُوَّةٌ وَكَثْرَةٌ ، ثُمَّ سَافَرَ أَحَدُهُمْ بِالْقُرْآنِ وَهُوَ فِي وَسَطِ الْجَيْشِ يَأْمَنُ أَنْ لا يَقَعَ ذَلِكَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ ، كَانَ اسْتِعْمَالُ ذَلِكَ الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ ، وَمَتَى أَيِسَ مِمَّا وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ لَهُ السَّفَرُ بِالْقُرْآنِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع کیا ہے قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر کیا جائے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اسے نقصان نہ پہنچائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اس تک پہنچ نہ جائے“ یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے جب دشمن میں کمزوری بھی ہو اور ان کی تعداد بھی کم ہو اور مسلمانوں میں قوت بھی ہو اور ان کی تعداد بھی زیادہ ہو اور پھر کوئی مسلمان قرآن کو ساتھ لے کر سفر کرے اور وہ لشکر کے درمیان محفوظ حالت میں ہو اس طرح کہ وہ قرآن دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکتا ہو تو پھر یہ کام کرنا اس آدمی کے لیے مباح ہو گا، لیکن جب اس طرح کی صورت حال نہ ہو جو ہم نے ذکر کی ہے تو آدمی کے لیے قرآن کو ساتھ لے کر دار الحرب کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4716]

4717

Sahih Ibn Hibban #4717

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الأَيْلِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلافٍ ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بہترین ساتھی چار افراد ہوتے ہیں، بہترین چھوٹی مہم چار سو افراد کی ہوتی ہے، بہترین لشکر چار ہزار افراد کا ہوتا ہے اور بارہ ہزار لوگ کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4717]

4718

Sahih Ibn Hibban #4718

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا أَرْهَقُوهُ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ : مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا فَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لا تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقع پر جب ان لوگوں نے پسپائی اختیار کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات انصاریوں اور ایک قریشی کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کون ہم سے دور کرے گا؟ ایسا شخص جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ تو ایک انصاری شخص کھڑا ہوا، اس نے لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات کہی تو پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا، اس نے لڑائی کی یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ وہ ساتوں آدمی شہید ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا» ”ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔“ ”اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے“ (اس کے بعد روایت کے الفاظ شاید مکمل نقل نہیں ہوئے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4718]

4719

Sahih Ibn Hibban #4719

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي كِتَابِ الْمَشَايخِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى فِينَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الأَحْزَابِ :أَلا لا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَقَالَ الآخَرُونَ : لا نُصَلِّي إِلا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ ، قَالَ : فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جب ہم لوگ واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: ”خبردار! کوئی بھی شخص بنو قریظہ کے (علاقے تک پہنچنے سے) پہلے ظہر کی نماز ہرگز ادا نہ کرے۔“ کچھ لوگوں کو نماز کا وقت رخصت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی، جبکہ کچھ لوگوں نے کہا: ہم اس وقت تک نماز ادا نہیں کریں گے جب تک اس چیز پر عمل نہیں کرتے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی کو بھی غلط قرار نہیں دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4719]

4720

Sahih Ibn Hibban #4720

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ أَوِ ادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلاثِينَ بَعِيرًا ، أَوْ ثَلاثِينَ دِرْعًا ، قَالَ : قُلْتُ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن یعلی بن امیہ اپنے والد (یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب میرا پیغام رساں تمہارے پاس آئے تو تم اسے تیس اونٹ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیس زرہیں ادا کر دینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے حوالے کر دینا۔“ تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ عارضی طور پر ہیں، جنہیں ادا کر دیا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4720]

4721

Sahih Ibn Hibban #4721

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَارَ إِلَى بَدْرٍ ،فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ النَّاسَ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : وَاللَّهِ مَا يُرِيدُ غَيْرَنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَرَاكَ تَسْتَشِيرُ ، فَيُشِيرُونَ عَلَيْكَ ، وَلا نَقُولُ كَمَا قَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا ، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ ، كُنَّا مَعَكَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر روانہ ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رائے بیان کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے پیش کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشورہ لیتے رہے یہاں تک کہ انصار نے کہا: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں، تو ایک انصاری صاحب نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ لے رہے ہیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دے رہے ہیں، ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا﴾ [سورة المائدة: 24] ”تم اور تمہارا پروردگار جا کر جنگ میں حصہ لو“۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ لڑتے ہوئے «بَرْكِ الْغِمَادِ» ”برک غماد“ تک چلے جائیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4721]

4722

Sahih Ibn Hibban #4722

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ أَيَّامَ بَدْرٍ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَضَافَ عَنْهُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ ، فَضَافَ عَنْهُ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِيَّانَا تُرِيدُ ؟ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَخُوضَ الْبَحْرَ لَخُضْنَاهُ ، أَوْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَانْطَلَقَ إِلَى بَدْرٍ ، فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا لِقُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ ، أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ ، وَأَيْنَ تَرَكْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ ، هَذِهِ قُرَيْشٌ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ ، فَيَقُولُ : دَعُونِي ، دَعُونِي أُخْبِرُكُمْ ، فَإِذَا تَرَكُوهُ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ ، وَعُتْبَةُ ، وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، قَدْ أَقْبَلُوا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَانْصَرَفَ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ ، هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ تَمْنَعُ أَبَا سُفْيَانَ " ، قَالَ : فَأَوْمَأَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، وَقَالَ :" هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ غَدًا " ، قَالَ أَنَسٌ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ طلب فرمایا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید رائے طلب فرمائی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید رائے طلب فرمائی تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں ہی مراد لے رہے ہیں؟ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے، اور اگر آپ ہمیں برکِ غماد تک لے چلنے کا حکم دیں تو ہم (آپ کے ساتھ) وہاں تک بھی جائیں گے۔“ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا، چنانچہ وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ بدر پہنچ گئے۔ وہاں قریش کے قاصد آئے ہوئے تھے جن میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے پکڑ لیا اور اس سے ابوسفیان کے بارے میں پوچھنے لگے، تو وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کا تو علم نہیں، البتہ یہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (لشکر کے ساتھ) آ رہے ہیں۔ جب وہ یہ کہتا تو لوگ اسے مارنا شروع کر دیتے، تو وہ کہتا: ہاں، میں تمہیں بتاتا ہوں (مجھے چھوڑ دو)۔ پھر جب وہ اسے چھوڑ دیتے تو وہ دوبارہ کہتا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کا علم نہیں، البتہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف آ رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب یہ تم سے سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب تم سے جھوٹ بولتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ قریش آ گئے ہیں (جو ابوسفیان کو بچانے آئے ہیں)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے: ”یہ کل فلاں کی قتل گاہ ہو گی اور یہ کل فلاں کی قتل گاہ ہو گی۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان میں سے کوئی بھی اس جگہ سے ذرا برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے دستِ مبارک سے) نشان لگایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4722]

4723

Sahih Ibn Hibban #4723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَغْزُو بِنَا مَعَهُ نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، لِتَسْقِيَ الْمَاءَ ، وَتُدَاوِيَ الْجَرْحَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہم انصاری خواتین کو بھی لے کر گئے تھے تاکہ وہ پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4723]

4724

Sahih Ibn Hibban #4724

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْزُو بِنَا مَعَهُ نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَسْقِي الْمَاءَ ، وَنُدَاوِي الْجَرْحَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہم انصاری خواتین کو بھی لے کر گئے تھے تاکہ ہم پانی پلائیں اور زخموں کا علاج کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4724]

4725

Sahih Ibn Hibban #4725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَبِي طَلْحَةَ : الْتَمِسْ لِي غُلامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى آتِي خَيْبَرَ " ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا نَزَلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے لڑکوں میں سے میرے لیے کوئی لڑکا لے کر آؤ جو میری خدمت کیا کرے جب تک میں خیبر نہیں پہنچ جاتا“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر کے لے گئے، میں ان دنوں لڑکا تھا اور بالغ ہونے کے قریب تھا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4725]

4726

Sahih Ibn Hibban #4726

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ فَإِنَّا لا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مشرکین سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم واپس چلے جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4726]

4727

Sahih Ibn Hibban #4727

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ الدَّغُولِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُهُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ أَحْتَلِمْ ، فَلَمْ يَقْبَلْنِي ، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَقَبِلَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقع پر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میری عمر چودہ برس تھی، میں ابھی بالغ نہیں ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبول نہیں کیا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبول کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4727]

4728

Sahih Ibn Hibban #4728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمْ يُجِزْنِي ، وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ ، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَأَجَازَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میری عمر چودہ سال تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (جنگ میں حصہ لینے کی) اجازت نہیں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال میں، میں بالغ نہیں ہوا تھا، پھر میں پندرہ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4728]

4729

Sahih Ibn Hibban #4729

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ ، فَقَالَ : لِيُنْتَدَبْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا ، وَالأَجْرُ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک مہم روانہ کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک روانہ ہو جائے، اجر ان دونوں کے درمیان (تقسیم ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4729]

4730

Sahih Ibn Hibban #4730

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى فُلانٍ الأَنْصَارِيِّ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ " ، فَقُلْ لَهُ : يُقْرِئُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ : لا تُخْفِي مِنْهُ شَيْئًا ، فَوَاللَّهِ لا تُخْفِينَ مِنْهُ شَيْئًا ، فَيُبَارَكَ لَكِ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس اس کا ساز و سامان نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ، اس کے پاس ساز و سامان ہے، تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم اپنا ساز و سامان مجھے دے دو۔“ وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا تو اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اس سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہ رکھنا، اللہ کی قسم! تم نے اس سے جو بھی چیز چھپانے کی کوشش کی تو اس میں تمہیں برکت نصیب نہیں ہوگی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4730]

4731

Sahih Ibn Hibban #4731

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : إِنَّبِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ ، وَلا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ ، إِلا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے جو بھی سفر کیا، جس بھی وادی سے گزرے وہ لوگ وہاں تمہارے ساتھ تھے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ لوگ مدینہ میں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، یہ وہ لوگ ہیں جو عذر کی وجہ سے (جہاد میں) شریک نہیں ہو سکے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4731]

4732

Sahih Ibn Hibban #4732

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّرِجَالا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ وَتَخَلَّفُوا عَنْهُ ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ، فَنَزَلَ : لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ منافقین تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شرکت کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ لوگ پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہنے پر خوش ہوتے تھے، اور پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عذر پیش کرتے اور اس بات کی قسم اٹھاتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ انہوں نے جو کام نہیں کیا اس پر ان کی تعریف کی جائے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا﴾ [سورة آل عمران: 188] ”تم ان لوگوں کے بارے میں ہرگز گمان نہ کرو جو اس چیز پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4732]

4733

Sahih Ibn Hibban #4733

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ بَيْنَ كُلِّ ثَلاثَةٍ بَعِيرٌ ، وَكَانَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ ، وَأَبُو لُبَابَةَ ، فَإِذَا حَانَتْ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالا : ارْكَبْ وَنَحْنُ نَمْشِي ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي ، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الأَجْرِ مِنْكُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر ایک اونٹ تین آدمیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا علی اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہما تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدل چلنے کی باری آتی تو یہ دونوں صاحبان گزارش کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار رہیں ہم پیدل چلتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”نہ تو تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور ہو اور نہ ہی میں تم دونوں سے زیادہ اجر سے بے نیاز ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4733]

4734

Sahih Ibn Hibban #4734

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ ، قَالَ : فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا ، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي ، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ، قَالَ : فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ "، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : إِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لیے روانہ ہوئے، ہم دو آدمیوں کے لیے ایک اونٹ ہوتا تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے، میرے بھی دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے، ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس لیے اس جنگ کا نام «ذَاتُ الرِّقَاعِ» رکھا گیا کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹا کرتے تھے۔ ابوبردہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی پھر انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی اور انہوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث ذکر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس بات کو اس لیے ناپسند کیا تاکہ ان کے عمل میں سے کوئی چیز ظاہر نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4734]

4735

Sahih Ibn Hibban #4735

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمُ بْنُ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَمْشِي ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عَلَى حِمَارٍ : ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَأَخَّرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا إِلا أَنْ تَجْعَلَهَا لِي " ، قَالَ : فَجَعَلَهُ لَهُ ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے، گدھے پر سوار ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سوار ہو جائیں اور وہ خود پیچھے ہٹ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جانور کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے، اگر تو تم میرے لیے (آگے والا حصہ) دیتے ہو تو حکم مختلف ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس نے (آگے والا حصہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4735]

4736

Sahih Ibn Hibban #4736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَحْبَبْتُ أَنْ لا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ ، وَلا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، وَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا ، فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں کسی بھی مہم سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں نکلتی ہے، لیکن میرے پاس ان لوگوں کو فراہم کرنے کے لیے سواریاں نہیں ہیں اور ان لوگوں کے پاس بھی سواریاں نہیں ہیں اور انہیں یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہو جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر میں شہید ہو جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر میں شہید ہو جاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4736]

4737

Sahih Ibn Hibban #4737

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا ، وَلَكِنْ لا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلُهُمْ ، وَلا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَخْرُجُونَ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ " ، قَالَ ذَلِكَ ثَلاثًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت کا شکار کر دوں گا تو میں اللہ کی راہ میں ہونے والی کسی بھی جنگ میں کبھی بھی پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں سب لوگوں کو سواریاں فراہم کروں اور ان سب لوگوں کے پاس بھی اتنی گنجائش نہیں ہے کہ یہ لوگ روانہ ہو جائیں، اور ان کے لیے یہ بات بھی گراں ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لوں، مجھے شہید کر دیا جائے، پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے شہید کیا جائے، پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے شہید کیا جائے۔“ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4737]

4738

Sahih Ibn Hibban #4738

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ أَوْ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَقِينَا الْمُشْرِكِينَ ، أَجْلِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَقَالَ :لا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانَكُمْ ، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا ، فَلا تُعِينُونَا ، فَلَمَّا لَقِينَا الْقَوْمَ وَهَزَمَهُمُ الْمُسْلِمُونَ ، حَتَّى رَأَيْتَ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ ، قَدْ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ ، قَدْ بَدَتْ خَلاخِيلُهُنَّ ، فَأَخَذُوا يَنْقَلِبُونَ ، وَيَقُولُونَ : الْغَنِيمَةَ ، الْغَنِيمَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ : مَهْلا ، أَمَا عَلِمْتُمْ مَا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صَرَفَ اللَّهُ وجُوهَهُمْ ، فَأُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تِسْعُونَ قَتِيلا ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ ، فَقَالَ : أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةُ ؟ ثَلاثًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَّا هَؤُلاءِ فَقَدْ قُتِلُوا ، لَوْ كَانُوا أَحْيَاءَ لأَجَابُوا ، فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ ، أَنْ قَالَ : كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، قَدْ أَبْقَى اللَّهُ لَكَ مَا نُخْزِيكَ ، فَقَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، اعْلُ هُبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِيبُوهُ ، فَقَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى ، وَأَجَلُّ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَلا لَنَا الْعُزَّى وَلا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِيبُوهُ ، قَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : قُولُوا اللَّهُ مَوْلانَا وَلا مَوْلَى لَكُمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ ، أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا حُدِّثْنَا تَسْعَوْنَ قَتِيلا ، وَإِنَّمَا هُوَ سَبْعُونَ قَتِيلا قَتِيلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غزوہ احد کے موقع پر ہمارا مشرکین سے سامنا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو مقرر کیا اور سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں، اگرچہ تم ہمیں دیکھو گے کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں، اور اگرچہ تم انہیں دیکھو گے کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں تو تم ہماری مدد نہ کرنا (یعنی آگے بڑھ کر ہماری مدد نہ کرنا اپنی جگہ پر رہنا)۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا اور مسلمانوں نے انہیں پسپا کر دیا تو میں نے کفار کی خواتین کو دیکھا کہ وہ پہاڑ پر بھاگ رہی ہیں، انہوں نے اپنے پائنچے اوپر چڑھائے ہوئے ہیں اور ان کی پازیبیں نظر آ رہی ہیں، تو وہ لوگ بھی آگے آ گئے اور بولے: غنیمت حاصل کرو، غنیمت حاصل کرو! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ٹھہر جاؤ، کیا تمہیں یاد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا تلقین کی تھی؟ لیکن وہ لوگ چلے گئے۔ جب وہ لوگ وہاں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے صورتحال تبدیل کر دی اور مسلمانوں میں سے 90 لوگ شہید ہو گئے۔ پھر ابوسفیان نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر ہماری طرف منہ کر کے دریافت کیا: کیا لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم (زندہ) ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اسے کوئی جواب نہ دینا۔“ پھر اس نے دریافت کیا: کیا یہاں ابوقحافہ کے صاحبزادے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) زندہ ہیں؟ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اسے جواب نہیں دینا۔“ پھر اس نے دریافت کیا: کیا لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے جواب نہ دینا۔“ ابوسفیان اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: یہ لوگ تو مارے گئے ہیں، کیونکہ اگر یہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر قابو نہ رہا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم نے غلط کہا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس چیز کو باقی رکھا ہے جو تم کو رسوا کر دے گی۔ ابوسفیان نے کہا: «اُعْلُ هُبَلُ، اُعْلُ هُبَلُ» ”اے ہبل! تو سر بلند ہو، اے ہبل! تو سر بلند ہو“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے جواب دو۔“ لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا کہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ یہ کہو: «اَللّٰهُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ» ”اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے“۔“ ابوسفیان نے کہا: خبردار! ہمارے ساتھ عزا ہے، تمہارے پاس عزا نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے جواب دو۔“ لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا جواب دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَكُمْ» ”اللہ تعالیٰ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے“۔“ ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور جنگ کے دوران صورتحال تبدیل ہوتی رہتی ہے، تمہیں لوگوں میں سے کچھ کی لاشوں کی بے حرمتی ملے گی، میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن یہ بات مجھے بری بھی نہیں لگی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اسی طرح منقول ہے کہ 90 لوگ شہید ہوئے تھے حالانکہ 70 لوگ شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4738]

4739

Sahih Ibn Hibban #4739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَأَمْلاهُ عَلَيْنَا إِمْلاءً ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلا تَغُلُّوا ، وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تُمَثِّلُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلالٍ ، فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمُ ، ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلامِ ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُهَاجِرِينَ ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْهُمْ ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ، فَلا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلا ذِمَّةَ رَسُولِهِ ، وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ آبَائِكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، فَلا تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ أَتُصِيبُونَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لا ؟ "، قَالَ : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا مہم کے امیر کو روانہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بطورِ خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”اللہ کے نام سے مدد حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا، تم جہاد کرو اور خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو اور کسی نابالغ بچے کو قتل نہ کرو۔ جب تمہارا دشمن مشرکین سے سامنا ہو تو انہیں تین خصلتوں میں سے کسی ایک کو قبول کرنے کی دعوت دو، ان میں سے وہ جس چیز کو بھی اختیار کرنا چاہیں تو اسے ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان پر حملہ کرنے سے رک جاؤ؛ تم سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اسے ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے جنگ کرنے سے رک جاؤ، یا پھر انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف منتقل ہو جائیں، اگر وہ منتقل ہونے سے انکار کریں تو تم انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں تو ان کی مثال دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگی اور ان پر بھی وہ تمام احکامات لاگو ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین پر لاگو کیے ہیں، اگر وہ تمہاری اس بات کو قبول کر لیتے ہیں تو تم ان کی طرف سے اس بات کو قبول کرو اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو اور پھر ان کے ساتھ جنگ شروع کر دو۔ اور تم لوگ جب کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کی پناہ اور اس کے رسول کی پناہ دو تو تم انہیں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ نہ دو بلکہ تم انہیں اپنی پناہ دو، اپنے باپ دادا کی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، کیونکہ اگر تم اپنی دی ہوئی پناہ کی یا اپنے باپ دادا کی پناہ کی خلاف ورزی کرتے ہو تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہوگا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی پناہ کی خلاف ورزی کرو، اور جب تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہوا ہو اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق صلح کر لو تو تم انہیں اللہ کے حکم پر نہ اتارو بلکہ اپنے حکم پر اتارو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق درست فیصلہ کر سکو گے یا نہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ علقمہ بن مرثد نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث مجھے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4739]

4740

Sahih Ibn Hibban #4740

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحَ رَجُلا سَيْفًا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَعَجَزْتُمْ إِذَا أَمَّرْتُ عَلَيْكُمْ رَجُلا ، فَلَمْ يَمْضِ لأَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ ، أَوْ نَهَيْتُ أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ آخَرَ يُمْضِي أَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تلوار پہنا دی۔ جب ہم لوگ واپس آئے تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی بات پر اتنی ملامت کی ہو (جتنی اس بات پر کی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ عاجز آ گئے تھے کہ جب میں نے تم لوگوں پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا تھا اور اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا جو میں نے اسے دیا تھا یا جس سے میں نے منع کیا تھا، تو تم اس کی جگہ کسی دوسرے کو امیر مقرر کر دیتے جو میرے اس حکم پر عمل درآمد کرتا جو حکم میں نے جاری کیا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4740]

4741

Sahih Ibn Hibban #4741

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَقَالَ : إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ ، فَجَعْفَرٌ ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ ، فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنْتُ مَعَهُمْ تِلْكَ الْغَزْوَةِ ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَوَجَدْنَا فِيمَا نِيلَ مِنْ جَسَدِهِ بِضْعًا وَسَبْعِينَ ضَرْبَةً وَرَمْيَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ موتہ کے موقع پر سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر زید شہید ہو جائے تو جعفر امیر ہو گا اور اگر جعفر شہید ہو جائے تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہو گا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اس جنگ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا۔ ہم نے سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا، تو ہمیں وہ مقتولین میں ملے، ہمیں ان کے جسم پر ستر سے زیادہ ضربوں اور تیروں کے نشان ملے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4741]

4742

Sahih Ibn Hibban #4742

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی دو راتیں گزر جانے کے بعد روانگی کا اعلان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4742]

4743

Sahih Ibn Hibban #4743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِوَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ میں) داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4743]

4744

Sahih Ibn Hibban #4744

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، فَبَيَّتْنَا أُنَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلْنَاهُمْ ، وَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ ، أَمِتْ " ، قَالَ : فَقَتَلْتُ بِيَدِي سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس جنگ میں شریک ہوا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا تھا، ہم نے کچھ مشرکین پر رات کے وقت حملہ کر کے انہیں مار دیا تھا، اس وقت ہمارا نعرہ (یا علامتی نعرہ) یہ تھا: «أَمِتْ أَمِتْ» ”مار دو، مار دو“، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس رات میں نے مشرکین کے سات گھرانوں کے افراد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4744]

4745

Sahih Ibn Hibban #4745

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ حَتَّى يُصْبِحَ فَيَنْظُرَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا ، رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ ، وَإِنَّ قَدَمَيَّ لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجُوا عَلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ ، وَمَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے خلاف جنگ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرتے تھے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا جائزہ لیتے تھے کہ اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر اذان کی آواز نہیں سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، ہم رات کے وقت وہاں پہنچے، جب صبح ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اذان کی آواز نہیں سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہو گیا، یہاں تک کہ میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے۔ وہ لوگ اپنے ٹوکرے اور بیلچے لے کر (قلعے سے) باہر نکلے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور بولے: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے، اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے اور ساتھ لشکر بھی ہے،“ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دیکھا تو فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا،“ ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ”پھر جب وہ کسی قوم کے میدان میں اترتا ہے تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4745]

4746

Sahih Ibn Hibban #4746

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلا ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهَا وَمَكَاتِلِهَا ، فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی جگہ پہنچتے تھے تو صبح ہونے سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی کدالیں اور ٹوکرے لے کر نکلے، جب انہوں نے (مسلمانوں کے لشکر) کو دیکھا تو بولے: ”سیدنا محمد اور (ان کا) لشکر آ گئے ہیں۔“ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، بے شک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا ہے“۔“ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4746]

4747

Sahih Ibn Hibban #4747

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَّرَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ ، فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَبَيَّتْنَاهُمْ ، وَقَتَلْنَاهُمْ ، وَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ ، أَمِتْ " ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا، ہم نے کچھ مشرکین کے ساتھ جنگ کی، ہم نے رات کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں قتل کر دیا، ہمارا شعار (یعنی جنگی نعرہ) «أَمِتْ أَمِتْ» ”مار دو، مار دو“ تھا، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھرانوں کے آدمیوں کو قتل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4747]

4748

Sahih Ibn Hibban #4748

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِيهَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ، أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَمِتْ ، أَمِتْ ، قَالَ : فَقَتَلْتُ بِيَدِي لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب ہم نے رات کے وقت ہوازن قبیلے پر حملہ کیا، جو حملہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر فرمایا تھا، تو ہمارا جنگی نعرہ «أَمِتْ أَمِتْ» ”مار دو، مار دو“ تھا، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس رات میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ سات گھرانوں کے افراد کو قتل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4748]

4749

Sahih Ibn Hibban #4749

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى جَذِيمَةَ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلامِ ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا : أَسْلَمْنَا ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : صَبَأْنَا صَبَأْنَا ، وَجَعَلَ خَالِدٌ يَأْخُذَهُمْ أَسْرًا وَقَتْلا ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى كَانَ يَوْمًا ، قَالَ خَالِدٌ : لِيَقْتُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ لَهُ صَنِيعُ خَالِدٍ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جزیمہ کی طرف بھیجا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، لیکن ان لوگوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیا، بلکہ وہ یہی کہتے رہے: ہم نے دین تبدیل کر لیا، ہم نے دین تبدیل کر لیا، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو قتل کر دیا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ہر ایک کے سپرد ایک قیدی کیا، یہاں تک کہ ایک دن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» ”اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے، میں اس کے حوالے سے تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4749]

4750

Sahih Ibn Hibban #4750

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقِيتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَطَعَ يَدِي ، ثُمَّ لاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : لا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لا تَقْتُلْهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كَانَ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى قَوْلِهِ : وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ بَعْدَمَا أَنْهَاكَ عَنْهُ مُسْتَحِلا لَهُ ، كُنْتَ كَذَلِكَ ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ ، وَهُوَ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ يُرِيدُ أَنَّكَ تُقْتَلُ قَوَدًا بِهِ كَقَتْلِكَ الْمُسْلِمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا سامنا کسی مشرک شخص سے ہوتا ہے، وہ میرا ہاتھ کاٹ دیتا ہے، پھر وہ مجھ سے بچنے کے لیے کسی درخت کے پیچھے جاتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو قتل کر دیا تو وہ تمہاری جگہ پر آ جائے گا جو تمہارے اسے قتل کرنے سے پہلے تھی اور تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے کو پڑھنے سے پہلے تھی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے پڑھنے سے پہلے تھی“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: جب میں نے تم کو اس سے منع کر دیا، اس کے بعد اگر تم اس کو قتل کر دیتے اور تم اس کو حلال سمجھتے ہو تو تم اس طرح کے ہو جاؤ گے، اور اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے۔ اس سے مراد یہ ہے، تمہیں قصاص میں قتل کیا جائے گا، جس طرح اگر تم کسی مسلمان کو قتل کر دیتے ہو (تو تمہیں قصاص میں قتل کر دیا جاتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4750]