Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 46 · Chapter 2

Book of Adornment and Perfuming

Hadith 5168–5207

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5168

Sahih Ibn Hibban #5168

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا يَنْصُرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ يَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : " يَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو مدد کر دیں گے، ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے روک دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5168]

5169

Sahih Ibn Hibban #5169

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَكَانَ شَهِدَ حُنَيْنًا ، قَالَ : سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍيَنْهَى عَنِ النُّهْبَةِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ غزوہ حنین میں شریک ہوئے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو لوٹ مار سے منع کرتے ہوئے سنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5169]

5170

Sahih Ibn Hibban #5170

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5170]

5171

Sahih Ibn Hibban #5171

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُحْتَلَبَ مَوَاشِي النَّاسِ إِلا بِإِذْنِ أَرْبَابِهَا ، وَقَالَ : أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُهَا ، فَيُنْتَثَلَ مَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ ، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ هُوَ طَعَامُ أَحَدِهِمْ ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا حَلَبَ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ لوگوں کے جانوروں کا دودھ ان کے مالکان کی اجازت کے بغیر دوہ لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے گودام میں کوئی آئے، اس کا دروازہ توڑے اور اس میں سے اناج نکال لے؟ ان جانوروں کے تھن لوگوں کی خوراک ہیں۔ میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں کہ اس نے کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر دوہ لیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5171]

5172

Sahih Ibn Hibban #5172

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولانِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ "قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِهَؤُلاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَكَانَ يَلْحَقُ فِيهَا وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: عبدالمالک بن ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھے یہ بات بتائی کہ ابوبکر بن عبدالرحمن نے ان لوگوں کو یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی تھی، وہ اس کے ہمراہ ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: ”کسی قیمتی چیز کو لوٹنے والا شخص جس کی طرف لوگ دیکھ رہے ہوں، وہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5172]

5173

Sahih Ibn Hibban #5173

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور لوٹ مار کرنے والا لوٹ مار کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5173]

5174

Sahih Ibn Hibban #5174

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ نَبَتِ الأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا " ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " فَقَالَ : هَا أَنَا ذَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا ، فَقَالَ :" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ ، وَلَكِنْ كُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ عَاذَتْ ، فَأَكَلَتْ ، ثُمَّ قَامَتْ فَاجْتَرَّتْ ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَنَفَعَهُ ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كالَّذي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کی نباتات اور دنیا کی آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔“ ایک صاحب آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی تھی اور آپ کو پسینہ آتا تھا، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے دریافت کیا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے، لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ بہت سے جانوروں کو مار دیتا ہے اور بہت سے جانوروں کو تکلیف کا شکار کرتا ہے۔ صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جاتا ہے، پھر کھاتا ہے، پھر کھڑا ہو جاتا ہے، پھر چل پڑتا ہے۔ جو شخص حق کے ہمراہ مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور وہ مال اسے فائدہ دیتا ہے، جو شخص ناحق طور پر مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5174]

5175

Sahih Ibn Hibban #5175

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ الظَّالِمَ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يَنْفَلِتْ ، ثُمَّ تَلا : وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کی گرفت کرتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾ [سورة هود: 102] ”اسی طرح تمہارے پروردگار کی پکڑ ہوتی ہے جب اس نے اس بستی کی پکڑ کی جو ظالم تھی، بے شک اس کی پکڑ دردناک اور زبردست ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5175]

5176

Sahih Ibn Hibban #5176

قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ ، هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَهِجْرَةُ الْبَادِي ، أَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ظلم کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو کنجوسی نے ہلاکت کا شکار کیا تھا۔ اس نے انہیں رشتہ داری کے حقوق کی پامالی کی ترغیب دی تو ان لوگوں نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا، اس نے انہیں گناہ کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے گناہ کیا۔ اس نے انہیں کنجوسی کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے کنجوسی کی۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(یہ کہ) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھوں سے محفوظ رہیں۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی لاتعلقی زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ جسے تمہارا پروردگار ناپسند کرتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے: شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت؛ جہاں تک دیہاتی کی ہجرت کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے۔ جہاں تک شہری کی ہجرت کا تعلق ہے، اس میں آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5176]

5177

Sahih Ibn Hibban #5177

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارِ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ هِيَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا اور ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی صورت میں ہو گا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے لوگوں کو اپنی طرف بلا لیا تو انہوں نے (کنجوسی کی وجہ سے) ایک دوسرے کا خون بہایا اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5177]

5178

Sahih Ibn Hibban #5178

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ رَبْعَةٍ أو حَائِطٍ ، لا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى صَاحِبِهِ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر زمین اور باغ میں شفعہ ہو سکتا ہے، اسے اس وقت تک فروخت کرنا درست نہیں ہے جب تک آدمی اپنے ساتھی کو اس بارے میں پیشکش نہ کر دے، اگر وہ چاہے تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5178]

5179

Sahih Ibn Hibban #5179

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا کسی زمین یا کھجور کے باغ میں کوئی حصہ دار ہو تو اسے اپنے حصے کو فروخت کرنے کا اس وقت تک اختیار نہیں ہو گا جب تک وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع نہ دے دے، اگر وہ (شراکت دار) راضی ہو تو اسے حاصل کر لے اور اگر نہ چاہے تو چھوڑ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5179]

5180

Sahih Ibn Hibban #5180

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پڑوسی اپنے پڑوس کے بارے میں زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5180]

5181

Sahih Ibn Hibban #5181

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ : اشْتَرِ مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِكَ ، فَقَالَ : لا ، إِلا بِأَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ ، أَوْ قَالَ : مُقَطَّعَةٍ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ "مَا بِعْتُكَهَا ، لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ موجود تھا۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے میرے وہ دو گھر خرید لیں جو آپ کے محلے میں ہیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، میں اس شرط پر خریدوں گا کہ ان کی قیمت چار ہزار (درہم) ہو گی اور وہ بھی قسطوں میں ادا کی جائے گی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“ تو میں وہ گھر آپ کو فروخت نہ کرتا کیونکہ مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5181]

5182

Sahih Ibn Hibban #5182

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5182]

5183

Sahih Ibn Hibban #5183

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا سَعْدُ ، ابْتَعْ مِنِّي بَيْتِي فِي دَارِكَ ، فَقَالَ سَعْدُ : لا وَاللَّهِ لا أَبْتَاعُهُمَا ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ : وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ أَوْ مُقَطَّعَةٍ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِئَةِ دِينَارٍ ، وَلَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْمَرْءُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ "، مَا أَعْطَيْتُكَهُمَا بِأَرْبَعَةِ آلافِ دِرْهَمٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهِمَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا تھا، اسی دوران سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے فرمایا: اے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ! آپ مجھ سے اپنے محلے میں موجود میرے گھر خرید لیجیے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں ان دونوں گھروں کو نہیں خریدوں گا، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان دونوں کو ضرور خریدیں گے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چار ہزار (درہم) سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا اور وہ بھی قسطوں میں ہوگی، تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے ہیں، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ” «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» ”آدمی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“”تو میں چار ہزار درہم کے عوض میں یہ دونوں گھر آپ کو نہ دیتا جبکہ مجھے ان کے پانچ سو دینار دیے جا رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5183]

5184

Sahih Ibn Hibban #5184

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شفعہ کا حق ہر اس زمین میں دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5184]

5185

Sahih Ibn Hibban #5185

أَخْبَرَنَا الْحَرُّ بْنُ سُلَيْمَانَ بِأَطْرَابُلْسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَفَعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ مَالِكٍ أَرْبَعَةُ أَنْفَسٍ الْمَاجِشُونُ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ ، وَأَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ مَالِكٍ سَائِرُ أَصْحَابِهِ ، وَهَذِهِ كَانَتْ عَادَةً لِمَالِكٍ يَرْفَعُ فِي الأَحَايِينِ الأَخْبَارِ ، وَيُوقِفُهَا مِرَارًا ، وَيُرْسِلُهَا مَرَّةً ، وَيُسْنِدُهَا أُخْرَى عَلَى حَسَبِ نَشَاطِهِ ، فَالْحُكْمُ أَبَدًا لِمَنْ رَفَعَ عَنْهُ وَأَسْنَدَ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ثِقَةً حَافِظًا مُتْقِنًا عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہوتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو شفعہ نہیں رہے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو چار حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے: ماجشون، ابو عاصم، یحییٰ بن ابو قتیلہ اور الشہب بن عبد العزیز۔ جب کہ امام مالک کے حوالے سے ان کے دیگر تمام شاگردوں نے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، امام مالک کی یہ عادت تھی کہ وہ بعض اوقات روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور بعض اوقات موقوف روایت کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مرسل کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مسند کے طور پر نقل کر دیتے تھے۔ یہ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا، تو جس روایت کو انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر، مسند کے طور پر نقل کیا ہو اور ان سے نقل کرنے والا راوی ثقہ اور حافظ ہو اور متقن ہو تو اس کی وہی صورت حال ہو گی جو ہم کتاب کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5185]

5186

Sahih Ibn Hibban #5186

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے: ”یہ ہر اس چیز میں ہوتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5186]

5187

Sahih Ibn Hibban #5187

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے: ”یہ ہر اس زمین میں ہو سکتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5187]

5188

Sahih Ibn Hibban #5188

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو عَمَرُو الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ سے مزارعت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزارعت سے منع فرمایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5188]

5189

Sahih Ibn Hibban #5189

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرَضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، يُرِيدُ بِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الزِّرَاعَةَ نَفْسَهَا لَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ أَوْ لِيَزْرَعْهَا مَعْنَى ، لأَنَّهُمْ كَانُوا يُزَارِعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ عَلَى مَا فِي الْخَبَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس اضافی زمینیں ہوتی تھیں، وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں ان زمینوں کو کرائے پر دے دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس اضافی زمین موجود ہو وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے یا اپنے کسی بھائی کو کھیتی باڑی کے لیے دے دے، اگر وہ نہیں مانتا تو وہ زمین اپنے پاس رکھے۔“ (لیکن کرائے پر نہ دے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”یا وہ اپنے بھائی کو کھیتی باڑی کروا دے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو بلا معاوضہ طور پر (عارضی استعمال کے لیے) دے دے، اگر اس کے ذریعے مزارعت ہی مراد ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اسے چاہیے کہ وہ اس میں زراعت کرے“ اس کا کوئی مطلب نہ ہوتا کیوں کہ وہ لوگ پہلے ہی ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں مزارعت کیا کرتے تھے جیسا کہ روایت میں یہ بات مذکور ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5189]

5190

Sahih Ibn Hibban #5190

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَطَرُ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو وہ اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لیے) دے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5190]

5191

Sahih Ibn Hibban #5191

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا مُوَافِقًا ، فَقُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ؟ " قُلْنَا : نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو النَّجَاشِيِّ اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع کر دیا جو ہمیں موافق تھی، تو میں نے سوچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی ہے وہ حق ہے، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ اپنے کھیت کے بارے میں کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کی: ہم ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار یا گندم یا جو کے مخصوص وسق کے عوض میں اسے کرائے پر دے دیتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تم خود اس میں کھیتی باڑی کرو یا دوسرے کو کھیتی باڑی کرنے کے لیے دے دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابونجاشی نامی راوی کا نام عطا بن صہیب ہے اور یہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا غلام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5191]

5192

Sahih Ibn Hibban #5192

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ حَتَّى يُشْقِحَ "، وَالإِشْقَاحُ : أَنْ تَحْمَرَّ أَوْ تَصْفَرَّ أَوْ يُطْعَمَ مِنْهُ شَيْءٌ ، قَالَ زَيْدٌ : فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ الْمَكِّيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“، «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ اور «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“ سے منع فرمایا ہے، اور اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ کھجور کے پھل کو فروخت کیا جائے جب تک وہ «تُشْقِحَ» ”شقح“ نہیں ہو جاتا“، اور «شقح» سے مراد یہ ہے کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے یا کھانے کے قابل ہو جائے۔ زید نامی راوی کہتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: آپ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی زبانی خود یہ بات سنی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوولید نامی راوی کا نام سعید بن میناء مکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5192]

5193

Sahih Ibn Hibban #5193

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ "، قَالَ بُكَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا ، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے، پھر جب ہم نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تو ہم نے اسے ترک کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5193]

5194

Sahih Ibn Hibban #5194

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّكَ تُحَدِّثُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لے گئے، ان کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہو گئے یہاں تک کہ ہم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب بھی اس بارے میں دریافت کیا جاتا تو وہ یہ کہتے: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5194]

5195

Sahih Ibn Hibban #5195

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ يُحَرِّمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُزَارَعَةَ وَلَكِنْ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْفُقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے: ”وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5195]

5196

Sahih Ibn Hibban #5196

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ ، فَيَسْتَثْنِي صَاحِبَ الأَرْضِ مَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، فَيَهْلِكُ هَذَا ، وَيَسْلَمُ هَذَا ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَافِعٌ : أَمَّا بِشَيْءٍ مَضْمُونٍ مَعْلُومٍ ، فَلا بَأْسَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے تو زمین کا مالک کھیت کے کسی مخصوص حصے کو اور پانی کی آمد کے آس پاس کی جگہ کو مستثنیٰ کر لیا کرتا تھا تو بعض اوقات ایک حصے کی پیداوار خراب ہو جاتی تھی اور ایک حصے کی ٹھیک رہتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: البتہ اگر کسی متعین چیز کے عوض میں (زمین کو ٹھیکے پر دیا جائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5196]

5197

Sahih Ibn Hibban #5197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كَانَتِ الأَرْضُ تُكْرَى بِالْمَاذِيَانَاتِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ يُسْتَثْنَى بِهِ ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ "، قَالَ رَافِعٌ : فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ ، فَلا بَأْسَ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے زمین پیداوار کے عوض میں اور کچھ اناج کے عوض میں بھی جس کا استثنیٰ کر لیا گیا ہو کرائے پر دی جاتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جہاں تک سونے یا چاندی کے عوض میں (زمین کو کرائے پر دینے کا تعلق ہے) تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5197]

5198

Sahih Ibn Hibban #5198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ وَافْتَقَرَ إِلَيْهَا غَيْرُهُ زَارَعَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، وَكَانَ يَشْتَرِطُ ثَلاثَ جَدَاوِلَ ، وَمَا سَقَى الرَّبِيعِ ، وَكُنَّا نُعَالِجُهَا عِلاجًا شَدِيدًا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِيدِ وَبِأَشْيَاءَ ، وَكُنَّا نُصِيبُ مِنْهَا ، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ عَنِ الْحَقْلِ ، وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَزْرَعْ ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم میں سے کسی ایک شخص کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی دوسرے شخص کو وہاں کھیتی باڑی کی ضرورت ہوتی تو وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں معاہدہ کر لیتا تھا اور وہ تین نالیوں کے (آس پاس کی جگہ) کی شرط عائد کرتا تھا یا بڑی نالی کے آس پاس کی جگہ کی شرط عائد کرتا تھا (یعنی وہاں کی پیداوار میری ہوگی)، ہم لوگ گائے، لوہے اور دیگر اشیاء کے ذریعے بڑی محنت سے وہاں کام کرتے تھے پھر ہمیں اس میں سے کچھ ملتا تھا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے منع کیا ہے جو تمہارے لیے حقل کے حوالے سے فائدہ مند تھی،“ «الْحَقْلُ» (حقل) سے مراد ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں (زمین ٹھیکے پر دینا ہے)، ”تو جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لیے) دے دے یا اس میں خود کھیتی باڑی کرے۔“ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) سے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5198]

5199

Sahih Ibn Hibban #5199

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو يَزِيدَ الْمُعَدَّلُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ ، فَغَلَبَ عَلَى الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يُجْلَوْا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ ، وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا ، فَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَكْتُمُوا وَلا يُغَيِّبُوا شَيْئًا ، فَإِنْ فَعَلُوا فَلا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلا عِصْمَةَ ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ :مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ ؟ فَقَالَ : أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ قَدْ دَخَلَ خَرِبَةً ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَاهُنَا ، فَذَهَبُوا فَطَافُوا ، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي خَرِبَةٍ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ أَبِي حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ، وَسَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ لِلنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوهُ ، وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمُ مِنْهَا ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الأَرْضِ نُصْلِحُهَا ، وَنَقُومُ عَلَيْهَا ، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا لأَصْحَابِهِ غِلْمَانُ يَقُومُونَ عَلَيْهَا فَكَانُوا لا يَتَفَرَّغُونَ أَنْ يَقُومُوا ، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ يَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ ، قَالَ : فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ ، فَقَالَ : يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ ، أَتُطْعِمُونِي السُّحْتَ ، وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إَلَيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، وَلا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ . قَالَ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةً ، فَقَالَ : يَا صَفِيَّةُ ، مَا هَذِهِ الْخُضَرَةُ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ بْنِ أَبِي حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي ، وَقَالَ : تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ ؟ قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي وَأَخِي ، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ ، وَيَقُولُ : إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ . فَلَمَّا كَانَ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ ، وَأَلْقَوْا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ ، فَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ رَئِيسُهُمْ : لا تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَئِيسِهِمْ : أَتَرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ : كَيْفَ بِكَ إِذَا أَفَضَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ، وَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعے میں پناہ لے لی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زمین، کھیتوں اور کھجوروں کے باغات پر غالب آ گئے تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس شرط پر صلح کر لی کہ انہیں وہاں سے جلا وطن کر دیا جائے اور وہ اپنی سواریوں پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں اسے لے جا سکیں گے، البتہ سونا اور چاندی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں گے۔ وہ لوگ وہاں سے نکلنے کے لیے تیار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور کوئی چیز غائب نہیں کریں گے، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر ان کے لیے کوئی ذمہ اور کوئی پناہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے اس میں سے ایک تھیلے کو غائب کر دیا جس میں کچھ مال اور زیورات تھے، وہ حیی بن اخطب کے تھے جو وہ اپنے ساتھ اس تھیلے کو اٹھا کر خیبر لایا تھا اس وقت جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیی کے چچا سے پوچھا: ”حیی کے اس تھیلے کا کیا بنا جو وہ بنو نضیر سے لے کر آیا تھا؟“ تو اس کے چچا نے کہا: اخراجات اور جنگوں نے سب کچھ خرچ کروا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تو اتنا زیادہ وقت نہیں گزرا، وہ مال اس سے زیادہ تھا (کہ ختم ہو جاتا)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا پیٹا، حیی بن اخطب اس سے پہلے ایک کھنڈر میں داخل ہو چکا تھا تو اس نے کہا: میں نے حیی کو یہاں کے ایک کھنڈر میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لوگ گئے اور وہاں چکر لگایا تو انہیں اس کھنڈر میں سے وہ تھیلا مل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کروا دیا، ان میں سے ایک حیی بن اخطب کی صاحب زادی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوهر بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور ان کے اموال لوگوں میں تقسیم کر دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں ہماری سرزمین پر رہنے دیں، ہم یہاں کام کاج کریں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جو زمین کی دیکھ بھال کرتے اور وہاں کی نگرانی کرتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی سرزمین ان لوگوں کو اس شرط پر دی کہ وہاں کی زراعت، کھجوروں اور دیگر چیزوں میں سے نصف حصہ ان لوگوں کو ملے گا (اور نصف حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا جائے گا) جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے (یعنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے یہ معاہدہ ختم کر دیں گے)۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال وہاں آیا کرتے تھے اور ان کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے، پھر وہ ان لوگوں کو نصف ادائیگی کا پابند کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اندازے کی سختی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، انہوں نے پہلے انہیں رشوت دینے کی بھی کوشش کی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! کیا تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس اس ہستی کی طرف سے آیا ہوں جو میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہو، لیکن اس کے باوجود تمہارے ساتھ میری نفرت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میری محبت بھی مجھے اس چیز پر آمادہ نہیں کر سکی کہ میں تمہارے ساتھ نا انصافی کروں، تو ان لوگوں نے کہا: اسی (ایمان داری کی وجہ سے) آسمان اور زمین قائم ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی دونوں آنکھوں پر سبز رنگ کا نشان دیکھا تو دریافت کیا: ”اے صفیہ! یہ سبز رنگ کا نشان کسی وجہ سے ہے؟“ تو انہوں نے بتایا کہ میرا سر ابوحقیق کے صاحب زادے (یعنی میرے سابقہ شوہر) کی گود میں تھا اور میں اس وقت سوئی ہوئی تھی، میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میری گود میں آ گیا ہے، (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں بتایا تو اس نے مجھے ایک طمانچہ لگایا اور بولا: تم یثرب کے بادشاہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آرزو مند ہو۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے کیونکہ انہوں نے میرے شوہر، میرے والد اور میرے بھائی کو قتل کروایا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل میرے سامنے عذر بیان کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تمہارے والد نے تمام عربوں کو میرے خلاف کر دیا تھا، اس نے یہ کیا تھا، اس نے وہ کیا تھا (اس وجہ سے میں اس سے لڑنے پر مجبور ہوا تھا)“ یہاں تک کہ میرے دل میں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو ناپسندیدگی تھی) وہ ختم ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے ہر خاتون کو ہر سال کھجور کے اسی (80) وسق اور جو کے بیس (20) وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور (خیبر کے یہودیوں نے) مسلمانوں کے ساتھ دھوکا کرنا شروع کیا اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے کو گھر کی چھت سے نیچے گرا دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس شخص کا خیبر میں مخصوص حصہ ہے وہ آ جائے تاکہ ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں (خیبر سے) نہ نکالیں، آپ ہمیں یہاں رہنے دیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہاں رہنے دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے کہا: کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے برخلاف کیا ہے؟ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہاری سواری تمہیں لے کر شام کی طرف بڑھ رہی ہو گی؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں کی زمین ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جو صلح حدیبیہ میں موجود تھے اور غزوہ خیبر میں شریک ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5199]

5200

Sahih Ibn Hibban #5200

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ "، هُوَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص «الْمُخَابَرَةَ» (مخابرہ) کو ترک نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) راوی کا نام اسحاق بن ابو اسرائیل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5200]

5201

Sahih Ibn Hibban #5201

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال : كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَبِمَا سُقِيَ بِالْمَاءِ مِنْهَا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں زمین کو کرائے پر دیتے تھے کہ کھیت کا جو حصہ بارانی پانی یا نالی کے پانی کے قریب ہے (اس کی پیداوار مالک کو ملے گی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کی اجازت دی کہ ہم سونے یا چاندی کے عوض میں زمین کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5201]

5202

Sahih Ibn Hibban #5202

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ ، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا اور اس میں سے جو بھی کچھ کھا لیتا ہے، تو یہ چیز اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إحياء الموات/حدیث: 5202]

5203

Sahih Ibn Hibban #5203

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ ، فَلَهُ بِهَا أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا، اس میں سے جو بھی جاندار چیز کچھ کھا لیتی ہے اسے اس کا اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إحياء الموات/حدیث: 5203]

5204

Sahih Ibn Hibban #5204

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنَ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ ، مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ صَحِيحٌ ، عَلَى أَنَّ الذِّمِّيَّ إِذَا أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً لَمْ تَكُنْ لَهُ ، لأَنَّ الصَّدَقَةَ لا تَكُونُ إِلا لِلْمُسْلِمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا اور اس میں سے جو چیز بھی کچھ کھا لیتی ہے تو یہ اس شخص کے حق میں صدقہ شمار ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے جب کوئی ذمی شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس کی ملکیت نہیں ہو گی کیونکہ صدقہ صرف مسلمان کے لیے ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إحياء الموات/حدیث: 5204]

5205

Sahih Ibn Hibban #5205

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمَّا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي هَذَا الْخَبَرِ وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ، كَانَ فِيهِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لِلْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ ، وَأَنَّ الذِّمِّيَّ لَمْ يَقَعْ خِطَابُ الْخَبَرِ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهُ إِذَا أَحْيَى الْمَوَاتَ لَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، إِذِ الصَّدَقَةُ لا تَكُونُ إِلا لِلْمُسْلِمِينَ . وَقَدْ سَمِعَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ وَطُلابُ الرِّزْقِ يُسَمَّوْنَ الْعَافِيَةَ . قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہوتی ہے، اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ جو کچھ کھا لیتا ہے یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوگی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں یہ فرما دیا: ”اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ کچھ کھا لیتا ہے تو یہ اس کے حق میں صدقہ ہوگا“ تو اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ اس روایت میں موجود حکم مسلمانوں کے لیے ہے دوسروں کے لیے نہیں ہے، اور اس روایت کا حکم ذمیوں پر لاگو نہیں ہوگا کہ اگر وہ کسی بنجر زمین کو آباد کر لیتے ہیں تو وہ ان کی ملکیت نہیں ہوگی کیونکہ صدقہ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہشام بن عروہ نے یہ روایت وہب بن کیسان سے سنی ہے اور عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ رزق کے طلب گاروں کے لیے لفظ «عَافِيَة» استعمال ہوتا ہے (جو اس حدیث میں استعمال ہوا ہے) یہ بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إحياء الموات/حدیث: 5205]

5206

Sahih Ibn Hibban #5206

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْتٌ لا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، اس کے گھر والے بھوکے ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5206]

5207

Sahih Ibn Hibban #5207

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ ، غَطَّتْهُ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ، ثُمَّ تَقُولُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ ثرید بناتی تھیں، تو اسے ڈھانپ دیتی تھیں یہاں تک کہ اس کی گرمی رخصت ہو جاتی تھی، پھر وہ یہ فرماتی تھیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ برکت میں اضافے کا باعث ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5207]