Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 41 · Chapter 2

Book of Sharecropping

Hadith 4597–4636

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4597

Sahih Ibn Hibban #4597

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ الأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِِيمَانٌ لا شَكَّ فِيهِ ، وَغَزْوٌ لا غُلُولَ فِيهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ الْخَطَايَا سَنَةً . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو جَعْفَرٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر عمل ایسا ایمان ہے، جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے، جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور مبرور حج ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مبرور حج ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوجعفر نامی راوی امام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب (یعنی امام محمد الباقر) ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4597]

4598

Sahih Ibn Hibban #4598

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سُئِلَ :أَيَّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . قَالَ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ " . قَالَ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا۔“ سائل نے پوچھا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا عمل کی کوہان ہے (یعنی سب سے بہترین عمل ہے)۔“ سائل نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبرور حج۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4598]

4599

Sahih Ibn Hibban #4599

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِأَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ، ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا شخص زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے، پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں رہ کر اللہ کی عبادت کرتا رہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4599]

4600

Sahih Ibn Hibban #4600

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرُ النَّاسِ فِيهِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ، ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ إِِلا مِنْ خَيْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا جب ان کے درمیان قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر شخص وہ ہو گا جو اپنے گھوڑے کی لگام تھام کر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلا جائے گا، جب بھی وہ جنگ کی پکار کو سنے گا گھوڑے کی پشت پر سوار ہو گا اور پھر موت کا طلب گار ہو گا یا وہ شخص جو کسی گھاٹی میں مقیم رہ کر نماز قائم کرتا رہے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور لوگوں کے ساتھ صرف بھلائی کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4600]

4601

Sahih Ibn Hibban #4601

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْ " . فأسْلَمَ ثُمَّ قَاتِلْ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا عَمِلَ قَلِيلا وَأُجِرَ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس نے لوہے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں جنگ میں حصہ لوں، یا اسلام قبول کر لوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسلام قبول کر لو پھر تم جنگ میں حصہ لو۔“ اس شخص نے اسلام قبول کر لیا، پھر اس نے جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے عمل تھوڑا کیا ہے، لیکن اسے اجر زیادہ ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4601]

4602

Sahih Ibn Hibban #4602

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) صبح کے وقت جانا یا شام کے وقت جانا، دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4602]

4603

Sahih Ibn Hibban #4603

أَخْبَرَنَا خَلادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ بِنَهَرِ سَابُسَ عَلَى الدِّجْلَةِ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الرِّبَاطِ فَفَزِعُوا إِِلَى السَّاحِلِ ، ثُمَّ قِيلَ : لا بَأْسَ ، فَانْصَرَفَ النَّاسُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَاقِفٌ ، فَمَرَّ بِهِ إِِنْسَانٌ ، فَقَالَ : مَا يُوقِفُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ مُجَاهِدٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحَادِيثَ مَعْلُومَةً بَيْنَ سَمَاعِهِ فِيهَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا ، لأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ فِي إِِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ ، وَكَانَ مَوْلِدُ مُجَاهِدٍ سَنَةَ إِِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَمَاتَ مُجَاهِدٌ سَنَةَ ثَلاثَ وَمِئَةٍ ، فَدُلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ مُجَاهِدًا سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ پہرہ داری کر رہے تھے، اسی دوران یہ بات کہی گئی کہ ساحل کی طرف سے خطرہ ہے، پھر یہ بات بیان کی گئی کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لوگ واپس چلے گئے لیکن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہیں ٹھہرے رہے، ایک صاحب ان کے پاس سے گزرے انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! آپ کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی راہ میں ایک گھڑی تک کھڑے رہنا شبِ قدر میں حجرِ اسود کے پاس نوافل ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعین احادیث کا سماع کیا ہے، عمر بن ذر نے ان سے احادیث کا سماع کیا تھا اور اس شخص کو غلط فہمی ہوئی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی بھی حدیث کا سماع نہیں کیا ہے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اٹھاون ہجری میں ہوا تھا، جب کہ مجاہد کی پیدائش سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اکیس ہجری میں ہوئی تھی اور مجاہد کا انتقال ایک سو تین ہجری میں ہوا، تو یہ چیز اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مجاہد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4603]

4604

Sahih Ibn Hibban #4604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمَهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُصَبِّحِ الْمَقْرَائِيُّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ بِأَرْضِ الرُّومِ فِي طَائِفَةٍ عَلَيْهَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ ، إِِذْ مَرَّ مَالِكٌ بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمْشِي يَقُودُ بَغْلا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ مَالِكٌ : أَيْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، ارْكَبْ فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ . فَقَالَ جَابِرٌ : أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ". فَأَعْجَبَ مَالِكًا قَوْلُهُ ، فَسَارَ حَتَّى إِِذَا كَانَ حَيْثُ يُسْمِعُهُ الصَّوْتَ نَادَاهُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ارْكَبْ ، فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ ، فَعَرَفَ جَابِرٌ الَّذِي أَرَادَ بِرَفْعِ صَوْتِهِ ، وَقَالَ : أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . فَوَثَبَ النَّاسُ عَنْ دَوَابِّهِمْ ، فَمَا رَأَيْنَا يَوْمًا أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْهُ . الْمُقْرِيُّ : قَرْيَةٌ بِدِمَشْقَ ، وَالْمَهْرِيُّ : سِكَّةٌ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومصبح بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ روم کی سرزمین پر ایک گروہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جن کے نگران مالک بن عبداللہ خثعمی تھے، مالک کا گزر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے خچر کو ساتھ لے کر پیدل چل رہے تھے، مالک نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ سوار ہو جائیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی سواری کو تیار رکھا ہے اور میں لوگوں سے بے نیاز ہوں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو مالک کو ان کی یہ بات بہت پسند آئی، مالک وہاں سے آگے چلے گئے اور اتنی دور چلے گئے جہاں سے ان کی آواز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ تک جا سکتی تھی، وہاں پہنچ کر انہوں نے بلند آواز میں یہ کہا: اے ابوعبداللہ! سوار ہو جائیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کیوں کہی ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اپنی سواری کو ٹھیک رکھا ہوا ہے، مجھے اپنی قوم کی ضرورت بھی نہیں ہے (میں اس لیے پیدل چل رہا ہوں) کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد پر جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیتا ہے۔“ تو تمام لوگ اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس دن سے زیادہ پیدل چلتے ہوئے لوگ کبھی نہیں دیکھے۔ مقری دمشق (کے قریب) ایک گاؤں ہے اور مہری فسطاط میں ایک کوچہ ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4604]

4605

Sahih Ibn Hibban #4605

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَدْرَكَنِي عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَنَا أَمْشِي إِِلَى الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَى النَّارِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عَبْسٍ هَذَا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، اسْمُهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ بْنِ جُشَمِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ الأَنْصَارِيُّ ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلاثِينَ ، وَدُفِنَ بِالْبَقِيعِ ، وَدَخَلَ قَبْرَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَلامَةَ بْنِ وَقْشٍ ، وَكُلُّ مَا يَرْوِي الْوَلِيدُ مِنْ رِوَايَةِ الشَّامِيِّينَ فَهُوَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَمَا يَكُونُ مِنْ رِوَايَةِ الْعِرَاقِيِّينَ فَهُوَ بُرَيْدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابومریم بیان کرتے ہیں: میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا، عبایہ بن رفاعہ میرے پاس پہنچے اور انہوں نے بتایا: میں نے سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں، اللہ تعالیٰ اس کے (دونوں پاؤں یعنی اس شخص) کو جہنم کے لیے حرام قرار دے دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ نامی راوی اہل بدر سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا نام عبدالرحمن بن جبیر بن عمرو بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج انصاری ہے، ان کا انتقال 43 ہجری میں ہوا تھا اور انہیں جنت بقیع میں دفن کیا گیا تھا۔ سیدنا ابوبردہ بن نیار اور سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے۔ اہل شام کی روایت میں ولید نامی راوی یزید بن ابومریم ہو گا اور اہل عراق کی روایت میں برید ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4605]

4606

Sahih Ibn Hibban #4606

أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ ، وَلا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ الإِِيمَانُ وَالْحَسَدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مومن بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوں گے اور کسی بھی بندے کے پیٹ میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4606]

4607

Sahih Ibn Hibban #4607

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَجْتَمِعُ دُخَانُ جَهَنَّمَ وَغُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جہنم کا دھواں اور اللہ کی راہ کا غبار کسی مسلمان کے نتھنے میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4607]

4608

Sahih Ibn Hibban #4608

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ " . قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا ، فَأَجَابَهَا مِثْلَ قَوْلِهَا الأَوَّلِ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ . فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَرَّبَ إِِلَيْهَا دَابَّتِهَا لِتَرْكَبَهَا فَصُرِعَتْ فَمَاتَتْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَبْرُهَا بِجَزِيرَةٍ فِي بَحْرِ الرُّومِ ، يُقَالُ لَهَا : قُبْرُسُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِِلَيْهَا قَلْعُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس سبز سمندر پر یوں سوار تھے جس طرح بادشاہ اپنے تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔“ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لیے دعا کر دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ سوئے پھر ایسا ہی ہوا، اس خاتون نے اسی کی مانند بات کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی مانند جواب دیا جو پہلے دیا تھا، اس خاتون نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے والوں میں ہو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ خاتون اپنے شوہر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد میں حصہ لینے کے لیے گئی تھیں، یہ اس پہلی جنگ کی بات ہے جس میں مسلمانوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں سمندر میں جنگ کی تھی، جب یہ خاتون اس جنگ سے واپس تشریف لائیں ان کی سواری ان کے قریب کی گئی، یہ اس پر سوار ہوئیں تو یہ اس سے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس خاتون کی قبر بحرِ روم میں ایک جزیرے میں ہے، اس جزیرے کو قبرس کہا جاتا ہے، مسلمانوں کے علاقے سے وہاں تک تین دن کا سفر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4608]

4609

Sahih Ibn Hibban #4609

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مِعَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِِنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا كُنْتُ كَتَمْتُكُمُوهُ ضَنًّا بِكُمْ ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أُبْدِيَهُ نَصِيحَةً لِلَّهِ وَلَكُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لِنَفْسِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو مِعَنٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مِعَنٍ الْغِفَارِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَأَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ ، وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ الْحَارِثُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں مسجدِ خیف میں یہ بات ارشاد فرمائی: اے لوگو! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے تمہارے ساتھ بخل کی وجہ سے اسے تم سے چھپا رکھا تھا، لیکن اب یہ مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ اور تمہارے لیے خیر خواہی کرتے ہوئے اسے ظاہر کر دوں۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے علاوہ ایک ہزار دن گزارنے سے بہتر ہے“، تو اب تم میں سے ہر شخص کو اپنے بارے میں جائزہ لے لینا چاہیے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومعن نامی راوی محمد بن معن غفاری ہے، یہ اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ ابوعقیل نامی راوی زہرہ بن معبد ہے اور یہ اہل رملہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ابوصالح کا نام حارث ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4609]

4610

Sahih Ibn Hibban #4610

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ ، لا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِِلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرِ أَوْ غَنِيمَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا ضامن ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے، جو اپنے گھر سے صرف جہاد کرنے اور اس کے کلمے کی تصدیق کرنے کے لیے نکلتا ہے، (اللہ تعالیٰ اس بات کا ضامن ہوتا ہے) کہ اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا یا پھر اسے اس کے اس گھر کی طرف لے آئے گا جہاں سے وہ نکلا تھا اور اس کے ساتھ اجر بھی ہو گا اور مال غنیمت بھی ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4610]

4611

Sahih Ibn Hibban #4611

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّفِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَإِِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ، فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ ، وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَفَوْقَهُ الْعَرْشُ ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْفِرْدَوْسَ فِي وَسَطِ الْجِنَّانِ ، فِي الْعَرْضِ ، وَقَوْلُهُ : وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ ، يُرِيدُ بِهِ : فِي الارْتِفَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک جنت میں ایک سو درجے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ان میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانے درجے کی جنت ہے اور وہ اعلیٰ درجے کی جنت ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور جنت کی تمام نہریں اسی سے پھوٹتی ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ درمیانے درجے کی جنت ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے فردوس جنت کے درمیان میں ہے، یعنی چوڑائی کے حوالے سے درمیان میں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ جنت سب سے بلند درجہ ہے“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: بلند ہونے کے اعتبار سے (وہ سب سے اوپر ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4611]

4612

Sahih Ibn Hibban #4612

ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " ، قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوسعید! جو شخص اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہو (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہو) تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت پسند آئی، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بات میرے سامنے دہرا دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک دوسری چیز بھی ہے، جس کے ذریعے بندے کے ایک سو درجے بلند کر دیے جاتے ہیں، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔“ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ دوسری چیز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4612]

4613

Sahih Ibn Hibban #4613

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْحَاجُّ إِِلَى بَيْتِ اللَّهِ ، وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والا، بیت اللہ کی طرف حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں بلایا ہوتا ہے، وہ اس کے بلاوے پر آتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4613]

4614

Sahih Ibn Hibban #4614

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر چلاتا ہے تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند (ثواب کا باعث ہوتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4614]

4615

Sahih Ibn Hibban #4615

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَبَلَغَتْ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلاتا ہے (یعنی جو دشمن تک پہنچے) تو یہ بات اس کے لیے جنت میں ایک درجے کا باعث ہوتی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن میں نے سولہ تیر چلائے تھے (یعنی جو دشمن تک پہنچے)۔ شیخ ابوحاتم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابونجیح رضی اللہ عنہ کا نام عمرو بن عبسہ سلمی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4615]

4616

Sahih Ibn Hibban #4616

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، قَالَ : قُلْنَا لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ : يَا كَعْبُ ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً لَهُ " . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النَّحَّامِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُمْ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ : حَدِّثْنَا وَاحْذَرْ ، يُرِيدُونَ بِقَوْلِهِمْ : وَاحْذَرْ أَنْ لا تَزِلَّ فَتُزِيدَ أَوْ تَنْقُصَ ، وَلَمْ يُرِيدُوا بِقَوْلِهِمْ : وَاحْذَرْ أَنْ لا تَكْذِبَ لأَنَّهُمْ كُلُّهُمْ عُدُولٌ رَحِمَهُمُ اللَّهُ وَأَلْحَقَنَا بِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ! آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان کیجیے اور احتیاط کیجیے گا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دشمن کو تیر مارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔“ تو سیدنا عبدالرحمن بن نحام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! درجے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ (تمہاری والدہ کے گھر کی) چوکھٹ کی طرح نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان ایک سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لوگوں کا سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجیے اور احتیاط کیجیے گا، اس قول کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ اس بات سے احتیاط کیجیے گا کہ کہیں آپ سے غلطی نہ ہو جائے اور زیادہ یا کم الفاظ بیان نہ کر دیں، ان لوگوں کی یہ مراد نہیں تھی کہ آپ غلط بیانی کرنے سے احتیاط کیجیے گا، کیونکہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور ہمیں بھی (آخرت میں) ان کا ساتھ نصیب کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4616]

4617

Sahih Ibn Hibban #4617

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ وَهُوَ بِحِصْنِ الْعَدُوِّ أَوْ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّأَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ ". فَقَامَ رَجُلٌ رَثَّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَجَاءَ إِِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلامَ ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ ، فَأَلْقَاهُ ، ثُمَّ مَضَى بِسَيْفِهِ قُدُمَا ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عبداللہ بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ اس وقت دشمن کے قلعے کے پاس تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دشمن کے مدِ مقابل تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ”بے شک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کی حالت کوئی بہت اچھی نہیں تھی، اس نے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میری طرف سے تم سب کو سلام ہو، پھر اس شخص نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ دیا اور اسے ایک طرف رکھ دیا، پھر وہ اپنی تلوار لے کر آگے کی طرف بڑھا اور ان کے ساتھ لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4617]

4618

Sahih Ibn Hibban #4618

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيِّ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اتنی دیر تک جنگ کرتا ہے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ اترتا ہے تو ایسے شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4618]

4619

Sahih Ibn Hibban #4619

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصَّغْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَنَا زَعِيمٌ ، وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، لَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا ، وَلا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا ، يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزَّعِيمُ لُغَةً أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَالْحَمِيلُ لُغَةً أَهْلُ مِصْرَ ، وَالْكَفِيلُ لُغَةً أَهْلُ الْعِرَاقِ ، وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ : الزَّعِيمُ الْحَمِيلُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ وَهْبٍ أُدْرِجَ فِي الْخَبَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں اس شخص کا ضامن ہوں جو مجھ پر ایمان لائے، اسلام قبول کرے اور ہجرت کرے (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ اسے جنت کے گوشے میں گھر ملے اور جنت کے درمیان میں گھر ملے گا، اور جو شخص مجھ پر ایمان لاتا ہے، اسلام قبول کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، میں اس کے لیے اس بات کا ضامن ہوں کہ جنت کے ایک گوشے میں گھر ملے گا، جنت کے درمیان میں ایک گھر ملے گا اور جنت کے بالائی حصے میں گھر ملے گا، جو شخص ایسا کرتا ہے وہ بھلائی کے لیے مزید کسی طلب کو باقی نہیں رہنے دیتا اور برائی کے لیے بھاگنے کا راستہ باقی نہیں رہنے دیتا، اور پھر اس کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے مر جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «الزَّعِيمُ» اہل مدینہ کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، لفظ «الْحَمِيلُ» اہل مصر کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے اور لفظ «الْكَفِيلُ» اہل عراق کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہاں «الزَّعِيمُ» کی بجائے لفظ «الْحَمِيلُ» کا استعمال ابن وہب کے الفاظ ہوں جن کو اس روایت میں درج کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4619]

4620

Sahih Ibn Hibban #4620

وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا مَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ : مَاتَ فُلانٌ شَهِيدًا ، فَلا تَقُولُوا ذَاكَ ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعجفاء بن سلمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار! خواتین کے مہر میں غلو نہ کرو کیونکہ اگر یہ بات دنیا میں عزت افزائی کا باعث ہوتی، یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیزگاری کا باعث ہوتی، تو اس بارے میں تم میں سب سے زیادہ حق دار سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی بھی خاتون کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا، دوسری بات یہ ہے: جو شخص جنگ کے دوران مارا جاتا ہے تم کہتے ہو وہ شہید ہے، تم لوگ یہ بات نہ کہو بلکہ تم لوگ وہ بات کہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اللہ کی راہ میں مر جائے وہ جنت میں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4620]

4621

Sahih Ibn Hibban #4621

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ وَكَانَ قَدْ صَامَ النَّهَارَ وَقَامَ اللَّيْلِ ثَمَانِينَ سَنَةً غَازِيًا وَمُرَابِطًا ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الَّذِي لا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَصَلاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس روزہ دار اور نوافل ادا کرنے والے کی مانند ہے جو کسی (نفلی) روزے کو ترک نہیں کرتا اور (نفل) نماز کو ترک نہیں کرتا جب تک وہ شخص (جہاد سے) واپس نہیں آ جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4621]

4622

Sahih Ibn Hibban #4622

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ وَكَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الْقَانِتِ الصَّائِمِ الَّذِي لا يَفْتُرُ صَلاةً وَلا صِيَامًا ، حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِِلَى أَهْلِهِ بِمَا يَرْجِعُهُ إِِلَيْهِمْ مِنْ غَنِيمَةٍ أَوْ أَجْرٍ ، أَوْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے نفلی نماز پڑھنے والے روزہ دار کی مانند ہے جو اپنی نماز اور روزے میں کوئی وقفہ نہیں کرتا، یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس آ جائے اور اس کے ہمراہ غنیمت اور اجر ہو یا پھر اللہ تعالیٰ اسے موت دے کر اسے جنت میں داخل کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4622]

4623

Sahih Ibn Hibban #4623

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ سَلْمَانُ وَهُوَ مُرَابِطٌ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعُ هَا هُنَا يَا شُرَحْبِيلُ ؟ فَقَالَ شُرَحْبِيلُ : أُرَابِطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ سَلْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : رِبَاطُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اس وقت پہرہ داری کر رہے تھے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: شرحبیل! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ شرحبیل نے جواب دیا: میں پہرہ دے رہا ہوں۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک رات کی پہرہ داری ایک ماہ کے (نفلی) روزوں اور نوافل ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4623]

4624

Sahih Ibn Hibban #4624

قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر فوت ہونے والے شخص کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، ماسوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کرتا ہے، اس شخص کا عمل قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ شخص قبر کی آزمائش سے محفوظ رہتا ہے۔“ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مجاہد شخص وہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی جان کے ہمراہ جہاد کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4624]

4625

Sahih Ibn Hibban #4625

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أُومِنَ عَذَابَ الْقَبْرِ ، وَنَمَا لَهُ أَجْرُهُ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : النُّعْمَانُ هَذَا هُوَ : النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے اور اس کا اجر قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعمان نامی راوی نعمان بن منذر غسانی ہے اور یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4625]

4626

Sahih Ibn Hibban #4626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ سَلْمَانُ وَهُوَ مُرَابِطٌ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا أُجْرِيَ عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ ، وَأُومِنَ الْفَتَّانَ ، وَيَجْرِي عَلَيْهِ رِزْقُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت پہرہ داری کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر جاتا ہے، اس کا عمل پہلے کی طرح مسلسل چلتا رہتا ہے اور اس شخص کو (قبر کی) آزمائشوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور اسے (آخرت میں) رزق دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4626]

4627

Sahih Ibn Hibban #4627

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : لا تُطِيقُونَهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا لَعَلَّنَا نُطِيقُهُ . قَالَ :" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، لا يَفْتُرُ مِنْ صَوْمٍ وَلا صَدَقَةٍ ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِِلَى أَهْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں بتائیں تو سہی، ہو سکتا ہے ہم اس کی طاقت رکھتے ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نوافل ادا کرنے والے ایسے روزہ دار کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور وہ اپنے روزے میں اور صدقے میں کوئی وقفہ نہیں کرتا (اور وہ اتنی دیر تک مسلسل نوافل ادا کرتا رہتا ہے روزے رکھتا رہتا ہے) جب تک مجاہد اپنے گھر واپس نہیں آ جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4627]

4628

Sahih Ibn Hibban #4628

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِجِهَادِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی مجاہد کے سر پر سایہ فراہم کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سایہ نصیب کرے گا، جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کو اس کے جہاد کے لیے سامان فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس شخص کی مانند اجر ملتا ہے، جو کوئی شخص مسجد تعمیر کرتا ہے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4628]

4629

Sahih Ibn Hibban #4629

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِِلَى بَنِي لِحْيَانَ : لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ : أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ ”ان میں سے ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی (جہاد کے لیے) روانہ ہو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے رہ جانے والے شخص کے لیے یہ فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جہاد میں جانے والے شخص کے اہل خانہ اور مال کے بارے میں ٹھیک طرح سے دیکھ بھال کرتا رہے گا اسے جہاد کے لیے جانے والے شخص کے اجر کے نصف کی مانند اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4629]

4630

Sahih Ibn Hibban #4630

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ خَلْفَهُ فِي أَهْلِهِ ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، حَتَّى إِِنَّهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان فراہم کرتا ہے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھتا ہے، تو اسے بھی اس مجاہد کی مانند اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ جہاد کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4630]

4631

Sahih Ibn Hibban #4631

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلْفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ ، فَقَدْ غَزَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان فراہم کرتا ہے تو گویا اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا اور جو شخص مجاہد کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھتا ہے تو گویا اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4631]

4632

Sahih Ibn Hibban #4632

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ خَلْفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ أَخْبَرَنِيهُ بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی مجاہد کو سامان فراہم کرتا ہے تو اسے بھی مجاہد کی مانند اجر ملتا ہے، اور جو شخص مجاہد کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھتا ہے اسے بھی مجاہد کی مانند اجر ملتا ہے۔“ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: بسر بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4632]

4633

Sahih Ibn Hibban #4633

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ خَلْفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کو سامان فراہم کرتا ہے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھتا ہے تو اسے بھی مجاہد کی مانند اجر و ثواب ملتا ہے، البتہ مجاہد کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی، اور اگر کوئی روزہ دار شخص کو افطاری کرواتا ہے تو اسے بھی روزہ دار کی مانند اجر ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4633]

4634

Sahih Ibn Hibban #4634

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ إِِلا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : يَا فُلانُ ، هَذَا فُلانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : فَمَا ظَنُّكُمْ مَا أَرَى يَدَعُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجاہدین کی خواتین کی حرمت پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی مائیں ہوتی ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو بھی شخص کسی مجاہد کے ساتھ خیانت کرے گا تو اس شخص کو مجاہد کے سامنے رکھا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں شخص ہے، تم اس کی نیکیوں میں سے جتنی چاہو حاصل کر لو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی طرف توجہ کی اور فرمایا: ”تمہارا کیا گمان ہے؟ میرا خیال ہے وہ اس کی نیکیوں میں سے کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہنے دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4634]

4635

Sahih Ibn Hibban #4635

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ قَاعِدٍ يَخْلُفُ مُجَاهِدًا فِي أَهْلِهِ بِسُوءٍ إِِلا أُقِيمَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا خَلْفُكَ فِي أَهْلِكَ بِسُوءٍ ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجاہدین کی خواتین کی پیچھے رہ جانے والوں کے لیے حرمت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی حرمت ہوتی ہے اور پیچھے رہ جانے والا جو بھی شخص کسی مجاہد کی بیوی کے حوالے سے خیانت کرے تو اس شخص کو قیامت کے دن مجاہد کے سامنے پیش کر دیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس نے تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری بیوی کے ساتھ خیانت کی تو تم اس کی نیکیوں کو حاصل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4635]

4636

Sahih Ibn Hibban #4636

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، فَأَنَّى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ایک شخص حمیت کی خاطر لڑتا ہے، ایک شخص بہادری کے اظہار کے لیے لڑتا ہے اور ایک شخص دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، تو ان میں سے کون سا شخص اللہ کی راہ میں شمار ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس لیے جہاد میں حصہ لیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین سربلند ہو، وہ اللہ کی راہ میں شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4636]