Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 41 · Chapter 3

Book of Sharecropping

Hadith 4637–4670

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4637

Sahih Ibn Hibban #4637

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن المبارك ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ مِكْرَزٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا أَجْرَ لَهُ " . فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّكَ لَمْ تُفَهِمْهُ ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " لا أَجْرَ لَهُ " . فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ الثَّالِثَةَ :رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " لا أَجْرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے ہمراہ وہ دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسے شخص کو اجر نہیں ملے گا۔“ لوگوں کے لیے یہ بات بڑی پریشانی کا باعث بنی، لوگوں نے اس شخص سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ یہ سوال کرو، ہو سکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے مفہوم کا اندازہ نہ ہو سکا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ کرتا ہے اور دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔“ لوگوں کے لیے یہ بات بڑی پریشانی کا باعث بنی، انہوں نے اس شخص سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہ سوال کرو، اس شخص نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس کے ذریعے دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4637]

4638

Sahih Ibn Hibban #4638

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ غَزَا وَلا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِِلا عِقَالا ، فَلَهُ مَا نَوَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الصَّامِتِ ابْنُ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جنگ میں حصہ لے اور جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول ہو تو اسے وہی چیز ملے گی، جس کی اس نے نیت کی تھی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے راوی یحییٰ بن ولید بن صامت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4638]

4639

Sahih Ibn Hibban #4639

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ ، وَيُهْرَاقَ دَمُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور تمہارا خون بہا دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4639]

4640

Sahih Ibn Hibban #4640

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَجُلا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِنَا ، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِِلَى الصَّفِّ : اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ، قَالَ : مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِِذَا يُعْقَرُ جَوَادُكَ ، وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں نماز پڑھا رہے تھے، جب وہ شخص صف تک پہنچا تو اس نے یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”اے اللہ! تو نے اپنے نیک بندوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سب سے زیادہ فضیلت والی چیز مجھے بھی عطا کر (یعنی مجھے سب سے زیادہ فضیلت والی چیز عطا کر)۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ابھی کس شخص نے کلام کیا تھا؟“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس صورت میں تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور تمہیں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4640]

4641

Sahih Ibn Hibban #4641

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ مَالِهِ ، دَعَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ أَيْ فُلُ هَلُمَّ هَذَا خَيْرٌ مِرَارًا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الَّذِي لا تَوَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِِنِّي أَرْجُوا أَنْ تَدْعُوكَ الْحَجَبَةُ كُلُّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے مال میں سے (کسی بھی چیز کا) جوڑا خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اسے پکار کر کہتے ہیں: اے فلاں دھیان کرو یہ چیز زیادہ بہتر ہے، وہ ایسا کئی مرتبہ کہتے ہیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص پر تو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے تمہیں جنت کے تمام دربان بلائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4641]

4642

Sahih Ibn Hibban #4642

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعَهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ مَعِي مِنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابٍ ؟ قَالُوا : لا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابٍ ؟ قَالُوا : لا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ، فَيُلْقَى الْعَبْدَ ، فَيَقُولُ : أَيْ فُلُ ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِِبِلَ وَأَتْرُكُكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ " ، قَالَ : فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : " فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ ؟ " قَالَ : لا يَا رَبِّ ، قَالَ : " فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي " . قَالَ : ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِي ، فَيَقُولُ : " أَلَمْ أُكْرِمْكَ ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِِبِلَ وَأَتْرُكَكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ " ، قَالَ : فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : " فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ ؟ " قَالَ : لا يَا رَبِّ ، قَالَ : " فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي " . قَالَ : ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ ، فَيَقُولُ : " مَا أَنْتَ ؟ " فَيَقُولُ : أَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ وَبِنَبِيِّكَ وَبِكِتَابِكَ ، وَصُمْتُ ، وَصَلَّيْتُ ، وَتَصَدَّقْتُ ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَفَلا نَبْعَثَ عَلَيْكَ شَاهِدَنَا ؟ قَالَ : فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنِ الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، وَيُقَالُ لِفَخْذِهِ : انْطِقِي ، قَالَ : فَتَنْطِقُ فَخْذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ ، فَذَلِكَ الْمُنَافِقُ ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ ، وَذَلِكَ الَّذِي سَخَطَ اللَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ : ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : أَلا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، قَالَ : فَيَتْبَعُ أَوْلِيَاءُ الشَّيَاطِينَ الشَّيَاطِينَ ، قَالَ : وَاتَّبَعَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَهُمْ إِِلَى جَهَنَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : ثُمَّ يَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ ، ثُمَّ نَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ ، فَيَأْتِينَا رَبُّنَا وَهُوَ رَبُّنَا ، فَيَقُولُ : " عَلَى مَا هَؤُلاءِ قِيَامٌ ؟ " فَيَقُولُونَ : نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنُونَ ، وعَبَدْنَاهُ وَهُوَ رَبُّنَا وَهُوَ آتِينَا ، وَمُثِيبُنَا ، وَهَذَا مَقَامُنَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : " أَنَا رَبُّكُمْ فَامْضُوا " ، قَالَ : فَيُوضَعُ الْجِسْرُ وَعَلَيْهِ كَلالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ ، اللَّهُمَّ سَلِّمِ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ ، فَإِِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَيُقَالُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ ذَلِكَ لِعَبْدٍ لا تَوَى عَلَيْهِ يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ ، قَالَ : فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، وَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ. قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ : أَمْلاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِِمْلاءً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات میں، جس میں بادل نہ ہوں، چاند کو دیکھنے میں کچھ مشکل پیش آتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جب کوئی بادل نہ ہو، سورج کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں اسی طرح کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی جس طرح تمہیں ان دونوں کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہے۔ بندے کو (پروردگار کی بارگاہ میں) پیش کیا جائے گا تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی تھی؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی تھی؟ میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں ہر طرح کی نعمتیں عطا نہیں کی تھیں؟ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں، میرے پروردگار! (ایسا ہی ہوا تھا)۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: آج میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر دوسرے شخص کو پیش کیا جائے گا، پروردگار فرمائے گا: کیا میں نے تمہیں عزت نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی تھی؟ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں کشادگی اور فراخی عطا نہیں کی تھی؟ وہ بندہ جواب دے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار دریافت کرے گا: کیا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے؟ بندہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر تیسرے شخص کو پیش کیا جائے گا تو پروردگار دریافت کرے گا: تم کون ہو؟ وہ جواب دے گا: میں تیرا بندہ ہوں، میں تجھ پر ایمان لایا، تیرے نبی پر، تیری کتابوں پر ایمان لایا، میں نے روزے رکھے، میں نے نماز پڑھی، میں نے صدقہ کیا، وہ جہاں تک ہو سکے گا بھلائی کا تذکرہ کرے گا۔ اس شخص سے کہا جائے گا: کیا ہم نے تم پر گواہ کو نہیں بھیجا تھا؟ وہ شخص ذہن میں سوچے گا کہ اس کے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، اس کے زانو سے کہا جائے گا: تم کلام کرو! تو اس کا زانو، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس چیز کے بارے میں کلام کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا، یہ منافق شخص ہو گا، اس کی وجہ یہ ہو گی تاکہ وہ شخص اپنی طرف سے کوئی عذر نہ پیش کر سکے اور تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراضگی کا اظہار کر سکے۔ پھر ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا: ہر گروہ اس کے پیچھے چلا جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔ تو شیاطین کے ماننے والے شیاطین کے پیچھے چلے جائیں گے۔ یہودی اور عیسائی اپنے بڑوں کے ہمراہ جہنم کی طرف چلے جائیں گے۔ پھر مومن باقی رہ جائیں گے، اے اہل ایمان! پھر ہم باقی رہ جائیں گے، ہمارا پروردگار ہمارے پاس تشریف لائے گا، وہ ہمارا پروردگار ہی ہو گا، وہ فرمائے گا: تم کس کے لیے کھڑے ہوئے ہو؟ تو وہ بندے عرض کریں گے: ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندے ہیں، ہم اس کی عبادت کرتے ہیں، وہ ہمارا پروردگار ہے، وہ ہمارے پاس آئے گا اور ہمیں ثواب عطا کرے گا، ہم تو اسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ تو پروردگار کہے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ پھر پل صراط کو رکھا جائے گا جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک لیں گے، اس مقام پر شفاعت کی اجازت دی جائے گی (اور میں یہ دعا کروں گا) «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامت رکھنا، اے اللہ! سلامت رکھنا۔“ جب آدمی اس پل کو پار کر لے گا تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں دیا ہو گا، تو جنت کے دربان اسے بلائیں گے: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ بھلائی ہے، تو اسے کہا جائے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ بھلائی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر وہ کوئی ایک دروازے کو چھوڑ دے اور دوسرے دروازے سے داخل ہو جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ امید ہے تم بھی ان لوگوں میں سے ایک ہو گے۔“ عبدالجبار نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سفیان نامی راوی نے یہ روایت مجھے املا کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4642]

4643

Sahih Ibn Hibban #4643

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ رَجُلٍ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِِلا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ ". قُلْتُ : وَمَا زَوْجَانِ مِنْ مَالِهِ ؟ قَالَ : عَبْدَانِ مِنْ رَقِيقِهِ ، فَرْسَانِ مِنْ خَيْلِهِ ، بَعِيرَانِ مِنْ إِِبِلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صعصعہ بن معاویہ، جو احنف بن قیس کے چچا ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ آیا، وہاں میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے دریافت کیا: اے ابوذر! آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے، میں نے کہا: اے ابوذر! مجھے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کریں گے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جن بھی دو مسلمانوں (یعنی مسلمان میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل کی وجہ سے ان دونوں (میاں بیوی) کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: مال میں سے کسی چیز کے جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ اپنے غلاموں میں سے دو غلام آزاد کر دے یا اپنے گھوڑوں میں سے دو گھوڑے دے دے یا اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ دے دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4643]

4644

Sahih Ibn Hibban #4644

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الأَحْنَفِ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا مَالُكَ ؟ قَالَ : مَالِي عَمَلِي . فَقُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتَدَرَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ ". قَالَ : قُلْتُ : وَمَا زَوْجَانِ ؟ قَالَ : فَرْسَانِ مِنْ خَيْلِهِ ، بَعِيرَانِ مِنْ إِِبِلِهِ ، عَبْدَانِ مِنْ رَقِيقِهِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُسَمِّي الْفَرْدَيْنِ الْمُتَلازِمَيْنِ زَوْجَيْنِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صعصعہ بن معاویہ جو سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں ”ربذہ“ میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر! آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے۔ میں نے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ اپنے گھوڑوں میں سے دو گھوڑے دے دے یا اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ دے دے یا اپنے غلاموں میں سے دو غلام دے دے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب اپنے محاورے میں ایک ہی جیسی دو چیزوں کے لیے لفظ جوڑا استعمال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ﴾ [سورة الذاريات: 49] ”اور ہم نے ہر چیز میں سے جوڑے پیدا کیے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4644]

4645

Sahih Ibn Hibban #4645

قُلْتُ : إِِيهٍ يَا أَبَا ذَرٍّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاثَةُ أَوْلادٍ ، إِِلا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں: ”ربذہ“ کے مقام پر میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، وہ اپنے اونٹوں کو (پانی کے پاس) لائے ہوئے تھے اور انہیں پانی پلا رہے تھے، پھر وہ اپنی سواری کی طرف بڑھے، انہوں نے اپنی سواری کی گردن میں مشکیزہ لٹکایا ہوا تھا تاکہ اس سے پانی پی لیا کریں، انہوں نے پہلے اپنے ساتھیوں کو پانی پلایا۔ یہ بات عربوں کی روایات میں شامل تھی، میں نے کہا: اے ابوذر! آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا مال میرا عمل ہے۔ میں نے کہا: اے ابوذر! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے مال میں سے جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں۔“ میں نے دریافت کیا: اے ابوذر! جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر غلام ہو تو دو غلام، اگر گھوڑے ہوں تو دو گھوڑے، اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ (اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں) یہاں تک کہ انہوں نے مال کی تمام اصناف گنوا دیں۔ میں نے کہا: اے ابوذر! مزید (کوئی حدیث بیان کیجیے) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جن بھی دو مسلمانوں (یعنی مسلمان میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان (بچوں) پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے ان دونوں (میاں بیوی) کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4645]

4646

Sahih Ibn Hibban #4646

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ دینار ہے جسے آدمی اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4646]

4647

Sahih Ibn Hibban #4647

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن المبارك ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ يَعْنِي أَبَاهُ ، عَنْ يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ سَبْعُ مِائَةِ ضِعْفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتا ہے تو اس کے لیے اس کا ثواب سات سو گنا تک نوٹ کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4647]

4648

Sahih Ibn Hibban #4648

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الدُّورِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :لَمَّا نَزَلَتْ : مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَبِّ زِدْ أُمَّتِي " ، فَنَزَلَتْ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَبِّ زِدْ أُمَّتِي " ، فَنَزَلَتْ : إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 261] ”وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے دانے کی طرح ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے جن میں سے ہر ایک بالی میں ایک سو دانے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے اجر کو دو گنا کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: «رَبِّ زِدْ أُمَّتِي» ”اے میرے پروردگار! میری امت کو مزید عطا کر“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً﴾ [سورة البقرة: 245] ”جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے کئی گنا زیادہ کر دیتا ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «رَبِّ زِدْ أُمَّتِي» ”اے میرے پروردگار! میری امت کو مزید عطا کر“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [سورة الزمر: 10] ”بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی حساب کے بغیر پورا دیا جائے گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4648]

4649

Sahih Ibn Hibban #4649

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نکیل والی اونٹنی لے کر آیا، اس نے عرض کی: یہ اللہ کی راہ میں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں سات سو اونٹنیاں ملیں گی جو نکیل والی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4649]

4650

Sahih Ibn Hibban #4650

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَجُلا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کی راہ میں نکیل والی ایک اونٹنی صدقہ کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ قیامت کے دن سات سو نکیل والی اونٹنیاں لے کر آئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4650]

4651

Sahih Ibn Hibban #4651

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلاثِينَ صَبَاحًا ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ أَنَسٌ : أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ : أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس دن تک ان لوگوں کے خلاف بددعا کی جنہوں نے بئرِ معونہ کے مقام پر صحابہ کرام کو شہید کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل، لحیان اور عصیہ قبیلوں کے خلاف بددعا کی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بئرِ معونہ کے مقام پر شہید ہونے والوں کے بارے میں قرآن کی آیات نازل کی تھیں جنہیں ہم تلاوت کرتے تھے، بعد میں وہ آیات منسوخ ہو گئیں (ان میں یہ الفاظ بھی تھے): ”ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ہیں، وہ ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4651]

4652

Sahih Ibn Hibban #4652

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ، أَلا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَنْثَعِبُ دَمًا ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، جس بھی شخص کو اللہ کی راہ میں زخمی کیا جائے اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، کسے اس کی راہ میں زخمی کیا گیا ہے تو وہ شخص جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا، اس کا رنگ خون کی مانند ہو گا، لیکن اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کے مانند ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4652]

4653

Sahih Ibn Hibban #4653

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : أَرَأَيْتَإِِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقُتِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَلْقَى تُمَيْرَاتٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الَّذِي قُتِلَ : هُوَ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوۂ احد کے دن عرض کی: ”آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جاؤں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود کچھ کھجوریں ایک طرف رکھیں، پھر وہ آدمی آگے بڑھا، اس نے جہاد میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شہید ہونے والے یہ شخص سیدنا حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4653]

4654

Sahih Ibn Hibban #4654

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَإِِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " . فَلَمَّا أَدْبَرَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَأَعَادَ قَوْلَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، إِِلا الدِّينَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے اگر میں صبر کرتے ہوئے، ثواب کی امید رکھتے ہوئے، (دشمن کا) سامنا کرتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران قتل ہو جاتا ہوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ جب وہ مڑ کر جانے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا یا اسے بلانے کا حکم دیا، اسے بلایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے اپنی بات دوہرا دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، البتہ قرض کا حکم مختلف ہے (یعنی اس کا حساب دینا ہو گا)، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4654]

4655

Sahih Ibn Hibban #4655

أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُجِيبِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِِلا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہید ہونے والے شخص کو شہید ہونے پر اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جس طرح کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹنے پر ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4655]

4656

Sahih Ibn Hibban #4656

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ ثَلاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الشَّهِيدُ ، وَعَبْدٌ نَصَحَ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، وَضَعِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ، وَأَوَّلُ ثَلاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ : فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهِ ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں پہلے داخل ہونے والے تین افراد میں ایک شہید ہو گا، ایک وہ غلام ہو گا جو اپنے آقا کا خیر خواہ ہوا اور اپنے پروردگار کی اچھی طرح سے عبادت کرتا ہو اور ایک وہ کمزور شخص ہو گا جو مانگنے سے بچتا ہو، اور جہنم میں داخل ہونے والے پہلے تین افراد: ایک وہ امیر جو مسلط ہوا ہو، ایک وہ مال دار شخص جو مال میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہ کرتا ہو اور ایک متکبر غریب۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4656]

4657

Sahih Ibn Hibban #4657

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرُدَّهَا اللَّهُ إِِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مومن کی روح جنت کے درخت پر لگی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4657]

4658

Sahih Ibn Hibban #4658

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ إِِلَيْهِمْ رَزَقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بَكْرَةً وَعَشِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شہداء جنت کے دروازے پر موجود نہر کے کنارے ایک سبز گنبد میں ہوں گے، جنت سے ان کا رزق صبح و شام ان کی طرف آتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4658]

4659

Sahih Ibn Hibban #4659

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ " فَسَأَلْنَا يَوْمًا ، ثُمَّ قَالَ :" أُرِيتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي ، فَأَخَذَا بِيَدِي ، فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ ، فَأَدْخَلانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَقَالَ : أَمَا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف رخ کر لیتے اور دریافت کرتے: ”کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ رات (کوئی نمایاں) خواب دیکھا ہے؟“ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات مجھے خواب دکھائی دیا، دو آدمی میرے پاس آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور وہ مجھے ساتھ لے کر ایک درخت پر چڑھ گئے، انہوں نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا، تو انہوں نے بتایا: یہ شہداء کا ٹھکانہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4659]

4660

Sahih Ibn Hibban #4660

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ عُتْبَةَ الذِّمَارِيِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ صِغَارٌ ، فَمَسَحَتْ رُؤُوسَنَا ، وَقَالَتْ : أَبْشِرُوا يَا بَنِيَّ ، فَإِِنِّي أرجو أَنْ تَكُونُوا فِي شَفَاعَةِ أَبِيكُمْ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الشَّهِيدُ يَشْفَعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نمران بن عقبہ ذماری بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم اس وقت یتیم اور کم سن تھے، انہوں نے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے میرے بچو! تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ مجھے یہ امید ہے تمہیں تمہارے والد کی شفاعت نصیب ہوگی، میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”شہید اپنے گھر والوں میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4660]

4661

Sahih Ibn Hibban #4661

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ الْقُهِسْتَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِِلَى الدُّنْيَا إِِلا الشَّهِيدُ ، فَإِِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ لِيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص اس بات کی آرزو نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے، صرف شہید کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا میں جائے اور اسے دوبارہ شہید کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4661]

4662

Sahih Ibn Hibban #4662

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِِلا الشَّهِيدُ ، فَإِِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے، اگرچہ اس کے عوض میں روئے زمین پر موجود سب کچھ اسے مل جائے، البتہ شہید کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اس بات کی آرزو کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے اور اسے دس مرتبہ شہید کیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ (شہادت کی) عظمت کو دیکھ لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4662]

4663

Sahih Ibn Hibban #4663

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْقَتْلَى ثَلاثَةٌ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ ، فِي خَيْمَةِ اللَّهِ ، تَحْتَ عَرْشِهِ ، وَلا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِِلا بِفَضْلِ دَرَجَةِ النُّبُوَّةِ ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ ، إِِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا ، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، فَإِِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَتَّى إِِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ ، إِِنَّ السَّيْفَ لا يَمْحُو النِّفَاقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قتل ہونے والے لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ شخص جو مومن ہو، جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے تو اس کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے، یہ وہ شہید ہے جسے آزمائش میں مبتلا کیا گیا، یہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خیمے میں ہو گا اور انبیاء کو اس پر صرف مرتبہ نبوت کی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک وہ شخص ہے جو گناہوں اور خطاؤں میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے، تو لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے، تو یہ وہ چیز ہے جس نے اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیا، بے شک تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایسا شخص جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا اندر داخل ہو جائے گا، جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے بعض دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں، اور ایک وہ شخص ہے جو منافق ہو گا، جو جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لے گا، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرے گا تو لڑتا ہوا مارا جائے گا، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار منافقت کو ختم نہیں کر سکتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4663]

4664

Sahih Ibn Hibban #4664

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي نَظَّارًا يَوْمَ بَدْرٍ مَا انْطَلَقَ لِقِتَالٍ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ عَمَّتِي أُمُّهُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي حَارِثَةُ إِِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ ، وَإِِلا فَسَتَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ حَارِثَةَ ،إِِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری پھوپھی کے بیٹے حارثہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن صورتِ حال دیکھنے کے لیے گئے کہ جنگ کی کیا صورتِ حال ہے؟ انہیں ایک تیر لگا اور وہ فوت ہو گئے، میری پھوپھی اور ان کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے، تو میں صبر سے کام لیتی ہوں اور ثواب کی امید رکھتی ہوں، ورنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام حارثہ! جنت کے کئی درجات ہیں اور حارثہ فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4664]

4665

Sahih Ibn Hibban #4665

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنا القعنبيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کافر اور اس کا قاتل جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4665]

4666

Sahih Ibn Hibban #4666

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحِرَّانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلاهُمَا فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتِبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِِلَى الآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِِلَى الْفَاعِلِ ، وَكَذَلِكَ تُضِيفُ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ مِنْ حَرَكَاتِ الْمَخْلُوقِينَ إِِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا ، كَمَا تُضِيفُ ذَلِكَ الشَّيْءَ إِِلَيْهِمْ سَوَاءً ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَحِكَ مِنْ رَجُلَيْنِ : يُرِيدُ ضَحَّكَ اللَّهُ مَلائِكَتَهُ وَعَجَّبَهُمْ مِنَ الْكَافِرِ الْقَاتِلِ الْمُسْلِمَ ، ثُمَّ تَسْدِيدَ اللَّهُ لِلْكَافِرِ وَهِدَايَتِهِ إِِيَّاهُ إِِلَى الإِِسْلامِ وَتَفَضُّلِهِ عَلَيْهِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَدْخُلا الْجَنَّةَ جَمِيعًا ، فَيُعَجِّبُ اللَّهُ مَلائِكَتَهُ وَيُضَحِّكُهُمْ مِنْ مَوْجُودِ مَا قَضَى وَقَدَّرَ ، فَنُسِبَ الضَّحِكُ الَّذِي كَانَ مِنَ الْمَلائِكَةِ إِِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَى سَبِيلِ الأَمْرِ وَالإِِرَادَةِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقَسَمِ الْخَامِسِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ اس نوعیت کی روایت ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض روایات میں کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں، جس طرح وہ فعل کی نسبت کام کرنے والے شخص کی طرف کرتے ہیں، اسی طرح وہ بعض اوقات کسی ایسی چیز کی، جو مخلوق کی حرکات سے تعلق رکھتی ہو، اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت مخلوق کی طرف کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ہنسنے کے لیے کہتا ہے اور انہیں خوش ہونے کے لیے کہتا ہے اس کافر کے بارے میں جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کافر کو راہِ راست پر ہدایت نصیب کرتا ہے، وہ مسلمان ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے بعد اسے شہادت کا مرتبہ عطا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو اس بات پر حیران کرتا ہے اور انہیں اس بات پر ہنساتا ہے، جو اس چیز کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس نے فیصلہ دیا ہے اور مقدر میں لکھا ہے، تو یہاں ہنسنا جو فرشتوں کی طرف سے ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے جو اس کے حکم دینے اور ارادہ کرنے کے حوالے سے ہے، اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم اس کتاب میں آگے چل کر سنن کی پانچویں قسم میں نقل کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4666]

4667

Sahih Ibn Hibban #4667

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ لَيَضْحَكُ إِِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے، ایک شخص اللہ کی راہ میں جو جہاد میں حصہ لیتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو قتل کرنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے (وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور پھر) وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4667]

4668

Sahih Ibn Hibban #4668

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرِ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک کے لیے بھلائی رکھ دی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4668]

4669

Sahih Ibn Hibban #4669

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک کے لیے بھلائی رکھ دی گئی ہے جو اجر اور غنیمت کی صورت میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4669]

4670

Sahih Ibn Hibban #4670

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھوڑے کی پیشانی میں برکت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4670]