Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 41 · Chapter 1

Book of Sharecropping

Hadith 4557–4596

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4557

Sahih Ibn Hibban #4557

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا إِِذَابَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر جب اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرما دیتے تھے: ”جہاں تک تمہاری استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرنا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4557]

4558

Sahih Ibn Hibban #4558

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مَجَزَرٍ الْمُدْلِجِيَّ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِِذَا كُنَّا عَلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَأَمَرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَعَ مَعَهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي الطَّرِيقِ نَزَلْنَا مَنْزِلا ، وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا يَصْطَلُونَ بِهَا أَوْ يَصْنَعُونَ عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ ، إِِذْ قَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : أَلَيْسَ لِي السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَأَنَا آمُرُكُمْ بِشَيْءٍ أَلا فَعَلْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : بَلَى . قَالَ : فَإِِنِّي أَعَزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي إِِلا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ . قَالَ : فَقَامَ نَاسٌ حَتَّى إِِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ فِيهَا ، قَالَ : أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ، إِِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَمَرَكُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلا تُطِيعُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزر مدلجی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا جس میں، میں بھی شامل تھا، ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم جنگ کے مقام پر یا شاید راستے میں کسی جگہ پر پہنچے تو ایک گروہ نے ان سے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اجازت دے دی اور سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کر دیا، وہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف رکھتے تھے، ان کے مزاج میں کچھ شوخی تھی، میں ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کے ساتھ واپس چلے گئے تھے۔ راستے میں ایک جگہ ہم نے پڑاؤ کیا، لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے ذریعے اپنے کام کاج کیے، اسی دوران سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگوں پر میری فرمانبرداری لازم نہیں ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو جس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اپنے حق اور اپنی فرمانبرداری کے حوالے سے تاکید کرتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں، تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ لگا کہ وہ اس میں کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ رک جاؤ میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا۔ پھر جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو (حکمران یا امیر) تمہیں معصیت کا حکم دے تم اس کی فرمانبرداری نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4558]

4559

Sahih Ibn Hibban #4559

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، وَعَصَى إِِمَامَهُ ، وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَخَانَتْهُ بَعْدَهُ ، وَثَلاثَةٌ لا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ يُنَازِعُ اللَّهَ رِدَاءَهُ ، فَإِِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ وَإِِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقَانِطُ مِنْ رَحمةِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا: ایک وہ شخص (جو مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور اپنے حاکم کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں ہی فوت ہو جائے؛ ایک وہ کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی حالت میں فوت ہو جائے؛ ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو، وہ شوہر اس عورت کی دنیاوی ضروریات کو پورا کرتا ہو اور وہ عورت اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت کرے۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا: ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرتا ہے، کیونکہ اس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت ہے؛ ایک وہ شخص جو اللہ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے؛ اور ایک وہ شخص جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4559]

4560

Sahih Ibn Hibban #4560

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : آمُرُكُمْ بِثَلاثٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلاثٍ ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ ، وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَتَفَرَّقُوا ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِِضَاعَةِ الْمَالِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، أَمْرٌ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وَقَوْلُهُ : وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، أَرَادَ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى بَعْضِ الْمُخَاطَبِينَ الَّذِينَ تَقَعُ بِهِمُ الْحَاجَةُ إِِلَى اسْتِعْمَالِهِ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ ، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، لَفْظُهُ عَامٌ لَهُ تَخْصِيصَانِ أَحَدُهُمَا : أَنْ يُؤْمَرَ الْمَرْءُ بِمَا لَهُ فِيهِ رِضًى ، وَالثَّانِي : إِِذَا أُمِرَ مَا اسْتَطَاعَ دُونَ مَا لا يَسْتَطِيعُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں: میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم سب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی کا شکار نہ ہو اور تم لوگ اس شخص کی اطاعت کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران (یعنی حاکم وقت) بنایا ہے، اور میں تمہیں فضول بحث کرنے، بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ“ یہ ایک ایسا فرض حکم ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر ہر حالت میں فرض ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو“، اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب ہے اور یہ حکم بعض مخاطب افراد پر فرض ہے، اس حکم پر عمل کرنے کی انہیں بعض صورتوں میں ضرورت پیش آتی ہے جو کسی حالت میں ہوتی ہے، کسی حالت میں نہیں ہوتی اور ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران بنایا ہو اس کی تم اطاعت کرو“ یہاں الفاظ عام ہیں، لیکن اس میں دو قسم کی تخصیص پائی جاتی ہے؛ ایک یہ کہ آدمی کو اس بات کا حکم دیا جائے جس میں (اللہ تعالیٰ کی) رضامندی پائی جاتی ہو اور دوسرا یہ کہ آدمی کو وہ حکم دیا جائے جس کو پورا کرنے کی اس میں استطاعت ہو، وہ حکم نہ دیا جائے جو اس کی استطاعت سے باہر ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4560]

4561

Sahih Ibn Hibban #4561

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا إِِذَابَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اطاعت اور فرمانبرداری کی بیعت کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے: ”جتنی تم میں استطاعت ہو (اس کے مطابق تم اس پر عمل کرو گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4561]

4562

Sahih Ibn Hibban #4562

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَيَّانَ أَبَا النَّضْرِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اسْمَعْ وَأَطِعْ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ، وَإِِنْ أَكَلُوا مَالَكَ وَضَرَبُوا ظَهْرَكَ ، إِِلا أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم تنگی اور آسانی، پسندیدگی اور ناپسندیدگی اور اپنے ساتھ کیے جانے والے ترجیحی سلوک میں (ہر حال میں حاکمِ وقت کی) اطاعت کرو، اگر وہ تمہارا مال کھا لے اور تمہاری پشت پر مارے (تو بھی اس کی اطاعت کرو)، البتہ اگر کوئی گناہ کا کام ہو، تو اس کی اطاعت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4562]

4563

Sahih Ibn Hibban #4563

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، وَتَطَاوَلَ فِي غَرْزِ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي آخِرِ النَّاسِ : مَا تَقُولُ أَوْ مَا تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : أَلا تَسْمَعُونَ أَطِيعُوا رَبَّكُمْ ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ ، وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ تَدْخُلُوا جُنَّةَ رَبِّكُمْ ". فَقُلْتُ لأَبِي أُمَامَةَ : ابْنَ كَمْ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ حِينَ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاثِينَ سَنَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر ہمیں خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو!“ تو لوگوں کے پیچھے سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ سن نہیں رہے ہو؟ تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو، اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جب آپ نے یہ بات سنی تھی اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اس وقت میری عمر تیس سال تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4563]

4564

Sahih Ibn Hibban #4564

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو طَالِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ أَوْ بِلالا يَقُودُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالآخَرَ رَافِعُ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ بِهِ مِنَ الْحَرِّ ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَوَقَفَ النَّاسُ وَقَدْ جَعَلَ ثَوْبَهُ مِنْ تَحْتِ إِِبْطِهِ الأَيْمَنِ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ تَحْتَ غُضْرُوفِهِ الأَيْمَنِ كَهَيْئَةِ جُمْعٍ " . ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلا كَثِيرًا ، وَكَانَ فِيمَا يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا . ثُمَّ قَالَ : هَلْ بَلَّغْتُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام کر چل رہے تھے، ان میں سے ایک نے لگام تھامی ہوئی تھی اور دوسرے نے اپنی چادر کو بلند کیا ہوا تھا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوپ سے بچا کر رکھیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور لوگ ٹھہرے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اپنے بائیں کندھے پر رکھی ہوئی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں بغل کے نیچے سے گزر رہی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں کندھے کے ابھار کے نیچے ایک ابھری ہوئی چیز دیکھی (شاید اس سے مراد مہر نبوت ہو) (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں کیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی: ”اگر تم پر کسی ایسے حبشی کو امیر مقرر کر دیا جائے جس کے ناک، کان کٹے ہوئے ہوں اور وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے، تو تم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4564]

4565

Sahih Ibn Hibban #4565

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرَّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلانَ مَوْلَى مُرَّةَ الطَّيِّبِ وَلَقَبُهُ جَبْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، ثُمَّ يُلَقِّنُنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اطاعت و فرمانبرداری پر ہم سے بیعت لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تلقین کرتے تھے: ”جتنی تمہارے اندر استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرنا)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4565]

4566

Sahih Ibn Hibban #4566

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ ، سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُبَادَةَ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ ، قَالَ :" اسْمَعْ وَأَطِعْ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ ، وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ، وَإِِنْ أَكَلُوا مَالَكَ وَضَرَبُوا ظَهْرَكَ ، إِِلا أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً لِلَّهِ بَوَاحًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبادہ!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی تنگی اور آسانی، پسندیدگی اور اپنے ساتھ ترجیحی سلوک (ہر حالت میں) اطاعت کرنا، اگرچہ وہ لوگ تمہارا مال کھا لیں اور تمہاری پشت پر ماریں، البتہ جب وہ کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں (تو پھر ان کی اطاعت نہ کرنا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4566]

4567

Sahih Ibn Hibban #4567

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلا ، فَأَوْقَدَ نَارًا ، فَقَالَ : ادْخُلُوهَا ، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا ، وَقَالَ آخَرُونَ : إِِنَّا فَرَرْنَا مِنْهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا : لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، أَوْ قَالَ : أَبَدًا . وَقَالَ لِلآخَرِينَ : خَيْرًا . وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ لا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، إِِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی اور ایک شخص کو ان کا امیر مقرر کیا، ان لوگوں نے آگ جلائی تو اس امیر نے کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ، کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم اس سے بچنے کے لیے ہی (مسلمان ہوئے ہیں)، بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت کے دن تک اس میں رہتے (راوی کو شک ہے) شاید یہ الفاظ ہیں: ہمیشہ اس میں رہتے۔“ جبکہ دوسرے لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم نے احسن اقدام کیا۔“ اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں (حاکم وقت کی) کوئی فرمانبرداری نہیں ہو گی، فرمانبرداری صرف نیکی کے کام میں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4567]

4568

Sahih Ibn Hibban #4568

أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالا : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کسی انسان کی فرمانبرداری نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4568]

4569

Sahih Ibn Hibban #4569

أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ وَهِيَ قَرْيَةٌ بِقَوْمَسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کسی انسان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4569]

4570

Sahih Ibn Hibban #4570

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي لا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِِلا الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی (یعنی جب ان کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی) تو وہ قیامت کے دن تک ان سے اٹھائی نہیں جائے گی (یعنی ان کی آپس کی لڑائی ختم نہیں ہو گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4570]

4571

Sahih Ibn Hibban #4571

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِيُ أَبُو الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الأَصْفَهَانِيُّ رُسْتَهْ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ". فَلَقِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بِسَنَةٍ فَحَدَّثَنِيهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے (لوگوں کے سینوں سے) الگ کر لے، بلکہ وہ علماء کو اٹھانے کے ذریعے علم کو اٹھا لے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے، ان لوگوں سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود فتویٰ دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے ایک سال بعد سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے پھر مجھے یہی حدیث بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4571]

4572

Sahih Ibn Hibban #4572

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَحَاجِبُ بْنُ أَرِّكِينَ ، قَالا : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : هَذَا أَوَانُ رَفْعِ الْعِلْمُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ زِيَادٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنْ كُنْتُ لأَحْسِبُكَ أَفْقَهَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ". قَالَ : فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ ، وَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ عَوْفٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُ بِأَوَّلِ ذَلِكَ يُرْفَعُ ؟ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : الْخُشُوعُ حَتَّى لا تَرَى خَاشِعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ وقت ہے جب علم کو اٹھا لیا جائے گا۔“ انصار میں سے ایک صاحب، جن کا نام لبید بن زیاد تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا جبکہ اسے ثابت کیا جا چکا ہے اور دلوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تو تمہیں اہل مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھدار شخص سمجھتا ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں کے پاس اللہ کی کتاب ہونے کے باوجود ان کے گمراہ ہونے کا ذکر کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا ہے، پھر انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ سب سے پہلے کون سے علم کو اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: پرہیزگاری کو، یہاں تک کہ تم کسی بھی پرہیزگار شخص کو نہیں دیکھو گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4572]

4573

Sahih Ibn Hibban #4573

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِِمَامٌ ، مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ ، مَعْنَاهُ : مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْتَقِدْ أَنَّ لَهُ إِِمَامًا يَدْعُو النَّاسَ إِِلَى طَاعَةِ اللَّهِ حَتَّى يَكُونَ قِوَامُ الإِِسْلامِ بِهِ عِنْدَ الْحَوَادِثِ وَالنَّوَازِلِ ، مُقْتَنِعًا فِي الانْقِيَادِ عَلَى مَنْ لَيْسَ نَعَتُهُ مَا وَصَفْنَا مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : ظَاهِرُ الْخَبَرِ أَنَّ مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِِمَامٌ ، يُرِيدُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ ، لأَنَّ إِِمَامَ أَهْلِ الأَرْضِ فِي الدُّنْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ إِِمَامَتَهُ أَوِ اعْتَقَدَ إِِمَامًا غَيْرَهُ مُؤْثِرًا قَوْلَهُ عَلَى قَوْلِهِ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں مرے اس کا کوئی امام نہ ہو (یعنی وہ کسی مسلمان حکمران کا فرمانبردار نہ ہو) تو وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ شخص زمانہ جاہلیت کی سی موت مرتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ اس بات کا اعتقاد نہ رکھتا ہو کہ اس کا کوئی ایسا امام ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف دعوت دیتا ہے اور حادثات اور مشکلات پیش آنے پر اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ شخص اس کی پیروی کرتا ہے، جس کی وہ صفت نہ ہو جو ہم نے بیان کی ہے تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل زمین کے امام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا علم نہیں رکھتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے امام کا معتقد ہوتا ہے اور اس کے قول کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ترجیح دیتا ہے پھر وہ شخص اسی حالت میں مر جاتا ہے تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4573]

4574

Sahih Ibn Hibban #4574

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے حکمرانوں کی (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) مومنوں کے حکمرانوں کی اور ان کے عام افراد کی (خیر خواہی کرنا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4574]

4575

Sahih Ibn Hibban #4575

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بَنَانَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بَنَانَ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُ سُهَيْلا ، فَقُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ حَدِيثًا كَانَ يُحَدِّثُ عَمْرٌو ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِيكِ ، سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي صِدِّيقٍ لأَبِي كَانَ يَأْتِي مِنَ الشَّامِ ، يُقَالُ لَهُ : عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، سَمِعْتُهُ أَخْبَرَ ذَلِكَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا إِِنَّالدِّينَ النَّصِيحَةُ ، أَلا إِِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ، أَلا إِِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خبردار! دین خیر خواہی کا نام ہے، خبردار! بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، خبردار! بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمان حکمرانوں کی اور ان کے عام افراد کی (خیر خواہی کرنا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4575]

4576

Sahih Ibn Hibban #4576

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ الْمَعْوَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مقامي فِيكُمُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ : أَلا أَحْسِنُوا إِِلَى أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّهَادَةِ لا يُسْأَلُهَا ، وَيَحْلِفُ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ لا يُسْأَلُهَا ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلا يَخْلَوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ”جابیہ“ کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہمارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کھڑے ہوئے تھے جس طرح آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھائی کرنا، پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد والے، پھر جھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ کوئی آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی اور کوئی شخص قسم اٹھا لے گا حالانکہ اس سے اس کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہو گا؛ تو تم میں سے جو شخص جنت میں داخل ہونا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑ لے، کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے، اور کوئی بھی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ ہو کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا، اور جس شخص کو برائی بری لگتی ہو اور اچھائی اچھی لگتی ہو وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4576]

4577

Sahih Ibn Hibban #4577

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرُهُمْ جَمِيعٌ ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ ، فَإِِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ ، وَإِِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ يَرْتَكِضُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرفجہ بن شریح اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب میرے بعد مختلف طرح کے فتنے ہوں گے، تو جس شخص کو تم دیکھو کہ (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو گیا ہے یا وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے، جب کہ وہ لوگ اکٹھے ہوں تو تم اسے قتل کر دو خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو، بے شک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور بے شک شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4577]

4578

Sahih Ibn Hibban #4578

أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ ، فَقَالَ : ضَعُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ، فَقَالَ : إِِنِّي لَمْ آتِ لأَجْلِسَ ، إِِنَّمَا جِئْتُ لأُكَلِّمَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقَ الْجَمَاعَةِ ، فَإِِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ”حرہ“ کی راتوں میں ابن مطیع کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے لیے تکیہ لگاؤ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں یہاں بیٹھنے کے لیے نہیں آیا ہوں، میں تمہارے پاس دو باتیں کرنے کے لیے آیا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (حاکمِ وقت کی) اطاعت و فرمانبرداری سے ہاتھ کھینچ لے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی اور جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو کر مرے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4578]

4579

Sahih Ibn Hibban #4579

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ فَقَتْلُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے مارا جائے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مارا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4579]

4580

Sahih Ibn Hibban #4580

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ شَاكٍ ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي حَدِيثَ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ غَيْلانَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا ، لا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا ، وَلا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ لِعَصَبَةٍ ، أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ ، فَقَتْلُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص (حاکم وقت کی) اطاعت سے نکل گیا اور اس نے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور پھر وہ (اسی حالت میں) مر جائے تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص میری امت پر خروج کر کے ہر نیک اور گنہگار کو مارنا شروع کر دیتا ہے، وہ مومن کو چھوڑتا نہیں ہے اور معاہدے (یعنی ذمی کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کو) پورا نہیں کرتا تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی طرح قتل ہوتا ہے اور جو شخص کسی گمراہی کے جھنڈے تلے کسی گروہ کی تائید میں لڑائی کرتا ہے یا کسی گروہ کے حق میں ناراض ہوتا ہے (اور جنگ کرتے ہوئے مارا جاتا ہے) تو اس کا قتل زمانہ جاہلیت کا قتل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4580]

4581

Sahih Ibn Hibban #4581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّلِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا ، وَإِِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا وَعَدَلُوا وَائْتُمِنُوا ، فَأَدُّوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک میرا قریش پر حق ہے اور قریش کا تم لوگوں پر حق ہے جب وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں اور انہیں امانت سپرد کی جائے، تو اسے ادا کریں اور جب ان سے رحم مانگا جائے تو وہ رحم کریں، جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4581]

4582

Sahih Ibn Hibban #4582

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ نَبْلُهُ ، فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَتَّقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هَكَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر تیر پھینک رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے سے سر اٹھا کر یہ دیکھنا چاہا کہ ان کا تیر کہاں گرتا ہے تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے کو پھیلا لیا تاکہ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچائیں، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح رہیں (یعنی میرے پیچھے رہیں)، اللہ تعالیٰ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرے، آپ کی بجائے میں ان کے سامنے رہتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4582]

4583

Sahih Ibn Hibban #4583

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُكَانَ قَائِمًا عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ ، وَهُوَ مُلَثَّمٌ ، وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ ، قَالَ : فَجَعَلَ عُرْوَةُ يَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَدِّثُهُ ، قَالَ : فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُرْوَةَ : لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ ، أَوْ لا تَرْجِعُ إِِلَيْكَ . قَالَ : فَقَالَ عُرْوَةُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ . فَقَالَ عُرْوَةُ : يَا غُدَرُ ، مَا غَسَلْتَ رَأْسَكَ مِنْ غَدْرَتِكَ بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (قریش کا سردار) عروہ موجود تھا، عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: یا تو تم اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے پیچھے کر لو یا پھر یہ تمہارے پاس صحیح سلامت واپس نہیں جائے گا۔ عروہ نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے، تو عروہ نے کہا: اے وعدہ خلاف! تم نے اپنی وعدہ خلافی کے بعد اپنا سر نہیں دھویا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4583]

4584

Sahih Ibn Hibban #4584

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّلِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا ، وَإِِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَائْتُمِنُوا فَأَدُّوا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرا قریش پر حق ہے اور قریش کا تم لوگوں پر ہے جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں اور جب ان کے سپرد امانت کی جائے تو اسے ادا کریں اور جب ان سے رحم طلب کیا جائے، تو رحم کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4584]

4585

Sahih Ibn Hibban #4585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ، قَالَ : كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مَا أُحِبُّ أَنْ لِي بِوَاحِدَةٍ مِنْهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، إِِحْدَاهُمَا مِنَ النَّجَاشِيِّ ، وَالأُخْرَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا الَّتِي سَمِعْتُهَا مِنَ النَّجَاشِيِّ : فَإِِنَّا كُنَّا عِنْدَهُ إِِذْ جَاءَهُ ابْنٌ لَهُ مِنَ الْكُتَّابِ ، فَعَرَضَ لَوْحَهُ ، قَالَ : وَكُنْتُ أَفْهَمُ بَعْضَ كَلامِهِمْ ، فَمَرَّ بِآيَةٍ ، فَضَحِكْتُ ، فَقَالَ : مَا الَّذِي أَضْحَكَكَ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لأُنْزِلَتْ مِنْ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ إِِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَالَ : إِِنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الأَرْضِ إِِذَا كَانَتْ إِِمَارَةُ الصِّبْيَانِ . وَالَّذِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : اسْمَعُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دو کلمات سنے ہیں، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ان میں سے کسی ایک کلمے کے عوض میں مجھے دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں مل جائیں، ان میں سے ایک نجاشی کی زبانی سنا ہے اور دوسرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے، جہاں تک اس کلمے کا تعلق ہے جو میں نے نجاشی کی زبانی سنا ہے تو وہ یوں ہے کہ میں نجاشی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران اس کا بیٹا مدرسے سے اس کے پاس آیا، اس لڑکے نے اپنی تختی اس کے سامنے پیش کی، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان کا کچھ کلام سمجھ لیتا تھا، جب وہ ایک آیت کے پاس سے گزرے تو مجھے ہنسی آ گئی، نجاشی نے دریافت کیا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! عرش والی ذات کی طرف سے یہ بات نازل ہوئی ہے، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس سرزمین پر لعنت ہوتی ہے جہاں بچوں کی حکومت ہو۔ (سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش کی فرمانبرداری کرو اور ان کے ذاتی عمل کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4585]

4586

Sahih Ibn Hibban #4586

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُقَرِّبُونَ شِرَارَ النَّاسِ ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلا يَكُونَنَّ عَرِيفًا ، وَلا شُرْطِيًا ، وَلا جَابِيًا ، وَلا خَازِنًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو لوگوں میں سے برے لوگوں کو اپنا مقرب بنائیں گے اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر کے ادا کریں گے، تم میں سے جو شخص ان کا زمانہ پائے تو وہ سرکاری اہل کار یا سپاہی یا ملازم یا خزانچی نہ بنے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4586]

4587

Sahih Ibn Hibban #4587

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّهَاسَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَتَسْأَلُونَ الَّذِي لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب (تمہارے ساتھ) ترجیحی سلوک بھی ہو گا اور کچھ ایسی چیزیں بھی آئیں گی جو تمہیں ناپسند ہوں گی۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ایسی صورت حال کے بارے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس فرض کو ادا کرنا جو تمہارے ذمے لازم ہے اور جو تمہارا حق ہے اس کا تم مطالبہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4587]

4588

Sahih Ibn Hibban #4588

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4588]

4589

Sahih Ibn Hibban #4589

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خِيَارُكُمْ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ ، وَشِرَارُكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قِيلَ : أَفَلا نُنَابِذُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لا ، مَا أَقَامُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، أَلا وَمَنْ لَهُ وَالٍ فَيَرَاهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلا يَنْزِعْ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے بہترین لوگ اور تمہارے بہترین حکمران وہ لوگ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، وہ تمہارے لیے دعائے رحمت کریں اور تم ان کے لیے دعائے رحمت کرو، جبکہ تمہارے برے ترین افراد اور تمہارے برے حکمران وہ لوگ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ان سے الگ نہ ہو جائیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، اس وقت تک (الگ نہ ہونا) جب تک وہ پانچ نمازیں ادا کریں۔ خبردار! جس شخص کا کوئی نگران ہو اور وہ اس نگران کو دیکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ شخص اس نافرمانی کے ارتکاب کو ناپسند کرے، لیکن اس کی فرمانبرداری سے ہاتھ نہ کھینچے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4589]

4590

Sahih Ibn Hibban #4590

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ صَالِحٍ بِأَنْطَاكِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُورُسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعَنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قُورُسُ : قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى إِِنْطَاكِيَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) قورس انطاکیہ کی ایک بستی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4590]

4591

Sahih Ibn Hibban #4591

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَالِي أَنْ أَعْمَلَ عَمَلا بَعْدَ الإِِسْلامِ إِِلا أَعْمُرُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس موجود تھا، ایک شخص بولا: ”میں اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں کوئی اور عمل (نہ) کروں، ماسوائے اس بات کے کہ میں مسجد حرام کو آباد کروں، بیت اللہ کا حج کرنے یا عمرہ کرنے کے لیے جاؤں۔“ دوسرے شخص نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اس چیز پر زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو تم نے بیان کی ہے“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة التوبة: 19] ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کی مانند قرار دے دیا ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے؟ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ برابر نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4591]

4592

Sahih Ibn Hibban #4592

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(مکہ کے) فتح ہونے کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت (باقی ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4592]

4593

Sahih Ibn Hibban #4593

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّالشَّيْطَانَ قَعَدَ لابْنِ آدَمَ بِطَرِيقِ الإِِسْلامِ ، فَقَالَ لَهُ : تَسْلَمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ فَغَفَرَ لَهُ ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ لَهُ : تُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ ، فَقَالَ لَهُ : تُجَاهِدُ وَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ ، وَالْمَالِ ، فَتُقَاتِلُ فَتَقْتُلُ ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ ، وَيُقْسَمُ الْمَالُ ، فَعَصَاهُ فَجَاهِدَ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَاتَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَإِِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سبرہ بن ابوفاکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک شیطان، انسان (کو گمراہ کرنے) کے لیے اسلام کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے، وہ اس سے دریافت کرتا ہے: کیا تم اسلام قبول کرنے لگے ہو اور اپنے دین کو اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرنے لگے ہو؟ اگر آدمی اس کی بات کو نہ مانے اور اسلام قبول کر لے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، پھر شیطان اسے (پھنسانے کے لیے) ہجرت کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے: کیا تم ہجرت کرنے لگے ہو؟ تم اپنی زمین اور آسمان کو چھوڑنے لگے ہو؟ اگر وہ شخص اس شیطان کی نافرمانی کر کے ہجرت کر لے تو پھر شیطان اس کو (گمراہ کرنے کے لیے) جہاد کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے: تم جہاد میں حصہ لینے لگے ہو؟ یہ تو جان اور مال دونوں کے ساتھ ہوتا ہے، تم لڑائی میں حصہ لو گے تو تم مارے جاؤ گے، تمہاری بیوی کہیں اور شادی کر لے گی اور تمہارا مال تقسیم ہو جائے گا۔ آدمی اس کی بات نہیں مانتا اور جہاد میں حصہ لے لیتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر انتقال کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے، اور جو شخص (جہاد کے دوران) قتل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، اور اگر وہ شخص ڈوب کر مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اور اگر وہ شخص اپنی سواری سے گر کر مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4593]

4594

Sahih Ibn Hibban #4594

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : فَهِبْنَا أَنْ يَسْأَلَهُ مِنَّا أَحَدٌ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِدُنا رَجُلا رَجُلا ، يَتَخَطَّى غَيْرَنَا ، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِِلَى بَعْضٍ لأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَ إِِلَيْنَا ؟ فَفَزِعْنَا أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِينَا ، قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُون سورة الصف آية 1 - 2 َ " . قَالَ : فَقَرَأَ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا، ثُمَّ قَرَأَ يَحْيَى مِنْ فَاتِحَتِها إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، ثُمَّ قَرَأَ الأَوْزَاعِيُّ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، وَقَرَأَهَا الْوَلِيدُ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، میں نے کہا: آپ میں سے کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے یہ سوال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم اس بات سے گھبرا گئے کہ ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک، ایک کر کے بلایا، آپ نے صرف ہمیں بلایا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اکٹھے ہو گئے تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے بارے میں (قرآن کا کوئی حکم) نازل نہ ہو گیا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ * يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الصف: 1-2] ”اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے؛ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو تم کرتے نہیں ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے لے کر آخر تک یہ سورۃ ہمارے سامنے تلاوت کی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر یحییٰ نامی راوی نے بھی (یہ روایت نقل کرتے ہوئے) یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر اوزاعی نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر ولید نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4594]

4595

Sahih Ibn Hibban #4595

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أَشْهَدُ ، وَأَشْهَدُ لا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِِلا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں کسی کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتا ہوں کہ جو بھی شخص اس بات کی گواہی دے گا وہ شرک سے بری الذمہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4595]

4596

Sahih Ibn Hibban #4596

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِأَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، وَأَغْلاهَا ثَمَنًا " . قَالَ : فَإِِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " . قُلْتُ : فَإِِنْ ضَعُفْتُ عَنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " فَدَعِ الشَّرَّ ، فَإِِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مالک کے نزدیک عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اگر میں ایسا نہ کر سکوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کر دو یا جو شخص کوئی کام نہیں کر سکتا اس کے لیے کوئی کام کر دو۔“ میں نے دریافت کیا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم شر کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ صدقہ ہو گا جو تم اپنی ذات پر کرو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4596]