Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 40 · Chapter 3

Book of Pre-emption

Hadith 4523–4556

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4523

Sahih Ibn Hibban #4523

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ آخِرَ اللَّيْلِ إِِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقُولُ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَتَانَا وَإِِيَّاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ ، وَإِِنَّا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَطَاءٌ هَذَا : هُوَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارً مَوْلَى مَيْمُونَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی رات میں ان کے ہاں قیام کرنا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ پڑھتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ» ”اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو، ہمارے پاس اور تمہارے پاس کل وہ چیز آ جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی (جلد ہی) تم سے آ ملیں گے، اے اللہ! تو تمام اہل بقیع غرقد کی مغفرت کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطاء نامی راوی عطاء بن یسار ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4523]

4524

Sahih Ibn Hibban #4524

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّا يُذَكِّرُ النَّاسَ كُلَّ خَمِيسٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ . قَالَ : أَمَا إِِنَّهُ مَا يَمْنَعُنِي ذَلِكَ إِِلا مَخَافَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ بَيْنَ الأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے۔ ایک صاحب نے عرض کی: میری یہ خواہش ہے کہ آپ روزانہ ہمیں وعظ کیا کریں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف اس اندیشے کے تحت یہ کام نہیں کرتا کہ کہیں میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں وقفے وقفے سے وعظ کیا کرتے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4524]

4525

Sahih Ibn Hibban #4525

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ يَوْمًا يَسِيرُ شَاذًّا مِنَ الْجَيْشِ ، إِِذْ لَقِيَهُ رَجُلانِ شَاذَانِ مِنَ الْجَيْشِ ، فَقَالَ : يَا هَذَانِ ، إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ ثَلاثَةٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَكَانِ إِِلا أُمَّرُوا عَلَيْهِمْ ، فَلْيَتَأَمَّرْ أَحَدُكُمْ . قَالا : أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ . قَالَ : بَلْ أَنْتُمَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ وَالِي ثَلاثَةٍ إِِلا لَقِيَ اللَّهَ مَغْلُولَةَ يَمِينُهُ ، فَكَّهُ عَدْلُهُ ، أَوْ غَلَّهُ جَورُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عدی بن عدی کندی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ لشکر سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے، اسی دوران ان کی ملاقات دو آدمیوں سے ہوئی، وہ بھی لشکر سے ہٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے دو آدمیو! جب بھی اس طرح کی جگہ پر تین آدمی اکٹھے ہو جائیں تو ان پر کوئی امیر بھی ہونا چاہیے، اس لیے تم اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کر دو۔ ان دونوں نے کہا: اے ابودرداء! آپ امیر ہیں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ تم دونوں امیر ہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بھی تین آدمیوں کا کوئی نگران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کا دایاں ہاتھ بندھا ہوا ہو گا، اگر اس نے انصاف کیا ہو گا تو وہ اس کے ہاتھ کو کھلوا دے گا اور اگر ظلم کیا ہو گا تو وہ ہاتھ بندھا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4525]

4526

Sahih Ibn Hibban #4526

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالا : وَاللَّهِ لَوْ بَعَثَنَا هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ ، قَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ ، جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَاذَا تُرِيدَانِ ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا ، فَقَالَ : لا تَفْعَلا ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ . فَقَالا : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا ؟ فَمَا هَذَا مِنْكَ إِِلا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ ، فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، سَبَقْنَاهُ إِِلَى الْحُجْرَةِ ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا ، وَقَالَ : أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ " . وَدَخَلَ ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَ : فَكَلَّمْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبُ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ ، وَنُؤَدِّي إِِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ، حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ ، قَالَ : فَأَشَارَتْ إِِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلامِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَقَالَ : " أَلاإِِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ ، وَلا لآلِ مُحَمَّدٍ ، إِِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ". ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جُزْءٍ وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ . قَالَ : فَأَتَيَا ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ : " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ . لِلْفَضْلِ ، فَأَنْكَحَهُ ، وَقَالَ لأَبِي سُفْيَانَ : أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ . قَالَ : فَأَنْكَحَنِي ، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ : أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالمطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو لڑکوں کو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، تو یہ مناسب ہو گا)۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو زکوۃ کی وصولی کا نگران مقرر کر دیں اور جو تنخواہ لوگوں کو دیتے ہیں انہیں بھی دیا کریں اور جو فائدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ان دونوں کو بھی حاصل ہو۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان ابھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے دریافت کیا: آپ دونوں کیا چاہتے ہیں؟ ان دونوں صاحبان نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ ان دونوں نے دریافت کیا: یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ آپ صرف ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوا، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں، لیکن ہم نے تو آپ سے حسد نہیں کیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوالحسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج دو“۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے کان پکڑے اور فرمایا: ”جو تمہارے ذہن میں ہے بیان کرو“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی اندر گئے، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کی، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کریں اور اس سے جو فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے وہ ہمیں بھی حاصل ہو (یعنی ہمیں بھی تنخواہ ملے) ہم بھی آپ کو وہ چیز ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھا، یہاں تک کہ ہم نے یہ خواہش کی کہ ہم نے آپ سے اس بارے میں بات چیت نہ کی ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پردے کے پیچھے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کریں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ» ”بے شک صدقہ (زکوۃ) آلِ محمد کے لیے مناسب نہیں ہے، یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے“۔ پھر فرمایا: ”تم محمية بن جزء کو میرے پاس بلا کر لاؤ“ (یہ خمس وصول کرنے کے نگران تھے) ”اور ابوسفیان بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمية رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمائی تو انہوں نے ان کے ساتھ شادی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو“۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے میری شادی کر دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمية رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خمس میں سے ان دونوں کا مہر ادا کر دو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4526]

4527

Sahih Ibn Hibban #4527

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ فُلانٍ ، خُذِي أَيَّ الطُّرُقِ شِئْتِ ، فَقُومِي فِيهِ حَتَّى أَقُومَ مَعَكِ " ، فَخَلا مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون کچھ ذہنی مریض تھی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے امِ فلاں! تم جس بھی جگہ پر چاہو، جتنی دیر چاہو میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کی یہاں تک کہ اس عورت نے اپنی ضرورت کو پورا کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4527]

4528

Sahih Ibn Hibban #4528

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ ، وَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا ، وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی بچھا دیتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آرام فرمایا کرتے تھے، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ لے کر اپنی خوشبو میں ملا لیتی تھیں، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی بچھاتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4528]

4529

Sahih Ibn Hibban #4529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالأَذَانِ ، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ ، فَلَقِيَنِي غُلامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ : غَطَفَانُ . قَالَ : فَصَرَخْتُ ، فَقُلْتُ : يَا صَبَاحَاهُ ، فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُ الْقَوْمَ ، وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنَ الْمَاءِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ ، وَكُنْتُ رَامِيًا ، وَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاثِينَ بُرْدَةً ، قَالَ : وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ ، فَابْعَثْ إِِلَيْهِمُ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الأَكْوَعِ ،مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ، إِِنَّهُمُ الآنَ بِغَطَفَانَ يُقْرَوْنَ " . قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اذان ہونے سے پہلے (اپنے گھر سے) نکلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں اس وقت ذی قرد کے مقام پر چل رہی تھیں، میری ملاقات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ہوئی، اس نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑی گئی ہیں، میں نے دریافت کیا: ”انہیں کس نے پکڑا ہے؟“ اس نے جواب دیا: غطفان (قبیلے کے لوگوں نے پکڑا ہے)۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بلند آواز میں چیخ ماری «يَا صَبَاحَاهْ» ”خطرہ ہے“، پورے مدینہ منورہ تک میری آواز گئی، پھر میں سامنے کی سمت میں دوڑ پڑا یہاں تک کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا، وہ اس وقت پانی پلا رہے تھے، میں نے انہیں تیر مارنے شروع کیے، میں بڑا اچھا تیر انداز تھا، میں ساتھ یہ بھی کہتا جا رہا تھا: «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینے لوگوں کی بربادی کا دن ہے۔“ (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو حاصل کر لیا، میں نے ان سے تیس چادریں بھی حاصل کر لیں، اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ تشریف لے آئے، میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے ان لوگوں کو پانی پر گھیر لیا تھا، وہ لوگ پیاسے ہیں، آپ اسی وقت ان کے پیچھے کسی کو روانہ کر دیں (تو وہ پکڑے جا سکتے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اکوع کے بیٹے! تم کامیاب ہو گئے ہو تو بس ٹھیک ہے، وہ لوگ اس وقت غطفان قبیلے تک پہنچ چکے ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم روانہ ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4529]

4530

Sahih Ibn Hibban #4530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلاطٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالا ، وَإِِنَّ لِي بِهَا أَهْلا ، وَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ ، فَأَنَا فِي حَلٍّ إِِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ ، قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكَ ، فَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَإِِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ ، قَالَ : وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ ، فَأَوْجَعَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا ، وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقَرَ فِي مَجْلِسِهِ ، وَجَعَلَ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي الْجَزَرِيُّ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : قُثَمٌ ، وَكَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَلْقَى ، فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الأَنْفِ الأَشَمْ نَبِيُّ رَبِّ ذِي النِّعَمْ بِرَغْمِ أَنْفِ مَنْ رَغَمَ قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ ثَابِتٌ : عَنْ أَنَسٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ غُلامًا لَهُ إِِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلاطٍ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ مَا جِئْتَ بِهِ ، وَمَاذَا تَقُولُ ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرًا مِمَّا جِئْتَ بِهِ ، قَالَ الْحَجَّاجُ لِغُلامِهِ : أَقْرِئْ أَبَا الْفَضْلِ السَّلامَ ، وَقُلْ لَهُ : فَلْيُخْلِ لِي بَعْضَ بُيُوتِهِ لآتِيَهُ ، فَإِِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ ، فَجَاءَ غُلامُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ ، قَالَ : أَبْشِرْ أَبَا الْفَضْلِ فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ ، فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ جَاءَ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَغَنَمَ أَمْوَالَهُمْ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ،وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، واتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ ، وَخَيَّرَهَا بَيْنَ أَنْ يُعْتِقَهَا فَتَكُونُ زَوْجَتُهُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا ، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونُ زَوْجَتُهُ " . وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَا هُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ وأَذْهَبَ بِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ ، فَاخْفِ عَنِّي ثَلاثًا ، ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ : فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ ، جَمَعَتْهُ فَدَفَعْتُهُ إِِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُكِ ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ ، وَقَالَتْ : لا يُخْزِنَكَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ . قَالَ : أَجَلْ لا يُحْزِنَنِي اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِِلا مَا أَحْبَبْنَاهُ ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ ، أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، فَإِِنْ كَانَ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ . قَالَتْ : أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا . قَالَ : فَإِِنِّي صَادِقٌ ، وَالأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ . قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : لا يُصِيبُكَ إِِلا خَيْرٌ أَبَا الْفَضْلِ . قَالَ : لَمْ يُصِبْنِي إِِلا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ ، أَنَّ خَيْبَرَ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَنْهُ ثَلاثًا ، وَإِِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَا كَانَ لَهُ ثُمَّ يَذْهَبَ ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ ، فَأَخْبَرَهُمُ الْخَبَرَ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ ، وَرَدَّ اللَّهُ مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ ، أَوْ خِزْيٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مکہ میں میری زمین ہے اور میرے بال بچے بھی وہاں ہیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے پاس چلا جاؤں، آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں (جھوٹ موٹ کے طور پر) آپ کے خلاف بات کروں یا کوئی بات کہوں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ ”وہ جو چاہیں کہہ دیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ”تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اکٹھا کر کے مجھے دو، میں یہ چاہتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے بکریاں خرید لوں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے اور ان کے اموال تباہ ہو گئے ہیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں: یہ بات مکہ میں پھیل گئی، اس سے مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا اور مشرکین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، یہ اطلاع سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تک بھی پہنچی تو وہ جہاں تھے وہیں بیٹھے رہ گئے، ان سے کھڑا بھی نہ ہوا گیا۔ مقسم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے قثم کو لیا (وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے)، سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اپنے ساتھ لٹا لیا، انہیں اپنے سینے پر رکھا اور یہ کہا: «حَبِي قُثَمْ، شَبِيهُ ذِي النَّسَمْ، نَبِيِّ ذِي النِّعَمْ، رَغِمَ أَنْفُ مَنْ رَغِمْ» ”میرا محبوب قثم جو مرنے والی شخصیت (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، جو اس پروردگار کے بھیجے ہوئے نبی ہیں جو نعمتیں عطا کرتا ہے، خواہ کسی کو یہ کتنا ہی برا لگے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنے لڑکے کو سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا: ”تمہارا ستیاناس ہو! تم کیا اطلاع لے کر آئے ہو اور کیا کہتے پھر رہے ہو؟ تم جو اطلاع لے کر آئے ہو اللہ تعالیٰ نے اس شکل میں بھلائی کا وعدہ نہیں کیا تھا“۔ تو حجاج نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام سے کہا: ”تم سیدنا ابوالفضل رضی اللہ عنہ (یعنی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ) کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور ان سے یہ کہنا کہ وہ اپنے گھر میں مجھ سے تنہائی میں ملنے کا موقع دیں، انہیں ایسی اطلاع ملے گی جو انہیں خوش کر دے گی“۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام آیا اور جب وہ دروازے پر پہنچا تو بولا: ”اے ابوالفضل! آپ خوشخبری قبول کیجیے“، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ انتہائی خوش ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، اس نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا جو حجاج نے اسے بتایا تھا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو آزاد کر دیا، پھر حجاج آئے، انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو صورت حال کے بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور ان لوگوں کا مال غنیمت حاصل کر لیا ہے اور ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی جاری ہوا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لیں ورنہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائے، تو اس خاتون نے اس بات کو اختیار کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ (سیدنا حجاج نے بتایا) ”میں اپنے مال کی وجہ سے یہاں آیا ہوں جو یہاں ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے اکٹھا کروں اور اسے ساتھ لے کر چلا جاؤں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی تو آپ نے مجھے اجازت دے دی کہ میں جو چاہوں وہ بیان کر دوں، آپ تین دن تک اس بات کو خفیہ رکھیں اس کے بعد آپ جیسے مناسب سمجھیں اس کا ذکر کر دیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی اہلیہ نے جو کچھ موجود تھا اس سب کو اکٹھا کیا جس کا تعلق زیورات اور ساز و سامان سے تھا، اس خاتون نے اسے اکٹھا کیا اور ان کے سپرد کیا، تو وہ اس سامان کو ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ تین دن گزرنے کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا حجاج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے پاس آئے اور دریافت کیا: ”تمہارے شوہر کا کیا حال ہے؟“ اس خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ تو چلے گئے ہیں، اس خاتون نے کہا: ”اے ابوالفضل! اللہ تعالیٰ آپ کو رسوائی سے محفوظ رکھے، آپ تک جو اطلاع پہنچی ہے وہ ہمیں بہت گراں گزری ہے“، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں! اللہ تعالیٰ مجھے رسوائی سے محفوظ رکھے لیکن اللہ کے فضل سے جو ہم پسند کرتے ہیں وہی ہو گا، حجاج نے مجھے بتا دیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور خیبر میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر ہو گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے اور اگر تم اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ“۔ اس خاتون نے کہا: ”اللہ کی قسم! آپ کے بارے میں میرا یہی گمان ہے، آپ سچ بول رہے ہیں“، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں سچ ہی بول رہا ہوں اور صورت حال اسی طرح ہے جس طرح میں نے تمہیں بتائی ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تو وہاں سے چلے گئے اور قریش کی محفل میں تشریف لے آئے، وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے: ”اے ابوالفضل! آپ کو تو ہمیشہ بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے“، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب بھی اللہ کے فضل سے مجھے صرف بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے، حجاج نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کو اپنے رسول کے لیے فتح کر دیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر ہوا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے، حجاج نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ میں تین دن تک اس بات کو پوشیدہ رکھوں، حجاج یہاں اس لیے آیا تھا تاکہ اس کی جو چیزیں یہاں ہیں وہ انہیں حاصل کر لے اس کے بعد وہ چلا گیا“۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو مسلمانوں کو مشرکین کے حوالے سے جو پریشانی تھی اللہ تعالیٰ نے اسے ختم کر دیا اور جو بھی مسلمان اپنے گھر میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے وہ باہر نکل آئے یہاں تک کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اصل صورت حال بتائی تو مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے اور انہیں جو دکھ اور پریشانی اور مشرکین کے حوالے سے جو تکلیف تھی وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4530]

4531

Sahih Ibn Hibban #4531

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ حِينَ وُلِدَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، فَقَالَ : هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاكَهُنَّ ، ثُمَّ فَغَرَفَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ ". وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں صاحب زادے عبداللہ کی پیدائش پر اسے ساتھ لے کر ایک چادر میں لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (صدقے کے) اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے کچھ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچے کے منہ میں ڈال دیں، بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انصار کھجوروں سے محبت کرتے ہیں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4531]

4532

Sahih Ibn Hibban #4532

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : يَا أَنَسُ ، انْظُرْ هَذَا الْغُلامَ فَلا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَنِّكُهُ . قَالَ : فَغَدَوْتُ بِهِ فَإِِذَا هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دیا تو انہوں نے فرمایا: اے انس! تم اس بچے کا دھیان رکھنا، یہ کوئی چیز نہ کھائے جب تک یہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھٹی نہیں دیتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس بچے کو لے کر روانہ ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے جو فتح کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4532]

4533

Sahih Ibn Hibban #4533

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ ،فَوَافَيْتُهُ بِيَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِِبِلَ الصَّدَقَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تاکہ آپ اسے گھٹی دیں، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگانے والا آلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذریعے زکوۃ کے اونٹوں کو نشان لگا رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4533]

4534

Sahih Ibn Hibban #4534

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : عَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَارِنَا ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ ، وَإِِنَّ الأَمْطَارَ إِِذَا اشْتَدَّتْ سَالَ الْوَادِي فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي ، فَلَوْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ . قَالَ : فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَاسْتَأْذَنَا ، فَأَذِنْتُ لَهُمَا ، قَالَ : فَمَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ :" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِِلَى نَاحِيَةٍ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ایک ڈول میں سے پانی لے کر کلی فرمائی تھی جو ہمارے گھر میں لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو نشیبی علاقے میں پانی جمع ہو جاتا ہے جو میرے اور میرے محلے کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، لہٰذا آپ اگر میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرما لیں تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے ان دونوں کو اجازت دے دی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ دریافت فرمایا: ”تم کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں اس جگہ نماز ادا کروں؟“ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف بنائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «خَزِيرَة» ”خزیرہ“ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4534]

4535

Sahih Ibn Hibban #4535

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقِلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الأَحْزَابِ ، وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ " ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَوْلا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنَ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِِنْ لاقَيْنَا إِِنَّ الأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہمراہ مٹی منتقل کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی کو مٹی نے ڈھانپ لیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار پڑھ رہے تھے: ”اے اللہ! اگر تیری ذات نہ ہوتی تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے، نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ ہم نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما اور جب ہمارا دشمن سے سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، بے شک ان لوگوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، وہ لوگ اگر آزمائش کا ارادہ کریں گے تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4535]

4536

Sahih Ibn Hibban #4536

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : أَصَبْتُ شَارِفًا فِي مَغْنَمِ بَدْرٍ ،وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا ، فَأَنَخْتُهُمَا عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِِذْخِرًا أَبِيعَهُ أَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ ، وَمَعِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي الْبَيْتِ ، وَمَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ ، فَقَالَتْ : أَلا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِِلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا ، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، فَقُلْتُ : السِّنَامُ ، فَقَالَ : ذَهَبَ بِهِ كُلِّهِ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدُ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِهِ ، أَوْ قَالَ : عَلَى رَأْسِ حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : أَلَسْتُمْ عَبِيدَ آبَائِي ؟ قَالَ : فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں مجھے ایک اونٹنی ملی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹنی بھی عطا کر دی، میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس باندھ دیا، میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (نامی گھاس) لاد کر لاؤں گا، پھر اسے فروخت کروں گا اور اس کے ذریعے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے ولیمے کی تیاری کروں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک آدمی بھی تھا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں موجود تھے، وہاں ایک کنیز گانا گا رہی تھی، وہ یہ گا رہی تھی: اے حمزہ! عمدہ قسم کی اونٹنیوں (پر حملہ کر دو)؛ تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ذریعے ان دونوں پر حملہ کر کے ان کی کوہانیں کاٹ دیں، ان کے پہلو چھیل دیے اور ان کے کلیجے نکال لیے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کوہان کا کیا بنا؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ تو ساری ختم کر دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ سب دیکھا تو مجھے بڑا دکھ ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں بھی ان کے ساتھ چلتا ہوا آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے ہوئے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ناراضی کا اظہار کیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے سر اٹھایا اور بولے: کیا تم سب لوگ میرے باپ دادا کے غلام نہیں ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4536]

4537

Sahih Ibn Hibban #4537

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سِنَانَ بْنِ أَبِي سِنَانَ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قَبْلَ نَجْدٍ ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ فِي الشَّجَرِ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ : إِِنَّهَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ ، وَهُوَ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ لَهُ : اللَّهُ . قَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ . فَشَامَ السَّيْفَ ، وَجَلَسَ فَهُوَ هَذَا جَالِسٌ ، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی سمت ایک غزوے میں شرکت کی، ایک دن انہیں دوپہر کے آرام کا وقت ایک ایسی وادی میں آیا جہاں درخت بہت زیادہ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا، لوگ مختلف درختوں کے سائے حاصل کرنے کے لیے ادھر ادھر پھیل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اس درخت کے ساتھ لٹکا دی، (بعد میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود شخص کے بارے میں بتایا کہ ”اس شخص نے مجھ پر تلوار سونت لی تھی، میں اس وقت سویا ہوا تھا، میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں تھی، اس نے مجھ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے اسے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ“، اس نے پھر دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ“، تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور یہ بیٹھ گیا، اب یہ بیٹھا ہوا ہے“، (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4537]

4538

Sahih Ibn Hibban #4538

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " ائْذَنِي لَهُ ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلانَ لَهُ الْقَوْلَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْ عَائِشَةُ ، إِِنَّشَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا بہت برا شخص ہے“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ جب وہ شخص اندر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی، جب وہ چلا گیا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہو گا جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4538]

4539

Sahih Ibn Hibban #4539

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبَ إِِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ " . قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی بنی ہوئی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور گوشت تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن کے بعد میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4539]

4540

Sahih Ibn Hibban #4540

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي ذَاتِ السَّلاسِلِ ، فَسَأَلَهُ أَصْحَابُهُ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا ، فَمَنَعَهُمْ ، فَكَلَّمُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : لا يُوقِدُ أَحَدٌ مِنْهُمْ نَارًا إِِلا قَذَفْتُهُ فِيهَا . قَالَ : فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَهَزَمُوهُمْ ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ ، فَمَنَعَهُمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَلِكَ الْجَيْشُ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَكَوْهُ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُمْ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا فَيَرَى عَدُوُّهُمْ قِلَّتَهُمْ ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ فَيَكُونُ لَهُمْ مَدَدٌ فَيُعْطِفُوا عَلَيْهِمْ ، فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ" مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِِلَيْكَ ؟ قَالَ : " لِمَ ؟ " قَالَ : لأُحِبُّ مَنْ تُحِبُّ . قَالَ : " عَائِشَةُ " . قَالَ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگِ ذاتِ سلاسل میں بھیجا، ان کے ساتھیوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگ جلا لیں، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ لوگوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے بات کی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو بھی شخص آگ جلائے گا میں اسے اس آگ میں ڈال دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو انہوں نے دشمن کو شکست دے دی (دشمن بھاگ کھڑا ہوا)، ان لوگوں نے ان کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا۔ جب یہ لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس لیے انہیں آگ جلانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ دشمن کو ان کی تعداد کی کمی کا اندازہ ہو جانا تھا اور میں نے اس لیے انہیں دشمن کے پیچھے نہیں جانے دیا کہ اگر دشمن کو کہیں سے مدد حاصل ہو گئی تو وہ ان پر غالب آ جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فیصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: اس لیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے محبت کرتے ہیں میں بھی اس سے محبت رکھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ“۔ انہوں نے دریافت کیا: مردوں میں کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4540]

4541

Sahih Ibn Hibban #4541

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، وَإِِنَّا لا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْعُو لَهُ مَنْ وَرَاءِنَا مِنْ قَوْمِنَا ، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ أَوْ عَمِلْنَا . فَقَالَ : آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُوا الصَّلاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ ؟ قَالَ : " الْجِذْعُ تَنْقُرُونَهُ وَتُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ ، أَوِ التَّمْرِ ، ثُمَّ تَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ كَيْ يَغْلِيَ ، فَإِِذَا سَكَنَ شَرِبْتُمُوهُ ، فَعَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ " ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ بِهِ ضَرْبَةٌ كَذَلِكَ ، قَالَ : كُنْتُ أُخَبِّؤُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اشْرَبُوا فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي تُلاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضُنَا كَثِيرُ الْجِرْذَانِ لا يَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ . قَالَ : وَإِِنْ أَكَلَهَا الْجِرْذَانُ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمُ ، وَالأَنَاةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس قبیلے کا وفد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رہتے ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں، آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیجیے جس کی ہم اپنے پیچھے موجود اپنی قوم کے افراد کو تعلیم دیں اور اس وقت جب ہم اس کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں، اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں؛ (میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔ اور میں چار چیزوں سے تمہیں منع کرتا ہوں: «الدُّبَّاءِ» ”کدو کا برتن“، «الْحَنْتَمِ» ”سبز مٹکا“، «الْمُزَفَّتِ» ”روغنی برتن“ اور «النَّقِيرِ» ”لکڑی کا کریدا ہوا برتن“۔“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «النَّقِيرِ» کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانتے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے تنے کو سوراخ کر کے اس میں تم لوگ چھوہارے یا کھجور ڈال دیتے ہو، پھر تم اس پر پانی انڈیل دیتے ہو تاکہ اس میں جوش آ جائے، پھر جب وہ پرسکون ہو جائے تو تم اسے پی لیتے ہو، تو ہو سکتا ہے (اسے پینے کے بعد نشے کی حالت میں) کوئی شخص اپنے چچا زاد کو اپنی تلوار کے ذریعے قتل کر دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ حاضرین میں سے ایک شخص نے ایسا کیا ہوا تھا، وہ صاحب کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کرتے ہوئے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، اے اللہ کے نبی! ہم کیا پئیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزوں میں پانی پیو جن کے منہ کو بند کیا گیا ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری سرزمین پر چوہے بہت زیادہ ہیں، وہ چمڑے کی کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اسے چوہے نے کاٹ لیا ہو“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے سردار سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: بردباری اور وقار۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4541]

4542

Sahih Ibn Hibban #4542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِهِمْ فَجَزَّأَهُمْ ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مرنے کے قریب چھ غلام آزاد کر دیے، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، ان کے حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4542]

4543

Sahih Ibn Hibban #4543

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فِي نَفَرٍ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا ، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا ، وَفَزِعْنَا ، فَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ ، فَخَرَجْتُ أُتْبِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَدُرْتُ لَهُ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا ، فَإِِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ مِنْ خَارِجِهِ ، وَالرَّبِيعُ : الْجَدْوَلُ ، فَاحْتَفَزْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قُلْتُ : قُمْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا ، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا ، وَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ ، وَهَؤُلاءِ النَّاسُ وَرَائِي ، فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ ، وَقَالَ :" اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَاتَانِ النَّعْلانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قُلْتُ : هَاتَانِ نَعْلا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِي بِهِمَا فَمَنْ لَقِيتُ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَضَرَبَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ خَرَرْتُ لاسْتِي ، فَقَالَ : ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَرَجَعْتُ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْهَشْتُ بِالْبُكَاءِ ، وَأَدْرَكَنِي عُمَرُ عَلَى أَثَرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ " قُلْتُ : لَقِيتُ عُمَرَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ ، فَضَرَبَنِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاسْتِي ، فَقَالَ : ارْجِعْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، بَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ : مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ يُبَشِّرُهُ بِالْجَنَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَلا تَفْعَلْ ، فَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَخَلِّهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ہم چھ افراد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک نہ دیا گیا ہو (یعنی کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا ہو)، ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا یہاں تک کہ میں بنو نجار سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کے باغ کے پاس آیا، میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کیا مجھے اس کے اندر جانے کا دروازہ ملتا ہے؟ تو وہاں ایک ربیع (درخت کی شاخ یا چھوٹی نہر) باغ کی دیوار میں سے اندر جا رہی تھی۔ (راوی کہتے ہیں:) «الرَّبِيعُ» ”جدول (چھوٹی نہر) کو کہتے ہیں“۔ میں نے اسے ہٹایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم ابوہریرہ ہو؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں آئے ہو؟“ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائے تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک نہ لیا گیا ہو، تو ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ میں آ گیا، میں اس میں یوں داخل ہوا ہوں جس طرح لومڑی داخل ہوتی ہے اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نعلین مجھے عطا کیے اور فرمایا: ”میرے یہ نعلین لے کر جاؤ اور اس باغ سے باہر تمہیں جو بھی ایسا شخص ملے جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) سب سے پہلے میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: ”اے ابوہریرہ! یہ نعلین کس کے ہیں؟“ میں نے جواب دیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ نشانی کے طور پر مجھے دیے ہیں) اور مجھے ان کے ہمراہ بھیجا ہے کہ اس باغ کے باہر مجھے جو بھی ایسا شخص ملے جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، تو میں اسے جنت کی خوشخبری دے دوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا تو میں الٹا ہو کر پیچھے گر گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! واپس جاؤ۔“ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں رو رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا ہوا؟“ (میں نے عرض کی:) میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے انہیں اس پیغام کے بارے میں بتایا جس کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا کہ میں الٹا ہو کر گر گیا اور انہوں نے کہا: ”تم واپس جاؤ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین کے ہمراہ یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ ان کی ملاقات جس بھی ایسے شخص سے ہو جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، یہ اسے جنت کی بشارت دے دے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ایسا نہ کیجئے کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عمل کرنے دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اچھا) تم انہیں چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4543]

4544

Sahih Ibn Hibban #4544

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ صَلاةُ الْعِشَاءِ ، فَقَامَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَامَ بِنَاحِيَةٍ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَصَلُّوا ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) عشاء کی نماز قائم ہو گئی، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد کے) ایک گوشے میں (اس شخص کے ہمراہ) کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ لوگ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ لوگ اونگھنے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور لوگوں نے بھی نماز ادا کی، راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ان لوگوں نے ازسرِ نو وضو کیا تھا (یا وضو نہیں کیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4544]

4545

Sahih Ibn Hibban #4545

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِِقَامِ الصَّلاةِ ، وَإِِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4545]

4546

Sahih Ibn Hibban #4546

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ". فَكَانَ إِِذَا اشْتَرَى شَيْئًا أَوْ بَاعَهُ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اعْلَمْ أَنَّ مَا أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَهُ فَاخْتَرْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی رکھنے کی بیعت کی تھی۔“ (راوی کہتے ہیں) ان کا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یا شاید سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا) یہ معمول تھا کہ جب وہ کوئی چیز خریدتے تھے یا کوئی چیز فروخت کرتے تھے تو دوسرے فریق یہ کہتے تھے: ”یہ بات جان لو کہ ہم نے جو چیز تم سے حاصل کی ہے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے جو ہم نے تمہیں دی ہے، تو اب تمہیں اختیار ہے (یعنی تم سودا مکمل کر لو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4546]

4547

Sahih Ibn Hibban #4547

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَأَنْ لا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا ، لا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : سَمِعَ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر آسانی، تنگی، پسندیدگی اور زبردستی، ہر حال میں فرمانبرداری کرنے کی بیعت کی تھی اور اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم حکومت کے معاملے میں حکمرانوں سے کوئی جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کو قائم رکھیں گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) حق کے مطابق بات کہیں گے، خواہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبادہ بن ولید نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4547]

4548

Sahih Ibn Hibban #4548

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا إِِذَابَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جہاں تک تمہاری استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرو گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4548]

4549

Sahih Ibn Hibban #4549

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّانُبَايعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جہاں تک تمہاری استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرو گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4549]

4550

Sahih Ibn Hibban #4550

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ عَبْدًا بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَأَتَاهُ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، قَالَ : فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايعْ أَحَدًا عَلَى الْهِجْرَةِ حَتَّى يَسْأَلَهُ : " أَعْبُدٌ هُوَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ہجرت کی بیعت کی، پھر اس کا مالک اسے تلاش کرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض میں اس غلام کو خرید لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی شخص کی بیعت اس وقت تک نہیں کی جب تک اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دریافت نہیں کر لیتے تھے کہ ”کیا وہ غلام ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4550]

4551

Sahih Ibn Hibban #4551

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِهِ ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ ، لَمْ نُبَايعْهُ عَلَى الْمَوْتِ . قُلْنَا لَهُ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے درخت کی ایک شاخ کو اٹھا رہا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے، ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا معقل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس وقت آپ کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار چار سو۔) [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4551]

4552

Sahih Ibn Hibban #4552

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا إِِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا : عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ہم بیعت کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تلقین کرتے تھے: ”(تم یہ کہو) ہم اپنی استطاعت کے مطابق اطاعت و فرمانبرداری کرنے (کی بیعت کرتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4552]

4553

Sahih Ibn Hibban #4553

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ يُبَايِعْنَهُ ، فَقُلْنَ : نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَنْ لا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا نَسْرِقَ ، وَلا نَزْنِيَ ، وَلا نَقْتُلَ أَوْلادَنَا ، وَلا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا ، وَلا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا ، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، إِِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ مِثْلَ قَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ خواتین کے ہمراہ حاضر ہوئی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنی تھی، ان خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ﴿ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی، ہم چوری نہیں کریں گی، ہم زنا نہیں کریں گی، ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، ہم اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور ہم نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی﴾ [سورة الممتحنة: 12] ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» ”تم اپنی استطاعت کے مطابق اور طاقت کے مطابق (اس پر عمل کرنا)۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہماری اپنی جان سے زیادہ ہمارے بارے میں رحم دل ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ آگے ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ» ”میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا، میں ایک سو خواتین کے ساتھ جس طرح بات کرتا ہوں، اسی طرح ایک خاتون کے ساتھ بات کرتا ہوں“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4553]

4554

Sahih Ibn Hibban #4554

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ " . قَالَتْ : فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً ، فَأَعْجَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : قَرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا عَلَى هَذَا ، فَبَايَعَهَا بِالآيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا بیعت کرنے کے لیے آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات کی بیعت لی کہ ”وہ چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس خاتون نے شرم کی وجہ سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرکت پر حیرانی ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خاتون سے فرمایا: ”اے خاتون! آپ اس بات کا اقرار کیجیے، اللہ کی قسم! ہم خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسی بات کی بیعت کرتی ہیں“، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے آیت [سورة الممتحنة: 12] کے (حکم کے) مطابق بیعت لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4554]

4555

Sahih Ibn Hibban #4555

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُرَاتٌ الْقَزَّازُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّبَنِي إِِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ ، كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ ، وَأَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يَكُونُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : خُلَفَاءُ وَيَكْثُرُونَ . قَالَ : فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَدُّوا بَيْعَةَ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ، وَأَدُّوا إِِلَيْهِمْ مَا لَهُمْ ، فَإِِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل میں یکے بعد دیگرے انبیاء تشریف لاتے رہے، جب کسی ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرے نبی تشریف لے آتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے بعد کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلفاء ہوں گے اور (خلیفہ ہونے کے دعوے دار) بہت سے لوگ ہوں گے“۔ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ اس صورتِ حال میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی بیعت کو ادا کرنا جس کی پہلے بیعت کی گئی ہو، ان کا جو حق ہے اسے تم ادا کر دینا اور تمہارا جو حق ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ حساب لے گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4555]

4556

Sahih Ibn Hibban #4556

أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ عَصَى الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اور جس شخص نے حاکمِ وقت کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے حاکمِ وقت کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4556]