Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 39 · Chapter 3

Book of Usurpation

Hadith 4406–4439

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4406

Sahih Ibn Hibban #4406

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِِنَّهَاسَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب فساد ہی فساد ہوں گے، جو شخص اس امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے، جبکہ وہ لوگ اکٹھے ہوں تو اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو، خواہ وہ جو کوئی بھی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4406]

4407

Sahih Ibn Hibban #4407

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثوري ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي لا إِِلَهَ غَيْرُهُ ،لا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِِلا ثَلاثَةَ نَفَرٍ : التَّارِكُ لِلإِِسْلامِ ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ". قَالَ الأَعْمَشُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، ایسے کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ اور «أَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں“، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے: «التَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ» ”اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص“، «الثَّيِّبُ الزَّانِي» ”شادی شدہ زانی“ اور «النَّفْسُ بِالنَّفْسِ» ”وہ شخص جسے کسی دوسرے (کے قتل کے بدلے میں) قتل کیا جائے۔““ اعمش بیان کرتے ہیں: میں نے یہ روایت ابراہیم کو سنائی تو انہوں نے مجھے اسود کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اسی کی مانند روایت سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4407]

4408

Sahih Ibn Hibban #4408

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِِلا بِإِِحْدَى ثَلاثٍ : الثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی ایسے شخص کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے میں جان اور اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص (یعنی انہیں قتل کیا جائے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4408]

4409

Sahih Ibn Hibban #4409

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا ، أُمْهِلُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاؤں تو اسے مہلت دوں جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں!“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4409]

4410

Sahih Ibn Hibban #4410

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا ظَهْرَ فِي قَوْمٍ الزِّنَى وَالرِّبَا ، إِِلا أَحَلُوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ جَلا وَعَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی قوم میں زنا اور سود عام ہو جائیں تو وہ لوگ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کر لیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4410]

4411

Sahih Ibn Hibban #4411

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ ، وَلا مَتَاعَ لَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ ، وَقَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيَقْعُدُ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ ، أَخَذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان وہ شخص مفلس شمار ہوتا ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور ساز و سامان نہ ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہو گا، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا پیٹا ہو گا تو اس شخص کو بٹھایا جائے گا اور اس کی کچھ نیکیاں کسی کو دے دی جائیں گی، کچھ نیکیاں کسی (دوسرے) کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ جب اس کے ذمے لازم ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دیے جائیں گے اور پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4411]

4412

Sahih Ibn Hibban #4412

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چور، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا، زانی، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا، شراب پینے والا اسے پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا، (تاہم) اس کے بعد توبہ کی گنجائش ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4412]

4413

Sahih Ibn Hibban #4413

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاثَةٌ لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالإِِمَامُ الْكَذَّابُ ، وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا: بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران، غریب متکبر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4413]

4414

Sahih Ibn Hibban #4414

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " قَالَ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهَا : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ (سائل نے) دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: ﴿اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور کسی ایسے فرد کو قتل نہیں کرتے (جس کے قتل کو) اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ زنا نہیں کرتے جو ایسا کرتا ہے وہ گناہ تک پہنچ جاتا ہے﴾ [سورة الفرقان: 68] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4414]

4415

Sahih Ibn Hibban #4415

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : إِِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ ، ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَرَوَاهُ وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَرَوَاهُ جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٌ ، وَوَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَلَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ أَبُو وَائِلٍ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، حَتَّى يَكُونَ الطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو جبکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ میں نے عرض کی: بے شک یہ بہت بڑا ہے، پھر (اس کے بعد) کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے کے تحت قتل کر دو، کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔“ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ابوشہاب نے اعمش کے حوالے سے، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ وکیع نے یہ روایت اعمش، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ شعبہ نے یہ روایت احدب، ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ منصور نے یہ روایت ابووائل، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ جریر نے یہ روایت اعمش، ابووائل، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری نے یہ روایت اعمش، منصور، واصل کے حوالے سے، عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابووائل نے یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو اور عمرو بن شرحبیل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو، تو یوں اس کے دونوں طرق محفوظ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4415]

4416

Sahih Ibn Hibban #4416

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ " . قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ میں نے عرض کی: پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔“ میں نے دریافت کیا: پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور وہ کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ زنا نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4416]

4417

Sahih Ibn Hibban #4417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَعَنِ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الأَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ " . قَالَهَا ثَلاثًا فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ. عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو زمین کی حد بندی کو تبدیل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو کسی نابینا کو راستے سے بھٹکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو قومِ لوط جیسا عمل کرے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) قومِ لوط کے عمل کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ عبدالملک نامی راوی ابوعامر عقدی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4417]

4418

Sahih Ibn Hibban #4418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو کسی مرد یا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4418]

4419

Sahih Ibn Hibban #4419

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلانِ تَزْنِيَانِ ، وَيُحَقِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں، زبان زنا کرتی ہے، دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں، دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4419]

4420

Sahih Ibn Hibban #4420

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهُ بِاللَّمَمِ مما قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَتَبَ اللَّهُ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى ، أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ : فَزِنَى الْعَيْنُ النَّظَرُ ، وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى ذَلِكَ وَتَشْتَهِي ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو گناہ کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، جس کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کے نصیب میں زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جس تک وہ لامحالہ پہنچے گا، تو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تردید کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4420]

4421

Sahih Ibn Hibban #4421

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ بَنِي آدَمَ لَهُ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَى أَدْرَكَهُ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ : فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ النُّطْقُ ، وَالْقَلْبُ زِنَاهُ التَّمَنِّي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ وَيُكَذِّبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر انسان کا زنا میں سے حصہ ہے، جس تک وہ ضرور پہنچے گا، تو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا آرزو کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تردید کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4421]

4422

Sahih Ibn Hibban #4422

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَوْبَانَ الطُّرْسُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُلُّ بَنِي آدَمَ أَصَابَ مِنَ الزِّنَى لا مَحَالَةَ : فَالْعَيْنُ زِنَاؤُهَا النَّظَرُ ، وَالْيَدُ زِنَاؤُهَا اللَّمْسُ ، وَالنَّفْسُ تَهْوَى ، يُصَدِّقُهُ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر انسان زنا کا لازمی مرتکب ہوتا ہے، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھ کا زنا چھونا ہے، نفس خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4422]

4423

Sahih Ibn Hibban #4423

أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عَلَى كُلِّ نَفْسِ ابْنِ آدَمَ كَتَبَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى : الْعَيْنُ زِنَاؤُهَا النَّظَرُ ، وَالأُذُنُ زِنَاؤُهَا السَّمْعُ ، وَالْيَدُ زِنَاؤُهَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلُ زِنَاؤُهَا الْمَشْيُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاؤُهُ الْكَلامُ ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى الشَّيْءَ ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر انسان کے وجود میں زنا کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، کان کا زنا سننا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے، زبان کا زنا کلام کرنا ہے اور دل کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4423]

4424

Sahih Ibn Hibban #4424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ ، وَكُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی عورت عطر لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ انہیں اس کی خوشبو آئے تو وہ عورت زنا کرنے والی ہے اور (اسے دیکھنے والی) ہر آنکھ زنا کرنے والی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4424]

4425

Sahih Ibn Hibban #4425

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا عَنِّي ، خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي» ”مجھ سے احکام حاصل کر لو، مجھ سے احکام حاصل کر لو،“ اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کے لیے راستہ مقرر کر دیا ہے (یعنی ان کا حکم بیان کر دیا ہے)؛ شادی شدہ شخص شادی شدہ کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) تو اس کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں اور سنگسار کیا جائے، اور کنوارا اگر کنواری کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) تو اسے ایک سو کوڑے لگائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4425]

4426

Sahih Ibn Hibban #4426

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَيُنْفَيَانِ سَنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھ سے حکم حاصل کر لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ کا شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرنے) پر ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر سنگسار کر دیا جائے، جب کہ کنوارے کا کنواری کے ساتھ (زنا کرنے کی صورت میں) ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور انہیں ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4426]

4427

Sahih Ibn Hibban #4427

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خُذُوا عَنِّي ، فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ ، الْبِكْرُ تُجْلَدُ وَتُنْفَى ، وَالثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھ سے احکام حاصل کر لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے؛ کنوارا کنواری کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) اور شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) تو کنوارے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ کو کوڑے لگائے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4427]

4428

Sahih Ibn Hibban #4428

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَتْ سُورَةُ الأَحْزَابِ تُوَازِي سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَكَانَ فِيهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سورہ احزاب، سورہ بقرہ کے برابر تھی اور اس میں یہ بات مذکور تھی کہ: ”جب شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت زنا کے مرتکب ہوں تو انہیں لازمی طور پر سنگسار کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4428]

4429

Sahih Ibn Hibban #4429

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنَ الْمَصَاحِفِ ، وَيَقُولُ : إِِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلا تَجْعَلُوا فِيهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ . قَالَ أُبَيٌّ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ لنا ، فنحن نقول .كم تعدون سورة الأحزاب من آية ؟ قال : قُلْتُ : ثَلاثًا وَسَبْعِينَ . قَالَ أُبَيٌّ : وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ إن كانت لتعدل سورة البقرة ولقد قرأنا فيها آية الرجم : الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالا مِنَ اللَّهِ ، وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معوذتین کو قرآن مجید میں شامل نہیں کرنے دیتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں قرآن کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے تم قرآن میں وہ چیز شامل نہ کرو جو اس کا حصہ نہ ہو، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”ہم یہ کہتے ہیں۔“ تم لوگ سورہ احزاب میں کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا: تہتر آیات، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے! یہ سورہ بقرہ جتنی تھی اور ہم نے اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیات بھی تلاوت کی تھیں، اس میں یہ حکم تھا: ”شادی شدہ شخص اگر شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کر لے تو تم انہیں لازمی طور پر سنگسار کر دو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4429]

4430

Sahih Ibn Hibban #4430

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ كَفَرَ بِالرَّجْمِ فَقَدْ كَفَرَ بِالرَّحْمَنِ ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ : يَأَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ، فَكَانَ مِمَّا أَخْفُوا الرَّجْمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص رجم کا انکار کرتا ہے وہ رحمان کا انکار کرتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [سورة المائدة: 15] ”اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا جو تمہارے سامنے ایسی بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جنہیں تم کتاب میں سے چھپا لیتے تھے اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر بھی کر دیتا ہے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) تو انہوں نے جن چیزوں کو چھپایا ہوا تھا، ان میں سے ایک چیز رجم بھی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4430]

4431

Sahih Ibn Hibban #4431

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ قَدْ أُحْصِنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودی (مرد و خاتون) کو سنگسار کروایا تھا جو محصن تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4431]

4432

Sahih Ibn Hibban #4432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ قَدْ أُحْصِنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شادی شدہ یہودیوں (ایک مرد اور عورت) کو سنگسار کروا دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4432]

4433

Sahih Ibn Hibban #4433

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو سنگسار کروایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4433]

4434

Sahih Ibn Hibban #4434

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ؟ " فَقَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : كَذَبْتُمْ ، إِِنَّ فِيهَا لآيَةَ الرَّجْمِ . فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا ، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ ، فَإِِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ ، إِِنَّ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ . فَأَمَرَ بِهِمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنِئُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ ان سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت کیا: ”تم لوگ سنگسار کرنے کے بارے میں تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم تو (اس جرم کے مرتکب افراد) کو بے عزت کرتے ہیں اور انہیں کوڑے لگاتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط کہا ہے۔ تورات میں رجم سے متعلق آیت موجود ہے۔ وہ لوگ تورات لے آئے، انہوں نے اسے کھولا تو ان میں سے ایک شخص نے رجم سے متعلق آیت پر ہاتھ رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد والے حصے کو پڑھ دیا۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود تھی، تو ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے ٹھیک کہا ہے، اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس مرد اور عورت کو سنگسار کر دیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا وہ اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4434]

4435

Sahih Ibn Hibban #4435

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ رَجُلا وَامْرَأَةً زَنَيَا " . فَأَتَتْ بِهِمَا الْيَهُودُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِِنَّ هَذَيْنِ زَنَيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ ؟ " قَالُوا : نَفْضَحْهُمَا وَنَجْلِدُهُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبْتُمْ ، وَاللَّهِ إِِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ " . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : كَذَبْتُمْ ، وَاللَّهِ إِِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ . قَالَ : فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا ، وَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ صُورِيَا أَعْوَرُ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَجَدَ آيَةَ الرَّجْمِ ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ : نَعَمْ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا الرَّجْمُ ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَأَنَا فِيمَنْ رَجَمَهُمَا يَوْمَئِذٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور ایک یہودی مرد کو سنگسار کروا دیا تھا جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ یہودی ان دونوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم لوگ تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟“ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم تو ان کو رسوا کریں گے اور انہیں کوڑے لگائیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے، ﴿فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سورة آل عمران: 93] (تم لوگ تورات لے آؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو)۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط بیانی کی ہے، اللہ کی قسم! اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ تورات لے آئے، انہوں نے اسے کھولا، یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ابن صوریا کانا تھا، اس نے اپنا ہاتھ رجم سے متعلق آیت پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد والے حصے کو پڑھ دیا۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے ہاتھ کو اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم سامنے آ گئی، تو یہودیوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اس میں سنگسار کرنے سے متعلق حکم موجود ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان دونوں (یعنی یہودی مرد اور عورت) کو سنگسار کر دیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دن ان دونوں کو سنگسار کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4435]

4436

Sahih Ibn Hibban #4436

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ ، شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِرَجُلٍ أَشْعُرَ قَصِيرٍ ذِي عَضَلاتٍ أَقَرَّ بِالزِّنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . وَقَالَ : كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَتَخَلَّفُ أَحَدُكُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، يَمْنَحُ إِِحْدَاهُنَّ الْكُثَيْبَةَ ، أَمَا إِِنِّي لَنْ أُوتِيَ بِأَحَدٍ مِنْهُمْ إِِلا جَعَلْتُهُ نَكَالا ". وَرُبَّمَا قَالَ سِمَاكٌ : إِِلا نَكَّلْتُهُ . قَالَ سِمَاكٌ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : رَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . قَالَ شُعْبَةُ : وَقَالَ الْحَكَمُ : يَنْبَغِي أَنْ يَرُدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . وَقَالَ حَمَّادٌ : مَرَّةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک شخص آیا جس کے بال زیادہ تھے، اس کا قد چھوٹا تھا اور جسم مضبوط تھا، اس نے زنا کرنے کا اقرار کیا، دو مرتبہ اسے واپس کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے جاتے ہیں، تو کوئی ایک شخص پیچھے رہ جاتا ہے جو نر جانور کی طرح آواز نکالتا ہے (یعنی عورت کو بہلا پھسلا کر) یا کچھ دے کر اس کے ساتھ زنا کر لیتا ہے۔ اب اس طرح کا جو بھی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔“ سماک نامی راوی نے بعض اوقات ایک لفظ مختلف بیان کیا ہے۔ سماک نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے سامنے یہ روایت نقل کی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو چار مرتبہ واپس کیا تھا۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ بات مناسب ہے کہ ایسے شخص کو چار مرتبہ واپس کیا جائے۔ جبکہ حماد نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اسے ایک مرتبہ واپس کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4436]

4437

Sahih Ibn Hibban #4437

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا قَالا : أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِِلا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ . فَقَالَ الْخَصْمُ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ : نَعَمْ ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَذَنْ لِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ " . قَالَ : إِِنَّابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، وَإِِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمُ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ مَرْدُودٌ عَلَيْكَ ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِِلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " . قَالَ : فَغَدَا عَلَيْهَا ، فَاعْتَرَفَتْ ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیں۔ اس کے مخالف فریق نے، جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، کہا: جی ہاں، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، لیکن مجھے آپ اجازت دیجیے (تاکہ میں مسئلہ بیان کر دوں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو۔“ اس نے عرض کی: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، مجھے یہ بات بتائی گئی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے عوض ایک سو بکریاں اور ایک کنیز فدیے کے طور پر دے دی، پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا، اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ کنیز اور بکریاں تمہیں واپس مل جائیں گی، تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اعتراف کرتی ہے تو اسے سنگسار کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: اگلے دن وہ صاحب اس خاتون کے پاس گئے، اس نے اعتراف کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عورت سے متعلق حکم کے مطابق اس عورت کو سنگسار کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4437]

4438

Sahih Ibn Hibban #4438

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً . فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، قَالَ : فَسَأَلَ قَوْمَهُ : أَبِهِ بَأْسٌ ؟ " فَقِيلَ : مَا بِهِ بَأْسٌ ، غَيْرَ أَنَّهُ أَتَى أَمْرًا يَرَى أَنَّهُ لا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِِلا أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ عَلَيْهِ . قَالَ : فَأَمَرَنَا ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَلَمْ نَحْفُرْ لَهُ وَلَمْ نُوثِقْهُ ، فَرَمَيْنَاهُ بِخَزَفٍ وَعِظَامٍ وَجَنْدَلٍ ، قَالَ : فَاشْتَكَى فَسَعَى ، فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ ، فَأَتَى الْحَرَّةَ فَانْتَصَبَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلامِيدِهَا حَتَّى سَكَنَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا بَعْدُ" مَا بَالَ أَقْوَامٍ إِِذَا غَزَوْنَا تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ ، أَمَا إِِنَّ عَلَيَّ أَنْ لا أُوتِيَ بِأَحَدٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِِلا نَكَّلْتُ بِهِ " . قَالَ : وَلَمْ يَسُبَّهُ ، وَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ انہیں واپس کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے افراد سے دریافت کیا: ”کیا اسے کوئی بیماری ہے؟“ عرض کی گئی کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے، البتہ اس کی یہ کیفیت ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اس نے جو جرم کیا ہے اس کا کفارہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اسے لے کر بقیعِ غرقد کی طرف آ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے اس کے لیے کوئی گڑھا نہیں کھودا اور نہ ہی اسے باندھا، ہم نے اسے پتھروں، ہڈیوں اور جندل کے ذریعے مارنا شروع کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے، یہاں تک کہ پتھریلی زمین کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے۔ ہم انہیں پتھر مارتے رہے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم کسی غزوے میں شرکت کے لیے جاتے ہیں، تو ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے گھر والوں کے پیچھے رہ جاتا ہے جو نر جانور کی طرح آواز نکال کر (عورت کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے)، یہ بات میرے ذمے لازم ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی شخص میرے پاس لایا گیا، تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس شخص کو برا کہا اور نہ ہی اس کے لیے دعائے مغفرت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4438]

4439

Sahih Ibn Hibban #4439

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ ، فَقَالَ : إِِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَجَاءَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلا تَرَكْتُمُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا۔ وہ چار مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگے۔ لوگوں نے ان کے بھاگنے کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تھے (تو وہ بھاگ پڑے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4439]