Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 40 · Chapter 1

Book of Pre-emption

Hadith 4440–4479

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4440

Sahih Ibn Hibban #4440

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْزَنَى ، وَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، وَكَانَ قَدْ أَحْصَنَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ یہ گواہی دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا اور وہ شخص شادی شدہ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4440]

4441

Sahih Ibn Hibban #4441

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيِّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا " . فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا ، فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْتَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد جاری کریں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو یہاں تک کہ یہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے دے، جب یہ اسے جنم دے دے تو تم اسے میرے پاس لے آنا۔“ پھر وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو (اس پر) باندھ دیا جائے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اس کی نمازِ جنازہ ادا کرنے لگے ہیں حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل کوئی شخص ملتا ہے کہ جس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4441]

4442

Sahih Ibn Hibban #4442

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَحْدَثْتُ وَهِيَ حُبْلَى ، فَأَمَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْهَبَ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَذْهَبَ فَتُرْضِعَهُ حَتَّى تَفْطِمَهُ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَدْفَعَ وَلَدَهَا إِِلَى أُنَاسٍ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ جَاءَتْ ، فَسَأَلَهَا : إِِلَى مَنْ دَفَعَتْ " ، فَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا دَفَعْتُهُ إِِلَى فُلانٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَأْخُذَهُ وَتَدْفَعَهُ إِِلَى آلِ فُلانٍ نَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، ثُمَّ إِِنَّهَا جَاءَتْ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا ، ثُمَّ إِِنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ إِِنَّهُ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَفَنَهَا ، فَقَالَ النَّاسُ : رَجَمَهَا ، ثُمَّ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَفَنَهَا ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَقَالَ : " لَقَدْتَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ تَوْبَتُهَا بَيْنَ سَبْعِينَ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے بتایا کہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور وہ حاملہ بھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا: ”وہ جائے اور جا کر پہلے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔“ جب اس نے جنم دے دیا تو وہ پھر آ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جائے اور اس بچے کو دودھ پلائے جب تک بچہ دودھ چھوڑ نہیں دیتا۔“ اس عورت نے ایسا ہی کیا، وہ پھر آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”وہ اپنے بچے کو کسی کے سپرد کر کے آئے“، تو اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ وہ پھر آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اس نے بچے کو کس کے سپرد کیا ہے؟“ اس عورت نے بتایا کہ میں نے اسے فلاں کے سپرد کر دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ ”وہ ان سے بچے کو لے اور آلِ فلاں کے حوالے کرے۔“ یہ انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں حکم دیا، پھر وہ عورت آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”وہ اپنے کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفن دیا اور اس کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دفن کیا۔ لوگوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے سنگسار کروایا، پھر اسے کفن دیا، پھر اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی، پھر اسے دفن بھی کروایا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4442]

4443

Sahih Ibn Hibban #4443

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَرْبٌ لِذَلِكَ ، وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ كَانَ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَى لِسَانِ صَفِيَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا أَنْزَلَ حُكْمَ الزَّانِيَيْنِ ، فَلَمَّا رُفِعَ إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزِّنَى وَأَقَرَّ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ وَغَيْرُهُ بِهَا ، أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمْ وَلَمْ يَجْلِدْهُمْ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ هَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِيهِ نَسْخُ الأَمْرِ بِالْجَلْدِ لِلثَّيِّبَيْنِ ، وَالاقْتِصَارُ عَلَى رَجْمِهِمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل درپیش ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے (حکم) حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ شخص کا شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنا اور کنوارے کا کنواری کے ساتھ زنا کرنا۔ شادی شدہ شخص کے شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنے کے نتیجے میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دیا جائے گا۔ اور کنوارے کے کنواری کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہے اور زنا کرنے والوں کے بارے میں یہ سب سے پہلا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنا کا معاملہ پیش ہوا اور سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اقرار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے نہیں لگوائے۔ اس لیے میں نے جو چیز بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے حکم منقول ہیں ان میں سے آخری چیز وہ ہے اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے شادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم منسوخ ہے اور انہیں سنگسار کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4443]

4444

Sahih Ibn Hibban #4444

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَقَالَ : إِِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو زنا کا ارتکاب کرتی ہے اور شادی شدہ نہیں ہوتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو تم اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر اسے فروخت کر دو خواہ ایک رسی کے عوض میں کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4444]

4445

Sahih Ibn Hibban #4445

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ، وَمَنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعِلَّةُ الْمَعْلُومَةُ فِي هَذَا الْخَبَرِ يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ : فَإِِنْ عَادَ عَلَى أَنْ لا يَقْبَلَ تَحْرِيمَ اللَّهِ ، فَاقْتُلُوهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارو، جو دوبارہ پیے اسے پھر کوڑے مارو، اگر وہ پھر پیے تو پھر کوڑے مارو، اگر وہ پھر ایسا کرے تو اسے قتل کر دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں مذکور متعین علت ہو سکتا ہے یہ ہو کہ اگر وہ پھر شراب پیے تو اس کا مطلب یہ ہو گا: اس نے اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کے حکم کو قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4445]

4446

Sahih Ibn Hibban #4446

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِِذَا شَرِبُوهَا فَاقْتُلُوهُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، جَمِيعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب لوگ اسے (یعنی شراب کو) پئیں، تو انہیں کوڑے مارو، پھر جب اسے پئیں، تو انہیں مارو، پھر جب وہ اسے پئیں تو انہیں کوڑے مارو، پھر اگر وہ اسے پئیں تو انہیں قتل کر دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوصالح نے یہ روایت سیدنا معاویہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما دونوں سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4446]

4447

Sahih Ibn Hibban #4447

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِذَا سَكِرَ الرَّجُلُ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِِنْ سَكِرَ الرَّابِعَةَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ : إِِذَا اسْتَحَلَّ شُرْبَهُ وَلَمْ يَقْبَلْ تَحْرِيمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص مدہوش ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ مدہوش ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ مدہوش ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ چوتھی مرتبہ مدہوش ہو جائے تو اس کی گردن اڑا دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب یہ ہے: جب وہ شراب نوشی کو حلال سمجھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حرمت کو قبول نہ کرے (تو اسے قتل کر دو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4447]

4448

Sahih Ibn Hibban #4448

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْحَدِّ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ". فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ جَلَدَ أَرْبَعِينَ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ دَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى فَذُكِرَ لأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شراب نوشی کی) حد میں کھجور کی شاخوں اور جوتوں کے ذریعے پٹائی کروائی تھی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے لگوائے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگ مختلف بستیوں اور علاقوں میں آباد ہو گئے تو ان کے اصحاب کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اسے سب سے کم حدود کی مانند کر دیں (یعنی اس کے مطابق سزا دیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4448]

4449

Sahih Ibn Hibban #4449

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ جَلَدَا فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ". فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، دَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى ، فَاسْتَشَارَ عُمَرُ النَّاسَ فِي جَلْدِ الْخَمْرِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَتَى مَا يَشْرَبْهَا يُهَجَّرْ ، وَمَتَى مَا يُهَجَّرْ يُقْذَفْ ، فَنَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِينَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ شراب نوشی کی سزا میں کھجور کی شاخوں اور جوتوں سے پٹائی کرواتے تھے۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور لوگ مختلف علاقوں اور بستیوں میں آباد ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! جب کوئی شخص شراب پیے گا تو وہ فحش باتیں کرے گا اور جب وہ فحش باتیں کرے گا تو وہ زنا کا جھوٹا الزام لگائے گا، اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ اس کی سزا کو سب سے کم ترین حد کی مانند کر دیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا میں اسی (80) کوڑے لگوائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4449]

4450

Sahih Ibn Hibban #4450

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْشَرِبَ الْخَمْرَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ ". ثُمَّ أُتِيَ أَبُو بَكْرٍ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ أُتِيَ عُمَرُ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ . فَضَرَبَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ثَمَانِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے شراب پی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے چالیس جوتے مارے گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے یہی سزا دی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب سے ہلکی حد 80 کوڑے ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو 80 کوڑے لگوائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4450]

4451

Sahih Ibn Hibban #4451

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَوَّلُ لِعَانٍ فِي الإِِسْلامِ أَنَّ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ أَقْذَفَهُ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ بِامْرَأَتِهِ ، فَرَفَعَهُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا هِلالُ ، أَرْبَعَةُ شُهُودٍ وَإِِلا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ إِِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :" اشْهَدْ بِاللَّهِ إِِنَّكَ لِمَنِ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَيْتَهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى " . فَشَهِدَ بِذَلِكَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ فِي الْخَامِسَةِ : " وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ إِِنْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فِيمَا رَمَيْتَهَا بِهِ مِنَ الزِّنَى " . فَفَعَلَ ، ثُمَّ دَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَوْمِي اشْهَدِي بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ فِيمَا رَمَاكَ بِهِ مِنَ الزِّنَى " . فَشَهِدَتْ بِذَلِكِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا فِي الْخَامِسَةِ : " وَغَضَبُ اللَّهِ عَلَيْكِ إِِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فِيمَا رَمَاكِ بِهِ مِنَ الزِّنَى " . فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ فَسَكَتَتْ سَكْتَةً حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ ، ثُمَّ قَالَتْ : لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ، فَمَضَتْ عَلَى الْقَوْلِ ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : " انْظُرُوا ، إِِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ ، وَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلالِ بْنِ أُمَيَّةَ " . فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا مَا نَزَلَ فِيهِمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهُمَا شَأْنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں لعان کا واقعہ پہلی مرتبہ اس وقت پیش آیا جب ہلال بن امیہ نے شریک بن سحماء پر اپنی بیوی کے ساتھ زنا کا الزام لگایا، انہوں نے یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ہلال! چار گواہ لے کر آؤ ورنہ تمہاری پشت پر حد جاری ہو گی۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور آپ پر وہ چیز نازل کر دے گا جو میری پشت پر کوڑے لگنے سے روک دے گی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں۔“ یہ آیت کے آخر تک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا: ”تم اللہ کے نام کی گواہی دے کر کہو کہ تم سچے ہو اس حوالے سے جو تم نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے۔“ تو انہوں نے چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی، پھر پانچویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”(کہ تم یہ کہو) اللہ تعالیٰ کی تم پر لعنت ہے، اگر تم جھوٹے ہوئے اس چیز کے بارے میں جو تم نے اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے۔“ تو ان صاحب نے ایسا ہی کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور فرمایا: ”تم اٹھو اور اللہ کے نام کی گواہی دے کر کہو کہ یہ مرد جھوٹا ہے اس چیز کے بارے میں جو اس نے تم پر زنا کا الزام لگایا ہے۔“ تو اس عورت نے چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی، تو پانچویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”(تم یہ کہو) اللہ تعالیٰ کا غضب تم پر نازل ہو اگر وہ مرد سچا ہوا اس چیز کے بارے میں جو اس نے تم پر زنا کا الزام لگایا ہے۔“ تو چوتھی مرتبہ یا پانچویں مرتبہ وہ عورت کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی، یہاں تک کہ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ وہ اعتراف کر لے گی، پھر اس عورت نے کہا: ”میں اپنی قوم کو رسوائی کا شکار نہیں کروں گی۔“ پھر اس نے اپنی بات کو جاری رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی اور پھر ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس بات کا جائزہ لینا، اگر اس نے گھنگریالے بالوں والے، موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا، اور اگر اس نے سفید رنگ کے، سیدھے بالوں والے، بڑی آنکھوں والے بچے کو جنم دیا تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے گندمی رنگت کے، گھنگریالے بالوں والے اور موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس معاملے کو دوسری طرح سے نمٹاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4451]

4452

Sahih Ibn Hibban #4452

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا جَلْدَ فَوْقَ عَشْرَةِ أَسْوَاطٍ فِيمَا دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی حدود کے علاوہ کسی (جرم کی سزا میں) دس کوڑے سے زیادہ نہیں لگائے جا سکتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4452]

4453

Sahih Ibn Hibban #4453

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِ ، حَدَّثَهُ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، إِِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، فَحَدَّثَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرَةِ أَسْوَاطٍ إِِلا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبردہ بن نیار انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دس سے زیادہ کوڑے صرف اللہ تعالیٰ کی کسی حد میں لگائے جا سکتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4453]

4454

Sahih Ibn Hibban #4454

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَكِنْ أَبْوَابُ التَّوْبَةِ مَعْرُوضَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، البتہ توبہ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4454]

4455

Sahih Ibn Hibban #4455

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی (چیز کی) چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4455]

4456

Sahih Ibn Hibban #4456

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ عَلَى مُنْتَهِبٍ قَطْعٌ ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا ". أَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ تَدْرُسَ الْمَكِّيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اچکنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ جو شخص کوئی چیز اچک لیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔“ ابوزبیر نامی راوی کا نام محمد بن تدرس مکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4456]

4457

Sahih Ibn Hibban #4457

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ الْعَابِدُ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِهَابٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ عَلَى مُنْتَهِبٍ ، وَلا مُخْتَلِسٍ ، وَلا خَائِنٍ قَطْعٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اچک لینے والے، چھین لینے والے اور خیانت کرنے والے شخص کو (ہاتھ) کاٹنے (کی) سزا نہیں دی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4457]

4458

Sahih Ibn Hibban #4458

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ ، وَلا عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چھین لینے والے شخص اور خیانت کرنے والے شخص کو (ہاتھ کاٹنے) کی سزا نہیں دی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4458]

4459

Sahih Ibn Hibban #4459

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمت والی چیز کی چوری) پر ہاتھ کٹوا دیتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4459]

4460

Sahih Ibn Hibban #4460

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمت والی چیز کی چوری) پر چور کا ہاتھ کٹوا دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4460]

4461

Sahih Ibn Hibban #4461

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ وَإِِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا، اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4461]

4462

Sahih Ibn Hibban #4462

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : مَا طَالَ عَلَيَّ وَلا نَسِيتُ :الْقَطْعَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور نہ ہی میں یہ بات بھولی ہوں کہ ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمت والی چیز کی چوری) پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4462]

4463

Sahih Ibn Hibban #4463

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا، اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4463]

4464

Sahih Ibn Hibban #4464

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چور کا ہاتھ صرف اسی وقت کاٹا جائے گا جب ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز اس نے چوری کی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4464]

4465

Sahih Ibn Hibban #4465

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ أَرْبَعَةٍ : يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرُزَيْقٌ ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا قَطَعَ إِِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صرف ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4465]

4466

Sahih Ibn Hibban #4466

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحِرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ غُلامًا سَرَقَ وَدْيًا مِنْ حَائِطٍ ، فَرُفِعَ إِِلَى مَرْوَانَ ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا قَطَعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمُومُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا ، فَأَمَرَ بِقَطْعِ السَّارِقِ إِِذَا مَا سَرَقَ ، ثُمَّ فَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ بِأَنْ لا قَطَعَ عَلَى سَارِقِ الثَّمَرِ وَلا الْكَثَرِ ، وَأَنْ لا قَطَعَ إِِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ ، فَكَانَ الْمُرَادُ مِنَ الْخِطَابِ مِنَ الْكِتَابِ : فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا : إِِذَا سَرَقُ رُبْعُ دِينَارٍ ، وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُ سِوَى الثَّمَرِ وَالْكَثَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واسع بن حبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکے نے ایک باغ سے کھجور کا پودا چوری کر لیا، یہ مقدمہ مروان کی خدمت میں پیش ہوا تو اس نے اس لڑکے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ» پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب میں خطاب کا حکم عمومی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ [سورة المائدة: 38] ”چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ چور جب بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، لیکن پھر سنت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ہاتھ صرف اس وقت کاٹا جائے گا جب ایک چوتھائی دینار کی قیمت والی چیز کو چوری کیا جائے گا، تو کتاب میں خطاب سے مراد یہ ہے: ان دونوں کا ہاتھ اس وقت کاٹو جب وہ ایک چوتھائی دینار قیمت والی چیز کو چوری کریں یا اس چیز کو چوری کریں جو اس کے قائم مقام ہو اور جو پھل اور کثر کے علاوہ ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4466]

4467

Sahih Ibn Hibban #4467

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَأْتُوا إِِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَاسْتَاقُوا الإِِبِلَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”وہ صدقے کے اونٹوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے (صدقے کے اونٹوں کے) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں اسی حالت میں چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوا کر (ان کے خون کا بہاؤ روکنے کی کوشش نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4467]

4468

Sahih Ibn Hibban #4468

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ ، أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ ، وَلا أَعْلَمُهُ إِِلا قَالَ : عُكْلٍ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَشَرِبُوا حَتَّى إِِذَا بَرِءُوا ، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي أَثَرِهِمْ ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ ، فَلا يَسْقُونَ ". قَالَ أَبُو قِلابَةَ : هَؤُلاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں (کے باڑے) کی طرف جانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”وہ جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔“ ان لوگوں نے اسے پیا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے (ان اونٹوں کے چرواہے) کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ صبح کے وقت اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی، دن چڑھ جانے کے بعد ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں گرم پتھروں پر ڈال دیا گیا۔ وہ لوگ پانی مانگتے تھے تو انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری بھی کی، قتل بھی کیا اور ایمان لانے کے بعد کفر بھی کیا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بھی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4468]

4469

Sahih Ibn Hibban #4469

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عُكْلٍ ، أَوْ قَالَ : مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى بَرِءُوا وَذَهَبَ سَقَمُهُمْ ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ إِِلَيْهِمْ غُدْوَةً ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلا يَسْقُونَ . قَالَ : فَقَالَ أَبُو قِلابَةَ : هَؤُلاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا ، وَسَرَقُوا ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِِيمَانِهِمْ ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عکل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے۔ وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں کی طرف جانے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔“ جب انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور ان کی بیماری ختم ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت ان کے پیچھے مہم روانہ کر دی۔ دن چڑھ جانے کے بعد ان کو پکڑ کر لایا گیا، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر ڈال دیا، وہ لوگ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ابوقلابہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے: یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے قتل بھی کیا، چوری بھی کی، ایمان لانے کے بعد کفر بھی اختیار کیا اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ بھی کی (اس لیے انہیں اتنی سخت سزا دی گئی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4469]

4470

Sahih Ibn Hibban #4470

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ : إِِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِِسْلامِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ؟ " فَقَالُوا : بَلَى ، فَخَرَجُوا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَجَلَبَهُمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کیا، اس علاقے کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی اور ان کے جسم بیمار ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کی طرف کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہاں تم ان کا دودھ اور پیشاب پی لینا۔“ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر وہ لوگ نکلے (اور وہاں چلے گئے) وہاں انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ساتھ لے گئے، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو روانہ کیا، انہوں نے انہیں پکڑ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4470]

4471

Sahih Ibn Hibban #4471

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ :لَوْ خَرَجْتُمْ إِِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا . فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ ہمارے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ٹھہرے رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو (تو یہ مناسب ہو گا)۔“ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، جب وہ لوگ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس جا کر اسے قتل کر دیا اور دوبارہ کافر ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4471]

4472

Sahih Ibn Hibban #4472

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالإِِسْلامِ ، وَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ ، وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِذَوْدٍ وَرَاعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِِسْلامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اسلام کے بارے میں بات چیت کی (یعنی اسلام قبول کر لیا) اور عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! ہم لوگ جانور پالنے والے لوگ ہیں، ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔“ ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں اور چرواہے کے پاس جانے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ لوگ جائیں اور ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیئیں۔“ وہ لوگ چلے گئے یہاں تک کہ وہ پتھریلے علاقے کے کنارے پر پہنچ گئے، وہاں انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کو اختیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی، ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں، ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے گئے اور پھر انہیں پتھریلی زمین کے کنارے پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4472]

4473

Sahih Ibn Hibban #4473

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ : إِِنَّ لِي عَبْدًا أَبَقَ ، وَإِِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِِنْ أَصَبْتُهُ لأَقْطَعَنَّ يَدَهُ ، فَقَالَ : لا تَقْطَعْ يَدَهُ ، فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمُثْلَةُ الْمَنْهِيُّ عَنْهَا لَيْسَ الْقَوَدُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، لأَنَّ أَخْبَارَ الْعُرَنِيِّينَ الْمُرَادُ مِنْهَا كَانَ الْقَوَدَ لا الْمُثْلَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا ایک غلام ہے، میں نے اللہ کے نام کی یہ نذر مانی ہے کہ وہ اگر مجھے مل گیا تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کا ہاتھ مت کاٹنا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور «الْمُثْلَةِ» ”مثلہ“ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ممنوعہ مثلہ سے مراد یہ ہے: وہ کسی قصاص کے طور پر نہ ہو کیونکہ عُرینہ قبیلے کے لوگوں کے بارے میں روایات میں یہ بات مذکور ہے، اس سے مراد قصاص ہے مثلہ کرنا نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4473]

4474

Sahih Ibn Hibban #4474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِنَّمَا سَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَّرُوا أَعْيَنَ الرِّعَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4474]

4475

Sahih Ibn Hibban #4475

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4475]

4476

Sahih Ibn Hibban #4476

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَرَكَ دِينَهُ أَوْ قَالَ : رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ ، وَلا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا يَعْنِي بِالنَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے دین کو (یعنی دین اسلام کو) ترک کر دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام) سے رجوع کر لے تو اسے قتل کر دو اور تم کسی بھی شخص کو وہ عذاب نہ دو جو عذاب اللہ تعالیٰ دے گا“ (راوی کہتے ہیں:) یعنی آگ کا عذاب نہ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4476]

4477

Sahih Ibn Hibban #4477

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ فَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ، ثُمَّ نَدِمَ فَأَرْسَلَ إِِلَى قَوْمِهِ أَنْ سَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : فَنَزَلَتْ : كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ إِِلَى قَوْلِهِ إِلا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، فَأَرْسَلَ إِِلَيْهِ قَوْمُهُ فَأَسْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مسلمان ہو گیا، پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا، پھر اسے ندامت ہوئی، اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو: کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے ہدایت نصیب کر سکتا ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائیں جب کہ وہ اس بات کی یہ گواہی دے چکے ہوں کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آ چکے ہوں﴾ [سورة آل عمران: 86] ، آیت یہاں تک ہے: ﴿ماسوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور وہ ٹھیک ہو جائیں، بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے﴾ [سورة آل عمران: 89] ، تو اس کی قوم نے اسے پیغام بھجوایا تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4477]

4478

Sahih Ibn Hibban #4478

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : أَلا تَسْتَخْلِفُ ؟ فَقَالَ : إِِنْ أَتْرُكْ ، فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِِنْ أَسْتَخْلِفْ ، فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي : أَبُو بَكْرٍ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : إِِنِّي وَدِدْتُ أَنْ أَتَخَلَّصَ مِنْهَا لا عَلَيَّ وَلا لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ آپ کسی کو اپنا جانشین مقرر کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں اس چیز کو ترک کرتا ہوں، تو اس ہستی نے اسے ترک کیا تھا جو مجھ سے بہتر ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اگر میں کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہوں، تو اس شخصیت نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے اور وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے سے خلاصی حاصل کر لوں کہ نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ میرے حق میں کچھ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4478]

4479

Sahih Ibn Hibban #4479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، جَمِيعًا وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لا تَسْأَلِ الإِِمَارَةَ ، فَإِِنَّكَ إِِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِِلَيْهَا ، وَإِِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالرحمن! تم حکومتی عہدے کو طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے سے ملا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر یہ تمہیں مانگے بغیر ملا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم اٹھا لو اور پھر اس کے علاوہ (دوسری) صورت حال کو بہتر سمجھو تو وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4479]