Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 39 · Chapter 2

Book of Usurpation

Hadith 4366–4405

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4366

Sahih Ibn Hibban #4366

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِِسْلامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائے تو وہ شخص ویسا ہی ہو گا جیسے اس نے کہا ہے، اور جو شخص کسی بھی چیز کے ذریعے خودکشی کر لے اسے اس چیز کے ذریعے جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4366]

4367

Sahih Ibn Hibban #4367

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِِسْلامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم اٹھائے، تو وہ اسی طرح ہو گا جس طرح اس نے بیان کیا ہے اور جو شخص دنیا میں جس چیز کے ذریعے خودکشی کرے گا اسے قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4367]

4368

Sahih Ibn Hibban #4368

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ ، تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص میرے اس منبر پر جھوٹی قسم اٹھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4368]

4369

Sahih Ibn Hibban #4369

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِلْفِ فَقَالَ : لا حِلْفَ فِي الإِِسْلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شعبہ بن توام بیان کرتے ہیں: سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق) حلیف بنانے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں (اس طرز پر) کوئی حلیف بنانا نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4369]

4370

Sahih Ibn Hibban #4370

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حِلْفَ فِي الإِِسْلامِ ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِِسْلامُ إِِلا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) حلیف بنانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو کچھ زمانہ جاہلیت میں تھا اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کی تیزی میں اضافہ ہی کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4370]

4371

Sahih Ibn Hibban #4371

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا حِلْفَ فِي الإِِسْلامِ ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِِسْلامُ إِِلا شِدَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام میں حلیف بنانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا جو بھی حلف ہے اسلام اس کی شدت میں اضافہ ہی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4371]

4372

Sahih Ibn Hibban #4372

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا حِلْفَ فِي الإِِسْلامِ ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِِنَّ الإِِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِِلا شِدَّةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعْدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرٍ ، وَسَمِعَهُ مِنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ . فَالإِِسْنَادَانِ مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام میں حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت میں جو حلف تھا اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت سعد بن ابراہیم نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، انہوں نے یہ روایت نافع بن جبیر کے حوالے سے ان کے والد سے سنی ہے تو اس کی دونوں سندیں محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4372]

4373

Sahih Ibn Hibban #4373

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَهِدْتُ مَعَ عُمُومَتِي حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ ، وَإِِنِّي أَنْكُثُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے چچا کے ہمراہ «الْمُطَيَّبِينَ» کے حلف میں شریک ہوا تھا اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں اس حلف کی خلاف ورزی کروں خواہ مجھے اس کے عوض میں سرخ اونٹ ملیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4373]

4374

Sahih Ibn Hibban #4374

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ قُرَيْشٍ إِِلا حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ ، وَإِِنِّي كُنْتُ نَقَضَتْهُ ". قَالَ : وَالْمُطَيِّبُونَ : هَاشِمٌ ، وَأُمَيَّةُ ، وَزَهْرَةُ ، وَمَخْزُومٌ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مَنْ يُرِيدُ بِهِ : شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَشْهَدْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ ، لأَنَّ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ كَانَ قَبْلَ مَوْلِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِِنَّمَا شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْفَ الْفُضُولِ ، وَهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ ، قَدْ ذَكَرْتُ الْكَلامَ عَلَى هَذَا الْخَبَرِ بِتَفْصِيلٍ فِي كِتَابِ : التَّوْرِيثُ وَالْحُجُبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں قریش کے کسی بھی حلف میں شریک نہیں ہوا صرف «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا اور میری یہ خواہش نہیں ہے کہ میں اس حلف کو توڑوں خواہ اس کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ سے مراد بنو ہاشم، بنو امیہ، بنو زہرہ اور بنو مخزوم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دونوں روایات میں یہ بات مذکور ہے: ”میں «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا“، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ کے حلف میں شریک نہیں ہوئے تھے کیونکہ «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ کا حلف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «حِلْفُ الْفُضُولِ» ”حلف الفضول“ میں شریک ہوئے تھے اور یہ بھی «الْمُطَيَّبِينَ» ”مطیبین“ کے درمیان ہوا تھا، میں نے اس روایت کے بارے میں اپنی کتاب «التَّوْرِيثُ وَالْحَجْبُ» ”التوريث والحجب“ میں تفصیل سے بحث ذکر کر دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4374]

4375

Sahih Ibn Hibban #4375

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نذر (ماننے) سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4375]

4376

Sahih Ibn Hibban #4376

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنْذِرُوا ، فَإِِنَّ النَّذْرَ لا يَرُدُّ مِنَ الْقَدْرِ شَيْئًا ، وَإِِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو نہیں بدلتی ہے، اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4376]

4377

Sahih Ibn Hibban #4377

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّالنَّذْرُ لا يَرُدُّ شَيْئًا ، وَلَكِنْ يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نذر کسی چیز کو ختم نہیں کرتی ہے، اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4377]

4378

Sahih Ibn Hibban #4378

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِِنَّ ابْنًا لِي كَانَ بِأَرْضِ فَارِسَ فَوَقَعَ بِهَا الطَّاعُونُ ، فَنَذَرْتُ إِِنِ اللَّهُ نَجَّى لِي ابْنِي أَنْ يَمْشِيَ إِِلَى الْكَعْبَةِ ، وَإِِنَّ ابْنِي قَدِمَ فَمَاتَ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَوْفِ بِنَذْرِكَ . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : إِِنَّمَا نَذَرْتُ أَنْ يَمْشِيَ ابْنِي ، وَإِِنَّ ابْنِي قَدْ مَاتَ . فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ : أَوَلَمْ تُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِِنَّالنَّذْرَ لا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلا يُؤَخِّرُهُ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَنْزِعُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ". فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ ، قُلْتُ لِلرَّجُلِ : انْطَلِقْ إِِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَلْهُ ، فَانْطَلَقَ إِِلَيْهِ فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقُلْتُ : مَاذَا قَالَ لَكَ ؟ قَالَ : امْشِ عَنِ ابْنِكَ . قَالَ : أَيُجْزِئُ عَنِّي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى ابْنِكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ ، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَامْشِ عَنِ ابْنِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن حارث بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن! میرا ایک بیٹا فارس کی سرزمین پر موجود تھا، وہاں طاعون پھیل گیا، میں نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو نجات عطا کر دی تو وہ خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا، پھر میرا بیٹا (زندہ سلامت) آ گیا، لیکن اس کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو، تو اس شخص نے ان سے کہا: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میرا بیٹا پیدل جائے گا، میرے بیٹے کا تو انتقال ہو گیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور بولے: کیا تم لوگوں کو نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک نذر کسی بھی چیز کو آگے یا پیچھے نہیں کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے کنجوس سے مال الگ کر دیتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے اس شخص سے کہا: تم سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، وہ ان کے پاس گیا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، پھر وہ واپس آیا تو میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ہے؟ تو اس نے بتایا: انہوں نے یہ کہا ہے تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ، اس نے دریافت کیا: کیا یہ میرے لیے جائز ہو گا؟ تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہارے بیٹے کے ذمے قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتے تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4378]

4379

Sahih Ibn Hibban #4379

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْفِ بِنَذْرِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4379]

4380

Sahih Ibn Hibban #4380

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ ، إِِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کرے، میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4380]

4381

Sahih Ibn Hibban #4381

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْنَذَرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ ، فَأَمَرَهُ بِهِ " . قَالَ : فَانْطَلَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ أَصَابَهَا مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَجَعَلْتُهَا فِي بُيُوتِ الأَعْرَابِ حَتَّى نَزَلْتُ ، فَإِِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ ، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ : قَدْ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ : اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا . قَالَ : فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَلْفَاظُ أَخْبَارِ ابْنِ عُمَرَ مُصَرِّحَةٌ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةً ، إِِلا هَذَا الْخَبَرَ ، فَإِِنَّ لَفْظَهُ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ يَوْمٍ ، فَإِِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ يَوْمًا أَرَادَ بِهِ بِلَيْلَتِهِ ، وَلَيْلَةً أَرَادَ بِهَا بِيَوْمِهَا ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کے بارے میں مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے روانہ ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہمراہ ایک کنیز بھیجی تھی جو حنین کے قیدیوں میں سے تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے دیہاتیوں کے گھروں میں ٹھہرا دیا یہاں تک کہ جب میں نے پڑاؤ کیا تو میرے سامنے حنین کے کچھ قیدی آئے جو دوڑتے ہوئے باہر نکلے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم جاؤ اور اس کنیز کو آزاد کر دو“۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں گیا اور میں نے اسے آزاد کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی اور یہ بات صرف اسی روایت میں منقول ہے، کیونکہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو اگر یہ الفاظ مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو اس بات کا احتمال موجود ہو گا کہ یہاں دن سے مراد یہ ہے: اس دن کی رات کے ہمراہ (اعتکاف کیا جائے) اور جہاں رات کا لفظ استعمال ہوا اس سے مراد یہ ہو کہ اس کا دن ہمراہ ہو گا، اس طرح ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4381]

4382

Sahih Ibn Hibban #4382

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنِ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ يَعْنِي إِِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ لِغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ". وَاللَّيْثُ وَالْهِقْلُ وَالأَوْزَاعِيُّ كُلُّهُمْ أَقْرَانٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَحُمَيْدٌ أَقْرَانٌ ، رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ ، قَالَهُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر چل رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: اس نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل چل کر جائے گا (راوی کہتے ہیں: یعنی خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو تکلیف دینے سے بے نیاز ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ سوار ہو جائے۔ لیث، ہقل اور اوزاعی یہ سب ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالرحمن بن یمان، یحییٰ بن سعید اور حمید ایک زمانے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے سے روایات نقل کی ہوئی ہیں، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4382]

4383

Sahih Ibn Hibban #4383

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ : مَا لَهُ ؟ قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ هَذَا فَلْيَرْكَبْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا: اس نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی نذر مانی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے، اسے سوار ہو جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4383]

4384

Sahih Ibn Hibban #4384

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ؟ قَالَ : فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً بِالْيَمِينِ ، أَوِ النَّذْرِ ، لا كَفَّارَةَ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بہن نے اپنے ذمے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کہو کہ وہ سوار ہو جائے اور کفارہ دے دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس عورت نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی یا تو قسم اٹھائی تھی یا نذر مانی تھی، تاہم نذر میں کفارہ نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4384]

4385

Sahih Ibn Hibban #4385

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِِذْ رَأَى رَجُلا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو إِِسْرَائِيلَنَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ فَلا يَقْعُدَ ، وَلا يَسْتَظِلُّ ، وَلا يَتَكَلَّمُ ، وَلا يُفْطِرُ ، فَقَالَ : مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ ، وَلْيَسْتَظِلَّ ، وَلْيَتَكَلَّمْ ، وَلْيَصُمْ ، وَلْيُفْطِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا، لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے، اس نے یہ نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور سائے میں نہیں آئے گا اور کسی سے بات نہیں کرے گا اور (نفلی) روزہ ترک نہیں کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے، سائے میں آ جائے، بات چیت بھی کرے، (نفلی) روزہ رکھ بھی لے اور چھوڑ بھی لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4385]

4386

Sahih Ibn Hibban #4386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي نَذَرْتُ إِِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ نَذَرْتِ فَافْعَلِي ، وَإِِلا فَلا " . قَالَتْ : إِِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَتْ بِالدُّفِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس آ رہے تھے، ایک سیاہ فام لڑکی آئی اور اس نے یہ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامت واپس لے آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دف بجاؤں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے نذر مانی تھی، تو ایسا کر لو، ورنہ نہ کرو۔“ اس نے عرض کی: میں نے نذر مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور اس نے دف بجائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4386]

4387

Sahih Ibn Hibban #4387

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَيْلِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلا يَعْصِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کی نذر مانتا ہے اسے اس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4387]

4388

Sahih Ibn Hibban #4388

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ نَاصِحٍ الْخَلاَّلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، وَأَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلا يَعْصِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص یہ نذر مانتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے گا تو اسے اس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے اور جو شخص یہ نذر مانتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4388]

4389

Sahih Ibn Hibban #4389

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَيْلِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلا يَعْصِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص یہ نذر مانتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے اور جو شخص یہ نذر مانتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4389]

4390

Sahih Ibn Hibban #4390

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلا يَعْصِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص یہ نذر مانتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا، تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4390]

4391

Sahih Ibn Hibban #4391

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَا لا يَمْلِكُ الْعَبْدُ ، أَوِ ابْنُ آدَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گناہ کے بارے میں نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا اور ایسی چیز کے بارے میں نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا، جس کا بندہ مالک نہ ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4391]

4392

Sahih Ibn Hibban #4392

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَاهَا الْمُشْرِكُونَ ، وَكَانُوا أَصَابُوا نَاقَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَجَدَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفَلَةً ، فَنَذَرَتْ إِِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرَهَا ، قَالَ : فَأَنْجَاهَا ، وَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ ، فذهبت لتنحرها فمنعها الناس ، وذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا " ، ثُمَّ قَالَ :" لا وَفَاءَ لابْنِ آدَمَ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون کو مشرکین نے قیدی بنا لیا، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی کو اس سے پہلے پکڑ لیا تھا، اس عورت نے ان لوگوں کو غفلت کا شکار دیکھا تو اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اس اونٹنی پر سوار ہو کر نجات عطا کر دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کر دے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس عورت کو نجات مل گئی، وہ مدینہ منورہ آئی اور پھر اس اونٹنی کو قربان کرنے لگی تو لوگوں نے اسے اس سے روک دیا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے بہت برا بدلہ دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے لیے ایسی نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے، جو گناہ کے بارے میں ہو، یا اس چیز کے بارے میں ہو، جس کا وہ مالک نہیں ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4392]

4393

Sahih Ibn Hibban #4393

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذَرٌ لَمْ تَقْضِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْضِهِ عَنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے انہوں نے پورا نہیں کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف سے تم اسے پورا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4393]

4394

Sahih Ibn Hibban #4394

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَذَرٍ نَذَرَتْهُ أُمُّهُ ، ثُمَّ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ : اقْضِهِ عَنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کا مسئلہ دریافت کیا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور پھر اسے پورا کرنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان کی طرف سے تم اسے پورا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4394]

4395

Sahih Ibn Hibban #4395

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذَرٌ لَمْ تَقْضِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْضِهِ عَنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے ایک نذر لازم تھی جسے وہ پورا نہیں کر سکیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ان کی طرف سے تم اسے پورا کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4395]

4396

Sahih Ibn Hibban #4396

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ مِنْ نَذْرٍ . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَكُنْتِ قَاضِيَةً عَنْ أُمِّكِ دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ذمے نذر کا ایک روزہ لازم تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”کیا تم اپنی والدہ کے اس قرض کو ادا کر دیتی جو ان کے ذمے لازم ہوتا؟“ اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنی والدہ کی طرف سے روزہ بھی رکھ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4396]

4397

Sahih Ibn Hibban #4397

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ ، خَيْرٌ لأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی سرزمین پر حد کا قائم ہونا وہاں کے رہنے والوں کے لیے چالیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4397]

4398

Sahih Ibn Hibban #4398

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ جرير بن يزيد عن أبي زرعة عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَدٌّ يُقَامُ فِي الأَرْضِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین پر حد کا قائم ہو جانا چالیس دن تک بارش ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4398]

4399

Sahih Ibn Hibban #4399

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِالزِّنَى ، يَقُولُ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا ، وَفِي ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : أَنِكْتَهَا ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : " هَلْ غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِيهَا ، كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلَ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا . قَالَ : " فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ ؟ " قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ فَرُجِمَ . فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : انْظُرُوا إِِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَمَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : " أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ ؟ " فَقَالا : نَحْنُ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُمَا :" كُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ " . فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ هَذَا الرَّجُلِ آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ هَذِهِ الْجِيفَةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِِنَّهُ الآنَ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ زنا کرنے کی گواہی دی، اس نے یہ کہا: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر (صحبت کی ہے)“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اعراض کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ پانچویں مرتبہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہاری شرم گاہ اس کی شرم گاہ میں یوں غائب ہو گئی تھی جس طرح سرمہ دانی میں سلائی گم ہو جاتی ہے یا کنویں میں رسی چلی جاتی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے۔“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طور پر وہ عمل کیا جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم یہ کہہ کر کیا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کر دیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو سنا، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا: ”ذرا اس شخص کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا پردہ رکھا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں کر دیا کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی بات پر خاموش رہے پھر آپ کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم یہاں ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اس گدھے کا مردار کھا لو۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، اسے کون کھا سکتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس مردار کو کھانے سے زیادہ برا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4399]

4400

Sahih Ibn Hibban #4400

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْلَكَ ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى ؟ " ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى . فَقَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى ؟ " فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى . قَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى ؟ " قَالَ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ . فَأَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى . قَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى ؟ " قَالَ : " أَدْخَلْتَ وَأَخْرَجْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ تَحَمَّلَ إِِلَى شَجَرَةٍ ، فَرُجِمَ عِنْدَهَا حَتَّى مَاتَ ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِصَاحِبِهِ : وَأَبِيكَ إِِنَّ هَذَا لَهُوَ الْخَائِبُ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدَّهُ حَتَّى قُتِلَ كَمَا يَقْتُلُ الْكَلْبُ . فَسَكَتَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهَا ، فَقَالَ :" كُلا مِنْ هَذَا " . قَالا : مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا أَكْثَرُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، إِِنَّهُ لَفِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّصُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دور والے نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا زنا کیا ہے؟“ انہیں پھر وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا کہ زنا کیا چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر وہی کام کیا ہے جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، وہ چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ کیا تم نے اندر داخل کیا اور باہر نکالا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے، جب انہیں پتھر لگنے لگے تو انہوں نے درخت کی آڑ لی، پھر انہیں اس درخت کے پاس سنگسار کر دیا گیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب رضی اللہ عنہم بھی تھے، ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے کہا: ”تمہارے باپ کی قسم! یہ شخص خسارے کا شکار ہونے والا ہے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرتے رہے یہاں تک کہ اسے یوں قتل کر دیا گیا جس طرح کتے کو مارا جاتا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے حوالے سے خاموش رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے مردار جسم کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اسے کھاؤ۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا گدھے کے مردار کو کھائیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ (بڑا گناہ ہے)، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! وہ شخص اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4400]

4401

Sahih Ibn Hibban #4401

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَقَدْرَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے دیکھا ہے وہ جنت کی نہروں میں تیر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4401]

4402

Sahih Ibn Hibban #4402

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِِلا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ " ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ، فَقَالَ : " إِِنَّمَاهَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَأَيْمُ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش ایک مخزومی خاتون کے معاملے میں بہت پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرے گا؟ تو کسی نے کہا: یہ جرأت صرف اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور خاندان کا شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس پر حد جاری کر دیا کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی صاحبزادی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کٹوا دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4402]

4403

Sahih Ibn Hibban #4403

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيِّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا . فَلَمَّا وَضَعَتْ أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا ، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْتَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ جَلَّ وَعَلا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَةِ عَمِّ أَبِي قِلابَةَ ، إِِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، وَإِِنَّمَا هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ مِنْ ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَسَادَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد قائم کریں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلوایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جب یہ بچے کو جنم دے دے تو تم اسے میرے پاس لے آنا“، جب اس عورت نے بچے کو جنم دے دیا تو وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے کپڑے کو مضبوطی سے باندھا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کی نمازِ جنازہ ادا کریں گے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایک ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے قربان کر دیا؟“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام اوزاعی کو ابوقلابہ کے چچا کی کنیت ذکر کرنے میں وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ روایت ابوقلابہ کے حوالے سے ان کے چچا ابومہاجر کے حوالے سے منقول ہے، حالانکہ ان کے چچا کی کنیت ابومہلب ہے اور ان کا نام عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہے، یہ ثقہ تابعین میں سے ہیں اور اہل بصرہ کے سرداروں میں سے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4403]

4404

Sahih Ibn Hibban #4404

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَقَدْرَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے جنت کی نہروں میں تیرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4404]

4405

Sahih Ibn Hibban #4405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا ، وَقَالَ : مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ، وَمَنْ أُخِّرَ عَنْهُ ، فَأَمْرُهُ إِِلَى اللَّهِ إِِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَإِِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح ہماری خواتین سے لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی ایک قابلِ حد چیز کا مرتکب ہو جائے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے تو یہ چیز اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس شخص سے یہ بات مؤخر ہو جائے (یعنی اسے دنیا میں سزا نہ ملے) تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا، اگر وہ چاہے گا تو اس پر رحم کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے عذاب دے دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4405]