Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 39 · Chapter 1

Book of Usurpation

Hadith 4326–4365

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4326

Sahih Ibn Hibban #4326

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ صَبَّةً ، فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا ، فَقَالُوا لا ، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا . قَالَ يَحْيَى : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَاشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَهَذَا آخِرُ جَوَامِعِ أَنْوَاعِ الأَمْرِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَاهَا بِفُصُولِهَا وَأَنْوَاعِ تَقَاسِيمِهَا ، وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الأَوَامِرِ أَحَادِيثُ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَقْسَامِ ، لأَنَّ تِلْكَ الْمَوَاضِعَ بِهَا أَشْبَهُ ، كَمَا بَدَّدْنَا مِنْهَا فِي الأَوَامِرِ لِلْبُغْيَةِ فِي الْقَصْدِ فِيهَا ، وَإِِنَّمَا نُمْلِي بَعْدَ هَذَا الْقِسْمَ الثَّانِي الَّذِي هِيَ النَّوَاهِي بِتَفْصِيلِهَا وَتَقْسِيمِهَا عَلَى حَسَبِ مَا أَمْلَيْنَا الأَوَامِرَ إِِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ ، جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ أَغْضَى فِي الْحُكْمِ فِي دِينِ اللَّهِ عَنْ أَهْوَاءِ الْمُتَكَلِّفِينَ ، وَلَمْ يُعَرِّجْ فِي النَّوَازِلِ عَلَى آرَاءِ الْمُقَلِّدِينَ مِنَ الأَهْوَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالآرَاءِ الْمَنْحُوسَةِ ، إِِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد مانگنے کے لیے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالکان چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ میں ادائیگی کر دیتی ہوں اور پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: جی نہیں، ولاء کا حق ہمیں حاصل رہے گا۔ یحییٰ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اور عمرہ نامی خاتون نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ چیز تمہیں اس بات سے نہ روکے، تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اوامر کی مختلف اقسام کے مجموعے کا یہ آخری حصہ ہے، ان اوامر کو ہم نے فصول اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کیا ہے، اب اوامر میں سے کچھ احادیث باقی رہ گئی ہیں جنہیں ہم نے دیگر اقسام میں مختلف مقامات پر نقل کیا ہے کیونکہ وہ اس مقام کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں، جس طرح ہم نے ان میں سے کچھ احادیث کو اوامر کے تحت بھی نقل کیا ہے تاکہ اس بارے میں مقصد حاصل ہو جائے، اس کے بعد ہم دوسری قسم املاء کروائیں گے جو نواہی سے تعلق رکھتی ہے، ہم اسے مختلف فصلوں اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کریں گے جس طرح ہم نے اوامر کو املا کروایا تھا، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا؛ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اللہ کے دین کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے تکلف کرنے والوں کی نفسانی خواہشات سے لاتعلق رہتے ہیں اور نئے پیش آمدہ مسائل میں الٹی خواہشات اور منحوس آراء کی پیروی کرنے والوں کی رائے کے مطابق نہیں چلتے ہیں، بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4326]

4327

Sahih Ibn Hibban #4327

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حِصْنٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَلَّى إِِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : حِصْنٌ هَذَا هُوَ : حِصْنُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّرَاغِمِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ جَدُّ سَلَمَةَ بْنِ الْعَيَّارِ لَهُ حَدِيثَانِ غَيْرَ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، وہ جہنم میں اپنے مخصوص مقام پر پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حصن نامی راوی حصن بن عبدالرحمن تراغمی ہے، یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ سلمہ بن عیار کے دادا ہیں، ان سے اس روایت کے علاوہ دو اور احادیث بھی منقول ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4327]

4328

Sahih Ibn Hibban #4328

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ بہتر ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے زمانے کے، پھر اس کے بعد والے، پھر اس کے بعد والے، پھر وہ لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی قسم سے پہلے ہو گی اور قسم گواہی سے پہلے ہو گی (یعنی وہ جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے اور جھوٹی گواہیاں دیں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4328]

4329

Sahih Ibn Hibban #4329

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَقْبَلَهُ ذَاتَ يَوْمٍ غِلْمَانٌ ، وَإِِمَاءٌ ، وَعُبَيْدٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِِنِّي لأُحِبُّكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ بچے، کنیزیں اور انصار کے غلام آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4329]

4330

Sahih Ibn Hibban #4330

أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَاللَّهِمَا الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِِلا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ جو بنو فہر سے تعلق رکھتے ہیں بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو دریا میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس چیز کے ہمراہ واپس آئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4330]

4331

Sahih Ibn Hibban #4331

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَكُونِينَ غَضْبَى وَحِينَ تَكُونِينَ رَاضِيَةً ، إِِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لا وَرَبِّ إِِبْرَاهِيمَ ، وَإِِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً ، قُلْتُ : لا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ " . فَقُلْتُ : صَدَقْتَ ، إِِنَّمَا أَهْجُرُ اسْمَكَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ كَثِيرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا ، وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا ، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْتَعُ بَعِيرَكَ ؟ قَالَ : " فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ فِيهَا " . تُرِيدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یہ بات مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتی جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، جب تم ناراض ہوتی ہو تو یہ کہتی ہو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پروردگار کی قسم اور جب تم راضی ہوتی ہو تو یہ کہتی ہو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم۔“ تو میں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے لیکن میں تو صرف آپ کا نام لینا ترک کرتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی وادی میں پڑاؤ کرتے ہیں جہاں بہت سے درخت ہوتے ہیں جن سے کھایا گیا ہوتا ہے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا درخت ملتا ہے جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو کہاں چرائیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس درخت کے پاس جس میں سے کچھ نہ کھایا گیا ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4331]

4332

Sahih Ibn Hibban #4332

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَيَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا : لا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم اٹھاتے تھے تو یہ الفاظ استعمال کرتے تھے: «وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» ”دلوں کو پھیرنے والی ذات کی قسم۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4332]

4333

Sahih Ibn Hibban #4333

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ . فَقَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هُوَ كَلامُ الرَّجُلِ : كَلا وَاللَّهِ ، بَلَى وَاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم صائغ بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے لغو قسم کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس سے مراد آدمی کا یہ کہنا ہے: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! جی ہاں اللہ کی قسم۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4333]

4334

Sahih Ibn Hibban #4334

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ نے میری امت کی ہر اس چیز سے درگزر کیا ہے جو ان کے ذہن میں خیال آتا ہے جب تک وہ اس بارے میں کوئی بات نہ کریں یا اس پر عمل نہ کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4334]

4335

Sahih Ibn Hibban #4335

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّاللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَنْطِقْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان چیزوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے ذہن میں خیالات آتے ہیں، جب تک وہ اس بارے میں بات نہیں کرتے یا ان پر عمل نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4335]

4336

Sahih Ibn Hibban #4336

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلا سَرَقَ ، فَقَالَ عِيسَى : أَسَرَقْتَ ؟ قَالَ : كَلا وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ . فَقَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَذَّبْتُ عَيْنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے چوری کی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: کیا تم نے چوری کی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، اس ذات کی قسم «لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ» ”جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ (میں نے چوری نہیں کی ہے) تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اپنی آنکھوں کو غلط قرار دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4336]

4337

Sahih Ibn Hibban #4337

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَيَطُوفَنَّ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ، كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ تَحْمِلُ غُلامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِِلا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ غُلامٍ ، فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قَالَ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، كَانَ كَمَا قَالَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اپنی ایک سو بیویوں کے پاس تشریف لے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک عورت ایسے لڑکے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو ان میں سے صرف ایک خاتون نے نامکمل بچے کو جنم دیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر وہ اس وقت «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیتے تو اسی طرح ہونا تھا جس طرح انہوں نے بیان کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4337]

4338

Sahih Ibn Hibban #4338

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَيَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلِكُ : قُلْ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَنَسِيَ ، وَأَطَافَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً فَمَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِِلا وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلامٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قَالَ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ ، وَكَانَ أَدْرَكَ حَاجَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا سلیمان بن داود علیہما السلام نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ آج کی رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک خاتون ایک ایسے لڑکے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا: آپ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیجیے، لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے، وہ اس رات اپنی نوے بیویوں کے پاس تشریف لے گئے لیکن ان میں سے صرف ایک بیوی نے نامکمل بچے کو جنم دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اگر وہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیتے تو وہ حانث نہ ہوتے اور ان کی خواہش بھی پوری ہو جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4338]

4339

Sahih Ibn Hibban #4339

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ ، فَقَالَ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدِ اسْتَثْنَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ دے تو وہ استثناء کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4339]

4340

Sahih Ibn Hibban #4340

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ ، فَقَالَ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَمْ يَحْنَثْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ دے، وہ حانث نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4340]

4341

Sahih Ibn Hibban #4341

أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطُّرْسُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ فَقَالَ : إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدِ اسْتَثْنَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حلف اٹھائے اور «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ دے تو اس نے استثناء کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4341]

4342

Sahih Ibn Hibban #4342

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِِنْ شَاءَ مَضَى ، وَإِِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور استثناء کر لے، تو اسے اختیار ہوگا، اگر چاہے تو اسے برقرار رکھے اور اگر چاہے تو حانث ہوئے بغیر اسے ترک کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4342]

4343

Sahih Ibn Hibban #4343

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِلأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ، وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا " ، ثُمَّ سَكَتَ ، فَقَالَ : " إِِنْ شَاءَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا، اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا، اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4343]

4344

Sahih Ibn Hibban #4344

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى مُلْكِ يَمِينِهِ أَنْ يَضْرِبَهُ ، فَكَفَّارَتُهُ تَرَكُهُ ، وَمَعَ الْكَفَّارَةِ حَسَنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے غلام کے بارے میں یہ قسم اٹھائے کہ وہ اس کی پٹائی کرے گا تو اس کا کفارہ یہ ہے: وہ اس عمل کو ترک کر دے اور کفارے کے ہمراہ یہ نیکی بھی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4344]

4345

Sahih Ibn Hibban #4345

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، ثُمَّ لِيَتْرُكْ يَمِينَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اسے وہ کام کرنا چاہیے جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4345]

4346

Sahih Ibn Hibban #4346

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَهُ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِِلا دِرْعِي وَمِغْفَرِي ، فَأَكْتُبُ إِِلَى أَهْلِي أَنْ تَعْطِيكَهَا . فَلَمْ يَرْضَ ، فَحَلَفَ أَنْ لا يُعْطِيَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ رَضِيَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عَدِيٌّ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى مَا هُوَ أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى " . مَا حَنَثْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے خرچ کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، صرف یہ زرہ ہے اور یہ خود ہے، میں اپنے گھر والوں کی طرف کاغذ لکھ دیتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دے دیں، وہ شخص اس بات پر راضی نہیں ہوا تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اسے کچھ نہیں دیں گے، پھر وہ شخص اس بات پر راضی ہو گیا تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر وہ (اس کے برخلاف صورت حال کو) دیکھے کہ وہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، تو اسے وہ کام کرنا چاہیے جو پرہیزگاری والا ہو۔“ (سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4346]

4347

Sahih Ibn Hibban #4347

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ وَإِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر دیکھے، تو اسے وہ کام کرنا چاہیے جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4347]

4348

Sahih Ibn Hibban #4348

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، لا تَسْأَلِ الإِِمَارَةَ ، فَإِِنَّكَ إِِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِِلَيْهَا ، وَإِِنْ أَتَتْكَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالرحمن! تم حکومتی عہدے کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر یہ تمہیں مانگنے سے ملے گا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر یہ تمہیں مانگے بغیر مل جائے گا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی قسم کے بارے میں حلف اٹھا لو اور تم اس کے علاوہ دوسری صورت کو اس سے زیادہ بہتر پاؤ تو وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4348]

4349

Sahih Ibn Hibban #4349

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر محسوس کرے تو اسے اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے اور وہ کام کرنا چاہیے جو زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4349]

4350

Sahih Ibn Hibban #4350

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ :نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا ، وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَانْطَلَقَ وَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : حَتَّى يَجِيءَ أَبُوكَ مَنْزِلَهُ ، فَيَطْعَمُ مَعَنَا ، فَقُلْتُ : إِِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ ، وَإِِنَّكُمْ إِِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى ، فَأَبَوْا عَلَيْنَا ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : قَدْ فَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ ، فَقَالُوا : لا وَاللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ آمُرُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَتَنَحَّيْتُ ، قَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِِلا جِئْتَ فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ ، هَؤُلاءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ لا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ ؟ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ . قَالُوا : فَوَاللَّهِ لا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ . فَقَالَ : لَمْ أَرْ كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا الأَوَّلُ فَمِنِ الشَّيْطَانِ ، فَهَلُمُّوا قِرَاكُمْ فَجِيءَ بِالطَّعَامِ ، فَسَمَّى اللَّهَ ، وَأَكَلَ ، وَأَكَلُوا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ . فَقَالَ : " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَخَيْرُهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے، میرے والد نماز کے وقت (عشاء کے بعد دیر تک) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، جب وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) جانے لگے تو انہوں نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن! مہمانوں کو کھانا کھلا دینا۔ جب شام ہوئی تو میں کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: جب تک تمہارے والد گھر واپس نہیں آتے اور ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے (ہم اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے)۔ میں نے کہا: وہ غصے والے آدمی ہیں، اگر آپ لوگوں نے کھانا نہ کھایا تو مجھے یہ اندیشہ ہے وہ میری پٹائی کریں گے، لیکن مہمانوں نے یہ بات نہیں مانی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ مہمانوں نے جواب دیا: جی نہیں، اللہ کی قسم! (ہم نے کھانا نہیں کھایا)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمن کو یہ ہدایت نہیں کی تھی (کہ وہ آپ کو کھانا کھلا دے)؟ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک طرف ہٹ چکا تھا، انہوں نے (بلند آواز میں) کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم میری آواز سن رہے ہو تو آ جاؤ، تو میں آگیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں ہے، یہ آپ کے مہمان موجود ہیں، آپ ان سے دریافت کر لیں، میں ان کے پاس کھانا لے کر آیا تھا، لیکن انہوں نے اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک آپ نہیں آ جاتے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے آپ لوگوں نے کھانا کیوں قبول نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ دیا: اللہ کی قسم! آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آج رات جیسی مشکل صورت کبھی نہیں دیکھی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہو گئی۔ آپ لوگ کھانے کی طرف آئیں، پھر کھانا لایا گیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی اور کھانا کھا لیا، مہمانوں نے بھی کھانا کھا لیا۔ اگلے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں نے تو نیکی کر لی اور میں حانث ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان سب سے زیادہ نیک اور ان سب سے بہتر ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4350]

4351

Sahih Ibn Hibban #4351

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْتَحْمِلُهُ لِنَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لا أَحْمِلُهُمْ . فَأُتِيَ رَسُولَ اللَّهِ بِنَهْبٍ مِنْ إِِبِلٍ فَفَرَّقَهَا ، فَبَقِيَ مِنْهَا خَمْسُ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ؟ قَالَ : هُوَ ذَا هُوَ . فَقَالَ : خُذْ هَذِهِ فَاحْمِلْ عَلَيْهَا قَوْمَكَ . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ كُنْتَ قَدْ حَلَفْتَ . قَالَ : وَإِِنْ كُنْتُ حَلَفْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے سواری کے جانور حاصل کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو سواری فراہم نہیں کروں گا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الگ الگ کروایا، ان میں سے پندرہ اونٹ باقی رہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”عبداللہ بن قیس کہاں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: وہ یہاں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں حاصل کر لو اور ان پر اپنی قوم کے افراد کو سوار کرواؤ“، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ میں نے قسم اٹھائی تھی (لیکن تم پھر بھی اسے حاصل کر لو)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4351]

4352

Sahih Ibn Hibban #4352

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينً فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اسے وہ کام کرنا چاہیے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4352]

4353

Sahih Ibn Hibban #4353

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لَمْ يَحْنَثْ ، حَتَّى نَزَلَتْ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِِلا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی قسم اٹھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے برخلاف نہیں کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ قسم کے کفارے سے متعلق آیت نازل ہو گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب میں جو بھی قسم اٹھاؤں گا اور اس کے علاوہ صورت کو زیادہ بہتر سمجھوں گا، تو میں وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4353]

4354

Sahih Ibn Hibban #4354

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مُشَاةً ، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمُ الْيَوْمَ " ، أَوْ قَالَ : وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمْ . قَالَ : فَلَمَّا رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ ، أَوْ قَالَ : حِينَ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ ، أَتَاهُ قَطِيعٌ مِنْ إِِبِلٍ ، فَإِِذَا قَدْ بَعَثَ إِِلَيْنَا بِثَلاثٍ بُقْعِ الذُّرَى ، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : أَنَرْكَبُ وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ . قَالَ : " إِِنِّي وَاللَّهِمَا أَحْمِلُكُمْ ، إِِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ ، وَمَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ يَمِينٍ أَحْلِفُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِِلا أَتَيْتُهَا أَوْ أَتَيْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ پیدل تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے لیے جانور مانگنے کے لیے حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! آج میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم اپنی رہائشی جگہ پر واپس آ گئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم اپنی رہائشی جگہ کی طرف واپس آنے لگے تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سفید کوہان والے تین اونٹ ہماری طرف بھجوا دیئے، ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا: کیا ہم اس پر سوار ہوں جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ قسم اٹھا چکے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے)؟ تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری کے لیے جانور دیئے ہیں، روئے زمین پر میں جو بھی قسم اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ صورت حال کو اس سے بہتر سمجھوں گا تو میں وہ کام کروں گا (جو زیادہ بہتر ہو)“ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4354]

4355

Sahih Ibn Hibban #4355

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ ، فَقَالَ : لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا ، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ وَكَلِّمْ أَخَاكَ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَمِينَ عَلَيْكَ ، وَلا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلا فِيمَا لا تَمْلِكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیّب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو بھائی تھے جن کے درمیان وراثت سے متعلق کوئی مسئلہ تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا، تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات چیت نہیں کروں گا اور یہ سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے لیے مخصوص ہو جائے گا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک خانہ کعبہ تمہارے مال سے بے نیاز ہے، تم اپنی قسم کا کفارہ دو اور اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی گناہ کے کام میں، رشتے داری کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے اور جو چیز تمہاری ملکیت میں نہ ہو اس کے بارے میں نہ تو تم پر کوئی قسم لازم ہو گی اور نہ ہی نذر لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4355]

4356

Sahih Ibn Hibban #4356

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمَاالْحَلِفُ حَنِثٌ أَوْ نَدَمٌ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَيْسَ لِبَشَّارٍ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرُ هَذَا ، وَهُوَ أَخُو مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ : عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَاسْطِيٌّ ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم یا تو توڑنی پڑتی ہے یا پھر ندامت کا شکار کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بشار نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور ”مرفوع“ حدیث منقول نہیں ہے، یہ صاحب مسعر بن کدام کے بھائی ہیں، ابوشعشاء نامی راوی کا نام علی بن حصین بن سلیمان واسطی ہے، یہ راوی ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4356]

4357

Sahih Ibn Hibban #4357

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَلا بِأُمَّهَاتِكُمْ ، وَلا بِالأَنْدَادِ ، وَلا تَحْلِفُوا إِِلا بِاللَّهِ ، وَلا تَحْلِفُوا إِِلا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے باپ دادا یا ماؤں کے نام کی یا اپنے بتوں کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ، تم لوگ صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھاؤ اور تم اسی وقت قسم اٹھاؤ جب تم سچے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4357]

4358

Sahih Ibn Hibban #4358

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَحَلَفَ رَجُلٌ بِالْكَعْبَةِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَيْحَكَ لا تَفْعَلْ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک شخص نے خانہ کعبہ کے نام کی قسم اٹھائی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام کی قسم اٹھاتا ہے وہ (گویا) شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4358]

4359

Sahih Ibn Hibban #4359

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : إِِنَّاللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، أَوْ لِيَسْكُتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کے نام کی قسم اٹھاتے ہوئے پایا تو ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھاؤ، جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے ورنہ خاموش رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4359]

4360

Sahih Ibn Hibban #4360

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، أَوْ لِيَصْمُتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایسی صورت میں پایا کہ وہ کچھ سواروں کے درمیان چل رہے تھے اور اپنے والد کے نام کی قسم اٹھا رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھاؤ، جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4360]

4361

Sahih Ibn Hibban #4361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَلْيَحْلِفْ حَالَفٌ بِاللَّهِ ، أَوْ لِيَسْكُتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کے نام کی قسم اٹھاتے ہوئے پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ تم لوگ اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھاؤ، قسم اٹھانے والے کو اللہ کے نام کی قسم اٹھانی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4361]

4362

Sahih Ibn Hibban #4362

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلا يَحْلِفُ إِِلا بِاللَّهِ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا ، فَقَالَ : لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھائے۔“ قریش اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھایا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4362]

4363

Sahih Ibn Hibban #4363

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيِّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ حَلَفَ بِالأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا ". ابْنُ بُرَيْدَةَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی دوسرے کی بیوی یا غلام کو خراب کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص امانت کی قسم اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابن بریدہ نامی راوی عبداللہ بن بریدہ بن حصیب ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4363]

4364

Sahih Ibn Hibban #4364

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :حَلَفْتُ بِاللاتِ وَالْعُزَّى . فَقَالَ أَصْحَابِي : قُلْتَ هُجْرًا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ الْعَهْدَ كَانَ قَرِيبًا وَحَلَفْتُ بِاللاتِ وَالْعُزَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ اتْفُلْ عَنْ يَسَارِكِ ثَلاثًا ، وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَلا تَعُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھائی تو میرے ساتھیوں نے کہا: تم نے غلط بات کہی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں، میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھا لی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم تین مرتبہ یہ کہو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے“ پھر تم اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو اور «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو“ اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4364]

4365

Sahih Ibn Hibban #4365

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :حَلَفْتُ بِاللاتِ وَالْعُزَّى ، فقال لِي أَصْحَابِي : لَقَدْ قُلْتَ هُجْرًا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِِنَّ الْعَهْدَ كَانَ حَدِيثًا ، وَإِِنِّي حَلَفْتُ بِاللاتِ وَالْعُزَّى ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلاثًا ، وَانْفُثْ عَنْ شِمَالِكَ ثَلاثًا ، وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلا تَعُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھائی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بہت غلط بات کہی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: زمانہ جاہلیت قریب ہی ہے، میں نے (غلطی سے) لات اور عزیٰ کی قسم اٹھا لی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”تم تین مرتبہ یہ پڑھو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ ہی ایک معبود ہے“ تم اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو، پھونک مارو اور شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4365]