Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 38 · Chapter 3

Book of Leases

Hadith 4292–4325

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4292

Sahih Ibn Hibban #4292

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ بن أنس بن مالك ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانَ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ ، فَإِِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِِلَى أَهْلِي ، فَإِِنَّزَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ ، وَلا نَفَقَةَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " . فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيتُ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتِ ؟ " قَالَتْ : فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي ، فَقَالَ : " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " . قَالَتْ : فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِِلَيَّ ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَاتَّبَعَهُ ، وَقَضَى بِهِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَوَى هَذَا الْخَبَرُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ . وَالْقَدُومُ : مَوْضِعٌ بِالْحِجَازِ ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي رُوِيَ فِي بَعْضُ الأَخْبَارِ : أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے میکے بنو خدرہ میں منتقل ہو جائیں کیونکہ ان کا شوہر اپنے کچھ مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا اور «طَرَفِ قَدُومٍ» ”طرفِ قدوم“ کے مقام پر اس نے ان غلاموں کو پکڑ لیا تھا اور ان غلاموں نے اسے قتل کر دیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ”میں اپنے میکے واپس چلی جاتی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی خرچ کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے“، وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے“، میں وہاں سے روانہ ہوئی ابھی میں حجرے میں ہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: مسجد میں تھی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دیا) تو مجھے بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کیا بیان کیا تھا؟“ وہ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ بیان کیا جو میں نے اپنے شوہر کی صورت حال کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی“، وہ بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس گھر میں چار ماہ دس دن تک عدت گزاری، وہ بیان کرتی ہیں: جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (کا عہد خلافت آیا) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ لیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت زہری کے حوالے سے امام مالک رحمہ اللہ نے نقل کی ہے اور «القَدُومُ» ”قدوم“ حجاز میں ایک جگہ کا نام ہے یہ وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں بعض روایات میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے «القَدُومُ» ”قدوم“ کے مقام پر ختنہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4292]

4293

Sahih Ibn Hibban #4293

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ ، تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ ، أَنَّ زَوْجَهَا كَانَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ ، وَأَنَّهُ تَبَعَ أَعْلاجًا فَقَتَلُوهُ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتِ الْوَحْشَةِ ، وَذَكَرَتْ أَنَّهَافِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا ، وَأَنَّهَا اسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ تَأْتِيَ إِِخْوَتَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، ثُمَّ أَعَادَهَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فریعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر ربیعہ مدینہ منورہ کے کسی دیہات میں تھے، وہ اپنے (کچھ مفرور) غلاموں کے پیچھے گئے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آبادی سے دور رہنے کی وجہ سے اپنی وحشت کا تذکرہ کیا، اس خاتون نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتی ہے جو اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائیوں کے ہاں آ جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صورتِ حال دہرانے کے لیے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے اس گھر میں ٹھہری رہو جہاں اس کے انتقال کی اطلاع آئی تھی، اس وقت تک جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4293]

4294

Sahih Ibn Hibban #4294

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ كَتَبَ إِِلَى عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِيّ أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا ، قَالَ : فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ يَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ مِنْ وَفَاةِ بَعْلِهَا ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا ، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً ، فَقَالَ لَهَا : لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ . قَالَتْ : فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ وَاسْتَفْتَيْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْحَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمَلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ کو خط لکھا کہ تم سیدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے بارے میں فتویٰ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ عمر بن عبداللہ وہاں گئے، انہوں نے اس خاتون سے دریافت کیا تو اس خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ (کی زوجہ) تھیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، ان کا انتقال حجۃ الوداع کے موقع پر ہو گیا تو اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی بچے کو جنم دے دیا۔ جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو بنو عبدالدار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، انہوں نے اس خاتون کو بنے سنورے دیکھا تو اس خاتون سے کہا: ”شاید تم چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہو۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے ابوسنابل کی زبانی یہ بات سنی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی اور مسئلہ دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے بچے کو جنم دیا تھا تو اس وقت تمہاری عدت ختم ہو گئی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4294]

4295

Sahih Ibn Hibban #4295

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَقُلْتُ : أَمَا قَالَ اللَّهُ : وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ . فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُرَيْبًا إِِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَهُنَّ : هَلْ سَمِعْتُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ سُنَّةً ؟ فَأَرْسَلْنَ إِِلَيْهِ أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ" وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دونوں طرح کی عدت میں سے جو بعد میں پوری ہو گی وہ اس کے مطابق عدت گزارے گی۔“ ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور حاملہ عورتوں کی عدت کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کریب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی طرف بھجوایا تاکہ وہ ان سے اس بارے میں دریافت کریں کہ کیا انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی حدیث سن رکھی ہے، تو ان ازواج نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ جواب بھجوایا کہ سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی) ان کا نکاح کروا دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4295]

4296

Sahih Ibn Hibban #4296

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ َفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : آخِرَ الأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : إِِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . قَالَ : فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ . فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَجَاءَهُمْ ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ : وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا : " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے درمیان ایسی خاتون کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو عدت بعد میں ختم ہو گی (وہ عورت اس کے مطابق عدت گزارے گی)۔ ابوسلمہ نے کہا: جیسے ہی وہ نفاس والی ہو گی (یعنی بچے کو جنم دے گی) تو وہ حلال ہو جائے گی (یعنی اس کی عدت ختم شمار ہو گی)۔ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں، یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، اس نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا اور پھر ان حضرات کے پاس واپس آ کر انہیں یہ بتایا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا، اس خاتون نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہاری عدت ختم ہو گئی ہے، تم (دوسرا) نکاح کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4296]

4297

Sahih Ibn Hibban #4297

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ ، فَخَطَبَهَا رَجُلانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالآخَرُ كَهْلٌ ، فَحَطَّتْ إِِلَى الشَّابِّ ، فَقَالَ الْكَهْلُ : لَمْ تَحْلُلْ ، وَكَانَ أَهْلُهَا غَيْبًا وَرَجَا إِِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَدْ حَلَلْتِ ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسی بیوہ عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا جو حاملہ ہو، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو عدت بعد میں پوری ہوگی (وہ عورت وہ والی عدت پوری کرے گی)، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب وہ بچے کو جنم دے گی تو اس کی عدت ختم شمار ہوگی، پھر ابوسلمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ نامی خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچے کو جنم دیا، دو آدمیوں نے اس سے نکاح کا پیغام بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا عمر رسیدہ تھا، وہ عورت نوجوان کی طرف مائل ہوئی تو عمر رسیدہ شخص نے کہا کہ تمہاری تو ابھی عدت ہی ختم نہیں ہوئی، اس خاتون کے خاندان کے افراد وہاں موجود نہیں تھے، اس بوڑھے کو یہ امید تھی کہ جب اس کے گھر کے افراد وہاں آ جائیں گے تو اسے (نوجوان پر) ترجیح دیں گے، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حلال ہو چکی ہو (یعنی تمہاری عدت ختم ہو چکی ہے)، اب تم جس سے چاہو شادی کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4297]

4298

Sahih Ibn Hibban #4298

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ قَلائِلَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي النِّكَاحِ ، فَأَذِنَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دے دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4298]

4299

Sahih Ibn Hibban #4299

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، قَالَ : وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا وَضَعَتْ تَشَوَّفَتِ الأَزْوَاجَ ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهَا وَقَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسنابل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تئیس یا شاید پچیس دن بعد بچے کو جنم دے دیا، جب انہوں نے بچے کو جنم دے دیا تو شادی کرنے کے لیے آراستہ ہوئیں، ان پر اعتراض کیا گیا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب اس کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہے جبکہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4299]

4300

Sahih Ibn Hibban #4300

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : لا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، فَمَرَّةً يُحَدِّثُ عَنْ هَذَا ، وَأُخْرَى عَنْ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تم لوگ ہمارے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مشتبہ نہ کرو، ام ولد کی عدت وہی ہو گی جو بیوہ عورت کی عدت ہوتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن ابوعروبہ نے یہ روایت قتادہ سے سنی ہے اور مطر وراق نے یہ روایت رجاء بن حیوہ سے سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس سے نقل کر دیا اور ایک مرتبہ اس سے نقل کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4300]

4301

Sahih Ibn Hibban #4301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى هَالِكٍ أَكْثَرِ مِنْ ثَلاثٍ ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے انتقال پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے، وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4301]

4302

Sahih Ibn Hibban #4302

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ أمهات المؤمنين ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمَ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَ لَيَالٍ ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے، اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4302]

4303

Sahih Ibn Hibban #4303

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے، اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4303]

4304

Sahih Ibn Hibban #4304

قَالَتْ زَيْنَبُ : وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَاهَا فَنُكَحِّلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا " ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : " لا ، إِِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ، وَقَدْ كَانَتْ إِِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے تین روایات نقل کی ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے والد سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ کی کوئی خوشبو منگوائی جس میں خلوق یا شاید کوئی دوسری خوشبو ملی ہوئی تھی، انہوں نے اس کا کچھ حصہ کسی لڑکی کو لگایا اور پھر تھوڑا سا اپنے چہرے (یا پیٹ) پر لگا لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک کرے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے بھائی سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، انہوں نے خوشبو منگوائی اور تھوڑی سی خوشبو لگا لی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے، البتہ اپنے شوہر کا سوگ وہ چار ماہ دس دن تک کرے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیٹی بیوہ ہے اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایسا شاید دو یا تین مرتبہ ہوا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”نہیں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”یہ (یعنی اس کی عدت کی مدت) چار ماہ دس دن ہے، جبکہ پہلے زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی (تب اس کی عدت پوری ہوتی تھی)۔“ حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ ایک سال کے بعد مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: (بیوہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد) عورت کے پاس کوئی جانور جیسے گدھا، بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی، عام طور پر وہ جانور مر جایا کرتا تھا، پھر وہ عورت (اپنی کوٹھڑی سے) باہر نکلتی تھی، اسے ایک مینگنی دی جاتی تھی جسے وہ پھینک دیتی تھی، اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ استعمال کرنا شروع کرتی تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ روایت کے الفاظ «تَفُضُّ بِهِ» سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کہ وہ عورت اپنا ہاتھ اس جانور کی کھال پر پھیرتی (رگڑتی) تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4304]

4305

Sahih Ibn Hibban #4305

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، لا تَكْتَحِلُ ، وَلا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِِلا ثَوْبَ عَصْبٍ ، وَلا تَمَسُّ طِيبًا إِِلا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ مَحِيضِهَا ، نُبْذَةَ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے، البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی؛ (اپنی عدت کے دوران) وہ سرمہ نہیں لگائے گی، رنگین کپڑے نہیں پہنے گی، البتہ پٹی باندھنے والے کپڑے کا حکم مختلف ہے اور وہ خوشبو نہیں لگائے گی، البتہ جب حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر رہی ہو گی، اس وقت وہ تھوڑی سی «قُسْطٍ» یا «أَظْفَارٍ» (یعنی مخصوص قسم کی خوشبو) لگا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4305]

4306

Sahih Ibn Hibban #4306

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ ، وَلا الْمُمَشَّقَةَ ، وَلا الْحُلِيَّ ، وَلا تَخْتَضِبُ وَلا تَكْتَحِلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ (عدت کے دوران) رنگین کپڑا نہیں پہنے گی، آراستہ کپڑا نہیں پہنے گی، زیور نہیں پہنے گی، خضاب نہیں لگائے گی اور سرمہ نہیں لگائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4306]

4307

Sahih Ibn Hibban #4307

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا أَبُو الْحَسَنِ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا بِأَرِيحَا ، فَمَرَّ بِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ فَأَجْلَسَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِِلَيَّ ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا حَدَّثَنِي بِهِ هَذَا الشَّيْخُ يَعْنِي وَاثِلَةَ . قُلْتُ : مَا حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ صَاحِبًا لَنَا قَدْ أَوْجَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتِقُوا عَنْهُ رَقَبَةً ، يُعْتِقُ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ ". اسْمُ أَبِي عَبْلَةَ : شِمْرُ بْنُ يَقْظَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن ابوعبلہ بیان کرتے ہیں: میں اریحا (کے مقام پر) بیٹھا ہوا تھا، میرے پاس سے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ گزرے، انہوں نے عبداللہ بن دیلمی کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، انہوں نے انہیں وہاں بٹھایا، پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے: میں اس بات پر بڑا حیران ہوا ہوں جو اس شیخ نے یعنی سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے، میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے؟ تو اس نے بتایا: (انہوں نے یہ بات بیان کی ہے) غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ایک ساتھی نے واجب کر لی ہے (یعنی کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر ایک عضو کے عوض میں اس شخص کے عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔“ ابوعبلہ کا نام شمر بن یقطان بن عامر بن عبداللہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4307]

4308

Sahih Ibn Hibban #4308

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ صَالِحَ بْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَابِلا صَاحِبَ الْعَبَاءِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایک مومن گردن (یعنی غلام یا کنیز) کو آزاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک عضو کے عوض میں (آزاد کرنے والے) کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4308]

4309

Sahih Ibn Hibban #4309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلا مُسْلِمًا ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ مِنَ النَّارِ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا مِنَ النَّارِ ". قَالَ الشَّيْخُ : أَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو نجیح سلیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ایک ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والے کی ہر ایک ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والی کی ہر ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: ابو نجیح کا نام عمرو بن عبسہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4309]

4310

Sahih Ibn Hibban #4310

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ،أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الإِِيمَانُ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ " . قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا " . قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " . قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِِنْ ضَعُفْتُ ؟ قَالَ : " تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ ، فَإِِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! کون سی گردن زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں یہ نہ کروں (یعنی اگر میں یہ نہ کر سکوں تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کمزور کی مدد کرو، معذور کے لیے کام کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، کیونکہ یہ تمہاری طرف سے تمہاری ذات کے لیے صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4310]

4311

Sahih Ibn Hibban #4311

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا غُلامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَهُمَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ أَعْتَقْتِيهِمَا ، فَابْدَئِي بِالْغُلامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کا ایک غلام اور ایک کنیز تھے جو شادی شدہ تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہو تو کنیز سے پہلے غلام کو آزاد کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4311]

4312

Sahih Ibn Hibban #4312

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الشَّهِيدُ ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے وہ تین افراد پیش کیے گئے جو جنت میں پہلے داخل ہوں گے؛ ان میں سے ایک شہید ہو گا، ایک وہ غلام ہو گا جو اپنے پروردگار کی اچھی عبادت کرتا رہا اور اپنے آقا کا خیر خواہ رہا، اور ایک وہ پاک دامن شخص ہو گا جو بال بچے دار ہو اور مانگنے سے بچتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4312]

4313

Sahih Ibn Hibban #4313

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ ، وَلا يُكَلَّفُ إِِلا مَا يُطِيقُ ، فَإِِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ، وَلا تُعَذِّبُوا عِبَادَ اللَّهِ خَلْقًا أَمْثَالَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غلام کو خوراک اور کپڑا دیا جائے گا اور اسے اسی بات کا پابند کیا جائے گا جس کی اس میں طاقت ہو، اگر تم اسے کسی کام کا پابند کرتے ہو تو خود بھی ان کی مدد کرو اور اللہ کے بندوں کو عذاب نہ دو کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح مخلوق ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4313]

4314

Sahih Ibn Hibban #4314

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا خَفَّفْتَ عَنْ خَادِمِكَ مِنْ عَمَلِهِ كَانَ لَكَ أَجْرًا فِي مَوَازِينِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اپنے خادم کے کام میں جتنی تخفیف کرو گے تو یہ تمہارے میزان میں اجر بن جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4314]

4315

Sahih Ibn Hibban #4315

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَيُّمَا مَمْلُوكٍ كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءَ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ ، فَإِِنَّهُ يُقَوَّمُ فِي مَالِ الَّذِي أَعْتَقَ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَيُعْتَقُ إِِنْ بَلَغَ ذَلِكَ مَالُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی غلام لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو جس نے اس کے حصے کو آزاد کیا ہے اس کے مال میں سے اس غلام کی مناسب سی قیمت لگائی جائے گی اور پھر اس غلام کو مکمل آزاد کر دیا جائے گا اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس اتنا مال موجود ہو (جو غلام کی قیمت جتنا ہو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4315]

4316

Sahih Ibn Hibban #4316

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ ، وَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ ، وَأَعْتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ ، وَإِِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو تو اس غلام کی مناسب طور پر قیمت لگائی جائے گی اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کو ان کا حصہ دے دے گا اور وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ اس غلام کا صرف اتنا ہی حصہ آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4316]

4317

Sahih Ibn Hibban #4317

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ فِيهِ شَرِيكٌ وَلَهُ وَفَاءٌ فَهُوَ حُرٌّ ، وَيَضْمَنُ نَصِيبَ شُرَكَائِهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ لِمَا أَسَاءَ مُشَارَكَتَهُمْ ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ شَيْءٌ ". أَبُو مُعَيْدٍ هَذَا اسْمُهُ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الرُّعَيْنِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الشَّامِ وَفُقَهَائِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اور اس غلام میں اس کے (دوسرے) حصے دار بھی ہوں اور اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ وہ اس غلام کی پوری قیمت ادا کر سکتا ہو تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کا حصہ مناسب قیمت کے حساب سے ادا کر دے گا، اس وجہ سے کہ اس نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ زیادتی کی ہے اور غلام پر کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔“ ابومعید نامی راوی کا نام حفص بن غیلان رعینی ہے، یہ اہل شام سے تعلق رکھنے والے ثقہ اور فقیہ شخص ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4317]

4318

Sahih Ibn Hibban #4318

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا عَبْدٌ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، فَإِِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ، وَإِِنْ كَانَ مُعْسِرًا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اگر وہ خوشحال ہو گا تو اس غلام کی قیمت وہ ادا کرے گا اور اگر وہ تنگ دست ہو گا تو پھر غلام کو تنگی کا شکار کیے بغیر اس سے مزدوری کروائی جائے گی (اور دوسرے شخص کے حصے کی قیمت ادا کر دی جائے گی)“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4318]

4319

Sahih Ibn Hibban #4319

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ خَلاصُهُ فِي مَالِهِ ، إِِنْ كَانَ لَهُ ، فَإِِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اس پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ اپنے مال میں سے اس پورے غلام کو آزاد کرے اگر اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو اور اگر اس کے پاس اتنا مال موجود نہ ہو تو اس غلام کی مناسب طور پر قیمت مقرر کی جائے گی اور پھر اس غلام سے اتنی مزدوری کروائی جائے گی جو اس حصے کے مطابق ہو جسے آزاد نہیں کیا گیا ہو تاہم اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4319]

4320

Sahih Ibn Hibban #4320

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّرَجُلا كَانَ لَهُ سِتَّةُ أَعْبُدٍ ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَهُ ، وَجَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، اس نے مرنے کے وقت ان کو آزاد کر دیا، اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے تین حصے کیے، ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور باقی چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4320]

4321

Sahih Ibn Hibban #4321

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَحَادِيثَ ، أَفَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَكْتُبَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " . فَكَانَ أَوَّلُ مَا كَتَبَ كِتَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَهْلِ مَكَّةَ :" لا يَجُوزُ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ ، وَلا بَيْعٌ وَسَلَفٌ جَمِيعًا ، وَلا بَيْعُ مَا لَمْ يُضْمَنْ ، وَمَنْ كَانَ مُكَاتَبًا عَلَى مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَضَاهَا إِِلا عَشْرَةَ دَرَاهِمَ ، فَهُوَ عَبْدٌ ، أَوْ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَقَضَاهَا إِِلا أُوقِيَّةً فَهُوَ عَبْدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث سنتے ہیں، تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی اجازت دیں گے کہ ہم انہیں نوٹ کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اہل مکہ کی طرف خط بھیجا تھا (جس میں یہ تحریر تھا): ”ایک ہی سودے میں دو شرطیں عائد کرنا جائز نہیں ہے اور ایک ہی سودے میں سودا اور سلف ایک ساتھ کرنا جائز نہیں ہے اور ایسا سودا بھی جائز نہیں ہے، جس کی ضمانت نہ دی جائے اور جو شخص ایک سو درہم کے عوض میں مکاتب بنا ہو اور وہ ان کی ادائیگی کر دے، صرف دس درہم کی ادائیگی نہ کر سکے تو وہ غلام شمار ہو گا یا کسی شخص نے ایک سو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا تھا اور وہ تمام ادائیگی کر دیتا ہے، صرف ایک اوقیہ کی ادائیگی نہیں کرتا تو وہ شخص غلام شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4321]

4322

Sahih Ibn Hibban #4322

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ كَاتَبَتْهُ فَبَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ أَلْفَا دِرْهَمٍ ، قَالَ نَبْهَانُ : كُنْتُ أَمْسِكُهَا لِكَيْ لا تَحْتَجِبَ عَنِّي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَ : فَحَجَجْتُ ، فَرَأَيْتُهَا بِالْبَيْدَاءِ ، فَقَالَتْ لِي : مَنْ ذَا ؟ فَقُلْتُ : أَنَا أَبُو يَحْيَى . فَقَالَتْ لِي : أَيْ بُنَيَّ ، تَدْعُو إِِلَيَّ ابْنَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَتُعْطِي فِي نِكَاحِهِ الَّذِي لِي عَلَيْكَ ، وَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلامَ . قَالَ : فَبَكَيْتُ وَصِحْتُ ، وَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا أَدْفَعُهَا إِِلَيْهِ أَبَدًا . فَقَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِِحْدَاكُنَّ مَا يَقْضِي عَنْهُ فَاحْتَجِبِي " . فَوَاللَّهِ لا تَرَانِي إِِلا أَنْ تَرَانِي فِي الآخِرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام نبہان بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا، ان کی کتابت کی رقم میں سے دو ہزار درہم باقی رہ گئے۔ نبہان کہتے ہیں: میں نے ان کی ادائیگی نہیں کی تاکہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پردہ کرنا نہ شروع کر دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں حج کے لیے گیا، میں نے بیداء کے مقام پر انہیں دیکھا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: میں ابویحییٰ ہوں، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن ابوامیہ کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے نکاح میں وہ رقم خرچ کرو جو میں نے تم سے لینی ہے اور میں تمہیں سلام کرتی ہوں۔ نبہان کہتے ہیں: میں رو پڑا اور میری آواز نکل گئی، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں انہیں کبھی بھی یہ ادائیگی نہیں کروں گا، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم خواتین میں سے کسی کے مکاتب کے پاس اتنی رقم موجود ہو جس کے ذریعے وہ (اپنے کتابت کے معاہدے کی) مکمل ادائیگی کر سکے تو تم (اس مکاتب غلام سے) پردہ کرو۔“ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) اللہ کی قسم! اب تم مجھے صرف آخرت میں ہی دیکھ سکو گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4322]

4323

Sahih Ibn Hibban #4323

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِينَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِينَا ، فَلا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم اپنے قیدیوں میں سے ام ولد خواتین کو فروخت کر دیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان حیات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4323]

4324

Sahih Ibn Hibban #4324

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ بَيْعِهِنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہم لوگ ام ولد کنیزوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہدِ حکومت آیا تو انہوں نے انہیں فروخت کرنے سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4324]

4325

Sahih Ibn Hibban #4325

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ ، فَقَالَتْ : إِِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ ، عَدَدْتُهَا لَهُمْ وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ . فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِِلَى أَهْلِهَا ، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا ، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، فَقَالَتْ : إِِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ . فَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرْتُهُ عَائِشَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا بَعْدُ" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِِنْ كَانَ مِائَةُ شَرْطٍ ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، وَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ ، لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا نَفْيُ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ لَوْ فَعَلَتْهُ لا الأَمْرُ بِهِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقِبِ هَذَا الْقَوْلِ قَامَ خَطِيبًا لِلنَّاسِ ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ لا لِمَنِ اشْتَرَطَ لَهُ ، وَنَظِيرُ هَذِهِ اللفظةِ فِي السُّنَنِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ : أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ؟ أَرَادَ بِهِ الإِِعْلامَ أَنَّكَ لَوْ فَعَلْتَ هَذَا الْفِعْلَ لَمْ يُجَزْ لأَنَّهُ جَوْرٌ ، وَلَوْ جَازَ شَهَادَةٌ غَيْرَهُ لَجَازَتْ شَهَادَتَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ جَوْرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ میرے پاس آئی، اس نے کہا: میں نے نو اوقیہ کے عوض اپنے مالکان کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کیا ہے جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی ہو گی، آپ میری مدد کیجیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تمہارے مالکان چاہیں تو میں انہیں تمام ادائیگی ایک ساتھ کر دیتی ہوں اور تمہاری ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ اپنے مالکان کے پاس گئی، اس نے انہیں یہ بات بتائی تو ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا، وہ اپنے مالکان کے پاس سے واپس آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے بتایا کہ میں نے ان کے سامنے یہ پیش کش رکھی تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور یہ اصرار کیا کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے خرید لو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی اگرچہ سو شرطیں عائد کی گئی ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (پورا کیے جانے کا) زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی (جائز کردہ) شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے، ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمانا ”تم ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو“ یہ لفظی طور پر امر کے الفاظ ہیں، لیکن اس سے مراد اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی ہے، اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں (تو یہ جائز نہیں ہو گا)، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس بات کا حکم دے رہے ہیں اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان کے بعد لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا اور انہیں یہ بتایا کہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے، اسے حاصل نہیں ہوتا جو اس کی شرط عائد کرتا ہے اور اس نوعیت کے الفاظ کی مثالیں سنت میں اور بھی ہیں، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو (اپنے ایک بیٹے کو) عطیہ دینے کے واقعے میں یہ فرمایا تھا: ”تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھا کہ اگر تم اس فعل کو سر انجام دو گے تو یہ جائز نہیں ہو گا کیونکہ یہ ظلم ہے (کیونکہ اصول یہ ہے) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی گواہی جائز ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی بھی جائز ہونی چاہیے تھی اور یہ عمل ظلم نہ ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4325]