Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 38 · Chapter 2

Book of Leases

Hadith 4252–4291

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4252

Sahih Ibn Hibban #4252

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ ، وَمُغِيرَةُ ، وَمُجَالِدٌ ، وَإِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خالد ، وداود ، كلهم عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ :طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ ، قَالَتْ : فَخَاصَمْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةَ . وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں «طَلَاقًا بَتَّةً» ”طلاقِ بتہ“ دے دی تھی، وہ خاتون بیان کرتی ہیں: رہائش اور خرچ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ ”میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کروں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4252]

4253

Sahih Ibn Hibban #4253

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍطَلَّقَهَا ثَلاثًا وَأَمَرَ لَهَا بِنَفَقَةٍ وَاسْتَقَلَّتْهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ نَحْوَ الْيَمَنِ ، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلاثًا ، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلا سُكْنَى " . فَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَقِلَ إِِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِِلَيْهَا : " أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ ، فَانْتَقِلِي إِِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِِنَّكِ إِِنْ وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ " ، وَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا لا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور انہیں خرچ دینے کی ہدایت کر دی، لیکن اس خاتون نے اس خرچ کو تھوڑا شمار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو یمن کی طرف بھیجا تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے، انہوں نے عرض کی: ابو عمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں، کیا اسے خرچ ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرچ اور رہائش نہیں ملے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا: ”ام شریک کے ہاں مہاجرینِ اولین آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے گھر میں منتقل ہو جاؤ کیونکہ وہاں اگر تم اپنی چادر اتار دو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا: ”تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھ سے آگے نہ نکلنا“ (یعنی عدت گزرنے کے بعد شادی کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لینا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی شادی سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4253]

4254

Sahih Ibn Hibban #4254

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : أَرْسَلَ إِِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلاقِي ، وَأَرْسَلَ إِِلَيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَالِي نَفَقَةٌ إِِلا هَذَا ، وَلا اعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ ؟ قَالَ : لا . قَالَتْ : فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : كَمْ طَلَّقَكِ ؟ " قُلْتُ : ثَلاثَةً . قَالَ : " صَدَقَ ، لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ . وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، تَلْقِينَ ثَوْبَكِ عِنْدَهُ ، فَإِِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ : فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ : مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ مُعَاوِيَةَ خَفِيفُ الْحَاذِ ، وَأَبُو جَهْمٍ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر ابوعمرو بن حفص نے مجھے طلاق بھجوا دی، انہوں نے ”جو“ کے پانچ صاع مجھے بھجوائے اور کھجور کے پانچ صاع بھی بھجوائے، میں نے کہا: کیا مجھے صرف یہی خرچ ملے گا؟ میں تمہارے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی، انہوں نے کہا: نہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے چادر لی اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے جواب دیا: تین۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس شخص نے سچ کہا ہے، تمہیں خرچ نہیں ملے گا۔ تم اپنے چچازاد ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت بسر کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، وہاں تم اپنی چادر اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔“ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: متعدد لوگوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، ان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ غریب آدمی ہے اور ابوجہم خواتین کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) خواتین کو مارتا ہے یا اس کی مانند کچھ اور الفاظ ہیں، البتہ تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4254]

4255

Sahih Ibn Hibban #4255

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ هِنْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي إِِلا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے، میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ مجھے دیتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اتنا مال حاصل کر لو جو تمہاری اور تمہاری اولاد کی بنیادی ضروریات کے لیے کفایت کر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4255]

4256

Sahih Ibn Hibban #4256

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ أَبَا بَكْرٍ بِوَاسِطَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ مُضَيِّقٌ عَلَيَّ ، وَعَلَى وَلَدِي ، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَشْعُرُ ؟ قَالَ : خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَهُوَ لا يَشْعُرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے مجھ پر اور میری اولاد پر (خرچ کے حوالے سے تنگی کی ہوئی ہے) تو کیا میں ان کے مال میں سے ان کی لاعلمی میں کچھ حاصل کر سکتی ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی لاعلمی میں اس کے مال میں سے مناسب طور پر لے لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4256]

4257

Sahih Ibn Hibban #4257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، وَمَا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِِلَيَّ الْيَوْمَ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! (پہلے ہی یہ حالت تھی) کہ روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔ پھر انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہوگا اگر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر اس کے بال بچوں پر خرچ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مناسب طریقے سے ان پر خرچ کرتی ہو تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4257]

4258

Sahih Ibn Hibban #4258

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أُصِيبَ مِنْ مَالِهِ فَأُنْفِقَ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي ؟ فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تَأْخُذِي مِنْ مَالِ أَبِي سُفْيَانَ فَتُنْفِقِيهِ عَلَيْكِ وَعَلَى وَلَدِكِ بِالْمَعْرُوفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے، تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں ان کا کچھ مال حاصل کر کے اسے اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر خرچ کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم ابوسفیان کا مال لے کر اسے اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر مناسب طریقے سے خرچ کرتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4258]

4259

Sahih Ibn Hibban #4259

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : كَانَ فِي حُجْرِ عَمَّةٍ لِي ابْنٌ لَهَا يَتِيمٌ وَكَانَ يَكْسِبُ ، فَكَانَتْ تَحْرَجُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ كَسْبِهِ ، فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّأَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَإِِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمارہ بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ میری پھوپھی کا ایک یتیم بچہ ان کے زیر پرورش تھا، وہ بچہ (کام کر کے) کماتا تھا، لیکن وہ خاتون اس کی آمدن میں سے کچھ کھانا گناہ سمجھتی تھیں، انہوں نے اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے پاکیزہ چیز وہ ہے جو انسان اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4259]

4260

Sahih Ibn Hibban #4260

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بن يزيد بن قيس ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَطْيَبُ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَإِِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”سب سے پاکیزہ چیز وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4260]

4261

Sahih Ibn Hibban #4261

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّأَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ چیز اس کی اپنی کمائی ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4261]

4262

Sahih Ibn Hibban #4262

أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الأَجْنَبِيِّينَ ، وَأَمْرَ بِبِرِّهِ ، وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا إِِلَى أَنْ يَصِلَ إِِلَيْهِ مَالُهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ ، لا أَنَّ مَالَ الابْنِ يَمْلِكُهُ أَبُوهُ فِي حَيَاتِهِ عِنْ غَيْرِ طَيْبِ نَفْسٍ مِنَ الابْنِ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کا اپنے والد کے ساتھ ایک قرض کے سلسلے میں جھگڑا چل رہا تھا جو اس نے اپنے والد سے لینا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس بات پر ڈانٹا ہے کہ اس نے اپنے والد کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے، جو رویہ اجنبی لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے والد کے ساتھ بات چیت اور طرز عمل میں نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے مال کو اس کے والد کے مال کے ساتھ ملا دیا اور اس سے ارشاد فرمایا: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے“، اس سے یہ مراد ہے کہ بیٹے کا باپ اپنے بیٹے کی زندگی میں ہی اس کے مال کا مالک بن جاتا ہے، جب کہ بیٹے کی اس حوالے سے کوئی رضا مندی بھی نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4262]

4263

Sahih Ibn Hibban #4263

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ؟ فَقَالَ : مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ، فَإِِذَا حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى فَطَهُرَتْ ، فَإِِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا ، وَإِِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا اور عرض کی کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عبداللہ سے کہو وہ اس عورت سے رجوع کر لے پھر وہ اسے اپنے ساتھ رکھے، یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے پھر جب اس عورت کو دوسری مرتبہ حیض آ جائے اور پھر وہ پاک ہو جائے پھر اگر وہ چاہے تو اسے اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو اپنے ساتھ رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4263]

4264

Sahih Ibn Hibban #4264

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، فَرَدَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقْتُهَا وَهِيَ طَاهِرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میری طرف لوٹا دیا، یہاں تک کہ میں نے اسے اس وقت طلاق دی جب وہ طہر کی حالت میں تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4264]

4265

Sahih Ibn Hibban #4265

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَلْعَبُ بِحُدُودِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَدْ طَلَّقْتُ ، قَدْ رَاجَعْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اللہ کی حدود سے کھیلتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4265]

4266

Sahih Ibn Hibban #4266

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ بِنْتَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَنَا مِنْهَا ، قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُذْتِ بِعَظِيمٍ ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ : الْحَقِي بِأَهْلِكِ : تَطْلِيقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کون سی زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ تو امام زہری رحمہ اللہ نے بتایا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب جَوْن کی صاحبزادی کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے (تو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی) اس نے کہا: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ“ ”تم نے ایک عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ۔“ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ“ سے مراد ایک طلاق تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4266]

4267

Sahih Ibn Hibban #4267

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ ، فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلاقًا ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا، تو کیا یہ چیز طلاق شمار ہوئی تھی؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4267]

4268

Sahih Ibn Hibban #4268

قَالَ الزُّهْرِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ، وَإِِنَّكَ دَخَلْتَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ . فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّالشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا ، فَلا أُرِيدُ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " ، قَالَتْ : ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الآيَةَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ، فَقُلْتُ : أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ فَإِِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک طویل عرصے سے اس بات کا خواہشمند تھا کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ان کے ہمراہ میں بھی حج کے لیے گیا راستے میں کسی جگہ پر وہ ایک طرف ہٹ گئے (انہوں نے قضائے حاجت کی) پھر وہ وضو کرنے لگے میں بھی ان کے ہمراہ ایک برتن لے کر ہٹ گیا تھا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) پھر انہوں نے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ تھیں اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا: ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا میری رہائش نواحی علاقے میں بنو امیہ بن زید کے محلے میں تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں اس کے پلٹ کر جواب دینے پر بہت حیران ہوا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آپ کو جواب دے رہی ہوں حالانکہ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس آیا میں نے کہا: کیا تم پلٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اور ہم میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق رہتی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ بات کہہ رہی ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو تمہاری جو ضرورت ہو مجھے کہہ دیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوب صورت اور زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ہم لوگ باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ایک دن وہ چلا جاتا تھا ایک دن میں آ جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ وحی یا اس سے متعلق دیگر کسی چیز کی اطلاع لے آتا تھا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتا تھا تو اس طرح اطلاع میں بھی لے آتا تھا (اور اسے بتا دیتا تھا) ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ لڑائی کی تیاریاں کر رہے ہیں ایک دن میرا ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ میرے پاس آیا اس نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں نکل کر اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے کیا غسان قبیلے کے لوگ آ گئے ہیں اس نے کہا: نہیں اس سے زیادہ بڑا اور زیادہ لمبا واقعہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے تو میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی مجھے اندازہ تھا کہ یہ ہو کے رہے گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو میں نے چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ کی طرف آ گیا) میں حفصہ کے پاس آیا وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم وہ وہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بالا خانے میں علیحدہ رہ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ لڑکا اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے چلا اور مسجد میں آ گیا اور وہاں منبر کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رو رہے تھے میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے واپس آیا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں مڑ کر واپس آیا اسی دوران اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: آپ اندر تشریف لے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں اندر داخل ہوا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جس کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”جی نہیں“ تو میں نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا: (میں نے عرض کی) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ہے ہم قریش کے لوگ ایسے لوگ تھے جو اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے وہاں ایسے لوگوں کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان کی خواتین سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں اپنی بیوی پر غضب ناک ہوا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں نے آپ کو پلٹ کر جواب دیا ہے: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہے تو میں نے کہا: ان میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے جو اس سے ناراض ہو جائے گا اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ تمہیں جو چاہیے ہو مجھ سے کہہ دیا کرو، اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمہارے مقابلے میں زیادہ خوب صورت اور محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ مسکرا دیے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں ٹھہر جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں“ تو میں بیٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لیا اللہ کی قسم! میری نگاہ صرف تین کھالوں پر پڑی میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کشادگی عطا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل فارسی اور اہل روم کو کشادگی عطا کی ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خطاب کے صاحبزادے! کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں“ میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لے جائیں گے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شدید ناراضگی کی وجہ سے فرمایا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب انتیس دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مجھے شرف بخشا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہوں میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اس بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرو جب تک تم اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ نہیں کر لیتی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا * وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] ”اے نبی! تم اپنی ازواج سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت حاصل کرنا چاہتی ہو، تو آگے آؤ میں تمہیں مال و دولت دیتا ہوں اور مناسب طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والوں کے لیے عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ اللہ کی قسم! میرے والدین مجھے کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کریں گے میں نے عرض کی: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4268]

4269

Sahih Ibn Hibban #4269

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلاءَ ، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : اشتريها وأعتقيها ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَعَتَقَتْ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَكَانَتْ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كُلُوا فَإِِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے سامنے آئے؛ ان کے مالکان نے انہیں فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور ان کی ولاء کی شرط عائد کی، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ پھر بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہو گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں) تو انہوں نے اپنی ذات کو اختیار کیا (تیسری بات یہ ہے کہ) بریرہ رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز صدقہ دی جاتی تھی، تو وہ اس میں سے کوئی چیز ہمیں تحفے کے طور پر دے دیتی تھیں، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہے اور یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4269]

4270

Sahih Ibn Hibban #4270

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا (یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4270]

4271

Sahih Ibn Hibban #4271

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ إِِمْلاءً مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاءَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " . قَالَتْ : فَأَعْتَقْتُهَا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ. قَالَ الأَسْوَدُ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خرید لیا، اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق انہیں حاصل ہوگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”تم اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے ملتا ہے جو قیمت ادا کرتا ہے اور نعمت کا ولی بنتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے کہا: اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں (اپنے شوہر) کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نامی راوی کہتے ہیں: اس کا شوہر ایک آزاد شخص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4271]

4272

Sahih Ibn Hibban #4272

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَاتَبَتْ بَرِيرَةَ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعَةِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةً ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا ، فَقَالَتْ : لا ، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي . فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ ، فَكَلَّمَتْ بِذَلِكَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَجَاءَتْ إِِلَى عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا ، فَقَالَتْ : لا هَاللَّهِ إِِذًا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُنِي عَلَى كِتَابَتِهَا ، فَقُلْتُ : لا ، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا ، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ . ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ :" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، يَقُولُونَ : أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَالْوَلاءُ لِي ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " . " فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا ، وَكَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ". قَالَ عُرْوَةُ : فَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ذات کے بارے میں نو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا، جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی تھی، وہ مدد حاصل کرنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جی نہیں، اگر وہ لوگ چاہیں تو میں انہیں ایک ساتھ ساری ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا گئیں، انہوں نے اس بارے میں اپنے مالکان سے بات چیت کی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، وہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ ولاء کا حق انہیں حاصل رہے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لے آئے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا جو اس کے مالکان نے کہا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا: جی نہیں، اللہ کی قسم! یہ اسی صورت میں ہو گا جب ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بریرہ میرے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے آئی، جو اس کی کتابت کے معاوضے کی ادائیگی کے سلسلے میں تھی، تو میں نے کہا: جی نہیں، اگر وہ لوگ چاہیں تو ان کو ایک ساتھ ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے مالکان سے کیا تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، وہ مصر تھے کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید لو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو اور پھر تم اسے آزاد کر دو، ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا، حالانکہ اللہ کی کتاب اس کی زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے، ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی، اگرچہ وہ ایک سو شرطیں ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار دیا، وہ شوہر ایک غلام شخص تھے، اس عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر ان کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار نہ دیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4272]

4273

Sahih Ibn Hibban #4273

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا ، يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ : يَا عَبَّاسُ ،أَلا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا " ، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ " . قَالَتْ : فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ وہ ان کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا ناپسند کرتی ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے۔“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ تو اس خاتون نے کہا: مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4273]

4274

Sahih Ibn Hibban #4274

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُطَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِهَا ؟ " قَالَ : وَاحِدَةً . قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : " هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا : هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أُمُّهُ : حَمَادَةُ بِنْتُ يَعْقُوبَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، مَاتَ فِي وِلايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاقِ بتہ دے دی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ایک (طلاق)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے مطابق شمار ہو گی جو تم نے ارادہ کیا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زبیر بن سعید نامی راوی زبیر بن سعید بن سلیمان بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں، ان کی والدہ حمادہ بنت یعقوب بن سعید بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں، ان کا انتقال خلیفہ ابوجعفر کے عہدِ خلافت میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4274]

4275

Sahih Ibn Hibban #4275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةُ ، ثُمَّ رَاجَعَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رجوع کر لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4275]

4276

Sahih Ibn Hibban #4276

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ ، إِِنَّهُ قَدْ كَانَطَلَّقَكِ ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي ، فَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، وہ رو رہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے بھی دی ہے تو میری وجہ سے وہ تم سے رجوع کر لیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں (یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کی گنجائش نہ ہو) تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات نہ کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4276]

4277

Sahih Ibn Hibban #4277

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ نَزَلَ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلَيْتَ شَهْرًا . قَالَ :" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگ پر بھی چوٹ آئی ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک بالاخانے میں مقیم رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اترے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ (کبھی) انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4277]

4278

Sahih Ibn Hibban #4278

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلالا ، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کو حلال کیا (یعنی اس سے رجوع کر لیا) اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4278]

4279

Sahih Ibn Hibban #4279

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ 4279اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَتْ : فِي وَاللَّهِ وَفِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادِلَةِ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَهُ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ وَضَجِرَ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ ، فَغَضِبَ ، وَقَالَ :أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي . ثُمَّ خَرَجَ ، فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ ، فَإِِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَلا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ ، لا تَخْلُصُ إِِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ . قَالَتْ : فَوَاثَبَنِي ، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ ، فَأَلْقَيْتُهُ تَحْتِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِِلَى بَعْضِ جَارَاتِي فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابًا ، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ ، فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِِلَيْهِ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ ، قَالَتْ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَا خُوَيْلَةُ ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ " . قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ، فَتَغَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَغْشَاهُ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " يَا خُوَيْلَةُ ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ " ، قَالَتْ : ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ : قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ إِِلَى قَوْلِهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَتْ : وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدَهُ مَا يَعْتِقُ . قَالَ : " فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ . قَالَ : " فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ " . فَقُلْتُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ذَلِكَ عِنْدَهُ . قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ . فَقَالَ : " أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ ، فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا " . قَالَتْ : فَفَعَلْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے اور (میرے شوہر) اوس بن صامت رضی اللہ عنہما کے بارے میں سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل کی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں ان کی بیوی تھی، وہ ایک بڑی عمر کے بزرگ آدمی تھے جن کے اخلاق اچھے نہیں تھے، وہ ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے ہاں تشریف لائے، میں نے (لڑائی کے دوران) کسی بات کا جواب دیا تو وہ غصے میں آ گئے اور بولے: تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح (قابل احترام) ہو۔ پھر وہ گھر سے باہر چلے گئے، وہ اپنی قوم کی چوپال میں کچھ دیر بیٹھے رہے، پھر میرے ہاں تشریف لائے، وہ میری قربت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں خویلہ کی جان ہے، آپ جو بات کہہ چکے ہیں اس کی وجہ سے اب آپ میرے پاس اس وقت تک نہیں آ سکتے جب تک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے دیتے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا، میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی، وہ خاتون ان پر اتنا غالب آ گئی جتنی کوئی عورت ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص پر غالب آ سکتی ہے، میں نے انہیں اپنے نیچے کر لیا، پھر میں اپنی پڑوسن کے گھر آ گئی، میں نے اس سے چادر عارضی استعمال کے لیے لی، پھر میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری صورتِ حال کا ذکر کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کی بھی شکایت کی کہ مجھے ان کی طرف سے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خویلہ! تمہارے چچازاد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ وہ خاتون عرض کرتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ابھی وہیں تھی، یہاں تک کہ قرآن کا حکم نازل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر وہ خاص کیفیت طاری ہوئی (جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی)، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خویلہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی۔“ یہ آیت یہاں تک ہے ﴿وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة المجادلة: 4] ”کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے (یعنی اپنے شوہر کو) کہو کہ وہ کوئی گردن آزاد کرے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے وہ آزاد کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، ان میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھجوروں کا ایک «وَسْق» کھلائے۔“ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے پاس یہ بھی نہیں ہے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم کھجوروں کے ایک «عَرَق» کے ذریعے اس کی مدد کریں گے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک اور «عَرَق» کے ذریعے ان کی مدد کر دوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا ہے اور تم نے اچھا کیا ہے، تم جاؤ اور ان کی طرف سے صدقہ کر دو اور اپنے چچازاد کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو۔“ تو وہ خاتون کہتی ہیں، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4279]

4280

Sahih Ibn Hibban #4280

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ فِي الْغَلَسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُكِ ؟ " فَقَالَتْ : لا أَنَا وَلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا . فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " . قَالَتْ حَبِيبَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ : " خُذْ مِنْهَا " . فَأَخَذَ مِنْهَا ، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو انہوں نے اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر موجود پایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس خاتون نے جواب دیا: میرا اور ثابت بن قیس کا گزارا نہیں ہو سکتا، یعنی اس نے اپنے شوہر کے بارے میں یہ بات کہی۔ جب ثابت رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا ہے۔“ تو سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے جو بھی (مہر کے طور پر) دیا تھا وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”وہ تم اس سے لے لو۔“ تو وہ انہوں نے اس سے لے لیا اور وہ خاتون اپنے میکے واپس چلی گئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4280]

4281

Sahih Ibn Hibban #4281

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، فَوَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، فَإِِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، وَإِِنْ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ افْتَحْ " ، فَنَزَلَتْ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ، هَؤُلاءِ الآيَاتُ فِي اللِّعَانِ ، فَجَاءَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلاعَنَا ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ . فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ " . فَالْتَعَنَتْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا. قَالَ إِِسْحَاقُ : قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : قُلْتُ لِجَرِيرٍ : لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ . قَالَ : لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے، ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا جس پر غصہ کیا جانا چاہیے)، اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا۔ اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو آپ لوگ قتل کر دیں گے، اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے جس پر غصہ کرنا چاہیے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یا اس شخص نے) دعا کی «اللَّهُمَّ انْزِلْ فَرَجًا» ”اے اللہ! تو کشادگی عطا کر“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں“۔ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں۔ پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے لعان کیا، اس مرد نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ“ لیکن اس عورت نے لعان کیا۔ جب وہ چلی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے“۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے جریر رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے، تو جریر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4281]

4282

Sahih Ibn Hibban #4282

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا ، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں تو کیا میں اس شخص کو مہلت دوں گا تاکہ پہلے چار گواہ لے آؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4282]

4283

Sahih Ibn Hibban #4283

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ رَجُلا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قُضِيَ فِيكَ ، وَفِي امْرَأَتِكَ " . قَالَ : فَتَلاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا ، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنِينَ ، فَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا ، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِِلَيْهَا ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو کیا آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے؟ ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے؟“ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر فرمائی جو «لِعَان» کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے «لِعَان» کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے“، چنانچہ اس شخص نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ (سنت) جاری ہو گیا کہ «لِعَان» کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جاتی ہے؛ وہ خاتون حاملہ تھیں اور اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا، تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4283]

4284

Sahih Ibn Hibban #4284

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلانِيَّ جَاءَ إِِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَاصِمُ : أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ " . سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَأَلَ عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِِلَى أَهْلِهِ ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ ، فَقَالَ : يَا عَاصِمُ ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ : لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلُهُ عَنْهَا . فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا . فَقَالَ سَهْلٌ : فَتَلاعَنَا " . وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاعُنِهِمَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنْ أَمْسَكْتُهَا ، فَطَلَّقَهَا ثَلاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو کیا اگر وہ اسے قتل کر دے، تو آپ لوگ اسے (بدلے میں) قتل کر دیں گے؟ اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔ اے عاصم! آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوعیت کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا۔ یہ بات سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے عاصم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟“ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم میرے پاس بھلائی لے کر نہیں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند فرمایا جس کے بارے میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا۔“ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک میں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔“ پھر سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے، تم جاؤ اور اسے لے آؤ۔“ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، میں لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ جب وہ دونوں لعان کر کے فارغ ہو گئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں کچھ ہدایت کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4284]

4285

Sahih Ibn Hibban #4285

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدُ بَنِي الْعَجْلانِ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ : فَأَتَى عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا ، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ " . فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ، فَأَتَى عُوَيْمِرًا ، فَقَالَ لَهُ : إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لا انْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلاعَنَا بِمَا سَمَّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ " . قَالَ : فَلاعَنَهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا . قَالَ : فَطَلَّقَهَا ، وَكَانَتْ سُنَّةٌ لِمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوافَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ ، فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ، وَإِِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحْرَةٌ فَلا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِِلا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا " . قَالَ : فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ ، قَالَ : فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِِلَى أُمِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو بنو عجلان کے سردار تھے، انہوں نے کہا: ”ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور مرد کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا آپ لوگ اس شخص کو قتل کر دیں گے؟ تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔“ انہوں نے کہا: ”آپ میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک اور شخص کو پاتا ہے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اس طرح تو آپ اسے قتل کر دیں گے، تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اسے معیوب قرار دیا۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ، سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسندیدہ اور معیوب قرار دیا ہے۔“ تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر لیتا۔“ تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (حکم) نازل کر دیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کو ہدایت کی تو ان دونوں نے لعان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ لعان کر لیا، پھر اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو میں اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو جاؤں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ تو انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ رائج ہو گیا (کہ مرد آخر میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا، اگر اس عورت نے کالے رنگ کے، کالی آنکھوں والے، بڑے سرین والے اور موٹی ایڑیوں والے بچے کو جنم دیا تو میرا اندازہ ہے عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہوگا، اور اگر اس نے سرخ رنگ کے بچے کو جنم دیا، یوں جیسے وہ چھپکلی ہوتی ہے، تو پھر مجھے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو اس عورت نے اس شکل و صورت کے بچے کو جنم دیا جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا تھا کہ اس صورت میں عویمر کا سچ ہونا ثابت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4285]

4286

Sahih Ibn Hibban #4286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاعِنِينَ فِي إِِمْرَةِ مُصْعَبٍ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ قَائِلٌ ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ ، فَقَالَ الْغُلامُ : إِِنَّهُ قَائِلٌ . فَقُلْتُ : مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ ، فَسَمِعَ صَوْتِي فَعَرَفَهُ ، وَقَالَ : أَسَعِيدٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : ادْخُلْ ، مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِِلا لِحَاجَةٍ . فَدَخَلْتُ وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمُتَلاعِنَانِ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، إِِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلانُ بْنُ فُلانٍ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ إِِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا هَؤُلاءِ الآيَاتِ ، فَدَعَا الرَّجُلَ ، فَتَلاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ " ، فَقَالَ : لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا . ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ " عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ " ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِِنَّهُ لَكَاذِبٌ . فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھ سے مصعب کی حکومت کے دور میں لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی؟ تو مجھے یہ علم نہیں تھا کہ میں اس بارے میں کیا جواب دوں۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر آیا، وہ اس وقت دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو غلام نے یہ کہا: وہ آرام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: میرا اس وقت ان کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے میری آواز سن کر مجھے پہچان لیا اور دریافت کیا: ”کیا سعید ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”تم اندر آ جاؤ، تم اس وقت کسی ضروری کام کے سلسلے میں ہی آئے ہو گے۔“ میں اندر چلا گیا، وہ اس وقت اپنے پالان کی چادر کو بچھائے ہوئے تھے اور انہوں نے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی جو کھجور کے پتوں سے بنا ہوا تھا۔ میں نے کہا: اے ابوعبد الرحمن! کیا لعان کرنے والے دو فریقوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، جی ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے دریافت کیا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ اگر وہ اس بارے میں بات کرتا ہے تو وہ ایک بڑے معاملے کے بارے میں بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ بھی اس کی مانند (یعنی بڑے معاملے کے بارے میں) خاموش رہے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کوئی جواب نہیں دیا، اس کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا، میں خود اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور ان آیات کو اس کے سامنے تلاوت کیا، اسے وعظ و نصیحت کی، اسے ترغیب دی اور اسے یہ بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے“۔ اس شخص نے کہا: جی نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے یہ بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے“۔ اس عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے آغاز کیا، اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی (قسم اٹھا کر) اس بات کی گواہی دی کہ وہ سچ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ جھوٹ بول رہا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے لعان کروایا، اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ مرد جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ مرد سچا ہے، تو اس عورت پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4286]

4287

Sahih Ibn Hibban #4287

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلاعِنَيْنِ : حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ :" لا مَالَ لَكَ ، إِِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا) ”تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پر دیا تھا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں مال نہیں ملے گا، اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4287]

4288

Sahih Ibn Hibban #4288

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا اور اس عورت کے بچے (کے نسب کی) نفی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4288]

4289

Sahih Ibn Hibban #4289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ سیدنا ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ ”وہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا ہیں ان کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4289]

4290

Sahih Ibn Hibban #4290

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ ، فَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهَا : لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ " . وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ قَالَ :" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي ، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ حَيْثُ شِئْتِ ، فَإِِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالَ لَهُ ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . قَالَتْ : فَكَرِهْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " انْكِحِي أُسَامَةَ " . فَنَكَحْتُهُ ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بتہ دے دی، وہ اس وقت (مدینہ منورہ) میں موجود نہیں تھے بلکہ شام میں تھے، انہوں نے اس خاتون کی طرف اپنے وکیل کو کچھ ”جو“ دے کر بھیجا، اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے ہمارے ذمہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت بسر کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تو ایک ایسی خاتون ہیں جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو کیونکہ وہ نابینا شخص ہے، تم جہاں چاہو اپنی چادر وغیرہ اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو تم مجھے اطلاع دے دینا“۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنی گردن سے عصا کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ کنگال شخص ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو“۔ وہ خاتون کہتی ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں آئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو“۔ تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4290]

4291

Sahih Ibn Hibban #4291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى ، وَلا نَفَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اسے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4291]