Sahih Ibn Hibban #4252
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ ، وَمُغِيرَةُ ، وَمُجَالِدٌ ، وَإِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خالد ، وداود ، كلهم عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ :طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ ، قَالَتْ : فَخَاصَمْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةَ . وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ "
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں «طَلَاقًا بَتَّةً» ”طلاقِ بتہ“ دے دی تھی، وہ خاتون بیان کرتی ہیں: رہائش اور خرچ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ ”میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کروں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4252]