Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 37 · Chapter 3

Book of Ruqba and 'Umra

Hadith 4177–4211

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4177

Sahih Ibn Hibban #4177

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، قَالا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُكُمْ خَيْرَكُمْ لأَهْلِهِ ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي ، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَدَعُوهُ " يَعْنِي : لا تَذْكُرُوهُ إِلا بِخَيْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم میں زیادہ بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو، میں اپنی بیوی کے بارے میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو تم اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو (یعنی اس کی برائیاں بیان نہ کرو۔)“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اسے چھوڑ دو“ اس سے مراد یہ ہے: اس کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4177]

4178

Sahih Ibn Hibban #4178

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، فَإِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا ، فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے، تم اس کا خیال رکھتے ہوئے اس کے ہمراہ زندگی بسر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4178]

4179

Sahih Ibn Hibban #4179

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، وَلَنْ تَصْلُحَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ ، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ ، وَإِنَّ تُرِدْ إِقَامَتَهَا تَكْسِرْهَا ، وَكَسْرُهَا طَلاقُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، تم اسے کسی بھی طریقے سے سیدھا نہیں کر سکتے، اگر تم اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کر سکتے ہو تو کر لو، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے (یا کسی راوی نے شاید یہ وضاحت کی ہے) اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4179]

4180

Sahih Ibn Hibban #4180

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَامَثَلُ الْمَرْأَةِ كَالضِّلَعِ ، إِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَهَا كُسِرَتْ ، وَإِنَّ تَسْتَمْتِعْ بِهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ، فَاسْتَمْتِعْ بِهَا عَلَى مَا كَانَ مِنْهَا مِنْ عِوَجٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کی مثال پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی اور اگر تم اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرنا چاہو تو نفع حاصل کر لو گے، اس لیے تم اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4180]

4181

Sahih Ibn Hibban #4181

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كُنْتُ لآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالإِنَاءِ ، فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ، فَيَأْخُذُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ ، وَإِنْ كُنْتُ لآخُذُ الْعَرْقَ مِنَ اللَّحْمِ فَآكُلُهُ ، فَيَأْخُذُهُ ، فَيَضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ ، فَيَأْكُلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میں کوئی برتن لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی، میں وہ برتن لے کر پہلے اس میں سے پی لیتی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن کو لیتے اور اپنا منہ اس جگہ پر رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا، بعض اوقات میں گوشت کی کوئی ہڈی لیتی اور اسے کھا لیتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ہڈی کو لے کر اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھا لیتے تھے، حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4181]

4182

Sahih Ibn Hibban #4182

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَطْرُقَ الْمَرْءُ أَهْلَهُ لَيْلا ، أَوْ يُخَوِّنَهُمْ وَيَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”(سفر سے واپسی پر طویل غیرحاضری کے بعد) کوئی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس چلا جائے یا اپنی بیوی کی خیانت معلوم کرنا چاہے (یعنی اس کی جاسوسی کرے) یا اس کے پوشیدہ معاملات کی کھوج لگائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4182]

4183

Sahih Ibn Hibban #4183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : زَعَمَ عَطَاءٌ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلا ، قَالَتْ : فَتَوَاصَيْتُ أَنَا ، وَحَفْصَةُ إِنْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْمَغَافِرِ ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : بَلْ شَرِبْتُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَسَلا ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ الآيَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں شہد پیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے یہ طے کیا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے تو تم نے یہ کہنا ہے: ”مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغافر کی بو محسوس ہوتی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خواتین میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لائے تو اس خاتون نے یہ بات کہہ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا تھا اب میں یہ دوبارہ نہیں پیوں گا“، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4183]

4184

Sahih Ibn Hibban #4184

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقَهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو عورت اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کسی (شرعی) خرابی کے بغیر کرتی ہے، ایسی عورت کے لیے جنت کی خوشبو حرام ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4184]

4185

Sahih Ibn Hibban #4185

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَعْذَرَ أَبَا بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَظُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهَا بِالَّذِي نَالَهَا ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَلَطَمَهَا ، وَصَكَّ فِي صَدْرِهَا فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا أَنَا بِمُسْتَعْذِرِكَ مِنْهَا بَعْدَهَا أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر (اتنا سخت) ردعمل ظاہر کریں گے جو انہوں نے ظاہر کیا، (یہ شکایت سن کر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو طمانچہ لگا دیا اور ان کے سینے پر (ہاتھ مار کر) دھکا بھی دیا، اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! آج کے بعد میں کبھی تمہیں (عائشہ کی) شکایت نہیں لگاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4185]

4186

Sahih Ibn Hibban #4186

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الرِّجَالَ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَضَرَبُوهُنَّ ، فَبَاتَ فَسَمِعَ صَوْتًا عَالِيًا ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : أَذِنْتَ لِلرِّجَالِ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ ، فَضَرَبُوهُنَّ ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ :" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِكُمْ لأَهْلِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ مردوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین (یعنی اپنی بیویوں) کو مارنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، ان لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سنائی دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اس کی وجہ کیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: آپ نے مردوں کو خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی ہے تو ان مردوں نے خواتین کی پٹائی کی (جس کی وجہ سے وہ خواتین رونے لگیں اور اس کی یہ آواز ہے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے حق میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4186]

4187

Sahih Ibn Hibban #4187

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ، حَتَّى حَجَّ ، فَحَجَجْتُ مَعَهُ ، فَعَدَلَ ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةٍ فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ،مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ لَهُمَا اللَّهُ : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاعَجَبًا مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هِيَ حَفْصَةُ ، وَعَائِشَةُ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَنَا ، وَجَارٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا ، وَأَنْزِلُ يَوْمًا ، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ ، فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، قَالَتْ : وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فنزلتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا حَفْصَةُ ، أَتُغْضِبُ إِحْدَاكُنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِينَ ؟ ، لا تَسْتَنْكِرِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا تُرَاجِعِيهِ ، وَلا تَهْجُرِيهِ ، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ ، وَلا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَضْوَأَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُرِيدُ عَائِشَةَ ، قَالَ عُمَرُ : وَقَدْ تُحِدِّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تَنْعَلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ ، فَرَجَعَ إِلَيَّ عَشِيًّا ، فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا ، فَفَزِعْتُ ، خَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : قَدْ حَدَثَ أَمَرٌ عَظِيمٌ ، قُلْتُ : مَا هُوَ أَجَاءَتْ غَسَّانُ ؟ ، قَالَ : لا ، بَلْ أَعْظَمُ وَأَطْوَلُ ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، قَالَ عُمَرُ : قُلْتُ : خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ ، قَالَ : فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ اعْتَزَلَ فِيهَا ، قَالَ : وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَإِذَا هِيَ تَبْكِي ، قُلْتُ : وَمَا يُبْكِيكِ ؟ أَلَمْ أَكُنْ أُحَذِّرُكِ هَذَا ، أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : لا أَدْرِي ، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ ، فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكُونَ ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لِغُلامٍ أَسْوَدَ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْغُلامُ ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلامِ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، قَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلامُ يَدْعُونِي ، يَقُولُ : قَدْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئً عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟ ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ : لا " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ نِسَاءَنَا ، فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي ، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ، وَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذًا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ؟ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : لا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ عَائِشَةَ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمًا آخَرَ ، قَالَ : فَجَلَسْتُ حِينَ رَأيَتُهُ تَبَسَّمَ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ بَصَرِيَ فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أُهْبَةٍ ثَلاثَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ ، فَإِنَّ فَارِسَ ، الرُّومَ قَدْ أُوسِعَ عَلَيْهِمْ ، وَأُعْطُوا الدُّنْيَا ، وَهُمْ لا يَعْبُدُونَ اللَّهَ ، قَالَ : فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ? ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ وَكَانَ ، قَالَ : " مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا " مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً عَدَّهَا ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بڑے عرصے سے میری یہ خواہش تھی کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لو (تو یہ بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل مائل ہو گئے تھے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج پر گئے، ان کے ساتھ میں بھی حج پر گیا، وہ (قضائے حاجت کرنے کے لیے) ایک طرف ہٹ گئے، میں بھی ان کے ہمراہ برتن لے کر ایک طرف ہٹ گیا، انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ تشریف لائے تو میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر برتن میں سے پانی انڈیلا اور انہوں نے وضو کیا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) وہ حفصہ اور عائشہ (رضی اللہ عنہما) تھیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا، انہوں نے بیان کیا: میں اور بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھنے والا میرا ایک پڑوسی (راوی کہتے ہیں: بنو امیہ بن زید مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں رہتے تھے) ہم دونوں باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے؛ ایک دن وہ حاضر ہوتا تھا اور ایک دن میں حاضر ہوتا تھا، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اس دن کی اطلاعات جن کا تعلق وحی یا دیگر امور سے ہوتا تھا وہ لے آتا تھا اور جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا۔ ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب تھے، جب ہم انصار کے ہاں آئے تو وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی بیویاں ان پر غالب تھیں، تو ہماری عورتوں نے انصار کی خواتین سے یہ طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا؛ میں نے اس کے جواب دینے پر غصے کا اظہار کیا تو اس نے کہا: میں نے آپ کو جواب دیا ہے، اس بات پر کیوں غصہ کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک زوجہ محترمہ ایسی ہے جو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس بات نے مجھے خوف زدہ کر دیا، میں نے کہا: ان ازواج میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ خسارے کا شکار ہو جائے گی، پھر میں نے اپنی چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ آ گیا) وہاں میں حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم (یعنی ازواجِ مطہرات) میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض ہوتی ہے اور سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے کہا: وہ تو رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی، کیا تم لوگ خود کو اس سے محفوظ سمجھتی ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے اور تمہیں ہلاکت کا شکار کر دے؟ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات پر اعتراض نہ کیا کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب نہ دیا کرو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق نہ رہا کرو، تمہاری جو ضروریات ہوتی ہیں تم مجھ سے مانگ لیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوبصورت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے (راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ جنگ کے لیے ساز و سامان تیار کر رہے ہیں، اپنی باری کے دن میرا انصاری پڑوسی (مدینہ منورہ سے) آیا، جب وہ شام کے وقت واپس آیا تو اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی، میں گھبرا گیا اور باہر نکل کر اس کے پاس آیا، اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے! میں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ کیا غسان (قبیلے کے لوگ) آ گئے ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ طویل واقعہ ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی، مجھے یہ اندازہ تھا کہ ایسا ایک دن ہو کر رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر اوڑھی اور فجر کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی، (نماز ادا کرنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم علیحدہ طور پر رہ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں حفصہ کے پاس آیا تو وہ رو رہی تھی، میں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں اس چیز سے ڈرانے کی کوشش نہیں کی تھی؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بالا خانے میں علیحدہ آرام فرما ہیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے) باہر آیا اور منبر کے قریب آ گیا، وہاں منبر کے ارد گرد کچھ لوگ موجود تھے وہ رو رہے تھے، میں تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھا رہا پھر مجھے جو اندیشہ تھا وہ مجھ پر غالب آیا تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، میں نے وہاں موجود سیاہ فام لڑکے سے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا اندر گیا، اس نے باہر آ کر کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو میں واپس آ گیا؛ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں واپس آ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے، پھر میری جو کیفیت تھی وہ مجھ پر غالب آئی اور میں نے آ کر لڑکے سے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ اندر گیا پھر واپس آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ابھی وہاں سے مڑا ہی تھا کہ اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چٹائی کے اوپر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر اس کا نشان موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے بنے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا پھر میں نے کھڑے ہوئے ہی عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں ملاحظہ کیا ہے، ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب ہوتے تھے، جب ہم مدینہ آئے تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس آ گئے جن کی بیویاں ان پر غالب تھیں، ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا، میں نے اس کی اس حرکت پر حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: کیا آپ اس بات پر حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے آپ کو جواب دیا ہے؟ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض رہتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی، کیا وہ ازواج اس بات سے محفوظ ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور وہ عورت جس پر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ہیں) ہلاکت کا شکار ہو جائے گی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حفصہ کے پاس گیا، میں نے کہا: یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے؛ میری مراد عائشہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوسری مرتبہ مسکرا دیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو میں بیٹھ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جب اس بالا خانے کا جائزہ لیا تو اللہ کی قسم! مجھے اس میں صرف تین خشک کھالیں نظر آئیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کشادگی عطا کرے کیونکہ اہل فارس اور اہل روم کو کشادگی عطا کی گئی ہے، ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دی گئی ہیں حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تمہیں شک ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نعمتیں دنیاوی زندگی ہی میں پہلے دے دی گئی ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے اس وجہ سے علیحدگی اختیار کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ازواج پر شدید ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تنبیہ کی، اور جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ان کے پاس گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لائیں گے، ابھی تو صرف انتیس دن گزرے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس (29) دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4187]

4188

Sahih Ibn Hibban #4188

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ :لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَالنَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى ، وَيَقُولُونَ : طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، وَذَلِكَ قَبْلُ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَتْ : مَالِي وَمَالَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا : يَا حَفْصَةُ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنُكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُحِبُّكِ ، وَلَوْلا أَنَا لَطَلَّقَكِ ، فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلامٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٍ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ ، وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ ، فَنَادَيْتُ : يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْغُرْفَةِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا ، وَرَفَعْتُ صَوْتِي ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَدِهِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ ، قَالَ : فَجَلَسْتُ فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوَ الصَّاعِ ، وَمِثْلُهَا قُرْظٌ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ ، وَإِذَا أَفِيقٌ ، قَالَ أَبُو حَفْصٍ : الأَفِيقُ : الإِهَابُ الَّذِي قَدْ ذَهَبَ شَعْرُهُ وَلَمْ يُدْبَغْ ، فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا لِي لا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ ، وَلا أَرَى فِيهَا إِلا مَا أَرَى ، وَذَلِكَ قَيْصَرُ ، وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالأَنْهَارِ ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ ، قَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ ؟ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ ، وَمَلائِكَتَهُ ، وَجِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَأَنَا ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَكَ ، وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلامٍ إِلا رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قُولِي ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ ، وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ تُظَاهِرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلَّقْتَهُنَّ ؟ ، قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَنْزِلُ فَأُخْبِرُهُنَّ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ إِنَّ شِئْتَ " ، فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ ، وَحَتَّى كَشَّرَ فَضَحِكَ ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجَذَعِ ، وَنَزَلَ كَمَا يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : لَمْ يُطَلِّقِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ إِلَى قَوْلِهِ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ ، فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الأَمْرَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّخْيِيرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں لوگ کنکریوں کو کرید رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میں نے سوچا) میں آج اس بارے میں ضرور معلومات حاصل کروں گا، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی! اب آپ کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے خطاب کے صاحب زادے! میرا اور آپ کا کیا واسطہ؟ آپ اپنا گھر سنبھالیں۔ پھر میں حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے حفصہ! اب تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاؤ؟ مجھے یہ بات پتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے محبت نہیں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دینی تھی، اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا زور و شور سے رونے لگیں۔ میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں آرام فرما ہیں۔ میں وہاں آیا تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح موجود تھا، وہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا، اس نے تختے پر پاؤں پھیلائے ہوئے تھے جو کھجور کے تنوں سے بنا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ کر اوپر تشریف لے جاتے تھے اور اس کے ذریعے نیچے تشریف لایا کرتے تھے۔ میں نے اسے مخاطب کیا: اے رباح! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری حاضری کی اجازت مانگو۔ اس نے بالا خانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا: اے رباح! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری حاضری کی اجازت مانگو، مجھے یہ لگتا ہے شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھ رہے ہوں کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں، حالانکہ اللہ کی قسم! اگر اللہ کے رسول مجھے حکم دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں تو میں اس کی گردن بھی اڑا دوں گا۔ میں نے بلند آواز میں یہ بات کہی (اس لڑکے نے اوپر جا کر اجازت مانگی) اور پھر میری طرف اشارہ کیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں وہاں بیٹھ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تہبند باندھا ہوا تھا، اس کے علاوہ کوئی اور چیز آپ کے جسم پر نہیں تھی اور آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان موجود تھا۔ جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں تقریباً ایک صاع جو موجود تھے اور ایک صاع کے قریب درخت کے پتے تھے اور وہاں «أَفِيقٌ» ”ایسی کھال، جس کے بال اتار دیے گئے ہوں لیکن ابھی اس کی دباغت نہ کی گئی ہو“ موجود تھی۔ ابوحفص نامی راوی کہتے ہیں: افیق سے مراد وہ کھال ہے، جس کے بال اتار دیے گئے ہوں لیکن ابھی اس کی دباغت نہ کی گئی ہو۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے خطاب کے صاحب زادے! تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں، اس چٹائی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کمرے میں مجھے وہ چیزیں نظر آ رہی ہیں جو نظر آ رہی ہیں، حالانکہ قیصر اور کسریٰ پھلوں اور نہروں کے اندر (یعنی نعمتوں کے اندر) رہ رہے ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور اس کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساز و سامان اتنا سا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خطاب کے صاحب زادے! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا۔“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان خواتین کے حوالے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے جبرائیل، میکائیل اور میں اور ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے کوئی کلام کیا اور میں نے یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی تصدیق کر دے گا تو اختیار دینے سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ﴾ [سورة التحريم: 5] ”اور اگر وہ (رسول) تم (یعنی ازواج مطہرات) کو طلاق دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بیویاں دے دے گا جو تم سے بہتر ہوں گی۔“ (ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:) ﴿وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ﴾ [سورة التحريم: 4] ”اور اگر وہ دونوں (اس رسول) پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں تو بے شک اللہ اس کا مددگار ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواج کے حوالے سے دباؤ ڈالنا چاہتی تھیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں واپس جا کر ان لوگوں کو بتا دوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلاق نہیں دی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اگر تم چاہو تو (بتا دو)۔“ اس کے بعد میں مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مزاج ٹھیک ہونے کے آثار نمودار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے سے نیچے تشریف لائے، میں نے نیچے آتے ہوئے تنے کا سہارا لیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اترے تھے جس طرح ہم عام زمین پر چلتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوا بھی نہیں تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انتیس دن سے بالا خانے میں مقیم ہیں۔ پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا اور میں نے بلند آواز میں اعلان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی ہے۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ﴾ [سورة النساء: 83] ”اور جب ان کے پاس امن یا خوف سے متعلق کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ﴾ [سورة النساء: 83] ”تو وہ لوگ اس بارے میں جان لیتے ہیں جو ان میں سے استنباط کرتے ہیں۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں وہ شخص ہوں جس نے اس معاملے میں استنباط کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے سے متعلق آیت نازل کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4188]

4189

Sahih Ibn Hibban #4189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَذَئِرَ النِّسَاءُ ، وَسَاءَتْ أَخْلاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَئِرَ النِّسَاءُ ، وَسَاءَتْ أَخْلاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاضْرِبُوا " فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ أَصْبَحَ : " لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللَّهِ لا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ایاس بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» ”اللہ کی کنیزوں (یعنی اپنی بیویوں کو) نہ مارو۔““ راوی کہتے ہیں: اس پر عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے حوالے سے ان کے اخلاق خراب ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ ان کے اخلاق خراب ہو گئے ہیں جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پٹائی کرنے سے منع کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «فَاضْرِبُوهُنَّ» ”تم ان کی پٹائی کر دیا کرو۔““ لوگوں نے اس رات اپنی بیویوں کی اتنی پٹائی کی کہ اگلے دن پٹائی کی شکایت لے کر بہت سی خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر بہت سی خواتین آئیں، ان سب نے یہی شکایت کی کہ ان کی پٹائی ہوئی ہے، اللہ کی قسم! «لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ» ”تم ان لوگوں کو اپنے میں سے بہترین نہیں پاؤ گے“ (جو اپنی بیویوں کی پٹائی کرتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4189]

4190

Sahih Ibn Hibban #4190

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا وجہ ہے، کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح مارتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے اور پھر وہ دن کے آخری حصے میں اسی عورت کے ساتھ صحبت بھی کر لیتا ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4190]

4191

Sahih Ibn Hibban #4191

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَكُنَّا نُرِيدُ الْفِدَاءَ ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْعَزْلِ ؟ ، فَقَالَ : لا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدْرُ "، اسْمُ أَبِي الْوَدَّاكِ : جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر ہمیں کچھ قیدی ملے، ہم نے فدیہ لینے کا ارادہ کیا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر تم یہ نہ کرو کیونکہ یہ تقدیر کے مطابق ہے۔“ ابووداک والا کا نام جبر بن نوف ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4191]

4192

Sahih Ibn Hibban #4192

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَفِي شَهْوَةٍ يَكُونُ مِنْ أَجْرٍ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، أَرَأَيْتُ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ قَدْ أَدْرَكَ ، ثُمَّ مَاتَ أَكُنْتَ مُحْتَسِبَهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَنْتَ كُنْتَ خَلَقْتَهُ ؟ " ، قَالَ : بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ ، قَالَ : " أَنْتَ كُنْتَ هَدَيْتَهُ ؟ " ، قَالَ : بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ ، قَالَ : " أَكُنْتَ تَرْزُقُهُ ؟ " ، قَالَ : بَلِ اللَّهُ كَانَ رَازِقَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضَعْهُ فِي حَلالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ ، وَأَقْرِرْهُ ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتے ہو، اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خواہشِ نفس پوری کرنے پر بھی اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، تمہارا کیا خیال ہے، اگر (اس صحبت کے نتیجے میں) تمہارے ہاں بچہ ہو جاتا ہے جو بڑا ہوتا ہے پھر اس کا انتقال ہو جاتا ہے، کیا تمہیں اس پر (صبر) کرنے کی وجہ سے ثواب کی امید ہو گی؟“ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس بچے کو پیدا کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے ہدایت نصیب کی؟“ انہوں نے جواب دیا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت نصیب کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے رزق دیا؟“ انہوں نے عرض کی: بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے رزق دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس لیے تم اسے حلال طریقے سے استعمال کرو اور حرام سے اجتناب کرو اور تم اسے برقرار رکھو، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے زندگی دے گا، اگر چاہے گا اسے موت دے گا اور تمہیں اجر مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4192]

4193

Sahih Ibn Hibban #4193

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِالْعَزْلِ ، وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَكَانُوا أَصَابُوا سَبَايَا ، وَكَرِهُوا أَنْ يَلِدْنَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں دریافت کیا، یہ غزوہ بنو مصطلق کے دوران کی بات ہے، ان لوگوں کو کچھ قیدی ملے تھے اور ان لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ قیدیوں میں سے خواتین ان کے بچوں کو جنم دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن تک جسے پیدا کرنا ہے اسے تقدیر میں (طے) کر دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4193]

4194

Sahih Ibn Hibban #4194

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّعِنْدِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حَمَلَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَدَّرَ اللَّهُ نَسَمَةً تَخْرُجُ إِلا هِيَ كَائِنَةٌ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : كَانَ يُقَالُ : لَوْ أَنَّ النُّطْفَةَ الَّتِي قُدِّرَ مِنْهَا الْوَلَدُ وُضِعَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لأَخْرَجَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری ایک کنیز ہے جس کے ساتھ میں عزل کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب اس کے پاس وہ چیز آ جائے گی جو اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہے۔“ اس کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بتایا: وہ کنیز حاملہ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس بھی جان کے پیدا ہونے کے بارے میں طے کر دیا وہ پیدا ہو کے رہے گی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو وہ بولے: یہ بات کہی جاتی ہے جس نطفے کے مقدر میں یہ بات لکھ دی گئی ہو کہ اس کے ذریعے بچے نے پیدا ہونا ہے اگر اسے پتھر پر بھی ڈال دیا جائے تو اس میں بھی وہ پیدا ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4194]

4195

Sahih Ibn Hibban #4195

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں عزل کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4195]

4196

Sahih Ibn Hibban #4196

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَنْ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَقَدْهَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ ، وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ ، فَلا يَضُرُّ أَوْلادَهُمْ "، قَالَ مَالِكٌ : وَالْغِيلَةُ : أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ جذامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پہلے میں نے اس بات کا ارادہ کیا کہ میں دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے منع کر دوں، پھر مجھے خیال آیا کہ اہل روم اور اہل فارس بھی ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔“ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «الْغِيلَةِ» (غیلہ) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایسی حالت میں صحبت کرے، جب وہ عورت دودھ پلا رہی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4196]

4197

Sahih Ibn Hibban #4197

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ :قَالَتِ الْيَهُودُ إِنَّمَا يَكُونُ الْحَوَلُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ خَلْفِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ، مِنْ قُدَّامِهَا ، وَمِنْ خَلْفِهَا ، وَلا يَأْتِيهَا إِلا فِي الْمَأْتَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہود یہ کہا کرتے تھے کہ بچہ بھینگا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی طرف سے صحبت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ۔“ اس سے مراد یہ ہے: ”آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ لیکن آؤ صرف اسی مقام پر جہاں آیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4197]

4198

Sahih Ibn Hibban #4198

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ حُصَيْنٍ الْوَائِلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ هَرَمِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِفِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْخَطْمِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، لا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خزیمہ بن ثابت خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں فرماتا، تم خواتین کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4198]

4199

Sahih Ibn Hibban #4199

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ أَحَدُنَا الرُّوَيْحَةُ ، قَالَ : إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کسی شخص کی ہوا خارج ہو جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی ہوا خارج ہو تو وہ وضو کر لے اور تم لوگ خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4199]

4200

Sahih Ibn Hibban #4200

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ حُصَيْنَ بْنَ مُحْصِنٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ هَرَمِيًّا حَدَّثَهُ ، أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، لا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا، تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4200]

4201

Sahih Ibn Hibban #4201

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّا نَكُونَ فِي أَرْضِ الْفَلاةِ ، فَيَكُونُ مِنَّا الرُّوَيْحَةُ ، وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جو بے آب و گیاہ ہے، ہم میں سے کسی کی تھوڑی سی ہوا خارج ہو جاتی ہے اور وہاں پانی کم ہو جاتا ہے (تو ہمیں کیا کرنا چاہئے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی ہوا خارج ہو جائے تو اسے وضو کرنا چاہیے اور تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4201]

4202

Sahih Ibn Hibban #4202

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : حَوَّلْتُ رَحْلِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ، يَقُولُ : " أَقْبِلْ ، وَأَدْبِرْ ، وَاتَّقِ الدُّبُرَ ، وَالْحَيْضَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے؟“ انہوں نے بتایا: گزشتہ رات میں نے اپنے پالان کو الٹا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ وحی نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اپنے کھیت میں جس طرح سے چاہو آؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یعنی خواہ آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ، لیکن پچھلی شرمگاہ اور حیض سے اجتناب کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4202]

4203

Sahih Ibn Hibban #4203

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَفَعَهُ وَكِيعٌ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرتا جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وکیع نامی راوی نے ضحاک بن عثمان کے حوالے سے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4203]

4204

Sahih Ibn Hibban #4204

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4204]

4205

Sahih Ibn Hibban #4205

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ ، فَلا تَلُمْنِي فِيمَا لا أَمْلِكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے درمیان (دنوں کے اعتبار سے وقت کی) تقسیم کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! یہ میرا وہ فعل ہے جس کا میں مالک ہوں تو مجھے اس چیز کے حوالے سے ملامت نہ کرنا جس کا میں مالک نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4205]

4206

Sahih Ibn Hibban #4206

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الطَّسْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ " . قَالَتْ مُعَاذَةُ : فَمَا تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا اسْتَأْذَنَكِ ؟ قَالَتْ : أَقُولُ : إِِنْ كَانَ ذَاكَ إِِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس آیت ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [سورة الأحزاب: 51] ”تم ان میں سے جسے چاہو پیچھے کر دو، اور جسے چاہو اپنے قریب کر لو۔“ کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے دن کے بارے میں ہم سے اجازت لیا کرتے تھے (جس خاتون کی باری ہوتی تھی)۔ معاذہ نامی راوی خاتون نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) دریافت کیا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت طلب کرتے تھے تو پھر آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں یہ کہتی تھی کہ اگر یہ میرے اختیار میں ہو تو میں کسی دوسرے کے لیے ایثار نہیں کرتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4206]

4207

Sahih Ibn Hibban #4207

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ ، فَمَالَ مَعَ إِِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط (مفلوج) ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4207]

4208

Sahih Ibn Hibban #4208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَبْعٌ لِلْبِكْرِ ، وَثَلاثٌ لِلثَّيِّبِ ". حَدَّثَنَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(شادی ہونے کے بعد) جو بیوی پہلے کنواری تھی اس کے لیے سات دن ہوں گے اور جو پہلے «ثَیِّبَہ» (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ تھی) اس کے لیے تین دن ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4208]

4210

Sahih Ibn Hibban #4210

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا ، وَقَالَ : لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، فَإِِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْقُرَشِيُّ ، جَمِيعًا مَدَنِيَّانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک بے حیثیت نہیں ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن رہتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہا تو دیگر ازواج کے پاس بھی سات، سات دن رہوں گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن ابوبکر نامی راوی، محمد بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم انصاری ہیں اور عبدالملک بن ابوبکر نامی راوی، عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام قریشی ہیں اور یہ دونوں مدنی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4210]

4211

Sahih Ibn Hibban #4211

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِي مِسْلاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَةٌ ، فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ . قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا ، وَيَوْمَ سَوْدَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے) میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کے مزاج میں تیزی تھی، جب ان کی عمر زیادہ ہو گئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی باری کا مخصوص دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنا مخصوص دن عائشہ کو دیتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن دیا کرتے تھے، ایک ان کا مخصوص دن اور ایک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا (کا مخصوص) دن۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4211]