Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 37 · Chapter 2

Book of Ruqba and 'Umra

Hadith 4137–4176

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4137

Sahih Ibn Hibban #4137

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَهَا بِسَرِفَ ، وَهُمَا حَلالانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَرِف» کے مقام پر ان کے ساتھ شادی کی تھی، اس وقت وہ دونوں حالتِ احرام میں نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4137]

4138

Sahih Ibn Hibban #4138

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِسَرِفَ ، وَهُمَا حَلالانِ ، بَعْدَمَا رَجَعَا مِنْ مَكَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرف کے مقام پر ان کے ساتھ شادی کی تھی، وہ دونوں اس وقت حالتِ احرام میں نہیں تھے، یہ ان دونوں کے مکہ سے واپسی کے موقع کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4138]

4139

Sahih Ibn Hibban #4139

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ : قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُنْكِحُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ خَبَرَانِ فِي نِكَاحِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ تَضَادَا فِي الظَّاهِرِ ، وَعَوَّلَ أَئِمَّتُنَا فِي الْفَصْلِ فِيهِمَا بِأَنْ قَالُوا : إِنَّ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَهُمْ كَذَلِكَ ، قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَخَبَرُ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ يُوَافِقُ خَبَرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ ، وَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ لِتَأْيِيدِ خَبَرِ عُثْمَانَ إِيَّاهُ ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّ الْخَبَرَ إِذَا صَحَّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، غَيْرُ جَائِزٍ تَرْكُ اسْتِعْمَالِهِ ، إِلا أَنْ تَدُلَّ السُّنَّةُ عَلَى إِبَاحَةِ تَرَكِهِ ، فَإِنْ جَازَ لِقَائِلٍ أَنْ ، يَقُولُ : وَهِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَمَيْمُونَةُ خَالَتُهُ فِي الْخَبَرِ الَّذِي ذكرنَاهُ ، جَازَ لِقَائِلٍ آخَرَ أَنْ ، يَقُولَ : وَهِمَ يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ فِي خَبَرِهِ لأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَحْفَظُ وَأَعْلَمُ وَأَفْقَهُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِثْلِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، وَمَعْنَى خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدِي حَيْثُ ، قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، يُرِيدُ بِهِ وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا ، كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ إِذَا دَخَلَ الظُّلْمَةَ : أَظْلَمَ ، وَأَنْجَدَ : إِذَا دَخَلَ نَجْدًا ، وَأَتْهَمَ إِذَا دَخَلَ تِهَامَةَ ، وَإِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ : أَحْرَمَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنَفْسِهِ مُحْرِمًا ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَزَمَ عَلَى الْخُرُوجِ إِلَى مَكَّةَ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَلِكَ بَعَثَ مِنَ الْمَدِينَةِ أَبَا رَافِعٍ ، وَرَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى مَكَّةَ لِيَخْطُبَا مَيْمُونَةَ لَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْرَمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ ، وَسَعَى ، وَحَلَّ مِنْ عُمْرَتِهِ ، وَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلالٌ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ ، وَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلاثًا ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَهْلُ مَكَّةَ الْخُرُوجَ مِنْهَا ، فَخَرَجَ مِنْهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ سَرِفَ بَنَى بِهَا بِسَرِفَ وَهُمَا حَلالانِ ، فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ نَفْسَ الْعَقْدِ الَّذِي كَانَ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ بِلَفْظِ الْحَرَامِ ، وَحَكَى يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ الْقِصَّةَ عَلَى وَجْهِهَا ، وَأَخْبَرَ أَبُو رَافِعٍ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَزَوَّجَهَا وَهُمَا حَلالانِ ، وَكَانَ الرَّسُولُ بَيْنَهُمَا ، وَكَذَلِكَ حَكَتْ مَيْمُونَةُ عَنْ نَفْسِهَا ، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ الأَشْيَاءُ مَعَ زَجْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ عَلَى صِحَّةِ مَا أَصَّلْنَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُ وَتَتَهَاتَرُ حَيْثُ عَوَّلَ عَلَى الرَّأْيِ الْمَنْحُوسِ ، وَالْقِيَاسِ الْمَعْكُوسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا، ابان ان دنوں امیرِ حج تھے اور یہ دونوں حضرات حالتِ احرام میں تھے (پیغام یہ تھا) کہ میں طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ کروانے لگا ہوں، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس موقع پر شریک ہوں، تو ابان نے اس کا انکار کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”احرام والا شخص خود نکاح نہیں کر سکتا، نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں روایات جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں ہیں، یہ بظاہر ایک دوسرے کے متضاد ہیں، اس مسئلے کے بارے میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں تھے اور صورتِ حال ایسی ہی تھی، یہ بات سعید بن مسیب نے بیان کی ہے۔ یزید بن اصم کی نقل کردہ روایت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے موافق ہے جو احرام والے شخص کے نکاح کرنے اور اس کے نکاح کروانے کی ممانعت کے بارے میں ہے، اور وہ قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے کیونکہ اس کی تائید میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت موجود ہے۔ میرے نزدیک (اصول یہ ہے) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مستند طور پر کوئی روایت ثابت ہو جائے تو اب یہ بات جائز نہیں ہو گی کہ اس پر عمل کو ترک کیا جائے ماسوائے اس صورت کے کہ سنت اس کے ترک کے مباح ہونے پر دلالت کرے۔ اگر کسی کہنے والے کے لیے یہ بات کہنا جائز ہو تو وہ یہ کہہ دے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس روایت کو نقل کرنے میں وہم ہوا ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے، حالانکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ہیں، تو کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا بھی جائز ہو گا کہ اس روایت کو نقل کرنے میں یزید بن اصم نامی راوی کو وہم ہوا ہو گا، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یزید بن اصم جیسے دو سو افراد سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث، زیادہ بڑے عالم اور زیادہ بڑے فقیہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میرے نزدیک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ روایت کا مفہوم یہ ہے، انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس وقت شادی کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے، اس کے ذریعے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرم کی حدود میں تھے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے، یہ بالکل اسی طرح ہو گا جیسے کوئی شخص تاریکی میں داخل ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تاریک ہو گیا، یا جب کوئی شخص نجد میں داخل ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نجدی ہو گیا، یا جب کوئی شخص حرم میں داخل ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ احرام والا ہو گیا حالانکہ اس شخص نے اس وقت احرام نہ باندھا ہوا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا، سعی کی اور عمرہ کر کے احرام کھول دیا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی جب کہ آپ حالتِ احرام میں نہیں تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مکہ میں قیام کیا، پھر اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا حالتِ احرام کے بغیر تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عقدِ نکاح کا تذکرہ کیا ہے، یہ مکہ میں ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرم کی حدود میں شامل تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے لیے یہ لفظ استعمال کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرمت والی حالت میں تھے۔ جبکہ یزید بن اصم نے اس واقعے کو اصل شکل میں نقل کر دیا، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، اس وقت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حالتِ احرام کے بغیر تھے اور وہ ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، اور اسی طرح کی بات سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ذات کے بارے میں نقل کی ہے، تو یہ تمام چیزیں اور ان کے ہمراہ احرام والے شخص سے نکاح کرنے یا کسی کا نکاح کروانے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت (یہ سب مل کے) تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کریں گے کہ ہم نے جو اصول بیان کیا ہے وہ درست ہے اور یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ شخص منحوس رائے اور الٹے قیاس کی پیروی کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4139]

4140

Sahih Ibn Hibban #4140

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَالْحَسَنَ ابني محمد بن علي أخبراه أَنَّ ، أَبَاهُمَا أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْمُتْعَةِ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نکاح متعہ کرنے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4140]

4141

Sahih Ibn Hibban #4141

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَلا نَسْتَخْصِي ؟ ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الآيَةَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمُتْعَةَ كَانَتْ مَحْظُورَةً قَبْلَ أَنْ أُبِيحَ لَهُمُ الاسْتِمْتَاعُ قَوْلُهُمْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا نَسْتَخْصِي عِنْدَ عَدَمِ النِّسَاءِ ، وَلَوْ لَمْ تَكُنْ مَحْظُورَةً لَمْ يَكُنْ لِسُؤَالِهِمْ عَنْ هَذَا مَعْنًى

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ خواتین نہیں تھیں، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ”کسی کپڑے کے عوض میں کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی ہیں انہیں تم (اپنے لیے) حرام قرار نہ دو۔﴾ [سورة المائدة: 87] (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کی دلیل کہ نکاح متعہ ممنوع ہے، حالانکہ پہلے لوگوں کے لیے نکاح متعہ کرنے کو مباح قرار دیا گیا تھا، وہ دلیل یہ ہے: ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کی تھی، جب کہ ان کے پاس خواتین نہیں تھیں کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اگر یہ نکاح متعہ پہلے ممنوع نہ ہوتا تو پھر ان لوگوں کے اس درخواست کرنے کا کوئی مفہوم نہ ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4141]

4142

Sahih Ibn Hibban #4142

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَلا نَسْتَخْصِي ؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجْلٍ ، ثُمَّ قَرَأَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ خواتین نہیں تھیں، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کی رخصت دی کہ ہم کسی کپڑے کے عوض میں کسی عورت کے ساتھ ایک متعین مدت کے لیے نکاح کر لیں، پھر انہوں نے (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) یہ آیت تلاوت کی: ﴿اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی ہیں تم انہیں حرام قرار نہ دو اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔﴾ [سورة المائدة: 87] [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4142]

4143

Sahih Ibn Hibban #4143

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ”خواتین کے ساتھ نکاح متعہ کرنے سے“ اور ”پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے“ (منع کر دیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4143]

4144

Sahih Ibn Hibban #4144

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَخَّصَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ثَلاثٍ ، فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ ، وَيَقُولُ فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے ساتھ نکاحِ متعہ کرنے کی اجازت دی، تین دن کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سختی کے ساتھ حرام قرار دے چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں سخت ترین فرمان جاری کر چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4144]

4145

Sahih Ibn Hibban #4145

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ”خواتین کے ساتھ نکاح متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے“ سے منع کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4145]

4146

Sahih Ibn Hibban #4146

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ آخَرُ إِلَى امْرَأَةٍ شَابَّةٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ ، لِنَسْتَمْتِعَ بِهَا فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَيَّ بُرْدٌ ، فَكَلَّمْنَاهَا وَمَهَرْنَاهَا بُرْدَيْنَا ، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ ، وَكَانَ بُرْدُهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيَّ مَرَّةً ، وَإِلَى بُرْدِهِ مَرَّةً ، ثُمَّ اخْتَارَتْنِي ، فنَكَحْتُهَا فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلاثًا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَفَارَقْتُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد (سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے سال ہمیں نکاحِ متعہ کرنے کی اجازت دی، میں اور ایک دوسرا شخص ایک نوجوان عورت کے پاس گئے جو کنواری محسوس ہوتی تھی، ہم اس کے ساتھ نکاحِ متعہ کرنا چاہتے تھے، ہم اس کے سامنے بیٹھ گئے، میرے ساتھی کے جسم پر بھی ایک چادر تھی اور میرے جسم پر بھی ایک چادر تھی، ہم نے اس عورت کے ساتھ بات چیت کی، مہر کے بارے میں بات چیت کی کہ ہم اسے چادریں دیں گے، میں اپنے ساتھی کے مقابلے میں زیادہ نوجوان تھا، لیکن اس کی چادر میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی، وہ عورت ایک دفعہ میری طرف دیکھتی تھی اور ایک مرتبہ اس کی چادر کی طرف دیکھتی تھی، پھر اس عورت نے مجھے اختیار کر لیا تو میں نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا، میں تین دن تک اس کے ساتھ ٹھہرا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (نکاحِ متعہ سے) منع کر دیا تو میں نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4146]

4147

Sahih Ibn Hibban #4147

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا ، قَالَ لَنَا : اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ " ، قَالَ : وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ ، فَعَرَضْنَا بِذَلِكَ النِّسَاءُ أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا ، قَالَ : فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلُوا ذَلِكَ " ، فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِي بُرْدَةٌ ، وَمَعَهُ بُرْدَةٌ ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي ، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي ، وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي ، فَقَالَتْ : بُرْدٌ كَبُرْدٍ ، فَتَزَوَّجْتُهَا ، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا ، فَلَبِثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ قَائِمٌ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْأَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ فِي هَذِهِ النِّسَاءِ ، أَلا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ ، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں روانہ ہوئے، جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خواتین کے ساتھ نکاحِ متعہ کر لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے نزدیک ان دنوں میں متعہ کرنا شادی کے مترادف تھا، ہم نے خواتین کو اس کی پیشکش کی کہ ہم متعین مدت کے لیے ان کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ایسا کر لو۔“ میں اور میرا چچازاد بھائی نکلے، میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی، اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی اور میں اس کے مقابلے میں زیادہ نوجوان تھا، ہم ایک عورت کے پاس آئے، ہم نے اس عورت کو نکاح کی پیشکش کی، اسے میری جوانی پسند آئی اور میرے چچازاد کی چادر پسند آئی، وہ بولی: چادر تو چادر کی طرح ہوتی ہے، تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی، میرے اور اس عورت کے درمیان دس دن ساتھ رہنے کا معاہدہ ہوا تھا، اس رات میں اس کے پاس رہا، پھر اگلے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود اور خانہ کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے: ”اے لوگو! میں نے تمہیں خواتین کے ساتھ نکاحِ متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، خبردار! بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام قرار دے دیا ہے، تو جس شخص نے ایسا کوئی معاہدہ کیا ہو تو اسے ان عورتوں کو چھوڑ دینا چاہیے اور تم نے انہیں جو ادائیگی کی تھی اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4147]

4148

Sahih Ibn Hibban #4148

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُغَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي لِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ ، أَمَا بُرْدِي ، فَبُرْدٌ خَلَقٌ ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي ، فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا أَسْفَلَ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلاهَا ، فَلَقَيْنَا فَتَاةً مِثْلُ الْبَكْرَةِ ، فَقُلْنَا لَهَا : هَلْ نَسْتَمْتِعُ مِنْكِ ؟ قَالَتْ : وَمَاذَا تَبْذُلانِ ، فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ بُرْدَهُ ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلِ ، فَإِذَا رَآهَا الرَّجُلُ تَنْظُرُ إِلَى ، عِطْفِهَا ، وقَالَ : بُرْدُ هَذَا خَلَقٌ ، وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ ، فَتَقُولُ : بُرْدُ هَذَا لا بَأْسَ بِهِ ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مَعَهَا ، فَلَمْ نَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سبرہ اپنے والد (سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی، وہ بیان کرتے ہیں: میں اور میری قوم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے، خوبصورتی کے اعتبار سے مجھے اس پر فضیلت حاصل تھی اور وہ شخص بدصورت ہونے کے قریب تھا، ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر موجود تھی، جہاں تک میری چادر کا تعلق تھا تو وہ پرانی تھی اور جہاں تک میرے چچازاد کی چادر کا تعلق تھا وہ بالکل نئی چادر تھی، یہاں تک کہ ہم مکہ کے زیریں علاقے میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بالائی علاقے میں آئے، ہماری ملاقات ایک نوجوان عورت سے ہوئی جو کنواری محسوس ہوتی تھی، ہم نے کہا: ”کیا ہم تمہارے ساتھ نکاحِ متعہ کر سکتے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ”تم کیا خرچ کرو گے (یعنی کیا مہر دو گے)؟“ تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر کو پھیلا دیا، اس عورت نے اس دوسرے شخص کی طرف دیکھا (جو بدصورت تھا)، پھر جب اس مرد نے یہ دیکھا کہ وہ عورت میری طرف دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے تو وہ بولا: ”اس کی چادر تو پرانی ہے، میری چادر بالکل نئی ہے“، اس عورت نے کہا: ”اس چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے“، چنانچہ میں نے اس کے ساتھ نکاحِ متعہ کر لیا، پھر میں اس عورت سے اس وقت الگ ہوا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی نکاحِ متعہ کو) حرام قرار دے دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4148]

4149

Sahih Ibn Hibban #4149

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ ،نَزَلَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَى مَصَابِيحَ ، وَسَمِعَ نِسَاءً يَبْكِينَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نِسَاءٌ كَانُوا تَمَتَّعُوا مِنْهُنَّ أَزْوَاجُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَدَمَ ، أَوْ قَالَ : حَرَّمَ الْمُتْعَةَ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلاقُ ، وَالْعُدَّةُ ، وَالْمِيرَاثُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثنیۃ الوداع کے مقام پر پڑاؤ کیا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چراغ دیکھے اور کچھ خواتین کے رونے کی آواز سنی تو دریافت کیا: ”کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کچھ خواتین ہیں جن کے ساتھ ان کے شوہروں نے نکاح متعہ کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”متعہ نکاح، طلاق، عدت اور وراثت کو منہدم کر دیتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) حرام کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4149]

4150

Sahih Ibn Hibban #4150

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَقَالَ : إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے آج کے دن سے لے کر قیامت کے دن تک کے لیے حرام ہے اور جس شخص نے کوئی چیز (کسی عورت کو) دی ہو وہ اسے واپس نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4150]

4151

Sahih Ibn Hibban #4151

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلاثًا ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَامُ أَوْطَاسٍ وَعَامُ الْفَتْحِ وَاحِدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ اوطاس کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں تین دن تک نکاحِ متعہ کرنے کی رخصت دی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں اس سے منع کر دیا“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) غزوہ اوطاس اور فتح مکہ ایک ہی سال میں ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4151]

4152

Sahih Ibn Hibban #4152

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الشِّغَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شغار“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4152]

4153

Sahih Ibn Hibban #4153

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ ، أَنَّ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ ، وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ ، وَقَدْ كَانَا جَعَلاهُ صَدَاقًا ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ خَلِيفَةٌ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ : هَذَا الشِّغَارُ قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ہرمز بیان کرتے ہیں کہ عباس بن عبداللہ نے عبدالرحمن بن حکم کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کر دی اور عبدالرحمن نے بھی اپنی بیٹی کی شادی ان کے ساتھ کر دی اور ان دونوں صاحبان نے اس نکاح کو ہی مہر قرار دے دیا، تو سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ اس وقت خلیفہ تھے، انہوں نے (مدینہ کے گورنر) مروان کو خط لکھا اور اسے یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دے، انہوں نے اپنے خط میں یہ بات تحریر کی کہ ”یہ «الشِّغَارُ» (شغار) ہے، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4153]

4154

Sahih Ibn Hibban #4154

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام میں شغار کی (کوئی حیثیت) نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4154]

4155

Sahih Ibn Hibban #4155

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،إِنِّي أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي أُخْتَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن فیروز اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نے اسلام قبول کیا اس وقت دو بہنیں میرے نکاح میں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان دونوں میں سے جسے چاہو طلاق دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4155]

4156

Sahih Ibn Hibban #4156

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّأَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ ، وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمَعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ ، فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لا تَمْكُثَ إِلا قَلِيلا ، وَايْمُ اللَّهِ لَتَرُدَّنَّ نِسَاءَكَ ، وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكِ ، أَوْ لأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ ، وَلآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ ، فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس بیویاں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہدِ حکومت آیا تو انہوں نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی اور اپنا مال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر دیا، جب اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور بولے: ”میرا یہ خیال ہے شیطان چوری چھپے جو باتیں سنتا ہے، ان میں سے اس نے تمہاری موت کی بات بھی سن لی ہے اور یہ چیز تمہارے ذہن میں ڈال دی ہے، ہو سکتا ہے اب تم تھوڑا عرصہ زندہ رہو۔ اللہ کی قسم! یا تو تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو اور اپنا مال واپس لے لو یا میں ان خواتین کو تمہارا وارث قرار دوں گا اور تمہاری قبر کے بارے میں حکم جاری کروں گا کہ اسے یوں سنگسار کیا جائے، جس طرح ابورغال کی قبر کو سنگسار کیا گیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4156]

4157

Sahih Ibn Hibban #4157

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :أَسْلَمَ غَيْلانُ الثَّقَفِيُّ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْسِكْ أَرْبَعًا ، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا غیلان ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو ان کی دس بیویاں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چار کو روک لو، باقی سے علیحدگی اختیار کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4157]

4158

Sahih Ibn Hibban #4158

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :أَسْلَمَ غَيْلانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ، وَيَتْرُكَ سَائِرَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا غیلان بن ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس بیویاں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ ”وہ ان میں سے چار کو اختیار کر لیں اور باقی کو چھوڑ دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4158]

4159

Sahih Ibn Hibban #4159

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَسْلَمَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ زَوْجُهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْأَسْلَمَتْ مَعِي ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خاتون نے اسلام قبول کر لیا، پھر اس کا شوہر آیا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس عورت نے میرے ساتھ اسلام قبول کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس مرد کی طرف لوٹا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4159]

4160

Sahih Ibn Hibban #4160

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ كَأَنَّهَا تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا ، أَوْ تَصِفُهَا لِرَجُلٍ كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا تذکرہ اس طرح سے نہ کرے جیسے وہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی شکل و صورت کو بیان کر رہی ہو یا اس کی صفت یوں بیان کر رہی ہو کہ مرد کو یوں محسوس ہو کہ جیسے وہ اس عورت کو دیکھ رہا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4160]

4161

Sahih Ibn Hibban #4161

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، فَتَصِفُهَا لِزَوْجِهَا حَتَّى كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا تذکرہ اپنے شوہر کے سامنے یوں نہ کرے جیسے وہ اس کی صفت بیان کر رہی ہے اور یوں لگے جیسے مرد اس عورت کو دیکھ رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4161]

4162

Sahih Ibn Hibban #4162

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الأَنْصَارِ ، فَإِذَا فِيهِ جَمَلانِ يَضْرِبَانِ وَيَرْعَدَانِ فَاقْتَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا ، فَوَضَعَا جِرَانَهُمَا بِالأَرْضِ ، فَقَالَ مَنْ مَعَهُ : سَجَدَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ ، وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ يَنْبَغِي أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِمَا عَظَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا مِنْ حَقِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے، وہاں دو اونٹوں کی پٹائی ہو رہی تھی اور انہیں جھڑکا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے قریب ہوئے تو انہوں نے اپنی گردنیں زمین پر رکھ دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صاحب تھے انہوں نے عرض کی: انہوں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے، اگر کسی کے لیے کسی کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کے حق کو عظیم قرار دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4162]

4163

Sahih Ibn Hibban #4163

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خُمُسَهَا ، وَصَامَتْ شَهْرَهَا ، وَحَصَّنَتْ فَرْجَهَا ، وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا دَخَلَتْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمَا رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ إِلا هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ وَهُوَ شَيْخُ الأَهْوَازِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی عورت پانچ نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرماں برداری کرے، تو وہ جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گی جنت میں داخل ہو جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسلمہ کے حوالے سے اس روایت کو نقل کرنے میں عبدالملک بن عمیر منفرد ہیں اور عبدالملک کے حوالے سے یہ روایت صرف ہدیہ بن منہال نے نقل کی ہے اور وہ اہواز سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ صاحب ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4163]

4164

Sahih Ibn Hibban #4164

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ نَهَارِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطِيعِي أَبَاكِ " ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قَرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " ، قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَنْكِحُوهُنَّ إِلا بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا: ”تم اپنے والد کی بات مان لو۔“ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بارے میں بتا نہیں دیتے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر کا بیوی پر یہ حق ہے کہ اگر شوہر کو کوئی پھوڑا نکلا ہوا ہو اور عورت اسے چاٹ لے تو بھی وہ شوہر کے حق کو ادا نہیں کر سکتی۔“ لڑکی نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان خواتین کے ساتھ شادی ان کے اہل خانہ سے اجازت لے کر ہی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4164]

4165

Sahih Ibn Hibban #4165

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ ، فَلْتُجِبْهُ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ بات بتائی ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تو وہ عورت اس کی بات مان لے، اگرچہ وہ تندور پر موجود ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4165]

4166

Sahih Ibn Hibban #4166

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ :قَالَتِ الْيَهُودُ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُجَبِّيَةٌ ، جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ ، فَنَزَلَتْ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ إِنْ شَاءَ مُجِيبَةً ، وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجِيبَةٍ ، إِذَا كَانَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہود نے یہ کہا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ پچھلی طرف سے صحبت کرتا ہے تو اس کا بچہ بھینگا ہوتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں، تم اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) تو اب آدمی اگلی طرف سے کرے یا پیچھے کی طرف سے کرے، جبکہ صحبت کا مقام ایک ہی ہونا چاہیے (تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4166]

4167

Sahih Ibn Hibban #4167

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ؟ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ "، هَذَا خَبَرٌ أَصْلٌ فِي الْمُقَايَسَاتِ فِي الدِّينِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کے صحبت کرنے سے بھی صدقے کا ثواب ملتا ہے“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس کو اس میں بھی اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسے ناجائز طریقے سے پورا کرتا تو اسے اس کا گناہ ہوتا؟ اسی طرح اگر وہ اسے جائز طریقے سے پورا کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دینی معاملات میں قیاس کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں یہ روایت اصول کی حیثیت رکھتی ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4167]

4168

Sahih Ibn Hibban #4168

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَأْذَنِ الْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب عورت کا شوہر گھر میں موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنے شوہر کے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4168]

4169

Sahih Ibn Hibban #4169

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ الطَّعَامُ ، وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ ، وَلَوْلا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر بنی اسرائیل نے گوشت جمع نہ کیا ہوتا تو وہ بدبودار نہ ہوتا اور اگر سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے (وہ حرکت نہ کی ہوتی) تو کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ خیانت نہ کرتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4169]

4170

Sahih Ibn Hibban #4170

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ ، وَلا تَأْذَنُ لِرَجُلٍ فِي بَيْتِهَا وَهُوَ لَهُ كَارِهٌ ، وَمَا تَصَدَّقَتْ مِنْ صَدَقَةٍ فَلَهُ نِصْفُ صَدَقَتِهَا ، وَإِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی عورت کے لیے اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی وہ عورت اپنے گھر میں کسی ایسے مرد کو آنے کی اجازت دے سکتی ہے جسے اس کا شوہر ناپسند کرتا ہو، اور عورت جو بھی صدقہ کرتی ہے تو اس صدقے کا نصف ثواب مرد کو ملے گا، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4170]

4171

Sahih Ibn Hibban #4171

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ ، وَأَسَاقِفَتِهِمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلْ ،فَإِنِّي لَوْ أَمَرْتُ شَيْئًا أَنْ يَسْجُدَ لِشَيْءٍ ، لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام سے تشریف لائے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شام گیا وہاں میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کو سجدہ کرتے ہیں تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عورت اپنے پروردگار کے حق کو اس وقت تک مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی، یہاں تک کہ اگر مرد عورت سے قربت کا مطالبہ ایسی حالت میں کرے کہ وہ عورت پالان پر موجود ہو تو وہ عورت پھر بھی اسے منع نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4171]

4172

Sahih Ibn Hibban #4172

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٍ دَعَا امْرَأَتَهُ ، فَلَمْ تُجِبْهُ ، فَبَاتَ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کو (اپنے پاس) بلائے اور وہ عورت اس کی بات کو قبول نہ کرے اور شوہر ناراضگی کے عالم میں رات بسر کرے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4172]

4173

Sahih Ibn Hibban #4173

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَعَا أَحَدُكُمِ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ ، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ عورت آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4173]

4174

Sahih Ibn Hibban #4174

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4174]

4175

Sahih Ibn Hibban #4175

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ ؟ ، قَالَ : يُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمَ ، وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى ، ثُمَّ لا يَضْرِبُ الْوَجْهَ ، وَلا يُقَبِّحُ ، وَلا يَهْجُرُ إِلا فِي الْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن معاویہ اپنے والد (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: عورت کا شوہر پر کیا حق ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب وہ خود کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اسے قبیح قرار نہ دے اور اس کے ساتھ صرف گھر میں لاتعلقی اختیار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4175]

4176

Sahih Ibn Hibban #4176

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایمان کے اعتبار سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل وہ لوگ ہیں، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4176]