Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 37 · Chapter 1

Book of Ruqba and 'Umra

Hadith 4096–4136

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4096

Sahih Ibn Hibban #4096

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْيَمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : " كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ " ، قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَّمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا جو خلوق خوشبو کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کی وجہ کیا ہے؟“ انہوں نے بتایا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری (ذبح کر کے دعوت کرو)۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں (یعنی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) کو دیکھا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کے حصے میں ایک لاکھ (درہم) آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4096]

4097

Sahih Ibn Hibban #4097

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَصَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہمارا (ادا کیے جانے والا) مہر دس اوقیہ ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4097]

4098

Sahih Ibn Hibban #4098

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيرَجُلٍ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ ، فَقَالَ : لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلا ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، قَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ "، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی، لیکن اس کے ساتھ صحبت نہیں کی اور اس کے لیے مہر بھی مقرر نہیں کیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسی عورت کو مکمل مہر ملے گا اور اس پر عدت گزارنا لازم ہے، اسے وراثت میں بھی حصہ ملے گا۔ اس پر سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہی فیصلہ دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4098]

4100

Sahih Ibn Hibban #4100

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَاهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْرَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَمَاتَ عَنْهَا ، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا ؟ ، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، وَرَدَّدَهُمْ شَهْرًا ، ثُمّ قَالَ : أَقُولُ بِرَأْيِي ، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ قِبَلِي ، أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا ، لا وَكْسَ ، وَلا شَطَطَ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، فَقَامَ فُلانٌ الأَشْجَعِيُّ ، وَقَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ "، قَالَ : فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ ، وَكَبَّرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی اور پھر اس کا انتقال ہو گیا، اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت بھی نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا، اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک مہینہ گزر گیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں اپنی رائے سے یہ بات بیان کرنے لگا ہوں، اگر یہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہو گی؛ اس عورت کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے جیسی دوسری عورتوں جتنا مہر ملے گا جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی، اس عورت پر عدت گزارنا لازم ہو گا اور اسے وراثت میں سے حصہ ملے گا، تو فلاں اشجعی کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں اسی کی مانند فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور انہوں نے تکبیر کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4100]

4101

Sahih Ibn Hibban #4101

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْرَجُلٍ تَزَوَّجَ مِنَّا ، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا ، وَلَمْ يَجْمَعْهُمَا اللَّهُ حَتَّى مَاتَ ؟ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ ، فَأْتُوا غَيْرِي ، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ : مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ ، وَأَنْتَ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ ، وَلا نَجْدُ غَيْرَكَ ، فَقَالَ : ابْنُ مَسْعُودٍ : سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي ، إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ ، أَرَى أَنْ يُفْرَضَ لَهَا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا ، وَلا وَكْسَ ، وَلا شَطَطَ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَذَلِكَ بِحَضْرَةِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا ، يُقَالُ لَهَا : بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ، فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ كَفَرْحِهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ہم آپ کے پاس ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے ہیں جس کا تعلق ہم سے ہے، اس نے شادی کی، اس نے (اپنی بیوی کا) مہر مقرر نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو ملنے کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ مرد کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں اس کے بعد مجھ سے ایسے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت نہیں کیا گیا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ مشکل ہو، تم لوگ کسی اور کے پاس چلے جاؤ۔ وہ لوگ ایک ماہ تک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے رہے، پھر ایک ماہ کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم آپ سے دریافت نہیں کریں گے تو پھر کس سے دریافت کریں گے؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ملتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بارے میں اپنی ذاتی رائے کے مطابق مسئلہ بیان کروں گا، اگر یہ درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا اور اگر غلط ہوا تو میری طرف سے ہو گا، اللہ اور اس کا رسول اس سے بری الذمہ ہوں گے؛ میرا یہ خیال ہے اس عورت کو اس کے جیسی دیگر عورتوں کی طرح کا مہر ادا کیا جائے گا، جس میں کوئی کمی اور کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور اس کو وراثت میں حصہ ملے گا اور اس عورت پر چار ماہ دس دن تک عدت گزارنا لازم ہے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ واقعہ اشجع قبیلے کے کچھ افراد کی موجودگی میں پیش آیا تو ایک صاحب کھڑے ہوئے، جن کا نام معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں وہی فیصلہ دیا ہے جو اس طرح کے مقدمے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا جو ہمارے (قبیلے کی) ایک خاتون کے بارے میں تھا، اس خاتون کا نام بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا تھا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اسلام کے بعد اتنا زیادہ خوش اور کبھی نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس واقعہ سے خوش ہوئے (کہ ان کی ذاتی رائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4101]

4102

Sahih Ibn Hibban #4102

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى مُجَزِّزٍ أَبْصَرَ آنِفًا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الأَقْدَامِ لِمَنْ بَعْضٍ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا چلا (ایک قیافہ شناس) مجزز نے کچھ دیر پہلے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے (صرف پاؤں دیکھے) اور یہ کہا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4102]

4103

Sahih Ibn Hibban #4103

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " ، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے عالم میں میرے ہاں تشریف لائے کیونکہ مجزز مدلجی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے والد کے ساتھ لپٹے ہوئے دیکھ کر (ان کے صرف پاؤں دیکھ کر) یہ کہا تھا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) مجزز نامی صاحب قیافہ شناس تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4103]

4104

Sahih Ibn Hibban #4104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4104]

4105

Sahih Ibn Hibban #4105

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةَ زَمْعَةٌ مِنِّي ، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ،الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ : " احْتَجِبِي مِنْهُ لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ "، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ تلقین کی کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا میری اولاد ہے، تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور بولے: یہ میرا بھتیجا ہے، اس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا، تو عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور بولے: یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا جو اس بچے کے بارے میں تھا، عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کو ملتا ہے اور زانی کو محرومی ملتی ہے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اس لڑکے سے پردہ کرو“۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی، تو اس لڑکے نے کبھی بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4105]

4106

Sahih Ibn Hibban #4106

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّامْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا وُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے جواب دیا: کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4106]

4107

Sahih Ibn Hibban #4107

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّامْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقٍ ؟ " ، فَقَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى تَرَاهُ ذَلِكَ ؟ " ، فَقَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ "، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَرَّةً أُخْرَى ، وَقَالَ : إِنَّ أَمَتِي وَلَدَتْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " ، ثُمَّ تَعْقِيبُهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِقَوْلِ : " فَمَا أَلْوَانُهَا " لَفْظَةُ اسْتِخْبَارِ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ الْمَرْءِ فِي فِرَاشِهِ بِوَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ ، أَوْ بِتَبَايُنِ الصُّورَتَيْنِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّخْصِ مِنَ الشَّخْصِ الْمُقَدَّمِ ، مَا عَسَى أَنْ يَأْثَمَ فِي اسْتِعْمَالِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ان میں خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ کہاں سے آیا ہو گا؟“ اس نے جواب دیا: ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہاں (یعنی تمہارے بچے) کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں) عبداللہ نامی راوی نے جب دوسری مرتبہ ہمیں یہ حدیث سنائی تو یہ الفاظ نقل کیے: ”میری کنیز نے بچے کو جنم دیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دریافت کرنا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ ان میں لفظی طور پر تو اس چیز کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: آدمی اپنی اولاد کے بارے میں شیطان کے وسوسے کو اختیار کرنے سے بچے، یا ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے سے بچے جب بچے کی شکل و صورت باپ سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے وسوسے پر عمل کے نتیجے میں وہ گناہ گار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4107]

4108

Sahih Ibn Hibban #4108

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : حِينَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُلاعَنَةِ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ ، وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُؤُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا، اس وقت جب لعان کرنے والی عورت کے بارے میں آیت نازل ہوئی (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”جو عورت کسی قوم میں ایسے فرد کو داخل کرے جو ان کا حصہ نہ ہو (یعنی کسی ناجائز بچے کو جنم دے) تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور جو شخص اپنے بچے کا انکار کر دے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کی اولاد ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو حجاب میں رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کی موجودگی میں اسے رسوائی کا شکار کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4108]

4109

Sahih Ibn Hibban #4109

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ عَمُّكِ ، فَأَذَنِي لَهُ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةٌ ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَنْ يَحْرُمُ مِنَ الْوِلادَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے، انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کرتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا تھے، تم نے انہیں اجازت دے دینی تھی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4109]

4110

Sahih Ibn Hibban #4110

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : أَصْنَعُ بِهَا مَاذَا ؟ " ، قَالَتْ تَنْكِحُهَا ، قَالَ : " وَهَلْ تَحِلُّ لِي ؟ " ، قَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطِبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّزَيْنَبَ تَحْرُمُ عَلَيَّ ، وَإِنَّهَا فِي حِجْرِي ، وَأَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ ، وَلا عَمَّاتِكُنَّ ، وَلا خَالاتِكُنَّ ، وَلا أُمَّهَاتِكُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ درہ بنت ابوسفیان میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”میں اس کے ساتھ کیا کروں؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ میرے لیے جائز ہے؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ چلا ہے آپ زینب بنت ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زینب میرے لیے حرام ہے، وہ میری زیر پرورش ہے (یعنی میری سوتیلی بیٹی ہے) اور مجھے اور اسے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں، اپنی بہنوں، اپنی پھوپھیوں، اپنی خالاؤں اور اپنی ماؤں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4110]

4111

Sahih Ibn Hibban #4111

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ لأُخْتِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرِ أُخْتِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ " ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ حُدِّثْنَا أَنَّكَ تُنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : " ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ ? ! " ، فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : نَعَمْ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي ، مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةَ ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ : ثُوَيْبَةُ ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ابوسفیان کی صاحبزادی سے شادی کر لیجیے، انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں یہ بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، میں یہ چاہتی ہوں اس بھلائی میں میری بہن بھی میرے ساتھ شریک ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جائز نہیں ہے۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ بات بتائی گئی ہے آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ابوسلمہ کی بیٹی کے ساتھ؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی پھر بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4111]

4112

Sahih Ibn Hibban #4112

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَقِيتُ خَالِي أَبَا بُرْدَةَ ، وَمَعَهُ الرَّايَةُ ، فَقُلْتُ : إِلَى أَيْنَ ؟ ، فَقَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ ، أَنْ أَقْتُلَهُ ، أَوْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات اپنے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ایک جھنڈا بھی تھا، میں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی (اور یہ حکم دیا ہے) ”میں اس کو قتل کر دوں“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”میں اس کی گردن اڑا دوں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4112]

4113

Sahih Ibn Hibban #4113

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت اور اس کی پھوپھی اور عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں) جمع نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4113]

4114

Sahih Ibn Hibban #4114

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے“ (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کیا جائے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4114]

4115

Sahih Ibn Hibban #4115

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت اور اس کی پھوپھی کو یا عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں) جمع نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4115]

4116

Sahih Ibn Hibban #4116

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيًّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ ، وَالْخَالَةِ ، قَالَ : إِنَّكُنَّ إِذَا فَعَلْتُنَّ ذَلِكَ قَطَعْتُنَّ أَرْحَامَكُنَّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " أَبُو حَرِيزٍ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ ، وَأَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الزُّهْرِيِّ ضَعِيفٌ وَاهِيٌ ، اسْمُهُ سُلَيْمُ وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے“ (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ”تم خواتین جب ایسا کرو گی، تو تم رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کی مرتکب ہو گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحریز نامی راوی کا نام عبداللہ بن حسین ہے، یہ سجستان کا قاضی تھا، جبکہ جو ابوحریز زہری کا آزاد کردہ غلام ہے، یہ ضعیف اور واہی ہے، اس کا نام سلیم ہے، ان دونوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4116]

4117

Sahih Ibn Hibban #4117

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، وَلا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا ، وَلا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر اور کسی پھوپھی کے ساتھ اس کی بھتیجی پر نکاح نہ کیا جائے، اور کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ پر اور کسی خالہ کے ساتھ اس کی بھانجی پر نکاح نہ کیا جائے (یعنی نکاح میں پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کیا جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4117]

4118

Sahih Ibn Hibban #4118

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَعَلَى خَالَتِهَا ، وَعَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، وَعَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، وَنَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى ، وَالصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر یا اس کی بھتیجی پر یا اس کی بھانجی پر نکاح کیا جائے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ ”چھوٹی (بہن) پر بڑی کے ساتھ یا بڑی پر چھوٹی کے ساتھ نکاح کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4118]

4119

Sahih Ibn Hibban #4119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، أَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ ؟ ، قَالَ : لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا مَا ذَاقَ صَاحِبُهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمُومُ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ، وَأَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَهَا زَوْجٌ آخَرَ ، وَفَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ : أَنَّهَا لا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الزَّوْجِ الثَّانِي وَطْءٌ بِذَوَاقِ الْعُسَيْلَةِ ، ثُمَّ تَبِينُ عَنْهُ بِطَلاقٍ ، أَوْ وَفَاةٍ ، ثُمَّ تَحِلُّ حِينَئِذٍ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دیتا ہے، پھر وہ عورت کسی اور شخص کے ساتھ شادی کرتی ہے اور وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، جب تک (وہ دوسرا شوہر) اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا جو اس کے پہلے شوہر نے چکھا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اللہ میں یہ حکم عمومی طور پر بیان ہوا ہے: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی نہ کر لے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے شوہر کے لیے یہ بات جائز قرار دی ہے کہ وہ اس عورت کے ساتھ اس وقت شادی کر سکتا ہے جب عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے، لیکن سنت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ ایسی عورت پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک اس عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان صحبت نہیں ہو جاتی جو شہد چکھنے کی صورت ہے، پھر اس کے بعد وہ عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے تو اس وقت وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4119]

4120

Sahih Ibn Hibban #4120

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، ثُمَّ أَرَادَ الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ؟ ، قَالَ : لا حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا ، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَعْدَ أَنْ نَكَحَهَا الزَّوْجُ الثَّانِي ، وَأَبَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَادَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنْ قَوْلِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ إِذْ هُوَ الْمُبَيُّنُ لِمَجْمَلِ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ ، إِذِ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ : حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الْوَطْءُ دُونَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور وہ دوسرا شخص صحبت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”نہیں، جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو چکھ نہیں لیتا اور وہ عورت اس دوسرے شخص کے شہد کو چکھ نہیں لیتی۔“ (اس وقت تک یہ جائز نہیں ہے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس مرد کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ شادی نہ کر لے۔“ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے یہ بات مباح قرار دی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتی ہے جب وہ دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نکاح کر چکی ہو، لیکن مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے جو پہلے کے علاوہ ہو۔“ تو کتاب میں مجمل کا بیان یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”یہاں تک کہ وہ اس پہلے شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ نکاح نہ کر لے“ اس سے مراد نکاح کا عقد کرنا نہیں، بلکہ صحبت کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4120]

4121

Sahih Ibn Hibban #4121

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَفَارَقَهَا ،فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا ، وَهُوَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ، وَقَالَ : لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ تمیمہ بنت وہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تین طلاق دے دیں، تو عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی لیکن وہ ان کے ساتھ صحبت نہیں کر سکے تو انہوں نے اس عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی۔ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا، یہ اس خاتون کے پہلے شوہر تھے جنہوں نے پہلے اسے طلاق دی تھی، انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ (دوسرے شوہر کا) شہد نہیں چکھ لیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4121]

4122

Sahih Ibn Hibban #4122

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَتَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ ، فَدَخَلَ بِهَا ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا ، أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ ؟ ، قَالَ : لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، پھر وہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے، اس عورت کی رخصتی ہو گئی، پھر وہ مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں! جب تک وہ مرد اس عورت کا شہد «عُسَيْلَتَهَا» نہیں چکھ لیتا اور وہ عورت اس مرد کا شہد «عُسَيْلَتَهُ» نہیں چکھ لیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4122]

4123

Sahih Ibn Hibban #4123

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ ، وَهُمَا مُحْرِمَانِ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُنْكِحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن عبید اللہ سے یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا، ابان ان دنوں امیرِ حج تھے اور یہ دونوں صاحبان احرام کی حالت میں تھے، (پیغام یہ بھجوایا کہ) میں طلحہ بن عمر کا نکاح شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ پڑھانے لگا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اس موقع پر آپ بھی موجود ہوں، تو ابان بن عثمان نے ان کی بات پر انکار کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ» ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا اور کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4123]

4124

Sahih Ibn Hibban #4124

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يُنْكِحُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُخْطَبُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا، نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور اسے نکاح کا پیغام نہیں بھیجا جا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4124]

4125

Sahih Ibn Hibban #4125

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ ابنا نبيه بن وهب ، عَنْ أَبِيهِمَا نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يُنْكِحُ ، وَلا يَخْطُبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”احرام والا شخص نہ نکاح کر سکتا ہے، نہ نکاح کروا سکتا ہے اور نہ ہی نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4125]

4126

Sahih Ibn Hibban #4126

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكِحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَبَانُ : إِنَّ عُثْمَانَ حَدَّثَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُحْرِمُ لا يَنْكِحُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُنْكِحُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ نَفْسِهِ ، وَسَمِعَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن عبید اللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے احرام کے دوران نکاح کرنے کا ارادہ کیا، انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا تو ابان نے کہا: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، وہ نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور کسی کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ایوب بن موسیٰ نے نبیہ بن وہب کے حوالے سے بذاتِ خود سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ایوب سختیانی کے حوالے سے، نافع کے حوالے سے، نبیہ بن وہب سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4126]

4127

Sahih Ibn Hibban #4127

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ نُبَيْهَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يُنْكِحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا اور وہ کسی کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4127]

4128

Sahih Ibn Hibban #4128

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يُنْكِحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ کسی کا نکاح کروا سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4128]

4129

Sahih Ibn Hibban #4129

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " ، أَرَادَ بِهِ دَاخِلَ الْحَرَمِ ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ ، كَمَا تَسْتَعْمِلُ الْعَرَبُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا ، فَتَقُولُ لِمَنْ دَخَلَ النَّجْدَ : أَنْجَدَ ، وَلِمَنْ دَخَلَ الظُّلْمَةَ : أَظْلَمَ ، وَلِمَنْ دَخَلَ تِهَامَةَ : أَتْهَمَ ، أَرَادَ أَنَّهُ كَانَ دَاخِلَ الْحَرَمِ ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا بِنَفْسِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ الأَخْبَارُ الَّتِي قَدَّمْنَا ، وَالْخَبَرُ الْفَاصِلُ بَيْنَهُمَا الَّذِي يَرْدُفُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی آپ اس وقت حالتِ احرام میں تھے، اس کے ذریعے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی حدود کے اندر تھے، اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے جس طرح عرب اپنے محاورے میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں؛ چناں چہ جو شخص نجد کی حدود میں داخل ہو اس کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ نجد میں داخل ہو گیا، جو شخص تاریکی میں داخل ہو جائے اس کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ تاریکی میں داخل ہو گیا، اور جو شخص تہامہ کی حدود میں داخل ہو وہ اس کے لیے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ تہامہ کی حدود میں آ گیا، اس کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی حدود کے اندر تھے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام بھی باندھا ہوا تھا، اور اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل وہ روایات ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اور وہ روایت جو ان دونوں کے درمیان فصل پیدا کرتی ہے وہ آگے آ رہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4129]

4130

Sahih Ibn Hibban #4130

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعٍ الزَّهْرَانِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلالا ، وَبَنَى بِهَا حَلالا ، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے، جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے اور میں ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4130]

4131

Sahih Ibn Hibban #4131

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4131]

4132

Sahih Ibn Hibban #4132

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ حالتِ احرام میں شادی کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پچھنے بھی لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4132]

4133

Sahih Ibn Hibban #4133

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابن إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۂ قضا کے موقع پر احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4133]

4134

Sahih Ibn Hibban #4134

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَهَا حَلالا ، وَبَنَى بِهَا حَلالا "، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ ، فَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا ، فَنَزَلْتُ فِي قَبْرِهَا أَنَا ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَلَمَّا وَضَعْنَاهَا فِي اللَّحْدِ ، مَالَ رَأْسُهَا ، وَأَخَذْتُ رِدَائِي ، فَوَضَعْتُهُ تَحْتَ رَأْسِهَا ، فَاجْتَذَبَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَأَلْقَاهُ ، وَكَانَتْ حَلَقَتْ فِي الْحَجِّ رَأْسَهَا ، فَكَانَ رَأْسُهَا مُحَمَّمًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شادی کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہیں تھے، جب ان کی رخصتی ہوئی اس وقت بھی حالت احرام میں نہیں تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی سرف کے مقام پر ہوا تھا، (راوی کہتے ہیں) ہم نے انہیں اسی جگہ پر دفن کیا جہاں ان کی رخصتی ہوئی تھی، (راوی کہتے ہیں) میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے، جب ہم نے انہیں لحد میں رکھا تو ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، میں نے اپنی چادر لی اور ان کے سر کے نیچے رکھ دی، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس چادر کو کھینچ لیا اور اس کو ایک طرف رکھ دیا۔ انہوں نے حج کے موقع پر اپنا سر منڈوا دیا تھا تو ان کے بال چھوٹے چھوٹے سے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4134]

4135

Sahih Ibn Hibban #4135

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلالٌ ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلالٌ ، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں نہیں تھے، اور جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے، اور میں ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4135]

4136

Sahih Ibn Hibban #4136

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلالٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4136]