Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 36 · Chapter 3

Book of Gifts

Hadith 4061–4095

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4061

Sahih Ibn Hibban #4061

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شادی کے بعد) ولیمہ میں ستو اور کھجور کھلائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4061]

4062

Sahih Ibn Hibban #4062

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا ، وَلَحْمًا ، كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ ، فَأَتَى حُجْرَ أُمِّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُونَ لَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَيْتِ إِذَا رَجُلانِ يَذْكُرَانِ بَيْنَهُمَا الْحَدِيثَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا وَلَّى رَاجِعًا ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے روٹی اور گوشت کا بھرپور اہتمام کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے کے بعد کیا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی نئی زوجہ محترمہ) کے گھر کے پاس پہنچے تو وہاں دو آدمی گھر کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے، (اس موقع پر) اللہ تعالیٰ نے حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4062]

4063

Sahih Ibn Hibban #4063

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تھا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں حیس (کی دعوت کی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4063]

4064

Sahih Ibn Hibban #4064

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ شَيْخَانِ عَابِدَانِ فَاضِلانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شادی کے بعد ولیمے میں) ستو اور کھجور (کھلائے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4064]

4065

Sahih Ibn Hibban #4065

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا ، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ ، أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ ، أَنَّهَا بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةَ ، فَكَذَّبُوهَا ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ : مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ ، فَقَالُوا : تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ ، فَكَتَبْتُ مَعَهُمْ ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا ، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً ، فَقَالَتْ : لَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنِي ، فَقُلْتُ : مَثَلِي لا يُنْكَحُ ، أَمَا أَنَّا ، فَلا وَلَدَ فِيَّ ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ " ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ " ، قَالَتْ : فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرَّتِي ، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُ لَهُ ، قَالَ : فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ : " إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنَّ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعُ لِنِسَائِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ امیہ بن مغیرہ کی صاحب زادی ہیں، لوگوں نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور وہ لوگ یہ کہنے لگے: یہ کیسی عجیب و غریب غلط بیانی ہے! پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: کیا تم اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھ دو گی؟ تو میں نے ان لوگوں کو خط لکھ کر دے دیا، جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کی تصدیق کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عزت و احترام میں اضافہ ہو گیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میرے ہاں زینب کی پیدائش ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کی: مجھ جیسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے مزاج میں کچھ تیزی بھی ہے، میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے عمر میں بڑا ہوں، جہاں تک مزاج کی تیزی کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے گا، جہاں تک بال بچوں کا تعلق ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی تھیلی میں موجود کچھ جو کے دانے نکالے اور کچھ چربی نکالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسے تیار کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک معزز حیثیت کی مالک ہو، اگر تم چاہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہتا ہوں، اگر میں سات دن تمہارے پاس رہا تو اپنی دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4065]

4066

Sahih Ibn Hibban #4066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَعْلِنُوا النِّكَاحَ "، قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَعْنَاهُ : أَعْلِنُوا بِشَاهِدَيْنِ عِدْلَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نکاح کا اعلان کرو۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: روایت کے لفظ ”تم لوگ اعلان کرو“ اس کا مطلب یہ ہے: دو عادل گواہوں کی موجودگی میں (ایجاب و قبول کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4066]

4067

Sahih Ibn Hibban #4067

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا بَنِي بَيَاضَةَ ،أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ ، وَانْكِحُوا إِلَيْهِ "وَكَانَ حَجَّامًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے بنو بیاضہ! ابوہند کا نکاح کروا دو (اپنے خاندان کی کسی لڑکی یا خاتون) کا نکاح اس سے کر دو۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ پچھنے لگانے کا کام کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4067]

4068

Sahih Ibn Hibban #4068

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّ لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہ کیا جائے (یعنی بیوی کی بھتیجی یا بھانجی کے ساتھ نکاح نہ کیا جائے) اور کوئی عورت اپنی بہن (یعنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن میں موجود چیز کو خود حاصل کر لے، کیونکہ اسے وہی کچھ ملے گا جو اس کے نصیب میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4068]

4069

Sahih Ibn Hibban #4069

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، وَلِتُنْكَحَ ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی عورت (کسی مرد کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے) اپنی بہن (یعنی مرد کی پہلی بیوی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کی سب نعمتیں خود حاصل کر لے، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ اسے وہی کچھ ملے گا جو اس کے نصیب میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4069]

4070

Sahih Ibn Hibban #4070

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّ الْمُسْلِمَةَ أُخْتُ الْمُسْلِمَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کی نعمتیں خود حاصل کر لے، کیونکہ ایک مسلمان عورت دوسری مسلمان عورت کی بہن ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4070]

4071

Sahih Ibn Hibban #4071

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : كَانَتْأُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ قَرَّبَ يَخْطُبُهَا ، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : خَلَّى عَنْهَا ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا ، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا آخَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن ایک شخص کی بیوی تھی، اس شخص نے انہیں طلاق دے دی اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی، پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھجوایا تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آ گیا اور بولے: اس نے اس عورت کو ایسے ہی رہنے دیا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ اس بارے میں رکاوٹ بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے (دوبارہ) نکاح پڑھوا لیں جب کہ وہ لوگ آپس میں مناسب طور پر ایک دوسرے سے راضی ہوں﴾ [سورة البقرة: 232] ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات محذوف ہے کہ اس خاتون نے بعد میں دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لی تھی (پھر اس سے طلاق ہو گئی یا وہ بیوہ ہو گئیں، تو پہلے شوہر نے نکاح کا پیغام بھیجا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4071]

4072

Sahih Ibn Hibban #4072

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ " ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلانَةً ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ لَهَا : " أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلانًا ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا ، فَدَخَلَ بِهَا ، فَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلانَةً ، وَلَمْ أَعْطِهَا شَيْئًا ، وَقَدْ أُعْطِيتُهَا سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ ، فَكَانَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ ، فَأَخَذَتْهُ فَبَاعَتْهُ ، فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہاری شادی فلاں خاتون کے ساتھ کروا دوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ تمہاری شادی فلاں شخص سے کروا دوں؟“ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی شادی کروا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا، اس خاتون کی رخصتی ہو گئی اور اس مرد نے اسے کوئی چیز ادا نہیں کی، جب اس مرد کے انتقال کا وقت قریب آیا تو اس نے کہا: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں خاتون کے ساتھ میری شادی کروائی تھی اور میں نے اسے مہر کے طور پر کوئی ادائیگی نہیں کی تھی، میں خیبر میں موجود اپنا حصہ اس خاتون کو دیتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4072]

4073

Sahih Ibn Hibban #4073

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا ، وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيِّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيَهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ مَهْرًا أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ " ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ " ، قَالَتْ : " وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الآيَةِ الأُولَى الَّتِي ، قَالَ فِيهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " وَقَالَ اللَّهُ فِي الآيَةِ الأُخْرَى رَغْبَةَ أَحَدُكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ ، وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا ، وَجَمَالِهَا مِنَ النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] کے بارے میں دریافت کیا: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کر لو جو تمہیں پسند آتی ہیں خواہ دو کرو یا تین کرو یا چار کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بھتیجے! بعض اوقات کوئی یتیم لڑکی کسی سرپرست کے زیر تربیت ہوتی تھی اور وہ اس سرپرست کے مال میں اس کی حصہ دار ہوتی تھی، اس سرپرست کو اس لڑکی کا مال اور خوبصورتی پسند آتے تھے تو وہ سرپرست یہ ارادہ کرتا کہ اس لڑکی کو کوئی مہر دیے بغیر اس کے ساتھ شادی کر لے یعنی وہ مہر جو اسے کسی دوسری عورت کے ساتھ شادی کرتے ہوئے دینا پڑتا (وہ اس لڑکی کو نہ دے) تو لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ ایسی لڑکیوں کے ساتھ صرف اسی وقت شادی کر سکتے ہیں جب وہ ان لڑکیوں کو اتنا مہر ادا کریں جتنا عام رواج میں دیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ شادی کر لیں (اگر وہ ان لڑکیوں کو مہر نہیں دینا چاہتے)۔ عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی کہ لوگوں نے اس آیت کے بعد اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ، جس کا ترجمہ ہے: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں، تم فرما دو اللہ تعالیٰ ان خواتین کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے اور وہ چیز جو ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی گئی ہے، وہ لڑکیاں جنہیں تم وہ چیز ادا نہیں کرتے ہو جو ان کے حق میں مقرر کی گئی ہے اور تم اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہو کہ تم ان کے ساتھ نکاح کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ چیز جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے، اس سے مراد پہلی والی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] جس کا ترجمہ ہے: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لو گے تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں تم ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی زیر سرپرستی ایسی یتیم لڑکی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے جس کے پاس مال بھی کم ہوتا ہے اور وہ خوبصورت بھی نہیں ہوتی، تو لوگوں کو اس چیز سے منع کیا گیا کہ جن خواتین کے مال اور خوبصورتی میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے وہ ان کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتے ہیں کہ جب وہ انصاف کے ساتھ انہیں مہر کی ادائیگی کریں، اس کی وجہ یہ ہے (کہ جن خواتین کے پاس مال کم ہوتا ہے) ان خواتین میں مردوں کو دلچسپی کم ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4073]

4074

Sahih Ibn Hibban #4074

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذَنِ وَلِيِّهَا ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ مَرَّتَيْنِ ، وَلَهَا مَا أَعْطَاهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا خُصُومَةٌ فَذَاكَ إِلَى السُّلْطَانِ ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ ، أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ ، أَوْ لا أَصْلَ لَهُ بِحِكَايَةٍ حَكَاهَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي عَقِبِ هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، وَلَيْسَ هَذَا مِمَّا يَهِيَ الْخَبَرُ بِمِثْلِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْخَيِّرَ الْفَاضِلَ الْمُتْقِنَ الضَّابِطَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدْ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ ، ثُمَّ يَنْسَاهُ ، وَإِذَا سُئِلَ عَنْهُ لَمْ يَعْرِفْهُ ، فَلَيْسَ بِنِسْيَانِهِ الشَّيْءَ الَّذِي حَدَّثَ بِهِ بِدَالٍّ عَلَى بُطْلانِ أَصْلِ الْخَبَرِ ، وَالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْبَشَرِ صَلَّى فَسَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ ، فَقَالَ : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، فَلَمَّا جَازَ عَلَى مَنَ اصْطَفَاهُ اللَّهُ لِرِسَالَتِهِ ، وَعَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ ، النِّسْيَانُ فِي أَعَمِّ الأُمُورِ لِلْمُسْلِمِينَ الَّذِي هُوَ الصَّلاةُ حَتَّى نَسِيَ ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتُوهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَكُنْ نِسْيَانُهَ بِدَالٍ عَلَى بُطْلانِ الْحُكْمِ الَّذِي نَسِيَهُ ، كَانَ مَنْ بَعْدِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمَّتِهِ الَّذِينَ لَمْ يَكُونُوا مَعْصُومِينَ جَوَازُ النِّسْيَانِ عَلَيْهِمْ أَجُوزُ ، وَلا يَحُوزُ مَعَ وُجُودِهِ أَنْ يَكُونَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى بُطْلانِ الشَّيْءِ الَّذِي صَحَّ عَنْهُمْ قَبْلَ نِسْيَانِهِمْ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ عورت جس کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو تو اس کا نکاح باطل ہوتا ہے (یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی) اس عورت کو وہ چیز مل جائے گی جو مرد نے مہر کے طور پر اسے دی ہے اور اگر ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہو جاتا ہے تو یہ معاملہ حاکم کے پاس لایا جائے گا اور حاکم وقت اس کا ولی ہو گا، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا ہے جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ روایت منقطع ہے یا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس غلط فہمی کی وجہ وہ حکایت ہے جسے ابن علیہ نے اس روایت کے بعد ابن جریج کے حوالے سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: پھر میری ملاقات زہری سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس روایت کو ذکر کیا وہ اس سے واقف نہیں تھے، حالانکہ یہ وہ چیز نہیں ہے جو اس نوعیت کی خبر کو کمزور کر دے؛ اس کی وجہ یہ ہے: بعض اوقات اہل علم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی بہتر فاضل متقی ضابط شخص کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو وہ اسے بھول جاتا ہے اور جب بعد میں اس سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے تو اسے اس کا علم نہیں ہوتا، تو اس کا اس چیز کو بھول جانا جس کو اس نے بیان کیا تھا یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس روایت کی اصل ہی باطل ہو گی۔ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین بشر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے ہوئے بھول گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے کچھ نہیں ہوا ہے۔“ تو وہ شخصیت جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا اور انہیں اپنی مخلوق کے درمیان عصمت عطا کی ان پر نسیان طاری ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کے امور سے تعلق رکھنے والی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز کے بارے میں ہے، وہ چیز نماز ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھول جاتے ہیں اور جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انکار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھول جانا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ حکم باطل ہو گا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے (تو جب ایک طرف ایسا ہے) تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو معصوم بھی نہیں ہیں ان کے لیے نسیان طاری ہونا تو زیادہ ممکن ہے اور نسیان کی موجودگی میں یہ چیز جائز نہیں ہو گی کہ اس میں اس چیز کی دلیل موجود ہو کہ وہ چیز باطل ہے جو ان کے بھول جانے سے پہلے ان حضرات سے مستند طور پر ثابت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4074]

4075

Sahih Ibn Hibban #4075

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ ، وَمَا كَانَ مِنْ نِكَاحٍ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَهُوَ بَاطِلٌ ، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي خَبَرِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا " وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " إِلا ثَلاثَةُ أَنْفَسٍ : سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ الرَّقِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، وَلا يَصِحُّ فِي ذِكْرِ الشَّاهِدَيْنِ غَيْرَ هَذَا الْخَبَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جو نکاح اس کے علاوہ ہو گا وہ باطل شمار ہو گا اور اگر (ولی ہونے کے حوالے سے) لوگوں میں اختلاف ہو جاتا ہے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکمِ وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن جریج کے حوالے سے سلیمان بن موسیٰ کے حوالے سے زہری سے منقول اس روایت میں یہ الفاظ ”دو عادل گواہوں کے بغیر“ یہ الفاظ صرف تین افراد نے نقل کیے ہیں: سعید بن یحییٰ اموی نے حفص بن غیاث کے حوالے سے نقل کیے ہیں، عبداللہ بن عبدالوہاب حجبی نے خالد بن حارث کے حوالے سے نقل کیے ہیں اور عبدالرحمن بن یونس رقی نے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے نقل کیے ہیں؛ دو گواہوں کا تذکرہ اس روایت کے علاوہ اور کہیں بھی مستند طور پر منقول نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4075]

4076

Sahih Ibn Hibban #4076

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ "، أَبُو عَامِرٍ : صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ ابوعامر نامی راوی کا نام صالح بن رستم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4076]

4077

Sahih Ibn Hibban #4077

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4077]

4078

Sahih Ibn Hibban #4078

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَكَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4078]

4079

Sahih Ibn Hibban #4079

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ مِقْدَامٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا ، وَإِنَّ أَبَتْ فَلا جَوَازَ عَلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضامندی شمار ہوگی اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4079]

4080

Sahih Ibn Hibban #4080

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " ، قِيلَ : إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي ؟ ، قَالَ : " سُكُوتُهَا إِقْرَارُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لڑکیوں کی شادی میں ان سے مرضی معلوم کر لیا کرو۔“ عرض کی گئی: کنواری لڑکی شرما جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4080]

4081

Sahih Ibn Hibban #4081

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِكْرِ تَخْطُبُ ؟ ، فَقَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْبِكْرُ تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ ؟ ، قَالَ : " سُكُوتُهَا إِقْرَارُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمرو ذکوان بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کنواری لڑکی کے بارے میں دریافت کیا جسے نکاح کا پیغام آتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کی شادی کے بارے میں ان سے مرضی معلوم کی جائے گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کنواری لڑکی شرما جاتی ہے اور خاموش رہتی ہے (تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4081]

4082

Sahih Ibn Hibban #4082

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْبِكْرَ تَسْتَحِي ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رِضَاهَا صَمْتُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کنواری لڑکی شرما جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی رضامندی اس کی خاموشی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4082]

4083

Sahih Ibn Hibban #4083

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى مَرْفُوعًا ، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ ، عَنْ أَبِيهِ مُسْنِدًا ، وَمَرَّةً يُرْسِلَهُ ، وَسَمِعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ مُرْسَلا وَمُسْنَدًا مَعًا ، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ مَرْفُوعًا ، وَتَارَةً مُرْسَلا ، فَالْخَبَرُ صَحِيحٌ مُرْسَلا وَمُسْنَدًا مَعًا لا شَكَّ ، وَلا ارْتِيَابَ فِي صِحَّتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوبردہ نامی راوی نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے مسند طور پر نقل کر دی اور ایک مرتبہ اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کر دیا۔ ابواسحاق نے یہ روایت ابوبردہ کے حوالے سے مرسل اور مسند دونوں طرح سنی ہے، تو ایک مرتبہ وہ ان کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ اسے مرسل حدیث کے طور پر نقل کر دیتے ہیں، تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ روایت مرسل اور مسند دونوں اعتبار سے صحیح (یعنی مستند) ہے، اس کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4083]

4084

Sahih Ibn Hibban #4084

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ) عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4084]

4085

Sahih Ibn Hibban #4085

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ "، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ : أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ قَبْلَ إِرَادَةِ عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا لِمَنْ تَخْتَارُ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ فِي عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بن ابوموسیٰ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے، تو اس نے اجازت دے دی، اگر وہ انکار کر دے تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4085]

4087

Sahih Ibn Hibban #4087

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا " أَرَادَ بِهِ : أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا بِأَنْ تَخْتَارَ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ ، فَتَقُولُ : أَرْضَى فُلانًا ، وَلا أَرْضَى فُلانًا ، لا أَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ إِلَيْهِنَّ دُونَ الأَوْلِيَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیوہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”بیوہ عورت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے، وہ جس سے چاہے اس کے ساتھ شادی کر لے، وہ یہ کہے گی: میں فلاں کے ساتھ شادی کرنے کے لیے راضی ہوں اور میں فلاں سے شادی کرنے کے لیے راضی نہیں ہوں، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نکاح کا عقد منعقد کروانے کا معاملہ اس کے سپرد ہو گا اور اس کے اولیاء کے سپرد نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4087]

4088

Sahih Ibn Hibban #4088

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس کا والد اس کی مرضی معلوم کرے گا اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4088]

4089

Sahih Ibn Hibban #4089

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لَيْسَ لِوَلِيٍّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمَرٌ " ، يُبَيِّنُ لَكَ صِحَّةَ مَا ذَهَبْنَا إِلَيْهِ ، أَنَّ الرِّضَا وَالاخْتِيَارَ إِلَى النِّسَاءِ ، وَالْعَقْدُ إِلَى الأَوْلِيَاءِ ، لِنَفْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَلِيِّ انْفِرَادَ الأَمْرِ دُونَهَا إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا ، لأَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فِي بِضْعِهَا ، وَالرِّضَا بِمَا يُعْقَدُ عَلَيْهَا ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ " أَرَادَ بِهِ تُسْتَرْضَى فِيمَنْ عُزِمَ لَهُ عَلَى الْعَقْدِ عَلَيْهَا ، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِقْرَارُهَا ، ثُمَّ يَتَرَبَّصُ بِالْعَقْدِ إِلَى الْبُلُوغِ ، لأَنَّهَا وَإِنْ صَمَتَتْ وَأَذِنَتْ ، لَيْسَ لَهَا أَمَرٌ وَلا إِذْنٌ ، إِذِ الأَمْرُ وَالإِذْنُ لا يَكُونَا إِلا لِلْبَالِغَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے اور کنواری لڑکی سے مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے“ یہ چیز آپ کے سامنے اس موقف کے درست ہونے کو بیان کر دے گی، جس کے ہم قائل ہیں کہ رضامندی اور اختیار کرنے کا معاملہ خواتین کے سپرد ہو گا اور نکاح کے عقد کو منعقد کروانے کا معاملہ اولیاء کے سپرد ہو گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثیبہ عورت کی مرضی کے بغیر ولی کے انفرادی طور پر ایسا کرنے کی نفی کی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی شادی کے بارے میں عورت کو اختیار حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ جس کے ساتھ اس کا عقد نکاح کروایا جا رہا ہے اس پر رضامندی (کا اظہار کرے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی“ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ اس کی شادی کرنے کا ارادہ ہے اس کے بارے میں اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہتی ہے تو یہ اس کا اقرار شمار ہو گا، پھر اس کے عقد کے معاملے کو اس کے بالغ ہونے تک ایسے ہی رکھا جائے گا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ خاموش رہی ہے اور اس نے اجازت دے دی ہے، لیکن پھر بھی اسے ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق صرف بالغ لڑکی کو حاصل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4089]

4090

Sahih Ibn Hibban #4090

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4090]

4091

Sahih Ibn Hibban #4091

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4091]

4092

Sahih Ibn Hibban #4092

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْخَيْرِ : مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پوری کیے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے، جس کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالخیر نامی راوی مرثد بن عبداللہ یزنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4092]

4093

Sahih Ibn Hibban #4093

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ ، فَقَامَتْ طَوِيلا ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ ؟ " ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي إِلا إِزَارِي هَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْطَيْتَهُ إِيَّاهَا جَلَسْتَ لا إِزَارَ لَكَ ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا " ، فَقَالَ : مَا أَجِدُ ، قَالَ : " فَالْتَمِسْ " فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، سُورَةُ كَذَا ، وَسُورَةُ كَذَا ، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو شادی کی پیشکش کرتی ہوں، وہ خاتون خاصی دیر کھڑی رہی، پھر ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے تم اسے مہر کے طور پر دے سکو؟“ اس نے کہا: میرے پاس تو صرف میری یہ چادر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ اسے دے دیتے ہو تو تمہیں بغیر چادر کے بیٹھنا پڑے گا، تم کوئی چیز تلاش کرو۔“ اس نے بتایا: مجھے کوئی چیز نہیں ملتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تلاش کرو۔“ اسے پھر کوئی چیز نہیں ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام گنوائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں جو قرآن آتا ہے اس کے عوض میں، میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4093]

4094

Sahih Ibn Hibban #4094

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجَرْجَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ : كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ " ، فَقَالَ : أَرْبَعَ أَوَاقٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعَ أَوَاقٍ ، كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عَرَضِ هَذَا الْجَبَلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار اوقیہ تو یوں ہے جیسے تم نے اس پہاڑ کی چوڑائی سے چاندی کو تراش لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4094]

4095

Sahih Ibn Hibban #4095

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جِبْرِيلَ الشَّهْرَزُورِيُّ بِطَرَسُوسَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا ، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا "، قَالَ عُرْوَةُ : وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي : وَمِنْ شُؤْمِهَا تَعْسِيرُ أَمْرِهَا ، وَكَثْرَةُ صَدَاقِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عورت کی برکت میں یہ بات شامل ہے کہ اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اپنی طرف سے یہ بات کہتا ہوں کہ عورت کی نحوست میں یہ بات شامل ہے کہ اس کا معاملہ مشکل ہو اور اس کا مہر زیادہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4095]