Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 36 · Chapter 2

Book of Gifts

Hadith 4021–4060

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4021

Sahih Ibn Hibban #4021

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، وَابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيهِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا ، وَجُلُودِهَا ، وَأَجِلَّتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ قربانی کے جانوروں کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ”وہ ان جانوروں کے گوشت، کھال اور اس کی جھول کو صدقہ کر دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4021]

4022

Sahih Ibn Hibban #4022

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنْ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى بُدُنِهِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُقَسِّمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا ، وَجُلُودَهَا ، وَجِلالَهَا لِلْمَسَاكِينِ ، وَلا يُعْطِي فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ ”وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی نگہبانی کریں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ ”وہ ان قربانی کے جانوروں کے سارے گوشت کو، ان کی کھالوں کو اور ان کے جھولوں کو غریبوں میں تقسیم کر دیں اور قصائی کو اس میں سے کوئی بھی چیز (معاوضے کے طور پر) نہ دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4022]

4023

Sahih Ibn Hibban #4023

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ ؟ ، قَالَ : انْحَرْهَا ، ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ ، فَلْيَأْكُلُوهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قربانی کے ان جانوروں میں سے جو جانور تھک جائے (یا ہلاک ہونے لگے) میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر کے اس کا ہار اس کے خون میں تر کر کے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو، وہ خود ہی اسے کھا لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4023]

4024

Sahih Ibn Hibban #4024

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْلَمِيَّ ، وَبَعَثَ مَعَهُ ثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا ، وَلا تَأْكُلُ مِنْهَا أَنْتَ ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، آپ نے ان کے ہمراہ قربانی کے اٹھارہ اونٹ بھیجے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ان میں سے کوئی جانور سفر کے قابل نہ رہے (تو میں کیا کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے قربان کر دو، پھر اس کے جوتے (یعنی وہ جوتے جو ہار کے طور پر اس کے گلے میں ڈالے گئے) اس کے خون میں رنگ کر اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو، تم خود اس میں سے کچھ نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4024]

4025

Sahih Ibn Hibban #4025

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا ، وَسِنَانٌ معتمرين ، وانطلق سنان معه ببدنة يسوقها ، فأزحفت عليه في الطريق ، فقال لئن قدمنا البلد لأستفتين عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَصْبَحْتُ ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ ، قَالَ : انْطَلَقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَانْطَلَقْنَا ، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ ، فَقَالَ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطَتْ ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ، وَأَمَرَهُ فِيهَا ، فَمَضَى ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا يُبْدِعُ عَلَيَّ مِنْهَا ؟ ، قَالَ : انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا ، وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اور سنان عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، سنان اپنے ہمراہ قربانی کا جانور بھی لے کر گئے تھے جسے وہ ساتھ لے کر چل رہے تھے، راستے میں کسی مقام پر وہ جانور آگے چلنے کے قابل نہ رہا تو سنان نے کہا: اگر ہم کسی شہر پہنچ گئے تو ہم اس بارے میں مسئلہ دریافت کر لیں گے۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن ہم نے وادیِ بطحاء میں پڑاؤ کیا، انہوں نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں، تو ہم لوگ گئے، ہم نے ان کے قربانی کے جانور کا معاملہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم نے صاحبِ علم شخص سے دریافت کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے ہمراہ سولہ اونٹ بھیجے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس صاحب کو ہدایت کی، وہ صاحب چلے گئے پھر وہ واپس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی جانور میرے لیے بوجھ بن جائے (یعنی آگے جانے کے قابل نہ رہے) تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے قربان کرو، پھر اس کے (گلے میں موجود ہار کے) جوتے اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو، تم خود اس کے گوشت کو نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی اس کا گوشت نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4025]

4026

Sahih Ibn Hibban #4026

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ نمشي بالمدينة ، قَالَ : فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَقَامَا ، وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ يَسِرُّهَا ، قَالَ : ادْنُ عَلْقَمَةُ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ ، يَقُولُ : أَلا نُزَوِّجُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ جَارِيَةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا فَاتَكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ ، فَإِنَّا قَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ ، فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ "، وَهُوَ الإِخْصَاءُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالتَّزْوِيجِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، وَسَبَبُهُ اسْتِطَاعَةُ الْبَاءَةِ ، وَعِلَّتُهُ غَضُّ الْبَصَرِ ، وَتَحْصِينُ الْفَرْجِ ، وَالأَمْرُ الثَّانِي هُوَ الصَّوْمُ عِنْدَ عُدْمِ السَّبَبِ ، وَهُوَ الْبَاءَةُ ، وَالْعِلَّةُ الأُخْرَى هُوَ قَطْعُ الشَّهْوَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کہیں جا رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان اٹھے اور ذرا ایک طرف ہو گئے، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (دور جا کر) یہ بات نوٹ کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان سے کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے پوشیدہ رکھا جائے، تو انہوں نے فرمایا: علقمہ! تم آگے آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے: اے عبداللہ! ہم آپ کی شادی کسی لڑکی سے نہ کروا دیں تاکہ وہ آپ کو گزرے ہوئے (جوانی کے زمانے) کی یاد دلا دے۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ بات کہتے ہیں (تو میں آپ کو بتاتا ہوں) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نوجوان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکا کر رکھتی ہے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور تم میں سے جو شخص شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں: روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) «وِجَاءٌ» سے مراد شہوت کو ختم کرنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا سبب شادی کرنے کی استطاعت ہے اور اس کی علت نکاح کو جھکانا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنا ہے جبکہ دوسرا حکم یہ ہے: جب یہ سبب موجود نہ ہو تو روزے رکھے جائیں اور وہ سبب شادی کی استطاعت نہ ہونا ہے اور اس کی دوسری علت شہوت کو ختم کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4026]

4027

Sahih Ibn Hibban #4027

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ "، قَالَ سَعْدٌ : فَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاخْتَصَيْنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے مجرد رہنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خود کو خصی کروا لیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4027]

4028

Sahih Ibn Hibban #4028

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصِ ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا ، وَيَقُولُ : تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ الأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے تھے اور مجرد رہنے سے سختی سے منع کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کے ساتھ شادی کرو۔ کیونکہ میں قیامت کے دن انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4028]

4029

Sahih Ibn Hibban #4029

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا ، قَالَ : أَنْ لا تَجُورُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿ذٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ [سورة النساء: 3] ”یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم عول نہ کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس سے مراد یہ ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4029]

4030

Sahih Ibn Hibban #4030

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُمُ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَعِفَّ ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الأَدَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات ہے کہ وہ ان کی مدد کرے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مجاہد، اور نکاح کرنے والا ایسا شخص جو پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو، اور ایسا مکاتب غلام جو ادائیگی کرنے کا ارادہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4030]

4031

Sahih Ibn Hibban #4031

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ ابْنُ خُزَيْمَةَ آخَرَ مَعَهُ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دنیا ساری کی ساری ساز و سامان ہے اور دنیا کے ساز و سامان میں سب سے بہترین چیز نیک بیوی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4031]

4032

Sahih Ibn Hibban #4032

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ : الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ ، وَأَرْبَعٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ : الْجَارُ السُّوءُ ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ ، وَالْمَسْكَنُ الضِّيقُ ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسمٰعیل بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”چار چیزیں خوش بختی (کی علامت) ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، اچھا ہمسایہ اور اچھی سواری؛ اور چار چیزیں بدبختی (کی علامت) ہیں: برا ہمسایہ، بری بیوی، تنگ گھر اور بری سواری۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4032]

4033

Sahih Ibn Hibban #4033

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الرَّبْعِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ "يَعْنِي : الشُّؤْمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر وہ (نحوست) کسی چیز میں ہو، تو یا گھر میں ہو گی یا گھوڑے میں یا بیوی میں۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نحوست تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4033]

4034

Sahih Ibn Hibban #4034

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ان (بیویوں میں) سب سے بہتر وہ ہے جس کا مہر کم ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4034]

4035

Sahih Ibn Hibban #4035

قَالَ ثَابِتٌ : فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، قَالَ : تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا ، فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى " ، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ ، قَدْ قَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَقَتَلَ سَبْعَةً ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ? ! ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " ، يَقُولُهَا سَبْعًا ، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ، قَالَ ثَابِتٌ : وَمَا كَانَ فِي الأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جلیبیب ایک انصاری شخص تھا، وہ خواتین کے ہاں جایا کرتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کیا کرتا تھا۔ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی بیوی سے کہا: جلیبیب تمہارے پاس نہ آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے ہاں کی خواتین میں سے کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ ہو جاتی، تو وہ اس خاتون کی آگے شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک یہ بات نہیں جان لیتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا: ”اے فلاں شخص! تم اپنی بیٹی کی شادی کروا دو۔“ اس نے عرض کی: جی ہاں! سر آنکھوں پر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتا۔“ اس انصاری نے دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلیبیب کے ساتھ۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! (آپ مجھے موقع دیں) تاکہ میں لڑکی کی ماں کے ساتھ مشورہ کر لوں، پھر وہ شخص اس عورت کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے، اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے سر آنکھوں پر۔ اس شخص نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے پیغام نہیں دیا، تو عورت نے دریافت کیا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے؟ اس شخص نے بتایا: جلیبیب کے لیے۔ اس عورت نے کہا: اس نالائق جلیبیب کے لیے؟ پھر اس عورت نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں جلیبیب کے ساتھ (اپنی بیٹی کی) شادی نہیں کروں گی۔ جب لڑکی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لیے اٹھنے لگا، تو لڑکی نے پردے کے پیچھے سے اپنی ماں سے کہا: میری شادی کے بارے میں آپ کو نکاح کا پیغام کس نے بھجوایا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول نے۔ اس لڑکی نے دریافت کیا: تو کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کے حکم پر عمل نہیں کریں گے؟ آپ مجھے اللہ کے رسول کے سپرد کر دیں، وہ مجھے ضائع نہیں کریں گے۔ پھر اس بچی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اس بچی کا معاملہ آپ کے سپرد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کی شادی جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کروا دی۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کے لیے کیا دعا کی تھی؟ راوی نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے کیا دعا کی تھی؟ تو اسحاق نے بتایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی) «اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهِمَا الْخَيْرَ صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا كَدًّا» ”اے اللہ! ان دونوں پر بھلائی کو اچھی طرح انڈیل دے اور ان کی زندگی میں کوئی سختی نہ آنے دینا۔“ یہاں ثابت رحمہ اللہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی ان صاحب سے کروا دی، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں حصہ لینے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم کسی کو غیر موجود پاتے ہو؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن مجھے جلیبیب غیر موجود محسوس ہو رہا ہے، تو تم لوگ مقتولین میں اسے تلاش کرو۔“ تو ان لوگوں نے جلیبیب رضی اللہ عنہ کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ سات مشرکین کے پاس موجود تھے، انہوں نے ان سات مشرکین کو قتل کیا تھا اور پھر خود شہید ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے اور پھر خود شہید ہوا ہے؟ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں“، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا، ان کی چارپائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف بازو ہی تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود ان کی قبر میں اتارا۔ ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: انصار میں کوئی بیوہ عورت ایسی نہیں تھی جو اس (جلیبیب کی اہلیہ) سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو (یعنی ان سے زیادہ مال دار ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4035]

4036

Sahih Ibn Hibban #4036

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ : لِجَمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت کے ساتھ شادی چار باتوں کی وجہ سے کی جاتی ہے: اس کی خوبصورتی کی وجہ سے، اس کے نسب کی وجہ سے، اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے دین کی وجہ سے، تو «تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ تم دین دار عورت کو ترجیح دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4036]

4037

Sahih Ibn Hibban #4037

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ الْفِطْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا ، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا ، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا ، خُذْ ذَاتَ الدِّينِ ، وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ "، عَمَّتُهُ : زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کے ساتھ شادی یا تو اس کے مال کی بنیاد پر کی جاتی ہے یا اس کی خوبصورتی کی بنیاد پر کی جاتی ہے یا اس کے دین کی وجہ سے کی جاتی ہے، تو تم دین اور اچھے اخلاق کو اختیار کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) سعید بن اسحاق نامی راوی کی پھوپھی سے مراد سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی زینب ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4037]

4038

Sahih Ibn Hibban #4038

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَلا تَتَزَوَّجُ فِي الأَنْصَارِ ؟ ، قَالَ : إِنَّ فِي أَعْيُنِهِمْ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ انصار میں شادی نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4038]

4039

Sahih Ibn Hibban #4039

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ :إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَلَقِيَنِي ، فَقَالَ : مَا أُرِيدُ النِّكَاحَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا لَمَّا عَرَضْتَ عَلَيَّ ، إِلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا ، وَلَمْ أَكُنْ أُفْشِي سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: حفصہ بنت عمر کے شوہر سیدنا خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل تھا، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے انہیں حفصہ کے ساتھ شادی کی پیش کش کی، میں نے کہا: ”اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کی شادی حفصہ بنت عمر سے کروا دیتا ہوں“، انہوں نے کہا: ”میں اس معاملے میں غور کروں گا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کچھ دن بعد ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے بتایا: ”میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو میں نے کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کے ساتھ آپ کی شادی کروا دیتا ہوں“، تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ غصہ آیا، پھر کچھ دن گزر گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا، میں نے حفصہ کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی۔ پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے فرمایا: ”جب تم نے مجھے حفصہ کی شادی کی پیشکش کی تھی، تو میں نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا تھا، شاید اس وجہ سے تمہیں مجھ سے کوئی ناراضگی ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم نے مجھے یہ پیشکش کی تھی، تو میں نے تمہیں جواب اس لیے نہیں دیا تھا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی) کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو میں اس کے ساتھ شادی کر لیتا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4039]

4040

Sahih Ibn Hibban #4040

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اكْتُمِ الْخِطْبَةَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وضُوءَكَ ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ ، ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِيَ فُلانَةِ وَتُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي ، وَدُنْيَايَ ، وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي ، وَدُنْيَايَ ، وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نکاح کے پیغام کو ذہن میں رکھو، پھر وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرو، پھر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو اتنی نماز ادا کرو، پھر تم اپنے پروردگار کی حمد بیان کرو، اس کی بزرگی کا تذکرہ کرو، پھر یہ دعا مانگو: «اللّٰهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فُلَانَةَ (راوی کہتے ہیں: یہاں اس عورت کا نام لے) خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي» ”اے اللہ! بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھتا ہے، اگر تو یہ جانتا ہے فلاں عورت (راوی کہتے ہیں: یہاں اس عورت کا نام لے) میرے لیے میرے دین، میری دنیا اور میری آخرت کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اسے میرا نصیب کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور میرے دین، میری دنیا اور میری آخرت کے حوالے سے میرے حق میں بہتر ہے، تو اس کو میرا نصیب کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4040]

4041

Sahih Ibn Hibban #4041

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا "يَعْنِي صَغَرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے انصار کی کسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس عورت کو دیکھ لینا، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے“ (راوی کہتے ہیں) یعنی ان کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4041]

4042

Sahih Ibn Hibban #4042

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ سُلَيْمَانِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ ابْنَةَ الضَّحَّاكِ عَلَى إِنْجَارٍ مِنْ أَنَاجِيرِ الْمَدِينَةِ يُبْصِرُهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! ، قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ ، فَلا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن ابوحثمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی کو مدینہ منورہ کے ایک باغ میں چھپ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر ایسا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھجوانے کی بات ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، وہ شخص اس عورت کو پہلے دیکھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4042]

4043

Sahih Ibn Hibban #4043

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم جاؤ اور اس عورت کو دیکھ لو، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے، تم دونوں کے درمیان محبت پیدا کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4043]

4044

Sahih Ibn Hibban #4044

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ نِكَاحَ امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کرنے (کے ارادے) کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس عورت کو دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4044]

4045

Sahih Ibn Hibban #4045

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : اذْهَبِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ وَلا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم ام شریک کے ہاں چلی جاؤ اور اپنی ذات کے حوالے سے ہمیں کسی پریشانی کا شکار نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4045]

4046

Sahih Ibn Hibban #4046

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةَ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا "، قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ زَيْدٍ : هَذَا مِنْ أَهْلِ الْمَزَارِ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، اور کوئی عورت اپنی بہن (یعنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے میں آنے والی نعمتیں بھی خود حاصل کر لے۔“ شیخ بیان کرتے ہیں کہ ابن زید نامی یہ راوی اہل مزار میں سے ہے، یہ بصرہ کا رہنے والا ہے اور ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4046]

4047

Sahih Ibn Hibban #4047

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4047]

4048

Sahih Ibn Hibban #4048

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُنَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، أَوْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگائے یا اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر نکاح کا پیغام بھیجے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4048]

4049

Sahih Ibn Hibban #4049

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ ، وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ ، فَسَخِطَتْهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ " ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ قَالَ : " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي ، فَاعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " ، قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالُ لَهُ ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " ، قَالَتْ : فَكَرِهْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " انْكِحِي أُسَامَةَ " فَنَكَحْتُهُ ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا ، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بتہ دے دی، وہ اس وقت شام گئے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے وکیل کو کچھ ”جو“ دے کر اس خاتون کے پاس بھیجا، اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں دینے کے لیے ہمارے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور چیز لازم نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے اس مسئلے کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت بسر کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک ایسی خاتون ہے جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کرو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہے، جب تمہاری عدت ختم ہو جائے گی، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔“ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میری عدت ختم ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لو۔“ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے وہ پسند نہیں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو۔“ تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4049]

4050

Sahih Ibn Hibban #4050

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ حَتَّى يَشْتَرِيَ أَوْ يَتْرُكَ ، وَلا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَذَرَ "أَبُو كَثِيرٍ : اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے جب تک (وہ دوسرا شخص) اسے خرید نہیں لیتا یا سودے کو ترک نہیں کر دیتا اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک (وہ دوسرا شخص) نکاح نہیں کر لیتا یا اس رشتے کو چھوڑ نہیں دیتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوکثیر نامی راوی کا نام یزید بن عبدالرحمن بن اذینہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4050]

4051

Sahih Ibn Hibban #4051

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الأَوَّلُ ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ فَيَخْطُبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک پہلا پیغام دینے والا شخص اس کو ترک نہیں کر دیتا یا پھر اگر وہ اجازت دے دے تو پھر وہ نکاح کا پیغام بھیج دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4051]

4052

Sahih Ibn Hibban #4052

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَزَوَّجَ ، قَالَ لَهُ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص شادی کرنے کا ارادہ کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہ فرماتے تھے: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے اور تم پر برکتیں نازل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4052]

4053

Sahih Ibn Hibban #4053

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ ، قَالَ لِلشَّعْبِيِّ : إِنَّا نَقُولُ عِنْدَنَا : إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَعْتَقَ أُمَّ وَلَدِهِ ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا ، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ هَدْيَهُ ، قَالَ الشَّعْبِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ، وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا آمَنَ الرَّجُلُ بِعِيسَى ، ثُمَّ آمَنَ بِي ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَى رَبَّهُ ، وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صالح بن حی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام شعبی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ام ولد کو آزاد کر دے اور پھر اس کے ساتھ شادی کر لے، تو اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو اپنی قربانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی کنیز کی تربیت کرے اور اچھی طرح سے تربیت کرے، اس کو تعلیم دے اور اچھی طرح سے تعلیم دے، پھر وہ اسے آزاد کر کے اس کنیز کے ساتھ شادی کر لے، تو اس شخص کو دگنا اجر ملے گا، اور جو شخص سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہو، پھر وہ مجھ پر بھی ایمان لے آئے، اسے بھی دگنا اجر ملے گا، اور وہ غلام جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت کرتا ہو، اسے بھی دگنا اجر ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4053]

4054

Sahih Ibn Hibban #4054

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً ، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ مَا رَأَيْتُ ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ فَكَاتَبْتُ نَفْسِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ " ، فَقَالَتْ : وَمَا هُوَ ؟ ، قَالَ : " أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ " ، قَالَتْ : فَبَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ ، قَالُوا : أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَتْ : فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَتْ : فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ کے بعد آزاد ہونے والے) بنو مصطلق کے افراد کو قیدی قرار دیا، تو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی کے حصے میں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاہدہ کرنے کی پیشکش کی۔ وہ ایک خوبصورت اور دل کش خاتون تھیں، جو بھی شخص انہیں دیکھتا تھا مسحور ہو جاتا تھا۔ وہ اپنی کتابت کی ادائیگی کے بارے میں مدد حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اللہ کی قسم! وہ حجرے کے دروازے پر رکی ہی تھیں، میں نے انہیں دیکھ لیا تو مجھے وہ اچھی نہیں لگیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں اسی طرح پسند کریں گے جس طرح مجھے وہ اچھی لگی تھیں۔ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں نے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، اب میں اللہ کے رسول سے مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا (تم اسے اختیار نہیں کرنا چاہو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟“ اس خاتون نے دریافت کیا: وہ کیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کی ادائیگی کر دیتا ہوں۔“ اس خاتون نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں ایسا کر لیتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو ملی تو انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز بن گئے ہیں، تو ان لوگوں نے ان کے پاس جتنے بھی بنو مصطلق کے قیدی تھے ان سب کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4054]

4055

Sahih Ibn Hibban #4055

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي سَهْمٍ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً ، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ ، فَكَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ " ، فَقَالَتْ : وَمَا هُوَ ؟ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِي عَنْكِ كِتَابَكِ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ " ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ ، قَالُوا : أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَتْ : فَمَا اعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے افراد کو قیدی بنا لیا تو جویریہ بنت حارث سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں، یا شاید سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد کے حصے میں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی شخص انہیں دیکھتا ان کا گرویدہ ہو جاتا، وہ اپنی کتابت کے بارے میں مدد حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اللہ کی قسم! ابھی وہ حجرے کے دروازے تک پہنچی ہی تھیں کہ میں نے انہیں دیکھ لیا اور مجھے وہ ناپسند ہوئیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جس طرح وہ مجھے خوبصورت لگی ہیں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محسوس ہوں گی۔ جویریہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں نے اپنے لیے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، تو میں اللہ کے رسول کی خدمت میں مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا (تم اس چیز کو اختیار نہیں کرو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟“ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کے معاوضہ کی ادائیگی کر دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں ایسا کرتا ہوں۔“ جب اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ لوگ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہیں، تو انہوں نے اپنے پاس موجود بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شادی کرنے کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہو گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4055]

4056

Sahih Ibn Hibban #4056

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ ، وَلَكِنَّهَا لا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ فَنَهَاهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ : فَنَهَاهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ : فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک ایسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے جو مالدار بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا، وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسی عورت کے ساتھ شادی کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4056]

4057

Sahih Ibn Hibban #4057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ جَمَالٍ ، وَإِنَّهَا لا تَلِدُ ، قَالَ : أَأَتَزَوَّجُهَا ؟ فَنَهَاهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، فَنَهَاهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ ، فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : تَزَوَّجِ الْوَدُودَ الْوَلُودَ ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک خوبصورت عورت کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا۔ وہ پھر دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے منع کر دیا۔ وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر منع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خاتون کے ساتھ شادی کرو کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4057]

4058

Sahih Ibn Hibban #4058

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجَهَا فِي شَوَّالٍ ، وَبَنَى بِهَا فِي شَوَّالٍ ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں ان کے ساتھ نکاح فرمایا تھا، شوال کے مہینے میں ہی ان کی رخصتی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب اور کون تھیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4058]

4059

Sahih Ibn Hibban #4059

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا ، قَالَ : حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا ، قَالَ : فَنَعَمْ إِذًا ، فَذَهَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : لا هَا اللَّهِ إِذًا ، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلانًا وَفُلانًا ، قَالَ : وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْمَعُ ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ ، إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ ، قَالَ : فَكَأَنَّهَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا ، فَقَالا : صَدَقْتِ ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنْ رَضِيتَهُ لَنَا رَضِينَاهُ ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي أَرْضَاهُ فَزَوَّجَهَا ، فَفَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَخَرَجَتْ امرأة جُلَيْبِيبٍ فِيهَا ، فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا وَقَدْ قُتِلَ ، وَتَحْتَهُ قَتْلَى مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ "قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَمَا رَأَيْتُ بِالْمَدِينَةِ ثَيِّبًا أَنْفَقَ مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کے لیے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کا پیغام اس خاتون کے باپ کو دیا، ان صاحب نے کہا: میں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا، ہم نے تو اس لڑکی کے لیے فلاں اور فلاں شخص کے رشتے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لڑکی اس وقت پردے کے پیچھے یہ بات سن رہی تھی، اس لڑکی نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش کو قبول نہیں کریں گے؟ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے رشتے سے راضی ہیں تو آپ اس کے ساتھ شادی کروا دیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کر دی۔ انہوں نے جواب دیا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ پھر اس کا والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے راضی ہیں تو ہم بھی اس سے راضی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس سے راضی ہوں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے ساتھ (سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی) شادی کروا دی۔ (اس کے کچھ عرصے بعد) اہل مدینہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے (یعنی کوئی جنگ ہوئی) تو سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی اس میں گئیں، انہوں نے اپنے شوہر کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے نیچے مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ مقتولین بھی تھے جنہیں سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایسی کوئی بیوہ نہیں دیکھی جو اس خاتون سے زیادہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4059]

4060

Sahih Ibn Hibban #4060

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا ؟ " ، قَالَ : زِنَةُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس نشان کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری (قربانی کر کے دعوت کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4060]