Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 36 · Chapter 1

Book of Gifts

Hadith 3980–4020

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3980

Sahih Ibn Hibban #3980

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي ، أَوْ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ يَا كَعْبُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ "، أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : " اذْبَحْ شَاةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے کعب! کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سر کو منڈوا دو اور ایک قربانی کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا ایک فرق چھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3980]

3982

Sahih Ibn Hibban #3982

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا كَعْب بن عُجْرَةَأَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ ، أَوْ صَدَقَةٍ ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے کعب بن عجرہ! کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کا حکم دیا کہ جو بھی ان میں سے آسانی سے ہو سکے (وہ فدیہ میں ادا کر دوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3982]

3983

Sahih Ibn Hibban #3983

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْ ، وَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، أَوِ انْسُكْ شَاةً "، قَالَ أَيُّوبُ : فَلا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، یہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بات ہے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میری جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سر منڈوا دو اور تین دن روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری قربان کر دو۔“ ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے، ان میں سے کس کا ذکر پہلے ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3983]

3984

Sahih Ibn Hibban #3984

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمِنُ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْهُ ، وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلاثَةِ آصُعِ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے بال بہت زیادہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے منڈوا دو اور ایک بکری کی قربانی دے دو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو صدقہ دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3984]

3985

Sahih Ibn Hibban #3985

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ، فَقَالَ كَعْبٌ : فِيَّ نَزَلَتْ ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي ، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كِدْتُ أَرَى الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى ، أَتَجِدُ شَاةً " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ، فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَالصَّوْمُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے اس آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] کے بارے میں دریافت کیا: ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قربانی کرنا ہو گا۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں تکلیف تھی (یعنی جوئیں زیادہ ہو گئی تھیں)، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، میرے چہرے پر جوئیں آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری پریشانی اتنی بڑھ چکی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے، کیا تمہارے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] نازل ہوئی: ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا یا صدقہ کرنا یا قربانی کرنا ہو گا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) تو روزے تین دن کے ہوں گے اور صدقے میں ہر مسکین کو اناج کا نصف صاع دیا جائے گا اور قربانی بکری کی ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3985]

3986

Sahih Ibn Hibban #3986

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ : قَدْآذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْلِقْ ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوِ اطْعِمْ ثَلاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سر منڈوا دو اور بکری کی قربانی کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3986]

3987

Sahih Ibn Hibban #3987

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ، قَالَ : حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى ، أَتَجِدُ شَاةً ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ فِي خَاصَّةٍ ، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہوگا یا صدقہ کرنا ہوگا یا قربانی کرنا ہوگا۔“ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، میری جوئیں میرے چہرے پر آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اتنی بڑھ گئی ہوگی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے، کیا تمہارے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، جس میں سے ہر مسکین کو نصف صاع دیا جائے۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت بطور خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3987]

3988

Sahih Ibn Hibban #3988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شُبْرُمَةُ ؟ " ، قَالَ : أَخٌ لِي ، أَوْ قَرَابَةٌ ، قَالَ :" هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ " أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ إِذَا لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ ، وَقَوْلُهُ : " ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " أَمْرُ إِبَاحَةٍ لا حَتْمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حج کرنے کے لیے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا بھائی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرا رشتے دار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے خود حج کر لیا ہے؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے تم اپنی طرف سے کرو اور بعد میں شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اسے تم اپنی طرف سے کرو“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھی کہ جب کسی شخص نے خود حج نہ کیا ہو، تو اس کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”پھر تم شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا“ یہ حکم (اباحت) کے لیے ہے، لازمی قرار دینے کے لیے نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3988]

3989

Sahih Ibn Hibban #3989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ، قَالَ : كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّفَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجَّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سواری پر) بیٹھے ہوئے تھے، ایک خاتون جو خثعم قبیلے سے تعلق رکھتی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئی۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور اس خاتون نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا، اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں“ (راوی کہتے ہیں) یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3989]

3990

Sahih Ibn Hibban #3990

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ عَنْ أُمِّهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي دَخَلٍ فِي الإِسْلامِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَإِنْ أَنَا شَدَدْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِي خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، وَإِنْ لَمْ أَشُدَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهَا ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سلیمان بن یسار سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کرتی ہے، تو سلیمان نے جواب دیا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد نے جب اسلام قبول کیا اس وقت وہ بوڑھے عمر رسیدہ ہو چکے تھے، اگر میں انہیں سواری پر باندھ دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے وہ فوت ہو جائیں گے اور اگر انہیں باندھتا نہیں ہوں تو وہ اس پر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا اور تم ان کی طرف سے اس کو ادا کر دیتے، تو کیا وہ ادا ہو جاتا؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں قیاس کرنے کی اجازت ہونے کی دلیل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3990]

3991

Sahih Ibn Hibban #3991

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ ، وَالْعُمْرَةَ ، وَالظَّعْنَ ، فَقَالَ : حَجَّ عَنْ أَبِيكَ واعْتَمِرْ "، أَبُو رَزِينٍ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ آدمی ہیں، وہ حج یا عمرہ کرنے یا سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج بھی کر لو اور عمرہ بھی کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ کا نام لقیط بن عامر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3991]

3992

Sahih Ibn Hibban #3992

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، أَفَأَحُجَّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے، انہوں نے حج نہیں کیا تھا، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کر دیتے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3992]

3993

Sahih Ibn Hibban #3993

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اس عورت کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کر دیتے؟ اللہ تعالیٰ ادا کیے جانے کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3993]

3994

Sahih Ibn Hibban #3994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ،حُجَّ مَكَانَ أَبِيكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! تم اپنے باپ کی جگہ حج کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3994]

3995

Sahih Ibn Hibban #3995

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّفَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا ، لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَهَلْ أَقْضِي عَنْهُ ، أَوْ أَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو کیا میں ان کی طرف سے ادائیگی کر دوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3995]

3996

Sahih Ibn Hibban #3996

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّفَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ "، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے، خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مسئلہ دریافت کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور اس نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا ہے وہ میرے بوڑھے عمر رسیدہ والد پر بھی فرض ہو گیا ہے، جو سواری پر بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ (راوی کہتے ہیں) یہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3996]

3997

Sahih Ibn Hibban #3997

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْفَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں، جو حج (کے لیے سفر) کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3997]

3998

Sahih Ibn Hibban #3998

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ فِيهِمْ قِتَالٌ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْأَوْجَبْتُ عَمْرَةً ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلا شَانٌ وَاحِدٌ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي ، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ، فَانْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْحَرْ ، وَلَمْ يَحْلِقْ ، وَلَمْ يَقْصُرْ ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ أَحْرَمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ ، وَحَلَقَ ، ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ جس سال حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تھا، اس سال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کرنے کا ارادہ کیا، تو ان سے کہا گیا: لوگوں کے درمیان جنگ ہونے لگی ہے، ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ آپ کو (مکہ) تک نہیں جانے دیں گے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے“، (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا): اس صورت میں، میں اسی طرح کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) لازم کر لیا ہے، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا: حج اور عمرے کا طریقہ ایک ہی جیسا ہے، تو میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ہمراہ حج کو بھی لازم کر لیا ہے اور میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر جاؤں گا جو میں قدید کے مقام سے خرید چکا ہوں، اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں (یعنی حج اور عمرہ) کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ وہ مکہ آئے، بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا، نہ انہوں نے قربانی کی، نہ سر منڈوایا، نہ بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ایسی کسی چیز سے حلال ہوئے جو احرام کی پابندیوں میں شامل ہو، یہاں تک کہ جب قربانی کا دن آ گیا تو انہوں نے قربانی کی، سر منڈوایا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ طواف کیا تھا تو اس کے ذریعے انہوں نے حج اور عمرے دونوں کے طواف کو ادا کر دیا تھا، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3998]

3999

Sahih Ibn Hibban #3999

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُمْ كَانُواحَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ، فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَخَّرَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ میں موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کو بھجوا دیا، تو ہم میں سے جس شخص نے چاہا اس نے مؤخر کر دیا اور جس نے چاہا اس نے ترک کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3999]

4000

Sahih Ibn Hibban #4000

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّاأَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ ، أَحْرَمَ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کوہان کے بائیں طرف نشان لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کو صاف کیا اور اس جانور کے گلے میں جوتوں کا ہار پہنا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے، جب وہ سواری ”بیداء“ کے مقام پر کھڑی ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام شروع کیا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4000]

4001

Sahih Ibn Hibban #4001

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّاأَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ أَحْرَمَ ، وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کوہان کی دائیں طرف نشان لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو صاف کیا، اسے جوتوں کا ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے، جب بیداء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4001]

4002

Sahih Ibn Hibban #4002

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ ، فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الأَيْمَنِ ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى بِرَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ ، أَهَلَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کو منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوہان کے دائیں طرف نشان لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون بہایا اور اسے جوتوں کا ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے، جب میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پڑھنا شروع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4002]

4003

Sahih Ibn Hibban #4003

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشْعَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے جانور پر) نشان لگایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4003]

4004

Sahih Ibn Hibban #4004

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَشْتَرِكُ النَّفَرُ فِي الْهَدْيِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹ قربان کیے تھے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”کچھ لوگ ایک قربانی میں حصہ دار بن جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4004]

4005

Sahih Ibn Hibban #4005

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى قَدِمْنَا سَرِفَ ، فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ؟ " ، فَقُلْتُ : لَيْتَنِي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ ، قَالَ : " مَا لَكِ ؟ " ، قُلْتُ :حِضْتُ ، قَالَ : " هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاصْنَعِي كَمَا يَصْنَعُ الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عَمْرَةً " ، فَفَعَلُوا ، فَمَنْ لَمْ يَسُقْ هَدْيًا حَلَّ ، وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَسَارِ ، فَلَمْ يَحِلُّوا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ، ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ ، وَطَهُرْتُ ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ، وَسَعَيْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى ، فَلَمَّا نَفَرْنَا أَرْسَلَنِي مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْمُحَصَّبِ ، فَقَالَ : " أَرْدِفْ أُخْتَكَ ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " ، فَأَرْدَفَنِي ، فَأَهْلَلْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَصَدَرَنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: افسوس ہے، میں اس سال حج نہیں کر سکوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: مجھے حیض آ گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا نصیب کر دی ہے، تم وہی کچھ کرو جو حاجی کرتے ہیں البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) جب ہم مکہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے عمرہ میں تبدیل کر لو۔“ تو لوگوں نے ایسا ہی کیا، جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا اس نے احرام کھول دیا۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ صاحب حیثیت لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لائے تھے، انہوں نے احرام نہیں کھولا، جب قربانی کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی، جب میں پاک ہو گئی تو میں نے بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور (صفا و مروہ کی) سعی بھی کر لی، پھر میں منیٰ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہونے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ”محصب“ سے بھجوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی بہن کو ساتھ بٹھاؤ اور انہیں ”تنعیم“ سے عمرہ کروا دو۔“ انہوں نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا، میں نے ”تنعیم“ سے عمرہ کا احرام باندھا، میں نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4005]

4006

Sahih Ibn Hibban #4006

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ قربان کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4006]

4007

Sahih Ibn Hibban #4007

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءِ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ،فَحَضَرَ النَّحْرُ ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً ، وَفِي الْبَعِيرِ سَبْعَةً ، أَوْ عَشْرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، اسی دوران قربانی کا موقع آ گیا تو ہم سات آدمی ایک گائے میں حصہ دار بن گئے اور سات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دس آدمی ایک اونٹ میں حصہ دار بن گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4007]

4008

Sahih Ibn Hibban #4008

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَمَاعَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4008]

4009

Sahih Ibn Hibban #4009

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَأَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِهِ ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کا جانور بھجوایا کرتے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے لیے خود ہار تیار کرتی تھی، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے جس سے محرم شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4009]

4010

Sahih Ibn Hibban #4010

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنْ كُنْتُ لأَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،يَهْدِي ثُمَّ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ، وَهُوَ مُقِيمٌ عِنْدَنَا بِالْمَدِينَةِ ، ثُمَّ لا يُحْرِمُ ، وَلا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے خود ہار تیار کیا کرتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے وہ جانور (مکہ) بھجوا دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے پاس مدینہ منورہ میں مقیم رہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی پابندی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ایسی کسی چیز سے اجتناب کرتے تھے جس سے محرم شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4010]

4011

Sahih Ibn Hibban #4011

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَفْتِلُ قَلائِدَ الْغَنَمِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا ، وَيَمْكُثُ حَلالا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لیے ہار تیار کیا کرتی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھجوا دیتے تھے اور خود احرام کے بغیر مقیم رہا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4011]

4012

Sahih Ibn Hibban #4012

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار تیار کیا کرتی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھجوا دیتے تھے اور پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے جس سے محرم شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4012]

4013

Sahih Ibn Hibban #4013

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، أَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِهِ ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کا جانور بھجوا دیتے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے لیے ہار تیار کرتی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے جس سے محرم شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4013]

4014

Sahih Ibn Hibban #4014

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَبْهَا " ، قَالَ : بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قربانی کے اونٹ کو ساتھ لے کر جا رہا تھا اور اس کے گلے میں ہار موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَيْلَكَ» ”تمہارا ستیاناس ہو، تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4014]

4015

Sahih Ibn Hibban #4015

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَبُوا الْهَدْيَ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدُوا ظَهْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ مناسب طور پر قربانی کے جانور پر سوار ہو جاؤ، اس وقت تک جب تک تمہیں (سواری کے لیے) کوئی جانور نہیں ملتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4015]

4016

Sahih Ibn Hibban #4016

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کے جانور کو ساتھ لے کر جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قربانی کا جانور ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قربانی کا جانور ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ تیسری یا چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4016]

4017

Sahih Ibn Hibban #4017

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَبُوا الْهَدْيَ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدُوا ظَهْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مناسب طور پر تم لوگ اس وقت تک قربانی کے جانور پر سواری کر لو جب تک تمہیں (سواری کے لیے) جانور نہیں ملتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4017]

4018

Sahih Ibn Hibban #4018

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَاقَ مَعَهُ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ نَحَرَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ مِنْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ قربانی کے ایک سو اونٹ لے کر گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 63 اونٹ اپنے دست مبارک کے ذریعے قربان کیے اور باقی بچ جانے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیے (تاکہ وہ انہیں ذبح کریں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4018]

4019

Sahih Ibn Hibban #4019

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، قَالَ : وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ قِيَامًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ”وہ احرام کھول دیں، ماسوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ قربانی کے جانور موجود تھے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے سات جانور کھڑے کر کے ذبح کیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4019]

4020

Sahih Ibn Hibban #4020

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَرَ بِالْهَدْيِ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بَضْعَةٍ ، فَجُعِلَتْ فِي قَدْرٍ ، فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کے بارے میں حکم دیا: ”ان میں سے ہر جانور کا کچھ گوشت لے کر ان سب کا گوشت ایک ہنڈیا میں پکایا جائے،“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 4020]