Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 35 · Chapter 3

Book of Borrowing

Hadith 3946–3979

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3946

Sahih Ibn Hibban #3946

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ ، وَعُمْرَةَ الْجِعْرَانَةَ ، وَعُمْرَتَهُ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے: ایک عمرہ حدیبیہ کے موقع پر، ایک اس سے اگلے سال قضا کے طور پر، ایک عمرہ جعرانہ سے کیا تھا اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ہمراہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3946]

3947

Sahih Ibn Hibban #3947

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانُوافِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا أَحْرَمُوا أَتَوْا الْبَيْتَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا ، وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جب احرام باندھتے تھے تو وہ گھر کی پشت کی طرف سے آتے تھے (یعنی حج کے لیے اپنے گھر کی پچھلی طرف سے روانہ ہوتے تھے) تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَىٰ﴾ [سورة البقرة: 189] ”یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں کے پیچھے والے حصے کی طرف سے آؤ، بلکہ نیکی اس شخص کی ہے جو پرہیزگاری اختیار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3947]

3948

Sahih Ibn Hibban #3948

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اختلفا بالأبواء ، فقال عبد الله بن عباس : يغسل المحرم رأسه ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ لا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ ، وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ ، قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ وَطَأْطَأَهُ ، حَتَّى بَدَا لِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ : اصْبُبْ ،فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ”ابواء“ کے مقام پر اختلاف ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا تھا کہ محرم شخص اپنے سر کو دھو سکتا ہے، جبکہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا تھا کہ محرم شخص اپنے سر کو نہیں دھو سکتا۔ ان حضرات نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں۔ میں نے انہیں پالان کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے پایا، انہوں نے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے دریافت کیا: ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے دوران کس طرح اپنے سر کو دھوتے تھے؟“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے کچھ نیچے کیا، یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آنے لگا، پھر انہوں نے پانی انڈیلنے والے شخص سے یہ کہا: ”مجھ پر پانی انڈیلو۔“ اس نے ان کے سر پر پانی انڈیلا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر میں حرکت دی، وہ اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3948]

3949

Sahih Ibn Hibban #3949

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أُمَّ الْحُصَيْنِ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ ، وَبِلالا ، أَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شرکت کی ہے، میں نے سیدنا اسامہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان دونوں میں سے ایک نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ہوا تھا اور دوسرے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر تانی ہوئی تھی، تاکہ آپ کو دھوپ کی تپش سے بچائیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3949]

3950

Sahih Ibn Hibban #3950

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَذًى كَانَ بِرَأْسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں ہونے والی تکلیف کی وجہ سے حالتِ احرام میں پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3950]

3951

Sahih Ibn Hibban #3951

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم ہونے کے دوران پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3951]

3952

Sahih Ibn Hibban #3952

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں میں ہونے والی تکلیف کی وجہ سے پاؤں کی پشت پر پچھنے لگوائے تھے، آپ اس وقت محرم تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3952]

3953

Sahih Ibn Hibban #3953

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ ، يَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستے میں «لَحْيِ جَمَلٍ» کے مقام پر پچھنے لگوائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے درمیانی حصے میں پچھنے لگوائے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت محرم تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3953]

3954

Sahih Ibn Hibban #3954

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّالْمُحْرِمَ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَهُ ضَمَّدَهَا بِالصَّبِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:) ”محرم شخص کی جب آنکھوں میں تکلیف ہو تو وہ ان پر ایلوے کا لیپ کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3954]

3955

Sahih Ibn Hibban #3955

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ، قَالَ : لا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ ، وَلا السَّرَوِيلاتِ ، وَلا الْعَمَائِمَ ، وَلا الْبَرَانِسَ ، وَلا الْخِفَافَ ، إِلا أَنْ يَكُونَ لَيْسَ لَهُ نَعْلانِ ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَالْوَرْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب ہم نے احرام باندھا ہوا ہو تو ہم کون سے کپڑے پہنیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، عمامہ، ٹوپی اور موزے نہ پہنو، البتہ جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہن لے اور تم کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3955]

3956

Sahih Ibn Hibban #3956

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”محرم شخص زعفران یا ورس کے ساتھ رنگا ہوا کپڑا پہنے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3956]

3957

Sahih Ibn Hibban #3957

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اغْسِلُوهُ ، وَكَفِّنُوهُ ، وَلا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ، وَلا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک محرم شخص کی اونٹنی نے اسے گرا کر مار دیا، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو، اسے کفن دو، لیکن اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں، اسے خوشبو نہ لگانا کیونکہ اسے تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3957]

3958

Sahih Ibn Hibban #3958

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنْ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا صَرَعَهُ بَعِيرُهُ فَوَقَصَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْنِ ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَلا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے اونٹ نے اسے گرا کر مار دیا اور وہ شخص محرم تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دو کپڑے پہنا دو، اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اس کا سر نہ ڈھانپنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ایسی حالت میں زندہ کرے گا کہ یہ تلبیہ پڑھ رہا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3958]

3959

Sahih Ibn Hibban #3959

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا كَانَ مُحْرِمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، وَلا تُمِسُّوهُ طَيِّبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کرنے والے) ایک محرم شخص کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دے دو، اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں اور اسے خوشبو نہ لگانا، کیونکہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3959]

3960

Sahih Ibn Hibban #3960

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَوْقَصَتْهُ فَمَاتَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلا يَمَسَّ طَيِّبًا ، وَلا يُخَمَّرَ وَجْهُهُ وَرَأْسُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی اونٹنی پر آیا، وہ محرم تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا جس سے اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دیا جائے اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے، اور اس کے چہرے اور سر کو ڈھانپا نہ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3960]

3961

Sahih Ibn Hibban #3961

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ :مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ ؟ ، قَالَ : الْفَأْرَةَ ، وَالْحِدَأَةَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ ، وَالْغُرَابَ الأَبْقَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ محرم شخص کسے مار سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوہے، چیل، پاگل کتے، کوے کو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3961]

3962

Sahih Ibn Hibban #3962

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ ، وَهُوَ حَرَامٌ ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ ، فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ (جانور) ایسے ہیں جو شخص انہیں قتل کر دے، جبکہ وہ احرام کی حالت میں ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، ان میں بچھو، چوہا، پاگل کتا، کوا اور چیل (شامل ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3962]

3963

Sahih Ibn Hibban #3963

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ "، وَهَذَا غَرِيبٌ : قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”گرگٹ چھوٹا فاسق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3963]

3964

Sahih Ibn Hibban #3964

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِالضَّبُعِ ؟ ، فَقَالَ : هِيَ صَيْدٌ ، وَفِيهَا كَبْشٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ شکار ہے اور (اسے مارنے کا کفارہ) مینڈھا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3964]

3965

Sahih Ibn Hibban #3965

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَنِالضَّبُعِ أَآكُلُهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، يَعْنِي فَقُلْتُ : أَصَيْدٌ هُوَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمٰن بن ابوعمار، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: میں نے ان سے بجو کے بارے میں دریافت کیا: کیا میں اسے کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (راوی کہتے ہیں) اس کی مراد یہ تھی کہ کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3965]

3966

Sahih Ibn Hibban #3966

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي قَوْمٍ مُحْرِمِينَ ، وَهُوَ حَلالٌ ،فَعَرَضَ لأَصْحَابِهِ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمِ سَوْطًا ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَصَرَعَهُ ، فَأَتَاهُمْ بِهِ ، فَأَكَلُوا ، وَحَمَلُوا مَعَهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ ؟ ، فَقَالَ : هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَكُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ احرام والے افراد کے ساتھ تھے، جبکہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ ان حضرات کے سامنے ایک حمارِ وحشی (زیبرہ) آیا، تو سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے خود اسے دیکھ لیا۔ وہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ان حضرات کی لاٹھی لی، اس پر حملہ کیا اور اسے مار دیا؛ وہ اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور انہوں نے اپنے ساتھ بھی اسے رکھ لیا۔ جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے (احرام کی حالت میں) اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے کھا لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3966]

3967

Sahih Ibn Hibban #3967

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّهُأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، قَالَ : فَرَدَّهُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَلَمَّا عَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”ابواء“ یا شاید ”ودان“ کے مقام پر حمار وحشی (یعنی زیبرے) کا گوشت پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا، میرے لیے یہ بات پریشانی کا باعث بنی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم یہ تمہیں واپس نہ کرتے، لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3967]

3968

Sahih Ibn Hibban #3968

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَمَاعَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا ایک عضو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام کی حالت میں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا تھا (یعنی قبول نہیں کیا تھا)؟“ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3968]

3969

Sahih Ibn Hibban #3969

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلا أَنَّا حُرُمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) کا گوشت پیش کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابواء یا شاید ودان کے مقام پر موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی یا افسوس) کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم نے اسے صرف اس لیے واپس کیا ہے کیونکہ ہم حالتِ احرام میں ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3969]

3970

Sahih Ibn Hibban #3970

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَزَ حِمَارَ وَحْشٍ بِقُدَيْدٍ وَكَانَ مُحْرِمًا ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے قدید کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «حِمَارَ وَحْشٍ» (یعنی زیبرا) کی پچھلی ران پیش کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3970]

3971

Sahih Ibn Hibban #3971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : صَيْدُ الْبِرِّ حَلالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ ، أَوْ يُصَادْ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خشکی کا شکار (احرام والے شخص کے لیے) حلال ہے جب تک تم نے اسے شکار نہ کیا ہو یا اسے تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3971]

3972

Sahih Ibn Hibban #3972

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ،فَأُهْدِيَ لَهُ لَحْمُ صَيْدٍ ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، وَهُوَ رَاقِدٌ ، فَأَبَيْنَا أَنْ نَأْكُلَهُ ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَظَ قُلْنَا : صَيْدٌ أُهْدِيَ لَكَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ لَمْ تَأْكُلُوا ؟ ، قَالُوا : انْتَظَرْنَا حَتَّى نَنْظُرَ مَا تَقُولُ فِيهِ ، قَالَ : أَكَلْنَا مِثْلَ هَذَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُلُوا ، فَأَكَلُوا ، وَأَكَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، وہ لوگ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سو رہے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے وہ گوشت کھانے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، تو ہم نے بتایا: آپ کو تحفہ دیا گیا تھا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر کیا وجہ ہے، تم نے اسے کھایا کیوں نہیں؟ لوگوں نے بتایا: ہم یہ انتظار کر رہے تھے تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نے اس طرح کی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھائی تھی، تو تم لوگ بھی کھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں) تو لوگوں نے بھی اسے کھا لیا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3972]

3973

Sahih Ibn Hibban #3973

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فِي الْحَجِّ ،وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، فَأُهْدِيَ لَنَا طَائِرٌ ، وَطَلْحَةُ نَائِمٌ ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ ، وَقَالَ : أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَسَمِعَهُ مِنَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَمَرَّةً رَوَى عَنْ مُعَاذٍ ، وَأُخْرَى عَنْ أَبِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذ بن عبدالرحمن تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے لیے جا رہے تھے اور ہم احرام کی حالت میں تھے، ہمیں ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ لوگوں نے پرہیز کیا اور اسے نہیں کھایا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو ہم نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کا گوشت کھا لیا تھا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا کہ ہم نے اس (شکار) کا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابن منکدر نے یہ روایت عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے سنی ہو گی اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سنی ہو گی، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے معاذ کے حوالے سے نقل کر دیا اور دوسری مرتبہ ان کے والد کے حوالے سے نقل کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3973]

3974

Sahih Ibn Hibban #3974

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَاسٍ مُحْرِمِينَ ، وَأَبُو قَتَادَةَ حَلَّ ،فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَعَدَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسٍ ، وَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا ، فَحَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ ، فَأَتَاهُمْ بِهِ ، فَأَكَلُوا ، وَحَمَلُوا ، فَلَقُوا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسَأَلُوهُ عَمَّا صَنَعَ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ أَوْ أَمَرَهُ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَكُلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ موجود تھے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، جبکہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا، لوگوں نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا، ان لوگوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑ گئی، وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے، انہوں نے ان حضرات میں سے کسی کی لاٹھی لی اور اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا، پھر وہ اس کا (گوشت) لے کر ان حضرات کے پاس آئے، ان حضرات نے اسے کھا لیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھ بھی رکھ لیا، جب ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے (شکار کرنے کا) حکم دیا تھا؟“ ان حضرات نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم لوگ اسے کھا لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3974]

3975

Sahih Ibn Hibban #3975

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ،فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا ، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ ، فَأَبَوْا ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ ، فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ مکہ کے راستے میں کسی جگہ پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) پیچھے رہ گئے، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا، لیکن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے یہ فرمائش کی کہ وہ انہیں ان کی لاٹھی پکڑا دیں، تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نیزہ مانگا، تو انہوں نے وہ بھی نہیں دیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے لیا، پھر اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض اصحاب نے اس کا گوشت کھا لیا اور بعض نے اس کا گوشت نہیں کھایا، جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ خوراک ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلائی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3975]

3976

Sahih Ibn Hibban #3976

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ شَيْخَانِ حَافِظَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ ، حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ ثَنِيَّةِ الْغَزَّالِ ،فَإِذَا هُمْ بِحِمَارٍ وَحْشِيٍّ ، فَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَهُوَ حِلٌّ فَنَكَّسُوا رُؤُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُحِدُّوا أَبْصَارَهُمْ فَيَفْطَنَ ، فَرَآهُ فَرَكِبَ فَرَسَهُ ، وَأَخَذَ الرُّمْحَ ، فَسَقَطَ مِنْهُ السَّوْطُ ، فَقَالَ : نَاوِلْنِيهِ ، فَقُلْنَا : لا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ ، فَأَتَوْهُ ، فَسَأَلُوهُ ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا "، وَأَظُنُّهُ قَالَ : مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے ”عسفان“ میں موجود ”غزال“ نامی گھاٹی میں پڑاؤ کیا، وہاں ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) موجود تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا، دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے سر جھکا لیے کہ کہیں ان کی نگاہوں کا پیچھا کرتے ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو (اس شکار کے بارے میں) پتا نہ چل جائے، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی (اس شکار کو) دیکھ لیا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، انہوں نے نیزہ پکڑا، ان کی سوٹی نیچے گر گئی تو انہوں نے کہا: یہ مجھے پکڑا دیں، تو ہم نے کہا: ہم اس بارے میں کسی بھی حوالے سے آپ کی مدد نہیں کریں گے، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اس کا کچھ گوشت بھون لیا، انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں، (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آگے تشریف لے جا چکے تھے، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا، (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس میں سے (کچھ گوشت) ہے؟“ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3976]

3977

Sahih Ibn Hibban #3977

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَحْرَمَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ غَيْرِي ،فَرَأَيْنَا حِمَارَ وَحْشٍ ، فَأَسْرَجْتُ وَأَلْجَمْتُ ، ثُمَّ رَكِبْتُ ، وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ ، وَنَسِيتُ السَّوْطَ ، فَسَأَلْتُهُمْ أَنْ يُنَاوِلُونِيهِ فَأَبَوْا ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُ سَوْطِي ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الْحِمَارَ فَعَقَرْتُهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَتَرَكَ بَعْضٌ ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَدْ أَصَابَ الَّذِينَ أَكَلُوا ، هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ " ، قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ هَذِهِ رِجْلٌ ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوا، میرے علاوہ باقی سب لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا، ہم نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا تو میں نے (گھوڑے پر) زین رکھی، لگام ڈالی اور میں سوار ہو گیا۔ میں نے نیزہ پکڑ لیا، لیکن لاٹھی اٹھانا بھول گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ مجھے لاٹھی پکڑا دیں، لیکن انہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا، میں گھوڑے سے نیچے اترا، میں نے اپنی لاٹھی پکڑی، پھر میں نے اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ بعض لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور بعض نے نہیں کھایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنہوں نے اس کا گوشت کھایا ہے انہوں نے ٹھیک کیا ہے، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کچھ حصہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! یہ ایک ٹانگ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3977]

3978

Sahih Ibn Hibban #3978

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ مِنْ رَأْسِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " انْسُكْ نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قربانی کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو (اور سر منڈوا لو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3978]

3979

Sahih Ibn Hibban #3979

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ ، وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ لَهُ : أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ ، قَالَ : وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا ، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفِدْيَةِ ، وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ ، أَوْ أَذْبَحَ شَاةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت حدیبیہ میں موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوا دوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے یہ بات واضح نہیں تھی کہ انہیں وہیں سر منڈوانا پڑے گا، وہ لوگ اس بات کے خواہش مند تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر فدیہ سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ ”میں تین دن کے روزے رکھوں یا ایک «فَرَق» (اناج کا مخصوص پیمانہ) چھ مسکینوں میں تقسیم کروں یا ایک بکری ذبح کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3979]